واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کیا صرف ”یوم یکجہتی کشمیر“ منا لینا ہی کافی ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-02-10, 04:18 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا صرف ”یوم یکجہتی کشمیر“ منا لینا ہی کافی ہے ؟

کیا صرف ”یوم یکجہتی کشمیر“ منا لینا ہی کافی ہے ؟


تحریر: راجہ اکرام الحق


کشمیر جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ، چین اور ہندوستان کے درمیان ایشیا کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ خطہ شروع دن سے ہی دنیا کی نظروں کا مرکز رہا ہے۔ بہترین محل وقوع اور قدرتی وسائل کی موجودگی نے جہاں اس کی اہمیت میں اضافہ کیا وہیں اس خطے کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بھی بنے ۔ زعفران کی خوشبو ، سیبوں کی مہک اور چنار کی خوبصورتی نے اگرسیاحوں اور قدرتی حسن کے عاشقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تو ساتھ ہی ہوس پرستوں اور دنیا کے متلاشیوں کی للچائی ہوئی نگاہوں کو بھی اپنی طرف کھینچا۔

معلوم تاریخ کے مطابق دین اسلام پہلی صدی ہجری میں ہی کشمیر میں اس وقت داخل ہو گیا تھا جب محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے مظالم سے پسے ہوئے لوگوں کو نجات دلانے کے لئے سندھ کا سفر کیا تھا،شاید اسی لئے وہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔بعد کے ادوار میں کشمیر پر مختلف حالات آتے رہے تا ہم برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے سے پہلے کشمیر کی کیا صورتحال تھی یہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ برصغیر پر اپنے دور حکومت میں انہوں نے جو کیا اس کی داستان تو زبان زد عام ہے لیکن ہندو ستان چھوڑنے سے قبل ہند کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم کا جو کوہ گراں مسلط کر گئے آج تک کشمیری اس کا عذاب جھیل رہے ہیں۔

کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور آبادی کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھتی تھی لیکن انڈیا نے ناجائز طریقے سے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اگرچہ بعد میں ایک حصہ اس کے تسلط سے آزاد کرالیا گیاجو اب پاکستان کے زیر انتظام ہے اور آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان کے زیر تسلط یہ خطہ آزادی کے ساتھ اپنے معاملات چلا رہاہے۔ حکومت صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے ساتھ تشکیل پاتی ہے جو اس کی آزاد ہونے کی دلیل ہے ۔ اگرچہ سیاست میں پاکستان کی دخل اندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن شخصی آزادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

اس کے برعکس بھارت کے زیر تسلط خطہ میںبسنے والے کشمیری انسانیت سوز مظالم سے دوچار ہیں۔ ناجائز قبضے کے خلاف آواز اٹھانے اور حق آزادی کے مطالبے کی پاداش میں ظلم کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہ مظالم انہیں اپنے موقف سے ایک انچ بھی نہ ہٹا سکے۔ اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے کشمیریوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کیا گیا اور اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان نے اپنی فطری ہٹ دھرمی اور بد نیتی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاہدے کو تسلیم کرنے کے باجود ابھی تک عمل نہیں کیا۔

کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی صرف محبت ہی نہیں بلکہ جذباتی لگاﺅرکھتے ہیں ۔ جس کی کئی وجوہات میں سے ایک ان کا مسلمان ہوناہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر ممکن طریقے سے ہر موقع پر ان کی مدد کی، اور جان و مال کے نذرانے پیش کئے۔
پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور شہہ رگ صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے کچھ تقاضے اور کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام ان تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں اور جب ضرورت پڑے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ لیکن پاکستانی قیادت اور حکومت کی سطح پر جو رویہ اپنایا جاتا ہے وہ قابل افسوس اور شرمناک ہے۔
دوسرے جانب بھارت ہے جو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن وہ صرف زبانی دعوی نہیں کرتا بلکہ اس کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ دنیا اس کی مذمت کرتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی سطح پر اس کے خلاف آوازیں اٹھاتی ہیں لیکن وہ اس سب کے باوجود اپنے اٹوٹ انگ کی حفاظت کے لئے ڈٹا ہوا ہے اور کسی قیمت پر بھی اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ۔ اس کے برعکس ہم نے اپنی شہ رگ، جو کہ زندگی کی ضمانت ہوتی ہے ، اپنے دشمن کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔

حکومت پاکستان خود تو اپنے بین الاقوامی آقاﺅں کی ناراضگی کے ڈر سے اونچی آواز میں اپنا مطالبہ تک نہیں دہراتی۔ اور جو غیرت مند اپنی شہ رگ کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگادیں تو انہیں دہشت گرد قرار دیتی ہے اور ہماری شہہ گ کشمیر کو پنجہ ہنود سے آزاد کرانے کے لئے کام کرنے والی تنظیموں پر بھارت کے ڈر سے پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔
عوام شروع دن ہی سے کشمیر ی بھائیوں کے ساتھ ہے لہذا مختلف مواقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سڑکوں پر آتی رہتی ہے ۔ یوں تو پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں وقتا فوقتا مختلف مصلحتوں کے تحت اس مسئلے کو اجاگر کرتی رہی ہیںلیکن اپنے دور حکومت میں اس کے لئے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ البتہ جماعت اسلامی پاکستان کے فورم سے کشمیر کے لئے انتہائی منظم کام ہوتا رہا ہے جس کا اعتراف خود کشمیری بھی کرتے ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہر سال 5فروری کا دن ”یوم یکجہتیءکشمیر “ کے طور پر منایا جانا ہے۔ اس دن انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بناکر، جلسے اور ریلیاں نکال کر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

پہلے پہل یہ دن سرکاری طور پر نہیں منایا جاتا تھا لیکن جماعت اسلامی کی قیادت میں عوامی دباﺅ نے 1990ءکو حکومت کو مجبور کر دیا کہ اس دن کو سرکاری طور تسلیم کرے۔ بالآخر حکومت کو تسلیم کرنا پڑا اور اس کے بعدسے لے کر آج تک ہر سال اس دن ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

لیکن کیا سال میں ایک دن خاص کر نے سے ہمارا حق ادا ہو جاتا ہے؟ کیا جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کشمیری بھائیوں بہنوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کافی ہے؟ کیا اس طرح بھارت سرکار اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گی؟ کیا اس دن بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرنے سے کشمیر آزاد ہو جائے گا۔؟کیا اس ایک دن کے بدلے میں ہم اپنے رب کے حضور جوابدہی سے بچ جائیں گے؟ یقیناً سب کا جواب نفی میں ہو گا۔

سب سے پہلے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھ اسکی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے۔ بطور خاص کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو ایک ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیئے جو حکومتوں کے بدلنے یا بیرونی دباو کے باوجود اٹل ہو اور قابل تبدیلی نہ ہو۔ ایک اور اہم محاذ ہے بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو موثر انداز سے پیش کرنا۔ جب تک عالمی حمایت بھارت کے ساتھ ہے تب تک پاکستان تنہا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا۔ موجودہ حالات میں جب چین اور بھارت کے درمیان حالات میں کچھ کشیدگی ہے اور چین نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ، ایسے میں پاکستان کو اپنے موقف میں مزید مضبوطی لانی چاہیئے ۔ اس معاملے میں چین کی حمایت پاکستانی موقف کو مزید مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

پالیسی کے میدان سے ہٹ کرعملی میدان میں کچھ کرنا ہو تو پھر ضرورت ہے کسی عمر فاروق کی ، کسی حیدر کرار کی ، کسی حسین کی ، کسی محمد بن قاسم کی ، کسی طارق بن زیاد کی، کسی صلاح الدین ایوبی کی اور کسی محمود غزنوی کی۔ جب تک ہم اپنے اندر ان کرداروں کو زندہ نہیں کر لیتے، حق و صداقت کے لئے مرنے کی تڑپ کے ساتھ اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا نہیں کر لیتے، غیر اللہ کا خوف دلوں سے نکال کر ایک اللہ کا ڈر پید انہیں کر لیتے تب تک یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے والا۔ کیوں کہ کثرت کو قلت سے دبانا اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک احمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے کا جگر پیدا نہ ہو جائے۔
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-02-10), ھارون اعظم (06-02-10), نیلم خان (07-02-10), محمدعدنان (20-01-11), بزم خیال (07-02-10), حیدر (06-02-10), سحر (20-01-11), عارف اقبال (07-02-10), عبداللہ حیدر (06-02-10), عدنان دانی (06-02-10)
پرانا 06-02-10, 06:57 PM   #2
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی بہت اچھی تحریر ہے
آپ کی بات سے بالکل درست ہے کہ صرف یوم یکجہتی کشمیر“ منا لینا کافی نہیں ہے
راجہ بھائی کوئی کچھ بھی نہیں کریگا۔۔۔۔۔۔ اس ملک کے حالات بدلنے والے نہیں ہے
کوئی بھی حکمران چاہے وہ کسی بھی ملک کا ہو یا اقوام متحدہ ہی کیوں نہیں ہے
صرف اور صرف نعرا بازی سے کام لے رہے ہیں۔۔۔ کشمیر کے معاملے
میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔۔۔۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (06-02-10)
پرانا 06-02-10, 08:25 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,571
کمائي: 47,037
شکریہ: 97
1,025 مراسلہ میں 2,320 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے سلسلے میں کبھی سنجیدہ مذاکرات ہو ہی نہیں سکے۔
نہ ہمارے حکمران سنجیدہ ہیں اور نہ ہی بھارت۔
یہ جو سلگتے ہوئے مسائل ہیں جیسے مسئلہ کشمیر، کالا باغ ڈیم، لوڈ شیڈنگ وغیرہ ان کے نام پر سیاست چمکائی جاتی ہے۔ اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ان ایشوز کو استعمال کیا جاتا ہے۔
__________________
ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے۔
محمدعمر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعمر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 06-02-10, 08:39 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عمر بھائی آپ نے درست کہا
اصل میں یہ سنجیدہ مسائل ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہیں۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (06-02-10), حیدر (06-02-10)
پرانا 06-02-10, 11:37 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کبھی کبھی کوئی مسئلہ زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے اور کبھی کوئی مسئلہ زندگی کو دوام بخشتا ہے۔کشمیر کا مسئلہ بھی موخر الزکر میں شامل ہے۔اس مسئلہ کے حل نہ ہونے سے پاکستان اور بھارت کے متشدد عناصر کی زندگی جڑی ہوئی ہے
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (07-02-10)
پرانا 06-02-10, 11:46 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس مسئلہ کے حل نہ ہونے سے پاکستان اور بھارت کے متشدد عناصر کی زندگی جڑی ہوئی ہے۔
کیا اس سے مراد نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں یا اسٹیٹ ایکٹرز؟؟
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (06-02-10)
پرانا 06-02-10, 11:49 PM   #7
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
کیا اس سے مراد نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں یا اسٹیٹ ایکٹرز؟؟
مجھے بھی بدرالزمان بھائی کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-02-10, 11:52 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی جلدی سے وضاحت کر دیں، آپ کی بات پر آ کر مسئلہ اڑ گیا ہے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-02-10, 01:38 AM   #9
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی بہت اچھی تحریر ہے
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (07-02-10)
پرانا 07-02-10, 01:45 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ نیلم بہن ۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-02-10, 10:47 AM   #11
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,136
شکریہ: 1,882
725 مراسلہ میں 1,798 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی
بہت خوب

آزادی کشمیر کا حق ہے اور کشمیر بقول قائد اعظم، پاکستان کی شہ رگ ہے
اور کوئی نہ کوئی دن کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور انہیں آزادی ملے گی
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (07-02-10)
پرانا 07-02-10, 05:41 PM   #12
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم !
بے شک کسی بھی مسئلے سال بھر میں پر ایک دن منا لینا کانفرنسز اور مظاہرے کر لینا اس کا حل نہیں ہے
جب تک کہ اسے اس وقت تک دہراتے رہیں جب تک کہ وہ مسئلہ حل نہ ہو جائے
لیکن یہ اس سے کچھ بہتر ہی ہے کہ اس مسئلے کو ایک دن کے لیے بھی مسئلہ نہ سمجھں
اس ضمن میں دنیا کی تمام اسلامی تحریکوں تک بھی مسئلہء کشمیر کے حوالے سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے رہنماؤں تک خطوط کے ذریعے بات پہنچائی گئی ہے ۔۔ جو کہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے اور غاضب ہندوستانی فوج اور حکومت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے ایک بھر پور کاوش ہے

جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے اسے حل کیا جا سکتا ہے اور کشمیری عوام خود پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں تو ہمارے حکمرانوں کی اس سے غفلت ان کے بکاؤ مال ہونے کی نشانی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے
بے نظیر کا قتل ہو جائے تو اس کے لیے اقوام متحدہ یاد آجاتا ہے لیکن اب تک ہزاروں قتل ، ظلم و تشدد اور عصمت دری کے واقعات پر بھی حکمرانوں کا نظریں چرانا ۔۔۔۔ غداری ہے ۔۔
حد تو یہ ہے کہ ۔۔۔ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو جو بھی نقصان پہنچا وہ پاکستانی سابق جنرل اور صدر کی ہاتھوں پہنچا جب کشمیری رہنماؤں کو پاکستان بلا کی آپس میں پھوٹ ڈالوائی گئی ۔۔
پاکستانی حکمرانوں کی پھرتیاں کشمیر کی آزدی کی تھریک کو دبانے کے لیے جتنی چند سالوں میں نظر آئیں وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔۔
اس سلسلے میں ۔۔۔ پاکستان سے کشمیر میوزیکل گروپ کو بھیجا گیا تاکہ وہاں بھی فحاشی پھیلے اور کشمیری عوام اپنے مقصد سے ہٹ جائیں ۔۔۔
جبکہ بھارت حق رائے دہی کے ذریعے سے کشمیر کو حاصل اختیار کو اس طرح اپنی مکاریوں سے ختم کر رہا ہے کہ شرائن بورڈ کے ملک کے دوسرے حصوں سے ہندوؤں کا لا کر کشمیر بسایا جا رہا ہے ۔۔۔
اور ڈیمز کی تعمیر سے پاکستان کا بانی بند کیا جارہا ہے ۔۔
اس کے برعکس پاکستان سفارتی سطح پر بھی اور سیاسی اور اخلاقی محاذ پر بھی کشمیر کاز سے نا صرف دستبردار ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ بلکہ انڈیا ست دہشت ذدہ بھی نظر آتا ہے ۔۔
جس کی وجہ سے ہم سب کشمیر عوام کے مجرم بن گئے ہیں ہمیں اپنا حق ادا کرنا چاہیئے اور نا صرف فورمز پر لکھنے کے ۔۔۔ اپنی بات حکمرانوں تک پہچانی چاہییے تا کہ ان پر اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے ۔۔
ورنہ اگلا سال پھر آجائے گا اور اسی طرح ریلیاں اجلسے جلوس اور کانفرنسز ہوں گی ۔۔۔ پھیر سب ٹھنڈے بیٹھ جائیں گے ۔۔۔
دکھاوے سے زیادہ بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-02-10), راجہ اکرام (07-02-10), عارف اقبال (07-02-10)
پرانا 07-02-10, 06:34 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام مکرمی ارحم جی
آپ نے مختصر انداز سے پورے منظرنامے کی تصویر کشی بڑے اچھے انداز سے کر دی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کے یوٹرن نے کشمیر کاز کو جو نقصان پہنچایا وہ سب سے زیادہ افسوس ناک ہے۔ تحریک آزادی فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوا ہی چاہتی تھی کہ تقسیم کشمیر کا اک نیا فارمولا پیش کر دیا گیا، جس کے تحت یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہو گی کہ “کشمیر کو بصورت کیک طشت میں رکھ کر انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تھا”۔
لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت اپنے موقف میں اس قدر مضبوط ہے کہ وہ ایک انچ چھوڑنے کو بھی تیار نہیں، جبکہ ہم صرف گٹھلیوں پر راضی ہونے کے لئے تیار ہیں۔

بے شک اس طرح کے دن بھولی ہوئی باتوں، وعدوں اور معاہدوں کو یاد دلانے کے لئے بہت کارگر ہوتے ہیں لیکن ان کا حقیقی فائدہ تب ہے کہ شام ڈھلتے ہی پھر سارے دن کی باتیں ایک بار پھر بھولی ہوئی باتیں، وعدے اور معاہدے نہ بن جائیں۔

بطور خاص آج کے حالات میں جب انڈیا خود پاکستان سے مذاکرات کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے، اگرچہ اس کے پیچھے بھی بھارت کی مکارانہ سوچ کارفرما ہے، جس کا ذکر پھر کسی وقت سہی۔ پاکستان کو اپنے موقف میں مضبوطی دکھانی چاہئے، بطور خاص کشمیر اور پانی کے مسئلے پر دو ٹوک انداز میں بات ہو تا کہ مسئلے کا حل ممکن ہو۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (07-02-10)
پرانا 07-02-10, 08:02 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,571
کمائي: 47,037
شکریہ: 97
1,025 مراسلہ میں 2,320 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھارت نہ تو کبھی سنجیدہ ہوا ہے اور نہ اب ہے۔ یہ تو صرف دکھاوا ہے کہ مذاکرات کو تیار ہیں۔
محمدعمر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
محمدعمر کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (07-02-10)
جواب

Tags
فورم, پاکستان, پاکستانی, وزیر, چین, موقع, موجودہ, ممکن, محبت, آبادی, آج, اقوام متحدہ, اللہ, اسلام, اسلامی, بہترین, حسن, خلاف, زندگی, سفر, سیاست, سال, صداقت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شاعری کی اصلاح کیونکر ہو سکتی ہے خرم شہزاد خرم آئیں شاعری سیکھیں 1 28-09-11 03:21 AM
یومِ یکجہتی کشمیر ایڈیٹر شمارہ 0 08-02-11 10:08 PM
یوم یکجہتی کشمیر اور امن کی آشا (سلیم اللہ شیخ ) راجہ اکرام کشمیری فورمز 1 06-02-10 01:02 AM
آئین یوم یکجہتی کشمیر منائیں ARHAM اپکے کالم 0 02-02-10 11:00 PM
جرمنی کے " اسلامی جہاد یونین " ( Sauerland group ) کے خلاف عدالتی تی کاروائ ماسٹر مقسود خبریں 0 22-06-09 03:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger