واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


”امن کی آشا“۔۔ قیام امن کبھی بنئیے کی خواہش نہیں ہو سکتی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-01-10, 03:52 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ”امن کی آشا“۔۔ قیام امن کبھی بنئیے کی خواہش نہیں ہو سکتی

”امن کی آشا“۔۔ قیام امن کبھی بنئیے کی خواہش نہیں ہو سکتی

امن ایک ایسی انمول نعمت ہے کہ ہر انسان اور ہر معاشرہ اس کے حصول کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کئے جاتا ہے، بلکہ تاریخ انسانی میں ہونے والی اور آج کے دور میں جاری تمام کی تمام جنگوں کا ایک مقصد قیام امن ہی بتایا جاتا ہے۔ بعض اقوام اپنے لئے اور بعض دیگر بظاہر امن عالم کے لئے کوشاں ہیںچاہے اس کے لئے کئی ممالک کا امن تہہ و بالا ہو جائے۔

بھارت و پاکستان دو ایسے حریف پڑوسی ہیں کہ جن کے تعلقات عموما کشیدہ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، غیر مستحکم کرنے اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے مختلف کوششیں اور کاروائیاں اکثر اخبارات کی زینت بنتی نظر آتی ہیں۔ اس خلیج کو پاٹنے، کشیدگی کو کم کرنے ، حالات کو معمول پر لانے اور امن قائم کرنے کے لئے بہت سے اقدامات دونوں طرف کی عوام ، سول سوسائٹی اور بعض اوقات حکومتوں کی سطح پر بھی ہوتے رہے ہیں۔ کبھی قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں، کبھی فائر بندی کے معاہدوں کی صورت میں ، کبھی سمجھوتہ ایکسپریس اور مظفر آباد سرینگر بس سروس ، فنکاروں کے تبادلے اور مشترکہ فلم سازی وغیرہ ۔۔۔

اسی ”قیام امن“ کے سلسلے میں آج کل پاکستان اور بھارت کے دو بڑے گروپ جنگ گروپ آف پبلیکیشنز اور ٹائم آف انڈیا نے ایک مشترکہ مہم ”امن کی آشا“ کے نام سے شروع کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک میں عوامی سروے کروائے گئے ،جن میں بہتر فیصد پاکستانی اور چھیاسٹھ فیصد بھارتی امن کے خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں مختلف تقریبات اور پروگرامات منعقد کروائے جائیں گے جس سے امن کی فضا پروان چڑھے۔ مقصد نیک اور کام اہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی کوششوں سے کوئی مثبت نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل حقائق کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔

مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، ان کا رہن سہن، رسم و رواج ، عادات و اطوار اور خوشی و غم منانے کے مواقع و انداز بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ یہ نہ صرف من حیث القوم مختلف ہیں بلکہ میں حیث المذہب دو بالکل جدا نظریات کے حامل ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے دو قومی نظریہ وجود میں آیا، اگرچہ بہت سے عاقبت نا اندیشوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی گئی لیکن ان نظریے کی سچائی اور حقانیت کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر مملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آناکافی ہے۔

نہ تقسیم سے قبل ہندو بنیا مسلمانوں کے ساتھ رواداری کے حق میں تھا اور نہ تشکیل پاکستان کے بعد اس نے کبھی پاکستان کو تسلیم کیا۔ بلکہ روز اول ہی سے اس اسلامی نظریاتی مملکت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کوشاں ہے۔ باقاعدہ جنگوں کے علاوہ اندرونی انتشار پھیلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر در اندازی اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کرنے کے لئے سرمائے اور صلاحیتوں کا استعمال اسی بغض اور خبث باطن کا مظہر ہے۔

اس بغض اور عناد کا سبب ہندو مذہب کی وہ طبقاتی تقسیم ہے جس کے تحت مذہبی طور پر ہندو چار طبقوں میں تقسیم ہیں، ان میں سب سے اعلی برہمن یعنی بنیا اور سب سے کمتر اور نیچ شودر ہیں جن کو دنیاوی اور مذہبی ہر دو لحاظ سے انتہائی کمتر بلکہ جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے، ایک طرف انہیں اوپر کے طبقات سے میل جول رکھنے اور ان کے برتن تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو دوسری جانب مذہبی تقریبات میں بھی ان کی شمولیت انتہائی ناپسندیدہ ہے۔اسی ذہنیت کے زیر اثر ہندو بنیا اپنے آپ کو سب سے اعلی اور باعزت سمجھتا ہے ۔ دیگر اقوام بالخصوص مسلمانوں کو شودر سے بھی کمتر سمجھتا ہے۔ جب کہ مسلمان تمام تر مذہبی اختلاف کے باوجود ہر مذہب کے افراد کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں، آزادانہ طور پر اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کو تمام اہل مذہب کا بنیادی حق تسلیم کرتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی کے لئے تمام انتظامات اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

متحدہ ہندو ستان میں بھی مسلمانوں نے اسی جذبے کے تحت ایک طویل جدوجہد کی ، خود قائد اعظم مسلم لیگ کے بجائے کانگریس میں شامل ہو کر جدو جہد کرتے رہے لیکن ہندو بنئے نے تمام تر وعدوں اور قراردادوں کے باوجود مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور بالآخر قائد اعظم کانگریس کو الوداع کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔

یہ نظریاتی تفریق اور اس کے زیر اثر پروان چڑھنے والی ذہنیت کبھی بھی پاکستان میں امن کی خواہاں نہ رہی ہے اور نہ رہے گی۔ اور اس کا اظہار آج تک ان کے طرز عمل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ تمام مسائل جو وجہ نزاع ہیں ان پر ثالثی قبول نہ کرنا، عالمی رائے عامہ کا احترام نہ کرنا، پاکستان کی طرف سے انتہائی نرمی دکھانے کے باوجود اپنے غلط اور مبنی بر ظلم موقف پر ڈٹے رہنا اسی ذہنیت کااثر ہے۔

ہندوستان نے کئی بار مثالوں سے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’’قیام امن‘‘ اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔۔

مسئلہ کشمیر ہو یاپانی کا مسئلہ، قیدیوں کا تبادلہ ہو یا امن مذاکرات ، بھارت کی وعدہ خلافیاں، کہہ مکرنیاں اور ہٹ دھرمیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ اقوام عالم بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر امن کا خواب دیکھنا بیوقوفی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ عرصہ میں اپنے اصولی موقف تک سے انحراف کر لیا، بلکہ یوں کہا جائے کہ کشمیر کو طشت میں سجا کر انڈیا کو پیش کر دیا لیکن پھر بھی اس نے ذرا برابر لچک نہ دکھائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ’ قیام امن‘ اس کی ترجیحات میں ہی نہیں۔

ہمارے وزراءکشمیر سنگھ جیسے خطرناک مجرم باعزت طور پر انڈیا کے حوالے کر دیتے ہیں ’قیام امن‘ کی کوشش کے طور پر اور بھارتی سرکار کی جانب سے بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں موصول ہوتی ہیں، اور پیغام دیتی ہیں کہ’ قیام امن‘ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

پاکستان میں ہزاروں دھماکے ہوتے ہیں، جی ایچ کیو، خفیہ اداروں کے دفاترسے لے کر کوئی شہر محلہ اور میدان تک محفوظ نہیں، واضح ثبوت ہیں کہ انڈیا ملوث ہے، لیکن امن کی کوششوں کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے لئے ہم اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتے۔ لیکن اگر بھارت میں ایک کتا بھی مر جائے تو پورا میڈیا پاکستان پر بلا تحقیق الزام لگا دیتا ہے، اور پیغام دیتا ہے کہ’ قیام امن‘ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایک طرف” امن کی آشا “چل رہی ہے اور دوسری جانب بھارت کے آرمی چیف دیپک کپور جنگ کے دیپ روشن کیئے ہوئے ہیں۔ چین اور پاکستان کو بیک وقت حملوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جو کہ ایک بار پھر کھلا پیغام دے رہا ہے” قیام امن “ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ اکھنڈ بھارت کی ہندوستانی خواب کو بھی اگر ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ یقین رکھنا چاہیئے کہ ”قیام امن“ کبھی بھی بھارت کی ترجیحات میں نہیں رہے گا۔
کیوں کہ ایٹمی صلاحیت میں اضافہ، فوجی تعداد اور دفاعی بجٹ میں اضافہ او ر پھر اس پر اٹھنے والے عوامی شور کو دبانے کے لئے جنگی ماحول بھارت کی مجبوری ہے۔
پاکستان کے کئی دانشور امن کی آشا کو آشیر باد دینے کے لئے اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیںاور اسے پروان چڑھانے اور پھلنے پھولنے کا موقع دینے کے لئے فکری غذا بہم پہنچا رہے ہیں اور اس دوڑ میں کشمیر اور پانی جیسے اہم ترین مسائل کو بھی بچوں کی آپسی چپقلش جتنی اہمیت دیتے ہوئے پس پشت ڈالتے نظر آتے ہیں۔

اگر ہندو بنئیے کی فطرت، اس کی ذہنی ساخت، طبقاتی نظام میں پروان چڑھنے والی سوچ اور پھر اس کے مطابق اس کا طرز عمل کے ساتھ ساتھ اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھا جائے تو اس بات میں ذرا برابر بھی شک نہیں رہتا کہ” امن کی آشا“ کبھی بھی ہندو بنئیے کی خواہش نہیں ہو سکتی۔اس لئے امن کی اہمیت کے پیش نظر کوشش ضرور کرنی چاہیئے لیکن اپنی سالمیت اور استحکام کی قیمت پر نہیں بلکہ برابری کی سطح پر۔


لیکن جب بات ہو ہندو بنئیے کی تو پھر برابری سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی فوقیت ثابت کرنا ہو گی۔ کیوں کہ اس کی فطرت ایسی ہے کہ وہ پیار محبت اور امن سے نہیں بلکہ صرف طاقت سے ہی راہ راست پر رہتا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-01-10), نیلم خان (12-01-10), محمدعدنان (08-01-10), ام طلحہ (08-01-10), ابو عمار (07-01-10), ابن حسن (12-01-10), سحر (07-01-10)
پرانا 07-01-10, 08:42 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن راجہ بھائی
یہاں تو سب ہندوستان سے دوستی کرنے کی بات کرتے ہیں ،
شاید ابھی 14 لاکھ مسلمان اور قربان کرنے ہیں ان کے ہاتھوں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-01-10), ام طلحہ (08-01-10), ابن حسن (12-01-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 07-01-10, 10:56 PM   #3
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھارت نا کبھی پاکستان کا دوست تھا اور نا کبھی ہوگا
اس کے ساتھ ساتھ دو اور ممالک کے بارے میں بھی یہی حقیقت ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (08-01-10), ابن حسن (12-01-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 12:08 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,224
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,730 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سمندر پار دور ممالک سے بہتر ہے کے اپنے پڑوسی سے ہی دوستی کرلی جائے، (نیتوں‌کا حال کسے معلوم ہے)؟

آخر کو ہمارے اجداد وہاں‌دفن ہیں!
(آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں، یہ محض ایک رائے ہے نظریہ نہیں)
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-01-10, 12:37 AM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دوستی کبھی یکطرفہ نہیں ہوتی ہے ۔
جب پڑوسی ملک ہر طرح سے دشمنی پر اترا ہوا ہے تو دوستی کیسے کی جائے
یہ دشمنی ہم نے نہیں کی بلکہ انھوں نے ہم سے کی ہے ۔
چین بھی غیر مسلم ملک ہے لیکن ایک پاکستانی بھی چین کے خلاف نہیں بولتا کیوں ۔ اس لیے کہ چین پاکستان سے دوستی چاہتا ہے اور نبھاتا بھی ہے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-01-10), ام طلحہ (08-01-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 12:54 AM   #6
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دیکھئے جب ہم چین بھارت یا امریکہ کہہ رہے اور لکھ رہے ہوتے ہیں تو اسکا مطلب وہاں کی حکومت اور حکومتی سوچ ہوتی ہے
عوام تو چاہے پاکستان کی ہو یا بھارت یا امریکہ ایک ہی جیسی معصوم ہی ہوتی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-01-10), ام طلحہ (08-01-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 03:28 AM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
دیکھئے جب ہم چین بھارت یا امریکہ کہہ رہے اور لکھ رہے ہوتے ہیں تو اسکا مطلب وہاں کی حکومت اور حکومتی سوچ ہوتی ہے
عوام تو چاہے پاکستان کی ہو یا بھارت یا امریکہ ایک ہی جیسی معصوم ہی ہوتی ہے
السلام علیکم،

اس کے بارے میں‌کیا خیال ہے؟

انڈیا کے ڈرامے تو ہم بہت شوق سے دیکھتے ہیں ایک یہ بھی دیکھ لیں۔

عوام اگر معصوم ہے تو پھر یہ کیا معاملہ ہے؟ کیا یہ ایکسیپشنل کیس ہے؟
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (08-01-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 03:57 AM   #8
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طاہر بھائی ہم ماحول سے متاثر ہوتے ہیں
جس ملک میں بال ٹھاکرے جیسے لوگ ہوں اور جہاں میڈیا پاکستان کے خلاف ایک محاذ کھولے کھڑا ہو وہاں کے ہندو بچوں کے منہ سے ایسے کلمات کا نکلنا کوئی اچھنبا نہیں
ویسے بھی یہ کوئی تقریری مقابلہ قسم کی چیز لگتا ہے جسکا موضوع انتظامیہ کی مرہون منت ہوتا ہے اور اکثر تقریریں کسی اور کی لکھی ہوئی اور رٹی ہوئی ہوتی ہیں
آج اگر پاکستان میں ایسے کسی مقابلے کا انعقاد کیا جائے تو کوئی پاکستانی بچہ بھی بھارت کے خلاف اس زیادہ نہیں تو اس کے برابر تو بول ہی لے گا
ویسے بھی اس لڑکی کا مخاطب کوئی انسان نہیں ایک ملک ہے اور ملک سے ہم حکومتی پالیسی ہی مراد لیتے ہیں
اگر امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے تو آپ یا میں ہتھیار اٹھا کر نہیں نکل پڑتے یہ بات حکومتی یا ریاستی اداروں اور پالیسی میکرز کے لئے ہی کہی جاتی ہے

میں یہاں کسی کی حمایت نہیں کررہا بس یہ کہنا چاہتا ہوں کے ایک عام آدمی امن و محبت ہی چاہتا ہے
جنگ ،اختلافات ، اور مفادات سب حکومتوں کی کارستانیاں ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-01-10), ام طلحہ (08-01-10), حیدر (06-02-10), راجہ اکرام (08-01-10)
پرانا 08-01-10, 09:47 AM   #9
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم بحیثیت مسلمان امن خواہش آخری دم تک کریں گے۔۔۔
ہمارے پیغبر نے تو یہودیوں سے بھی امن کا معاہدہ۔ ۔۔ کیا۔۔

مسلمان امن قائم رکھنے کی خاطر دھوکہ بھی کھا تے آئے ہیں۔۔
اسلام تو مذہب ہی امن کا ہے۔۔
قتال تو آخری آپشن ہو تی ہے۔۔

اگر امن قائم ہونے کا ذرا بھی امکان ہو تو ہر دشمن سے بات کی جا سکتی ہے۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-01-10), حیدر (06-02-10)
پرانا 08-01-10, 03:35 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
لیکن راجہ بھائی
یہاں تو سب ہندوستان سے دوستی کرنے کی بات کرتے ہیں ،
شاید ابھی 14 لاکھ مسلمان اور قربان کرنے ہیں ان کے ہاتھوں ۔
ان حالات میں ہندوستان سے دوستی کی بات صرف اور صرف وہی کر سکتے ہیں جو دو قومی نظریہ کے مخالفین ہیں۔
ورنہ کوئی مسلمان جس کے دل میں ملک و ملت کے لئے سچے جذبات ہوں اس وقت تک دوستی کی بات نہیں کر سکتا جب تک کشمیر کے مظاہم ختم نہ ہوں، انڈیا پاکستان کو ایک آزاد مسلمان ریاست تسلیم نہ کر لے، اکھنڈ بھارت کے خواب سے دست بردار نہ ہو جائے، اور ایک اچھے ہمسائے کے طور پر برابری کی سطح پر دوستی کی خواہش کا اظہار نہ کر دے۔

اور جو صرف اس کی ثقافت اور فلموں سے متاثر ہو کر ’’امن کی آشا‘‘ کے راگ الاپتا ہے وہ پاکستان کے ساتھ یا تو مخلص نہیں یا پھر اسے حقائق کا علم نہیں۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-01-10, 03:39 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بھارت نا کبھی پاکستان کا دوست تھا اور نا کبھی ہوگا
اس کے ساتھ ساتھ دو اور ممالک کے بارے میں بھی یہی حقیقت ہے
بالکل درست فرمایا آپ نے فیصل بھائی
بھارت، امریکہ اور اسرائیل کبھی بھی پاکستان کے دوست نہیں بن سکتے
امریکہ اگرچہ وقتی مفاد کے لئے ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے، تعاون کر سکتا ہے لیکن جب بھی بھارت اور اسرائیل کا مسئلہ ہوگا تو ساتواں بحری بیڑا کبھی نہیں پہنچے گا چاہے پاکستان دو لخت ہی ہو جائے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-01-10, 03:56 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
سمندر پار دور ممالک سے بہتر ہے کے اپنے پڑوسی سے ہی دوستی کرلی جائے، (نیتوں‌کا حال کسے معلوم ہے)؟

آخر کو ہمارے اجداد وہاں‌دفن ہیں!
(آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں، یہ محض ایک رائے ہے نظریہ نہیں)
شاہد بھائی
نیک تمناؤں سے دوستی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ ہم نے تو بارہا کوشش کی جس کی مثالیں میں نے مذکورہ بالا مضمون میں ایک سے زائد دی ہیں، لیکن بنئیے کی سوچ اور اس کی طرف سے آنے والے جوابات کے بعد نیتوں کا پتہ تو صاف چل رہا ہے۔
اس اظہار خبث کے بعد بھی اگر ہم نیتوں کو نہ جان سکے تو پھر ہماری حکمت کہاں گئی جو مسلمان کی پہچان ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے آباء بھی مکہ میں تھے، بہت تکلیف دہ منظر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ے لئے رخصت ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تیرے باسی مجھے نہیں رہنے دیتے۔

وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت بھی دو قومی نظریے کی ہی بنیاد پر تھی، ہندو،، مشرک اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ حالات اگرچہ بعینہ وہی نہیں تھے جو بر صغیر کے تھے لیکن پھر بھی شرک اور اسلام کا بنیادی مسئلہ موجود تھا

پھر صلح حدیبیہ جیسے معاہدے بھی ہوئے جو کہ قیام امن ہی کی ایک کوشش تھی لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ مکہ والوں کی طرف سے معاہدے کا پاس نہ ہو سکا۔

ہم بھی کئی معاہدے کر چکے ہیں، کچھ معاہدے بین الاقوامی نوعیت کے بھی ہیں، لیکن ان کا کیا حال ہے اس سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ اور اس سے بھی سب بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت نے کتنی پاسداری کی ہے ان وعدوں کی۔

اس کے بعد بھی اگر ہم یہ کہیں کہ نیتوں کے چکر میں پڑے بغیر دوستی کر لیں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہو گی؟

آباؤ و اجداد سے محبت اپنی جگہ لیکن حقائق کا ادراک ان سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

یہ میرے رائے ہے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (22-01-10)
پرانا 08-01-10, 04:12 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
ہم بحیثیت مسلمان امن خواہش آخری دم تک کریں گے۔۔۔
ہمارے پیغبر نے تو یہودیوں سے بھی امن کا معاہدہ۔ ۔۔ کیا۔۔

مسلمان امن قائم رکھنے کی خاطر دھوکہ بھی کھا تے آئے ہیں۔۔
اسلام تو مذہب ہی امن کا ہے۔۔
قتال تو آخری آپشن ہو تی ہے۔۔

اگر امن قائم ہونے کا ذرا بھی امکان ہو تو ہر دشمن سے بات کی جا سکتی ہے۔۔
نور بھائی
اس میں کوئی شک نہیں‌ کہ اسلام سراسر امن ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پیارے نبی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں سے امن کا معاہدہ بغیر شرائط کے نہیں کیا تھا۔
اور جب معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو پھر کتنی سخت کاروائی کی تھی اس کو بھی مد نظر رکھیں۔ مدینے میں بسنے والے یہودیوں کے محاصرے سے لے کر خیبر تک کے یہودیوں کے ساتھ جو ہوا آپ اس سے واقف ہیں۔
اور پھر ((اخرجوا الیہود من جزیرۃ العرب)) جیسے سخت احکامات بھی دیئے گئے۔

یاد رکھیں میرے بھائی
امن بہت ہی قیمتی چیز ہے اس کا ذکر میں نے مضمون کے شروع ہی میں کیا ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ ’مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (22-01-10)
پرانا 14-01-10, 04:28 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی ہونا کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے
لیکن انڈیا کے ہندو اور پاکستانی مسلمان کبھی دوست ہو سکتے ہیں ؟
ان کی ذہنیت ہمیں قبول کر سکتی ہے؟

اس کو جاننے کے لئے قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں جو لکھا ہے نعنوان ’پاکستان کا مطلب کیا‘ اس کو اگر پڑھ لیا جائے تو آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-02-10, 10:01 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا صرف ”یوم یکجہتی کشمیر“ منا لینا ہی کافی ہے ؟
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, پاکستان, پاکستانی, قدم, چین, نظر, محبت, مسائل, معاشرہ, آج, اللہ, الزام, انمول, انسان, اسلامی, بچوں, تلاش, جواب, حل, زندگی, شہر, شور, عالم, غم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ن لیگ لانگ مارچ چاہتی ہے، انہیں رائیونڈ چھوڑ کر آئینگے:پی پی پنجاب گلاب خان خبریں 0 02-03-11 05:25 AM
لو کر لو گل ۔ شرم بھی نہیں آتی قاسم شاہ خبریں 4 22-12-10 11:56 PM
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کےلئے ن اور ق لیگ کی عدالتی کمیشن کی حمایت، پی پی کی مخالفت گلاب خان خبریں 0 16-12-10 05:04 AM
باب : اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے ھارون اعظم صحیح البخاری 0 26-04-10 10:27 PM
پنجاب:پی پی ، ن لیگ میں مصالحتی محاذ آرائی جاری ابن جلال خبریں 0 11-09-08 06:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger