| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 54
کمائي: 1,591
شکریہ: 0
27 مراسلہ میں 61 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہم نوٹ: یہ سابقہ تحریر آج بھی اتنی ہی تازہ و شگفتہ ہے، جیسی کہ یہ گزشتہ برس تھی۔ لطف اٹھائیے
جستجو / حالاتِ حاضرہ جادُوئی چھڑی! محمد بن قاسم ہم نے پہلے کبھی اس طرح سپہ سالاروں کی تبدیلی ہوتے ہوئے نہیں دیکھی تھی، اسی لیے ہمیں اب یہ سمجھ آئی (پہلے آکر چلی جاتی تھی۔۔۔) کہ دراصل ساری طاقت تو اسی چھڑی میں مُضمِر ہے۔ پاکستانی تاریخ یہ دلائل دیتی ہے کہ جس نے بھی اس چھڑی کا جادو استعمال کیا، وہ ایک طویل عرصہ تک حکمرانی کرتا رہا۔ جب بھی یہ چھڑی کمزور پڑی، اس کا سحر بھی ٹوٹا، اور اس سے قبل سحرزدہ لوگ اچانک بیدار ہوکر کہنے لگے،”ہم کہاں کھڑے ہیں؟!!“ اکثر صورتوں میں یہ پتہ چلا کہ وہ تمام ترلمبی لمبی پریڈوں کے باوجود ابھی تک وہیں موجود ہیں، جہاں سے کئی برس پہلے آغازِ سفر کیا تھا۔ بس اس پر عوام کا دل ٹوٹ جاتاہے، اور وہ دل گرفتہ حالت میں دیگر عاملوں، سیاستدانوں، اور کسی زیادہ طاقت ور جادوگر کی جانب مسیحائی اور رہنمائی کے لیے دیکھنے لگتے ہیں۔ اور ان میں اکثر پڑھے لکھے لوگ مرزا غالب کا یہ مصرعہ کسی منتر کی طرح گُنگُنانے لگتے ہیں: ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ ”جاؤں کدھر کو مَیں“ اور ان میں سے جو زیادہ پڑھے لکھے ہیں، وہ یہ شعر پڑھتے ہیں: چلتاہوں تھوڑی دور، ہر اک تیز رَو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں اور چونکہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگ نسبتاّ کم ہیں، وہ زیادہ تر خاموش ہی رہتے ہیں۔ اور دل ہی دل میں کُڑھتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ہی جو افراد بولنے کی جراءت رکھتے ہیں، وہ سیاستدان کہلاتے ہیں۔ تاہم ان میں سے اکثر اپنی زبان کا جادو ہی استعمال کرتے ہیں۔ ان کا جادوبھی جب ٹوٹتاہے تو عام لوگوں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ تاہم دماغ سُن ہی رہتاہے، مگر اس دوران ان بڑا بول بولنے والوں کی جیبیں بھاری ہوچکی ہوتی ہیں۔ ان ہی جادوئی کمالات کی وجہ سے پاکستان کے گوشہِ گوشہِ میں ہرسفید دیوار پر کالے جادو کے ماہرعاملوں کے اشتہارات کالے رنگ سے لکھے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں یہ کہاوت عام ہے کہ ’جادو برحق ہے، مگرکرنے والا کافرہے۔‘ تاہم چونکہ پاکستانی جادوگر کافر نہیں، بلکہ مسلمان ہی ہیں، چنانچہ یہ صاف ظاہر ہے یہ کہاوت دراصل حسیناؤں کے سحر کے ضمن میں مستعمل ہوگی، یعنی کافر حسیناؤں کے لیے۔ اب یہ سوال ہے کہ ہمارے جناب صدر پرویز مُشرّف صاحب فوج سے ریٹائر ہونے کے بعدملکی معاملات کو چلانے کے لیے کن طاقتوں پر انحصار کریں گے۔ جادوئی چھڑی تو اب ان کے پیش رو کے ہاتھوں میں جاچکی ہے، وہ نہتّے کھڑے ہیں۔ اور جناب صدر صاحب کی معاون پارلیمان بھی اب موجود نہیں رہی۔ دوسری جانب پارلیمان سے خارج ہونے والے ممبران، اور دیگر بھوت پریت بھی۔۔ اگر وہ اس جادوئی دنیا میں موجود تھے، اب آزاد پنچھیوں کی طرح دانہ دنکاکے لیے پھدُکتے پھر رہے ہیں۔ کبھی اِس ڈال پر، کبھی اُس ڈال پر۔۔۔دیکھنا یہ ہے کہ کس کے پاس مضبوط جال ہے، اور وہ کس کے دام میں آئیں گے۔ جہاں تک ہمارے پیارے جنابِ صدر صاحب کا تعلّق ہے تو ان کی کیفیت اِس وقت اُس مہم جو کوہِ پیما جیسی ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ، اور کے ٹو ماؤنٹ گڈون جیسی اعلیٰ ترین اور خطرناک ترین برفانی چوٹیوں کو فتح کرنے کے بعد تنہا ہی کھڑاہو۔۔ اور اب اسے اپنے ان ساتھیوں اور معاونین کی تلاش ہو جو اس کا ساتھ بیس کیمپ پر ہی چھوڑ کرہمّت ہار بیٹھے ہوں۔ اب جب کہ نہ تو رسمی طور پر ان کا روایتی پلیٹ فارم فوجی کورکمانڈرز پاؤں تلے رہا، اور نہ ہی مفاد پرست سیاستدانوں کی ٹولیاں رہیں، تو اب وہ اپنی فتوحات کے بعدایک اور منزل طے کرنے کے لیے ایک ایسے میدان میں داخل ہورہے ہیں ، جو زمینی بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے، اور اس پر ہر قدم پھوُنک، پھوُنک کر رکھنا ہے۔ یہاں ایک تنہا کمانڈو کی صلاحیّتوں کا آخری اور اصلی امتحان ہے۔ کیا وہ لُٹیروں کو گرفتار کرسکے گا، کیا وہ ان کی بھری ہوئی جیبوں کو خالی کراکر عوام کو خوش حال کردے گا، کیا وہ ٹیڑھی نیتوں کو سیدھا کرادے گا؟؟؟ اس ڈرامائی منظر کو پاکستانی دم سادھے، اور بین الاقوامی ناظرین ایک دل چسپ وڈیو گیم کی طرح دیکھ رہے ہیں۔ تماشبینوں میں دعا کرنے والے، اور دعا نہ کرنے والے، ہر قماش کے لوگ شامل ہیں۔۔۔ مگر بقول شاعر، جو ہمیں ہر مشکل بیانیہ میں مدد دینے آحاضر ہوتا ہے،: مُدّعی لاکھ براچاہے تو کیا ہوتاہے وہی ہوتاہے جو منظورِ خدا ہوتاہے پیارے قارئین، اگلے سین تک آپ کا اور ہمارا بھی، اللہ ہی حافظ۔ ٭ جمعرات، 29 نومبر 2007 (c) 2007 Justuju Publishers - All Rights Reserved The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Publishers, hereby grant a permission for printing and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license Last edited by Hashims; 10-08-08 at 02:12 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| images, Impeachment, pakistani, فارم, کارنامے, کتابوں, پیارے, پولیس, پاکستان, پاکستانی, قدم, لوگ, نظر, مواخذہ, مقابلہ, آج, اللہ, امتحان, اجنبی, اعلیٰ, تلاش, خون, خوش, خدا, دل, دعا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|