واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


نار نمرود سے نجات ۔۔ سنت ابراہیمی پر عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-09, 04:40 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نار نمرود سے نجات ۔۔ سنت ابراہیمی پر عمل

نار نمرود سے نجات ۔۔ سنت ابراہیمی پر عمل

ویسے تو تمام ہی انبیاءکرام علیہم السلام معصوم اور قابل تقلید تھے لیکن بعض کو جو درجہ اور مقام حاصل ہوا وہ رہتی دنیا تک کے لیے کامیابی کا ضامن ہے۔ اسی فرق مراتب کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد ہوا ”تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض“ کہ ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔ افضل ترین اور الوالعزم انبیاءمیں ابراہیم علیہ السلام کو خاص مقام حاصل تھا۔ انہوں نے جن حالات میں جن آزمائشوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ آج کے حالات میں ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔

آخر وہ کیا عمل تھا اور وہ کیا طریقہ کار تھا جس پر چل کر سیدنا ابراہیم کو یہ مقام ذی شان حاصل ہوا؟ اور وہ کیا سنتیں انہوں نے چھوڑی ہیں کہ سنت ابراہیمی کو زندہ رکھنے کے لئے ہر سال مسلمانوں کو قربانی کا حکم ملا ،حج بیت اللہ فرض ہوا اور سیدہ حاجرہ کی یاد میں صفا و مروة کے درمیان سات چکر لگانے کو لازمی قرار دیا گیا؟ اس فلسفے کو سمجھنے کے لئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیات پر اک نظر دوڑانی پڑے گی۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک بت ساز اور بت فروش کے گھر میں پیدا ہوئے، اور یہ کوئی معمولی پیشہ نہ تھا۔ پتھروں کو خدا بنانے کا کام یقینا اپنے وقت کا اہم ترین اور معزز ترین پیشہ ہوگا۔ اور اس پیشے کی وجہ سے آزر اور اس کے خاندان کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہوگا۔ ہر باپ کی طرح آزر کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بھی یہ کام سیکھ لے، اور مستقبل میں جانشینی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے خاندان کے اس شرف کو برقرار رکھے۔ لیکن ” تدبیر کنند بندہ تقدیر کنند خندہ“ ۔

اسے کیا علم تھا کہ جسے وہ بت ساز اور بت فروش بنانے کا سوچ رہا ہے وہ تو بت شکن بنے گا۔ نہ صرف مٹی کے بت بلکہ وہ معاشرے میں بنے ہوئے ہر بت کو پاش پاش کرنے کے لئے آیا ہے چاہے وہ بت خوف غیر اللہ کا ہو، چاہے وہ بت انسانوں کی خدائی کا ہو یا خاندانی تفاخر کا ہو۔ اور آپ نے اپنی زندگی میں یہ سب کر دکھایا، ہر بت کو پاش پاش کیا اور اسباب کے بجائے مسبب الاسباب پر یقین و ایمان کی درخشاں مثالیں پیش کیں ۔

آپ علیہ السلام کی زندگی یوں تو ساری کی ساری قابل تقلید ہے، اس پر چل کر کامیابی کا حصول یقینی ہے لیکن اگر ہم اس فسلفہ حیات کو تلاش کرنا چاہیں جس کے باعث آپ کے زندگی کو سنت قرار دے کر رہتی دنیا تک کے لئے کامیابی کی ضمانت اور مشعل راہ بنا دیاگیا تو وہ ہے ” معمولات زندگی میں فکر و تدبر اور عقل کا استعمال لیکن جب حکم خداوندی آ جائے تو بلا چوں و چراں سر تسلیم خم کر دینا“۔

ابتدا ءہی فکر و تدبر سے ہے۔ تارا دیکھا ، چاند دیکھا، سورج دیکھا، یہی سمجھا کہ بس یہی رب ہیں لیکن جب انہیں غروب ہوتے اور زوال پذیرہوتے دیکھا تو سوچا کہ وہ کیسے رب ہو سکتا ہے جو خود ڈوب جائے۔ بلکہ ضرور کوئی ہے جو اس کائنات کو چلا رہا ہے اور سب اس کے حکم کے پابند ہیں۔

پھر دیکھئے بت شکنی کا کا م سر انجام دینا تھا، اپنے آپ کو بیمار بنایا۔ جب سب چلے گئے تو سارے بت توڑ کر کلہاڑی بڑے بت کی گردن پر لٹکا دی اور پوچھنے پر فرمایا کہ ”یہ تو ان کے بڑے نے کیا ہے“۔ مقصد ان کو یہ باور کرانا تھا کہ جو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے، مکھی تک نہیں اڑا سکتے اور بول نہیںسکتے وہ کیسے الوہیت اور ربوبیت کے درجے پر فائز ہو سکتے ہیں؟۔

بادشاہ کے ساتھ تاریخی مکالمہ دیکھ لیجئے۔ جب بادشاہ نے زندگی اور موت کا اختیار اپنے پاس ہونے کا دعوی بھی کر دیا اور دو اشخاص میں سے ایک کو مارنے اور دوسرے کو زندہ چھوڑنے کا حکم دے کر بظاہر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لا جواب کرنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا کہ ’میرا رب تو مشرق سے سورج نکالتا ہے ، اگر تو خدائی کا دعوے دار ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا‘۔ ”فبھت الذی کفر“ کافر بادشاہ حیران و پریشان رہ گیا ۔

اس طرح کے بے شمار واقعات سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ملتے ہیں جہاں تلاش حق کی جستجو اور فکر و تدبر کا استعمال نہایت ہی بہترین انداز میں ملتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اس صلاحیت کو رب کی دین ہی سمجھتے ہیں،اور جب کسی حوالے سے رب کا حکم آ جائے اطاعت وفرمانبرداری کے ایسے باب رقم ہوتے ہیں کہ تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، عقل کا استعمال کر کے تاویلیں اور حیلے تراشنے کے بجائے ’بے خطر آتش نمرود میں عشق‘ کا منظر پیش کیا۔
بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند اور شریکہ حیات کو بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑنے کا واقعہ ہو یا اپنے ہی بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے خدا کے لئے ذبح کرنے کا حکم، یا پھر نار نمرود میں کودنے کا مرحلہ۔ بلا چوں و چراں اس طرح سر تسلیم خم کر دیا کہ”عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی“۔

آج جب ہم ہر طرف سے آتش نمرود میں گھرے ہوئے ہیں، تمام عالم کفر ملة واحدہ کی صورت مسلمانوں پر پل پڑا ہے، صرف مسلمان ہونے کے جرم کی پاداش میں ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کہ الامان و الحفیط۔ ان حالات میں سنت ابراھیمی ہی وہ لائحہ عمل اور وہ راہ نجات ہے جس پر عمل کر کے حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

آج بھی ہو جو ابراہیم کا یمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا



۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
24 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (10-12-09), sahj (14-01-10), فرحان دانش (09-12-09), گوندل (10-12-09), قاسمی (11-11-11), نیلم خان (09-12-09), محمدمبشرعلی (22-02-10), محمدخلیل (08-12-09), محمدعدنان (09-12-09), معظم (09-12-09), wajee (09-12-09), ایس اے نقوی (09-12-09), ام احمد (11-11-11), ام طلحہ (09-12-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (08-12-09), حیدر (11-12-09), حیدر Rehan (15-01-10), رضی (10-11-11), سحر (08-12-09), طاھر (09-12-09), عامرشہزاد (09-12-09), عبداللہ حیدر (10-12-09), عدنان دانی (09-12-09)
کمائي نے راجہ اکرام کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
09-12-09 ایس اے نقوی نار نمرود سے نجات ۔۔ سنت ابراہیمی پر عمل 150
پرانا 08-12-09, 11:52 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک بت ساز اور بت فروش کے گھر میں پیدا ہوئے، اور یہ کوئی معمولی پیشہ نہ تھا۔ پتھروں کو خدا بنانے کا کام یقینا اپنے وقت کا اہم ترین اور معزز ترین پیشہ ہوگا۔ اور اس پیشے کی وجہ سے آزر اور اس کے خاندان کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہوگا۔ ہر باپ کی طرح آزر کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بھی یہ کام سیکھ لے، اور مستقبل میں جانشینی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے خاندان کے اس شرف کو برقرار رکھے۔ لیکن ” تدبیر کنند بندہ تقدیر کنند خندہ“ ۔

اسے کیا علم تھا کہ جسے وہ بت ساز اور بت فروش بنانے کا سوچ رہا ہے وہ تو بت شکن بنے گا۔ نہ صرف مٹی کے بت بلکہ وہ معاشرے میں بنے ہوئے ہر بت کو پاش پاش کرنے کے لئے آیا ہے۔

۔
السلام علیکم،
حضرت ابراھیم کے والد کے "مومن" نا ہونے پر علماء‌کا اختلاف ہے۔ قرآن میں‌ "اَب" باپ کے علاوہ چچا کے لیئے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے لہذا اس پر کوئی حتمیٰ نہیں دینی چاھیئے!

واللہ اعلم!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (09-12-09), محمدمبشرعلی (22-02-10), ابن حسن (11-12-09), حیدر Rehan (15-01-10), راجہ اکرام (09-12-09), عامرشہزاد (09-12-09), عدنان دانی (09-12-09)
پرانا 09-12-09, 12:32 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ بہت اچھی تحریر ہیں
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (09-12-09)
پرانا 09-12-09, 12:02 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
حضرت ابراھیم کے والد کے "مومن" نا ہونے پر علماء‌کا اختلاف ہے۔ قرآن میں‌ "اَب" باپ کے علاوہ چچا کے لیئے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے لہذا اس پر کوئی حتمیٰ نہیں دینی چاھیئے!

واللہ اعلم!
آپ نے درست توجہ دلائی
لیکن میری معلومات کے مطابق یہاں لفظ ’اب‘ باپ معنی میں زیادہ راجح ہے، اور ظاہر نص بھی اسی کی مؤید ہے۔
اور جو یہاں اب سے مراد باپ نہیں لیتے وہ تایا ابو لے لیں ۔۔

ھذا ما عندی و اللہ اعلم بالصواب و ھو ولی التوفیق
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (22-02-10), ام احمد (11-11-11), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), عبداللہ حیدر (10-12-09)
پرانا 09-12-09, 12:05 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ہے ۔
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (10-12-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 09-12-09, 12:55 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (09-12-09), ایس اے نقوی (09-12-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 09-12-09, 01:04 PM   #7
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے راجہ بھائی!!
جزاک اللہ
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 09-12-09, 01:41 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاباش بہت خوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 09-12-09, 02:02 PM   #9
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی
بہت اچھی تحریر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 10-12-09, 02:45 AM   #10
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ تعالیٰ انبیا کے تقدس اور پاکیزگی کا خیال ان کی پیدائش سے پہلے بھی رکھتا ہےاور ان کے نسب کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ بت پرست آذر حضرت ابراہیم کے والد نہیں تھے۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-12-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), حیدر Rehan (15-01-10), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 10-12-09, 03:07 AM   #11
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالیٰ انبیا کے تقدس اور پاکیزگی کا خیال ان کی پیدائش سے پہلے بھی رکھتا ہےاور ان کے نسب کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ بت پرست آذر حضرت ابراہیم کے والد نہیں تھے۔
علماء‌ اہلسنُت و الجماعت کی ایک بڑی جماعت کے موقف کے مطابق اللہ عزوجل انبیاء کے نسب کی تطہیر کی حفاظت بھی فرماتا ہے تاکہ غیر مسلموں کی جانب سے کسی بھی قسم کی طنعہ و تشنیع کا امکان باقی نا رہے!
گوندل بھائی آپ کے ریمارکس کا شکریہ!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
گوندل (11-12-09), ابن حسن (11-12-09), بزم خیال (10-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 10-12-09, 07:20 AM   #12
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ
اکرام بھائی بہت اچھی تحریر ہے اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی قوت عطا فرمائے آمین
بزم خیال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (11-12-09), راجہ اکرام (10-12-09)
پرانا 10-12-09, 01:10 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے والد کی مذہبی حیثیت علماء و مفسرین کے ہاں مختلف فیہ ہے، اور اس کی وجوہات ہیں۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ آزر کون تھا؟
بعض کے ہاں یہ ایک بت کا نام ہے اور ابراھیم علیہ السلام کے والد کا نام تارح تھا جیسا کہ کتاب مقدس بھی ذکر کرتی ہے۔ لیکن ایک رائے یہ ہے کہ آزر ہی ابراھیم علیہ السلام کا والد تھا جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے۔ اور تارح کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ لقب یہ دوسرا نام ہو سکتا ہے جیسا کہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہے۔

دوسرا مسئلہ ہے کہ ان کی مذہبی حیثیت کیا تھی؟ وہ مسلمان تھے یا مشرک؟
اس میں بھی دو آراء ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالی انبیاء کے انساب کی تطہیر کرتا ہے اس لئے کسی نبی کے نسب میں کوئی فرد مشرک نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث بھی نقل کی جاتی ہے کہ ’’وما زلت أنتقل من أصلاب الطاهرين إلى أرحام الطاهرات ‘‘ یعنی آپ علیہ السلام کے نسب میں تمام ہی افراد پاکیزہ ہیں۔ تو ابراھیم علیہ کے والد مشرک کیسے ہو سکتے ہیں کیوں کہ قرآن خود کہتا ہے کہ ’’انما المشرکون نجس‘‘ کہ مشرک تو نجس ہوتے ہیں۔
بات دل کو لگتی ہے لیکن اس حدیث کا مجھے کوئی مصدر نہیں مل سکا اور اسے کے مقابلے جو دوسری حدیث ہے دوسرے قول کی تائید میں اسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اس لئے اس کی صحت زیادہ یقینی ہے۔
اور قرآن کریم میں جہاں ذکر ہے کہ ’’وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ‘‘ ابراھیم علیہ السلام نے اپنے والد آزر سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں لفظ ’اب‘ حقیقی باپ کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ آزر آپ کے چچا تھے، اور لفظ ’’اب‘‘ کو باپ کے علاوہ چچا کے معنی میں استعمال کے لئے بھی قرآن کریم ہی سے استدلال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جب سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ ’’مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي‘‘ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ تو بیٹوں نے جواب دیا ’’ نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آَبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ‘‘ کہ ہم عبادت کریں گے آپ کے الٰہ کی اور آپ کے آباء ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے الٰہ کی ۔۔۔۔۔ تو یہاں اسحاق علیہ السلام تو یعقوب علیہ السلام کے والد تھے اور ابراھیم علیہ السلام دادا ہونے کے ناطے ’اب‘ کے مفہوم میں آ گئے جبکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام تو چچا تھے اور ان کے لئے بھی لفظ ’اب‘ استعمال کیا گیا۔ لہذا آزر کو جہاں بھی ’اب‘ کہا گیا ہے وہ حقیقی وہاں حقیقی والد مراد نہیں ۔۔

دوسرے قول کے قائلین جن کے خیال میں آزر ہی ابراھیم علیہ السلام کے والد تھے اور وہ غیر مسلم تھے اور اسی حالت میں وفات پائی ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔۔ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
یہاں لفظ ’اب‘ حقیقی باپ کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور آزر چونکہ بتوں کی عبادت کرتا تھا تو ابراھیم علیہ السلام انہیں تبلیغ کی ۔
2۔۔ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
3۔۔ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (41) إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45) قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آَلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا (46) قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (47)
۔ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ

مندرجہ بالا تمام ہی آیات میں بار بار لفظ ’اب‘ استعمال ہوا ہے اور اسے کے غیر حقیقی استعمال پر بظاہر کوئی دلیل نہیں
اسی قول کی تائید ایک حدیث نبوی سے بھی ہوتی ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے۔
حدثنا إسماعيل بن عبد الله قال أخبرني أخي عبد الحميد عن ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة رضي الله عنه
: عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة فيقول له إبراهيم ألم أقل لك لا تعصني فيقول أبوه فاليوم لا أعصيك فيقول إبراهيم يا رب إنك وعدتني أن لا تخزيني يوم يبعثون فأي خزي أخزى من أبي الأبعد ؟ فيقول الله تعالى إني حرمت الجنة على الكافرين ثم يقال يا إبراهيم ما تحت رجليك ؟ فينظر فإذا هو بذيخ متلطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار )

اس حدیث مبارکہ میں بھی لفظ ’اب‘ ہی استعمال ہوا ہے اور یہاں اس سے ’چچا‘ مراد لینے کی بظاہر کوئی دلیل نہیں۔

جہاں تک مفسرین کی آراء کا تعلق ہے تو امام المفسرین محمد بن جرير الطبري، ابن کثیر، امام رازی سمیت کئی ایک مفسرین اسی کے قائل ہیں کہ آزر ہی ابراھیم علیہ السلام کے والد ہیں۔
چچا ہونے کا کوئی قوی قول میری نظر سے نہیں گزرا
اس سلسلے میں امام رازی کی رائے بہتر معلوم ہوتی ہے
جن کا خیال ہے کہ یہاں لفظ ’اب‘ چچا کے معنی میں ہے پہلے ان کی رائے ذکر کرتے ہیں
الوجه الرابع : أن والد إبراهيم عليه السلام كان تارح وآزر كان عماً له ، والعم قد يطلق عليه اسم الأب ، كما حكى الله تعالى عن أولاد يعقوب أنهم قالوا : { نَعْبُدُ إلهك وإله آبَائِكَ إبراهيم وإسماعيل وإسحاق } [ البقرة : 133 ] ومعلوم أن إسمعيل كان عماً ليعقوب . وقد أطلقوا عليه لفظ الأب فكذا ههنا .

پھر اس کا جواب دیتے ہیں کہ
واعلم أن هذه التكلفات إنما يجب المصير إليها لو دل دليل باهر على أن والد إبراهيم ما كان اسمه آزر وهذا الدليل لم يوجد ألبتة ، فأي حاجة تحملنا على هذه التأويلات ، .
فرماتے ہیں کہ ان تکلفات (یعنی آرز آپ کا والد ہے یا چچا، یا آزر انسان ہے یا بت، یا آزر اسم ہے یا صفت) کی طرف جانے کی ضرورت تب ہے جب ہمیں کوئی واضح دلیل سے معلوم ہو کہ سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر نہیں تھا، لیکن ایسی کوئی دلیل ہر گزنہیں ہے۔ تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے اس طرح کی تاویلات کرنے کی؟

پھر فرماتے ہیں کہ
والدليل القوي على صحة أن الأمر على ما يدل عليه ظاهر هذه الآية ، أن اليهود والنصارى والمشركين كانوا في غاية الحرص على تكذيب الرسول عليه الصلاة والسلام وإظهار بغضه ، فلو كان هذا النسب كذباً لامتنع في العادة سكوتهم عن تكذيبه وحيث لم يكذبوه علمنا أن هذا النسب صحيح والله أعلم
اس آیت کو اپنے ظاہر پر محمول کرنے کی قوی دلیل یہ ہے کہ ، یہود و نصاری اور مشرکین سخت حریص تھے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکذیب پراور اظہار بغض پر، اگر یہ نسب درست نہ ہوتا تو عادتا ان کا سکوت محال تھا، وہ ضرور اس کی تکذیب کرتے۔
تو ان کے سکوت سے یہ معلوم ہوا کہ یہ نسب درست ہے۔

مندرجہ بالا معلومات کسی حد تک اس معاملے کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ہذا ما عندی و اللہ اعلم با لصواب
وقت کی قلت اور دیگر مصروفیات کے باعث زیادہ تفصیل سے نہیں لکھ سکتا، اور جو لکھا ہے اس میں بھی غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے، اہل علم سے التماس ہے کہ جہاں غلطی ہو تصحیح فرما دیں۔ انتہائی شکر گزار رہوں گا۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-01-10), shafresha (10-12-09), گوندل (11-12-09), منتظمین (10-12-09), محمدمبشرعلی (22-02-10), ام احمد (11-11-11), ابن حسن (11-12-09), حیدر (12-12-09), رضی (10-11-11), سحر (12-12-09)
پرانا 10-12-09, 01:52 PM   #14
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,166
کمائي: 74,758
شکریہ: 8,792
2,970 مراسلہ میں 10,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا، اکرام بھائی، بہت اچھا لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید خیر کی توفیق عطا فرمائے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-01-10), shafresha (10-12-09), ابن حسن (11-12-09), حیدر (11-12-09), راجہ اکرام (10-12-09), رضی (10-11-11)
پرانا 10-12-09, 02:45 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام احباب کی جانب سے حوصلہ افزائی پر شکریہ
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-01-10), shafresha (10-12-09), ام احمد (11-11-11), ابن حسن (11-12-09)
جواب

Tags
فرض, کمال, واقعات, قرآن, نظر, موت, مقابلہ, مشعل, آج, ایمان, اللہ, بہترین, تلاش, جواب, جرم, حکم, خدا, زندگی, سال, عقل, عالم, عزت, صلاحیت, صحرا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger