واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مدر ڈے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-05-09, 07:44 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مدر ڈے

مدر ڈے

آج کل لگتا ھے لوگ ھی نہیں وقت بھی بھاگتا جا رھا ھے کب دن شروع ھوتا ھے کب ختم ھو جاتا ھے پتا ھی نہیں چلتا پھر نئ نئ ایجادات نے انسان کو اور بھی مصروف کر دیا ھے گھر میں ٹی وی ۔ کمپیوٹر - کبھی فون آرھے ھیں کبھی ایس ایم ایس آرھے ھیں پھر گھر سے باہر کی مصروفیات گھومنا پھرنا شاپنگ دوستوں ملنا ھزار مصروفیات ھیں اب تو انسان کو دو پل تنہا خود کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں ملتا ایسے میں کسی اور کو وقت دینا بہت مشکل ھے

اسی لیے اب سال کو تقسیم کر دیا گیا ھے ھر دن کسی نہ کسی کے نام محبت کرنے والوں کا دن دوستوں کا دن مزدوروں کا دن بے سہارا اور معذور بچوں کا دن امن کا دن عورتوں کا دن مختلف بیماریوں کے خلاف بھی کوئ نہ کوئ دن - اتنی مصروفیات میں لوگ پیدا کرنے والی جنم دینے والی ماں کو نہیں بھولے ایک دن ماں کے نام بھی کر دیا ھے

اس دن کروڑوں کا کاروبار ھوتا ھے کارڈ بھیجے جاتے ھیں ما ں سے محبت جتانے کے لیے ایس ایم ایس کیے جاتے ھیں کچھ لوگ وقت نکال کرفون بھی کر دیتے ھیں کچھ لوگ اس دن ملنے بھی جاتے ھیں - میری ایک دوست کہتی ھے ایک دن اپنا بھی ھونا چاھیے سارا سال ساری زندگی تو تقسیم ھو گئ
پہلے گھر سب کا ھوتا تھا ایک فرد کی ترقی سارے خاندان کی ترقی ھوتی تھی زندگی ھماری ھوتی تھی اب زندگی میری ھوتی ھے انسان انسانوں میں رھتے ھوئے تنہا ھوتا جا رھا ھے کیا کسی کے لیے ایک دن کافی ھوتا ھے نہیں چاھے اپنے ھوں یا آس پاس کے رھنے والے غریب اور بے سہارا لوگ ۔ کیا کسی کو اس بات کا یقین ھے کہ مدر ڈے پہ اپنی ماں سے پیار کا اظہار کے لیے وہ زندہ رھے گا مزدوروں کے حق کے لیے ایک دن لڑے گا عورتوں کے حق کے لیے بولے گا جو کام کرنا ھے وہ آج ھی اور ابھی کرنا ھے کیونکہ موت کا کوئ دن مقرر نہیں
میری ماں سارا سال میرے ساتھ ھوتی ھے اس کا کوئ ایک دن نہیں اس کی ساری زندگی ھے کیا ھم اپنے بزرگوں کو سارا سال تڑپائیں گے سارا سال انتظار کر وائیں گے یہ بتانے کے لیے کہ ھم ان سے پیار کرتے ھیں ھمارا کل بھی ان کا تھا آج بھی ان کا ھے جب تک وہ ھیں جب تک ھم ھیں دن تقسیم نہیں ھوں گے
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
TapalDanaDar (10-05-09), فیصل ناصر (09-05-09), فاروق سرورخان (10-05-09), منتظمین (10-05-09), yashaka (10-05-09), اکرم (11-05-09), ایس اے نقوی (09-05-09), ابن جلال (10-05-09), راشد احمد (10-05-09), سیپ (10-05-09)
کمائي نے Haya 786 کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
09-05-09 فیصل ناصر mother day 100
پرانا 09-05-09, 07:57 PM   #2
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جواب نہیں حیا
میں تو پہلے تھریڈ کا عنوان دیکھ کر یہی سمجھا کے مدر ڈے کی تعریف و توصیف ہورہی ہوگی اور ابھی تبصرہ کرتا ہوں کے سارے دن ہی ماں کے ہوتے ہیں ہر لمحہ ماں کے لئے
لیکن پڑھا تو دل خوش ہوگیا
اپنی طرف سے ان خیالات پر آپکو دادوتحسین پیش کرتا ہوں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 09-05-09, 09:53 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام اور شکریہ فیصل

زندگی کو دنوں میں کیوں تقسیم کرتے ھیں موت کا دن کیوں بھول جاتے ھیں جو بھی ھے وہ آج ھے اور ابھی ھے کل کا کس کو پتا
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 09-05-09, 10:34 PM   #4
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ٹھیک کہا آپ نے
سرورق کے لئے تجویز کرتا ہوں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (10-05-09)
پرانا 09-05-09, 11:29 PM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام و علیکم! حیا جی
فی الحال تو معافی مانگتا ہوں انشاء اللہ کل اس کو تفصیل سے پڑھوں گا اور تجزیہ دوں گا
اس کے ساتھ انجم شاہ کو اجازت دیں زندگی نے وفا کی تو کل ملاقات ہو گی 13 گھنٹے ہوگئے ہیں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے اللہ نگہبان
کیونکہ صبح دس بجے آفس آتا ہوں اور رات گیارہ کے بعد واپسی ہوتی ہے اس لئے حیا تبصرہ تجزیہ کل
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 10-05-09, 12:06 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام اور شکریہ سید انجم

آپ کے تجزیے کا انتظار رھے گا
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 10-05-09, 01:33 PM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاک نیٹ فورم کی ایہک سنئیر ممبر محترمہ حنا صاحبہ ماں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کچھ ہوں کرتی ہیں
ماں کی محبت


ابّا جی مجھے مارتے تھے تو امّی بچا لیتی تھیں ۔ ایک دن سوچا امّی پٹائی کریں گی تو ابّا جی کیا کریں گے ۔۔۔۔۔۔ اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے میں نے امّی کا کہا نہ مانا ۔ انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا ، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا ، انہوں نے پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے زمین پر دری بچھائی اور بیٹھ گیا ۔ کپڑے بھی میلے کر لئے ، لحجہ بھی گستاخانہ تھا ، مجھے پوری توقع تھی کہ امّی آج ضرور ، مارے گی ، مگر انہوں نے سینے سے لگا کر کہا "کیوں دلاور پتر ! ۔۔۔۔۔ میں صدقے ، تو بیمار تو نہیں ہے ؟"

مصنّف : مرزا ادیب
کتاب : مٹی کا دیا



ماں کے نام

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے

تمھارے دم سے ہیں مرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے

کہاں بساطِ جہاں اور میں کم سن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے

جہاں جہاں ہے میری دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے مِرا احترام تم سے ہے

امید ہے کہ پسند کیا جائے گا شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (10-05-09)
پرانا 10-05-09, 01:49 PM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماں کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ
"Happy Mother's Day" means more
Than have a happy day.
Within those words lie lots of things
We never get to say.
It means I love you first of all,
Then thanks for all you do.
It means you mean a lot to me,
And that I honor you.

But most of all, I guess it means
That I am thinking of
Your happiness on this, your day,
With pleasure and with love
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 10-05-09, 01:59 PM   #9
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماں۔ ۔ ۔ !!
سینے سے لگا کر کہا کرتی تھی میری ماں مجھ کو
توں لال ہے میرا نہ ستا مجھ کو
پچھتائے گا اک دن جب میں چلی جائوں گی
نہ چاہتے ہوئے بھی اکیلا دنیا میں چھوڑ جائوں گی
زمانہ دیکھائے گا گرمی کی شدت تجھ کو
یار کر کے روئے گا توں پھر مجھ کو
مدتوں سے میری ماں نے سینے سے نہیں لگایا
اب سو گئی خاک میں جب کچھ کہنے کا وقت آیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ !!!!!!!!!
حیا جی ان چند الفاظ میں بہت کچھ سمو دیا گیا ہے
حیا جی ماں ایک ایسی عظیم ہستی ہے کہ انسان جتنا گہرائی میں جائے گا اتنا ہی مزید جاننے کی کوشش کرے گی تاہم آپ کی اس تحریر کو آگے بڑھانا ہے اس لئے مزید اضافہ کرتا جائوں گا آہستہ آہستہ کیونکہ جتنا ماں پر لکھوں گا اتنا ہی دوست احباب دعائیں دیں گے انشاءاللہ اس تھریڈ کو رکنے نہیں دوں گا اور وسیے بھی دونوں تھریڈ کو چلانا ہے میں نے
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (10-05-09)
پرانا 10-05-09, 03:33 PM   #10
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

[
اقتباس:
COLOR="Red"]آج کل لگتا ھے لوگ ھی نہیں وقت بھی بھاگتا جا رھا ھے کب دن شروع ھوتا ھے کب ختم ھو جاتا ھے ؟[/COLOR]
ستارہ جی موجودہ صورتحال میں ہم لوگوں نے خود کو اتنا مصروف کر لیا ہوا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی ٹائم نہیں نکال پاتے اور کچھ مہنگائی امیت دیگر گھریلو مسائل نے انسان کو مصروف کر دیا ہے اور کچھ ہم خود بھی مصروف رہنا ہی پسند کرتے ہیں ہماری سوچ یہ ہے کہ جو ٹائم فارغ رہ کر گزارنا ہے بیوی بچوں کےلئے روٹی کما لو۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!

اقتباس:
اسی لیے اب سال کو تقسیم کر دیا گیا ھے ؟؟
ستارہ جی سال مین دنوں کی تقسیم تو ہماری اپنی ہے آپ دیکھو لو کہ جو دن کسی نہ کسی حوالے سے مخصوص ہوتا ہے اس دن بھی کتنےفیصد لوگ اس دن کو جانتے ہیں میرا خیال ہے صرف بیس فیصد اور کچھ ہم لوگوں کا یہ کہنا بھی ہے کہ یہ کیا اب پیار محبت ،مزدوروں کے حقوق،مدر ڈے،و دیگر دن بھی رکھے جائیں گے یہ کیا جو کام مغرب والے کرتے ہیں ہم بھی وہ ہی کریں فضول حکومت کے پاس اور کام ہی نہیں (یہ سوچ بن چکی ہے آپ سروے کر کے دیکھو زیادہ تعداد میں لوگ یہ ہی کہیں گے)

اقتباس:
پہلے گھر سب کا ھوتا تھا ایک فرد کی ترقی سارے خاندان کی ترقی ھوتی تھی زندگی ھماری ھوتی تھی ؟؟


ستارہ جی :پہلے تو یہ بھی ہوتا تھا کہ ایک شخص‌کماتا تھا اور دس لوگ کھاتے تھے اور اب دس کماتے ہیں تو پانچ کی کمائی سے بجلی ،گیس پانی وغیرہ کے بل کی ادائیگی پانچ کی کمائی سے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں اگر کوئی تقریب آجائے ایمرجنسی ہوجائے تو ہم منہ دیکھتے ہیں اور کسی کو نہیں پتہ کہ اگلا لمحہ اسکے لئے کیا لے کر آرہا ہے ماں سے پیار کرنے کےلئے ایک دن مقرر کرنا یہ ثابت لرتا ہے کہ ماں صرف اسی قابل ہے (معذرت کے ساتھ) کہ ہم اسکے ساتھ ایک دن پیار سے پیش آئیں ماں تو وہ عظمت کا مینارہ ہے جسے محبت کرنے میں ،خدمت کرنے میں مہماری زندگی بھی گزر جائے تب بھی ہم اسکی ایک رات کا قرض چکا نہیں سکتے!!

اقتباس:
میری ماں سارا سال میرے ساتھ ھوتی ھے اس کا کوئ ایک دن نہیں اس کی ساری زندگی ھے کیا ھم اپنے بزرگوں کو سارا سال تڑپائیں گے سارا سال انتظار کر وائیں گے یہ بتانے کے لیے کہ ھم ان سے پیار کرتے ھیں ھمارا کل بھی ان کا تھا آج بھی ان کا ھے جب تک وہ ھیں جب تک ھم ھیں دن تقسیم نہیں ھوں گے؟؟؟


بے شک ستارہ جی درست کہا ہے کہ بڑے بزرگوں سے پیار کرنے کےلئے ان کا خیال رکھنے کےلئے وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ انہیں کی بدولت ہم لوگ دنیا میں ہیں اگر ہم انکی خدمت نہیں کر سکیں گے تو ہماری اولادیں بھی ہم سے ہی سبق سیکھتی ہیں جو جیسا کرتا ہے ویسا بھرتا ہے یہ قدرتی عمل ہے
اللہ ہم سب کو حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (10-05-09)
پرانا 10-05-09, 03:35 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ تحریر ہے۔
راشد احمد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09)
پرانا 10-05-09, 03:43 PM   #12
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راشد احمد مراسلہ دیکھیں
بہت عمدہ تحریر ہے۔
بہر شکریہ راشد آپ کا تاہم بھائی ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات کا اظہار بھی کرو
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
راشد احمد (11-05-09)
پرانا 10-05-09, 04:03 PM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 10-05-09, 04:17 PM   #14
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حکم کی تعمیل ہوتی ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 10-05-09, 10:10 PM   #15
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاک نیٹ کی سنئیر ممبر محترمہ حنا صاحبہ کی چند الفاظ ایک عظیم رشتہ

انسان جب دنیا میں آتا تو بہت سے رشتے اس کے آس پاس ہوتے ہے ، وہ سب رشتے وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتے ہے مگر ایک رشتہ جو مرتے دم تک انسان کے ساتھ رہتا ہے وہ رشتہ باپ اور ماں کا ہوتا ہے

ماں تو وہ عظیم ہستی ہے جس کے جذبوں اور محبت میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی ۔ ماں کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے ۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو جس رشتے سے سب سے پہلے ملتا ہے وہ رشتہ ماں کا ہوتا ہے ۔اللہ نے یونہی تو ماں کے قدموں تلے جنت نہیں رکھی ۔ ماں جو اپنی اولاد کی خوشی میں سب سے زیادہ خوش اور اس کے دکھ میں سب سے زیادہ دکھی ہو جاتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بد قسمت وہ ہے جو ماں کی قدر نہ کر سکے ۔ ماں کی قدر ان لوگوں سے پوچھو جن کی قسمت میں ماں کی محبت نہیں ہے ۔ چفقت بھری چھاؤں نہیں ہے ۔ اگر میں ساری عمر ماں پر لکھوں تو بھی یہ زندگی کم پڑجائے
میری ماں جس نے مجھے اس عمر تک پہچایا مجھے اس قابل بنایا کہ میں ماں کے بارے میں کچھ لکھ سکوں جس نے میری ہر خواہش کو لبوں تک آنے سے پہلے پورا کیا ۔ اللہ کبھی کسی کو اپنی اس عظیم نعمت سے محروم نہ کرے اور دنیا میں سب کی ماؤں کو سلامت رکھے تاکہ یہ دنیا ہمیشہ خوبصورت رہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
cold, hair, کمپیوٹر, کارڈ, وفا, لوگ, موت, ماں, ماں کے نام, محبت, آج, ایس ایم ایس, اللہ, انسان, اسلام, بچوں, تحریر, جواب, خوش, خلاف, دل, رات, زندگی, سال, صبح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:03 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger