واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عافیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-02-10, 09:22 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عافیہ

عافیہ

عرفان صدیقی

عافیہ پر لگائے گئے سارے الزامات ثابت ہوگئے۔ وہ استغاثہ کے پیش کردہ مقدمے کی ساتوں دفعات میں مجرم پائی گئی۔ بے شک ثابت ہوگیا کہ رائفل پر اس کی انگلیوں کے نشانات نہ تھے۔ بے شک یہ حقیقت تسلیم کرلی گئی نہ رائفل سے گولی چلی ‘ نہ کوئی گولی ملی نہ اُس کا خول برآمد ہوا ‘ بے شک کمرے کی کسی دیوار یا فرش پر کسی فائر کا کوئی نشان نہیں ملا۔ بے شک کسی امریکی کے جسم پر خراش تک نہیں آئی۔ بے شک استغاثہ کے گواہوں میں نمایاں تضادات پائے گئے۔ بے شک وکلائے صفائی نے ثابت کردیا کہ استغاثہ کی ساری کہانی ایک تراشیدہ افسانے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود تمام جرائم ثابت ہوگئے۔ بارہ ارکان پر مشتمل امریکی عدالت کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اُس کانام عافیہ ہے۔و ہ اپنا رشتہ محمد عربیﷺ کے رفیق اعلیٰ ‘ صدیق اکبر  سے جوڑتی ہے۔ وہ مسلمان ہے اور اس سب کچھ پہ مستزاد یہ کہ وہ پاکستانی ہے۔ اس کے ”جرائم“ کی یہ فہرست ایسی نہ تھی کہ اُسے بے گناہ قرار دے دیا جاتا۔

میں اُن روشن خیالوں میں سے نہ تھا جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ عافیہ کو رہائی مل جائے گی۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ امریکہ کا نظام انصاف بے لاگ ہے۔ وہ سمجھارہے تھے کہ چوں کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام ہو گیا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ جیوری ‘ عافیہ کے حق میں فیصلہ نہ سنائے۔ میں امریکہ کے بارے میں خوش گمانیوں کے رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہتا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ اسلام اور پاکستان کی اس بیٹی کو انصاف نہیں ملے گا۔ میری بدگمانی کا سبب‘ امریکہ سے نفرت نہیں ‘ امریکہ شناسی ہے۔ اگر کوئی بھید تھا بھی تو نائن الیون کے بعد وہ پوری طرح کھل گیا۔ آج امریکی چہرہ اپنے تمام تر خدوخال کے ساتھ دنیا کے سامنے آچکا ہے۔کیا دشت لیلیٰ ‘ قلعہ جنگی‘ تورا بورا‘ بگرام ‘ قندھار‘ ابو غریب‘ فلوجہ اور گوانتانامو کی انسانیت سوزکہانیاں ہمارے سامنے نہیں۔ کیا گزشتہ نو برس کے دوران قانون و انصاف ‘ احترام آدمیت اور بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں نہیں اڑائی گئیں؟ ایسا کون سا جرم ہے جو کسی سفاک ترین وحشی کے حاشیہ خیال میں آسکتا ہواور وہ امریکیوں نے اپنے حالیہ کروسیڈ میں روا نہ رکھا ہو؟ چنگیز‘ ہلاکو‘ نازی جرمنی سب خس وخاشاک ہوچکے جس دن امریکیوں کے مظالم تمام تر سفاکی کے ساتھ سامنے آگئے‘ اُس دن پتہ چلے گا کہ بظاہر انسانی شکل وصورت رکھنے والی مخلوق درندگی کی کن حدوں کو چھوسکتی ہے۔

سو مجھے یقین تھا کہ عافیہ کو انصاف نہیں ملے گا۔ امریکیوں کی جمہوریت ‘ امریکیوں کی قانون پسندی‘ امریکیوں کے بنیادی حقوق‘ امریکیوں کا عدل وانصاف ‘ امریکیوں کی انسان دوستی ‘ سب کچھ امریکیوں کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے اُن کے پیمانے مختلف ہیں۔ محمد عربیﷺ کا کلمہ پڑھنے والے کے لئے اُن کا قانون جدا ہے۔ پاکستانیوں کے لئے اُن کے ضابطہ ہائے انصاف اور ہیں۔ اپنے ہاں کے پالتو کتوں اور بلیوں کو کانٹا بھی چبھ جائے تو اُن کا قانون دہاڑنے لگتا اور انصاف پھن پھیلاکر کھڑا ہوجاتا ہے لیکن مشرق کے افتادگان خاک کو وہ حشرات الارض سے بھی حقیر جانتے ہیں۔ عراق میں وہ پندرہ لاکھ انسانوں کا لہو پی گئے۔ افغانستان میں کوئی گنتی ہے نہ شمار۔ اس لئے کہ یہ سب مسلمان ہیں اور اس قبیلے کی زندگی ‘امریکی انصاف کی منڈی میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ کہا جاتا ہے کہ ہمیں عافیہ کی جنگ امریکی قانون اور نظام عدل کے دائرے میں رہ کر ہی لڑنا ہوگی۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔بجاکہ یہ جنگ جاری رہنی چاہئے۔ حکومت کو اپیل کے لئے اعلیٰ ترین وکلاء کا پینل بنانا چاہئے۔ خوش گمانیوں اور بدگمانیوں سے آزاد ہوکر پوری سنجیدگی اور کاوش کے ساتھ مقدمہ لڑنا چاہئے لیکن کیا قومی غیرت و حمیت کو گہری نیند سلادینا چاہئے۔ ”غیرت لابی“ کا حزب اختلاف رنجیدہ ہوجاتا ہے لیکن کیا ہمیں اسی غلامانہ سبک سری کے ساتھ امریکی کولہو کا بیل بنے رہنا چاہئے؟ ساڑھے آٹھ سال سے ہم ایک الاؤ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ہمارے فوجی جانبازشہید ہورہے ہیں۔ہمارے شہری شہید ہورہے ہیں۔ ہماری فوج لاحاصل کے دشت بے اماں میں بھٹک رہی ہے۔ ہماری بستیاں بم دھماکوں سے لرز رہی ہیں۔ ہماری زندگیوں کے سانچے الٹ پلٹ گئے۔ ہماری معیشت زمین بوس ہوگئی۔ ہمارا معاشرہ زخموں سے چور ہوگیا۔ہماری آزادی و خود مختاری غریب کی جورو بن کررہ گئی ۔ کیا اس سب کچھ کے بدلے ہم امریکہ سے عافیہ صدیقی بھی نہیں مانگ سکتے؟

خونخوار ڈرون حملوں میں اب تک 1420 افراد خاک و خون میں نہاچکے ہیں۔ خود امریکیوں کا کہنا ہے کہ مطلوبہ القاعدہ یا طالبان کی تعداد صرف چودہ ہے۔باقی سب بے گناہ عورتیں ‘ بچے ‘ جوان اور بوڑھے ہیں۔ گزشتہ برس 2009ء میں 44 ڈرون حملوں میں 708/افراد شہید ہوگئے۔ ان میں سے صرف 5 کو امریکہ ”مجرم“ قرار دیتا ہے۔ باقی 703 معصوم تھے۔ گویا ایک مطلوب مجرم کے لئے 140 معصوم پاکستانیوں کے چیتھڑے اڑادیئے گئے۔ خود امریکیوں کے اعداد وشمار کے مطابق ڈرون حملوں کا رزق ہوجانے والے کم نصیبوں میں 99 فیصد بے گناہ تھے۔ کیا یہ پاکستانی‘ انسانوں کے زمرے میں نہیں آتے؟ کیا ہماری مائیں پتھر جنتی ہیں؟ کیا ہمارے حکمران ان معصوموں کے خون بہا کے طور پر اپنی ایک ستم رسیدہ بیٹی واپس نہیں لے سکتے؟

یہ بے حسی ہے۔ مجرمانہ اور شرمناک بے حسی۔ ہم سب اس میں شریک ہیں۔قوم بھی ‘ سیاسی جماعتیں بھی ‘علمائے کرام بھی‘ ہم صحافی بھی اور سب سے بڑھ کر وہ حکمران جن کی آنکھوں کا پانی مرگیا ہے اور جنہوں نے امریکہ کی چاکری کو اپنے سر کا تاج بنارکھا ہے۔میں یہ باور کرنے کے لئے تیار نہیں کہ حکومت پاکستان پورے خلوص‘ سنجیدگی‘ عزم اور استقامت سے عافیہ کی واپسی کو ایک اہم ایشو کے طور پر لیتی اور امریکہ کو باور کرادیتی کہ نام نہاد جنگ دہشت گردی میں تعاون ‘ اس ایشو سے جڑا ہے تو امریکہ ایسی ہٹ دھرمی دکھانا چاہے اُسے کانگریس میں جاکر اپنے قانون میں ترمیم کرانا پڑتی۔ ہم ڈالروں کے لئے مرے جاتے ہیں لیکن اس امر کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ عافیہ صدیقی پر مظالم اور اس کے امریکی جیلوں میں گلنے سڑنے سے اہل پاکستان پر کیا گزررہی ہے؟

اور آج وہ بھی عافیہ کے غم میں گھلے جارہے ہیں جو عافیہ کو امریکیوں کے چنگل میں دینے والے سیاہ رو ڈکٹیٹر کو ”سید مشرف“ کہہ کر پکارتے اور اس کے جوتے پالش کرنے کو اعزاز سمجھتے تھے۔ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کے قاتل کو خدا ماننے والے کہتے ہیں”ہم نے معافی مانگ لی “ کیا تمہیں اندازہ ہے کہ تمہارے جرم کی گہرائی اور شدت کا عالم کیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ تم دو دو ٹکے کی وزارتوں کے لئے دختر فروش ڈکٹیٹر کی چاکری کررہے تھے؟ یہ ایک الگ موضوع ہے جو تفصیل چاہتا ہے جس پر ضرور لکھا جانا چاہئے لیکن اگر پاکستان کے حکمرانوں میں پاکستانیت کی حرمت کا کوئی تصور موجود ہے اور اُنہیں کروڑوں پاکستانیوں کے دل و دماغ میں سلگتی آگ کا کوئی احساس ہے تو وہ شرمناک سرد مہری کے خول سے نکلیں ۔عافیہ تو اپنے لازوال ایمان کو خیمہ عافیت بنالے گی۔ اُس کی ماں ‘ اُس کی بہن‘ اُس کا بھائی اور اُس کا بیٹا بھی الله کی رضا پہ راضی ہوجائیں گے کہ وہ الله ہی کو تقدیروں کا مالک سمجھتے ہیں لیکن تمہارا کیا بنے گا؟ اقتدار کا سورج کسی لمحے غروب ہوسکتا ہے اور وہ دن بھی زیادہ دور نہیں جب تمہیں الله کے حضور بھی پیش ہونا ہوگا۔

عافیہ…!!,,,نقش خیال…عرفان صدیقی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 06-02-10, 09:28 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
سو مجھے یقین تھا کہ عافیہ کو انصاف نہیں ملے گا۔ امریکیوں کی جمہوریت ‘ امریکیوں کی قانون پسندی‘ امریکیوں کے بنیادی حقوق‘ امریکیوں کا عدل وانصاف ‘ امریکیوں کی انسان دوستی ‘ سب کچھ امریکیوں کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے اُن کے پیمانے مختلف ہیں۔
یہ بات تو ایک سو بیس فیصد درست ہے کہ امریکہ کا قانون و انصاف صرف انہی کے لئے ہے جو امریکی ہیں
باقی دنیا ان کے لئے حشرات الارض جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
search, پاکستانی, نفرت, نیند, چور, معاشرہ, آج, اکبر, ایمان, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, بھائی, تاج, ترمیم, خوش, خدا, زندگی, سال, طالبان, عالم, عدالت, غم, صدیقی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger