| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,551
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے ۔ حدیث تو ہم نے بھی سن رکھی تھی مگر کبھی بچپن میں اس کے اصل مفہوم سے آگاہی نہیں ہو پائی ۔ پانچویں جماعت میں تھے تو اچانک ایک خیال روشن دماغ کی زینت بنا ۔ پائلٹ بننا اچھا رہے گا ۔تو بس پھر کیا تھا ۔ ہر ٹیچر سے کہتے کہ ہم تو پائلٹ ہی بنیں گے ۔ والد صاحب نے حسن ابدال جانے کی اجازت نہیں دی کہ ابھی چھوٹے ہیں سنبھال نہیں پائیں گے خود کو ۔ جماعت ہشتم تک انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے کہ کب پائلٹ بنیں اور جہاز اڑائیں ۔ انگلش میڈیم سکولوں کے فارغ التحصیل شہریوں کے لئے بتانا ضروری ہے کہ جماعت ہشتم سے مراد آٹھویں جماعت ہے ۔ کے جی ون ٹو تھری بنچ کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے کے بعد ہائی سکول میں جماعت ششم یعنی چھٹی میں داخلہ لیا۔ تو ٹاٹ کی دھول سے پہلی بار بڑے بھائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شناسائی کا موقع ملا ۔ مخلوط تعلیم لیڈی ٹیچرز کے بعد اچانک ہڈبونگ مچاتی کلاس اور قہر برساتا مولا بخش کبھی کبھار خاموش بھی ہو جاتا۔ مگر دھول ہوا میں ہی محو رقص پرواز رہتی ۔ اور ہمارے گھر پہنچنے پر ہی آرام گاہ میں اترتی ۔ لیکن ہمیں تو صرف انتظار تھا کہ ششم سے ہفتم اورپھر ہشتم ۔ مگر بعض اوقات تقدیر ہمارے لئے کچھ اور ہی ترتیب رکھتی ہے ۔ میرے ہاتھوں میں جماعت دہم میں پڑھتا میرا بڑا بھائی ٹی وی سے کرنٹ پڑنے سے جانبر نہ ہو سکا ۔ والد صاحب ٹوٹ کر رہ گئے ۔ والدہ ماجدہ کی آنکھیں بیٹے کی جدائی میں آنسوؤں کی ہی سہیلی بن کر رہ گئی ۔ بھائی جو دوست بھی تھا ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ وہ کبوتر پالنے کا بہت شوقین تھا ۔ بچپن میں بیماری سے بڑی مشکل سے صحتیاب ہواتھا ۔ اس لئے تمام کاموں کی اسے چھوٹ تھی اور مجھے نہیں ۔ کیونکہ اب یہ خیال کیا جا رہا تھا ۔ کہ بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بننے کی اہلیت ثابت کرے گا ۔ اور جو بھائی انجئینر بن چکا تھا ۔ میرے چال چلن ان سے ملتے جلتے تھے ۔ میرے ڈاکٹر بننے کی شائد انہیں خواہش اس لئے تھی کہ وہ بڑھاپے میں داخل ہورہے تھے ۔ جب میں پیدا ہوا تو والد صاحب باونویں سال میں تھے ۔ اور والدہ انتالیسویں سال میں ۔ بڑے تمام بھائی روزگار کے سلسلہ میں گھر سے دور اندرون و بیرون ملک جا چکے تھے ۔ اب تو میری زندگی میں جو بھی تعلیم کا میدان تھا وہ شہر لاہور ہی تھا ۔ گھر میں نماز تسبیع میں مشغول میری ماں اور عدالتوں میں پیشی پر آنے والوں کی فائلوں سے رات گئے دیر تک اگلے روز عدالت میں مخالف فریق سے بحث کے لئے تیاری میں مصروف رہتے میرے والد ماجد ۔
دبلا پتلا تو میں بچپن ہی سے تھا ۔ مگر کھلے ڈیل ڈول کے بڑے بھائی کی وجہ سے میں بھی چوڑا رہتا ۔ اس کے غم میں پہلے سے بھی کمزور ہو گیا ۔ اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ۔ حیران ہونے والی بات نہیں ۔ جہاں ہم رہتے ہیں یہ کسی جنگل سے کم نہیں ہے ۔ طاقتور سے خوف اور کمزور پہ زور کے فارمولے پر عمل پیرا رہتی ہے ۔ پانی کا بہاؤ نیچے کی طرف ہی ہوتا ہے ۔ قوت کا اندازہ ضرب سے نہیں لوہا کے ٹھنڈا گرم ہونے پر ہوتا ہے ۔ زمانہ انسان کا ایسا استاد ہے جس سے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ خود سبق یاد کرواتا ہے ۔ اور اتنی بار دھراتا ہے کہ گرم فولاد ٹھنڈا ہونے پر جب ڈھلتا ہے تو خود کبھی ڈھال تو کبھی تلوار کا وار بن جاتا ہے ۔ سکول میں پہلی جماعت کے دوستوں سے لیکر کلاس کے دادا گیروں تک سے آنکھ بچا کر گزرنا پڑتا ۔ جینے کی دستگیری تبھی ملتی اگر چمچہ گیری کرو یا آب گیری ۔ ایک بات تو طے تھی کہ اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے حد سے گزرنا ہوتا ہے ۔ سوچ کے انداز کو بدلنا ہوتا ہے ۔ بچپن میں پیدا ہونے والی سوچ جب پروان چڑھتی ہے تو بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ پڑھنے لکھنے والے چین سے بھی آگے جا چکے ۔ اور علم کے سمندر میں موتی ڈھونڈتے ڈھونڈتے عالم جہاں بن جاتے ہیں ۔ دھکم پیل کی معاشرتی اجارہ داری کسی کو وہ بنا دیتی ہے جو وہ خود سے بننا نہ چاہتا ہو ۔ حق پر ہو کر حق چھوڑ دینا کبھی اچھا تو کبھی برا تجربہ رہتا ہے ۔ ایک بار جھکنے سے دوبارہ سنبھل جائے تو الگ بات ہے مگر جھکا کر توڑ دینے میں بہادری نہیں ۔ بلکہ قوت کے استعمال کا انداز جارحانہ ہو جاتا ہے ۔ پے در پے ضربوں سے ٹوٹ نہ سکے تو دھار بن جاتی ہے جو کٹتی نہیں کاٹ دیتی ہے ۔ ایسے ہی ایک موقع پر یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔ ایک دوست کے ساتھ فلم دیکھنے سینما گئے ۔ اسے لائن میں کھڑا کیا اور خود پوسٹر سے فلم کی کہانی بننے لگا ۔ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر میں گیلری کی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا ۔ ٹکٹ نہیں ملا ! اس کے اس جملے نے فلم دیکھنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ بہت عرصہ کے بعد فلم دیکھنے کے لئے سینماکا رخ کیا تھا ۔ اب ایسے ہی واپس لوٹ جائیں کیسے ممکن تھا ۔ حالات جاننے کے بعد جب ٹکٹ لینے والی کھڑکی کے پاس پہنچے تو کمال منظر تھا ۔ لائن کا وجود ہی نہیں تھا ۔ قمیضوں سے بے نیاز ۔ کوئی نیچے سے تو کوئی اوپر سے ایک تنگ سوراخ میں ہاتھ ڈال کر ٹکٹ کا متمنی تھا ۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ حملہ کر دیا کھڑکی پر لپکنے والوں پر ۔ چار پانچ لڑکوں پر جو سخت ہاتھ جڑے تو ضرب سے طاقت کا اندازہ ہو گیا انہیں کہ اب تو یہ ہاتھ بھی دھار بن چکے ہیں ۔ ایک لمحے میں کھڑکی کلئیر ہو گئی ۔ ایکشن کامیاب رہا ۔ مجھے اندیشہ تھا کہ جوابی حملہ ہوگا مگر نہ ہوا ۔ تگڑے تگڑے بھی پیچھے ہٹ گئے ۔ کیونکہ دبلے پتلے کے ہاتھوں کی ضرب جو جوڈو کراٹے کی تربیت اور اینٹوں پر ضربیں لگانے سے فولادی بن چکے تھے ۔ کسی نے ہمت نہ باندھی ۔ لائن ٹوٹنے سے اصول و قوائد پر عمل کرنے والے یا کمزور جو منتشر ہوئے دوبارہ لائن میں یکجا ہوگئے ۔ دوست کو پھر اسی لائن میں اپنی جگہ بحال کروایا ۔ ابھی ٹکٹ لیکر کر واپس پلٹے ہی تھے ۔ کہ ایک بار پھر وہی کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ ہو گیا ۔ ایک آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ۔ جناب لائن ٹوٹ گئی ہے ! میں نے پلٹ کر جواب دیا ۔ مجھے اپنا حق لینا تھا سو لے لیا ۔ اب تم جانو کیسے اپنا حق دفاع کرتے ہو ۔ چند لوگ تم بیسیوں پر بھاری ہیں ۔ مگر میں اکیلا ان پر بھاری تھا ۔ وہ کہنے لگا ! ہم شریف ہیں ۔ تو میں کونسا بدمعاش ہوں۔ میں نے غصے سے جواب دیا ۔ انہی لائین توڑنے اور دوسروں کے سروں پر چڑھنے والوں نے مجھے فولاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مرحومہ والدہ ماجدہ اکثر کہا کرتی تھیں ۔ کہ کیا بن گئے تم ڈاکٹر تو نہ بنے مگر ان ہاتھوں سے اینٹوں کا اپریشن کرتے رہتے ہو ۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ بروس لی کی فلم انٹر دی ڈریگن سے متاثر ہو کر طاقت ور بننے کا جو کام میں نے شروع کیا ۔ وہ مجھے اعصابی طور پر بھی فولاد بنانے جارہا ہے ۔ ہر چیلنج کو قبول کرنے کی عادت پیدا ہوتی چلی گئی ۔ بڑھاپے میں ماں کو جگر کا سرطان اور والد صاحب کو الزائمر کا موذی مرض جو چودہ سال تک انہیں جسمانی اور مجھ پر اعصابی دباؤ بڑھاتا چلا گیا کو بھی لائن ٹوٹنے کی طرح برداشت نہیں کیا ۔ بلکہ بھر پور جینے کے حق سے دستبرداری کی نوبت نہیں آنے دی۔ الزائمر کی بیماری ایک کے بعد ایک اعصاب کی لائن توڑتی رہی ۔ والد صاحب کو تو توڑ کر سات سال گوشت کا لوتھڑا بنا کر رکھا ۔ مگر میں چودہ سال اس پر حملہ آور ہو کر اپنے اعصاب کی لائن سیدھی رکھتا رہا ۔ علم کے حصول میں عالم تو نہ بن سکے مگر مذہب نے عملی مسلمان بنا دیا ۔ بی اے اور ایم اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔ لائن توڑنے اور کھڑکی پر حملہ کرنے والے ہر جگہ ملتے رہے ۔ وہ اپنے راستہ پر چلتے رہے اور ہم اپنے پر ۔ کسی نے ہماری لائن نہیں توڑی اور ہم نے اپنی جگہ نہیں کھوئی۔ نہ جانے ہمارے معاشرے کی یہ سوچ کیونکر بن گئی تھی یا ہے ۔ کہ جو تم سے ٹکر لے سکتا ہے اس سے تعاون و تعلق بڑھایا جائے ۔ سکولوں سے لیکر کالج یونیورسٹیوں تک ، کونسلر سے لیکر ایوان صدارت تک ، کمزور و بے ضرر پر طاقت بڑھائی جاتی ہے ۔ جو پارٹیاں بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں ۔ وہ اسمبلی سی باہر بھی تعاون رکھتی ہیں ۔ مگر جو اپنی لائن کے ٹوٹنے کو نہیں بچا پاتیں ۔ وہ اسمبلی کے اندر بھی سونے میں ہی وقت گزارتی ہیں ۔ اور ان کے ممبران بیگمات کے مجازی خدا کے درجے پر ہی فائز رہنا پسند کرتے ہیں ۔ لائن توڑنے والے کبھی ایک تو کبھی دوسری پارٹی کی ضرورت بنے رہتے ہیں ۔ جب نہ لوٹیں تو پھر وہ لوٹے ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ کٹی پتنگوں کی طرح انہیں لوٹ لیا جاتا ہے ۔ یہ صرف اتنی دیر ہی لائن سیدھی رکھتے ہیں جب انہیں سخت ہاتھوں سے کوئی دو دو جڑ دیتا ہے ۔ اور اس کے لوٹ جانے کےبعد پھرلائن توڑ دیتے اور کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ کر دیتے ہیں ۔ ان میں سے ہی چند پھر بول اٹھتے ہیں کہ جناب لائن ٹوٹ گئی ہے ۔ آخر کب تک کوئی بار بار ان کو اپنی جگہ پر بحال کروائے گا ۔ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور حق لینے کے لئے لائن سیدھی کروائی جاتی ہے ۔ جب تک اس کھڑکی کی لائن میں سب اکھٹے کھڑے رہیں گے ٹکٹ کی آس میں ۔ لائنیں ٹوٹتی رہیں گی ۔ لائن میں کھڑے رہ کر انتظار کرنے والے کیوں نہیں جدا ہو جاتے کھڑکی پر حملہ کرنے والوں سے ۔ کیونکہ فلم دیکھنے کا شوق بھی سبھی رکھتے ہیں ۔ سبھی ہال میں بیٹھنا چاہتے ہیں تبھی تو رش ہوتا ہے ۔ پھر لائن ٹوٹنے کا رونا روتے ہیں ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا |
|
|
|
|
|
#2 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 817
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ماشاء اللہ بہت اچھا لکھتے ہیں۔۔۔ اور اُمید ہے ان شاء اللہ آگے بھی لکھتے رہیں گے ایک بات میں اس موضوع کے تعلق سے جاننا چاہ رہا تھا کے جو آپ نے حدیث بیان کی ہے کیا وہ صحیح ہے کہیں ایسا تو نہیں یہ کسی کی کہاوت ہو؟۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، محمود بھائی، آپ کی تحریر واقعی جاندار اور مربوط ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید برکت دے۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
)، اس بارے میں کچھ تحقیق چچا جی پیش کر چکے ہیں، ملاحظہ کیجیے:یہ بات جو بطورِ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ::: اُطلُبُوا العِلمَ و لَو بِالصِّینِ ::: عِلم طلب کرو خواہ چین سے(یعنی خواہ چین جانا پڑے ) :::: گو کہ اِس مقولے کی کمزوری کے عقلی دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں لیکن دِین کے معاملات کو عقل پر پرکھنا عموماً غلطی کا باعث ہوتا ہے اِسی لیے نقل کو معیار بنایا گیا ہے اور پھر نقل ہو کر آنے والی ہر بات کو جانچنے پرکھنے کے لیے کسوٹیاں مقرر ہیں ، یہ اُنکی تفصیل کا نہ تو مُقام ہے نہ ہی وقت، اِمام ابن الجوزی نے ا ِس مقولے کے بارے میں ''' الموضوعات ''' میں اِمام ابن حبان کا قول لکھا کہ ''' یہ بات باطل ہے اور اِس کی کوئی اصل نہیں'' ،،، میں نے رجب کے بارے میں مَن گھڑت احادیث کے دو مضامین میں امام ابن حبان کا حدیث پر کمزوری یا جھوٹی ہونے کے بارے میں بیان کیا تھا کہ امام ابن حبان حدیثوں کو صحیح قرار دینے میں نرمی سے کام لیتے تھے اور اِس نرمی کے باوجود اگر وہ کسی حدیث کو کمزور یا باطل قرار دیں تو اُنکی بات کافی مضبوط ہوتی ہے، اِس بات کا ذِکر ''' ماہ رجب کی کونسی بہاریں اور فضلیتں''' میں بھی کِیا گیا تھا ، یہ مندرجہ بالاحدیث ، اِن کتابوںمیں روایت کی گئی ہے ، اِمام ابو نعیم الاصبہانی کی ''اخباراصبہان''' اِمام ابن علیک کی '' الفوائد '' اِمام الخطیب البغدادی کی '' تاریخ بغداد '' اِمام البیہیقی کی '' المدخل '' اور اِمام ابن عبدالبر کی '' جامع بیان العِلم '' اور پھر کئی اور کتابوں میں نقل کی گئی ، سب روایات کی سندیں ایک مُقام پر مشترک ہو یہ ایک سند بن جاتی ہے ::: حسن بن عطیہ کے ذریعے ، کہ اُس نے ابو عاتکہ طریف بن سلیمان سے سُنا ، کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہُ کے ذریعے روایت کرتا کہ ،،،،،، اِس سند کے مرکزی اور مشترک راوی ابو عاتکہ طریف بن سلیمان کے بارے میں اِمام البخاری نے ''تاریخ الکبیر ''میں کہا '' مُنکر الحدیث '' یعنی اِسکی حدیث مُنکر ہے ،،، '' الجرح و تعدیل '' میں اِمام ابو حاتم محمد بن اِدریس الرازی نے '' ضعیف الحدیث '' یعنی اِس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہے ،،، اِس حدیث کی دو اور سندیں بھی امام السیوطی نے '' اللآلی ''' میں ذِکر کئی ہیں ، جِن میں سے ایک میں''' یعقوب بن اِسحاق بن اِسماعیل العسقلانی ''' نامی راوی ہے جِسے اِمام الذہبی نے '' جھوٹا '' قرار دِیا ، اور دوسری سند میں ''' احمد بن عبداللہ الجُویباری ''' نامی راوی ہے جِسے خود اِمام السیوطی نے ''' حدیث گھڑنے والا ''' کہا ۔اختصار کے پیش نظر میں نے تفصیل سے حوالہ جات کا ذِکر نہیں کِیا ، کِسی کے پاس اگر اِس مِن گھڑت روایت کی اِن ناقابل اعتبار سندوں کے عِلاوہ کوئی اور سند ہو براہِ مہربانی مجھے اُس کی اطلاع کرے اور اگر نہیں ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے کو پورا کیجیئے اور اُن کی ذاتِ مبارک سے کوئی ایسا قول یا فعل منسوب ہونے سے روکیئے جو اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب محمود الحق بھائی
بہترین تحریر پیش کرنے پر شکریہ قبول کیجئے سرورق پر اچھی لگے گی |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بھت اچھے بھایئ ہے جرم صعیفی کی سزا مرگ مفاجاتضض
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,551
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت شکریہ جناب آپ کا ! میں ایک کم علم انسان ہوں اچھی بات اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ آپ کے سوال کا جواب تو اہل دانش ہی بہتر دے سکتے ہیں ۔ لیکن ایک اور حدیث جس کا اس تحریر میں ذکر نہیں کر پایا جو میں نے 16، 17 سال کی عمر میں نماز جمعہ میں امام صاحب سے سنی تھی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ " . قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " . ( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 ) ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو ؟ آپ سے سوال کیا گیا : یا رسول اللہ وہ کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پالیا پھر بھی [ ان کے ساتھ حسن سلوک کرکے ] جنت میں داخل نہیں ہوا ۔ پھر قرآن پاک پڑھتے ہوئے بھی یہ آیات پڑھی وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًاO اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo (الْإِسْرَاء / بَنِيْ إِسْرَآءِيْل ، 17 : 23) پھر زندگی میں بوڑھے اور بیمار والدین کو تنہا نہیں چھوڑا ۔ چودہ سال والد صاحب کی خدمت کر کے فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ کھانا کھلاتا ، نہلاتا ، نجاست ہاتھوں سے صاف کرتا رہا ۔ اللہ تعالی میری کوتاہیوں کو معاف کرے ۔ اس بیماری کے متعلق میرا تجربہ جاننا ہو تو یہاں دیکھیں یادداشت کھو جانے والی بیماری الزائیمر کی علامات لیکن اس تحقیق میں کبھی نہیں پڑا کہ جو بھائی ملک سے باہر ہیں ان کے لئے قرآن و حدیث میں والدین کی خدمت کا کیا حکم ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ مجھے اپنے عمل کی جواب دہی ہے ۔ والسلام Last edited by بزم خیال; 15-02-10 at 12:06 AM. |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | کنعان (15-02-10), محمدمبشرعلی (15-02-10), احمد بلال (02-08-10), حرب بن شداد (15-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عبداللہ حیدر (15-02-10), عروج (13-02-11) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، محمود بھائی، آپ کے مضامین مجھے ذاتی طور پر پسند ہیں۔ الفاظ کا چناؤ اور تحریر کا بہاؤ بہت اچھا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی تمام نیکیاں قبول کرے اور اپنے والد صاحب کی جو خدمت آپ نے کی ہے اسے توشہ آخرت بنائے۔ مجھے توقع ہے کہ حرب بھائی نے جو نکتہ اٹھایا ہے اس سے آپ کے خیالات یا مضمون کی تحقیر ہرگز مقصود نہیں ہے، مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے منسوب ایک غلط لیکن مشہور بات کی نشاندہی ہو جائے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اسے تنقید نہ سمجھیں، یہ تو اصلاح کی کوشش ہے۔ فورم پر ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا عمل کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتا ہے جس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#11 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,551
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
عبداللہ بھائی آپ کی پزیرائی کا بہت شکریہ دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں ! حرب بھائی کی بات کو میں نے محسوس نہیں کیا ۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے ۔ قرآن و حدیث پر آپ سب کے مراسلات پڑھتا ضرور ہوں مگر کم علم ہونے کی وجہ سے رائے دینے سے قاصر رہتا ہوں ۔ اپنی تحریروں میں خاص طورپر اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ پڑھنے والے کو نظریات کی عینک کی ضرورت نہ پیش آئے ۔ میں نے والدین کے حقوق کے متعلق ایک آیت پڑھی اور صحیح طرح سے عمل کرنے کی کوشش میں میری جوانی گزر گئی ۔ اللہ تعالی مجھے معاف کرے ۔ میں خود کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالی کے کسی بھی فرمان پر پورا اتر سکوں ۔ مگر اس کی عنایات میں کمی نہیں جو میں نے لکھا تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو والسلام |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-02-10), احمد بلال (02-08-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عبداللہ حیدر (15-02-10), عروج (13-02-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمال کی تحریر ہے
محمود بھائی میری جانب سے مبارک باد قبول فرمائیں |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی بہترین تحریر ہے محمود بھائی!!
آپ واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
محمود بھائی اچھی تحریر ہے، شئیرنگ کا شکریہ!
آپ کی جانب سے مذید تحاریر کا انتظار رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمال, کالج, گھڑیاں, پسند, قدم, لوگ, لوٹے, چین, نماز, ممکن, ماں, مخلوط, انگلش, انسان, استاد, بچپن, تعلیم, حدیث, حسن, خدا, دوست, راستہ, زندگی, صدارت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|