واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


::ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-10, 09:47 AM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ::ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟

::ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی ؟

14فروری آنے کو ہے۔دنیا بھر میں یہ دن ”یوم محبت “ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ قوم، نسل اور مذہب کی قید سے بالا تر ہو کر انسانوں کی ایک بڑی تعدا د بشمول مسلمان اس کا اہتمام کرتی ہے۔ ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ”یوم محبت“ کی تاریخی حقیقت سے سوائے چند ایک کے کوئی واقف نہیں۔

ویلنٹائن کی حقیقت کیا ہے؟

یہ رسم کئی صدیاں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کی حقیقت کے بارے میں ایک سے زائد آراء ہیں۔ ”ویلنٹائن“ نامی کسی شخص کی طرف منسوب تقریبا نصف درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کو اس ”یوم محبت“ کا یوم آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان تمام روایات کو یہاں ذکرکرنا ، پھر تاریخی تحقیق کے ذریعے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا، تاریخی شواہد کی روشنی میں کسی ایک کو اس ”یوم محبت “ کا نقطہ آغاز قرار دینا ہمارا مقصود نہیں ۔ ان بے شمار قصوں میں سے چند ایک کا ذکرکافی ہو گا جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ واقعہ کس حد تک حقیقی ہے، اس کو بنیاد بنا کر ایک پورا دن اس کردار کے لئے خاص کرنا کس کہاں تک عقلمندی ہے ۔

ایک قصہ اس طرح ہے کہ رومی بت پرست تھے ۔ ان رومیوں کے ایک پوپ نے ،جس کا نام ”ویلنٹائن “ تھا ،نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ لیکن بعد میں جب رومیوں نے عیسائیت قبول کر لی تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کے یوم وفات کو ”یوم محبت “ کے طور پر منایا۔ اس طرح ویلنٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔ اس روایت کا مبنی بر حقیقت ہونا تقریبا محال لگتا ہے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ رومی فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، لوگ فوج میں بھرتی ہونے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے جب محسوس کیا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اس نے شادیوں پر پابندی لگا دی۔ ایک رائے یہ ہے کہ بادشاہ کا خیال تھا کہ بہادر اور جرات مند فوجی کا غیر شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ ایسے نوجوان دیگر افکار سے آزاد ہوتے ہیں ۔ الغرض فلسفہ جو بھی تھا ، بادشاہ نے شادی پر پابندی لگا دی۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے بادشاہ کے حکم کے خلاف چھپ کر شادیاں کروانا شروع کردیں، یا خود شادی کر لی۔ جس کی پاداش میں اسے سزائے موت دے کی گئی۔ اور یہ 14فروری کا دن تھا۔ بعد میں اس ویلنٹائن کی یاد میں یہ دن منایا جانے لگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے ایک راہبہ سے 14فروری کو یہ کہہ کر شادی رچالی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر راہب اور راہبہ آپس میں میلاپ کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذاہب میں ایک فرقے کے عقائد کے مطابق راہب اور راہبہ زندگی بھر کنوانے رہتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق جو کوئی اپنے آپ کو کلیساءکی خدمت کے لئے پیش کر دے تو وہ عمر بھر شادی نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ شادی اور پھر ازدواجی زندگی کی صورت میں وہ اصلی گناہ دوبارہ ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے جس کا ارتکاب آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے کیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے صولی پر چڑھ کر تمام انسانیت کی جانب سے اس کا کفارہ ادا کیا تھا۔

ویلنٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے راہبہ نے ہاں کر دی اور انہوں نے شادی رچا لی۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں سزا ئے موت دے دی گئی۔ تب سے لوگ اس دن کو یوم محبت کے نام سے مناتے ہیں۔

اگر اس واقعہ کو سچ مان لیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے مطابق اس دن کو ”یوم مذمت “ کے طور پر منانا جاتا۔ کیوں کہ اس دن ایک مذہبی روایت کے خلاف قدم اٹھایا گیا ۔ کلیسا کے اصولوں کو پامال کیا گیا ، اور اہل کلیسا میں سے دو اہم لوگوں نے مذہبی تعلیمات کے صراحتا خلاف کام کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود عیسائیت کے پیروکار اس دن کو ”یوم محبت“ کے طور پر مناتے ہیں اور مذہبی پادریوں کی جانب سے کبھی اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل کلیسا کو بھی اپنی تعلیمات کے غیر فطری ہونے کا احساس ہو چکا ہے ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ عیسائی تاریخ میں ویلنٹائن نامی تین افراد کا ذکر ملتا ہے اور تینوں کو کسی نہ کسی جرم میں موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔

حقیقت کچھ بھی ہو یہ دن عیسائی برادری کے لئے عید کی حیثیت اختیار کر گیا، جو پہلے پہل تو صرف بعض جگہوں پر منایا جاتا تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی وسعت نے اس طرح کی کئی خبائث کو اسلامی معاشروں میں بھی پروان چڑھا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن ہمارے ہاں بھی اسی اہتمام و احترام سے منایا جانے لگا۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت اپنانے کو نہ صرف قابل فخر سمجھتے ہیںبلکہ اسی تقلید کو ہر قسم کی روشن خیالی اور جدیدیت کا معیار سمجھتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ فطری مذہب ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کی تمام طبعی خواہشات کے پیش نظر ان تمام معاملات زندگی کو اپنی تعلیمات میں سمویا ہے جو تقاضائے بشری ہیں۔ لیکن ان جذبات کی تکمیل و تسکین کے لئے اسلام نے مسلمانوں کو بے لگا م نہیں چھوڑا بلکہ کچھ اصول وضع کئے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کئے جانے والا ہر کام عبادت شمار ہوتا ہے ۔ اسلام خوشی اور تفریح سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں۔ تا کہ مسلمان اس دن خوشی کا اظہار کر سکیں، ایک دوسرے کو تحائف دیں، دعوتیں کریں۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کی تقریبات یا اس طرح کے دیگر ایسے مواقع جو انسانی زندگی کا لازمہ اور معاشرے کی ضرورت ہیں ان میں بھی خوشی منانے کی پوری اجازت ہے۔

اسلام خوشی منانے کا ہر گز مخالف نہیں۔ لیکن جو تہوار کوئی مذہبی یا تہذیبی پس منظر رکھتے ہوں۔ جس کا منایا جانا کسی مذہبی واقعے کی یاد دلاتا ہو، اس کو منانا اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں۔ مذہبی تہواروں کی کو منانے کا مقصد کچھ روایات ، تصورات اور عقائد کو انسانی معاشروں میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ اس لئے دیگر مذاہب کے مذہبی تہوار منانا خطرے سے خالی نہیں۔

ان اسلامی ایام کے علاوہ کسی بھی ایسے دن کا منانا جس کا ہماری روایات سے تعلق نہیں علماءکے متفقہ فتویٰ کے مطابق بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس دن تحفے دینا اور کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونا ”تعاون علی الاثم و العدوان“ (برائی اور زیادتی کے کام میں تعاون) کے تحت آتا ہے۔

ایک طبقہ کی رائے ہے کہ اسلام خوشی منانے سے ہر گز منع نہیں کرتا اس لئے اس دن خوشی منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ کہ آپ ان کے طریقے مت اپنائیں بلکہ اسلامی طریقے اپناکر اسلامی انداز میں یہ دن منا سکتے ہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔ افسوس ہے ان دانشوروں پر ۔ طریقہ بدلنے سے کوئی غلط کام جائز نہیں ہو جاتا۔ اگر خوشی ہی منانی ہے تو کسی اور دن کا انتخاب کر لیجئے۔ اسی دن منانا ضروری ہے؟

اس دن خوشی منانے کا مطلب ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اور اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے“ اب ہر انسان خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کن میں سے ہونا پسند کرتا ہے۔

یہ تو مذہبی پہلو ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی پہلو سے یہ دن جو برائیاں ساتھ لاتا ہے وہ کوئی بھی شریف النفس قبول نہیں کر سکتا۔ مغربی اور غیر اسلامی معاشروں کا جو کلچر میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ دن منانے کی دعوت دیتا ہے ، وہ طریقے بھی سکھاتا ہے، اس دن کی راہ و رسم سے بھی آگاہ کرتا ہے ۔ محبت اور عشق کے خوبصورت پردوں میں جنسی بے راہ روی اس دن کا خاصہ ہے۔ بظاہر محبت کا پرچار ہے لیکن درحقیقت تباہی ہی تباہی ہے ۔ اخلاق کی تباہی، معاشرتی اقدار کی تباہی، وسائل اور اوقات کی تباہی اور بالآخر خاندانی نظام کی تباہی۔

یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کی خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔

بطور خاص وطن عزیز جن اخلاقی، معاشرتی، اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے وہ کسی صورت بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تہواروں پر سرکاری طور پر پابندی لگائیں۔ تاکہ اخلاقی اور جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل کا نقصان بھی روکا جا سکے۔

اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔

اپنی ملت پے قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
25 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
nomannoman (21-02-10), sahj (11-02-10), saraah (14-02-11), فیصل ناصر (11-02-10), ھارون اعظم (12-02-10), یاسر عمران مرزا (11-02-10), ڈاکٹرنور (11-02-10), محمدعدنان (11-02-10), مرزا عامر (15-02-11), مسافر (09-03-10), ام طلحہ (11-02-10), ابو عمار (11-02-10), ابوسعد (15-02-11), ابن آدم (14-02-11), احمد بلال (15-02-10), بزم خیال (14-02-10), حیدر (14-02-10), خرم شہزاد خرم (11-02-10), رضی (11-02-10), سحر (11-02-10), شکاری (14-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عارف اقبال (14-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10), عروج (29-09-10)
پرانا 11-02-10, 12:23 PM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شاندار تحر یر ہے
واقعی یہ لعنت اب ہمارے ہاں بہت سرائت کر گئی ہے
اور نوجوان نسل بے خبر ی میں اسے مناتے جا رہے ہیں
یہ آگاہی پیدا کرنے کی ایک اچھی کو شش ہے
میں نے اسے اپنے بلاگ پر بھی لگا دیا ہے۔۔۔
یہاںMy writings blog: ویلنٹائن ڈے:: یوم محبت یا دعوت تباہی
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی)
Visit My Blog
http://www.homeopathypakistan.blogspot.com
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), بزم خیال (14-02-10), خرم شہزاد خرم (11-02-10), راجہ اکرام (11-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عروج (14-02-11)
پرانا 11-02-10, 12:30 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام مسنون ڈاکٹر صاحب
حوصلہ افزائی کا شکریہ
ویلنٹائن اور اس طرح کے دیگر ایام جو ہمارے معاشرے میں دیمک کی طرح سرائیت کر گئے ہیں، جنہوں نے اخلاقی اور معاشرتی اقدار کا قتل عام شروع کیا ہوا ہے ان کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور نوجوان نسل کو تقلید اغیار ور مشابہت اغیار سے بچانے کے لئے کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اپنے بلاگ پر اسے جگہ دینے کا بھی شکریہ قبول کیجئے۔

ویلنٹائن کے حوالے سے ایک آزاد نظم نما بھی تیار کی ہے، وہ بھی ان شاء اللہ عنقریب پوسٹ کروں گا

محتاج اصلاح و دعا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), ڈاکٹرنور (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), بزم خیال (14-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عروج (14-02-11)
پرانا 11-02-10, 12:54 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی۔۔۔۔ بہت اچھی تحریر ہے
ہم مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ گوروں کی رسموں کو اپنائے
ہمیں ایسے سرگرمیوں کے خلاف اختجاج کرنا چاہیں۔
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), بزم خیال (14-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عروج (14-02-11)
پرانا 11-02-10, 12:54 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی۔۔۔۔ بہت اچھی تحریر ہے
ہم مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ گوروں کی رسموں کو اپنائے
ہمیں ایسے سرگرمیوں کے خلاف اختجاج کرنا چاہیں۔
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), بزم خیال (14-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 11-02-10, 04:25 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,734
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی بہت عمدہ تحریر ہے ۔
ایک بات مجھے بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے ، شائد آپ سب مجھ سے متفق نا ہوں ۔
بچوں کی اور نئی نسل کی سائیکولوجی ہوتی ہے کہ وہ ، وہ کام ذیادہ زور شور سے کرتے ہیں جن کو ذیادہ منع کیاجاتا ہے ۔ اور جن باتوں کو اگنور کردیا جائے اس کو بھول جاتے ہیں ۔
کیاہم اس دن کی مذمت کر کر کے اس کو کچھ ذیادہ ہی اہمیت نہیں دے رہے ہیں ۔
ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کرسمس بہت زور و شور سے منایا جاتا ہے لیکن میرے بیٹے کو کرسمس سے کوئی دلچسپی نہیں کیوں کے ہمارے گھر میں اس کا نام بھی نہیں لیا جاتا ہے ۔
اگر ہم بار بار اس کو کہتے کہ بیٹا کرسمس نہیں بنانا چاہیے تو اس کے دل میں تجسس پیدا ہوگا کہ کیوں نا منائیں ۔
ویلنٹائن ڈے کو اہمیت دینے کے بجائے اور اس کی مذمت کے بجائے ہم اگر نئی نسل کو اسلامی اقدار کے بارے میں بتائیں تو لوگوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی ۔
بچوں کی تربیت کا اصول ہوتا ہے کہ ان کوکبھی منفی کام پر نہیں نہ بولو بلکہ ہمیشہ پوسیٹو کام کرنے کو بولو ۔ اور ان کی توجہ بدل دو ۔
یہی کام ہم کو اپنی نئی نسل کے ساتھ کرنا چاہیے ۔کہ ان کی توجہ کو بدل کر اسلام کی طرف کردیں ۔ تو وہ خود ان چیزوں کو بھول جائیں گے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), saraah (14-02-11), یاسر عمران مرزا (14-02-10), ابو عمار (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), احمد بلال (15-02-10), راجہ اکرام (11-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عارف اقبال (14-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10), عروج (29-09-10)
پرانا 11-02-10, 04:43 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم سحر بہنا
آپ نے تربیت کے جس اصول کی جانب توجہ دلائی ہے وہ انتہائی اہم ہے، اور بچپن کے ناپختہ ذہن کی تربیت کے لئے اس سے زیادہ کارگر اور تیر بہ ہدف نسخہ شاید ہی کوئی ہو۔
لیکن ایک صورت ہوتی ہے جب کوئی رسم ایک مقام حاصل کر چکی ہوتی ہے، زبان زد عام ہوتی ہے، اس رسم کے آتے ہی تمام ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر کو سب سے اہم کام سمجھتے ہیں، مختلف کمپنیز اور فوڈ سٹریٹس کی جانب سے اس دن کے خصوصی پیکجز کے اعلانات ہوتے ہیں، ایسے میں ہر انسان کے کانوں تک اس دن کی خبر پہنچتی ہے ۔۔
اب جب صورتحال یہ ہو جائے تو خاموش رہنا میرے خیال میں اس دوسری سوچ کے حامل افراد کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہو گا۔
اس لئے جس قدر اس کی توصیف ہو اس سے زیادہ اگر نہیں تو کم از کم اس جتنی مذمت تو ہونی چاہیئے۔

جو نظریہ یا رویہ رواج پا چکا ہو، قدم جما چکا ہو، پھلنا پھولنا شروع ہو چکا ہو اس کے خاتمے کے لئے پوسٹ ماڈرن ازم میں Deconstructionism کا فلسفہ استعمال ہوتا ہے۔
پہلے تخریب اور پھر اس کے بعد تعمیر، تو جب تک ہم اس دن کی مذمت کی صورت میں اس کی تخریب نہیں کرتے، اس کی بنیادوں کو کمزور نہیں کرتے، اس کی برائیوں کو آشکار نہیں کرتے تو ہم اپنا مقدمہ مضبوط بنیادوں پر کیسے پیش کریں گے۔

میرے خیال سے اس زاویے سے بھی سوچنا چاہیئے۔
کیا خیال ہے آپ کا اس بارے میں؟
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (12-02-10), یاسر عمران مرزا (14-02-10), ابو عمار (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), احمد بلال (15-02-10), رضی (11-02-10), سحر (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10)
پرانا 11-02-10, 04:54 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,734
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی آپ کی بات بھی درست ہے ۔
لیکن معاشرے کی تعمیر کا وہی طریقہ کامیاب ہوگا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بہت سی رسومات تھیں جو اسلام سے منافی تھی ۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کوکبھی برابھلانہیں کہا بلکہ مستقل مزاجی سے سب کو صحیح طریقہ سمجھاتے رہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا طریقہ بھی وہی montessori method ہی ہے ۔ توجہ بدلنے کا اور مثبت سوچ کو ابھارنے کا اور صحیح کام کے کرنے کا ۔ اگر ایک انسان صحیح کی طرف آتا تو غلط کام خود بخود اس سے دور ہوتا جاتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), راجہ اکرام (11-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10)
پرانا 11-02-10, 05:31 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ نبوی طریقہ ہی کامیابی کا ضامن ہے، لیکن اس طریقے میں صرف مثبت ہی مثبت نہیں ہے بلکہ نفی و اثبات کا ایک حسین امتزاج ہے۔
بعض مواقع پر صرف نیکی اور اچھائی کا پرچار ہی کافی نہیں بلکہ برائی اور گناہ کی مذمت، انکار اور ممانعت بھی ضروری ہے جس کی مثالیں جا بجا قرآن کریم اور سنت بنویہ علی صاحبھا افضل التسلیمات میں ملتی ہیں۔
وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیش نظر بنائی گئی حکمت عملی زیادہ کارگر ہو سکتی ہے بجائے اس کے کہ ہمیشہ مثبیت پر ہی زور دیا جائے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ابن آدم (14-02-11), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 11-02-10, 07:35 PM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (12-02-10), ابو عمار (11-02-10), ابن آدم (14-02-11), راجہ اکرام (11-02-10), رضی (11-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 11-02-10, 11:56 PM   #11
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 12-02-10, 12:08 AM   #12
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,759
شکریہ: 8,792
2,970 مراسلہ میں 10,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ویلنٹائن کے حوالے سے ایک آزاد نظم نما بھی تیار کی ہے، وہ بھی ان شاء اللہ عنقریب پوسٹ کروں گا

محتاج اصلاح و دعا
السلام علیکم، راجا بھائی آپ کی اس نظم کا انتظار رہے گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (13-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 14-02-10, 02:13 AM   #13
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکرام بھائ بہت شاندار تحر یر ہے
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (14-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 14-02-10, 10:52 AM   #14
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ راجہ بھائی ۔ بہت اچھی تحریر ہے ۔ نئی نسل ترقی پسند کہلانے کے شوق میں اندھا دھند تقلید کی بجائے کچھ توجہ اپنے اخلاق و کردار پر بھی دیں تو صحیح سمت واضح ہو جائے گی ۔ کچھ زیادہ نہ سہی صرف 30 ، 40 سال پہلے والی معاشرتی اقدار ہی واپس لوٹ آئیں تو ستے خیراں ہیں ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا

بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (14-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 14-02-10, 11:46 AM   #15
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,136
شکریہ: 1,882
725 مراسلہ میں 1,798 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ راجہ بھائی۔ بہت اچھی تحریر ہے
عارف اقبال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (14-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
جواب

Tags
کوشش, پسند, قید, قدم, قصہ, لوگ, نظر, مکمل, موت, ممکن, محبت, اسلامی, جھوٹ, جرم, حکم, خلاف, زندگی, سال, شخص, عید, عبادت, عزیز, عشق, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیراعظم گیلانی کی شہباز شریف کو گیس لوڈشیڈنگ سے متعلق پیر کے اجلاس میں شرکت کی دعوت گلاب خان خبریں 0 17-12-10 07:33 AM
یوم محبت , ویلنٹائن ڈے گوہر اپکے کالم 2 14-02-10 12:24 AM
پشاور:بجلی کی 12سے 18گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ ابن جلال خبریں 0 18-10-08 04:10 PM
آئی سی ایل ورلڈ سیریز : انڈین الیون نے ورلڈ الیون کو شکست دیدی عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 13-04-08 09:37 AM
انڈین جیولری کشورناہید فیشن اور بیوٹی ٹپس 5 04-10-07 09:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger