واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


گستاخی اور توہین مقدسات ۔۔۔۔ہمارا مطلوبہ رد عمل ہو؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-02-10, 10:52 AM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گستاخی اور توہین مقدسات ۔۔۔۔ہمارا مطلوبہ رد عمل ہو؟

گستاخی اور توہین مقدسات ۔۔۔۔ہمارا مطلوبہ رد عمل ہو؟

مغرب اور اہل مغرب کا اپنا نقطہ ¿ نظر ہے، اپنی اقدار ہیں، اپنی مقدسات ہیں، اپنے اصول ہیں اور تمام معاملات کے اپنے ہی معیارات ہیں۔ اس لئے انہیں کیا کرنا ہے یا کیا کرنا چاہیئے اس کے لئے وہ خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ دیگر مذاہب کے افراد پر ان کے فیصلوں کی کیا زد پڑتی ہے ۔ اگر ان کا کوئی فیصلہ یا کوئی رویہ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف ہو، اہل اسلام سے امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہو تو اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ اور اس سے ان کی جمہوریت یا سیکولرزم پر بھی کوئی زد نہیں پڑتی کیوں کہ یہ انہی کا بنایا ہوا نظام ہے اس لئے حسب ضرورت اس کی تعریف اور تعبیر پر نظر ثانی کا حق بھی رکھتے ہیں۔

اس لئے آزادی اظہار اور شخصی آزادی کے حق کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ توہین رسالت، شان صحابہؓ میں گستاخی، توہین قرآن کریم اور دیگر شعائر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ اسی شخصی آزادی کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی مسلمان حجاب استعمال کرے تو یہ ان کے قابل برداشت نہیں۔

ان کی اس بے لگام آزادی سے متاثر بہت سے لوگ ہمارے معاشروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی لئے بعض اوقات ہمارے ہاں بھی گستاخی اور توہین مقدسات کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اس موقع پر اہم سوال یہ ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہیئے؟ موجودہ حالات میں اس حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان کے پیش نظر مختلف رد عمل دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ایک رد عمل تو یہ ہو سکتا ہے کہ
نہ جب تک کٹ مروں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
اور
توہین رسالت کی جو شیطان کریں گے
ہم اس کو مٹا دینے کا اعلان کریں گے


بزور طاقت روکا جائے۔ مرتکبین کو واجب القتل قرار دیا جائے ، انہیں واصل جہنم کر دیا جائے، ان کے گھروں کو پھونک ڈالا جائے ۔ اور جہاں جہاں بس چلے مسلمانوں کا یہی رد عمل ہوتا ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں ہونے والے توہین کے واقعات اور ان پر ردعمل کی صورت میں موجود ہے۔جیسا کہ گزشتہ سال گوجرہ اور سیالکوٹ میں ہوا۔

دوسرا رد عمل یہ ہے کہ ان کا بائیکات کیا جائے ، ان کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے ، جلاو گھیراو ہو، توڑ پھوڑ ہو ، ملکی املاک تک کو قابل رحم نہ سمجھا جائے۔ یہ رد عمل تب ہوتا ہے جب یہ حرکت باہر کے کسی ایسے ملک میں ہو جہاں مسلمانوں کا زور نہ چلتا ہو۔ غصے سے بپھرے ہوئے مسلمان سڑکوں پر نکل آتے ہیں، انہیں ہر چیز یہودی اور عیسائی نظر آتی ہے ، گاڑیاں، دکانیں، بینک الغرض ہر چیز صورت دشمناں بن جاتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بھی کئی بار کیا جا چکا ہے۔ جس کے بعد کسی نے خوب کہا تھا کہ ”مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے ایک بار اور کارٹون چھاپ دینا ہی کافی ہے“۔

ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ شان رسالت، شان قرآن اور شان صحابہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تبارک و تعالی کی ہے۔ اگر کوئی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیں اور اپنی ذمہ داری یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ میں مشغول رہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، قرآن کا تقدس اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت ایمان کا حصہ ہیں، اور کوئی مسلمان ایمانی لحاظ سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو یہ گستاخی ہر گز برداشت نہیں کرتا۔ غازی علم الدین شہید اور عامر چیمہ شہید دو ایسی مثالیں ہیں ہماری تاریخ کی کہ جو بظاہر بہت دین دار اور صاحب جبہ و دستار نہیں تھے لیکن جب شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی ہوئی تو محبت رسول کا ایسا ثبوت دیا کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔

اس حوالے سے متضاد طرز عمل کیوں ہے؟ کیوں تمام مسلمان ہر ایسے واقعے پر ایک جیسا رد عمل ظاہر نہیں کرتے؟ مسلم اکثریتی او ر اور مسلم اقلیتی ممالک کا طرز عمل تو ویسے بھی مختلف ہوتا ہے لیکن تمام مسلم اکثریتی ممالک بھی یکساں نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان سارے مسائل کے بارے میں علماءکرام کسی متفقہ نتیجے پر نہیں پہنچے۔ بعض کے نزدیک اس پر رد عمل کا اظہار بلکہ شدید رد عمل کا اظہار افضل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ ہم اس کے مکلف نہیں، جو گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے اس کا معاملہ اللہ کے ذمے ہے۔ سب سے پہلے تو علماءکرام تمام ایسے مسائل پر متفقہ اور دو ٹوک موقف پیش کریں کہ جن کے رونما ہونے کی صورت میں بعض افراد کے ساتھ زیادتی کا خدشہ ہے یا جن کے رد عمل میں غیر ضروری شدت سے فساد کا خدشہ ہے۔ تاہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات کا تفصیلی جائزہ تاریخی شواہد کی روشنی میں ضروری ہے کہ کس طرز عمل سے اسلام اور مسلمانوں کووقتی یا طویل المدتی فائدہ ہے اور کون سا طرز عمل نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اگر اسلام کی ابتداء سے لے کر آج تک اس طرح کے ہونے والے واقعات کا سرسری جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عفو و درگزر اور نرم برتاو کا طرز عمل زیادہ سود مند ثابت ہوا ہے۔ وقتی طور پر اگرچہ یہ اس طرز عمل کی افادیت کا سمجھنا مشکل تھا لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینے اور اپنی دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کی ادائیگی میں مشغولیت نے بہتر نتائج سامنے لائے ۔

طائف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفار نے جو کیا اس سے کون واقف نہیں، آپ علیہ السلام کے جوتے تک خون سے تر ہو گئے۔ اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہوگی ؟ فرشتہ حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر آپ حکم کریں تو دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا کر انہیں چکی کی طرح پیس دیا جائے۔۔۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ نے جو جواب دیا وہ تا قیامت ایک بہترین اصول اور نمونہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ”یہ نادان ہیں سمجھتے نہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کی آئندہ نسلوں میں سے کوئی ایمان لے آئے“ اور تاریخ نے ثابت کر دیا کہ یہ فیصلہ بہترین تھا۔ طائف کے لوگ نہ صرف ایمان لائے بلکہ اسلام کو محمد بن قاسم جیسے سپہ سلار بھی مہیا کئے۔

اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوڑا پھینکنے والی عورت کا عمل گستاخی سے کم نہ تھا۔ لیکن نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے جواب میں ایسا طرز عمل اختیار کیا کہ بالآخر وہ اسلام لے آئی۔ اس طرح کے اور بے شمار واقعات ہیں جہاں بجائے سختی کے بجائے نرمی اور سزا کے بجائے عفو و درگزر کو بروئے کار لایا گیا اور اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے۔

تاریخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اس کے بعد کی تواریخ میں ایسے بے شمار واقعات تلاش کئے جا سکتے ہیں جو اس طرز عمل کی افادیت کو مزید پختہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔

حال ہی میں سویٹرز لینڈ کی پارلیمنٹ میں میناروں پر پابندی کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ اس قرار داد کو پیش کرنے اور اس پابندی کے لئے سب سے زیادہ سرگرم رکن ڈینئیل سٹریچ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے لئے کرنے والے مطالعے کے دوران مجھ پر اسلام کی حقانیت آشکار ہوئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنے گزشتہ کاموں کے کفارے کے طور پر وہ سویٹزر لینڈ میں یورپ کی سب سے خوبصورت مسجد بنانا چاہتا ہے۔ سویٹزر لینڈ میں ہونے کی وجہ سے ڈینئیل اس ساری سرگرمی کے باوجود بچ گیا۔ اگر یہاں ہوتا تو شاید موجودہ حالت میں نہ ہوتا، یا تو قتل کر دیا جاتا، یا اسے بھاگ کر کسی غیر مسلم ملک میں پناہ لینی پڑتی جس کی وجہ سے وہ مزید بدظن ہوتا اور اس کے اسلام قبول کرنے کا امکان مزید کم ہو جاتا۔
عیاں ہے شورش تاتار کے فسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


البتہ ایسے واقعات بھی سیرت میں ملتے ہیں جن میں گستاخان کے سرقلم کر دیئے گئے، اور ان پر معافی کے سارے دروازے بند تھے۔ لیکن اس کی کچھ
خاص وجوہات تھیں جن کی بنا پر رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے خلاف اتنا سخت فیصلہ صادر کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض حالات میں اس طرح کا طرز عمل بھی ناگزیر ہے۔

اس لئے کوئی بھی متفقہ موقف اختیار کرنے سے قبل ان تمام واقعات اور ان کے نتائج و عواقب کو مد نظر رکھ کر ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے لئے طویل المدتی افادیت سے بھر پور ہو۔ اور یہ بات بھی مد نظر رکھی جائے کہ مسلم اکثریتی اور مسلم اقلیتی ممالک میں رہنے والوں کے رد عمل میں کس حد تک فرق کی گنجائش ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-02-10), فیصل ناصر (08-03-10), کنعان (08-03-10), ھارون اعظم (06-03-10), مباح (22-02-10), بزم خیال (22-02-10), شاہ جی 90 (06-03-10), عبداللہ آدم (22-02-10), غلام مجتبی جان (22-02-10)
پرانا 22-02-10, 11:24 AM   #2
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,960
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادر اکرام!
اتنی اچھی تحریر پر میری جانب سے آپ کو مبارک باد جزاک اللہ خیرا برادر آپ نے درست فرمایا کہ بعض اوقات وقت کا تقاضا یہی ہوتا کہ صبر کیا جائے اور بعض معاملات میں سخت قدم اٹھانا چاہیے جیسا کہ مرتدین اور ملحدین کے معاملے میں کہ کوئی مسلمان ہوکر مرتد ہو جائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رسالت سے واقف ہو کر بھی کفر اختیار کرے تو ایسوں کے سوشل بائیکاٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور اگر کوئی اسلامی مملکت ہو تو اس مملکت کا یہ فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو سزا دے۔
__________________
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
(اقبال)
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-02-10), راجہ اکرام (22-02-10), شاہ جی 90 (06-03-10)
پرانا 22-02-10, 12:26 PM   #3
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ بھائی۔
توھین رسالت کی متفقہ سزا صرف قتل ھی ھےاس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ھے۔ھاں عملی طور پر بھت سے اعمال کی طرح یہاں بھی کمزوری واضح ھے۔
اس سلسلے میں شیخ ابن تیمیہ کی ((الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول))کا مطالعہ فرمائیں،نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی ذات کے بارے میں حق حاصل تھا کہ وہ گستاخی کرنے والے کو معاف کر سکتے تھے اور انھوں نے کیا۔۔۔۔۔لیکن آقا علیہ السلام کے بعد کبھی بھی کسی شاتم رسول کو معاف نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔تاریخ گواہ ھے
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (06-03-10), مباح (22-02-10), راجہ اکرام (22-02-10), شاہ جی 90 (06-03-10)
پرانا 22-02-10, 12:58 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
مکرمی عبد اللہ آدم بھائی
آپ نے بجا فرمایا، لیکن اس سزا کا نفاذ کیسے ہوگا؟ بطور خاص جب کسی ایسے ملک میں یہ گستاخانہ کام ہو جو مسلمانوں کی دسترس سے باہر ہے؟
مسلمان چاہتے ہوئے بھی سوائے اپنے نقصان کے کچھ نہیں کر سکتے ہوں تو کیا حکمت عملی ہونی چاہیے اس کی جانب رہنمائی کرنا اہل علم کا کام ہے ۔۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (06-03-10), عبداللہ آدم (06-03-10)
پرانا 22-02-10, 01:25 PM   #5
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,960
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادران!
اکرام بھائی سوال آپ نے آدم بھائی سے پوچھا ہے لیکن میں شامل ہو رہا ہوں آپکی گفتگو میں بھائی میں سمجھتا ہوں کہ جسطرح پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اُسی طرح پاکستان سمیت ہر اسلامی ملک کو چاہیے کہ وہ اسیے ملکوں کے ساتھ ہر قسم کا تعلق منقطع کریں اب جیسا کہ سعودیہ یا کویت ہے یا دوسرے ملک جن سے اُن ملکوں کو تیل ملتا ہے یا دوسرے تجارتی تعلقات ہیں وہ سب ختم کیا جائے تو شاید کچھ فرق پڑےاور وہ ملک مجبور ہو کر اپنے ملک میں ہونے والی گستاخیوں کا سدِباب کریں کیونکہ اسلامی ملک کا معاملہ ہوتا ہے تو اقتصادی تعلقات پر پابندی لگانے میں دیر نہیں لگاتے جیسے ایران پر ہیں امریکہ کی جانب سے!

Last edited by مباح; 07-03-10 at 11:11 AM.
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-03-10, 07:23 PM   #6
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (06-03-10)
پرانا 06-03-10, 08:51 PM   #7
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال میں تو اس معاملے میں درگزر سے کام لینا مسئلے کو اور بھی گھمبیر بنادے گا۔ البتہ احتجاج کے طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا اس مسئلے کا حل نہیں۔ اور یہ بھی مد نظر رہے کہ جو غیر ملکی لوگ حکومت کو ٹیکس دے کر اپنا کاروبار چلارہے ہوں، اگر ان کا تعلق کسی ایسے ملک سے بھی ہو، جہاں کے لوگ گستاخی کے مرتکب ہوئے ہوں، تب بھی بغیر تحقیق کے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچانا سراسر غلط ہے۔ سزا صرف اس کو ملنی چاہیئے جس نے جرم کیا ہو، نہ کہ مجرم کے قریبی حلقوں کو۔
واللٰہ اعلم بالصواب۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (06-03-10), شاہ جی 90 (06-03-10)
پرانا 06-03-10, 10:51 PM   #8
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ شاید جذباتی بات کہیں لیکن طریقہ عامر چیمہ والا ہی ہے اور کوئی نہیں۔
اپنے ہی ملکون میں اپنا ہی نقصان تو کسی صورت ٹھیک نہیں کہ
آقا علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک صومالی بھائی نے گستاخ کو واصل جھنم کرنے کی کوشش کی، تو یہ تو فرض ہے بلکہ قرض بھی ہے ہم پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (07-03-10)
پرانا 06-03-10, 10:59 PM   #9
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے۔ البتہ ایک بات یہ بھی دیکھنی چاہیئے کہ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی کو سزا دینا ٹھیک بات نہیں۔ کوئی اگر کسی پر غلط الزام لگا دے، اور اس نے حقیقت میں ایسا نہ کیا ہو، تو بجائے اچھائی کے گناہ کے مرتکب ہوجائیں گے۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (07-03-10), عبداللہ آدم (06-03-10)
پرانا 06-03-10, 11:43 PM   #10
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوامی رد عمل :
میں تو اس سنگین مسئلے پر اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والے ممالک کا معاشی بائیکاٹ اور احتجاج ہی مؤثر سمجھتی ہوں
کیونکہ ہمارے پاس ایک یہی حل رہ جاتا ہے اس وجہ سے کہ ہماری حکومتیں بے حس ہیں اور خاموشی اختیار کر جاتی ہیں ۔۔
ان ممالک کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کیا جائے گا تو ۔۔۔ یہ کمپنیز اپنی حکومت کو ان کاموں سے باز رکھنے کے لیے اثر انداز ہوں گی ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), بزم خیال (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10), شاہ جی 90 (07-03-10), عبداللہ آدم (06-03-10)
پرانا 07-03-10, 02:48 PM   #11
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ ہمیں ازیت دینے کے لیئے
ہمیں mentally torture کرنے کے لیئے ہی یہ سب کچھہ کرتے ہیں نا
کبھی آپ نے سوچا کہ یہ سب ہمارے ساتھہ کیوں ہو رہا ہے
اس لیئے کہ آج کے مسلمان نے تحقیق کو چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے یہ کام سنبھال لیا ہے
اب جو پاور میں ہوتا ہے تو وہ پاور کا اظہار بھی چاہتا ہے ، اور وہ اس طریقہ سے شو آف پاور کرتے رہتے ہیں ، یعنی دیکھہ لو ہم تمہاری آئڈیل شخصیت کی توہین کرتے رہیں گے اور تم ہمارا کچھہ نہیں بگاڑ سکتے ، پاکستان کے ایک شخص ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کوشش کی اور اس کا پھل ہمیں پاکستان کے تحفظ کی صورت میں مل رہا ہے ، علم و عمل کا میدان تو بہت وسیع ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام کے تمام میر و غالب کی شاعری پڑھنے کی بجائے اور فلموں اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کرنے کی بجائے اگر سائینس اور ٹیکنالوجی میں تحقیق کا رحجان اپنا لیں تو ہماری قوت میں بھی اضافہ ہو گا اور پھر کسی دشمن کو یہ جرات نہ ہو گی کہ ہمارے پیارے نبی حضور پاک کی شان میں گستاخی کر سکے ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), بزم خیال (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 02:48 PM   #12
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈبل پوسٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by شاہ جی 90; 07-03-10 at 10:24 PM.
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-03-10, 09:50 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بالکل درست کہا آپ نے شاہ جی
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-03-10, 10:07 PM   #14
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مادی طاقت کے علاوہ سب سے اہم ۔۔۔ راز مسلمانوں کے غلبے کا ان کی ایمانی طاقت ہے ۔۔
ہم اپنے عمل سے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وفادار ثابت نہ کریں اور صرف سائنس اور ٹکینالوجی میں ہی تحقیق کا رحجان اپنائیں تو یہ بے شک ہمیں دنیا کی نظر میں تو باوقار کرے گا لیکن ہن دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان جوہری طاقت ہونے کے باوجود آج کس اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے وجی صرف یہی ہے کہ ہمارے ایمان کا گراف وہ نہیں جو ہمیں دوسری اقوم میں ممتاز کرتا ۔۔
اپنے قول و عمل سے اپنے آپ کو بہترین مسلمان ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور عسکری تربیت بھی حاصل کی جائے تو آج ہمارے حالات بدل سکتے ہیں ۔۔۔
مسلمانوں کو اتحاد بھی بھی اشد ضرورت ہے ۔۔
افسوس اس بات پر ہوتا ہے میں اس موضوع کے حوالے سے ایک بات کہنا چاہتی یوں اگر کبھی توہین رسالت کا کوئی واقعہ کفار کی طرف سے پیش آتا ہے تو
ہم مسلمان اس وقت بھی جماعت اور گروہ بندی کا شکار ہو کر احتجاج کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ جب سب ایک ہی بات پر متفق ہوتے ہیں تو لازمی اس کا مظاہرہ بھی نظر آنا چاہیئے ۔۔۔
ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ تمام امت مسلمہ کے احتجاج کے باوجود دشمن ہم سے خوف نہیں کھاتا ۔۔
اور اپنی ان ناپاک سازشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رکھتا ہے ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), راجہ اکرام (08-03-10), شاہ جی 90 (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 11:00 PM   #15
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ARHAM مراسلہ دیکھیں
مادی طاقت کے علاوہ سب سے اہم ۔۔۔ راز مسلمانوں کے غلبے کا ان کی ایمانی طاقت ہے ۔۔
ہم اپنے عمل سے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے وفادار ثابت نہ کریں اور صرف سائنس اور ٹکینالوجی میں ہی تحقیق کا رحجان اپنائیں تو یہ بے شک ہمیں دنیا کی نظر میں تو باوقار کرے گا لیکن ہن دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان جوہری طاقت ہونے کے باوجود آج کس اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے وجی صرف یہی ہے کہ ہمارے ایمان کا گراف وہ نہیں جو ہمیں دوسری اقوم میں ممتاز کرتا ۔۔
اپنے قول و عمل سے اپنے آپ کو بہترین مسلمان ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور عسکری تربیت بھی حاصل کی جائے تو آج ہمارے حالات بدل سکتے ہیں ۔۔۔
مسلمانوں کو اتحاد بھی بھی اشد ضرورت ہے ۔۔
افسوس اس بات پر ہوتا ہے میں اس موضوع کے حوالے سے ایک بات کہنا چاہتی یوں اگر کبھی توہین رسالت کا کوئی واقعہ کفار کی طرف سے پیش آتا ہے تو
ہم مسلمان اس وقت بھی جماعت اور گروہ بندی کا شکار ہو کر احتجاج کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ جب سب ایک ہی بات پر متفق ہوتے ہیں تو لازمی اس کا مظاہرہ بھی نظر آنا چاہیئے ۔۔۔
ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ تمام امت مسلمہ کے احتجاج کے باوجود دشمن ہم سے خوف نہیں کھاتا ۔۔
اور اپنی ان ناپاک سازشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رکھتا ہے ۔۔۔
ایمان کی طاقت تو پہلی شرط ہے
اور اتحاد تو اسی وقت آئے گا نا جب ہم اپنے قلوب کو پتھر کی سے سختی سے نکالیں گے اور ان میں نرمی کو جگہ دیں گے
یاد رکھیں Tolerance بھی مغرب کا ایک ہتھیار ہے جو ہمارے پاس اب نایاب ہوتا جا رہا ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, واقعات, قرآن, لوگ, نظر, میناروں, موقع, موجودہ, مسائل, مسجد, آج, ایمان, اللہ, احتجاج, اسلام, بہترین, تلاش, جواب, حکم, خون, خلاف, عورت, صورتحال, صنم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پختونستان عدنان دانی گانے 0 17-08-10 10:12 AM
فیس بک ، یو ٹیوب کے بعد ویکیپیڈیا ویب سائٹس کو پاکستان میں بند کردیا گیا، مگر گوگل اور یاہو؟ گوہر اپکے کالم 3 23-05-10 05:54 AM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات راجہ اکرام خبریں 1 01-02-10 06:25 PM
پاکستان پر حملہ منہ توڑ جواب محمد کاشف حبیب خبریں 1 29-07-08 10:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger