| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,788
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی شہری کی زندگی اور میڈیا کا کردار
گلاب خان ایک پاکستانی شہری کی زندگی کتنی قیمتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روز مرہ زندگی میں ٹریفک حادثات کی صورت میں بے شمار جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ان قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے حکومتی ادارے اور خود عوام ضروری حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔ لوگ تو مجبوری کی حالت میں گاڑیوں کی چھتوں پر سفر کرنے سے اعتراض نہیں کرتے۔ ٹرانسپورٹر ہمیشہ لالچ کرتے ہوئے اووَرلوڈنگ کے مرتکب ہوتے ہیں وہ نہ صرف گاڑی کے اندر گنجائش سے زائد مسافر بٹھاتے ہیں بلکہ اکثر چھتوں پر بھی لوگوں کو سوار کرلیتے ہیں یہ مناظر صرف دیہات میں نہیں شہروں میں بھی کئی بار دیکھنے کو ملتے ہیں اکثر سکول وین پر لڑکے لٹکتے نظر آئیں گے، دیہات کے ٹرانسپورٹرزکو ان کے اس عمل سے روکنے کی متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے شاید ہی کبھی اس خیال سے کوشش کی ہوکہ لوگوں کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ اس میں لوگوں کا بھی قصور ہے جو اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس ترقی یافتہ دور میں ایک طرف مغرب میں اگر کسی شخص کو پھانسی کی سزا ہوجائے تو لوگ اس جان بچانے کیلئے مظاہرے اور احتجاج کرتے ہیں اور حکومت سے سزا معاف کرنے کی اپیل کی جاتی ہے، دوسری طرف ہمارے ملک میں کسی کا موت کے منہ میں چلے جانا ایسے ہی ہے جیسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر قتل کردینا، روزانہ حادثات میں سینکڑوں افراد کا جاں بحق ہوجانا حتیٰ کہ کھیل کود میں جھگڑا بڑھ جانے پر کئی افراد قتل ہوگئے۔ ٹرین حادثات میں سینکڑوں افراد موت کی نیند سوجاتے ہیں اور زخمیوں کا تو حساب ہی کوئی نہیں، یہ سب ہمارے مجموعی طرز عمل کا عکاس ہے۔ اسلام تو ایک جان کا قتل ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے آج مغرب ہی صحیح معنوں میں اسلام کی اس بات پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے اس کو کیسے بدلا جاسکتا ہے؟ اپنی جگہ یہ سوال بہت اہم ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے صرف لوگوں کو احساس دلانے، ان میں شعور پیدا کرنے اور ان کے رویئے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب لوگوں کے روئیے میں تبدیلی آجائیگی اس وقت انسانی جان کی قیمت کا احساس بڑھ جائیگا۔ میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے لوگوں میں شعور اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں کے لئے بھی انہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ لوگوں میں یہ احساس پیدا کرنے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا، اس مقصد کے لئے علماء کرام ، دانشوروں اور ماہرین سے مدد لی جاسکتی ہے۔ متعلقہ اداروں کے افراد کو سروس کے دوران وقتاً فوقتاً جو کورسز کرائے جاتے ہیں ان میں خاص طور پر یہ چیزیں شامل کی جانی چاہئے اور ہر مہینے ایسے اجلاس اور سیمینار منعقد کئے جائیں جن میں انسانی جان کی اہمیت اور قدر و قیمت پر اسلامی تعلیمات بیان کی جائیں اس مقصد کے لئے نماز جمعہ کے خطبہ سے مدد لی جاسکتی ہے اس سے بہتر موقع کوئی نہیں ہوسکتا، نہ اس کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے ہر جمعہ کو عالم دین، دانشور یا کوئی ماہر اس موضوع پر خطاب کرسکتا ہے۔ انسانی جان کی اہمیت کے حوالے سے ہمارے اندر تبدیلی آرہی ہے مغرب کی دیکھا دیکھی باقی بہت ساری چیزوں کی طرح اس کا اثر بھی ہمارے ذہنوں نے لیا ہے، مغرب کے رویے نے بھی ہمارے ذہنوں کو بدلنے میں بہت مدد کی ہے۔ متعدد مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح مغربی ممالک کی حکومتیں اپنے ایک باشندے کی جان بچانے کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر اقدامات کرتی ہیں، کئی ممالک نے تو اپنے ایک شہری کی جان بچانے کیلئے اپنی افواج تک دوسرے ممالک سے واپس بلوالیں۔ فلپائن کی حکومت نے اپنے یرغمالی شہریوں کی رہائی کے بدلے عراق سے اپنی فوج واپس بلالی تھی۔ ہماری حکومت اور عوام میں بھی شعور بڑھ رہا ہے جس کی مثال چند سال قبل عراق میں پاکستانی سفارتکار ملک جاوید کی اغوا کاروں کے ہاتھوں رہائی ہے، ہماری کسی بھی حکومت نے پہلی مرتبہ اپنے کسی شہری کی رہائی کیلئے اس حد تک کوشش کی۔ لوگوں کے رویوں اور ذہن میں تبدیلی لانے میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ ٹی وی اور اخبارات کی اپنی اپنی اہمیت ہے،میڈیا کے بارے میں ہمارے عوام کا تاثر ہے کہ ہمارا میڈیا مغرب کے مفادات کی پاکستانی شہریوں کی نسبت زیادہ نگہبانی کرتا ہے اس کے نزدیک امریکی انتخابات کی اہمیت امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد سے زیادہ ہے۔ لوگوں نے میڈیا کے اس غیر مساویانہ سلوک کا شدید نوٹس لیا ہے جو ان کے ذہن میں تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ شاید ہمارے ذہن میں اپنے شہریوں کے حوالے سے وہ مقام اور رتبہ پیدا نہیں ہوا جو مغربی اقوام کا خاصا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نائن الیون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں ہر ایک مرنے والے کی تصویر اور مختصر حالات زندگی شائع کئے۔ اس کا مقصد اس روایت کو زندہ رکھنا تھا کہ ہر زندگی کی اہمیت ہے نہ کہ اس حادثے یا واقعے کو تاریخ کا حصہ بنادیا جائے یا پھر ہر سال اس واقعے کی یاد مناکر رسم ادا کردی جائے۔ لیکن دوسری طرف ہم نے گزشتہ ماہ، اکتوبر ۲۰۰۵ء کے شدید ترین زلزلے میں موت کی آغوش میں جانے والوں کی یاد میں موم بتیاں یا دیئے جلاکر اپنا فرض ادا کردیا، اتنا جان لینا بھی ہم نے گوارہ نہیں کیا کہ اب تک کتنے لوگ ہیں جو معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے گھر تعمیر نہ کرسکے اور خیموں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اس طرح جاں بحق ہونے والے مرد، خواتین اور بچوں کی بھی اپنی ایک حقیقت اور زندگی کی کہانی تھی ان کے بھی زندگی میں کچھ مقاصد اور ارادے تھے انہوں نے یقیناً کچھ خواب دیکھے ہوں گے، ان کے بھی والدین بچے، رشتہ دار اور دوست احباب تھے جنہیں ان کی موت کا غم تھا۔ ہم نے اپنے پیاروں کی طرح ان سے سلوک کرنے کی بجائے ان سب کو یکجا کرکے چند ہندسے (مرنے والوں کی تعداد) لکھ کر یادوں کا خاتمہ کردیا۔ ہم نے یہ سب اس طرح کیا جس طرح ہم کسی بھی ہم وطن کی موت پر اب تک کرتے آرہے ہیں۔ آج کتنے ہیں جو بدترین ریل کے حادثات، امریکی میزائل حملوں، بم دھماکوں میں مرنے والوں کو یاد کرتے ہیں؟ ۲۰۰۵ء میں لاہور اسلام آباد موٹروے پر سکول بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کو آج کون یاد کرکے روتا ہے؟ ترکی، یونان کی سرحدوں پر سمندروں، افغانستان میں اور مقدونیہ کے فوجیوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کی موت پر کون آنسو بہاتا ہے؟ سعودی عرب میں سر قلم کئے جانیوالے پاکستانیوں کا غم کس کو ہے؟ کون بھارتی جیلوں میں سینکڑوں بے گناہ قید پاکستانیوں کو یاد کرتا ہے؟ کون ہے جس نے کبھی اپنے پیاروں کے خلاف اقدامات پر دوسرے ممالک میں ان کی حکومتوں کے خلاف مقدمات درج کرائے۔ اس کے باوجود ہم صرف دوسرے ممالک میں گرفتار پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہیں جن پر دہشت گردی کاشبہ کیا جاتا ہے یہ تذکرہ بھی ہم منفی انداز میں کرتے ہیں۔ پاکستانی عام طور پر سماجی یا معاشی انصاف کے حصول کی بجائے موت پر افسوس کرکے خاموش ہو جاتے ہیں ، لیکن دوسری طرف آپ دیکھیں کہ ۱۱/۹ کے متاثرین نے کس طرح سعودی حکومت کے خلاف کیس کیا تھا۔ ہمیں بھی اسی طرح کی روایات اپنانا ہونگی جو کہ فی الوقت ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آتیں۔ اس کے علاوہ قانون کے ذریعے اپنے حقوق کی حفاظت کی روایات بھی ہمارے معاشرے میں بہت کم نظر آتی ہیں اس کی وجہ شہریوں کی ایسے قوانین سے عدم واقفیت ہے کہ وہ کس طرح قانون کا سہارا لے کر انصاف حاصل کرسکتے ہیں۔ چند سال قبل راولپنڈی میں دو نوجوان موٹر سائیکل سوار ایک تیز رفتار بس تلے کچل کر جاں بحق ہوگئے تھے ، بس کے ڈرائیور اور مالک کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ پولیس کے مطابق کیس کمزور تھا۔ وجہ یہ تھی کہ متوفی لڑکوں کے والدین نے عدالت جانے سے اس لئے انکار کردیا کہ رقم حاصل کرنے سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان کے بیٹے واپس آسکتے ہیں اور یہ کہ برادری کیا کہے گی کہ ہم بیٹے کی موت کا سوگ منانے کی بجائے پیسوں کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ یہ بات بھی حیران کن نہیں ہے کہ ریل حادثات کے متاثرین نے محکمہ ریلوے کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں کیا، اگر وہ ایسا کرتے بھی تو ان کو عدالت کی طرف سے ریلوے کے ذریعے مالی تلافی ملنے کا کتنا امکان تھا؟ اس سلسلے میں شاید ہمارا قانون بھی خاموش ہے۔ ابھی ہمارا معاشرہ ترقی پذیر ہے اعلیٰ طبقاتی نظام ہمارے رویوں، ادراک، ہمارے عمل اور ردعمل کی تشکیل کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلوچستان میں آنے والے زلزلے میں سیکڑوں لوگ جاں بحق ہوئے اور ہزاروں بے گھر ہوگئے لوگوں کی املاک تباہ ہوگئیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے صدر اور وزیراعظم کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کرکے اپنے بھائیوں کی دلجوئی کرسکیں۔ وزیراعظم نے تقریباً ایک ماہ بعد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمراں طبقے میں عام لوگوں کی موت، دکھ اور تکلیف کی کتنی اہمیت ہے۔ پنجاب اور صوبہ سرحد کے وزرائے اعلیٰ نے متاثرہ علاقوں کا فوری دورہ کرکے اپنے بلوچی بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی قابل ستائش کوشش کی۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں انفرادی واقعات جیسے مختاراں مائی کیس، بلوچستان میں پانچ خواتین کا قتل اور سندھ کے وزیراعلیٰ کے حلقے میں ایک حاملہ نوجوان لڑکی پر کتے چھوڑنے اور پھر قتل کردینے جیسے واقعات نے ہمارے معاشرتی نظام کو ہلاکر رکھ دیا ہے، یہ پاکستانی میڈیا ہی تھا جس نے ان معاملات کو ایسی سطح پر پہنچایا جہاں سے ہمیں ایک ایجنڈا ملتا ہے۔ یہ میڈیا ہی تھا جس نے مقدونیہ میں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کو لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رکھا اور یہ میڈیا ہی تھا جس نے شائستہ عالمانی کیس کے ذریعے غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین جرم کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر عوام کے کٹہرے تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تبدیلی کے اس منظر نامے میں پاکستانی شہری اکیلا درمیان میں کھڑا ہے، ہمارا معاشرہ دوسرے معاشروں کی نسبت اس تبدیلی کو محسوس کرنے میں دوصدیاں پیچھے ہے لیکن یہ بات کسی حد تک باعث اطمینان ہے کہ ہم اس راہ پر چل پڑے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مغربی غلام کی تحریر پڑھ کر طبیعت خراب ہو گئی ہے!
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,788
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
ایک انسانی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا، اسلام کہتا ہے ناکہ مغرب۔ اگر ہم اس بات پر عمل کریں یا کرنے کی کوشش کریں یا اس بارے شعور بڑھانے کی کوشش کریں تو کس طرح مغرب کی غلامی میں چلے جاتے ہیں؟؟؟ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, ٹریفک, پیاروں, پولیس, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, قید, لوگ, لڑکی, نیند, نماز, نظر, موٹر سائیکل, موم, موت, معاشرہ, آج, احتجاج, اعلیٰ, اغوا, بچوں, جرم, خواتین, دوست |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی میڈیا کا منفی کردار | یاسر عمران مرزا | سیاسی تصاویر اور ویڈیوز | 19 | 07-01-11 06:03 PM |
| F-16 کی اپ گریڈیشن کےلئے پاکستان کی مدد کا مطالبہ | Real_Light | خبریں | 0 | 16-10-08 09:30 PM |
| آج کا پاکستانی میڈیا کیا کہتا ہے؟ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:08 AM |
| جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 19-11-07 06:34 PM |
| آئی ایف جے کا مشن 19 نومبر سے پاکستان کا دورہ کر کے میڈیا کیخلاف اقدامات کا جائزہ لے گا | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 10:10 AM |