05-01-08, 10:31 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیاسی طوفان اور اس کے بھیانک اثرات,,,,,اکرام سہگل
سیاسی طوفان اور اس کے بھیانک اثرات,,,,,اکرام سہگل
سیاسی طوفان اور اس کے بھیانک اثرات,,,,,اکرام سہگل
بعض اوقات قدرتی آفات کسی ملک میں ایسے سیاسی طوفان کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں جس سے احساس محرومی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ جس سے ملک کو نتیجتاً ناقابل فراموش سانحہ سے گزرنا پڑتاہے۔ ایسا ہی بدترین ساحلی طوفان سابقہ مشرقی پاکستان جمعہ 13 نومبر 1970ء کو پیش آیا۔ چار سے پانچ دن کے اس طوفان کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً50 ہزار سے 20 لاکھ افراد تباہ و برباد ہو گئے۔خلیج بنگال کے کئی جزائر صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے۔ صرف چند ہیلی کاپٹر اس وقت مغربی پاکستان سے صبح تڑکے تا شام امداد لے کر پہنچے۔ ایک پاکستانی جس نے یہ مناظر دیکھے ہوں گے وہ یہ بھیانک مناظر آج تک ذہنوں سے فراموش نہ کر سکا ہو گا۔ نومبر/دسمبر 1970ء سیکڑوں ہوائی جہازوں نے امدادی کارروائی کا آغاز کیا۔ ہر گھنٹے میں یہ جہاز امدادی سامان لے کر آ رہے تھے۔ سامان ہیلی کاپٹر، ٹرک، ریل اور دریائی راستے سے پہنچایا جا رہا تھا۔ اس وقت کرنل(بعد میں میجر جنرل بنے) نصر اللہ بابر امدادی کارروائی کے لیے آرمی ایویشن کی کمان کر رہے تھے۔ میجر(بعد میں بریگیڈیر ہوئے) ترمذ نے کرنل بابر سے امدادی کارروائی کی درخواست کی تھی۔ کرنل بابر نے ڈھاکہ ایئرپورٹ پر تمام امدادی کارروائی کو بحسن و خوبی ادا کیا۔ بہت سے لوگ جو آج بنگلہ دیش میں اور پاکستان میں ہیں آج بھی انہیں یاد ہو گا کہ لاکھوں افراد، خوراک، پانی، طبی امداد اور پناہ کی عدم دستیابی کا شکار تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ ساحلی علاقوں میں امداد پہنچنا ناممکن تھی لیکن کرنل نصر اللہ خان بابر اپنی پوری توانائی، حرکت کو بروئے کار لائے چونکہ یہ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ نومبر 1970ء میں پیش آنے والی اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے مشرقی کمانڈ نے طوفان سے متاثرہ علاقوں کے لیے24 گھنٹے اپنی ڈیوٹیاں انجام دیں۔ یہی وجہ یعنی سابقہ مشرقی پاکستان میں دسمبر میں ہونے والے الیکشن کو ملتوی کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس وقت دوسری جانب ہیلی کاپٹر سے تاخیر سے امدادی کارروائی کو پاکستان مخالف گروہ نے اس کا غلط فائدہ اٹھایا۔ احساس محرومی اجاگر کیا گیا۔ سیکڑوں ہیلی کاپٹر دیگر ممالک سے امدادی سامان لے کر پہنچ رہے تھے۔ اس طرح پاکستان سے بھی روزانہ 4 سے 5 مرتبہ ہوائی راستہ سے امداد پہنچائی جاتی رہی۔ 3 یا 4 ہفتے بعد ملک میں الیکشن کرانا، جب کہ اس وقت ملک جذباتی کیفیت سے دوچار ہے، مزید مسائل کا باعث ہو گا اور اگر الیکشن ملتوی کرتے ہیں تو ملک ایسے انتشاروابتری کا شکار ہو گا جس سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح سابق مشرقی پاکستان میں طوفان کے ایک سال بعد ملک ٹوٹنے کا سانحہ ہوا۔ محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پورے ملک میں سیاسی طوفان عروج پر ہے۔ اگر الیکشن ہوتے ہیں، بدعنوانی کا تاثر قائم رہے گا، ہمیں ایک اور عظیم سانحہ سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جو ہوسکا ہے کہ 1971ء کے سانحہ سے کچھ کم نہ ہو۔کچھ سیاست دان چاہتے ہیں کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہی ہوں جب کہ صورت حال انتہائی گمبھیر نظر آتی ہے جسے نظر انداز ہرگزنہیں کیا جا سکتا۔اپوزیشن کے بلند دعوے چاہے کچھ بھی ہوں، ان کے الزام کا جواز کچھ بھی ہے۔ تمام اطلاعات کے مطابق دھاندلی کا میکنزم ترتیب دیا جا چکا ہے جس میں پنجاب کی 148 قومی نشستوں میں سے 100 سے 90 نشستیں حاصل کی جائیں گی جب کہ 60 تقریباً50 نشستیں بغیر بدعنوانی کے جیت سکیں گے۔وزیراعظم کی نشست کے لیے ہم خیال جماعتیں یعنی ایم کیو ایم اور جے یو آئی(ایف) و دیگر کے ساتھ اتحاد بنے گا۔ اگرچہ فوج عملی طور پر اس فراڈ کا حصہ نہ ہو گی۔ کچھ خفیہ ایجنسیاں اور ان کے اہل کار اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں پر ہونے والی بدعنوانی سے فوج کا کوئی تعلق نہ ہوگا پھر بھی الزام ان پر آ سکتا ہے۔ کیا صدر مشرف دوسروں کے مفادات و گناہ کے لیے آرمی کا سہارا لے سکتے ہیں۔ کیا اس انتخابی دھاندلی(Electorial cheat) کے الزام کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان تمام خدشات کے باوجود اپوزیشن کا یہ مطالبہ ہے کہ الیکشن صاف ومنصفانہ فوج کی نگرانی میں ہوں۔ نشستوں کی جیت کا حساب واضح ہے۔ 272 قومی نشستوں میں سے تقریباً 55 ایم کیو ایم، جے یو آئی(ایف)، اے این پی، بلوچستان نیشنل پارٹی و دیگر جماعتیں مل کر حاصل کر سکیں گی۔ اب باقی بچی217 سیٹیں۔ بغیر دھاندلی کے پی ایم ایل (Q) تقریباً 45 تا50 سیٹیں حاصل کرے گی۔ فرض کریں کم سے کم 45 سیٹیں۔ تو باقی بچی 172 سیٹیں۔ اس سے پی پی پی 80 تا 85 سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔ فرض کریں زیادہ سے زیادہ 90 سیٹیں۔ اس طرح پی ایم ایل (این) زیادہ سے زیادہ 85 سیٹیں حاصل کر سکے گی۔ پی پی پی اور پی ایم ایل(این) دونوں بڑھ چڑھ کر اپنی فتح کا دعویٰ کر رہی ہیں یعنی 130 سیٹیں یہ دونوں جماعتیں جیت لیں گی یا یوں کہیے کہ یہ 40 سے 45 موجودہ صورت حال میں منصفانہ الیکشن ہونے پر زیادہ سیٹیں حاصل کر سکتی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں اپنے بڑے دعوؤں کے مطابق اگر الیکشن میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں تو پھر یہ بدعنوانی کے الزام کو ضرور استعمال کریں گی۔ چاہے الیکشن میں دھاندلی نہ بھی ہو۔ پھر دوبارہ احتجاج اور عوامی ردعمل شروع کیا جائے گا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ ان پارٹیوں کے مقاصد یا حکمت عملی میں شامل بھی ہے۔ باالفاظِ دیگر ایسی فضا قائم کی جائے گی کہ صدر مشرف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جا سکے۔ پی پی پی کا الیکشن کے سلسلے میں فیصلہ جرأت مندانہ صحیح لیکن سیاسی طور پر یہ بہت کم تر فیصلہ ہے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد پی پی پی چاہتی ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں تا کہ اسے ہمدردی کے ووٹ حاصل ہو جائیں۔ بہرحال پی پی پی کا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تو یہ درست فیصلہ ہے کیونکہ موجودہ صورت حال کے بعد پارٹی قیادت میں دراڑ پڑنے کی کئی وجوہات موجود ہیں۔ طلسمی لیڈر کی شہادت کے عوض ہمدردی کے ووٹ تو حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن ملک کے شدید بحران کے خطرے پر، پی پی پی کو بطور قومی پارٹی ہمدردی کے ووٹ کے فائدے کا نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ بہتر تو یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی یاد جس کی وہ مستحق ہیں، بہتر طریقے سے منائی جائے اور نئی تاریخ پر ہونے والے الیکشن میں بہتر تیاری کے ساتھ حصہ لے۔ لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ خاموش اکثریت زیادہ دیر تک خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی اور جب اکثریت احتجاج اور ردِعمل پر مجبور ہوئی تو فوج کے لیے بھی کنٹرول کرنا ناممکن ہو گا۔ 29 دسمبر 2007ء کے بعد جو ”انارکی“ اور بھاری نقصان دیکھنے میں آیا ہے یہ دونوں پارٹیوں کے لیے آزمائش ہے۔ یہ پارٹیاں بدعنوانی کا الزام لگائیں خواہ بدعنوانی ہو یا نہ ہو، قابل توجہ ہے۔ اگر الیکشن کی مدت میں توسیع کی جاتی ہے اور نگراں حکومت میں غیر جانبدار اراکین کو شامل کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر الیکشن کمیشن کی صاف اور شفاف الیکشن کے لیے دوبارہ تشکیل ہوتی ہے اور عوامی مطالبہ کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے تو پھر بھی الیکشن کے نتائج دونوں پارٹیاں تسلیم نہیں کریں گی۔ یہ پاکستان کا 'Catch22' ہے۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو!
|
|
|