واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


لبیک محمد صلی علیٰ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-02-10, 12:53 AM   #1
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لبیک محمد صلی علیٰ

لبیک محمد صلی علیٰ

لبیک محمد صلی علیٰ (محمد نورالھدیٰ) ای میل
ہفتہ, 27 فروری 2010 14:29
عالم اسلام کے خلاف محاذ آرائی اور تصادم کے لئے عالم کفر کی طرف سے قرآن حکیم اور حضور کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے اور مسلمانوں سے بغض و عناد کی داستان صدیوں پر محیط ہے ۔ یہودیوں کے ہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ منظم پروپیگنڈا ، تعصب ، نفرت اور حقارت کی تحریک موجود ہے ۔ یہودی اور ان کے پروردہ عیسائی اہلیان اسلام کے خلاف تعصب اور نفرت کے اندھیروں میں سر تا پا ڈوب چکے ہیں ۔
مغربی ممالک میں حضور کی شان اقدس میں گستاخی کی مہم پوری زور و شور کے ساتھ جاری ہے ۔ نبی اکرم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے لے کر اسلام کے خلاف توپوں کے منہ کھولنے تک مغربی سامراج نے ہر دور میں مسلمانوں کے صبر کا امتحان لیاہے ۔
روح محمدی پر مغربی حملے نئے نہیں ہیں ۔ اس سے قبل مغربی حکمرانوں نے خانہ کعبہ پر حملے جیسے ناپاک عزائم کا اظہار کیا تھا .... امریکی ذرائع ابلاغ نے قرآن کی تعلیمات کو ہدف تنقید بنایا.... گوانتا ناموبے اور ابوغریب جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے بیت الخلا میں بہایا گیا .... عیسائیوں کے روحانی و مذہبی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے نبی کی ذات پر برائے راست حملہ کیا .... ڈنمارک ، ناورے ، ہالینڈ ، جرمنی اور دیگر ممالک کے اخبارات نے نبی کے گستاخانہ خاکے جاری کئے .... توہین آمیز اسلام مخالف فلمیں تیار کیں .... اسلام مخالف کتب اپنی عوام میں مفت تقسیم کیں .... بھارت اور دیگر مغربی ممالک نے بھی ڈنمارک کے عمل کو دہرایا .... مسلمان خواتین کے باپردہ لباس ، حجاب اور برقعے کو ہدف تنقید بنایا گیا .... حجاب کے تنازع پر مروا الشیرینی کا واقعہ بھی ہماری مظلوم تاریخ کے ایک اور باب کے اضافے کے طور پر سامنے آیا .... خود فرانس کے وزیراعظم نے گذشتہ دنوں خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے کی خواہشمند خواتین کے لئے فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے .... اس سے قبل عالمی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا .... گوانتا ناموبے ، ابو غریب جیل اور اسی جیسے دیگر واقعات ہماری تاریخ کا حصہ بنے جہاں اسلام اور قرآن کی توہین کی گئی اور مسلمانوں کے ساتھ تاریخ کا بدترین ظلم روا رکھا گیا .... وطن عزیز پاکستان سے اسلام کے نام لیواﺅں کو امریکی ایجنسیاں اٹھا لے گئیں .... ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اس جیسے کتنے ہی بے گناہ پاکستانی “خفیہ“ طور پر اپنے اپنے گھروں سے کئی برسوں سے ”لاپتہ“ ہیں .... مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیا گیا .... کہیں بالی وڈ میں مسلم ہیروز منفی پروپیگنڈہ پر مشتمل فلمیں تیار کی جاتی ہیں تو کہیں سلمان رشدی جیسے ملعون کو ”سر“ کا خطاب دیا جاتا ہے .... کبھی تسلیمہ نسرین جیسی اسلام دشمن کو اہانت قرآن پر سیاسی و معاشی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تو کبھی پوپ بینی ڈکٹ کی زبان اسلام کے خلاف زہر اگلتی ہے .... کبھی کپڑوں کی بناوٹ اور پرنٹ پر کلمہ طیبہ لکھا جاتا ہے اور کبھی جوتوں کے تلوﺅں اور فٹ بال پر کلمہ طیبہ لکھ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا اظہار کیا جاتا ہے .... اس پر بھی انہیں صبر اور چین نہیں آتا تو رحمت اللعالمین کے کارٹون شائع کئے جاتے ہیں.... غرض کہ اہل مغرب کے ناپاک عزائم نے پوری مسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور مغربی سامراج اور ان کے حواری امت مسلمہ کی تباہی اور بربادی یا کم از کم انہیں گونگا اور بہرہ کرنے کے ” تاریخی پروجیکٹ“ پر عمل پیرا ہیں ۔
یورپ نے پہلے بھی کئی مرتبہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے ایسی گھٹیا حرکتیں کی ہیں اور اب بھی مسلسل گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذریعے اپنی پست سوچ کا مظاہرہ کررہا ہے ۔
بنیاد پرست کون ؟
جس انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا الزام وہ مسلمانوں پر لگا رہے ہیں ، درحقیقت وہ خود اسی انتہاپسندی اور بنیاد پرستی کا شکار ہیں ۔ یہ مغربی انتہا پسند ہی ہیں جو مختلف حیلوں بہانوں سے اسلام کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔ اسلام ، اسلام والوں اور اسلامی شعائر کی توہین و تضحیک کرکے درحقیقت تہذیبوں کے تصادم کو ہوا دی جارہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف جاری اس تہذیبی جنگ میں اسلامی شعائر اور نبی کی ذات اول ہدف ہے۔
حرمت رسول ہمارا ایمانی تقاضا
پاکستان امت مسلمہ کا دل ہے اور ناموس رسالت کا مشن دو ارب سے زائد مسلمانوں کا مشن ہے ۔ آج اس کے پاس میزائل بھی ہیں ، ایٹم بم کی طاقت بھی موجود ہے ، لاکھوں کی فوج بھی ہے مگر اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے دل مردہ ہیں ۔ انہیں اس امر کا احساس ہی نہیں کہ حرمت رسول کی حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور ایمان کی اس شاخ کے بغیر مسلمان کا عقیدہ درست نہیں رہ سکتا اور یہی وہ بنیادی تقاضا ہے جو اسلام اپنے پیروکاروں سے کرتا ہے ۔
توہین رسالت کیوں ؟
شان رسالت یوں میں گستاخیوں کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں روزانہ چار سے پانچ افراد قرآن پاک اور سیرت محمد کا مطالعہ کرکے مسلمان ہورہے ہیں ۔ صلیبیت اور عیسائیت سکڑتی جارہی ہے ۔ مغرب اسی خوف میں مبتلا ہوکر پے در پے توہین رسالے کا مرتکب ہورہا ہے تاکہ مسلمان ہونے والے افراد میں کمی لائی جاسکے ۔
مغرب کی فکری پسماندگی
یہ مغرب کی فکری پسماندگی ہی ہے کہ وہ اس مذموم جسارت کو آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کی بے سروپا دلیل سے گھڑتے ہیں ۔ ایسی مقدس ہستی کے بارے میں الزام تراشی اور بہتان طرازی پر مبنی من گھڑت تصورات والے توہین آمیز خاکے شائع کرنا ، ان کا تمسخر اڑانا ، لوگوں کے جذبات مجروح کرنا اور دو مذاہب میں فساد برپا کرنا کونسی آزادی اظہار رائے میں آتا ہے ۔ یہ فکری پسماندگی ، حسد ، بغض ، اور کینہ ہے جو مغرب کو بار بار گستاخی رسول اور توہین قرآن پر اکسا رہا ہے ۔ اور اسے آزادی اظہار کے لبادے میں پیش کرتا ہے لہذا مغرب کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا جاسکتا ۔
آزادی اظہار توہین کی صورت میں ہی کیوں ؟
بالفرض اگر وہ اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے بھی ہیں تو توہین آمیز کارٹون اور متنازعہ کتب ہی کیوں .... نبی کے کردار ، اخلاق اور حسن سلوک پر کیوں بات نہیں کی جاتی .... غیر مسلموں کے ساتھ آپ کے برتاﺅ اور مثالی رویے .... اور جانوروں پر شفقت کی بات کیوں نہیں کی جاتی .... بچوں کے ساتھ مخلصانہ و مشفقانہ رویے اور دشمنوں کے لئے بددعا کی بجائے دعا دینے کے ردعمل پر بات کیوں نہیں کی جاتی .... دورِ نبوی میں آپ کے ساتھ دشمن کے ہتک آمیز سلوک اور جواباً آپ کی خاموشی پر بات کیوں نہیں کی جاتی .... ایسے کتنے ہی مثبت پہلو ہیں جنہیں محض ذاتی انا اور تعصب کی بھینٹ چڑھا کر نظرانداز کیا جارہا ہے .... آخر کیوں ....؟؟؟
درحقیقت یہ آزادی اظہار نہیں بلکہ اس نفرت اور تعصب کا اظہار ہے جو یہود و نصاریٰ روزِ اول سے ہی اسلام ، نبی ، اور مسلمانوں سے کرتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مغرب کے نزدیک دو تہذیبوں کے درمیان تعاون ، ایک دوسرے کے احترام ، مسابقت اور بقائے باہمی کا کوئی مقام نہیں ۔ یورپ میں احترام انسانیت کا یہ عالم ہے کہ بلند آواز میں ہارن بجانا منع ہے مگر اسی یورپ میں دنیا کی قابل قدر ہستی کی تضحیک کرکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی پوری آزادی حاصل ہے ۔
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں
اللہ کی قدرت دیکھئے ، اس نے ہر شر میں خیر پوشیدہ رکھی ہے ۔ کفار نے جب مسلمانوں کی کتاب کو دہشتگردی کے طور پر مشہور کیا تو مغرب کے تمام لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اس کتاب میں ایسی کون سی بات ہے جس سے دہشتگردی کی ترغیب ملتی ہے اور ایسے پیغمبر کی سیرت تو پڑھنی چاہئے کہ کیا ہمارے ذرائع ابلااغ جو شور مچا رہے ہیں کیا وہ واقعی درست ہے ؟ یورپ و مغرب میں قرآن و حدیث اور سیرت رسول کا مطالعہ کیا گیا تو ان کی آنکھیں کھلیں اسلام کے ہر دائرے میں انہیں اپنے حقوق فرائض کا اک زبردست نظام نظر آیا اور وہ کثرت سے مسلمان ہونے لگے ۔ آج 68 کروڑ کے یورپ میں مسلمانوں کی تعداد 6 کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔
دعوت فکر
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد فرما دیا ہے کہ اے ایمان والو کافروں کو اپنا رازدان نہ بنانا ۔ یہ لوگ تمہاری خرابی اور فتنہ انگیزی کرنے میں کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچے ۔ ان کی زبانوں سے تو ان کا بغض ظاہر ہوچکا ہے ۔ اور جو کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں ۔ دیکھو تم ایسے سادہ لوگ ہو کہ تم ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم ساری کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے ۔ (آل عمران)
یہ ایک کھلی دعوت تھی ، ایک واضح پیغام تھا جو خالق کائنات کی طرف سے ہمیں دیا گیا تھا ، مگر ہم نے اس پر دھیان نہیں دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ مجموعی طور پر نبی کے مشن سے لاتعلق ہوچکی ہے ۔ اگرچہ ان کی حرمت پر آنچ آنے پر وقتی بیداری کا ثبوت دے کر ہر سطح پر احتجاج تو کیا جاتا ہے مگر اصلاً جو نظام عدل آپ دنیا کے لئے لائے تھے .... وہ پیغام جو آپ چھوڑ کر گئے تھے .... اسے ہم نے طاق نسیاں کی زینت بنا رکھا ہے .... جو امانت آپ ہمارے سپرد کرکے گئے تھے کہ قیامت تک تمام انسانیت کو ہدایت کی طرف بلانا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہمارے ذمہ لگایا گیا تھا .... ہم نے اس امانت کو اپنی آئندہ نسلوں کو سونپنا تھا .... جو ہم نہ کرسکے .... اس فریضے کو ہم ہی نے آگے پھیلانا تھا .... مگر افسوس کہ آج وہی مشن اپنوں ہی میں بیگانہ ہوکر رہ گیا ہے .... آج دنیا ہدایت کی پیاسی ہے .... یہی وجہ ہے کہ آج بعض نادان لوگ فطرت کے ساتھ جنگ پر اتر آئے ہیں ۔ ان تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا انتظام یقیناً ہم ہی نے کرنا ہے .... بے شک آپ کی گستاخی در گستاخی کا عمل قابل مذمت ہے مگر ایسے لوگوں کو حرمت رسول سے آشنا کرنا ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔
حقائق کی آنکھ سے اگر دیکھا جائے تو ہم خود بھی تو روزانہ توہین کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نبی کے افکار و اقوال سے ہم نے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے ۔ دین سے دوری ہم نے اختیار کررکھی ہے ۔ آج ہمارے رویوں اور روز و شب کو دیکھتے ہوئے سامراج کا حوصلہ بڑھ رہا ہے کہ یہ مسلمان تو صرف نام کے ہیں وگرنہ ان میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو انہیں ہم سے مختلف ثابت کرے ۔ ہم تو خود اسلام کے لئے رسوائی کا سبب ہیں ۔ آج ظاہری اشکال کے ذریعے محبت رسول کے تقاضے تو پورے کر لئے جاتے ہیں ۔ مخصوص تہواروں پر ہم دین سے لگاﺅ اور اپنی مسلمانیت کا ثبوت تو فراہم کردیتے ہیں مگر عام دنوں میں ہم عصری تقاضے بھولے ہوئے ہیں ۔
آہ اس دیس میں آئینِ پیمبر ہم نے
یوں پرے پھینکا کہ بوسیدہ قبا ہو جیسے
ہمیں کیا کرنا ہے ؟
موجودہ حالات ہمیں اس امر کا بھرپور موقع فراہم کررہے ہیں کہ ہم اپنے نبی کی اتباع کرتے ہوئے ان کی عزت و ناموس اور حرمت کی خاطر ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کریں اور کفار کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے تعلیمات نبوی پر عمل پیرا ہوجائیں ۔ ہر روز نہ سہی ، ہر ہفتے یا کم از کم ہر مہینے کسی ایک سنت کو ہی اپنانے کا عہد کر لیں اور اس پر عمل شروع کر دیں تو کفار چاہے جتنا مرضی کیچڑ اچھال لیں وہ فقط لکیریں پیٹنے تک محدود رہیں گے۔ آج یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم اپنی زندگی رسول کے ایک ایک حکم اور طریقے کے مطابق ڈھالیں گے.... ان کی سنتوں کی احیاءکے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں گے.... ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ حق کا ساتھ دیں گے.... زبان کے ساتھ ساتھ عمل سے بھی خود کو عاشق رسول ثابت کریں گے.... اپنے نصابات تعلیم کو جدید اسلامی اور نظریاتی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے عملی جدوجہد کریں گے .... رب کی زمین پر رب کا نظام نافذ کرنے کے لیے اپنی جانیں تک کھپا دیں گے.... یہی نبی مہربان کا راستہ ہے اور یہی ان سے محبت اور کفار کی سازشوں کے جواب کا حقیقی ثبوت بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی کمیوں کوتاہیوں کو نظر انداز کئے رکھا اور فقط احتجاج اور مطالبات تک محدود رہے اور معاملہ ٹھندا ہونے پر پھر اسی دنیا میں مگن ہوگئے تو ہمارے ”حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے .... غلام ہیں غلام ہیں ، رسول کے غلام ہیں .... غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے “ جیسے تمام نعرے بالکل بیکار ہیں ۔
مسلم حکمرانوں کی سرد مہری
کاش مسلم حکمران حقائق کی عینک کے ساتھ ان کے دلوں میں چھپے ہوئے بغض کو بھی دیکھیں اور ظاہری اسلام دشمنی سے بھی آگاہ ہوں ۔ عالم اسلام جرات مندانہ موقف اپنائے اور خارجہ پالیسی کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور معاشی و سیاسی غلامیوں کا طوق اتار کر آزادانہ پالیسی اپنائی جائے؟ اسمبلیوں اور سینٹ میں بیٹھے ہوئے ارکان اس حوالے سے قانون سازی کروائیں کہ جو ملک بھی توہین رسالت کی جسارت کرے عالم اسلام متحد ہوکر اس کے لئے شرعی سزا تجویز کرے ۔
ہم اپنا کردار کس طرح ادا کرسکتے ہیں ؟
ان حالات میں نوجوانوں اور اہل پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس سے ہر فرد نبرد آزما ہے کہ معاملے کی سنگینی میں ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں ۔ کیا خالی خولی نعروں اور جلسے جلوسوں سے اور ان ممالک کا بائیکاٹ کرکے ہم ان کے بڑھتے قدموں کو روک سکتے ہیں ؟ جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس وقت بھی ہم نے یہی کیا .... قرآن کی بے حرمتی پر ہم نے قراردادیں پیش کیں .... مسلمانوں کو کارپٹ بمباری کرکے شہید کیا گیا تو ہم نے احتجاج تو بہت کیا مگر کیا مسلمانوں کا بہتا خون رک گیا .... کیا قرآن کی بے حرمتی کے مجرم پھانسی پر لٹکا دیئے گئے .... کیا مساجد کی بے حرمتی رک گئی ....؟ ؟؟
نہیں .... ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ اور نہ ہوگا ۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد کتنے جلسے کئے ، کتنے جلوس نکالے ، کتنی دفعہ اپنی مارکیٹیں بند کیں ؟ عراق کو نیست و نابود کرنے کے اور صدام کو پکڑنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا ؟ امریکہ نے مسلم ممالک سے اپنے ”مجرمین“ کو حاصل کرنے کے لئے کون سی قراردادیں پیش کیں ؟
ماضی میں پاکستانی حکومت نے ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا اور اسے پھانسی دے دی گئی ، عافیہ صدیقی کو وہ اٹھا لے گئے اور اسے مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی گئی ۔ کتنے ہی بے گناہ پاکستانی جو اسلام پر پوری شدتک کے ساتھ عمل پیرا تھے خفیہ طور پر ”لاپتہ“ پائے گئے اور آج وہ ابوغریب جیل میں سڑ رہے ہیں ۔ انڈیا اور دیگر ممالک پاکستان کو اپنے ”مطلوب افراد“ کی فہرست دیتے ہیں کہ ہمارے مجرم تمہارے ہاں ہیں انہیں ہمارے حوالے کرو ۔ لیکن 57 اسلامی ممالک میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو یہ مطالبہ کرسکے کہ اہانت رسول کرنے والے ہمارے مجرم ہیں انہیں ہمارے حوالے کرو ۔ شاید ہمارے مسلم حکمران اغیار کے اس قبیح عمل کو جرم ہی نہیں سمجھتے ۔
اگر مسلمان مجاہدین کو القاعدہ کے ساتھ تعلقات کے الزام میں امریکہ کے حوالے کیا جاسکتا ہے .... ایمل کانسی جیسے مرد مجاہد کو امریکہ کے حضور پیش کرکے اس کی پھانسی کو قبول کیا جاسکتا ہے ، ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ امریکہ کے غیرمنصفانہ انصاف پر خاموشی اختیار کی جاسکتی ہے ، ڈاکٹر عامر جیسے مسیحاﺅں اور خالد خواجہ جیسے اسلام کے سچے پیروکاروں کو ”آقاﺅں“ کے مانگنے پر تحفے کے طور پر دیا جاسکتا ہے تو پھر مسلم امہ کے دشمنوں اورحرمت رسول کے قاتلوں کو ان ممالک سے مانگا اور سزا نہ دینے پر احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے ۔ دنیا میں اپنا حق یوں ہاتھ پھیلا کر اور بھیک مانگ کر نہیں ملا کرتا ۔ یہ حالات ہمارے لئے ٹرننگ پوائنٹ ہیں ۔
توہین رسالت اور ہماری ذمہ داریاں
اس تمام صورتحال کے تدارک کا آسان ترین حل یہی ہے کہ تمام طبقہ فکر کے افراد خواہ وہ طلبہ ہوں ، وکلاءہوں ، تاجر ، صنعتکار ، اساتذہ یا مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنما اور حکمران طبقہ ، سب یکجان ہوکر حرمت رسول کے تحفظ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور 57 اسلامی ممالک میں سے کسی ایک کو سربراہ بناکر ایک ایسا قانون تشکیل دیا جائے جس میں یہ واضح ہو کہ غیر مسلم دوسروں کے مذہبی مقامات اور شخصیات و جذبات کا احساس کریں ۔ کسی فرد کو کسی دوسرے مذہب پر نقب لگانے کے اختیارات سلب ہوںاور مسلم حکومتوں کے یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ کسی بھی ملک میں توہین رسالت کے مرتکب افراد کے خلاف فی الفور ایکشن لے سکیں ۔ یہ کسی مخصوص فرقے ، گروہ یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ سب مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے جس میں سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس کے علاوہ اسلامی لٹریچر کو دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ جو لوگ شان رسالت میں گستاخی کررہے ہیں ان کی ہماری دعوت موثر طریقے سے نہیں پہنچ سکی ہے ۔ انہیں دین اسلام کا صحیح رخ دکھانے کی ضرورت ہے ۔ اسلام کی حقانیت سے آشکار کرانے کی ضرورت ہے ۔
بیرونی ممالک میں مقیم افراد وہاں کے ذرائع ابلاغ تک یہ پیغام پہنچائیں ۔ وہاں کے کالم نگاروں ، صحافیوں ، طلبہ اور سیاستدانوں کو فوکس کرکے ان تک یہ دعوت پہنچائیں ۔ ان میں اپنا لٹریچر تقسیم کریں ۔ اگر اخبارات اور کالم نگار اسے شائع کردیں تو یہ پیغام وہاں کے لاکھوں غیرمسلموں تک پہنچ سکتا ہے اور اگر شائع نہ کریں تو کم از کم ان کی ذہنی آبیاری کا باعث تو بنے گا ۔اور وہ لوگ اسلام کے خلاف زہرالگنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور سوچیں گے ۔ ہمارا یہ عمل مغرب کی سوچ بدلنے میں یقیناً معاون ثابت ہوگا ۔ اگر پھر بھی وہ باز نہ آئیں تو ہم نے حوصلہ نہیں چھوڑنا ، ہمت نہیں ہارنی .... کیونکہ ہم زمین پر اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں اور ہم نے اپنا کام کرنا ہے اور انہوں نے اپنا ۔
آﺅ دوستو اک کام کریں اسوہ محمد عام کریں
جن چراغوں سے ہو روشنی ، ان چراغوں کا اہتمام کریں

http://www.lahoreupdates.com/index.p...57-43&Itemid=7
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com
ALI-OAD آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-02-10), راجہ اکرام (01-03-10), عبداللہ آدم (28-02-10), عبداللہ حیدر (28-02-10)
پرانا 28-02-10, 02:50 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 28-02-10, 08:06 PM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
مگر کسطرح اپلائی کروں
ALI-OAD آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پاکستان, پاکستانی, ڈنمارک, واقعات, وزیراعظم, قرآن, قرآن حکیم, چین, موت, مجید, مسجد, ایٹم بم, امریکہ, احتجاج, بنیاد پرستی, بچوں, جیل, حواری, حدیث, خواتین, دیکھو, راستہ, عقل, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger