میرا ریل کا پہلا سفر
میرا ریل کا پہلا سفر
کافی عرصہ پہلے میں نے ریل گاڑی کا پہلا سفر کیا جب مجھے پشاور سے کراچی جانا پڑا۔ کراچی میں ایک پیر صاحب سے بھی ملنا تھا۔ ابتک کے میرے تمام سفر گاڑی میں طے ہوئے تھے اسوجہ سے میں پہلی دفعہ ریل میں جانے کے لئے اڈّے پہنچا۔ دروازے پر مجھے قلی ملے۔ ان میں سے ایک نے میری رہنمائی کی اور میرا سفری تھیلا لے کر اس جگہ پہنچایا جہاں سفر کے پروانے ملتے تھے۔ اس قلی نے بتایا کہ کراچی کے لئے نشستیں پُر ہیںمگر منشی صرف اس کو دیگا۔ منشی نے بھی اس کی تائید کی۔ اب اس نے مجھے پروانہ لا کر دیا اور اسکا نرخ بتایا تو وہ مقررہ سے کافی زیادہ تھا۔۔ میں نے اسکی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ یہ اس کا احسان تھا کہ اسنے مجھ کو نہ ہوتے ہوئے پروانہ لا دیا تھا۔ میں نے اسکی شکایت ذرا دُور کھڑے امنیتّی ملازم کو کی تو وہ اُلٹا مجھ سے مزید رشوت مانگنے لگا۔ میں خاموش رہا اور گاڑی جب روانہ ہوئی تو اس میں خالی نشستیں بھی تھیں۔ قلی نے ایسی نشست میرے لئے لی تھی جس کے ساتھ آرام کی سہولت نہ تھی۔ کافی سفر کے بعد جب ہم پنجاب سے گزرے تو ایک ہمسفر نے کہا کہ آرام کی جگہ پر چڑھ جاؤں جو چھت سے لگی ہوتی ہے۔ میں وہاں لیٹا تو نیند نہیں آتی تھی کہ ایک سندھی اور پٹھان میں معمولی بات پر جھگڑا ہوا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ لوگ چھڑانے لگے مگر دونوں اس میں مخلص تھے۔ سندھی نے پٹھان کو نپے تُلے گھونسے مارے تو پٹھان کو غشّی آگئی اور وہ نیچے گر گیا اور ضرب کی وجہ سے کچھ رویا بھی۔ اب اس نے اپنی انتہائی حرکت کے طور پر سا مان سے ایک نیا تپنچہ نکال کر جو شائد وہ بیچنے لے جا رہا تھا ایسا ظاہر کیا کہ جیسے سندھی کو مارنا چاہتا ہو، حالانکہ ایسا کر نہیں رہا تھا۔ سندھی تپنچے کا عادی نہ تھا خوفزدہ ہو گیا۔ لوگوں نے پٹھان کو پکڑا جو خود کو بپھرا ہوا ظاہر کر رہا تھا۔ اب سندھی گاڑی کے ڈبّے کے دروازے پر پہنچا اور چاہتا تھا کہ چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دے۔ کچھ لوگوںکی کوشش اور شائد اس شخص کی اپنی سوچ سے کہ دونوں صورتوں میں موت ہے وہ رُک گیا۔ اب لوگ دونوںمیں صلح کرانے لگے تو سندھی نے پگڑی اتاری اور پٹھان کے پاؤںمیں رکھ کر معافی مانگی۔
میں کراچی میں چند دن ٹھہرا پہنچا اور وہاں ایک ساتھی کے پاس چند دن اچّھے گزارے۔ میں اس پیر صاحب سے بھی ملا جو لوگوں کو محض مکّاری سے اپنے 'عالم الغیب' ہونے کا جھانسا دے کر بے وقوف بنا رہا تھا۔ میں نے وہاں سے واپسی پر گاڑی میں بیٹھ کر سکون سے سفر طے کیا۔
|