| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہٹلر کا قول ہے”کم لوگوں کی بہ نسبت بڑے مجمع کو بے وقوف بنانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔“ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے ”بچوں کے مقابلے بڑوں کو بے وقوف بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔“ تو ہرگز غلط نہ ہوگا کیونکہ بڑے سن کر آسانی مان جاتے ہیں جبکہ بچے اتنے کیڑے نکالتے ہیں کہ خود کیڑے بھی پریشان ہوجاتے ہیں، ہم بھی کس کے ہتھے چڑھ گئے۔ بچوں سے تو شیطان نے بھی پناہ مانگی ہے۔ اب آپ یہ مت سمجھئے کہ دوسرا قول شیطان کا ہے۔
کالم اور ڈرامے کا اسکرپٹ لکھنا ہو تو ہم آنکھ بند کرکے لکھ لیتے ہیں، مگر جب معاملہ بچوں کی کہانیاں لکھنے کا ہو تو بہت سوچ و بچار کرنی پڑتی ہے۔ احتیاط سے پھونک پھونک کر لفظ لکھنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر ایک کہانی مکمل ہوپاتی ہے اور کبھی کبھی تو ہم اتنی احتیاط برتتے ہیں کہ اگر ہمارا ہیرو کسی جگہ جاسوسی کے لیے گیا ہے تو وہاں شیشے کا دروازہ لگا ہوگا مگر وہ پھر بھی جاسوسی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ”کی ہول“ سے ہی جھانکے گا۔ وَن وے پر دونوں طرف دیکھ کر ہی سڑک پار کرے گا۔ کسی کو گولی مارے گا تو پہلے تسلی کرلے گا کہ وہ زندہ تو نہیں کیونکہ زندہ کو گولی مارو تو تکلیف ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ہم اسی احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سین پر الجھے ہوئے ہیں کہ ولن تو بلڈنگ کی دوسری منز ل سے چھلانگ لگا کرفرار ہورہا ہے، مگر ہمیں کوئی تسلی بخش طریقہ نہیں سوجھ رہا کہ ہیرو کو کس احتیاط کے ساتھ نیچے اتارا جائے.... اسی کش مکش میں ہم دو کپ چائے پی کر ہضم کرچکے ہیں اور احتیاط کا پہلو ہے کہ سمجھ ہی نہیں آرہا.... ہمیں مزید الجھن اس لےے ہورہی ہے کہ ملک صاحب بھی کب سے آکر ہمارے سر پر سوار ہیں۔ وہ ہم سے کئی مرتبہ پوچھ بھی چکے ہیں کیا معاملہ ہے؟ مگر ہمارا ذہن ہے کہ ہیرو کی فکر میں گھل رہا ہے۔ ”تم بتاتے کیوں نہیں کہ کیا پریشانی ہے؟“ ملک صاحب نے ہمارے سامنے سے کاغذ کھینچ لیا۔ ”احتیاط کا مسئلہ ہے....“ میں نے ملک صاحب کو بچوں کی کہانی کے متعلق کے بتادیا۔ ”لو بھلا! یہ کیا پریشانی ہوئی....آج میں تمہیں چند کہانیاں سناتا ہوں وہ لکھو.... بچے بھی خوش اور بڑے بھی خوش!“ ملک صاحب نے میری کہانی کا کاغذ پھاڑ تے ہوئے کہا۔ ”بتاﺅ....“ میں نے ناگواری سے ملک صاحب کو دیکھا۔ ”کہانیاں کوئی نئی نہیں ہیں....بس تھوڑا سا اَپ ڈیٹ کرلو....“ ملک صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”مثال کے طور پر کوئی ایک تو سناﺅ....“ ہماری ناگواریت تجسس میں گم ہوگئی۔ ”سنو....پیاسا کوا....؟“ ملک صاحب نے کہا۔ ”رہنے دو....اتنی پرانی کہانی....بچے بھی سن سن کر بور ہوگئے ہیں....ویسے بھی کوا ہی کیا، بھارت تو پورے ملک کو پیاسا مارنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔“ میں نے مَلک صاحب کو ٹوک دیا۔ ”سنتے ہو یا جاﺅں....“ ملک صاحب نے غصے سے کہا۔میں خاموش رہا۔ ملک صاحب نے میری خاموشی کا فائدہ اٹھایا اور کہانی سنائی۔ ”ایک کوا بہت ہی پیاسا تھا۔ وہ صبح سے اُڑاُڑ کر پانی تلاش کررہا تھا۔ آخر وہ پانی تلاش کرتے کرتے کسی طرح پاکستان پہنچ گیا۔ اس کی نظر ایک نلکے پر پڑی تو وہ ایف سولہ کی طرح ڈائی مار کر اس کے پاس پہنچا، مگر کئی دنوں سے یہ نلکا پانی نہ آنے کی وجہ سے گل سڑ چکا تھا۔ کوا مایوس ہوکر دوبارہ اُڑنے لگا۔ اُڑتے اُڑتے اچانک اس کی نظر ایک پیپسی کی بوتل پر پڑی جس میں بچا ہوا مشروب تھا مگر وہ بوتل کے انتہائی نیچے تھا۔ کوے کو اپنے بزرگ کی عقلمندی یاد آگئی کہ کنکر ڈال کر مشروب اوپر لایا جاسکتا ہے یا پھر کہیں سے مشروب کھینچنے والی پتلی نالی اسٹرا کا بندوبست ہوجائے تو پیاس بجھ سکتی ہے۔ کوے نے یہ سوچ کر بے فکری سے نیچے کی جانب رُخ کیا اور ابھی بوتل کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ خود کش دھماکہ ہوگیا۔“ ”زبردست ملک صاحب....آپ تو سب سے بڑے کہانی باز نکلے۔“ میں نے مَلک کو داد تو وہ اور ہی پھیل گیا۔ ”لو سنو دوسری کہانی....ایک کتے کو بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے کئی گھروں میں جھانکا کہ روٹی کاٹکڑا مل جائے مگر آٹے کی قلت کی وجہ سے وہ مایوس ہوتا چلا گیا۔ آخراسے کہیں سے ایک چھوٹا سا روٹی کا ٹکڑا ملا تو وہ بھی کسی نے چھین لیا، مگر کتے نے ہمت نہ ہاری اور روٹی کا دوسرا ٹکڑا تلاش کرلیا۔ اس سے پہلے کہ آٹے کی تلاش میں پریشان کوئی پاکستانی اس سے یہ ٹکڑا بھی چھینتا اس نے ایک جانب دوڑ لگادی اور آخر کار ایک گندے نالے کے پاس پہنچ گیا....وہاں اسے گدلے پانی میں اپنا عکس نظر آیا تواس نے سوچا پانی والے کتے سے روٹی کا ٹکڑا اُسی طرح چھین لینا چاہیے جیسے مجھ سے کچھ دیر پہلے ایک انسان نے چھینا تھا....ابھی کتے نے ارادہ ہی کیا تھا کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔“ ”کیا بات ہے مَلک صاحب....لگتا ہے سب کو پیچھے چھوڑنے کا ارادہ ہے....کوئی اور کہانی ہے تو سناﺅ۔“ مجھے ان کہانیوں کی حقیقت پر مزا آنے لگا تھا۔ شاید مَلک صاحب بھی تیاری کرکے آئے تھے، کہنے لگے۔ ”ایک لکڑ ہارا صبح سے شام تک جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور شہر لاکر بیچ دیا کرتا.... مگر جب سے گیس شروع ہوئی تو اس کا کاروبار بھی بہت مندا ہوگیا۔ وہ لکڑیاں کاٹتا مگر کوئی بھی اس سے نہ خریدتا آخر اس نے ایک ترکیب سوچی اور گیس کمپنی میں ملازم ہوگیا۔ کسی طرح ترقی کرتے ہوئے وہ اونچے عہدے پر جا پہنچا اور جب بھی موقع ملتا ، گیس کی لوڈ شیڈنگ کردیتا اور جنگل چلا جاتا، جہاں وہ جی بھر کر لکڑیاں کاٹ کر شہر لاتا تو ہاتھوں ہاتھ اس کی لکڑیاں فروخت ہوجاتیں....اس طرح وہ راتوں رات امیر ہوگیا اور اب آرام و سکون کی زندگی بسر کررہاہے۔“ ”کوئی بجلی پر بھی کہانی ہے کہ نہیں....قسم سے! نہ ہونے سے تنگ کرتی ہے۔“ میں نے ملک صاحب کی طرف دیکھا اور اپنے قلم سے کمر کھجانے لگا کہ اب اس کا یہی کام رہ گیا تھا۔ ملک صاحب موڈ میں تھے، شروع ہوگئے۔ ”ایک بُلبل کا بچہ راستہ بھول گیا، شام ہوگئی تو کسی جگنو کا انتظار کرنے لگا۔ آخر ایک جگنو نظر آیا تو وہ بھی لوڈ شیڈنگ کا مارا ہوا....بغیر روشنی کے۔ بلبل کے بچے نے اس سے وجہ پوچھی تو جگنو نے کہا، واپڈ اوالوں نے زیادہ بل بھیج دیا تھا اور بل نہ بھرنے پر کنکشن منقطع کردیا۔ بلبل جگنو کی کہانی سن کر بہت افسوس کرنے لگا اوراس نے بتایا کہ اس کا نام بھی بلبل اس لیے ہے کہ ان کے آباءا جداد نے بجلی کا کنکشن نہیں لیا تھا ، مگر واپڈا کی طرف سے انہیں دو بل ایک ساتھ مل گئے، جس سے ان کے پردادا بلبلا کر وہیں جان دے بیٹھے اور تب سے ان کی نسل بلبل کہلانے لگی جو بعد میں بگڑتے بگڑتے بُلبل ہوگیا۔ یہ قصہ سنا کر دونوں نے مل کر ایک ترکیب لڑائی۔ انہوں نے بجلی والوں کو سبق سکھانے کے لیے اپنی برادری کے بہت سے پرندے جمع کرلیے اور جامشورو میں احتجاج کرنے کے لیے مسلسل اُڑان بھرتے رہے، اس سے اتنی تیز ہوا چلی کہ بڑے بڑے گرڈ اسٹیشن ڈاﺅن ہوگئے اور بجلی والوں کو بجلی کے لالے پڑ گئے.... جگنو اور بلبل اتحادو اتفاق کی برکت سمیٹنے کے لیے اب کہیں دھرنا دینے کی تیاری کررہے ہیں!!“ ”مَلک صاحب! آپ کو تو کوئی ایوارڈ شیوارڈ دینا چاہیے....ایسی ایسی کہانیاں....“ میں تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ ملک صاحب نے ، لو اور سنو کہتے ہوئے اگلی کہانی سنائی۔ ”ایک کچھوے اور خرگوش میں ریس کی ٹھن گئی....خرگوش نے تو سوچا میں دو چار جست میں مطلوبہ مقام تک پہنچ جاﺅں گا، اس لیے کچھ دیر آرام کرلینا چاہیے مگر کچھوے نے اپنا سفر جاری رکھا۔ خرگوش بے فکری سے سوگیا اور جب اٹھا تو اس نے گھڑی دیکھی جو ایک گھنٹہ آگے ہوجانے کی وجہ سے بہت انرجی بچا چکی تھی۔ پہلے تو خرگوش نے سوچا کہ اب تک کچھوا پہنچ چکا ہوگا اور یہ اپنی کاہلی کے سبب ریس ہار چکا ہے، اس لیے جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر اچانک ہی اسے اپنے ایک بزرگ کی چالاکی یاد آئی کہ کیسے وہ ریس ہارنے کے بعد بھی جیت گیا کہ وہ خرگوش نہیں خرگوش کا پوتا ہے جو اپنے دادا کی ریس جیتنے کا انعام کچھوے سے حاصل کرنے کے لیے آیا ہے۔ خرگوش یہ سوچ کر مسکرایا اور تیزی سے چل پڑا مگر اس نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ دیکھا کچھوا بے چارہ ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہے۔“ |
|
|
|
| اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-10-09) |
![]() |
| Tags |
| فروخت, کمر, ٹریفک, پیاسا, پاکستان, پاکستانی, قصہ, نظر, مکمل, موقع, آج, انسان, انعام, امیر, احتجاج, بلبل, تلاش, جیت, خوش, دھماکہ, راستہ, زندگی, سفر, شہر, شام |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|