واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


قدرت کی سزائیں بھی کیا عجب ہوتی ہیں؟عرفان صدیقی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-03-10, 08:58 PM   #1
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قدرت کی سزائیں بھی کیا عجب ہوتی ہیں؟عرفان صدیقی

قدرت کی سزائیں بھی کیا عجب ہوتی ہیں؟عرفان صدیقی

شہنشاہ عالم پناہ کا لشکر جرار ”فاتحانہ عزم“ سے سرشار ، افغانستان کے جنوبی صوبے ۔ ہیلمند پر یلغار کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ اور میں سوچ رہا ہوں!
میں سوچ رہا ہوں کہ قدرت کی سزائیں بھی کیا عجب ہوتی ہیں۔ اپنے حجم سے کہیں زیادہ پھول جانے والی قوتیں اپنے تئیں دنیا کو تسخیر اور قوموں کو بے توقیر کرنے میں لگی ہوتی ہیں۔ اور انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ دراصل وہ اپنی بستیوں کی جڑوں میں بارود بو رہی ہیں اور ان کی اپنی قوم عذاب کے کوہ گراں تلے کچلی جانے کو ہے۔
یہ کوئی دو سال پہلے کا ذکر ہے ۔ سینیٹر بارک اوباما صدارتی انتخابی مہم پہ تھے۔ 21فروری 2008ء کو ”تبدیلی “ کا نعرہ لگانے والے پرعزم سیینٹر نے پرجوش امریکیوں کے ایک بے تاب ہجوم کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا ۔” میں ساری دنیا سے جنگوں کا خاتمہ چاہتا ہوں ۔ خوف کے زیر اثر پالیسیاں بنانا حکومتوں کے لئے کوئی اچھا مشورہ نہیں ہوتا۔ میں زخموں سے چور امریکی فوجیوں کو وطن واپس آتے دیکھ کر تھک گیا ہوں۔ وہ جو نفسیاتی طور پر بھی زخم خوردہ ہیں اور جسمانی طور پر بھی۔ سب پر واضح ہو جانا چاہئے کہ ہم اربوں ڈالر پھونک کر دنیا کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ “
بارک حسین اوباما کو امریکی صدارت پر فائز ہوئے اور تبدیلی کے سفر شوق کا آغاز کئے اب دوسرا سال جا رہا ہے۔ اس دوران اسکے فراخ سینے پر امن، کے نوبل پرائز کا تمغہ بھی سج چکا ہے۔ لیکن جنگ جاری ہے۔ امریکی پرچموں میں لپٹے آبنوسی تابوتوں میں بند کٹی پھٹی لاشیں امریکی ہوائی اڈوں پر اتر رہی ہیں۔ نفسیاتی اور جسمانی زخموں سے چور فوجیوں کے قافلے تھمنے میں نہیں آ رہے ۔ بے مقصد جنگ کے ہیجان سے اکتائے گورے خودکشیاں کر رہے ہیں اور ”تبدیلی“ کا کبوتر ابھی تک قصر سفید کی منڈیروں پر نہیں اترا۔
اوباما نے ”تبدیلی“ کا آغاز، تیس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کے اعلان سے کیا۔ ان کے لئے 33ارب ڈالر کا اضافی بجٹ منظور کیا گیا۔ اب طے پایا کہ ہیلمند پر ایک بڑی اور فیصلہ کن یلغار کی جائے۔ اس یلغار کو ”مشترک“ کا نام دیا گیا ہے جانے اس ”اشتراک “میں ہمارا کتنا حصہ ہے۔؟امریکی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ویت نام کے کم و بیش چالیس برس بعد اس پائے کی فوجی مہم کا پلان بنایا گیا ہے۔1991ء کی جنگ خلیج کے بعد پہلی بار زبردست فضائی قوت استعمال کی جا رہی ہے۔ امریکی کمانڈر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ۔“ ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ ”آپریشن مشترک“ میں کتنے طالبان ہلاک ہوتے ہیں “ رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے۔ ہیلمند کو طالبان کا مضبوط گڑھ نہیں رہنے دیا جائے گا تاکہ افغان فوج موثر کنٹرول سنبھال سکے “۔
شدید سردی، برف باری اور بارش کے اس موسم میں ہزاروں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ان نہتے اور بے سرو ساماں لوگوں پر کیا گزرے گی ؟ انہیں کہاں پناہ ملے گی ؟ یخ بستہ ہوائیں اور بھوک ان کے کتنے معصوم بچوں کو نگل جائے گی ؟ انسانی حقوق کے پرچم بردار شہنشاہ عالم پناہ کو ان سوالوں سے کوئی غرض نہیں۔ افغانستان پر حملہ کئے اسے نواں سال جا رہا ہے۔ 43کے لگ بھگ دوسرے ممالک کی افواج قاہرہ، امریکہ کے پہلو بہ پہلو نبرد آزما رہی ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی ، ہلاکت آفریں اسلحہ، ہر نوع کا سازو سامان جنگ، طرح طرح کے بمبار طیارے، گن شپ ہیلی کاپٹرز ، خونخوار میزائل، بکتر بند گاڑیوں جیسے زرہ پوش فوجی اور مقابلہ کس سے ہے؟ وہ آتش بجال ،جن کے پاس ، جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں ۔زمین ان کیلئے تنگ کردی گئی ہے اور انکی نگاہیں صرف آسمان کی طرف اٹھی ہیں، نو برس ہوئے اور شہنشاہ عالم پناہ کا لشکر جرار کوئی مورچہ سر نہیں کر پایا۔
قدرت کی سزائیں عجب ہوتی ہیں۔ بڑی بڑی دانش گاہوں، عظیم الشان تھنک ٹینکس اور عالی دماغ کے مفکرین کے باوجود امریکہ کو اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ وہ دراصل اپنی بستیوں کو غارت کر رہا ہے۔ اور اپنے عوام کے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔ اس کا دفاعی (جنگی) بجٹ، ایک ٹریلین ڈالر( دس کھرب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔ معروف جاپانی اخبار ”ٹورنٹو سن“ کے تجزیہ کار ایریک مارگولس(Aric Margolis)کا کہنا ہے کہ ”روم کی تعمیر سے لے کر اب تک ،2738سالوں میں ، ہر روز (جی ہاں ! ہر روز) دس لاکھ ڈالر خرچ کئے جائیں تو ایک ٹریلین بنتے ہیں۔ ” یہ ساری دنیا کے دفاعی اخراجات کا پچاس فیصد ہے۔ چین اور روس کا مجموعی دفاعی بجٹ ، امریکی دفاعی بجٹ کا صرف دس فیصد ہے۔ دنیا کے پچاس ممالک میں امریکہ نے 750 فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ اس کی ڈھائی لاکھ سے زائد فوج بیرون ملک تعینات ہے۔ اس کی آمدنی اور اخراجات کا فرق یعنی بجٹ خسارہ ،ڈیڑھ کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے قرضوں کا بوجھ12ٹریلین( 120کھرب ) کو چھو رہا ہے۔ ہر امریکی شہری چالیس ہزار ڈالر سے زائد کا مقروض ہے۔پچھلے ڈھائی برس سے امریکہ پر قرضوں کے بوجھ میں3.88ارب ڈالر روزانہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ 2008ء میں452ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کرنا پڑے۔ کبھی امریکہ چین کو آنکھیں دکھاتا تھا۔ آج اسے چین کو 798ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جاری رہی تو اگلے عشرے میں امریکی بجٹ کا خسارہ 9.1ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا ۔ روزگار سے محروم امریکیوں کی تعداد2کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بنکوں اور مالیاتی اداروں کو آکسیجن کے ذریعے زندہ رکھا جا رہا ہے۔ ترقیاتی پروگرام تعطل کا شکار ہیں۔ صحت کی سہولتوں کا پروگرام منجمد پڑا ہے۔ تعلیم کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے اور سارا زور جنگ آزمائی پر مرکوز ہو چکا ہے۔
قدرت کی سزائیں عجیب ہوتی ہیں۔ کیا یہ سزا نہیں کہ بیکراں وسائل، 32کروڑ کی افرادی قوت، اعلیٰ تعلیم ،سے آراستہ اور سائنسی ترقی کی معراج تک پہنچا ملک ،مستقیم راہوں کو چھوڑ کر سیاہ کاری کے ان دلدلی جنگلوں کی طرف نکل کھڑا ہوا ہے جہاں سے کوئی سلامت نہیں لوٹتا، طاقت ، برتری، بالا دستی، اور رعونت کا جنوں ایک قوم کے وسائل کو کس بری طرح چاٹ رہا ہے؟ دس کھرب ڈالر سالانہ سازو سامان جنگ، ہوس ملک گیری، اور قوموں کو غلام بنانے پر خرچ کرنے والوں کی دانش پر کیسی مہر لگا دی گئی ہے۔ کہ وہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے آج کے امریکہ کو کل کا افغانستان بنانے کے درپے ہیں۔ اگر دس کھرب ڈالر میں سے صرف ایک کھرب ڈالر بھوک، افلاس، تعلیم و صحت سے محروم مفلوک الحال قوموں پر خرچ کر دیئے جائیں تو امریکہ کا چہرہ کس قدر اجلا ہو جائے گا ۔،عالمی رائے عامہ کتنی بدل جائے گی اور نفرتیں کس طرح تحلیل ہو جائیں گی ۔ لیکن شاید یہ اسے منظور نہیں جو عزتوں اور ذلتوں کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔شہنشاہ عالم پناہ کا لشکر جرار ، ہیلمند پر یلغار کے لئے تیار کھڑا ہے۔ اور قدرت دریائے اوغنداب کے کنارے ،انگور کی بیلوں کے جھنڈ میں چھپی مسکرا رہی ہے۔ میں یہاں اسلام آباد میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ قدرت کی سزائیں بھی کیا عجیب ہوتی ہیں، خود سر قوتوں کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ ہیلمند کو فتح کرنے نہیں ، اپنی بستیوں کی جڑوں میں بارود بھرنے اور اپنی قوم کو عذاب کے کوہ گراں تلے کچلنے جا رہی ہیں۔
بشکریہ جنگ

قدرت کی سزائیں بھی کیا عجب ہوتی ہیں؟عرفان صدیقی
__________________
www.islamhouse.com www.urduvb.com www.kitabosunnat.com
ALI-OAD آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
asakpke (26-03-11), dxbgraphics (26-03-11), M A Ansari (26-03-11), shafresha (26-03-11), ننھا بچہ (25-03-11), ملک بھائی (06-03-10), ایکسٹو (25-03-11), ابو عمار (04-03-10), سیفی خان (26-03-11), عامرشہزاد (04-03-10), عبداللہ آدم (26-03-11), عبداللہ حیدر (03-03-10)
پرانا 03-03-10, 11:20 PM   #2
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عرفان صاحب کبھی کبھی اپنے پرانے رنگ میں لکھتے ہیں لیکن کمال کر دیتے ہیں۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (26-03-11), shafresha (27-03-11), عبداللہ حیدر (03-03-10)
پرانا 04-03-10, 01:07 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عرفان بھائی بہت خوبصوعت تحریر ہے
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-03-11)
پرانا 25-03-11, 09:33 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,165
کمائي: 10,191
شکریہ: 2,975
648 مراسلہ میں 1,013 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

--------------------------------------

Moderated Message:
rana ammar mazhar سپمنگ سے گریز کریں
اسے وارننگ سمجھیں ۔

Last edited by فیصل ناصر; 25-03-11 at 09:42 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-03-11, 08:15 PM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,381
کمائي: 42,318
شکریہ: 3,707
2,303 مراسلہ میں 5,737 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عرفان بھائی خدا آپ کو خوش رکھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سیفی خان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-03-11)
پرانا 26-03-11, 11:39 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 431
کمائي: 7,177
شکریہ: 88
320 مراسلہ میں 787 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت جاندار تحریر ہے بھائی ہلا کے رکھ دیا اللہ آپ کو خوش رکھے
M A Ansari آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-03-11)
جواب

Tags
com, php, پھول, لوگ, چین, چور, مقابلہ, معراج, آج, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, بچوں, تعلیم, جواب, سفر, سال, طالبان, عالم, صوبے, صورتحال, صحت, صدیقی, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شادی کا پیغام دینے والے میں اسے کوئي رغبت محسوس نہیں ہوتی کیا پھر بھی اسے قبول کرلے عبداللہ حیدر ازدواجی زندگی 2 04-03-11 09:05 PM
بارش بھی اللہ کی رحمت ہوتی ہے(مکہ المكرمه) یاسر عمران مرزا دیس ہوئے پردیس 3 02-01-11 02:55 PM
بعض عناصر حکومت اور پی پی کی دشمنی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ سزا عوام کو ملے ، گیلانی جاویداسد خبریں 0 27-08-10 11:56 AM
میرے گھر میں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ھارون اعظم خبریں 5 18-04-10 08:59 PM
قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے خرم شہزاد خرم آئیں شاعری سیکھیں 0 22-09-07 11:47 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger