واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کرکٹ چھوڑیئے‘ لوڈو کھیلئے,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-07, 09:16 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کرکٹ چھوڑیئے‘ لوڈو کھیلئے,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان

کرکٹ چھوڑیئے‘ لوڈو کھیلئے,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان

کرکٹ چھوڑیئے‘ لوڈو کھیلئے,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان



ہمیشہ ہی سے ہمارا قاعدہ رہا ہے کہ ہم نہایت تدبر اور تفکر سے لبریز کالم لکھا کرتے ہیں اور انہیں پڑھ کر بعض مدبر اس تفکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ آخر انہوں نے ہمارا کالم پڑھا کیوں؟ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ …”تلاش گمشدہ بھینس“… کے اشتہار یا کسی ٹینڈر نوٹس کا مطالعہ کرلیتے لیکن ہمیں زیادہ غرض مفکرین سے نہیں‘ قارئین سے ہے۔ اب اپنے ایک فکر انگیز اور سر درد خیز کالم کا حوالہ دے ہی دیں کہ چند ہفتے ہوئے ہمارا ایک کالم ”شطرنج کے فوائد“ زیور طبع سے آراستہ ہوا تھا‘ اس میں کرکٹ ٹیم کے لیے ایک خفیہ اشارہ تھا کہ وہ شطرنج کھیلنا شروع کردیں لیکن بیشتر مدبرین کی طرح انہوں نے بھی ہمارا کالم نہیں پڑھا اور ویسا ہی کھیلتے رہے جس کے وہ عادی ہیں… نتیجہ بھی وہی ہوا جس کے وہ عادی ہوچکے ہیں یعنی پورے چوبیس سال بعد انڈیا سے ”ون ڈے سیریز“ تو ہارے ہی تھے اب ستائیس سال بعد ٹیسٹ میچز کی سیریز بھی ہار گئے۔ خدا کا شکر ہے کہ ”کلین سوئیپ“… سے صرف اس لیے بچ گئے کہ ایک تو انیل کمبلے نے ڈیکلریشن دیر سے کیا دوسرے گراؤنڈ میں لائٹ اتنی کم ہوگئی کہ میچ ڈرا ہوگیا‘ لیکن سیریز ہارنے کی بدقسمتی سے پھر بھی نہ بچ سکے۔ بے دلی سے کھیلنے کا اندازہ اس سے لگائیے کہ آخری ٹیسٹ میچ میں ہمارے چار عدد کھلاڑی صرف سولہ گیندوں پر آؤٹ ہوگئے تھے، ہمارے بہترین بلے باز محمد یوسف بھی کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے…ان کا وتیرہ ہے کہ اپنی ففٹی ہوجانے کے انتظار میں نہایت ہی ”احتیاط“ سے کھیلتے ہیں یعنی گیندیں ضائع کرتے رہتے ہیں اور ایسا کئی بار ہوچکا ہے کہ پینتیس چالیس گیندیں ضائع کرنے کے بعد وہ صرف تین چار رن بناکر آؤٹ ہوگئے‘ یعنی باقی کھلاڑیوں کے لیے عذاب چھوڑگئے‘ جب جونیئرز انہیں اس قدر محتاط دیکھتے ہیں تو خود بھی غیر ضروری احتیاط سے کام لینے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ٹیم ٹارگٹ تک نہیں پہنچتی‘ اچھی خاصی رقم اگرچہ تنخواہ دار جونیئرز بھی لیتے ہیں لیکن لاکھوں روپے معاوضہ حاصل کرنے والے سینئرز کو خیال رکھنا چاہئے کہ جب وہ Aکیٹیگری میں شامل کیے جاتے ہیں تو کھیل بھی انہیں Aکیٹیگری والا پیش کرنا چاہیے۔ انڈیا روانہ ہونے سے پہلے ہماری ٹیم جنوبی افریقہ سے بہت افسوس ناک طریقے سے ہاری تھی اور حیرت انگیز طور پر چھ کھلاڑی باقی ہوتے ہوئے بھی صرف بیس رنز نہیں بناسکی تھی مگر جنوبی افریقہ سے ہار جانے پر ہمارے لیے آنسو پونچھ لینے کا جواز یہ ہے کہ جنوبی افریقہ دنیا کی دوسرے نمبر کی ٹیم ہے… لیکن انڈیا تو ہماری ٹکر کی ٹیم ہے‘ انڈیا سے ہار جانا صرف شرمناک ہی نہیں ذلت آمیز بھی ہے۔ جب ہماری ٹیم انڈیا جانے کی تیاریاں کررہی تھی تو کرکٹ کے اکثر مدبرین نے دانش کنیریا کو ٹرمپ کارڈ قرار دیا تھا مگر وہ صرف Trumpetبجاکر آگئے…کرکٹ کے بیشتر مفکرین نے پاکستانی ٹیم کی بولنگ کو بہت اہمیت دی تھی‘ خاص طور پر شعیب اختر کو تو انڈین ٹیم کے لیے ”طوفان“ کا خطاب دیا تھا لیکن اس طوفان نے ہاسپٹل کی طرف رخ موڑلیا اور کمر میں موچ آجانے کے باعث صرف دس اوورز کراکے گراؤنڈ سے سیدھے شفا خانے پہنچ گئے۔ اب ہماری ٹیم کے منیجر کو کسی اچھے کیلکولیٹر پر یہ حساب لگانا چاہئے کہ تقریباً ہر میچ میں شعیب اختر کتنا وقت گراؤنڈ میں گزارتے ہیں اور کتنا عرصہ گراؤنڈ سے باہر رہتے ہیں‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ باقی نازک اندام کھلاڑی بھی میچ شروع ہونے کے وقت تک بالکل فٹ ہوتے ہیں تاکہ میچ کا معاوضہ وصول کرسکیں لیکن میچ شروع ہوتے ہی ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ ”ان فٹ“ ہیں کیونکہ ان کے دس سال پرانے زخم بھی ہرے ہوجاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان تمام نازک انداموں کو بالکل نہ کھلایا جائے اور ”انڈر نائنٹین“ ٹیم کے ان باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جو کب سے ٹیم میں آنے کے منتظر ہیں مگر ذرا جلدی کی جائے تو بہتر ہے کیونکہ ہمارے ہاں نیا کھلاڑی جب خاصی پختہ عمر کا ہوجائے تو (مصباح الحق کی طرح) اسے بلایا جاتا ہے اور اس کے پاس زیادہ سے زیادہ سینچریاں بنانے کے لیے بہت کم سال باقی بچتے ہیں…قبضہ گروپ کے ان کھلاڑیوں کے لیے جنہیں انتظامیہ بعض ”ناگزیر وجوہ“ کی بنا پر باہر نہیں کرتی اور وہ خود بھی عزت کے ساتھ ریٹائر ہونا نہیں چاہتے‘ ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ وہ اب کرکٹ کی جگہ لوڈو کھیلنا شروع کردیں‘ لوڈو کے فوائد پر ہم ایک پوری کتاب تحریر کرسکتے ہیں لیکن ایڈیٹر صاحب کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ہم اخبار کے قیمتی صفحات ضائع نہ کریں گے لہٰذا چیدہ چیدہ نکات حاضر ہیں: لوڈو کھیلنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں چوٹ لگنے کا خطرہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک ہارنے والا کھلاڑی مشتعل ہوکر اپنی کرسی آپ کے سر پر نہ دے مارے‘ بحیثیت مجموعی یہ کھیل نہایت بے ضرر ہے اور اگر ریڑھے کے نیچے آکر آپ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی تب بھی آپ یہ کھیل پلاستر کے ساتھ نہایت دل جمعی سے کھیل سکتے ہیں کیونکہ کرکٹ جیسی مشقت بالکل نہیں ہوتی کہ گیند پکڑنے کے لیے تیزی سے دوڑنا بھی پڑتا ہے…اگرچہ ہمارے کھلاڑی فیلڈنگ میں مشقت سے بچنے کی سیر حاصل کوشش کرتے ہیں اور دو فٹ دور جاتی ہوئی گیند کو روکنے کے لیے بھی چھلانگ لگانے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں کہ اس خطرناک عمل سے کمر میں”چک“پڑجانے یا نازک کلائی میں موچ آجانے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے‘ نیز انہیں اس امر کا بھی لحاظ ہوتا ہے کہ ”گراؤنڈز مین“نے اتنی محنت سے گراؤنڈ پر جو گھاس اگائی ہے وہ چھلانگ لگانے سے پامال نہ ہوجائے۔ لوڈو کھیلنے کا دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ (شطرنج کے برخلاف) اس میں ذہن کا کوئی کام نہیں ہوتا…ویسے تو اپنے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو آؤٹ ہوتے دیکھ کر بھی کماحقہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہوں نے ذہن کو قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہونے دی تھی لیکن لوڈو میں ذہن کی جگہ قسمت کو دخل ہوتا ہے کہ گوٹ باہر نکالنے کے لیے بھی دانہ پھینک کر چھکا آجانے میں قسمت کی مہربانی شامل حال ہوتی ہے اور مخالف کی گوٹ پیٹنے کے لیے بھی دانے پر مطلوبہ نمبر آنا ضروری ہوتا ہے چنانچہ لوڈو میں ہارنے کے بعد آپ سامنے والے کھلاڑی کو کوسنے کی بجائے قسمت کو آسانی سے برا بھلا کہہ سکتے ہیں…اب ان گو ناگوں فوائد کے بعد چلتے چلتے ہم کمنٹری کرنے والوں کا ذکر بھی کردیں کہ یہ ماہرین گراؤنڈ کے باہر بیٹھ کر یہ جانتے ہوئے بھی کہ کھلاڑیوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ رہی ہے انہیں غیر مفید مشورے دیتے رہتے ہیں‘ اس بارے میں ہم نے ایک قطعہ عرض کیا تھا‘ ملاحظہ فرمالیجئے: خود گراؤنڈ میں نہیں‘ بس ماہرانہ رائے ہے کیسی بوڑھی حسرتیں ہیں جن میں گم رہتے ہیں وہ یہ جو گیند آئی تھی اگلے پاؤں پر تھی کھیلنی کاش خود بھی وہ کیا کرتے جو اب کہتے ہیں وہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمر, کارڈ, پاکستانی, مکمل, موقع, انتظامیہ, بہترین, تحریر, حال, خان, خدا, سال, عزت, صفحات, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فورم پر علم کی روشنی کے نام سے ایک لنک ھونا چاھیے رضی تجاویز اور شکایات 6 19-02-09 10:21 AM
پولو کا کھیل اور میلے محمد الیاس میرا پاکستان 1 22-11-08 08:36 PM
دھونی ”کھیل رتنا “ایوارڈ کے لئے نامزد champion_pakistani کرکٹ 1 10-07-08 10:42 PM
صدر پرویز کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑینگے،کسی کو چھیڑینگے نہیں جو ہمیں چھیڑے گا اُسے چھوڑینگے نہیں ،پرویز الٰہی عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 03:17 AM
مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی وجدان خبریں 0 26-01-08 08:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger