| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہر سال محرم میں کروڑوں مسلمان، شیعہ بھی اور سنی بھی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر اپنے رنج و الم کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن افسوس کہ ان غم گساروں میں سے بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کے لیے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ دیکھنا چاہیے کہ وہ مقصد کیا تھا؟
کیا امام تخت و تاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحقاق کا دعویٰ رکھتے تھے؟ اور اس کے لیے انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی؟ کوئی شخس بھی جو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی بلند سیرت کو جانتا ہے ،یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اپنی ذات کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر مسلمانوں میں خون ریزی کر سکتے ہیں۔اگر تھوڑی دیر کے لیے ان لوگوں کا نظریہ مان بھی لیا جائے تب بھی حضرت ابو بکر سے لے کر حضرت امیر معاویہ تک ،پچاس برس کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑنا اور کشت و خون کرنا ہرگز ان کا مسلک نہ تھا۔ اس لیے لا محالہ یہ ماننا ہی پڑے گا کہ امام عالی مقام کی نگاہیں اس وقت مسلم معاشرے اور اسلامی ریاست کی روح اور اسکے مزاج اور اس کے نظام میں کسی بڑے تغیر کے آثار دیکھ رہیں تھیں جسے روکنے کے لیے جدوجہد کرنا ان کے نزدیک ضروری تھا،حتیٰ کہ اس راہ میں لڑنے کی نوبت بھی آ جائے تو نہ صرف جائز بلکہ فرض سمجھتے تھے۔ وہ تغیر کیا تھا؟ ظاہر ہے لوگوں نے اپنا دین نہیں بدل دیا تھا۔ حکمران سمیت سب لوگ خدا،رسول، اور قرآن کو اسی طرح مان رہے تھے جس طرح پہلے مانتے تھے۔مملکت کا قانون بھی نہیں بدلا تھا۔عدالتوں میں قرآن و سنت کے مطابق ہی فیصلے ہو رہے تھے۔ بعض لوگ یزید کے شخصی کردار کو بہت نمایاں کر کے پیش کرتے ہیں جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے وہ تغیر جسے روکنے کے لیے امام عالی مقام کھڑے ہو گئے تھے،بس یہ تھا کہ ایک بُرا آدمی برسر اقتدار آ گیا تھا۔ لیکن یزید کی سیرت و کردار کا جو بُرے سے بُرا تصور بھی پیش کر دیا جائے اُسے جوں کا توں مان لینے کے بعد بھی یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے کہ اگر نظام صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو محض ایک بُرے آدمی کا برسر اقتدار آ جانا کوئی ایسی بڑی بات ہو سکتی ہے جس پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا دانا و زیرک اور علم شریعت میں گہری نطر رکھنے والا شخص بے صبر ہو جائے۔ اس لیے یہ شخصی معاملہ بھی وہ اصلی تغیر نہیں جس نے امام عالی مقام کو بے چین کیا۔ تاریخ کے بغور مطالعہ سے جو چیز واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اسکی تخت نشینی سے در اصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور ،اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی کے پورے نتائج اگرچہ اس وقت سامنے نہ آئے تھے لیکن اس صاحب نظر آدمی گاڑی کا رخ تبدیل ہوتے ہی یہ جان سکتا ہے کہ اب اسکا راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر یہ مڑ رہی ہے وہ آخر کار اسے کہاں لے جائے گا۔ یہی رخ کی تبدیلی تھی جسے امام نے دیکھا اور گاڑی کو پھر سے صحیح پٹڑی پر ڈالنے کے لیے اپنی جان لڑا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس چیز کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور خلفا راشدین کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چلتا رہا تھا اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں اور یزید کی ولی عہدی سے مسلمانوں میں جس دوسرے نطام ریاست کا آغاز ہوا اس کے اندر کیا خصوصیات بعد کے خلفا یا امرا و بادشاہوں میں نمودار ہوئیں۔ اسی تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیں یہ گاڑی پہلے کس لائن پر چل رہی تھی اور اس نقطہ انحراف پر پہنچ کر آگے وہ کس لائن پر چل پڑی۔اسی تقابل سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور سیدہ فاطمہ اور حضرت علی کی آغوش میں تربیت پائی تھی اور جس نے صحابہ کی بہترین سوسائٹی میں بچپن سے بڑھاپے تک کی منزلیں طے کی تھیں ،وہ کیوں اس نقطہ انحراف کے سامنے آتے ہی گاری کو نئی لائن پر جانے سے روکنے کے لیے کھڑا ہو گیا ،اور کیوں اس نے اس بات کی بھی پروا نہ کی کہ اس زوردار گاڑی کا رخ موڑنے کے لیے اس کے آگے کھرے ہو جانے کا کیا انجام ہو گا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کونسی تبدیلیوں کے آثار دیکھے؟ اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف زبان سے ہی کہا جاتا تھا بلکہ سچے دل سے یہ مانا بھی جاتا تھا اور عملی رویہ سے اس عقیدہ و یقین کا پورا ثبوت بھی دیا جاتا تھا کہ ملک خدا کا ہے، باشندے خدا کی رعیت ہیں، اور حکومت اس رعیت کے معاملے میں خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیں، اور رعیت اسکی غلام نہیں ۔ لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی تھا۔عملاً اس نے وہی نظریہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہ کا رہا ہے یعنی ملک بادشاہ کا ، رعیت کی جان ،مال آبرو ہر چیز کا مالک بادشاہ ہے۔ خدا کا قانون اگر نافذ ہوگا تو عوام پر ،بادشاہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ 2۔اسلامی ریاست کا مقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کا قائم کرنا اور فروغ دینا تھا جو خدا کو محبوب ہیں۔ ان برائیوں کو مٹانا اور دبانا مقصود تھا جو خدا کو ناپسند ہیں۔مگر انسانی بادشاہت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد حکومت کا مقصد فتح ممالک، تسخیر خلائق اور عیش دنیا کے سوا کچھ نہ رہا۔ان کے ہاتھوں بھلائیاں کم پھیلیں اور برائیوں نے زیادہ فروغ پایا۔حد یہ کہ ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی کوششیں کیں۔جس کی بد ترین مثال بنو امیہ کے دور میں نو مسلموں پر جزیہ لگانے کی صورت میں طاہر ہوئی۔ 3۔دستور اسلامی کا سنگ بنیاد یہ تھا کہ حکومت لوگوں کی آزادانہ مرضی سے قائم ہو۔کوئی شخص اپنی کوشش سے اقتدار حاصل نہ کرے بلکہ لوگ اپنے مشورےسے بہت آدمی کو چن کر اقتدار اسکے سپرد کر دیں۔بیعت حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کسی کوشش یا سازش کا دخل نہ ہو۔لوگ بیعت کرنے یا نہ کرنے میں ازاد ہوں۔جب تک کسی آڈمی کو بیعت حاصل نہ ہو وہ اقتدار میں نہ ائے اور جب سب لوگوں کا اعتبار اس سے اتھ جائے تو اقتدار سے چمٹا نہ رہے۔خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدے سے بر سر اقتدار آیا۔ لیکن یزید کی ولی عہدی نے اس قاعدے کو الٹ دیا۔اس سے خآندانوں کی موروثی بادشاہتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد سے آج تک پھر مسلمانوں کو انتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہوا۔اب حکمران طاقت سے بر سر اقتدار آنے لگے، طاقت اور اقتدار سے بیعت حاصل کی جانے لگی، اسی جبری بیعت کو کالعدم قرار دیے جانے پر خلیفہ منصور کے زمانے میں امام مالک کی پیتھ پر کوڑے بھی برسائے گئے اور ان کے ہاتھ شانوں سے اکھڑوا دئیے گئے۔ 4۔ایک اہم ترین قاعدہ یہ بھی تھا کہ حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے کیا جائے جن کے علم ،تقویٰ اور اصابت رائے پر لوگوں کو اعتبار و اعتماد ہو۔ لیکن شاہی دور کا آغاز ہوتے ہی شورائی دور کا اختتام ہوا۔ بادشاہ اپنی مرضی سے فیسلے کرنے لگے۔ 5۔اسلامی دستور کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ لوگوں کو اظہار رائے کی پوری آزادی تھی۔لوگون کے ضمیر اور انکی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط کام پر بڑے سے برے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کر سکیں۔لیکن بادشاہی کے دور کا آغاز ہوتے ہی ضمیروں پر قفل چڑھا دئیے گئے، منہ بند کر دئیے گئے۔اب قاعدہ یہ ہو گیا کہ منہ کھولنا ہے تو تعریف کے لیے کھولو ورنہ چپ رہو۔اگر تم باز نہیں رہ سکتے تو قید یا قتل کے لیے تیار رہو۔یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کو کم ہمت، بزدل اور مصلحت پرست بناتی چلی گئی۔خطرہ مول لے کر حق بات کہنے والے کم ہوتے گئے۔ 6۔ایک اور اسؤل یہ تھا کہ خلیفہ اور اس کی حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہے۔جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہ ہونے کا تعلق تھا تو اس کے شدید احساس سے خلفائے راشدین پر دن رات کا چین آرام حرام ہو گیا تھا۔ اور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہی کا تعلق تھا تو وہ ہر وقت،ہر جگہ اپنے آپکو عوام کے سامنےجواب دہ سمجھتے تھے۔لیکن یزید کے حکومت کے آتے ہی جواب دہی کا تصور ختم ہو گیا۔ خقل میں سے کونسا مائی کا لال تھا جو ان سے جواب طلب کر سکتا؟وہ اپنی قوم کے فاتح تھے۔مفتوحوں کے سامنے کون جواب دہ ہوتا ہے۔وہ طاقت سے بر سر اقتدار ائے تھے اور انکا نعرہ تھا کہ جس میں طاقت ہو وہ ہم سے اقتدار چھین لے مزید اصول یہ تھے کہ بیت المال خدا کا مال اور خلق کی امانت ہے۔ اس پر خلیفہ یا حکمران کا کوئی حق نہیں اور یہ کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔سبھی کے لیے ایک ہی قانون ہے۔لیکن بادشاہی کے دور میں ان دونوں اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ بادشاہ بیت المال کو اپنا خزانہ سمجھ کر صرف کرنے لگے اور قانون تو انکے گھر کی باندی بن گیا۔ یہ تھے وہ تغیرات جو اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے سے رونما ہو رہے تھے۔یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہ آغاز تھی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد حکومت میں وہ سب خرابیاں نمو دار ہو گئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔چناچہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا زیرک، دانا آدمی خرابی کا ظہور ہونے سے قبل ہی بھانپ گیا کہ کیا خرابیاں ہونے والی ہیں اس پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو بد تر سے بد تر نتائج بھی انہیں ایک مضبوط جمی جمائی حکومت کے خلاف اتھنے میں بھگتنے پڑیں، ان کا خطرہ مول لے کر انہیں اس غلط انقلاب کو روکنا چاہیے۔اس کوشش کا جو انجام ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسے بچانے کے لیے ایک مومن اپنا سر بھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیتھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔ کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ سیاسی کام کہہ لے مگر حسین ابن علی کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا ،اسی لیے انہوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔ (ماخوذ از سید ابو الاعلی مودودی) Last edited by حیدر; 27-12-09 at 10:56 PM. |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (28-12-09), فاروق سرورخان (28-12-09), کنعان (28-12-09), گوہر (29-12-09), یاسر عمران مرزا (28-12-09), نیلم خان (31-12-09), منتظمین (28-12-09), ایس اے نقوی (29-12-09), ابرارحسین (28-12-09), بزم خیال (28-12-09), رانا امر (28-12-09), راجہ اکرام (27-12-09), رضی (02-01-10), سحر (27-12-09) |
| کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 29-12-09 | ایس اے نقوی | شہادت امام حسین | 150 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بدر بھائی اتنی اچھی تحریر پر میری جانب سے ہدیہ تبریک قبول کیجئے۔ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔۔ آمین بالکل درست بات لکھی ہے، یہی وہ وجوہات ہیں جن کو سیدنا حسین علیہ السلام نے بھانپ لیا تھا اور ان کی روک تھام کے لئے وہ قربانی دی کہ تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ موقع جہاں ایک طرف غم اور دکھ کا ہے وہیں یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ اس واقعے کا اصل سبق سمجھیں اور ان اصولوں کے لئے جان دینے کی تیاری کریں اور حوصلہ پیدا کریں ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجئے۔ اللہ جزائے خیر دے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت شکریہ جناب ، عمدہ تحریر ہم سے شئر کرنے کا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | حیدر (28-12-09), راجہ اکرام (28-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
شہادت حسین کے بعد سے ہی مسلم حکومت ، مشاورتی بیعت شدہ ریاست سے ، فرد واحد کی موروثی حکومت میں تبدیل ہوگئی۔
شہادت حسین کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دم توڑنے والی مسلم مشاورتی بیعت شدہ ریاست ، قیام پاکستان تک منظر عام پر نہیں آئی۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک بار پھر خلافت راشدہ کا نظام شروع ہو گیا۔۔۔ سبحان اللہ
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تحریر کو آج ہی سرورق کی زینت بنایاجائے تو بہتر ہوگا۔۔۔شکریہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (29-12-09), حیدر (28-12-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی اور فاروق چا چا کبھی آپ لوگ الگ الگ ٹاپک میں موجودہ نظام کے بارے میں تو بیان کریں کہ یہ کیسا نظام ہے۔کیا یہ وہی نظام ہے جس کو بچانے کے لیے امام حسین نکلے تھے یا کہ یہ وہ نظام ہے جس کے خلاف امام حسین اٹھ کھڑے ہوئے تھے؟ یاد رہے میں نظام کی بات کر رہاں ہوں قوانین کی نہیں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (29-12-09), راجہ اکرام (28-12-09) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر مذکورہ بالا تحریر جو آپ نے پیش کی ہے اس کو دیکھ کر پاکستان کے نظام کا جائزہ لیں تو ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ ہو جائے گا۔ فاروق صاحب پارلیمنٹ کو مجلس مشاورت اور منتخب نمائندوں کو صاحب حل و عقد سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک ان لوگوں کے اہل ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ منتخب ہو کر آئے ہیں۔ جبکہ ان لوگوں کے انتخاب کی صورتحال سے ہر پاکستانی بخوبی آگاہ ہے، اور اسلام میں اہلیت کی جو شرط ہے اس پر یہ منتخب نمائندے کس حد تک پورے اترتے ہیں اس سے بھی سب واقف ہیں۔ اب جب کہ ہماری سوچ میں بعد المشرقین ہے تو اس موضوع پر بات کرنے کا فائدہ مجھے نظر نہیں آتا۔ باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں و السلام |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (29-12-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باوجود اس کے کہ لوگوں کی سوچوں میں مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا ہے اس کے باوجود کم از کم ایک چیز میں تمام لوگ مشترک ضرور ہوے ہیں ۔وہ چیز یہ ہے کہ در حقیقت سبھی ایک ہی چیز کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ صرف اندازِ فکر جدا جدا ہوتا ہے۔ ذہنی ہم آہنگی شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے۔ یہی اختلاف سوچوں کے دوازے وا کرتا ہے اور ترقی و بہتری کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔تو کیوں نہ اختلاف کیا جائے یعنی سوچا جائے؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوسری مشترکہ بات یہ ہے کہ ہر ایک کے دل میں درد بھی ایک ہی چیز کا ہے۔ اور یہ دو مشترکا اقدار ہمیں ایک لڑی میں پرونے کے لیے کافی ہیں۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
بدر بھائی آپ کو اس تحریر پر 1000 پوائینٹس ارسال کئے جاتے ہیں
اگر سسٹم نے ساتھ دیا تو کیونکہ ابھی تک پوائینٹ دینے میں مجھے دقت کا سامنا ہے شکریہ انتہائی معذرت آپکے 850 پوائینٹ ادھار رہے انشاءاللہ سسٹم کی بہتری کے ساتھ ہی ادا کر دیئے جائیں گے شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 29-12-09 at 01:34 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | حیدر (29-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
Salam how r u - لب تلک آنے تو دو۔۔۔۔۔
اقتباس:
Last edited by محمدخلیل; 29-12-09 at 09:49 PM. |
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نقوی بھائی آپ لوگوں کا دو کلمات کہہ دینا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔پوائنٹس دے کر مجھے شرمندہ نہ کیا کریں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ابن حسن (12-01-10), راجہ اکرام (29-12-09) |
![]() |
| Tags |
| فرض, قرآن, لوگ, چین, آج, آدمی, اللہ, امیر, اسلامی, بہترین, بچپن, بچوں, بادشاہت, تاج, جواب, خون, دستور, رات, راستہ, سودا, سال, عزیز, غم, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خواجہ الطاف حسین حالی مختصر تعارف | میاں شاہد | الطاف حسین حالی | 2 | 17-10-10 12:22 PM |
| حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ | wajee | دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات | 41 | 13-10-10 05:57 PM |
| میکسیکو : طیارہ گر کر تباہ، متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ | ابن جلال | خبریں | 0 | 18-10-08 04:09 PM |
| فلپائن:سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ، ہلاکتوں کی تعداد20ہوگئی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-02-08 03:51 AM |
| سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 20-02-08 03:34 AM |