واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کرپشن کلچر کس نے بنایا۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-10, 10:33 PM   #1
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کرپشن کلچر کس نے بنایا۔

کرپشن کلچر کس نے بنایا۔

غالباََ نصف صدی سے ہی ہمارے ملک میں یہ بحث عام ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا ذمہ دارکون ہے، حکمران طبقہ ہے یا ملک میںاپنی بڑی اکثریت رکھنے والی وہ غریب اور مظلوم عوام جو اپنے ہر چھوٹے چھوٹے جائز اور ناجائز کاموں کے سلسلے میںپاکستان میںکرپشن کے ناسور کو پھیلانے میں پیش پیش ہے یوں یہ بحث گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان چھڑی رہتی ہے اور ہر بحث دونوں (حکمران طبقے اور عوام کی) جانب سے مدلل دلائل دیئے جانے کے باوجود بھی مثبت نتائج اخذ کئے بغیر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اورہرباربیچاری قوم سے تعلق رکھنے والے غریب اور مظلوم لوگ تشنہ لب رہ جاتے ہیں کہ کرپشن کو ملک کا کلچر کس نے بنایاہے ؟حکمرانو نے یا عوام نے؟ اور آج بھی پوری پاکستانی قوم اِس مخمصے میں مبتلا ہے کہ ملک میں کرپشن کو کلچر کا رنگ و روپ دینے والا کونسا طبقہ ہے، کہ کرپشن ہمارے ماتھے کا کلنگ کا ٹیکہ بن کردنیا بھر میںہماری بدنامی کا باعث بن گیاہے جو اَب لاکھ کھرچنے کے باوجودبھی ہمارے ماتھے سے صاف ہونے کا نام نہیں لے رہاہے۔ ایساآخر کیوںہے۔!اِس سوال کا جواب اَب ہر محب وطن پاکستان پر لازم ہوگیاہے کہ وہ اِس جستجو کی تلاش میں پوری طرح سے لگ جائے کہ ہمارے ملک کی بدنامی کا باعث بننے والاکرپشن کے ناسور کا یہ کلچر کس طرح سے ختم ہوگا۔؟

بہر کیف ادھر گزشتہ دنوںپاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما اور موجودہ حکومت کے وزیر مملکت سردارعبدالقیوم جتوئی نے ملک کے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کل تک میں گفتگوکرتے ہوئے اپنا سینہ ٹھونک کر اور ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہاہے کہ کرپشن ملک کا کلچر بن گیا ہے اورہمیں بھی کرپشن کا حق ہے اور اِس کے علاوہ اِنہوں نے اِس دوران یہ بھی واضح طور پرکہاکہ فوج کی کرپشن کوئی نہیں پوچھتا ،خرابیوں کی جڑ اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ یہاں میرااِن سے یہ ہی سوال ہے کہ کرپشن جیسے ناسور کو ملک کا کلچر کس نے بنایا ہے۔ میرے خیال سے اس موقع پر اگر وزیر مملکت سردار عبدالقیوم یہ بھی اعتراف کرتے ہوئے کہہ دیتے کہ ملک میں کرپشن کوکلچر بنانے والے بھی وہ ہی لوگ (حکمران )رہے ہیں جو پاکستان پر مختلف ادوار میں اپنی حکمرانی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں تو بات واضح ہوجاتی اور یہ لیبل تو کم ازکم ملک کی غریب اور مفلوک الحال عوام کے ماتھے سے ہٹ جاتا کہ ملک میں کرپشن کے کلچر کو غریب عوام نے پروان نہیںچڑہایاہے۔بلکہ پاکستان میں کرپشن کے کلچر کو ان حکمرانوں نے متعارف کروایاہے جو اپنے دورِ اقتدار میں مختلف حیلے بہانوں سے قومی دولت کو اپنی عیاشیوں اور عیش و طرب کے لئے لوٹتے رہے ہیں۔اور قومی دولت کو لوٹ کر دیارِ غیر سیدھار گئے ہیں۔

اِس کے علاوہ انہوں نے ایک اور بات جو اپنی اِس گفتگو میں کہی وہ یہ ہے کہ ہمیں بھی کرپشن کا حق ہے “ تو میںیہاں یہ سمجھتاہوں کہ جب وزیر مملکت یہ کہہ رہے ہیں کہ اِنہیں بھی کرپشن جیسے غلط راستے پر چلنے کا حق ہے تو پھر ملک کی وہ ساڑھے سترہ کروڑ عوام بھلاکیا کرے جو اِن دنوں اِس حکومت میں اپنی اشیائے ضروریہ آٹااور چینی سمیت اور دوسری چیزوں کے حصول سے بھی محروم ہے اِس صورت حال کے پیشِ نظر اَب اگرملک کی یہ مفلوک الحال عوام اپنی اِن اشیائے ضروریہ کے حصول کے لئے کوئی ایساویسا راستہ اختیار کرے تو پھر اِس کے بارے میں کسی کوبھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہئے کہ عوام نے ایساکیوں کیا؟ اسے ایسانہیں کرناچاہئے تھا؟اور وغیرہ وغیرہ کیوںکہ یہ بھی تو ملک کی بیچاری غریب عوام کا حق ہے کہ وہ بھی اِس کرپشن کے کلچر سے اِس طرح اپنے مسائل کا حل تلاش کرے۔جو اِس کے بس میںہے۔جس طرح وزیر مملکت نے اپنی سیف سائیڈ رکھتے ہوئے کہہ دیاہے کہ ہمیں بھی کرپشن کا حق ہے۔اِسی طرح سے تو پھر تب عوام بھی کچھ غلط کرکے یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ ہمارا حق ہے۔
اور جہاں تک انہوں نے یہ کہاہے کہ فوج کی کرپشن کوئی نہیں پوچھتا “تویہاں میں یہ عرض کردینا زیادہ بہترسمجھتاہوں کہ پاک فوج پر کرپشن کاالزام لگانے سے پہلے ہر الزام لگانے والے کو اپنا احتساب خود کرلیناچاہئے کہ وہ خود کیاہے۔؟اور کتنے پانی میں ہے ؟کیوں کہ گزشتہ 62سالوںمیں کسی سیاست دان نے یااور کسی نے اِس ملک اور قوم کے لئے سوائے اِس ملک کے قومی خزانے کو لوٹنے کے اور کچھ کسی نے نہیں کیا؟اگر کیاہے تو بتائے۔اوراِس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ پاک فوج پر کرپشن کا الزام لگانے والے کو یہ بھی خوب اچھی طرح سے سوچ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری پاک فوج نے اِس ملک اور ملت کی بقا و سالمیت اور اِس کی خود مختاری کے لئے جو قربانی دی ہے اِس کی مثال کسی بھی سیاستدان سے نہیں دی جاسکتی کہ کسی بھی سیاستدان نے فوج سے بڑھ کر اِس وطن عزیز کے لئے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیاہے۔میں یہاں ایک بار پھر یہ کہتاہوں کہ ہماری اِس پاک فوج جس نے ہر آن اور ہر گھڑی اپنے اِس وطنِ عزیز پاکستان کے لئے کیا کچھ نہیں کیا اور آج بھی ہماری یہ فوج اپنی اِس سوہنی دھرتی کے لئے عظیم قربانیاں دے رہی ہے اور آئندہ بھی جب کبھی کسی بھی دشمن کی جانب سے اِس ملک اور قوم پر کوئی برا وقت آیا تو انشااللہ ہماری یہ فوج ہی دشمن کو واصلِ جہنم کرنے کے لئے اپناسینہ تانے سب سے آگے ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہوگی۔
?لہذا آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ ملک کے کرپشن کے ناسور نماکلچر کے فوری خاتمے کے لئے ہمارے ارباب اختیار، اپوزیشن رہنماوں، دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور عوام سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے پر بہتان طرازی اور الزام تراشی کرنے کے بجائے اِس کلچر کے پسِ پردہ ہونے والے نقصانات اور ہماری آئندہ آنے والی نئی نسل پراِس کرپشن کے پڑنے والے برے اثرات کے تدارک کے لئے کوئی دیر پا لائحہ عمل ترتیب دیں۔تاکہ ملک سے کرپشن کا کلچر ختم ہوسکے اور ہمارا ملک کرپشن کی لعنت سے پاک ہوسکے۔

ناںکہ ایک دوسرے کے حوالے جات دے کر خود کوکرپشن کے اِس کلچر کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لئے منصوبہ بندیاں کرتے پھریںاورپھریہ مفلوک الحال قوم اِسی شش وپنچ میں مبتلا رہے کہ کیابات ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران ملک کی غریب عوام کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لئے تودنیابھر سے امداد کی بھیک مانگتے ہیں اور جب انہیںدنیاکے امیر ممالک سے ہم غریبوں کے نام پر امداد کی شکل میں بھیک مل جاتی ہے تو ہمارے یہی حکمران اور سیاستدان اِس امداد کے ثمرات ہم غریبوں تک پہنچانے کے بجائے ڈالروں کی شکل میں ملنے والی امداد سے اپنے ہی بینک بیلنس بھر کر نکل جاتے ہیں اور ملک کی یہ غریب عوام وہیں کی وہیں گدڑی میں لپٹی پڑی رہتی ہے۔اور اِس پر ستم ظریفی یہ کہ اِس کے باوجود بھی ہمارے ملک کا حکمران طبقہ اپناکرپشن بھول کرملک کی غریب عوام پر یہ الزام دھردیتاہے کہ ملک میں کرپشن کلچر کو اِس ملک کی عوام نے پروان چڑھایاہے۔ اور ہم تو پارساتھے اوربس پارساہی رہیں گے۔





کرپشن کلچر کس نے بنایا۔؟ (محمداعظم عظیم اعظم)
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com
ALI-OAD آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
مسٹر رائٹ (03-03-10), حسنین ایوب (03-03-10), راجہ اکرام (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 07:32 PM   #2
محسن
 
مسٹر رائٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں آپ سے 1000 فیصداتفاق کرتا ہوں۔ اور ماشااللہ بہت اچھا تجزیہ اور لکھائی ہے۔
مسٹر رائٹ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
com, php, کلنگ, کلچر, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, چینل, نظر, موقع, موجودہ, منصوبہ, متعارف, مسائل, آج, امیر, تلاش, جواب, حل, راستہ, سیاست, عزیز, صاف, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger