| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم!
سنت نبوی صلعم ہمارے لئے مشعل راہ ہے، مکمل تعلیم ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ہم کو طریقہ نماز سکھایا، ایک طریقہ نماز پر کیا موقوف ، اسلام کا ہر کونہ ہم کو نبی اکرم صلعم کی سیرت اور سنت سے ملتاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام نبی اکرم صلعم کو کو اللہ تعالی نے ہی سکھایا اور اس اسلام کی کتاب قرآن کو رسول اکرم پر نازل فرمایا۔ آج نماز نبی اکرم کی سنت جاریہ کے طور پر زمانے میں اور پھر مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں جاری و ساری ہے۔ یہ وہ سنت ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نماز رسول اکرم صلعم کو اور دیگر انبیاء کو اللہ تعالی نے ہی سکھائی۔ طریقہ نماز، قرآن کریم میں اللہ تعالی کیسے تعلیم فرماتا ہے۔ یہاں دیکھئے۔ رسول اکرم کے فرمودات و سنت اس سلسلے میں بہت اچھی طرح ریکارڈ کی گئی ہیں۔ البتہ جب بھی خلاف اسلام لوگ کوئی روایت ایسی پیش کرتے ہیں جس کی قرآن نفی کرتا ہے تو ایسے لوگ پھر ایک جاہلانہ دلیل اٹھاتے ہیں کہ طریقہ نماز قرآن میں تعلیم نہیں ہوا ہے۔ نعوذ باللہ، اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یا تو قرآن درست ہے ورنہ کتب روایات درست ہیں۔ اس طرح یہ لوگ قرآن کو غلط ، کمزور، نامکمل اور حدیث و سنت رسول کا مخالف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ یا تو ان لوگوں کی طرف سے منسوب کی ہوئی روایت کو مان لو ورنہ پھر دیکھ لو کہ قرآن میں تو نماز کا طریقہ بھی نہیں ہے۔ جی؟ ان لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ کان کھول کر سن لیں اور آنکھیں کھول کر دیکھ لیں کہ قرآن نے انبیاء کرام کو نماز پڑھنے کا طریقہ کس طور بتایا اور رسول اکرم کو یہی تعلیم کس قدر دی۔ بقایا تعلیم رسول اکرم نے مسلمین کو خود دی ، اس میں کوئی تفاوت اور مخالفت نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسا اختلاف ہے جو کہ عیسی علیہ السلام کے زندہ اوپر اٹھا جانے میں قرآن اور کتب روایات میں ہے۔ ------------------------------------------------------------------------------------------------- قران کریم طریقہء نماز کیسے تعلیم فرماتا ہے -------------------------------------------------------------------------------- برادران، عموماَ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قرآن میں نماز پڑھنے کا طریقہ کہاں ہے۔ گو کہ تمام قران ہی رسول پر نور کی زبان سے ادا ہوا۔ اور ان کی نماز پڑھنے کی یہ سنت جاریہ تمام مساجد میں عموماَ اور حرم شریف میں ہر روز پانچ بار دیکھی جاسکتی ہے آئیے دیکھتے ہیں کہ نمازیں کتنی ہیں اور پڑھی کیسے جاتی ہے اور نماز میں کیا پڑھا جاتا ہے اور اس " تعدادَ نماز "، " کس طرح " اور " کیا پڑھا جائے " ان تین باتوںکی تعلیم رسول پاک (ص) اور آپ (ص) سے پہلے نبیوں کو اللہ تعالی کی طرف سے کن آیات سے تعلیم ہوئی۔ پھر دیکھتے ہیں کہ نماز کے مزید احکامات کس طرح تعلیم ہوئے۔ جن کی تعلیم رسولِ کریم نے خود اپنی سنت سے عملی طور پر کی اور اس کو سنت جاریہ بنا دیا۔ تعداد نماز اورکس کس وقت: فجر، مغرب اور عشاء کی نماز کا حکم: سورۃ 11 , آیت:114 اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔ نماز فجر اور عشاءکی تعلیم و حکم: سورۃ النور:24 , آیت:58 اے ایمان والو! چاہئے کہ تمہارے زیردست (غلام اور باندیاں) اور تمہارے ہی وہ بچے جو (ابھی) جوان نہیں ہوئے (تمہارے پاس آنے کے لئے) تین مواقع پر تم سے اجازت لیا کریں: (ایک) نمازِ فجر سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لئے) کپڑے اتارتے ہو اور (تیسرے) نمازِ عشاء کے بعد (جب تم خواب گاہوں میں چلے جاتے ہو)، (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے کے ہیں، ان (اوقات) کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، (کیونکہ بقیہ اوقات میں وہ) تمہارے ہاں کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے پانچوں نمازوں کی تعلیم اور حکم،: سورۃ الاسراء / بني اسرآءيل:17 , آیت:78 آپ سورج ڈھلنے(ظہر) سے لے کر رات کی تاریکی تک(مغرب) (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے) ظہر اور عصر کی نماز کی تعلیم اور اسکاحکم: سورۃ الروم:30 , آیت:18 اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت) عصر کی نماز کی تعلیم اور اسکا حکم: سورۃ البقرۃ:2 , آیت:238 سب نمازوں کی محافظت کیا کرو اور بالخصوص درمیانی نماز (عصر ، دو پہلے اور دو بعد)کی، اور اﷲ کے حضور سراپا ادب و نیاز بن کر قیام کیا کرو ا۔ وضو کرنے کا طریقہ: سورۃ المآئدۃ:5 , آیت:6 اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (کا بھی) ٹخنوں سمیت، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ تکبیر کی تعلیم: سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:17 , آیت:111 وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّہ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَّہُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّہُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلَّ وَكَبِّرْۃُ تَكْبِيرًا اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے (اے حبیب!) آپ اسی کو بزرگ تر جان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہئے ( كَبِّرْۃُ تَكْبِيرًا) سورۃ البقرۃ:2 , آیت:185 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو( وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ ) اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ سورۃ الحج:22 , آیت:37 لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اﷲ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اﷲ کی تکبیر لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں سورۃ العنکبوت:29 , آیت:45 اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ وہ کتاب پڑھ کر سنائیے جو آپ کی طرف (بذریعہ) وحی بھیجی گئی ہے، اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور واقعی اﷲ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اﷲ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو نماز زبان سے کیسے ادا کی جائے، اس کی تعلیم: سورۃ الاسراء / بني اسرآءيل:17 , آیت:110 فرما دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیں سورۃ فاتحہ کو دہرانے کی تعلیم: سورۃ الحجر:15 , آیت:87 اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۃ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے سورۃ الحجر:15 , آیت:88 ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور (جملہ کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بڑا بُردبار بڑا بخشنے والا ہے قیام، رکوع اور سجود کی تعلیم: سورۃ البقرۃ:2 , آیت:125 اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے (بیٹھنے)والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو رکوع و سجود کی مزید تعلیم: سورۃ الحج:22 , آیت:77 اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو سورۃ البقرۃ:2 , آیت:43 اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو سورۃ المآئدۃ:5 , آیت:55 بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں سورۃ التوبۃ:9 , آیت:112 (یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے مزید دیکھئے رکوع اور سجود کی تعلیم کی مد میں سورۃ الفتح:48 , آیت:29۔ سورۃ آل عمران:3 , آیت:113 ۔ سورۃ النسآء:4 , آیت:102 ۔ سورۃ الاعراف:7 , آیت:206 ۔ سورۃ الرعد:13 , آیت:15 ۔ سورۃ الحجر:15 , آیت:98 ۔ سورۃ النحل:16 , آیت:49 ۔ سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:17 , آیت:107 ۔ سورۃ مريم:19 , آیت:58 ۔ سورۃ الحج:22 , آیت:18 ۔سورۃ الفرقان:25 , آیت:64 ۔ سورۃ فصلت / حٰم السجدۃ:41 , آیت:37 ۔ سورۃ الفتح:48 , آیت:29 ۔ سورۃ النجم:53 , آیت:62 ۔ سورۃ الانسان / الدھر:76 , آیت:26 ۔ سورۃ العلق:96 , آیت:19 سبحان رب العظیم کی تعلیم: سورۃ الواقعۃ:56 , آیت:74 فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں سبحان رب الاعلی کی تعلیم: سورۃ الاعلیٰ:87 , آیت:1 سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے تشھید کی تعلیم: سورۃ آل عمران:3 , آیت:18 شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِماً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے منافقوںکی شہادت کہ شناخت کی تعلیم: سورۃ المنافقون:63 , آیت:1 إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (اے حبیبِ مکرّم!) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اُس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً منافق لوگ جھوٹے ہیں درود کی تعلیم: سورۃ الاحزاب:33 , آیت:56 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو ان حوالہ جات کو چیک کرلیں، اور قران سے ہدایت حاصل کیجئے۔ اللہ تعالی اور قرآن کہ ہم تک رسول پاک کی زبان اور سنت کے ذریعے پہنچا ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ سورۃ آل عمران:3 , آیت:4 (جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لئے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بیشک جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے سنگین عذاب ہے، اور اﷲ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے -------------------------------------------------------------------------------------------------- سنت رسول، اللہ کی کتاب کی تفصیل ہے تفسیر ہے ، یہ سنت رسول کسی طور بھی قرآن کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ سنت رسول کو قران کے مخالف ثابت کرنا اور اس سے اپنے لئے فائید حاصل کرنا سخت گناہ ہی نہیں قران و سنت دونوں کی تکفیر ہے۔ والسلام،
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 12-10-09 at 01:04 PM. |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-12-10), گلاب خان (02-10-11), نورالدین (30-08-10), ملک بھائی (10-10-09), منتظمین (22-12-09), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (24-01-10), حسنین ایوب (10-10-09), علی....Ali (10-10-09), غیاث (17-12-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 150
کمائي: 2,737
شکریہ: 83
90 مراسلہ میں 249 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سورۃ الاسراء / بني اسرآءيل:17 , آیت:78 آپ سورج ڈھلنے(ظہر) سے لے کر رات کی تاریکی تک(مغرب) (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے
ایسے بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟ سورۃ الاسراء / بني اسرآءيل:17 , آیت:78 آپ سورج ڈھلنے(مٰغرب) سے لے کر رات کی تاریکی(عشا) تک نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے یہ صرف ایک سوال ہے ، ، ، اپ کی بات سے اختلاف نہی ، ، میں نے بریکٹ میں اوقات تبدیل کردے ہیں ، ، ،
__________________
علی (ع) مولا ۔ ۔(خدا کے چار صحیفوں میں، جسے آخری قرآن) ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
سورج سب سے اونچے مقام یعنی میریڈئین ہائیٹس یعنی نصف النہار پر دوپہر کو بہنچتا ہے جو کہ لگ بھک بارہ یا ایک بجے کا وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے سورج ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔ لہذا سورج ڈھلنے کے فوراً بعد کے وقت سے لے کر رات کے تاریک ہوجانے تک کا وقت ظہر کے وقت سے عشا کا وقت ہوا۔ اب اس میںنمازیں کتنی ہوئیں، تو جناب ایک تو ظہر کے وقت(سورج ڈھلنے کے وقت) کی ہوگئی اور ایک عشاء (رات کی تاریکی )کی ہوگئی۔ فجر اور مغرب کی نماز کا فرمان الگ سے فراہم کیا جاچکا ہے۔ اب رہ جاتی ہے بیچ والی نماز یعنی عصر کی ، جس کا فرمان موجود ہے۔ ان چار نمازوں کی موجودگی میں بیچ والی نماز عصر کی نماز بنے گی۔ ان تمام نمازوں کا نہ صرف حکم بلکہ رسول اکرم کو ان نمازوں کی تعلیم بھی ہے۔ امید ہے اس وضاحت سے بات بہتر طور پر سمجھ میںآئی ہوگی۔
والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,043
کمائي: 109,340
شکریہ: 12,446
4,476 مراسلہ میں 15,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
دن کی پانچ نمازیں فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى پس آپ ان کی (دل آزار) باتوں پر صبر فرمایا کریں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کریں طلوعِ آفتاب سے پہلے (نمازِ فجر میں) اور اس کے غروب سے قبل (نمازِ عصر میں)، اور رات کی ابتدائی ساعتوں میں (یعنی مغرب اور عشاء میں) بھی تسبیح کیا کریں اور دن کے کناروں پر بھی (نمازِ ظہر میں جب دن کا نصفِ اوّل ختم اور نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے، (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ آپ راضی ہو جائیں سُورة طهٰ 20 آیت نمبر 130 والسلام
__________________
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (22-12-09), گلاب خان (02-10-11), مرزا عامر (29-08-10), عادل سہیل (25-12-09), غیاث (17-12-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
فاروق سرور صاحب
آپ کی اس تھریڈ سے متعلق بھی سوالات ہیں میرے پاس ، وقت آنے پر پوچھوں گا، شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
اچھا ھوتا اگر آپ قرآن کے ساتھ حدیث بھی فراھم کردیتے،
قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے بیشک، لیکن نماذ کا طریقہ نہیں ھے، اب غور فرمائیں ۔ نماز کی حالت میں کھڑے ہونے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ پیدہ ھوتا ہے کہ نماز میں پہلے کھڑے ہوں؟ یا پہلے رکوع کریں؟ یا پہلے سجدہ کریں؟ پھر کھڑے ہوں تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں یا لٹکا کر؟ ایک پاؤں پر کھڑے ہوں یا دونوں پر؟ لغت میں رکوع کا معنی ہے جھکنا، سوال یہ ہے کہ آگے جھکیں، یا دائیں جھکیں یا بائیں جھکیں؟ پھر جھکنے کی مقدار کیا ہو؟ ذرا سا سر نیچا کریں یا کمر کے برابر نیچا کریں یا اس سے بھی زیادہ نیچا کریں؟ پھر رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں ہوں؟ گھٹنوں پر ٹیکیں؟ یا دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ کر بازوؤں کو ران پر ٹیکیں؟ یا ڈنڈے کی طرح لٹکنے دیں؟ اسی طرح سجدہ کیسے کریں؟ یعنی زمین پر سر کا کون سا حصہ ٹیکیں، پیشانی کا ٹھیک بچلا حصہ یا دایاں کنارہ یا بایاں کنارہ؟ سجدہ کی حالت میں ہاتھ کہاں رکھیں؟ رانوں میں گھسا لیں؟ یا زمین پر ٹیکیں؟ اور اگر زمین پر ٹیکیں تو صرف ہتھیلی زمین پر ٹیکیں یا پوری کہنی زمین پر ٹیکیں؟ سجدہ ایک کریں یا دو کریں؟ ان سب باتوں کا جواب قرآن میں نہیں ھے، ان کا جواب احادیث میں ھے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام نماذ کا طریقہ بتاتی ھے، جب تک قرآن کے ساتھ حدیث کا مطالعہ نہیں کریں گے کچھ سمجھ نہیں آنے والا، اب اگر کوئی بھی عقل مند صرف قرآن سے نماذ سیکھنے کی کوشش کرے اور حدیث کو خاطر میں نہ لائے تو پھر نماز کے نام سے جو عمل سامنے آئے گا وہ نماذ تو نہیں کچھ اور بن جائے گا، اس لئے جب بھی کسی کو نماز کے بارے میں تحقیق کا مشورہ دیا جائے تو قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کا بھی حوالہ دیا جائے تاکہ کسی قسم کا ابہام پیدہ نہ ھو، شکریہ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | گلاب خان (02-10-11), ھارون اعظم (03-09-10), نبیل خان (30-09-11), مرزا عامر (29-08-10), ابو عبداللہ (06-02-11), احمد بلال (24-01-10), راجہ اکرام (27-12-09), عادل سہیل (25-12-09), عبداللہ حیدر (22-12-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,848
کمائي: 70,258
شکریہ: 49,405
9,918 مراسلہ میں 31,322 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمان الرحیم !
چچا فاروق کی اچھی کاوش ہے جس میں انہوں نے بہت محنت کر کے قرآن میں اوقات نماز کے بارے میں ہم کو تعلیم دی۔اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے قرآن میں نماز، نماز کا طریقہ، وضو کے طریقے والا اعتراض میں نے ہی کیا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن وہ بالکل ہی ایک علحدہ سیاق و سباق میں تھا۔اُس کا مطلب ہر گز یہ نہ تھا کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی کمی ہے یا قرآن ہمارے لیےہدایت میں رکاوٹ ہے۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ اس دنیا یا کائنات کی واحد درست کتاب جس میں نہ کوئی کمی ہے نہ بیشی وہ قرآن ہے۔ اور اگر ہمکو ہدایت ملی تو اسی میں سے ملے گی۔ تب بھی میرا ستدلال یہ تھا اور آج بھی یہ ہے کہ قرآن کو رسول کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور اگر سمجھنے کی کوشش کریں گے تو غلطی کا احتمال ہے۔تاہم رسول یعنی سنت رسول صرف وہی تسلیم ہوگی جو قرآن کے مطابق ہوگی۔ وگرنہ نہیں۔ سیکڑوں نہیں لا تعداد ایسے مسائل ہیں جن کے لیے ہمکو قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث یعنی سنت رسول کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ قرآن ہمارے لیے "احکامات کی کتاب" نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔چناچہ یہ ہمکو اکثر ہی مقامات پر محض اشارے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ "سوچو پھر سوچو"۔ چناچہ جہاں پر محض اشارہ ہو وہاں ہم سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔سوچنے کے لیے پہلا قدم سنت رسول ہے کہ اس موقع پر پیارے نبی نے کیا عمل کیا۔ اگر ہم کو کوئی مناسب بات مل جائے جو قرآن سے نہ ٹکراتی ہو تو ہم اسی بات کو مان لیتے ہیں (سوچنے کا دروازہ پھر بھی بند نہیں ہوتا) ورنہ ہم اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔ چناچہ آپ میری بات سے یہ بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ میں ہدایت کا بنیادی ذریعہ محض قرآن کو ہی مان رہا ہوں۔ اگر حق یا غلط کی کوئی کسوٹی ہے تو وہ محض قرآن ہے اور کچھ نہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ قرآن محض اشارے دیتا ہے، گائڈ لائن دیتا ہے اکثر مقامات پر اور ہم کو سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔اسی کو فقہ کہتے ہیں "فتفقہو فی الدین" یعنی پس تم دین میں سوچ سمجھ سے کام لو۔اسی کی بنیاد پر ہماری یعنی اہل سنت کی چار بڑی فقہ جات پیدا ہوئیں۔یعنی حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی۔ ان چاروں فقہ جات میں کوئی بھی اختلاف نہیں سوائے ان باتوں کے کہ جہاں پر قرآن نے محض اشارہ دیا یا خاموش رہا اور حدیث میں بھی کوئی بات نہ مل سکی یا مختلف باتیں ملیں (مختلف باتوں کا ملنا درحقیقت اختلاف نہیں بلکہ امت کے لیے رحمت ہے) امید ہے آپ میرا موقف سمجھ گئے ہوں گے کہ قرآن ہی در اصل حق اور حق کی کسوٹی ہے۔ اس کے جتنی حق یا درست کوئی اور چیز نہیں۔ اس لیے اگر اس میں سے کوئی بات ملے تو سر تسلیم خم کر دو۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ہادی (02-10-11), گلاب خان (02-10-11), ھارون اعظم (03-09-10), نبیل خان (30-09-11), منتظمین (25-12-09), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (24-01-10), راجہ اکرام (27-12-09), طاھر (25-12-09), عادل سہیل (25-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#9 | ||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
ایک بزرگ و محترم نبی اکرم آئے تھے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ جناب کی سنت آج بھی مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ سنت جاریہہے ۔ نماز پڑھنے کے طریقہ کے لئے کسی حدیث کی ضرورت نہیں۔ والسلام۔ |
||||
|
|
|
|
|
#10 | |||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و براکاتہ بھائی بدر الزماں آپ کا بہت ہی شکریہ۔ قرآن اور سنت رسول ۔ دونوں لازم ہیں۔ سنت کی ریکارڈنگ پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو مسئلہ ہے لہذا اس کو قرآن کی مدد سے پرکھنے کا حکم نبی محترم ہی نے عطا فرمایا ہے۔ نماز پڑھنے کی روایات قرآن کے احکامات کے عین مطابق ہیں۔ لہذا اس میں کوئی مسئلہ ہی نہیں کہ ان روایات کو مان لیا جائے۔ آپ نے ایک سوال اور کیا تھا کہ قرآن میں ---- نماز میں قیام -- حکم کہاں ہے؟ اس کی آیات رہ گئی تھی ۔ لیجئے یہ بھی حاضر ہیں۔ 22:26 وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اﷲ (یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر) کی جگہ کا تعین کر دیا (اور انہیں حکم فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو (تعمیر کرنے کے بعد) طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کر نے والوں اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھنا۔ 73:20 إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ (کبھی) دو تہائی شب کے قریب اور (کبھی) نصف شب اور (کبھی) ایک تہائی شب (نماز میں) قیام کرتے ہیں، اور اُن لوگوں کی ایک جماعت (بھی) جو آپ کے ساتھ ہیں (قیام میں شریک ہوتی ہے)، اور اﷲ ہی رات اور دن (کے گھٹنے اور بڑھنے) کا صحیح اندازہ رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز اُس کے اِحاطہ کی طاقت نہیں رکھتے، سو اُس نے تم پر (مشقت میں تخفیف کر کے) معافی دے دی، پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو، وہ جانتا ہے کہ تم میں سے (بعض لوگ) بیمار ہوں گے اور (بعض) دوسرے لوگ زمین میں سفر کریں گے تاکہ اﷲ کا فضل تلاش کریں اور (بعض) دیگر اﷲ کی راہ میں جنگ کریں گے، سو جتنا آسانی سے ہو سکے اُتنا (ہی) پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اﷲ کو قرضِ حسن دیا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اُسے اﷲ کے حضور بہتر اور اَجر میں بزرگ تر پا لوگے، اور اﷲ سے بخشش طلب کرتے رہو، اﷲ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے 39:9 أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُواْ رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ بھلا وہ جو رات کی گھڑیوں میں سجود اور قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں نماز کو قائم یا نماز میں قیام کی کے بارے میں یہ آیت، اللہ کی طرف سے سنت رسول اکرم کا ثبوت بھی ہے۔ یہاں ہم کو قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی مکمل تعلیم، نماز کے اوقات مل گئے۔ اللہ تعالی نے عبادت کے اس طریقہ کو دنیا بھر میں سنت جاریہ بنا دیا تاکہ کسی کو گمراہی نہ ہو۔ اس کی درست تعلیم کے لئے یقینی طور پر سنت رسول کا مطالعہ ضروری ہے ۔ لۃذا یہ کہنا کہ احادیث نبوی کی ضرورت نہیں بالکل غلط ہے۔ احادیث نبوی یعنی سنت رسول ہر مسلمان کی اولین ضرورت ہے۔ اس کے درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ یہ قرآن کے موافق ہو۔ یہ رسول اکرم کی ہی ھدیث مبارک ہے۔ ایک بار پھر سلام اور شکریہ۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-12-09 at 10:52 PM. |
|||||
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,467
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
الحمد للہ ، فاروق سرور صاحب نے یہ تو مان ہی لیا کہ قران اور سنت دونوں لازم ہیں ، لیکن اپنا وہ فلسفہ لیے ہوئے ہیں جس کی تعریف آج تک نہیں بتا سکے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! اور ماشا اللہ قران پاک سے بہت سی آیات ایسی لے آئے جو ان کی قران فہمی کے مطابق نماز سے متعلقہ ہیں ، گو کہ حقیقت یہ نہیں ، بہر حال فاروق صاحب سے ایک سوال ہے کہ ::: """"""" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کب سے نماز پڑھنا شروع فرمائی تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ """""" و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (15-12-10), sahj (26-12-09), کنعان (26-12-09), مباح (04-01-10), مرزا عامر (29-08-10), ابو عبداللہ (06-02-11), احمد بلال (24-01-10), حیدر (27-12-09), راجہ اکرام (27-12-09), ضِرار Derar (04-10-10), طارق راحیل (05-02-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عبداللہ حیدر (25-12-09) |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (26-12-09), ھارون اعظم (03-09-10), مباح (04-01-10), مرزا عامر (29-08-10), ابو عبداللہ (06-02-11), احمد بلال (24-01-10), حیدر (27-12-09), راجہ اکرام (27-12-09), عادل سہیل (26-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#13 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (26-12-09), کنعان (26-12-09), ابو عبداللہ (06-02-11), راجہ اکرام (27-12-09), ضِرار Derar (04-10-10) |
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,043
کمائي: 109,340
شکریہ: 12,446
4,476 مراسلہ میں 15,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم جناب من
آپ نے طریقہ نماز نہیں بتایا بس قرآنی آیات نقل کر کے دکھا دی ہیں اگر مناسب سمجھیں تو مکمل طور پر طریقہ نماز بتا دیں جو قرآن میں ھے تاکہ کچھ رہنمائی ہو سکے نمازیں 5 ہیں اور ہر نماز کے کتنے رکوع و سجود ہوتے ہیں جو آپ نے قرآن مجید سے نماز پر آیات کی نشاندہی کی ھے ان قرآنی آیات کو نماز میں کیسے جوڑنا ھے ، نماز شروع کرنے سے پہلے تکبیر پڑھنی ھے کہ نہیں، کھڑے ہو کر ان قرآنی آیات کو کیسے پڑھنا ھے قیام میں بیٹھ کر کیا پڑھنا ھے، سلام بھی پھیرنا ھے کہ نہیں، اگر نماز پڑھنے کے دوران کوئی غلطی ہو جائے تو کیا کرنا ھے دوبارہ نماز پڑھنی ھے یا اسی میں اپنی غلطی کو درست کرنے پر کوئی عمل کرنا ھے، امرجینسی میں اگر مسجد میں لیٹ پہنچو تو کیا کرنا ھے نماز کے ساتھ ملنا بھی ھے یا اس پر بھی کوئی طریقہ ھے وغیرہ وغیرہ امید کرتا ہوں آپ کو نماز کا مکمل طریقہ بتانے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی شکریہ والسلام |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (02-09-10), sahj (26-12-09), فاروق سرورخان (27-12-09), مرزا عامر (29-08-10), ابو عبداللہ (06-02-11), حیدر (27-12-09), راجہ اکرام (27-12-09), ضِرار Derar (04-10-10), طاھر (26-12-09), طارق راحیل (05-02-10), عادل سہیل (26-12-09), عبداللہ آدم (29-08-10), عبداللہ حیدر (26-12-09) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,467
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت خوب بھتیجے ، تیل دیکھ اور تیل کی دھار دیکھ ، ![]() ![]() و السلام علیکم۔
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (29-12-09), کنعان (26-12-09), مرزا عامر (29-08-10), حیدر (27-12-09), راجہ اکرام (27-12-09), ضِرار Derar (04-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عبداللہ حیدر (26-12-09) |
![]() |
| Tags |
| پاک, قرآن, قران, لوگ, نماز, مکمل, مسجد, مسجد نبوی, مشعل, ایمان, اللہ, اسلام, تعلیم, حکم, حدیث, خون, خلاف, دوست, روزہ, رات, راستہ, سفر, سودا, شناخت, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 8 | 08-08-10 03:46 PM |
| ورڈ پریس۔پی کے کےمتعلق ایک وضاحت درکار ہے؟ | چاچا کمال | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 3 | 24-01-09 01:48 PM |
| ایس۔ایس۔جی اور این۔ایس۔ایس۔جی پاکستانی کمانڈوز | عرفان حیدر | میرا پاکستان | 0 | 06-02-08 04:31 PM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 11:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |