واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ماہِ رمضان میں گراں فروشی کا ذمہ دار کون ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-09-07, 07:49 PM   #1
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ماہِ رمضان میں گراں فروشی کا ذمہ دار کون ؟

ماہِ رمضان میں گراں فروشی کا ذمہ دار کون ؟

ماہ رمضان میں گراں فروشی کا ذمہ دار کون؟
Attached Thumbnails
giran-faroshi-jpg  

Last edited by ایم اے راجا; 15-09-07 at 08:00 PM.
ایم اے راجا آف لائن ہے   Reply With Quote
ایم اے راجا کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-09-07, 08:02 PM   #2
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ اپنی رائے سے اس کالم کے متعلق ضرور نوازیئے گا۔ شکریہ۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-09-07, 11:08 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام!
ساگر ھائی اپ نے ایک بہت ہی اہم معاشی و معاشرتی ناسور کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ اس مسلے کہ وجہ سے ماہ رمضان بجائے رحمت کے غریب عوام کے لیے باعث زحمت بن جاتا ہے۔
میرے خیال سے اس مسلے کی وجہ یہ چھوٹے چھوٹے دوکاندار نہیں ہیں‌ بلکہ تجارتی دنیا کہ وہ بڑے بڑے مگرمچھ ہیں‌جو سیاستدانوں‌ کی کرم نوازی کی بدولت رمضان سے بہت قبل ہی ذخیرہ اندوزی شروع کر لیتے ہیں۔ اور بازار میں مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں۔ جس کی واضح‌ مثال اس دفعہ رمضان سے بہت پہلے ہی اشیاء صرف کی قیمتوں‌میں گرانی ہے-
اس کا دوسرا بڑا سبب صاحب خثیت لوگوں‌کا بڑی مقدار میں اشیاء صرف کی خریداری ہے۔ ان کی خریداری دیکھتے ہوئے کچھ اس طرح سے لگتا ہے کہ جیسے رمضان کی بجائے میدان جنگ کی تیاریاں‌کر رہے ہیں یاں پھر روزے رکھنے کی بجائے زیادہ کھانے کا مقابلہ منعقد کروانے والے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت رمضان میں‌ وزن میں‌ ایک غیر معمولی آضافہ ہے۔
اس کا سب سے مناسب حل یہ ہے کہ ان بڑے بڑے تجارتی مگرمچھوں کو مثالی سزائیں دی جائیں تا کہ ان سے چھوٹے دوکاندار عبرت پکڑیں۔ اگر بڑے مگرمچھ پکڑے جائیں تو چھوتے چھوٹے دوکاندار تو اتنے کم دل ہوتے ہیں کہ گھاٹا کھا کر بھی سرکاری قیمت پر اشیاء صرف فروخت کریں گے۔

معذرت کے ساتھ- ہمارے مولوی حضرات ہر کسی کام میں‌اپنی کارگردگی دکھانے میں ماہر ہیں لیکن آج تک معاشی و معاشرتی مسائل میں ان کا کار خیر تقریبا نا ہونے کے برابر ہے- آج تک کسی مذہبی جماعت نے عوام کے مسائل پر کوئی جلسہ جلوس کیا ہوا یا کوئی "دھرنا دیا " ہو۔ مجھے تو آج تک یاد نہیں پڑتا ایسی کوئی غلط ان سے سر زد ہوئی ہو- ویسے بھی جس ملک میں " ڈیل اور ڈھیل" کا کلچر پروان چڑھ رہا ہو وہاں ایسے مسلے مسائل کے لیے ان کے پاس وقت کہاں-
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-09-07, 11:48 PM   #4
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین صاحبان آپ نے ٹھیک کہا میں نے اپنے اس مختصر کالم میں بڑے تاجروں کا ذکر بھی کیا ہے لیکن اسکی ذمہ دار حکومتِ وقت ہے، ایک بار حضرت عمررضی اللہ و تعالی عنہ خچر پر سوار تھے اور لوگ آپ کی آمد کے منتظر تھے ( آپ اسوقت خلیفہ تھے) ایک پل سے گذر ہو رہا تھا کہ خچر کا پیر اس پل میں موجود ایک گڑھے میں چلا گیا آپ نیچے اتر آئے اور اسی وقت پل کی مرمت کے احکامات دیئے اور خود بھی مصروف ہو گئے آپکے ساتھیوں نے کہا کہ آپکا لوگ انتظار کر رہے ہیں آپ چلیں مرمت ہو جائے گی تو آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ خچر روزِ قیامت مجھ سے پوچھے گا کہ تمہیں اللہ نے حکومت عطا کی اور میرا پائوں زخمی ہوا تو میں کیا جواب دوں گا۔ ایک بار آپ نے فرمایا کہ اگر سلطنتِ اسلامی کے کسی دوردراز علاقے میں ایک کتہ بھی بھوک سے مر گیا تو اسکا حساب مجھ ( عمر) سے لیا جائے گا، یہ تھے حکمِ وقت اور آجکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایم اے راجا کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فروخت, لوگ, مقابلہ, مسائل, آج, اللہ, اسلامی, جواب, حل, حضرات, دل, رمضان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger