واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-03-10, 03:36 PM   #1
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی



برسرِاقتدار طبقے، خاص طور پر پاکستان کی بانی جماعت، اور اُس کے بطن سے جنم لینے والی پارٹیوں کے وابستگان کی اخلاقیات، ابتدا ہی سے محلِّ نظر رہی ہیں___ خرابیاں گوناگوں تھیں: ناجائز الاٹمنٹیں، رشوت ستانی، نااہلوں کا تقرر، ناجائز سفارشیں، انتخابات میں بدعنوانیاں، قانون کی پامالی، اقربا پروری، مقامی، مہاجر اور برادریوں کا تعصب وغیرہ وغیرہ۔ یہ خرابیاں دورِ ملوکیت اور دورِ غلامی کی پروردہ تھیں اور کسی بھی سطح کا اختیار رکھنے والے حاکم یا ماتحتوں کے شعور کا حصہ اور ایک طرح سے ان کی ’عادتِ ثانیہ‘ بن چکی تھیں___ اس دور میں زیادہ تر وزرا، ارکانِ اسمبلی اور پارٹی لیڈر طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے شخصی سطح پر ایک گونہ اخلاقیات کا خیال ضرور رکھتے تھے اور خود کو ایک خاص سطح سے نیچے نہیں گرنے دیتے تھے۔ گو ان کی اخلاقیات ان کی روایتی جاگیردارانہ نوعیت کی ہوتی تھی۔

انھیں یہ خوف بھی لاحق رہتا تھا کہ ان پر کوئی الزام نہ لگ جائے۔ اگر کسی شخص پر بدعنوانی کا الزام لگتا تو وہ پریشان ہوتا اور شرمندگی محسوس کرتا۔ بعض اوقات تردید یا اپنی صفائی پیش کرکے، اس الزام سے بری الذّمہ ہونے کی کوشش کرتا۔ گو کہ اس طبقے کی اخلاقیات کا اسلامی اخلاقیات سے تعلق بہت کم ہوتا تھا، وہ صرف دنیاوی یا ظاہری اخلاق کی اتنی مقدار کا قائل تھا جس سے انسان ’منہ دکھانے کے قابل‘ رہے___ مختصراً یہ کہ معاشرے، حکومت اور حکمرانی کی تمام تر خرابیوں کے باوجود، زوال پذیر ’اخلاقیات‘ ایک مستحسن ’قدر‘ کے طور پر تسلیم کی جاتی تھی۔
تاریخِ پاکستان کی پہلی ربع صدی میں سیاست اور قانون کی حکمرانی میں اخلاقیات کا گراف زوال پذیر ہی رہا، مگر پستی کی طرف اس کی رفتار نسبتاً کم کم تھی۔ اس گرتے ہوئے گراف میں پہلا ’کریش‘ اس وقت ہوا جب ہمارے پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے اقتدار سنبھالا۔ انھوں نے عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی مخالفین کی ٹانگیں توڑ دینے، زبان گُدّی سے کھینچ لینے اور ہزاروں کے ہجوم میں علی الاعلان بدکلامی اور گالم گلوچ (قذافی اسٹیڈیم، لاہور) کا نمونہ پیش کرکے ایک ’نئی سیاسی اخلاقیات‘ کی طرح ڈالی۔ چند سالہ دورِاقتدار میں اس بے چاری جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اخلاقیات پر کیا کیا نہ ستم ہوئے۔ اُس تفصیل سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف یہ کہنا کافی ہوگا کہ گذشتہ ۳۰/۳۵ برسوں میں ہماری ۶۳ سالہ تاریخ کے صاحبانِ اقتدار نے اخلاق و قانون کے گراف کو نیچے لے جانے میں بڑی مستعدی سے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اخلاق ایک طرح کا غیرتحریری قانون ہے، جو لوگ اخلاق کی پامالی کو جائز سمجھتے تھے، وہی قانون شکنی میں بھی آگے آگے رہے۔ قانون شکنی ملکی قوانین کی ہو یا مذہبی اصولوں کی، اُنھیں یہ کہنے میں ذرہ برابر عار نہیں رہا کہ ’’ایفاے عہد، قرآن و حدیث تو نہیں جس کی پابندی ضروری ہو‘‘۔

بداخلاقی، بدکلامی اور قانون شکنی کا یہ رجحان شجرِخبیثہ کی طرح خوب خوب برگ و بار لے آیاہے۔ مثالیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، کسی بھی دن کا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیجیے___ ارکانِ اسمبلی (مرد و زن) اپنی گفتگوؤں میں (ایوان کے اندر یا باہر) ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے، ایک دوسرے کے لتّے لیتے، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے نظر آئیں گے___ انھی دنوں کی ایک سرخی دیکھیے: ’’پنجاب اسمبلی: سینیروزیر اور اپوزیشن لیڈر کے ایک دوسرے کو جوتے اُٹھانے کے طعنے، لوٹے لٹیرے کے نعرے‘‘(نواے وقت، ۱۱فروری ۲۰۱۰ء)۔ اِنھی دنوں آپ نے ایک اور اخباری سرخی بھی ملاحظہ کی ہوگی، جو کچھ اس طرح تھی کہ ’’بسنت ضرور مناؤں گا۔ عدلیہ انصاف پر توجہ دے ٹریڈ یونین نہ بنائے‘‘ (ایضاً، ۲۱ فروری)۔ یہ بیان اس شخص کا ہے جو وطنِ عزیز کے سب سے بڑے صوبے کا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ پنجاب میں پتنگ بازی قانوناً جرم ہے۔ قانون توڑنے اور علی الاعلان ارتکابِ جرم کا عزم) دیدہ دلیری کی وہ انتہا ہے، جس کے بارے میں مولانا حالی نے کہا تھا ع

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اخلاقی گراوٹ اور قانون شکنی ایک عالم گیر بیماری ہے، اسی لیے دنیا کے مختلف معاشروں میں اخلاقیات کا معیار خاصی نچلی سطح تک چلا گیا ہے۔ اگر اس مفروضے کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تب بھی خیرِاُمت کے لیے اور ملّی تشخص کی دعوے دار قوم کے لیے، جس نے ایک ملک اسلامی احکامِ شریعت کے نفاذ کے لیے حاصل کیا ہو، یہ صورتِ حال ناقابلِ رشک ہی نہیں، انتہائی تشویش کا باعث بھی ہے۔ چند صدیاں پہلے یورپ میں سیاست، معیشت اور حکمرانی نے مذہب سے پیچھا چھڑایا، بایں ہمہ اس نے ایک درجے کی اخلاقیات کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اخلاقی ضابطوں کی پابندی، کاروبار میں ایفاے عہد، نظم و ضبط اور بعض دوسرے اصول اور ضابطے برقرار رکھے۔ اِسی اخلاقیات کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی نے انھیں زندہ رکھا ہوا ہے۔

صرف لاہور میں پانچ برسوں کے دوران ۱۷۱ افراد پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ گئے جن میں ۵۱ کم سِن بچے اپنے والدین کے ساتھ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے ڈور پھرنے سے جاں بحق ہوئے (نواے وقت، ۲۱ فروری)، مگر بڑے صوبے کے لاٹ صاحب پتنگ مافیا کے لیڈر کے طور پر قانون اور حکمرانی کو للکار رہے ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا

ہر اِک بات پر کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے؟
تمھی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

اندازِ گفتگو انسان کی شخصیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ غالب اپنے مخاطب کے ذرا سے بدلے ہوئے اندازِ گفتگو سے بدمزہ ہوئے تھے اور ہم اس نوبت کو پہنچ چکے ہیں کہ روزانہ اخبار کے ہرہرصفحے پر چھپنے والے نمونہ ہاے بدکلامی و بداخلاقی کا مطالعہ، ایک ’معمول‘ بن چکا ہے۔ قائدین کرام کی عظیم اکثریت بے بنیاد دعوے کرنے سے نہیں چوکتی۔ اگر کہیں سے گرفت کا اندیشہ ہو تو صاف جھوٹ بولتے ہوئے تردید کردیتے ہیں۔ چونکہ قانون کے رکھوالے خود قانونِ شکن بن گئے ہیں اِس لیے علی الاعلان ’پاکستان نہ کھپے‘ کہنے والے (سندھ کے وزیرداخلہ سمیت) سبھی بدستور اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔ اگر معاشرے کا تعلیم یافتہ اور دین دار طبقہ بیدار ہوتا تو قانون شکنی کے مجرمانہ اعلان پر، صوبہ پنجاب کے حاکمِ اعلیٰ کے خلاف اتنا احتجاج ہوتا کہ آیندہ انھیں اس طرح کی بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ خواجہ الطاف حسین حالی نے سوا سو سال پہلے ۱۸۸۶ء میں یہ رُباعی کہی تھی :

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مَد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-03-10), عبداللہ آدم (21-03-10), عبداللہ حیدر (20-03-10)
پرانا 21-03-10, 02:01 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,700
شکریہ: 22,625
4,760 مراسلہ میں 13,854 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مانے نہ کبھی کہ مَد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے

آج افغان جنگ اسی کی ترجمانی کرتی ہے
مشرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرداری۔۔۔۔کی انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور
ملا عمر میں کتنا فرق ہے ناااااااااااااااا
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-03-10, 08:09 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,543
شکریہ: 50,033
10,122 مراسلہ میں 32,017 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مَد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے


آہ:اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے۔

ایک ایک مصرعہ ایک ایک جوتا ہے ہمارے منہ پر
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-03-10), ھارون اعظم (22-03-10)
پرانا 23-03-10, 04:14 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, قرآن, لوگ, لوٹے, نظر, الزام, اندازِ, انسان, احتجاج, اسلامی, اعلیٰ, تعلیم, جھوٹ, جرم, حدیث, خلاف, رفتار, سیاست, علی, عالم, عزیز, صوبہ, صوبے, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے عبداللہ آدم عمومی بحث 0 16-08-10 06:36 AM
گذاری عمر پستی میں ۔ ۔ ۔ ۔ میاں شاہد شاعر مشرق علامہ اقبال 0 03-04-08 06:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:50 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger