واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-11-08, 02:20 PM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,803
کمائي: 2,339,129
شکریہ: 17,797
12,253 مراسلہ میں 28,473 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک,,,,سحر ہونے تک… ڈاکٹر عبدالقدیرخان

کیا پوچھے ہے مجھ سے میری خاموشی کا باعث
کچھ تو سبب ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
1961ء میں جب میں اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن کی مشہور ترین ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے روانہ ہونے لگا تو میں نے سوچا کہ جرمنی کے حالات سے پاکستانی عوام خاص کر طلبہ کو مطلع کروں گا۔ اس وقت روزنامہ جنگ کا دفتر کراچی برنس روڈ پر تھا۔ میں کالج کے دوران (ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج) ہمیشہ اس دفتر کے سامنے سے گزرتا تھا میں پہنچ گیا کہ یہاں میر خلیل الرحمن صاحب سے ملاقات کرلوں اور ان کا مشورہ حاصل کرلوں۔ اس وقت تقی صاحب ایڈیٹر ہوا کرتے تھے انہوں نے فوراً میر صاحب سے ملاقات کرا دی۔ نام سنا تھا اب ذاتی طور پر شناسائی ہوگئی۔ میر صاحب خوبصورت، بارعب شخصیت کے مالک تھے درازقد تھے اور ان کی ذہانت ان کی کشادہ پیشانی سے صاف عیاں تھی۔ انہوں نے نہایت خلوص سے ملاقات کی اور میری تجویز کو بہت پسند کیا اور کہا کہ میں ضرور برلن سے جنگ کے قارئین کو وہاں سے مطلع کروں اور اس طرح میں جرمنی کے لئے روانہ ہوگیا۔ برلن اس وقت مشرق و مغرب کی سیاسی کشمکش کا اکھاڑہ تھا صرف 10 دن پیشتر مشرقی برلن (یعنی مشرقی کمیونسٹ جرمنی نے) دیوار کھڑی کردی تھی لاتعداد جرمن کمیونسٹوں سے جان چھڑا کر مغربی برلن بھاگ رہے تھے اور روز کئی VOPOS یعنی مشرقی برلن کی ملیشیا کی گولیوں کا شکار بن رہے تھے اوپر روسی مگ جہاز دن بھر ساؤنڈ بیریر توڑ رہے تھے میرا ہوسٹل برانڈین برگر ٹور یعنی گیٹ سے 15 منٹ کے فاصلہ پر تھا اور وکٹری کالم کے بالکل قریب تھے۔
میں نے وہاں سے روزنامہ جنگ کو ”مکتوب برلن“ کے نام سے مراسلہ جات بھیجنا شروع کردیئے جو جنگ میں باقاعدگی سے شائع ہونے لگے یہ سلسلہ دو سال جاری رہا اور میں نے جنگ میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اس وقت کے برلن کے میئر جناب ولی برانٹ ایک روز یقیناً جرمنی کے چانسلر بن جائیں گے اور وہ چند سال بعد بن گئے۔ 1963ء کے اواخر میں برلن سے میں ہالینڈ میں ڈیلنٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی چلا گیا اور مکتوب برلن لکھنا بند کردیا۔
حالات حاضرہ کی وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ پھر طبع آزمائی کی جائے اور ملک کے اہم موضوعات پر کچھ لکھا جائے۔ مجھے لکھنے کا ہمیشہ سے شوق ہے اور کوئی اہم بات ہو تو ضرور لکھ ڈالتا ہوں، بس عادت ہے #
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
مطلب یہ نہیں کہ عوام میرے خیالات و جذبات سے ناواقف ہیں #
میں چپ بیٹھا ہوا ہوں اور یہ معلوم ہوتا ہے
کہ جیسے اک زمانہ کہہ رہا ہے داستاں میری
دیکھئے جب بھی کوئی شخص کسی اخبار میں مضامین لکھنا شروع کرتا ہے تو لوگ اس کا مقصد یا اس کا سبب تلاش کرنے لگتے ہیں #
گماں اگر تمہیں کچھ ہو تو ہو مگر ہم کو
سکون ملتا ہے روداد غم سنانے سے
ہم سب جانتے ہیں کہ خیر و شر کا تضاد ہمیشہ سے دنیا میں رہا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس بارے میں خبردار کیا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے شرپسندوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھ۔ بعض خودغرض، غاصب لوگ خالصتاً ذاتی مفاد کے لئے عوام کے مفادات کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔ طاقت کا نشہ انہیں مدہوش کردیتا ہے اور نعوذباللہ وہ اللہ کے وجود اور قوت سے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔ مشرف کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے #
ہر دور میں انسان نے ڈھائے ہیں مظالم
ہر دور میں انسان خدا بنتا رہا ہے
لیکن نعوذباللہ خدا بننے کے گھمنڈ میں انسان خدا نہیں بن جاتا حالانکہ وہ اکثر خدا کی موجودگی کو بھول جاتا ہے #
ظالموں نے سمجھ یہ رکھا ہے
جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں
ناخدا کو خدا کا رتبہ دینے میں ہماری بیوروکریسی اور خوشامدیوں کا بڑا ہاتھ ہے مشرف صرف ایف اے پاس تھا جو ہم عموماً چپراسی کے طور پر بھرتی کرتے ہیں ایک غلط طریقہ ترقی سے ہمارا سپہ سالار بن گیا اور ہمیں یہ دیکھ کر قے آتی تھی کہ یہ کم عقل نہایت تعلیم یافتہ لوگوں کو اور ماہرین کو، معاشیات، تعلیم، خارجہ، زراعت، صنعت پر سامنے بٹھا کر لیکچر دیا کرتا تھا اور وہ اس کے آگے گردن ہلا ہلا کر واہ واہ کیا کرتے تھے ایک عقلمند ذی فہم حکمراں (یا ڈکٹیٹر) کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار چاپلوسی کی بنیاد پر نہیں چنتا بلکہ ان کی مہارت اور علم کی بنیاد پر ان کے مشوروں کو سنتا ہے اور ان کو اہم پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے تمام مدد مہیا کرتا ہے۔ مشرف کے بارے میں افواہ گشت کرتی رہتی تھی کہ وہ اپنے فوجی ساتھیوں سے شکایت کرتا تھا کہ ”مجھے دکھ اور پریشانی ہوتی ہے کہ اگر کم پڑھ یا جاہل لوگ میری بات نہیں سمجھتے تو کوئی بات نہیں مگر پڑھے لکھے لوگ میری بات نہیں سمجھتے۔“ وجہ آپ پر عیاں ہے۔ بندوق کی لبلبی دبانے اور عقل و فہم کی بات کرنے میں فرق صاف ظاہر ہے۔
خودغرض اور موقع پرست لوگ ایسے حکمرانوں کی جھوٹی تعریف میں قلابے ملا دیتے ہیں اور اس کو افلاطون بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ان حرکتوں سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردیتے ہیں۔ یہ لوگ ہٹلر اور اس کے وزیر پروپیگنڈہ کے طریق کار پر عمل کر کے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ حکمراں اس کو سچ ماننے لگتا ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے۔ نتائج ملک کی تباہی کی شکل میں نکلتے ہیں اسی قسم کا ایک جھوٹ مجیب الرحمن نے بولا تھا کہ جوٹ کی قیمت فروخت سے حاصل کردہ رقم سے مغربی پاکستان والوں نے کراچی کی فٹ پاتھیں سونے کی اینٹوں سے سجائی تھیں۔ جھوٹ بڑا تھا فوراً قبول ہوگیا۔
میں دسمبر کے چوتھے ہفتہ میں کرسمس کے موقع پر پاکستان آیا تھا۔ یہ 1975ء کی بات ہے یعنی تقریباً 33 سال پہلے۔ میں بھٹو صاحب کی درخواست پر آیا تھا اور بیگم، دونوں بیٹیاں (7 سال اور 1/2 5 سال) اور مجھے 15 جنوری کو واپس جانا تھا۔ بھٹو صاحب کی مخلصانہ درخواست اور وطن کے مفادات کی خاطر ہم نے ایک لمحہ بھی تامل نہیں کیا اور بہترین کیریئر، بڑی تنخواہ اور اعلیٰ سہولتیں چھوڑ کر رک گئے۔ یہاں پہلی تنخواہ 3 ہزار روپے چھ ماہ بعد ملی نہ ہی حکومت نے کچھ پیشکش کی #
عجب نعمت عطا کی ہے خدا نے اہل عزت کو
عجب یہ لوگ ہیں غم کھا کے دل کو شاد کرتے ہیں
ملک کے نام نہاد ماہر سائنسدانوں نے بھٹو صاحب اور غلام اسحاق خان صاحب کے کان بھرے کہ یہ نوجوان انجان چھوکرا آپ کو بے وقوف بنانے آیا ہے چند دن کھائے گا پیئے گا اور راستہ لے گا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں اور مشکلات بتائیں اور یہ بھی کہ دنیا کے صرف تین نہایت ترقی یافتہ ممالک یعنی ہالینڈ، جرمنی اور انگلینڈ اس میں مہارت رکھتے ہیں اور انہوں نے یہ مہارت 20 سال کی محنت اور تقریباً 2/ارب ڈالر خرچ کر کے حاصل کی ہے۔بھٹو صاحب اور غلام اسحاق خان صاحب اصحاب بصیرت تھے۔ انہیں میری راست گوئی پر قطعی شک نہ تھا اور نہ ہی میں نے کوئی غلط بات ان سے کہی۔ مجھ سے بعض لوگوں نے کہا کہ ان سے کہہ دوں تین سال میں ایٹم بم بنا دیں گے۔
میں نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا وہ اس بیان بازی پر اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے اور پھر منہ کی کھانا پڑتی اور چند مشہور سائنسدانوں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی غار میں 2 یا 3 ہزار ٹن آتشی مادہ رکھ کر اور اس میں کوئی تابکاری مادہ رکھ کر دھماکا کردیں اور بھٹو صاحب کو تسکین ہو جائے گی اور ان کا جنون ختم ہو جائے گا۔ دیکھئے سیاستدان اگر جھوٹ بولیں تو یہ ان کا پیشہ ہے اور وہ بے شرمی سے اپنے پیشے کی پریکٹس عام سیدھے سادے عوام پر کرتے رہتے ہیں لیکن ہم سائنسدانوں اور انجینئروں پر یہ فرض ہے کہ اپنے پیشے اور ضمیر کا لحاظ رکھ کر ہمیشہ سچ بولیں۔ میں نے تو ہمیشہ اسی اصول پر کام کیا اور کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا #
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
عرض مدعا یہ ہے کہ میں نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر ناممکن کو ممکن کردیا اور صرف 8 سال کے قلیل عرصہ میں اور نہایت خطیر رقم خرچ کر کے اس پسماندہ ملک کو ایک ایٹمی قوت بنا دیا۔ بھٹو صاحب، غلام اسحاق خان اور جنرل ضیاء الحق نے بلا خوف و خطر پوری مدد دی۔ نیک نیتی اور صدق دل و محنت سے جو کام بھی کیا جائے اللہ تعالیٰ یقیناً کامیابی عطا کرتا ہے۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کی مدد سے یہ ملک ایک میزائل قوت بنا۔ میری درخواست پر انہوں نے مجھے چین اور شمالی کوریا سے میزائل پروگرام حاصل کرنے اور شروع کرنے کی اجازت دی اس میں جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اگر لاتعداد خودغرض، راشی، ضمیر فروش اس ملک کو بھوکے بھیڑیوں کی طرح کھانے میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر بھی بہت سے مخلص، دیندار اور اہل ہنر دل و جان سے خدمت کر کے اس وطن عزیز کو آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ ہم انشاء اللہ ان لوگوں کی مدد سے اس ملک کو ایک ترقی یافتہ، فلاحی اسلامی مملکت بنا دیں گے۔
میں اپنی زندگی کا بیشتر بلکہ تقریباً تمام حصہ گزار چکا ہوں۔ جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو سکون و اطمینان قلب ہوتا ہے کہ میں نے اپنی بساط کے مطابق اپنے وطن عزیز کی خدمت کردی۔ میں نے اپنے ملک پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اس بڑے احسان کا جو اس ملک نے مجھ پر کیا ہے ، تھوڑا بہت حصہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے تقریباً 15 سال یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور فنی مہارت حاصل کی اور میں اس کو ملک کے مزید اہم کاموں کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ 1999ء میں میں نے سیارہ فضا میں چھوڑنے کی تجویز پیش کی مگر اس ایف اے پاس ڈکٹیٹر نے منظور نہیں کی۔ بہرحال مجھے وطن عزیز کی خدمت پر فخر ہے میں نے ایٹمی، میزائل قوت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ لاتعداد تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کئے ہیں اور خیبر سے گوادر لوگوں کے دلوں میں جو میری محبت ہے وہ میرا سب سے بڑا انعام ہے۔ ایک ذلیل، غدار غیرملکی ایجنٹ نے صدارت کا خول پہن کر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر اپنے مکروہ ارادے میں ناکام رہا اور خود سخت ذلیل و خوار ہو کر ایوان صدر سے نکالا گیا اب یہ خودساختہ کمانڈو زندگی بھر اس ملک کی سڑک پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ عوام اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل و کوؤں کو کھلا دیں گے۔ میرا تعلق تو سترہ کروڑ عوام سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور مجھے وطن عزیز کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمارے سامنے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کی سنہری مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے جان دے دی مگر ملک کا سودا نہیں کیا اور زندہ جاوید ہوگئے۔ یہی وجہ ”سحر ہونے تک“ کے موضوع سے گاہے بگاہے اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے یعنی #
”شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
عبداللہ آدم (13-01-11), عروج (12-01-11)
پرانا 12-01-11, 02:32 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبردست تحریر ھے۔۔۔۔۔ شکریہ۔
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فنی, فروخت, فرض, کالج, کراچی, پاکستانی, پسند, وزیر, قرآن, چین, مجید, ایٹم بم, بے نظیر, تلاش, تعلیم, جاہل, خدا, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, سودا, سائنس, شمالی کوریا, عقل, غار, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 07:52 AM
ترقیاتی ادارے نے ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں اسلام آبادکو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا وجدان خبریں 0 11-02-08 10:25 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 09:29 AM
جنرل پر ویز کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 10:39 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger