| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم!قارئین محترم ایک طویل عرصہ سے اس تحریر کو لکھنا چاہ رہا تھا مگر ناگریز وجوہات کی بناء پر لکھ نہ سکا آج لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں صاحب علم حضرات سے التجا ہے کہ میری راہنمائی فرمائی جائے اور منتظمین سے درخواست ہے کہ اگر تحریر میں کوئی لفظ قوانین کی رہ سے مناسب نہ ہے تو نشاندہی کریں آپ سب کے تعاون کا طلبگار سید انجم شاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ جس سکول ،جس ادارے ،جس دفتر چلے جائیں ،اسمبلی ہال ہو یا گورنر ہائوس،مختصر یہ کہ ہر دفتر میں آپ کو قائد اعظم کی تصویر ہمیشہ نظر آئے گی کہیں یہ تصویر مسکراتی وہئی نظر آتی ہے تو کہیں یہ ہی تصویر درد و غم کے عالم میں اور کہیں گم صم سی نظر آتی ہے مسکراتی ہوئی تصویر اصل میں طنز ہے جو پورے پاکستان پر ہے اسکے باسیوں پر ہے ارباب اختیار پر ہے انکے چہرے کا کرب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ملک آج کن ہاتھوں میں ہے کبھی اس تصویر کو ذرا قریب سے دیکھیئے گا یہ آپ کو بولتی ہوئی نظر آئے گی یہ ہم سے پوچھتی ہے کہ ہم سے سوال کرتی ہے کیا ہم اس کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں؟ کیا وہ مقاصد جنکو پورا کرنے کےلئے پاکستان بنایا گیا تھا پورے ہو چکے ہیں؟ کیا وہ قواعد و ضوابط جو پاکستان کےلئے بنائے گئے تھے عملی طور پر ہمیں کہیں نظر آتے ہیں؟ وہ مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے انہیں کیوں نہ حاصل کر سکے؟ ہم اپنی راہوں سے کیوں بھٹک گئے؟ ہم قائد کے پیغام کو کیوں بھول گئے؟ ہم نے قائد کی باتوں پر عمل کیوں نہ کیا؟ یہ وہی ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن یہاں اسلام قانون نافذ ہے؟ کیا یہاں ہر کام اسلام کے مطابق ہو رہا ہے؟ یہاں ظلم تو نہیں ہو رہا؟ کیا یہاں بیوائوں اور یتیموں کا حق ادا کیا جا رہا ہے؟ کیا یہاں مجرم کو قانون کے مطابق سزا مل رہی ہے؟ کیا یہاں انصاف دکانوں پر بک تو نہیں رہا؟ کیا یہاں اپنوں کو نوازنے کاکام جاری ہے؟ یہاں انصاف کی کس طرح تزلیل کی جارہی ہے؟ اگر ہم ان تمام سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کریں تو ہم سے انکا تسلی بخش جواب نہیں دیا جا سکے گا ہم سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ معاشرہ اب تک قائم کیسے ہے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کی بنیاد پر نہیں حیران کرنے والی بات ہے کہ یہ معاشرہ پوری آب و تاب کے ساتھ ظلم کی بنیاد پر قائم ہے کیا ہم آنے والی نسل کو اس پس منظر سے آگاہ کر رہے ہیں ؟ یا ہم خود بھی اس پس منظر کو بھول چکے ہیں جو پاکستان بنانے کا باعث بنا،؟ جو چیز انسان کو بنی بنائی مل جائے انسان کی فطرت ہے کہ اس کی قدر نہیں کرتا شاید اس لئے ہمیں بھی پاکستان کی قدر نہیں ہے اگر ہمیں پاکستان کی قدر ہوتی تو آج اسکا یہ حشر نہ ہوتا آج یہاں پر تخریب کاری نہ ہوتی ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس باہر سے نہ آتیں انصاف کا اس طرح خون نہ ہوتا عدل صرف کتابوں میں نظر نہآتا اسکی کوئی عملی صورت بھی نظر آتی(تاہم کافی حد تک انصاف کی فراہمی کویقینی بنایا جا رہا ہے) لوگ امن و سکون سے رہتے یہ بدامنی ہمیں کہیں نظر نہآتی ہم کسی کے سر سے دوپٹہ کھینچنے والے ہاتھ کو کٹوا دیتے کاش! کاش! ہمیں آزادی کی قدر کرنا آجائے کیونکہ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتی انکے گلے میں غلامی کا طق پہنا دیا جاتا ہے وہ قوم ذلیل و خوار ہو جاتی ہے تباہی و بربادی اس کا مقدر بن کہ رہ جاتی ہے تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس نے اسکی پرواہ نہیں کی اسکا نام تک مٹ گیا کیا قائد کی روح تڑپتی ہوگی؟ کیا اقبال کی روح خون کے آنسو روتی ہو گی؟ ہم کب تک اپنے آپ کو اور ان مقدس روحوں کو دھوکا دیں گے؟ ہم اور کتنی ٹھوکریں کھائیں گے؟ ہم اتنے بے حس کیوں ہو چکے ہیں؟ ہمارے سینے علم کے نور سے خالی کیوں ہوتے جارہے ہیں؟ ہماری آنکھوں سے چمک کیوں غائب ہوتی جا رہی ہے؟ کیا ہم زندہ بھی ہیں یا بدتر ہیں مردوں سےِ؟ ہمارے اندر سے عمل کی قوت کیوں چھن چکی ہے؟ ہم بے عملی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہے؟ِ آج ہمارے ہاں خالد بن ولید اور محمد بن قاسم پیدا کیوں نہیں ہو رہے؟ اس لئے کہ ہمارے اندر سے وہ تربیت ختم ہو چکی ہے ہماری سوچیں سطحی ہو چکی ہیں ہمارے اندر سے اسلام کردار کی جھلک مٹتی جا رہی ہے ہمارے عقائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں پاکستان کو اس حالت میں دیکھ کو ہم قائد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کو جواب دے سکتے ہیں؟؟ کیا ہمیں حق ہے کہ ان ہستیوں کی تصویریں ہر جگہ لگائیں؟ ہم ان تصویروں کی کیا عزت کرتے ہیں؟ اس تصویر کے سامنے رشوت بھی لی جاتی ہے منافقت بھی کی جاتی ہے ملک توڑنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں عدل و انصاف کی دھجیاں بھکیری جاتی ہیں انصاف دولت کے ترازو میں تولا جاتا ہے آخر یہ کیوں ہو رہا ہے اور یہ کب تک ہوتا رہے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آج ہم اپنے فرائض منصبی بہتر طرح سے سر انجام دیں تو ہوسکتا ہے آنے والی نسلوں تک کوئی نہ کوئی بہتری ممکن ہو جائے آج سب واقف ہیں کہ روشنیوں کا شہر کراچی خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہے آخر کیوں ؟ کراچی شہر کے مکینوں پر اللہ رحم کرے آمین ثم آمین انصاف کو عدلیہ والا انصاف نہ سمجھا جائے انصاف فراہم کرنے کےلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں میرا انصاف سے عدلیہ مقصد نہ ہے اللہ ہم پر اپنا کرم کرے اور ہم کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق فرمائے Last edited by ایس اے نقوی; 30-04-09 at 08:22 PM. |
|
|
|
| 18 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (30-04-09), shafresha (30-04-09), فیصل ناصر (30-04-09), پاکستانی (30-04-09), منتظمین (30-04-09), محمدخلیل (30-04-09), wajee (30-04-09), yashaka (05-05-09), ایم آصف (09-02-12), ام طلحہ (18-06-09), ابو عمار (30-04-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-04-09), خرم شہزاد خرم (01-05-09), راجہ اکرام (01-05-09), رضی (01-05-09), سفر زندگی کا (31-12-09), سیپ (30-04-09), طارق راحیل (06-08-09) |
| کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 06-08-09 | رضی | قاعد اعظم اور انکی تصویر | 150 |
| 01-05-09 | خرم شہزاد خرم | جزاک اللہ بہت خوب جناب | 100 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
شاہ جی اتنی میٹھی زبان سے اتنی کڑوی باتیں!
کیا آپ کو ان باتوں کو سننے والے کڑوے کان بھی مل جائیں گے؟ شئیرنگ کا شکریہ! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اپنے اندر کا چول نکالا ہے یعنی اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے آپ کا شکریہ منتظمین آپ نے تحریر کو پڑھ لیا ہو گا واضح کر دیں کوئی قوانین سے ہٹ کر الفاظ کا استعمال تو نہیں ہوا جواب کا منتظر خادم اعلی Last edited by ایس اے نقوی; 30-04-09 at 06:25 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 8,547
کمائي: 934,143
شکریہ: 4,411
5,329 مراسلہ میں 13,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ![]() ![]() ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھ میں قلم اور پائوں میں زنجیریں ہیں
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
انجم صاحب بہت ہی زبردست اندازمیں اپنا مقصد عوام کی نظر کیا ہے ،، فکر انگیز اور موثر اور دلکش انداز
امید ہے ہمیں اپنی تازہ ترین تحریروں کے لئے صفِ اول میں شمار رکھیں گے التماس دُعا حجت
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (30-04-09) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اس تحریر کے لکھنے کے بعد میں نے فیصل ناصر کی تحریر ”بےشرم حکمران اور بے شرم عوام پڑھی جس میں انہوں نے بہت واضح انداز میں حقائق بتا دیئے ہیں فیصل ناصر کی تحریر پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ابھی میں اس قابل نہین ہو سکا کہ اچھی تحریر لکھ سکوں فیصل ناصر کی تحریر اور میری تحریر میں کافی کچھ مشترک ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فیصل نے بھی دل کی بھڑاس نکالی ہے آپ کا بہت شکریہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,622
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی آپ تو بہت ہی عمدہ لکھتے ہو آپ اپنی کوئی کتاب بھی بنائیں یا چھاپے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (30-04-09), رضی (06-08-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (01-05-09), سفر زندگی کا (31-12-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے شاہ جی
آپ کی محبتیں ہیں میں تو بھائی لکھنا جانتا ہی نہیںصرف پڑھنے کا شوقین ہوں مذکورہ مراسلہ میرا نہیں ہے صفدر ھمدانی صاحب کے ایک کالم سے اقتباس نکالا ہے آپ کی دعا ہو گی تو کچھ نا کچھ لکھ ہی لونگا آپ اور شافرشہ کا شمار لکھاریوںمیں ہوتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (01-05-09), رضی (06-08-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
فیصل جی بخوبی جانتا ہوں کہ وہ تحریر ہمدانی صاحب کی تھی مگر پاک نیٹ پر پیش تو آپ نے کی وہ تحریر یہاں پر آپ کی وجہ سے پہچانی گئی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ میں لکھنا نہیں جانتا بس کبھی کبھی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں اکثر اوقات ناکامی دیکھنا پڑتی ہے آپ کا شکریہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اثر انگیز تحریر لکھی ہے لیکن یہ مت بھولیں کہ آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ہمارا ہی پیدا کردہ ہے۔ حکمرانوں کو الزام مت دیں خود اپنے گریبان میں جھانکیں۔ میری تحریر ذلت اور رسوائی یہاں شائع ہوئی ہے اسے پڑھیں گے تو اپنے آپ پر ندامت محسوس ہوگی۔
یہ لنک ملاحظہ فرمائیں ذلت اور رسوائی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | فرحان دانش (27-12-09), رضی (06-08-09) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مگر میں نے تحریر میں لکھا ہوا ہے کہ ”کاش! ہمیں آزادی کی قدر کرنا آجائے کیونکہ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتی انکے گلے میں غلامی کا طق پہنا دیا جاتا ہے وہ قوم ذلیل و خوار ہو جاتی ہے تباہی و بربادی اس کا مقدر بن کہ رہ جاتی ہے تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس نے اسکی پرواہ نہیں کی اسکا نام تک مٹ گیا “ حکمرانوں کو مورود الزام ضرور ٹھہرایا ہے مگر ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ کاش ہمیں آزادی کی قدر کرنا آجائے اور پڑھ لیں آپ کی تنقید پڑھ کو بہت زیادہ خوشی ہوئی اور میں اس تحریر میں تنقید کرنے والے ممبران کو زیادہ پسند کروں گا کیونکہ انکو تنقید کرتے وقت محسوس ہو گا کہ وہ خود کیا ہیں اور کیا وہ خود کو پاکستانی کہلانے کے لائق ہیں غصہ نہ کیجئے گا آپ کا شکریہ مزید تبصرہ ضرور کریں |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | رضی (06-08-09), سفر زندگی کا (31-12-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آزادی کی قدر باشعور قومیں کرتی ہیں۔ ہم میںپہلے شعور تو آئے
انگریز آپ پر مسلط تھے۔ اب انگریز نما لوگ آپ اپنے آپ پر خود ہی مسلط کرتے ہیں۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (30-04-09), رضی (06-08-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انجم جی آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے لیکن یہ جو ہم لکھتے ہیں صرف اور صرف اپنی ذات کو تسلی دینے کے لیے ۔اس لیے کے خود سے سوال جواب کر کر کے تھک گیے ہیں ۔ کب سے ملک کے حالات خراب ہیں ہر صبح اس امید اور آس پر کہ آج کا دن شاہد کل سے اچھا ہو ۔لیکن بے کار ہر کوئی دوسرے کو دیکھتا ہے وہ کرئے جب اپنا پیٹ بھرا ہو تو کوئی بھوکا نظر نہیں آتا ۔ قاہد نے بھی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے خواب کو پورا کیا لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایک وقت آئے گا مسلمان ہو کر ایک دوسرے کو موت کی وادی میں سلا دیا جائے گا ورنہ کافروں کے ساتھ ہی رہ لیتے اس بات کا دکھ تو نا ہوتا ۔ کہ مسلمان ، مسلمان کو مار رہا ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کراچی, گمان, پہچان, پاکستان, لوگ, نظر, موت, محبت, آج, اللہ, الزام, بھائی, تحریر, جھوٹ, جواب, جلد, دُعا, دل, درخواست, دعا, زرداری, سوال جواب, صفدر, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اپنی تصویر کو کسی بھی تصویر میں ایڈ کریں | زارا | سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست | 11 | 03-05-11 08:59 PM |
| تصویر | فیصل ناصر | گپ شپ | 16 | 13-04-09 08:28 PM |
| ایک تصویرجوآپکوگھما دےگی۔ | arslansun | دلچسپ اور عجیب | 0 | 03-02-09 03:10 PM |
| لاہور دھماکے کی تصویر | ابن جلال | خبریں | 10 | 09-10-08 02:02 PM |