| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج کل لگتا ھے لوگ ھی نہیں وقت بھی بھاگتا جا رھا ھے کب دن شروع ھوتا ھے کب ختم ھو جاتا ھے پتا ھی نہیں چلتا پھر نئ نئ ایجادات نے انسان کو اور بھی مصروف کر دیا ھے گھر میں ٹی وی ۔ کمپیوٹر - کبھی فون آرھے ھیں کبھی ایس ایم ایس آرھے ھیں پھر گھر سے باہر کی مصروفیات گھومنا پھرنا شاپنگ دوستوں ملنا ھزار مصروفیات ھیں اب تو انسان کو دو پل تنہا خود کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں ملتا ایسے میں کسی اور کو وقت دینا بہت مشکل ھے
اسی لیے اب سال کو تقسیم کر دیا گیا ھے ھر دن کسی نہ کسی کے نام محبت کرنے والوں کا دن دوستوں کا دن مزدوروں کا دن بے سہارا اور معذور بچوں کا دن امن کا دن عورتوں کا دن مختلف بیماریوں کے خلاف بھی کوئ نہ کوئ دن - اتنی مصروفیات میں لوگ پیدا کرنے والی جنم دینے والی ماں کو نہیں بھولے ایک دن ماں کے نام بھی کر دیا ھے اس دن کروڑوں کا کاروبار ھوتا ھے کارڈ بھیجے جاتے ھیں ما ں سے محبت جتانے کے لیے ایس ایم ایس کیے جاتے ھیں کچھ لوگ وقت نکال کرفون بھی کر دیتے ھیں کچھ لوگ اس دن ملنے بھی جاتے ھیں - میری ایک دوست کہتی ھے ایک دن اپنا بھی ھونا چاھیے سارا سال ساری زندگی تو تقسیم ھو گئ پہلے گھر سب کا ھوتا تھا ایک فرد کی ترقی سارے خاندان کی ترقی ھوتی تھی زندگی ھماری ھوتی تھی اب زندگی میری ھوتی ھے انسان انسانوں میں رھتے ھوئے تنہا ھوتا جا رھا ھے کیا کسی کے لیے ایک دن کافی ھوتا ھے نہیں چاھے اپنے ھوں یا آس پاس کے رھنے والے غریب اور بے سہارا لوگ ۔ کیا کسی کو اس بات کا یقین ھے کہ مدر ڈے پہ اپنی ماں سے پیار کا اظہار کے لیے وہ زندہ رھے گا مزدوروں کے حق کے لیے ایک دن لڑے گا عورتوں کے حق کے لیے بولے گا جو کام کرنا ھے وہ آج ھی اور ابھی کرنا ھے کیونکہ موت کا کوئ دن مقرر نہیں میری ماں سارا سال میرے ساتھ ھوتی ھے اس کا کوئ ایک دن نہیں اس کی ساری زندگی ھے کیا ھم اپنے بزرگوں کو سارا سال تڑپائیں گے سارا سال انتظار کر وائیں گے یہ بتانے کے لیے کہ ھم ان سے پیار کرتے ھیں ھمارا کل بھی ان کا تھا آج بھی ان کا ھے جب تک وہ ھیں جب تک ھم ھیں دن تقسیم نہیں ھوں گے |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | TapalDanaDar (10-05-09), فیصل ناصر (09-05-09), فاروق سرورخان (10-05-09), منتظمین (10-05-09), yashaka (10-05-09), اکرم (11-05-09), ایس اے نقوی (09-05-09), ابن جلال (10-05-09), راشد احمد (10-05-09), سیپ (10-05-09) |
| کمائي نے Haya 786 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 09-05-09 | فیصل ناصر | mother day | 100 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,759
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 36,998 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جواب نہیں حیا
میں تو پہلے تھریڈ کا عنوان دیکھ کر یہی سمجھا کے مدر ڈے کی تعریف و توصیف ہورہی ہوگی اور ابھی تبصرہ کرتا ہوں کے سارے دن ہی ماں کے ہوتے ہیں ہر لمحہ ماں کے لئے لیکن پڑھا تو دل خوش ہوگیا اپنی طرف سے ان خیالات پر آپکو دادوتحسین پیش کرتا ہوں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (09-05-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام اور شکریہ فیصل
زندگی کو دنوں میں کیوں تقسیم کرتے ھیں موت کا دن کیوں بھول جاتے ھیں جو بھی ھے وہ آج ھے اور ابھی ھے کل کا کس کو پتا |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم! حیا جی
فی الحال تو معافی مانگتا ہوں انشاء اللہ کل اس کو تفصیل سے پڑھوں گا اور تجزیہ دوں گا اس کے ساتھ انجم شاہ کو اجازت دیں زندگی نے وفا کی تو کل ملاقات ہو گی 13 گھنٹے ہوگئے ہیں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے اللہ نگہبان کیونکہ صبح دس بجے آفس آتا ہوں اور رات گیارہ کے بعد واپسی ہوتی ہے اس لئے حیا تبصرہ تجزیہ کل |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,751
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام اور شکریہ سید انجم
آپ کے تجزیے کا انتظار رھے گا |
|
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (10-05-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
پاک نیٹ فورم کی ایہک سنئیر ممبر محترمہ حنا صاحبہ ماں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کچھ ہوں کرتی ہیں
ماں کی محبت ابّا جی مجھے مارتے تھے تو امّی بچا لیتی تھیں ۔ ایک دن سوچا امّی پٹائی کریں گی تو ابّا جی کیا کریں گے ۔۔۔۔۔۔ اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے میں نے امّی کا کہا نہ مانا ۔ انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا ، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا ، انہوں نے پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے زمین پر دری بچھائی اور بیٹھ گیا ۔ کپڑے بھی میلے کر لئے ، لحجہ بھی گستاخانہ تھا ، مجھے پوری توقع تھی کہ امّی آج ضرور ، مارے گی ، مگر انہوں نے سینے سے لگا کر کہا "کیوں دلاور پتر ! ۔۔۔۔۔ میں صدقے ، تو بیمار تو نہیں ہے ؟" مصنّف : مرزا ادیب کتاب : مٹی کا دیا ماں کے نام یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے تمھارے دم سے ہیں مرے لہو میں کھلتے گلاب مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے کہاں بساطِ جہاں اور میں کم سن و ناداں یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے جہاں جہاں ہے میری دشمنی سبب میں ہوں جہاں جہاں ہے مِرا احترام تم سے ہے امید ہے کہ پسند کیا جائے گا شکریہ |
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (10-05-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
ماں کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ
"Happy Mother's Day" means more Than have a happy day. Within those words lie lots of things We never get to say. It means I love you first of all, Then thanks for all you do. It means you mean a lot to me, And that I honor you. But most of all, I guess it means That I am thinking of Your happiness on this, your day, With pleasure and with love |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ماں۔ ۔ ۔ !!
سینے سے لگا کر کہا کرتی تھی میری ماں مجھ کو توں لال ہے میرا نہ ستا مجھ کو پچھتائے گا اک دن جب میں چلی جائوں گی نہ چاہتے ہوئے بھی اکیلا دنیا میں چھوڑ جائوں گی زمانہ دیکھائے گا گرمی کی شدت تجھ کو یار کر کے روئے گا توں پھر مجھ کو مدتوں سے میری ماں نے سینے سے نہیں لگایا اب سو گئی خاک میں جب کچھ کہنے کا وقت آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ !!!!!!!!! حیا جی ان چند الفاظ میں بہت کچھ سمو دیا گیا ہے حیا جی ماں ایک ایسی عظیم ہستی ہے کہ انسان جتنا گہرائی میں جائے گا اتنا ہی مزید جاننے کی کوشش کرے گی تاہم آپ کی اس تحریر کو آگے بڑھانا ہے اس لئے مزید اضافہ کرتا جائوں گا آہستہ آہستہ کیونکہ جتنا ماں پر لکھوں گا اتنا ہی دوست احباب دعائیں دیں گے انشاءاللہ اس تھریڈ کو رکنے نہیں دوں گا اور وسیے بھی دونوں تھریڈ کو چلانا ہے میں نے |
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (10-05-09) |
|
|
#10 | ||||
|
Senior Member
![]() |
[
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
ستارہ جی :پہلے تو یہ بھی ہوتا تھا کہ ایک شخصکماتا تھا اور دس لوگ کھاتے تھے اور اب دس کماتے ہیں تو پانچ کی کمائی سے بجلی ،گیس پانی وغیرہ کے بل کی ادائیگی پانچ کی کمائی سے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں اگر کوئی تقریب آجائے ایمرجنسی ہوجائے تو ہم منہ دیکھتے ہیں اور کسی کو نہیں پتہ کہ اگلا لمحہ اسکے لئے کیا لے کر آرہا ہے ماں سے پیار کرنے کےلئے ایک دن مقرر کرنا یہ ثابت لرتا ہے کہ ماں صرف اسی قابل ہے (معذرت کے ساتھ) کہ ہم اسکے ساتھ ایک دن پیار سے پیش آئیں ماں تو وہ عظمت کا مینارہ ہے جسے محبت کرنے میں ،خدمت کرنے میں مہماری زندگی بھی گزر جائے تب بھی ہم اسکی ایک رات کا قرض چکا نہیں سکتے!! اقتباس:
بے شک ستارہ جی درست کہا ہے کہ بڑے بزرگوں سے پیار کرنے کےلئے ان کا خیال رکھنے کےلئے وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ انہیں کی بدولت ہم لوگ دنیا میں ہیں اگر ہم انکی خدمت نہیں کر سکیں گے تو ہماری اولادیں بھی ہم سے ہی سبق سیکھتی ہیں جو جیسا کرتا ہے ویسا بھرتا ہے یہ قدرتی عمل ہے اللہ ہم سب کو حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین |
||||
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (10-05-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ تحریر ہے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (11-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (10-05-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
حکم کی تعمیل ہوتی ہے
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
پاک نیٹ کی سنئیر ممبر محترمہ حنا صاحبہ کی چند الفاظ ایک عظیم رشتہ
انسان جب دنیا میں آتا تو بہت سے رشتے اس کے آس پاس ہوتے ہے ، وہ سب رشتے وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتے ہے مگر ایک رشتہ جو مرتے دم تک انسان کے ساتھ رہتا ہے وہ رشتہ باپ اور ماں کا ہوتا ہے ماں تو وہ عظیم ہستی ہے جس کے جذبوں اور محبت میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی ۔ ماں کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے ۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو جس رشتے سے سب سے پہلے ملتا ہے وہ رشتہ ماں کا ہوتا ہے ۔اللہ نے یونہی تو ماں کے قدموں تلے جنت نہیں رکھی ۔ ماں جو اپنی اولاد کی خوشی میں سب سے زیادہ خوش اور اس کے دکھ میں سب سے زیادہ دکھی ہو جاتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بد قسمت وہ ہے جو ماں کی قدر نہ کر سکے ۔ ماں کی قدر ان لوگوں سے پوچھو جن کی قسمت میں ماں کی محبت نہیں ہے ۔ چفقت بھری چھاؤں نہیں ہے ۔ اگر میں ساری عمر ماں پر لکھوں تو بھی یہ زندگی کم پڑجائے میری ماں جس نے مجھے اس عمر تک پہچایا مجھے اس قابل بنایا کہ میں ماں کے بارے میں کچھ لکھ سکوں جس نے میری ہر خواہش کو لبوں تک آنے سے پہلے پورا کیا ۔ اللہ کبھی کسی کو اپنی اس عظیم نعمت سے محروم نہ کرے اور دنیا میں سب کی ماؤں کو سلامت رکھے تاکہ یہ دنیا ہمیشہ خوبصورت رہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| cold, hair, کمپیوٹر, کارڈ, وفا, لوگ, موت, ماں, ماں کے نام, محبت, آج, ایس ایم ایس, اللہ, انسان, اسلام, بچوں, تحریر, جواب, خوش, خلاف, دل, رات, زندگی, سال, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|