| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,850
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
آنکھوں میں چھپا ہوا انتظاراور یاسیت کا عالم، لگتا ہے زندگی یہاں سے سسکتی ہوئی گزر رہی ہے۔مکمل سکوت اور ہو کا عالم ہے، جیسے پت جھڑ کے موسم میں کچھ باقی ماندہ پتے ہلکی سی ہوا چلے تو اپنا دامن شاخوں میں چھپا لیتے ہیں کہ شاید پھر بہار آئے اور پھر سے ہرے بھرے ہو جائیں ، مگر یہ سردوخشک ہوا پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتی اور اپنی لپیٹ میں سب کچھ اڑا لیجاتی ہے۔ ان نیم واوں آنکھوں میں کونسا انتظار چھپا ہے؟ زندگی کتنے رنگ و زاویے بدلتی ہے، کبھی مثلث بناتی ہے تو کبھی دائرہ مگر انجام سے بے خبر نہیں اور اپنی انتہا کو ضرور چھوتی ہے، جبکہ ہراک ابتدا کا ایک انجام مقدر ہے جو ٹل نہیں سکتا ۔ اگر یہ زندگی مثلث میں سفر کرتی ہے تو اک اٹھان سے شناسا ہوتی ہے اور عروج کا مقام دیکھتی ہے مگر اچانک اسے ڈھلان کا احساس ہوتا ہے اور آخر زوال سے ناطہ جوڑ لیتی ہے۔ اور جب کبھی دائرہ میں سفر کرتی ہے تو پھر ہر لحظہ کروٹیں بدلتی ہے اور وہی سفر دوہراتی ہے اور آخر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ہر بہار پت جھڑ کوچھوتی ہے اور اپنا انجام خزاں میں دیکھتی ہے یہ صرف اور صرف قدرت کا نظام ہے جو ازل سے رواں دواں اور فنا و بقا کا تسلسل ہے۔ شجر پہ آخر ی لٹکتا پتہ بھی اس امید میں ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہار آجائے اور وہ پھر سے ہرا بھرا ہو جاوں ، مگر فنا اسے اپنی اٹل حقیقت سے روشناس کرواتی ہے جو کہ اسکی اصل منزل اور انجام ہے۔ کیا فنا اتنی ظالم ہے کہ اسکا ہر درس تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں؟ ایسا نہیں ہے! بلکہ حقیقت شناس زاویہ تو ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ ہر فنا اک نئی بقا کا نقطہ آغاز ہے ۔ ایک ایسا لاثانی آغاز کہ جیسے ہر نئے روزکا چڑہتا ہوا سورج اک نئے دن کی نوید سناتا ہے اور گزشتہ رات کی فنا کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔ مگر اکثر ہم اس گزشتہ رات کے دامن میں لپٹی ہو ئی نئی صبح کی صدا سننے سے قاصر رہتے ہیں اور رات کی گمنامی میں گم ہو جاتے ہیں۔ زندگی اپنا سفر کبھی نہیں روکتی ، کبھی سسکتے صحراوں سے گزرتی ہے تو خزاں کا نظارہ پیش کرتی ہے اور کبھی سرسبزوشاداب وادیوں سے گزرتی ہے تو لطف و کرم کا منظر پیش کرتی ہے اور بہار کا سما ں بندہ جاتا ہے یہ سماں بھی کتنا دلربا ہے کہ لمحات مسرتوں سے لبریز ہوجاتے ہیں اور لذت کا چشمہ قلب سے جاری ہو جاتا ہے جسکا ادراک صرف اور صرف اس تجربہ سے گزرنے والوں کو ہو سکتا ہے ۔ہر آواز موسیقی کی طرح پرد ہ سماعت پر وارد ہوتی ہے،زندگی اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی ہے ،خوشبو کی طرح فضاﺅں میں بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ۔ ممکنات کے دروازے کھلے نظر آتے ہیں جبکہ قاہ او ر آہ بھی لذت سے معمورہوتے ہےں ۔ اور کبھی زندگی کا گزر سنگلاخ چٹانوں سے ہو تو نئی امنگو ں اور توانائیوں کو جنم دیتی ہے اور کبھی ریتلے اور تپتے صحراوں سے ہو تو ہر طرف ہو کا عالم چھا جاتا ہے اور کبھی اسکا گزر گاتی ہوئی آبشاروں سے ہو تو لطف و کرم کے جام انڈیلتی ہے اور کبھی برفیلے پہاڑوں کاسفر درپیش ہو توسست روی اور تکان کا منظر دیکھائی دیتا ہے اور ہر حال میں اپنا سفر جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔ مگر ایک بار تو اسے تپتی دھوپ میں اک سایہ دار درخت کے نیچے روکا دیکھا !!!! کہیں آنکھوں کا دھوکا تو نہیں !!!! وقت بھی رک چکا تھا !!!! یہاں زندگی کو وصل و قربت کی لاثانی لذتوں سے سرشار ہوتے اور الفتوں کے جام انڈھیلتے دیکھا۔لمحوں کو اس لذت آشنائی کے صدف میں گوہر ہوتے دیکھا۔ صدیوں بعد وقت کوسستانے کا موقع حاصل ہوتے دیکھا۔اجنبی راہوں نے مدت بعد اک شناسا چہرہ دیکھا جبکہ ہرطرف بہار ہی بہار تھی ۔ لمحے اپنی موج میں غرق تھے کہ اچانک زندگی نے جست بھری اور رخت سفر باندہ لیا ، پھر کبھی نفرتوں کی شاموں میں اور کبھی خوشیوں کے ہنگاموں میں اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ لمحے جو زندگی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے چلتے ہیں ، وہ بھی کب تک ؟ آخرکہیں تو انکا سفر ختم ہونا ہے۔کبھی تو یہ لمحے مسرتوں سے لبریز ہوتے ہیں اور کبھی دکھوں اور اذیت کا مزہ چکھتے ہیں، تو کبھی لطف و کرم کا!!! کیا یہ لمحے پانی کی سطح پہ تیرتے بلبلے کیطرح اپنا وجود ختم کر دیں گے؟ نہیں !! یہ تو جلتی شمیں ہیں جو دیئے سے دئیا جلائے رکھتی ہیں ، یہ تو بدلتی رتیں ہیں جو بہاروں کو اپنے اند ر سمیٹے ہوئے ہیں ۔ توڑ دو ذھن کی ان حدوں کو جو فنا میں لپٹی بقا کا تصور کرنے سے قاصر ہیں !!! توڑ دوں ان خود ساختہ حد بندیوں کو جو اس آشنائی کے دور میں بھی شناسا ہونے سے روکتی ہیں !!! اس موڑ سے آگے منزل ہے ، مایوس نا ہو درتا جا ایک نوید سحر ، اک نئی کونپل آخر کس طرح ممکن ہے؟ اگر زندگی اپنا سفر جاری نہ رکھے تو کچھ بھی ممکن نہیں۔اگر اک نئی صبح کی آمد آمد ہے تو اک رات بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی۔ ہررات اک نئی صبح دیکھتی ہے اور ہر اندھیرا روشنی کا منہ چومتا ہے ۔ ہر لمحہ اک نئی کروٹ بدلتا ہے کیونکہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور ہم ہر لمحہ اک نئی جگہ پہ دریافت ہوتے ہیں۔ہر ماضی اک نئے حال سے روشناس ہوتا اور ہر حال ایک مستقبل کا ادراک کرتا ہے ، ہر بقا اپنی فنا دیکھتی ہے اور ہر فنا کے دامن سے اک بقا کا نمو ہوتا ہے ، یہی قانون قدرت ہے اور یہی درس کائنات کے ذرے ذرے کو معلوم ہے ۔ Last edited by گوہر; 26-08-09 at 05:52 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی جان سرورق کے لیئے بھی اپلائی کرہی ڈالیں!
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 443
کمائي: 13,850
شکریہ: 339
363 مراسلہ میں 1,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لذت آشنائی کا یہ سلسلہ تو میرے بچپن کا ساتھی ہے، جہاں میں نے زندگی کے خوبصورت لمحو ں کو قید کیا ہوا ہے مگر اسکو لکھنے کا باقاعدہ سلسلہ گذشتہ برس 2008 ماہ رمضان المبارک میں پہلے پہل صرف پرسنل ڈائری کی شکل میں شروع کیا ،اس سوچ کے مد نظر کہ اگر کوئی پھل درخت پہ لگا پک جائے تو اسے اتار لینا چاہئے ورنہ گل سڑ جاتا ہے ، لہذا اسے باقائدہ ایک تحریر کی شکل دینی شروع کر دی، قلم تھا کہ خود بخود چلتا جاتا تھا اور روانی تھی کہ ہاتھ رکنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ جب اس تحریر کا نام تجویز کرنا چاہا تو جو کیفیت لکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتی تھی اس کو آشکار کرنے کو دل چاہا جس لذت میں میں ڈوبا ہوا رہتا ہوں اسی کو نام دے دیا، " لذت آشنائی" جس کے سامنے مجھے دنیا کی ہر لذت ہیچ لگتی ہے۔
میرے بچپن کے ساتھی ان مقامات کو اب انٹرنیٹ نے بھی قید کیا ہوا ہے؛ مصروفیات روزگار اور ذمہ داریوں کے باعث لکھنے کا سلسلہ صرف ماہ رمضان 2008 تک محدود رہا مگر اچانک ایک دن ان تحاریر کو جو ابھی تک فقط ذاتی ڈائیری تک محدود تھیں ، پبلش کروانے کی سو جھی اور اپنی ڈائری کے چند صفحات کو اقساط بنا کر اردو پوئنٹ ڈاٹ کام کو بھجوا دیا جس کے توسط سے مجھے پوری دنیا میں متعارف ہونے کا موقع ملا اور بہت زیادہ پزیرائی بھی ہوئی ؛ جسکے باعث میں اردوپوائنٹ ڈاٹ کام کا بہت زیادہ مشکور ہوں۔اسکے ساتھ ساتھ ہماری ویب ڈاٹ کام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس سلسلہ کو " پراسرار بندے " کے نام سے اپنی ویب سائٹ پہ پبلیش کیا اور چند اقساط کی اک لڑی باندہ دی ؛ اسکے علاو روزنامہ " نوائے وقت-لاہور" کا مشکور ہوں جنہوں نے 2008 اکتوبر میں " ملی ایڈیشن " میں تسلسل کے ساتھ شائع کر کے مجھے ایک رائٹر کے طور پہ متعارف کروا دیا۔ جبکہ اسکا تسلسل ،گاہے بگاہے ، ابھی تک قائم ہے ؛ آج اگر دوبارہ " لذت آشنائی " کا سلسلہ شروع کیا ہے تو صرف ماہ رمضان کی برکت کے سبب سے اور ان تشنہ لبوں کو سیراب کرنے کیلئے کہ جو گزشتہ ہر تحریر پڑھنے کے بعد آنے والی قسط کا شدت سے انتظار کرتے تھے ، امید ہے کہ یہ سلسہ اس ماہ رمضان میں بھی جاری رہے گا ، ساتھ ساتھ آپکی آرا کا شدت سے انتظار رہے گا۔ Last edited by گوہر; 26-08-09 at 10:20 PM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
کیا بات ہے بھائی کیا تحریر ہے بھائی مزا آگیا ہے
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مراسلات: 9
کمائي: 470
شکریہ: 29
9 مراسلہ میں 38 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
buhat acha likha hai apne
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عنبرین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,689
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() آ ہو
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم!
اچھی شئیرنگ ہے اور دلچسپ و عجیب سیکشن میں تھی جسے عمومی بحث میں تبدیل کیا جا رہا ہے شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لطاف بھائی آج پہلی بار آپ کو پڑھا
اور یقین کریں کہ آخری سطر تک نہ نظر ہٹی نہ دھیان قاری کو باندھ لینے کا ملکہ کسی کسی لکھاری میں ہوتا ہے میری جانب سے مبارک باد قبول کریں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | گوہر (26-09-09), راجہ اکرام (26-09-09) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الطاف گوہر بھائی واقعی لذت آگئی
فنا فی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | گوہر (26-09-09) |
![]() |
| Tags |
| color, com, pakistan, ویب, ڈاٹ, قید, نظر, موقع, معلوم, انٹرنیٹ, اردو, بھائی, حال, خبر, دریافت, رمضان, زندگی, سفر, شاندار, ظالم, صبح, صدف, صدیوں, صدا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|