واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


میرا ریل کا پہلا سفر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-05-08, 03:25 AM   #1
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 596
کمائي: 9,291
شکریہ: 189
350 مراسلہ میں 733 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرا ریل کا پہلا سفر

میرا ریل کا پہلا سفر

کافی عرصہ پہلے میں نے ریل گاڑی کا پہلا سفر کیا جب مجھے پشاور سے کراچی جانا پڑا۔ کراچی میں ایک پیر صاحب سے بھی ملنا تھا۔ ابتک کے میرے تمام سفر گاڑی میں ‌طے ہوئے تھے اسوجہ سے میں پہلی دفعہ ریل میں جانے کے لئے اڈّے پہنچا۔ دروازے پر مجھے قلی ملے۔ ان میں سے ایک نے میری رہنمائی کی اور میرا سفری تھیلا لے کر اس جگہ پہنچایا جہاں سفر کے پروانے ملتے تھے۔ اس قلی نے بتایا کہ کراچی کے لئے نشستیں پُر ہیں‌مگر منشی صرف اس کو دیگا۔ منشی نے بھی اس کی تائید کی۔ اب اس نے مجھے پروانہ لا کر دیا اور اسکا نرخ بتایا تو وہ مقررہ سے کافی زیادہ تھا۔۔ میں ‌نے اسکی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ یہ اس کا احسان تھا کہ اسنے مجھ کو نہ ہوتے ہوئے پروانہ لا دیا تھا۔ میں نے اسکی شکایت ذرا دُور کھڑے امنیتّی ملازم کو کی تو وہ اُلٹا مجھ سے مزید رشوت مانگنے لگا۔ میں خاموش رہا اور گاڑی جب روانہ ہوئی تو اس میں خالی نشستیں‌ بھی تھیں۔ قلی نے ایسی نشست میرے لئے لی تھی جس کے ساتھ آرام کی سہولت نہ تھی۔ کافی سفر کے بعد جب ہم پنجاب سے گزرے تو ایک ہمسفر نے کہا کہ آرام کی جگہ پر چڑھ جاؤں جو چھت سے لگی ہوتی ہے۔ میں ‌وہاں‌ لیٹا تو نیند نہیں‌ آتی تھی کہ ایک سندھی اور پٹھان میں معمولی بات پر جھگڑا ہوا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ لوگ چھڑانے لگے مگر دونوں‌ اس میں مخلص تھے۔ سندھی نے پٹھان کو نپے تُلے گھونسے مارے تو پٹھان کو غشّی آگئی اور وہ نیچے گر گیا اور ضرب کی وجہ سے کچھ رویا بھی۔ اب اس نے اپنی انتہائی حرکت کے طور پر سا مان سے ایک نیا تپنچہ نکال کر جو شائد وہ بیچنے لے جا رہا تھا ایسا ظاہر کیا کہ جیسے سندھی کو مارنا چاہتا ہو، حالانکہ ایسا کر نہیں رہا تھا۔ سندھی تپنچے کا عادی نہ تھا خوفزدہ ہو گیا۔ لوگوں‌ نے پٹھان کو پکڑا جو خود کو بپھرا ہوا ظاہر کر رہا تھا۔ اب سندھی گاڑی کے ڈبّے کے دروازے پر پہنچا اور چاہتا تھا کہ چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دے۔ کچھ لوگوں‌کی کوشش اور شائد اس شخص کی اپنی سوچ سے کہ دونوں‌ صورتوں ‌میں موت ہے وہ رُک گیا۔ اب لوگ دونوں‌میں صلح کرانے لگے تو سندھی نے پگڑی اتاری اور پٹھان کے پاؤں‌میں رکھ کر معافی مانگی۔
میں‌ کراچی میں چند دن ٹھہرا پہنچا اور وہاں‌ ایک ساتھی کے پاس چند دن اچّھے گزارے۔ میں اس پیر صاحب سے بھی ملا جو لوگوں کو محض مکّاری سے اپنے 'عالم الغیب' ہونے کا جھانسا دے کر بے وقوف بنا رہا تھا۔ میں‌ نے وہاں‌ سے واپسی پر گاڑی میں بیٹھ کر سکون سے سفر طے کیا۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہمسفر, کراچی, لوگ, نیند, موت, سفر, شخص, عالم, صلح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger