| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امن ایک ایسی انمول نعمت ہے کہ ہر انسان اور ہر معاشرہ اس کے حصول کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کئے جاتا ہے، بلکہ تاریخ انسانی میں ہونے والی اور آج کے دور میں جاری تمام کی تمام جنگوں کا ایک مقصد قیام امن ہی بتایا جاتا ہے۔ بعض اقوام اپنے لئے اور بعض دیگر بظاہر امن عالم کے لئے کوشاں ہیںچاہے اس کے لئے کئی ممالک کا امن تہہ و بالا ہو جائے۔
بھارت و پاکستان دو ایسے حریف پڑوسی ہیں کہ جن کے تعلقات عموما کشیدہ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، غیر مستحکم کرنے اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے مختلف کوششیں اور کاروائیاں اکثر اخبارات کی زینت بنتی نظر آتی ہیں۔ اس خلیج کو پاٹنے، کشیدگی کو کم کرنے ، حالات کو معمول پر لانے اور امن قائم کرنے کے لئے بہت سے اقدامات دونوں طرف کی عوام ، سول سوسائٹی اور بعض اوقات حکومتوں کی سطح پر بھی ہوتے رہے ہیں۔ کبھی قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں، کبھی فائر بندی کے معاہدوں کی صورت میں ، کبھی سمجھوتہ ایکسپریس اور مظفر آباد سرینگر بس سروس ، فنکاروں کے تبادلے اور مشترکہ فلم سازی وغیرہ ۔۔۔ اسی ”قیام امن“ کے سلسلے میں آج کل پاکستان اور بھارت کے دو بڑے گروپ جنگ گروپ آف پبلیکیشنز اور ٹائم آف انڈیا نے ایک مشترکہ مہم ”امن کی آشا“ کے نام سے شروع کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک میں عوامی سروے کروائے گئے ،جن میں بہتر فیصد پاکستانی اور چھیاسٹھ فیصد بھارتی امن کے خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں مختلف تقریبات اور پروگرامات منعقد کروائے جائیں گے جس سے امن کی فضا پروان چڑھے۔ مقصد نیک اور کام اہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی کوششوں سے کوئی مثبت نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل حقائق کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، ان کا رہن سہن، رسم و رواج ، عادات و اطوار اور خوشی و غم منانے کے مواقع و انداز بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ یہ نہ صرف من حیث القوم مختلف ہیں بلکہ میں حیث المذہب دو بالکل جدا نظریات کے حامل ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے دو قومی نظریہ وجود میں آیا، اگرچہ بہت سے عاقبت نا اندیشوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی گئی لیکن ان نظریے کی سچائی اور حقانیت کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر مملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آناکافی ہے۔ نہ تقسیم سے قبل ہندو بنیا مسلمانوں کے ساتھ رواداری کے حق میں تھا اور نہ تشکیل پاکستان کے بعد اس نے کبھی پاکستان کو تسلیم کیا۔ بلکہ روز اول ہی سے اس اسلامی نظریاتی مملکت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کوشاں ہے۔ باقاعدہ جنگوں کے علاوہ اندرونی انتشار پھیلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر در اندازی اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کرنے کے لئے سرمائے اور صلاحیتوں کا استعمال اسی بغض اور خبث باطن کا مظہر ہے۔ اس بغض اور عناد کا سبب ہندو مذہب کی وہ طبقاتی تقسیم ہے جس کے تحت مذہبی طور پر ہندو چار طبقوں میں تقسیم ہیں، ان میں سب سے اعلی برہمن یعنی بنیا اور سب سے کمتر اور نیچ شودر ہیں جن کو دنیاوی اور مذہبی ہر دو لحاظ سے انتہائی کمتر بلکہ جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے، ایک طرف انہیں اوپر کے طبقات سے میل جول رکھنے اور ان کے برتن تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو دوسری جانب مذہبی تقریبات میں بھی ان کی شمولیت انتہائی ناپسندیدہ ہے۔اسی ذہنیت کے زیر اثر ہندو بنیا اپنے آپ کو سب سے اعلی اور باعزت سمجھتا ہے ۔ دیگر اقوام بالخصوص مسلمانوں کو شودر سے بھی کمتر سمجھتا ہے۔ جب کہ مسلمان تمام تر مذہبی اختلاف کے باوجود ہر مذہب کے افراد کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں، آزادانہ طور پر اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کو تمام اہل مذہب کا بنیادی حق تسلیم کرتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی کے لئے تمام انتظامات اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ متحدہ ہندو ستان میں بھی مسلمانوں نے اسی جذبے کے تحت ایک طویل جدوجہد کی ، خود قائد اعظم مسلم لیگ کے بجائے کانگریس میں شامل ہو کر جدو جہد کرتے رہے لیکن ہندو بنئے نے تمام تر وعدوں اور قراردادوں کے باوجود مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور بالآخر قائد اعظم کانگریس کو الوداع کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ یہ نظریاتی تفریق اور اس کے زیر اثر پروان چڑھنے والی ذہنیت کبھی بھی پاکستان میں امن کی خواہاں نہ رہی ہے اور نہ رہے گی۔ اور اس کا اظہار آج تک ان کے طرز عمل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ تمام مسائل جو وجہ نزاع ہیں ان پر ثالثی قبول نہ کرنا، عالمی رائے عامہ کا احترام نہ کرنا، پاکستان کی طرف سے انتہائی نرمی دکھانے کے باوجود اپنے غلط اور مبنی بر ظلم موقف پر ڈٹے رہنا اسی ذہنیت کااثر ہے۔ ہندوستان نے کئی بار مثالوں سے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’’قیام امن‘‘ اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔۔ مسئلہ کشمیر ہو یاپانی کا مسئلہ، قیدیوں کا تبادلہ ہو یا امن مذاکرات ، بھارت کی وعدہ خلافیاں، کہہ مکرنیاں اور ہٹ دھرمیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ اقوام عالم بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر امن کا خواب دیکھنا بیوقوفی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ عرصہ میں اپنے اصولی موقف تک سے انحراف کر لیا، بلکہ یوں کہا جائے کہ کشمیر کو طشت میں سجا کر انڈیا کو پیش کر دیا لیکن پھر بھی اس نے ذرا برابر لچک نہ دکھائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ’ قیام امن‘ اس کی ترجیحات میں ہی نہیں۔ ہمارے وزراءکشمیر سنگھ جیسے خطرناک مجرم باعزت طور پر انڈیا کے حوالے کر دیتے ہیں ’قیام امن‘ کی کوشش کے طور پر اور بھارتی سرکار کی جانب سے بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں موصول ہوتی ہیں، اور پیغام دیتی ہیں کہ’ قیام امن‘ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ پاکستان میں ہزاروں دھماکے ہوتے ہیں، جی ایچ کیو، خفیہ اداروں کے دفاترسے لے کر کوئی شہر محلہ اور میدان تک محفوظ نہیں، واضح ثبوت ہیں کہ انڈیا ملوث ہے، لیکن امن کی کوششوں کو سبوتاژ ہونے سے بچانے کے لئے ہم اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتے۔ لیکن اگر بھارت میں ایک کتا بھی مر جائے تو پورا میڈیا پاکستان پر بلا تحقیق الزام لگا دیتا ہے، اور پیغام دیتا ہے کہ’ قیام امن‘ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایک طرف” امن کی آشا “چل رہی ہے اور دوسری جانب بھارت کے آرمی چیف دیپک کپور جنگ کے دیپ روشن کیئے ہوئے ہیں۔ چین اور پاکستان کو بیک وقت حملوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جو کہ ایک بار پھر کھلا پیغام دے رہا ہے” قیام امن “ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ اکھنڈ بھارت کی ہندوستانی خواب کو بھی اگر ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ یقین رکھنا چاہیئے کہ ”قیام امن“ کبھی بھی بھارت کی ترجیحات میں نہیں رہے گا۔ کیوں کہ ایٹمی صلاحیت میں اضافہ، فوجی تعداد اور دفاعی بجٹ میں اضافہ او ر پھر اس پر اٹھنے والے عوامی شور کو دبانے کے لئے جنگی ماحول بھارت کی مجبوری ہے۔ پاکستان کے کئی دانشور” امن کی آشا “کو آشیر باد دینے کے لئے اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیںاور اسے پروان چڑھانے اور پھلنے پھولنے کا موقع دینے کے لئے فکری غذا بہم پہنچا رہے ہیں اور اس دوڑ میں کشمیر اور پانی جیسے اہم ترین مسائل کو بھی بچوں کی آپسی چپقلش جتنی اہمیت دیتے ہوئے پس پشت ڈالتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہندو بنئیے کی فطرت، اس کی ذہنی ساخت، طبقاتی نظام میں پروان چڑھنے والی سوچ اور پھر اس کے مطابق اس کا طرز عمل کے ساتھ ساتھ اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھا جائے تو اس بات میں ذرا برابر بھی شک نہیں رہتا کہ” امن کی آشا“ کبھی بھی ہندو بنئیے کی خواہش نہیں ہو سکتی۔اس لئے امن کی اہمیت کے پیش نظر کوشش ضرور کرنی چاہیئے لیکن اپنی سالمیت اور استحکام کی قیمت پر نہیں بلکہ برابری کی سطح پر۔ لیکن جب بات ہو ہندو بنئیے کی تو پھر برابری سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی فوقیت ثابت کرنا ہو گی۔ کیوں کہ اس کی فطرت ایسی ہے کہ وہ پیار محبت اور امن سے نہیں بلکہ صرف طاقت سے ہی راہ راست پر رہتا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن راجہ بھائی
یہاں تو سب ہندوستان سے دوستی کرنے کی بات کرتے ہیں ، شاید ابھی 14 لاکھ مسلمان اور قربان کرنے ہیں ان کے ہاتھوں ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھارت نا کبھی پاکستان کا دوست تھا اور نا کبھی ہوگا
اس کے ساتھ ساتھ دو اور ممالک کے بارے میں بھی یہی حقیقت ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سمندر پار دور ممالک سے بہتر ہے کے اپنے پڑوسی سے ہی دوستی کرلی جائے، (نیتوںکا حال کسے معلوم ہے)؟
آخر کو ہمارے اجداد وہاںدفن ہیں! (آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں، یہ محض ایک رائے ہے نظریہ نہیں)
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوستی کبھی یکطرفہ نہیں ہوتی ہے ۔
جب پڑوسی ملک ہر طرح سے دشمنی پر اترا ہوا ہے تو دوستی کیسے کی جائے یہ دشمنی ہم نے نہیں کی بلکہ انھوں نے ہم سے کی ہے ۔ چین بھی غیر مسلم ملک ہے لیکن ایک پاکستانی بھی چین کے خلاف نہیں بولتا کیوں ۔ اس لیے کہ چین پاکستان سے دوستی چاہتا ہے اور نبھاتا بھی ہے ۔ شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دیکھئے جب ہم چین بھارت یا امریکہ کہہ رہے اور لکھ رہے ہوتے ہیں تو اسکا مطلب وہاں کی حکومت اور حکومتی سوچ ہوتی ہے
عوام تو چاہے پاکستان کی ہو یا بھارت یا امریکہ ایک ہی جیسی معصوم ہی ہوتی ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کے بارے میںکیا خیال ہے؟ انڈیا کے ڈرامے تو ہم بہت شوق سے دیکھتے ہیں ایک یہ بھی دیکھ لیں۔ عوام اگر معصوم ہے تو پھر یہ کیا معاملہ ہے؟ کیا یہ ایکسیپشنل کیس ہے؟
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | ام طلحہ (08-01-10), راجہ اکرام (08-01-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طاہر بھائی ہم ماحول سے متاثر ہوتے ہیں
جس ملک میں بال ٹھاکرے جیسے لوگ ہوں اور جہاں میڈیا پاکستان کے خلاف ایک محاذ کھولے کھڑا ہو وہاں کے ہندو بچوں کے منہ سے ایسے کلمات کا نکلنا کوئی اچھنبا نہیں ویسے بھی یہ کوئی تقریری مقابلہ قسم کی چیز لگتا ہے جسکا موضوع انتظامیہ کی مرہون منت ہوتا ہے اور اکثر تقریریں کسی اور کی لکھی ہوئی اور رٹی ہوئی ہوتی ہیں آج اگر پاکستان میں ایسے کسی مقابلے کا انعقاد کیا جائے تو کوئی پاکستانی بچہ بھی بھارت کے خلاف اس زیادہ نہیں تو اس کے برابر تو بول ہی لے گا ویسے بھی اس لڑکی کا مخاطب کوئی انسان نہیں ایک ملک ہے اور ملک سے ہم حکومتی پالیسی ہی مراد لیتے ہیں اگر امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے تو آپ یا میں ہتھیار اٹھا کر نہیں نکل پڑتے یہ بات حکومتی یا ریاستی اداروں اور پالیسی میکرز کے لئے ہی کہی جاتی ہے میں یہاں کسی کی حمایت نہیں کررہا بس یہ کہنا چاہتا ہوں کے ایک عام آدمی امن و محبت ہی چاہتا ہے جنگ ،اختلافات ، اور مفادات سب حکومتوں کی کارستانیاں ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم بحیثیت مسلمان امن خواہش آخری دم تک کریں گے۔۔۔
ہمارے پیغبر نے تو یہودیوں سے بھی امن کا معاہدہ۔ ۔۔ کیا۔۔ مسلمان امن قائم رکھنے کی خاطر دھوکہ بھی کھا تے آئے ہیں۔۔ اسلام تو مذہب ہی امن کا ہے۔۔ قتال تو آخری آپشن ہو تی ہے۔۔ اگر امن قائم ہونے کا ذرا بھی امکان ہو تو ہر دشمن سے بات کی جا سکتی ہے۔۔ |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ورنہ کوئی مسلمان جس کے دل میں ملک و ملت کے لئے سچے جذبات ہوں اس وقت تک دوستی کی بات نہیں کر سکتا جب تک کشمیر کے مظاہم ختم نہ ہوں، انڈیا پاکستان کو ایک آزاد مسلمان ریاست تسلیم نہ کر لے، اکھنڈ بھارت کے خواب سے دست بردار نہ ہو جائے، اور ایک اچھے ہمسائے کے طور پر برابری کی سطح پر دوستی کی خواہش کا اظہار نہ کر دے۔ اور جو صرف اس کی ثقافت اور فلموں سے متاثر ہو کر ’’امن کی آشا‘‘ کے راگ الاپتا ہے وہ پاکستان کے ساتھ یا تو مخلص نہیں یا پھر اسے حقائق کا علم نہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھارت، امریکہ اور اسرائیل کبھی بھی پاکستان کے دوست نہیں بن سکتے امریکہ اگرچہ وقتی مفاد کے لئے ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے، تعاون کر سکتا ہے لیکن جب بھی بھارت اور اسرائیل کا مسئلہ ہوگا تو ساتواں بحری بیڑا کبھی نہیں پہنچے گا چاہے پاکستان دو لخت ہی ہو جائے۔ |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نیک تمناؤں سے دوستی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ ہم نے تو بارہا کوشش کی جس کی مثالیں میں نے مذکورہ بالا مضمون میں ایک سے زائد دی ہیں، لیکن بنئیے کی سوچ اور اس کی طرف سے آنے والے جوابات کے بعد نیتوں کا پتہ تو صاف چل رہا ہے۔ اس اظہار خبث کے بعد بھی اگر ہم نیتوں کو نہ جان سکے تو پھر ہماری حکمت کہاں گئی جو مسلمان کی پہچان ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے آباء بھی مکہ میں تھے، بہت تکلیف دہ منظر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ے لئے رخصت ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تیرے باسی مجھے نہیں رہنے دیتے۔ وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت بھی دو قومی نظریے کی ہی بنیاد پر تھی، ہندو،، مشرک اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ حالات اگرچہ بعینہ وہی نہیں تھے جو بر صغیر کے تھے لیکن پھر بھی شرک اور اسلام کا بنیادی مسئلہ موجود تھا پھر صلح حدیبیہ جیسے معاہدے بھی ہوئے جو کہ قیام امن ہی کی ایک کوشش تھی لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ مکہ والوں کی طرف سے معاہدے کا پاس نہ ہو سکا۔ ہم بھی کئی معاہدے کر چکے ہیں، کچھ معاہدے بین الاقوامی نوعیت کے بھی ہیں، لیکن ان کا کیا حال ہے اس سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ اور اس سے بھی سب بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت نے کتنی پاسداری کی ہے ان وعدوں کی۔ اس کے بعد بھی اگر ہم یہ کہیں کہ نیتوں کے چکر میں پڑے بغیر دوستی کر لیں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہو گی؟ آباؤ و اجداد سے محبت اپنی جگہ لیکن حقائق کا ادراک ان سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ میرے رائے ہے |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (22-01-10) |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سراسر امن ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پیارے نبی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں سے امن کا معاہدہ بغیر شرائط کے نہیں کیا تھا۔ اور جب معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو پھر کتنی سخت کاروائی کی تھی اس کو بھی مد نظر رکھیں۔ مدینے میں بسنے والے یہودیوں کے محاصرے سے لے کر خیبر تک کے یہودیوں کے ساتھ جو ہوا آپ اس سے واقف ہیں۔ اور پھر ((اخرجوا الیہود من جزیرۃ العرب)) جیسے سخت احکامات بھی دیئے گئے۔ یاد رکھیں میرے بھائی امن بہت ہی قیمتی چیز ہے اس کا ذکر میں نے مضمون کے شروع ہی میں کیا ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ ’مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘ ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (22-01-10) |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی ہونا کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے
لیکن انڈیا کے ہندو اور پاکستانی مسلمان کبھی دوست ہو سکتے ہیں ؟ ان کی ذہنیت ہمیں قبول کر سکتی ہے؟ اس کو جاننے کے لئے قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں جو لکھا ہے نعنوان ’پاکستان کا مطلب کیا‘ اس کو اگر پڑھ لیا جائے تو آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, پاکستان, پاکستانی, قدم, چین, نظر, محبت, مسائل, معاشرہ, آج, اللہ, الزام, انمول, انسان, اسلامی, بچوں, تلاش, جواب, حل, زندگی, شہر, شور, عالم, غم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ن لیگ لانگ مارچ چاہتی ہے، انہیں رائیونڈ چھوڑ کر آئینگے:پی پی پنجاب | گلاب خان | خبریں | 0 | 02-03-11 05:25 AM |
| لو کر لو گل ۔ شرم بھی نہیں آتی | قاسم شاہ | خبریں | 4 | 22-12-10 11:56 PM |
| اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کےلئے ن اور ق لیگ کی عدالتی کمیشن کی حمایت، پی پی کی مخالفت | گلاب خان | خبریں | 0 | 16-12-10 05:04 AM |
| باب : اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے | ھارون اعظم | صحیح البخاری | 0 | 26-04-10 10:27 PM |
| پنجاب:پی پی ، ن لیگ میں مصالحتی محاذ آرائی جاری | ابن جلال | خبریں | 0 | 11-09-08 06:57 PM |