واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ممبئی حملے اور جماعت الدعوة

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-02-10, 11:43 PM   #1
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ممبئی حملے اور جماعت الدعوة

ممبئی حملے اور جماعت الدعوة

بھارت کے تجارتی دارالحکومت اور مالیاتی و ثقافتی دل ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ہونے والے حملوں کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے پورے بھارت میں اس واقعہ کا سوگ منایا جا رہا ہے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر خصوصی رپورٹیں شائع و نشر کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف وطن عزیز پاکستان اور جماعةالدعوة کے خلاف ایک بار پھر پراپیگنڈہ کا طوفان کھڑا کیا جا رہا ہے افسوسناک بات ہے کہ ادھر ممبئی میں نریمان ہا?س، تاج پیلس اور اوبرائے ٹرائیڈنٹ جیسے ہوٹلوں پر حملے ہوئے اور ادھر بھارت سرکار نے اسلام دشمنی، روایتی تنگ نظری اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا الزام جماعةالدعوة پر لگایا اور میری ذات کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ شروع کر دیا بھارت ایک ارب انسانوں کی آبادی والا ایک بڑا ملک ہے جوخود کوامن پسند اورسیکولرازم کاعلمبردار سمجھتا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ علیحدگی پسندتحریکیں اسی بھارت میں چل رہی ہیں دنیامیں کوئی ایساملک نہیں ہے جہاں اقلیتوں کے ساتھ ایسا بدترسلوک کیاجاتاہوجیسابھارت میں مسلمانوں ،عیسائیوں اوردیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جارہاہے، وہ خود کودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت گردانتاہے۔

لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جہاں ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے کروڑوں لوگوں کوہندوں نے اپنی غلامی میں جکڑ رکھا ہے؟ دنیا کی آنکھوں میں نام نہاد سیکولرازم کی دھول جھونک کر ہزاروں مسلمانوں کوشہید کیاجاتاہے، مساجد ومدارس کو گرایاجاتاہے، عیسائیوں کی مذہبی عبادت گاہوں کوجلاکر راکھ کیاجاتا ہے، تعلیمی اداروں میں وندے ماترم کانعرہ نہ لگانے والوں کو سکولوںو کالجوں سے نکال دیاجاتاہے، احمدآباد اور گجرات میں مسلم کش فسادات کے ذریعہ ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے شیوسینا، راشٹریہ سیوک سنگھ، ابھینوبھارت، وشواہندو پریشد، مہاراشٹر نونرمان سینا اوراس طرح کی دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں پر نت نئے مظالم ڈھانے میں مصروف ہیں چاہئے تو یہ تھا کہ ممبئی حملوں کے بعدبھارت اپنے اندرونی مسائل کی طرف توجہ دیتا اور عسکریت پسندی کی وجوہات اپنے ملک کے اندر تلاش کرنے کی کوشش کرتا مگر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے جماعةالدعوة پر الزام عائد کر کے بھارت نے ایک تیرسے کئی شکار کھیلنے کی کوشش کی بھارتی حکومتی ذمہ داران کی طرف سے کبھی لشکرطیبہ اور جماعةالدعوة کانام لیاگیا توکبھی حملوں کاذمہ دار القاعدہ وطالبان کوٹھہرایا گیا تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے اپنے ساتھ ملایا جائے امریکہ کی مکمل مدد و تعاون کی یقین دہانیاں دیکھ کر بھارت سلامتی کونسل گیا اورجماعةالدعوة پر پابندیاں لگوانے میں کامیاب ہو گیا۔

سلامتی کونسل کی پابندیوں کے بعد امریکی حکومتی اہلکاروں نے وائسرائے بن کرپاکستان کے دورے شروع کر دیے جس کے نتیجہ میں عیدقربان کے مبارک ایام میںپاکستانی حکمرانوں نے بھی جماعةالدعوة جیسی ملک گیررفاہی و فلاحی تنظیم کوقربان کرنے کا فیصلہ کیا اور آزادکشمیر سمیت پورے ملک میں اس کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز کردیاگیا مجھ سمیت جماعت کے کئی رہنماوں کوانکے گھروں میں نظربند کیاگیا اور مساجد ومدارس سمیت جماعةالدعوة کے دفاتر، ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور سکولوں کوسیل کر دیاگیا کل تک جس تنظیم کودفاع اسلام وپاکستان کیلئے قربانیاں پیش کرنےوالی جماعت سمجھا جاتا تھا آج اسے مجرم بناکر دنیا کے سامنے پیش کیاجارہاتھا حکومت کایہ طرز عمل پوری پاکستانی قوم خاص طورپر ان مستحق و بے سہارا افراد کیلئے جن کوجماعةالدعوة ماہانہ بنیادوں پر5ہزار تا8ہزار روپے فراہم کرتی تھی انتہائی افسوسناک اورصدمہ کاباعث تھا بھارت و امریکہ کے دباو پرلگائی گئی بلاجواز پابندیوں سے جماعةالدعوة کے مختلف رفاہی وفلاحی منصوبہ جات اورتعلیمی پراجیکٹس پرکام کرنے والے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، ٹیکنیشن اوررضاکار بھی بری طرح متاثر ہوئے جو وظیفہ جات پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے

بھارت سرکار نے میڈیا کوجنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کرتے ہوئے جماعةالدعوة کے خلاف بھرپور پراپیگنڈہ کیا میری ذات اورجماعةالدعوة کو ممبئی حملوں سے جوڑکر وہ امریکہ کے ذریعہ پاکستانی حکمرانوں پر تو کسی حد تک دباو ڈالنے میں کامیاب ہو گیا لیکن وہ دنیا کی کسی آزاد عدالت میںہم پر لگائے گئے الزامات کوثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اگرچہ حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں کے بعدبھارتی مطالبہ پر ذکی الرحمن لکھوی سمیت دیگر کئی پاکستانی شخصیات کو حراست میں لیا جن پر انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے اور حکومت اس کیس میں انکے خلاف بھرپور انداز میںپیروی کر رہی ہے۔لیکن مجھ پر الزامات کے حوالہ سے پاکستانی حکومت بھی بارہا اس بات کا اعتراف کرچکی ہے کہ اب تک جتنے بھی ڈوزیئرز پاکستان کودیے گئے ہیں ان میںکسی قسم کا کوئی ثبوت ایسا نہیں ہے جوعدالت میں پیش کرنے کے قابل ہو یا جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ امیر جماعة الدعوة ممبئی حملوں میں کسی طور ملوث ہو سکتے ہیں لاہور ہائی کورٹ نے بھی میری اور میرے دےگر ساتھیوں کی نظربندی کے کیس کی مسلسل چارماہ تک سماعت کرنے کے بعداپنے تاریخی فیصلہ میں برملا یہ بات لکھی کہ حافظ محمدسعید یا جماعةالدعوة کے کسی اور رکن کا ممبئی حملوں سے کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں ہے ان پر بنائے گئے مقدمات محض بیرونی دباو کاشاخسانہ ہیں۔

بھارت و امریکہ جماعةالدعوة کے خلاف جس قدر شدید پراپیگنڈہ کرتے ہیں اس سے عام آدمی یہ سوچنے پرضرور مجبور ہوتاہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ صرف جماعةالدعوة اورمیری ذات کے متعلق ہی کیوں چیخ وپکار کرتے ہیں؟ اس سوال کاجواب یہ ہے کہ آج جوبات پاکستانی قوم کے بچے بچے کی زبان پرہے کہ انڈیا پاکستان میںدہشت گردی کروا رہا ہے میں یہ بات پچھلے کئی برسوں سے کر رہا ہوں کہ بھارت افغانستان میں موجود قونصل خانوں کے ذریعہ اپنے ایجنٹوں کو تربیت دیکر پاکستان بھجوا رہاہے جو بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے شہروں ودیگر علاقوں میں بم دھماکوں اور تخریب کاری کے واقعات میں ملوث ہیں اب تو حکومتی ذمہ داران بھی بالآخر یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں قوم کو بھارت کا اصل چہرہ دکھاتا ہوں بغل میں چھری منہ میں رام رام کی پالیسیوں کو بے نقاب کرتاہوں مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے پس ِپردہ بھارتی سازشیں ہوں یا مقبوضہ کشمیر میں انڈین فوج کا قبضہ مستحکم کرنے کا کوئی اور منصوبہ جماعةالدعوة نے ہمیشہ ہر فورم پر اس کے خلاف آواز بلند کی ہے، بابری مسجد اور دیگر عبادت گاہوں کی شہادت کا مسئلہ ہو یا گجرات اور مہاراشٹر میں مسلمانوں کے زندہ جلائے جانے کے واقعات ہوں ہم نے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے سلسلہ میںکبھی کوئی دباو قبول نہیں کیا ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات ہورہے ہوں اورہم مصلحت پسندی کاشکار ہوکر خاموشی اختیار کرلیں میں یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ میرے والدین تقسیم ہند کے وقت ہریانہ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے بھارتی مسلمانوں سے اسلامی اخوت کے علاوہ میرا ایک جغرافیائی رشتہ بھی ہے ہم نے ہجرت کے دوران اپنے کئی پیاروں کو کھویا ہے اور اس بات کا عام لوگوں کی نسبت ہم بہتر ادراک رکھتے ہیں کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمان کس حال سے دوچار ہوں گے؟

بھارت کی پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستانی حکمرانوں پر دباو ڈال کر جماعةالدعوة کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا جائے اور اس کی قیادت کو پس دیوار زنداں کردیاجائے تا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی، پاکستانی دریاوں پر ڈیموں کی تعمیر اور افغانستان کے راستہ سے اپنے ایجنٹوں کو پاکستان داخل کر کے سندھ، سرحد اور بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں کھڑی کرے پنجاب میں عصبیتوں کوہوا دے کر تخریب کاری کے منصوبوں پر عمل پیرا رہے لیکن میری یا میری جماعت کی آواز انکے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرسکے بھارت نے مذاکرات کی آڑ میں پاکستانی حکمرانوں کی بزدلانہ پالیسیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستانی دریاوں پر بند باندھ لئے ہم نے اس موقع پر بھی پورے ملک میں کسان کانفرنسیں منعقد کیں اور جلسوں، کانفرنسوں و سیمینارز کے ذریعہ پاکستان کے چپے چپے میںجا کر اس بھارتی سازش کو بے نقاب کیا جماعةالدعوة کے اس کردار سے بھی اسے سخت تکلیف تھی یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر انڈیا مجھے اور میری جماعت کو اپنے مذموم عزائم کی راہ میں سب سے سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اوربغیر کسی ثبوت کے الزامات کی پوجھاڑ کرتارہتا ہے افسوس کہ سابقہ حکمرانوں نے اگر مسئلہ کشمیر اور ڈیموں کی تعمیر جیسے اہم مسائل پر مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیا تو موجودہ حکمران بھی بھارتی پر اپیگنڈہ کا صحیح معنوں میں توڑ کرنے کے بجائے جماعةالدعوة کے دفاع کے مسئلہ پر مدافعانہ پالیسی پر کاربند ہیں بھارت پاکستان کاازلی دشمن ہے جس نے پاکستان کے وجود کوہی کبھی دل سے تسلیم نہیں کیامگر ہمارے حکمران لاکھوں مسلمانوں کوقاتل ہندو سے دوستی کے خواب دیکھ رہے ہیں جوکہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔

میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ بعض پاکستانی دانشور اور صحافی بھی میری اس سوچ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جماعت اور میری ذات کے حوالے سے منفی رائے رکھتے ہیں۔ میں انکی سوچ پر توپابندی عائد نہیں کرسکتا تاہم ان احباب سے بصد احترام گزارش ہے کہ جماعةالدعوة ایک ایسی جماعت ہے جواپنے آغاز سے ہی اس نظریے کو فروغ دیتی آئی ہے کہ پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی درست نہیںاور نہ ہی جماعةالدعوة کے خلاف ایسا کوئی مواد پیش کیا جا سکتا ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس جماعت یا اس کے کارکنان نے ملک میں کبھی امن وامان کی صورتِ حال کوخراب کرنے کی کوشش کی ہو یاکسی بھی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے ہوں، پاکستان کے اندر خودکش دھماکوں سمیت ہر قسم کی مسلح کارروائیوں کی جماعةالدعوة نے سب سے پہلے مخالفت کی، ہم اس طرح کی کارروائیوں کواسلام اور پاکستان کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اسلام امن وسلامتی کادین ہے اور جہاد ِفی سبیل اللہ اسلام کاایک اہم رکن ہے،

لیکن جہاد کے بھی باقاعدہ احکامات ہیں، یہ نہیں کہ بلااستثنا ہر کسی کو ہر جگہ مار دیا جائے، عوامی مقامات پر دھماکے اور حملے اسلام میں روا نہیں پاکستان میں توغیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ حکومت کے ساتھ ساتھ سو سائٹی کی بھی ذمہ داری ہے۔ سوسائٹی کا ایک متحرک عنصر ہونے کے ناطے جماعةالدعوة نے ہمیشہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کی ہیں یہی وجہ ہے کہ جب گزشتہ سال جماعةالدعوة پراقوام متحدہ نے پابندیاں لگائیں تو کراچی اور اندورن ِسندھ میں ہندوں اور عیسائیوں نے بطور خاص اس پابندی کے خلاف ریلیاں نکالیں، جماعةالدعوة کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے خدمت ِخلق کے کام بلاتفریق مذہب وملت کیے ہیں اورایسا اس لیے کیا ہے کہ اس کی ہمیں اسلام نے تعلیم دی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی مسلمان ممالک کی رفاہی اور جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے۔ لیکن جماعةالدعوة واحد تنظیم ہے جس نے اس پابندی کو سلامتی کونسل میں باقاعدہ چیلنج کیا ہے ہم نے ڈی لسٹنگ(De listing) کیلئے اپنا کیس جمع کروایا۔ سلامتی کونسل اوراس کے بعد یورپی یونین نے بھی ہم سے رابطہ کیا۔ ہم نے واضح کیا کہ ہمارا القاعدہ اور طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن افسوس کہ پاکستانی حکومت نے اس کیس میں ہماری کوئی مدد نہیں کی اور ابھی تک ہمارا ڈی لسٹنگ کا کیس وہاں لٹکا ہوا ہے۔

کیری لوگر بل میں مرکز طیبہ مریدکے کے خلاف ایک شق میں امریکا نے جو باتیں کی ہیں وہ بھی محض پراپیگنڈا ہی ہے مرکز طیبہ مریدکے اس وقت حکومت پنجاب کی نگرانی میں چل رہا ہے وہ پہلے بھی کوئی نو گو ایریا نہیں تھا دنیا کے کونے کونے سے پاکستان آنے والے صحافی اس کا دورہ کر چکے ہیں لیکن مخصوص مفادات کو پروان چڑھانے والا مغربی میڈیا اس مرکز کے خلاف بدستور پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

ان سطور کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جماعت الدعوة کے خلاف جاری منفی پراپیگنڈا بند کیا جائے اور اسے کھل کر اپنے فلاحی و رفاہی منصوبہ جات پر کام کرنے دیا جائے ہم کوئی زیر زمین تنظیم نہیں ہیں، ہمارا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے اس کے باوجود مسلسل پراپیگنڈا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے غیروں سے تو ہمیں کوئی توقع نہیں کم از کم ہم پاکستانی میڈیا سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ایک بڑی رفاہی اور فلاحی تنظیم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہمارا ساتھ دے گا اور حق کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔


(پروفیسر حافظ محمد سعید )
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com
ALI-OAD آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (27-02-10), عبداللہ آدم (28-02-10)
پرانا 28-02-10, 12:19 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,710
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,856 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میڈیا نے شیخ رشید کو بھی نہیں بخشا تو وہ حق کی مدد کیا کرنی ہے اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
php, فورم, کورٹ, کراچی, پیاروں, پاکستان, پسند, واقعات, مکمل, موجودہ, منصوبہ, ممکن, مسائل, مسجد, آبادی, آج, اللہ, الزام, امیر, امریکہ, اسلام, تلاش, خودکش, راستہ, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نیا سیاسی منظر نامہ، بابر اعوان کا شجاعت اورپرویز الٰہی سے فون پر رابطہ گلاب خان خبریں 0 15-12-10 06:14 AM
مریدکے میں جماعت الدعوة کے مرکز پر حکام کا کنٹرول چیتا چالباز خبریں 0 26-01-09 07:58 AM
اقوام متحدہ کی جانب سے جماعت الدعوة پر پابندی،چین نے پاکستان کے کہنے پر حمایت کی ابو عمار خبریں 2 23-12-08 07:23 PM
پیپلز پارٹی: عوامی احساسات سے عاری جماعت شیخ ہمدان سیاست 3 04-07-08 04:18 PM
4 گر وہ مجھے مارنا چاہتے تھے ،5 لاکھ ڈالر کے عوض حر یف سیاسی جماعت کے 3 افراد کی خدمات حاصل کی گئیں ،بینظیرکتاب کے اقتباسات عبدالقدوس خبریں 0 04-02-08 07:23 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger