| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 54
کمائي: 1,591
شکریہ: 0
27 مراسلہ میں 61 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکبان ادب
سپنوں کا تاج محل انسانی جذبات کی رنگارنگی اور حقیقتوں کا ایک افسانچہ جس کی بنیاد سچے واقعات پر رکھی گئی بہت سے بے وطنوں کے سفر کی ایک کہانی، ایک ایسا سفر جس کی منزل پانا آسان نہیں ميرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے .. ميں جس مکان ميں رھتا ھوں اس کو گھر کردے بیٹا، دیارِ غیر میں کفایت شعاری کو اپنا اصول بناکر زندگی گزارنا، تاکہ تم وطن واپس آکر سکھی رہو، اور ہم سے یہ دوری رائیگاں نہ جائے۔” جالب نے دوسری مرتبہ خط پڑھا، تہہ کرکے الماری کی دراز میں رکھا، اور بستر پر نیم دراز ہوکر سوچنے لگا۔ “میرے والدین، اور بہن بھائی مجھ سے کس قدر محبّت کرتے ہیں۔” اس کے والدین ہمیشہ اپنے خطوط میں کسی بھی قسم کے مالی مطالبات کے بجائے دعائیں، اور نصیحتیں ہی لکھتے۔جالب کو سعودی عرب کی سخت موسم کی زمین پر آئے ہوئے پانچ برس ہوچلے تھے۔ اس دوران اس کے سول انجینیئرنگ کے پیشہِ نے کاروباری سفروں کی زیادتی کی سبب اسے پاکستان جانے کی مہلت کم ہی دی تھی۔ وہ جب بھی پاکستان جاتا، سب کے لیے حسبِ مراتب تحفے تحائف لے جاتا۔ اس کے بیوی بچّے اس کی قربت، پیار اور شفقت کے منتظر رہتے، اور اس کے عارضی قیام سے ہی ان کے گلشن میں پھول کھِل اٹھتے اور آنکھوں میں دیئے جل جاتے۔ جالب کی سعودی عرب واپسی کے وقت اس کے بیوی بچّوں کی آنکھیں نم ہوتیں اور اس کا دل بھی پگھل جاتا۔ “اس مرتبہ واپس جاکر میں تمھارے ویزا کے لیے کوشش کروںگا۔” اس نے رخسانہ اور بچّوں سے وعدہ کیا۔ گزشتہ قیامِ پاکستان کے دوران جالب نے اپنی پس انداز کی ہوئی رقم سے ایک ٹکڑا ء زمین خریدا، اور اس پر ایک نسبتاً وسیع مکان کی تعمیر کی دیکھ بھال کی ذمہّ داری اپنے بڑے بھائی سلیم کے سپرد کردی۔ زمین خریدنے کے ساتھ ہی جالب نے لاہور سے شائع شدہ مکان کے نقشوں کی ایک کتاب ”نقشِ دوام“ بھی خرید کر سلیم کے حوالہِ کی، جس میں بڑی تعداد میں خوبصورت گھروں کے بنے بنائے نقشے موجود تھے۔ رخسانہ اور دیگر اہلِ خاندان نے مل کر ایک دل کش نقشہ منتخب کیا، جو سب کو ہی بہت پسند آیا۔ سلیم اور چھوٹا بھائی نعیم اس سے بہت خوش ہوئے، والد نے بھی مبارک باد دی، اور کامیابی کی دعا کی۔ “تمہارے تجویزکردہ مکان سے نہ صرف کرائے کے گھروں سے نجات ملے گی، بلکہ خاندان کو ساتھ رہنے کی بھی سہولت ہوجائے گی، اور تم سب میں ایکا رہے گا۔” جالب نے بھی خوش آئند مستقبل کے بارے میں سوچا، والدین ، سلیم اور نعیم کے چہروں پر مُسرّت اور برادرانہ محبّت کے آثار دیکھ کر اس کا دل ایک گونہ اطمینان سے معمور ہوگیا۔ سعودی عرب واپس آتے ہی جالب نے اپنے باس کو فیملی ویزا کے لیے درخواست دی، اور اس کے باعزّت پیشہِ، تجربہ، اور مرتبہ کے باعث اسے جلد ہی فیملی بلانے کی اجازت مل گئی۔ اس کی بیوی رخسانہ اور دونوں بچّے عمران اور فرقان جلد ہی جدّہ پہنچ گئے۔ جالب شادی کے چند ماہ بعد ہی سعودی عرب آگیا تھا، اور اب وہ نہایت ہی دل چسپی سے گھر کی نوک پلک درست کرنے میں لگا ہوا تھا۔ رخسانہ کے آرٹسٹک خیالات نے گھر کا نقشہ جلد ہی بدل کر رکھ دیا۔ ایک بیچلر کے گھر اور خاتونِ خانہ کے زیر انتظام گھر کا فرق واضح تھا۔ رخسانہ اور بچّے اس کے ساتھ رہ کر نہال ہوئے جاتے۔ جالب کو رخسانہ کی شراکت میں عائلی زندگی کی قوسِ قزح دیکھنے اور زندگی کا بھرپور لطف اٹھانے کا موقع ملا۔ رخسانہ کے ہاتھ کے پکائے ہوئے کھانوں میں کیا ہی لذّت تھی۔ جالب نے کئی برسوں کی تنہا زندگی میں تمام کوششوں کے باوجود کھانا پکانے میں کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا تھا۔ اور اب اسے جنّت کے کھانوں کا لطف آرہا تھا۔ جمعرات اور جمعہ کی چھٹّیوں میں وہ اکثر مدینة المنوّرہ حاضری دینے چلے جاتے، یا پھر عمرہ ادا کرنے مکّہ المُکرّمہ جاتے، رمضانوں میں اور حج کے زمانہِ میں اکثر مقامی اور غیر مقامی مہمان عمرہ اور حج کے ارادہ سے آجاتے، اور جالب اور رخسانہ ان کی مہمانداری اور خاطر داری میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ بچّوں اور رخسانہ کو فلیٹوں کے گھٹن آمیز ماحول سے دور لے جانے کے لیے جالب اکثر جدّہ کے خوب صورت ساحل پر چلا جاتا، اور وہاں بے شمار جھولے، آئسکریم، اور مقامی چھولوں کی ڈِش ”بلیلہ“ بچّوں کے منتظر ہوتے۔ فلیٹ میں بچّوں کو زورسے چلنے اور بھاگنے کی ممانعت تھی، کیونکہ اس سے نیچے رہنے والی عرب فیملی کو تکلیف پہنچتی اور جالب اور رخسانہ پڑوسیوں کے حقوق کا از حد خیال رکھنے کے قائل تھے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے جالب بچّوں کو گھمانے پھرانے کا زیادہ خیال رکھتا۔ اکثر وہ بچّوں سے کہتا، “بیٹا یہ چند دنوں کا مسئلہ ہے، آپ کا اپنا گھر زیرِ تعمیر ہے، اور جلد ہی ہم پاکستان مستقل رہائش کے لیے جا سکیں گے۔ پھر آپ کو اپنے گھر میں مُکمّل آزادی ہوگی۔ جالب ، رخسانہ کے سادہ اسلوبِ زندگی سے شدید متاءثر ہوتا۔ وہ ہر وقت کفایت کو مدّنظر رکھتی، اور پیسہ بچانے پر زور دیتی رہتی۔ اسی لیے ہر ہفتہ نہ چاہنے پر بھی جالب کو تھوک مارکیٹوں کے چکّر لگانے پڑتے، تاکہ گھریلو ضروریات کی اشیاء نسبتاً کم قیمت پر مل جائیں۔ رخسانہ بچّوں کے اور اپنے کپڑے گھر ہی میں سی لیتی۔ ایک دن شادی کی سال گرہ کے موقع پر جالب اسے جوہری کی دکان پر لے گیا۔ “رخسانہ، آج تم اپنی پسند کا ایک سیٹ منتخب کرو۔۔۔” مگر وہ رخسانہ کا جواب سن کر حیران رہ گیا۔ “نہیں جالب، میں کوئی سونے اور جواہرات کا سیٹ نہیں خریدوں گی۔ جب تک کہ ہمارے گھر کی تعمیر مُکمّل نہیں ہوجاتی۔” رخسانہ بولی۔ “اچّھا، چلو، ایک خوب صورت سی انگشتری ہی سہی”، جالب نے اس کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے جواب دیا۔ رخسانہ کی کنگنوں سے عاری باہوں کی طرف دیکھتے ہوئے وہ دل میں خوش تھا کہ رخسانہ کس قدر عقل مندی اورزیرکی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ واقعی گھر کا مُکمّل ہوجانا ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے رخسانہ ہر محنت اور قربانی دینے کو تیّار رہتی ہے۔ سلیم پاکستان میں تن دہی کے ساتھ مکان کی تعمیر میں مصروف تھا۔ وقتاً فوقتاً تعمیری مراحل کی ترقّی کے بارے میں اس کے خطوط آتے ۔۔۔ “بھائی جان، آج مکان کی چھت بھی پڑگئی ہے، اب آپ اس کی فنشنگ کے لیے انتظام کیجئے۔” جالب تنخواہ ملتے ہی اس کا ایک بڑا حصّہ تعمیر کی مد میں بھیج دیتا۔ اور ایسا کرنا رخسانہ کی قناعت پسند شخصیت، اور کفایت شعار زندگی کی وجہ سے ہی ممکن ہوتا۔ سادہ مگر مطمئن زندگی کا بُرش ان کے خوابوں میں آہستہ، آہستہ رنگ بھر رہا تھا، اور ان کا گھر تیزی سے مُکمّل ہورہاتھا۔ آج جالب، رخسانہ ، ان کے بچّے عمران اور فرقان بہت ہی خوش تھے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا جمبو جیٹ طیّارہ جلد ہی قائدِ اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر اترنے والا تھا۔ وہ اور رخسانہ مستقبل کے تانے بانے بُننے میں مصروف ہی تھے کہ انہیں ائیرہوسٹس کی آواز سنائی دی، “خواتین اور حضرات، ہمیں اُمّید ہے کہ آپ کا سفر خوش گوار گزرا ہوگا۔ برائے مہربانی اپنی سیٹ بیلٹس باندھ لیجئے، ہم جلد ہی قائد اعظم انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اُترنے والے ہیں، اب آپ کا خدا ہی حافظ ۔” ائیر ہوسٹس کے ان ذو معنی، پُرمزاح الفاظ اور مطالب پر جالب اور رخسانہ بھی دیگر مسافروں کی طرح کھلکھلا اٹّھے۔ “واقعی، پاکستان کی سرزمین پر موجودہ برادرکُش حالات میں اللہ ہی حافظ ہے۔” وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ تاہم، کسٹم کے مراحل توقّع کے خلاف باآسانی طے ہوئے۔ ہاکی کے درخشاں ستارہِ اور کسٹم آفیسر حسن سردار نے اِن کا استقبال ایک وی آئی پی کی طرح کیا۔ یہ موجودہ حکومت کی آزادانہ اور مُنصفانہ پالیسیاں تھیں جنہوں نے مسافروں کے ساتھ انسانیت کا سلوک عام کردیا تھا۔ ایئرپورٹ پر سب ہی گھر والے استقبال کے لیے موجود تھے۔ جالب اور رخسانہ کا دل چاہ رہا تھا کہ کاش پی آئی اے کا جہاز ان کے گھر کے سامنے ہی اُترا ہوتا، اور وہ اسے دیکھنے کے لیے مزید انتظار سے بچ جاتے۔ گلشن آباد پہنچ کر گھر کا بیرونی حصّہ دیکھ کر رخسانہ تعمیر کی خوبصورتی اور کاری گری کی بے ساختہ داد دیئے بغیر نہ رہ سکی۔ “سلیم بھائی، آپ نے تو کمال ہی کردیا، یہ تو بالکل نقشہِ اور ہمارے تصوّرات کے مطابق، بلکہ اس سے بڑھ کر ہی ہے۔” وہ بولی۔ “بھابھی، ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے، ذرا اندر چل کر تو دیکھیے۔۔” سلیم نے چمکتے چہرے کے ساتھ اسے جواب دیا۔ گھر واقعی حُسنِ تعمیر کا ایک نمونہ پیش کر رہا تھا۔ رخسانہ اور جالب نے سجدہ ء شکر ادا کیا، کہ ان کی قُربانیاں رنگ لائیں، اور ان کے خوابوں کی تعبیر انہیں مل گئی۔ اب وہ پاکستان میں مستقل قیام کے منصوبہِ کو قطعی شکل دے سکتے تھے۔ عمران اور فرقان باالخصوص بہت ہی خوش و خرّم تھے۔ جدّہ کے فلیٹوں کی زندگی میں اور اس گھر کے وسیع صحن اور دالانوں میں ایک پنجرہ اور باغ جیسا فرق تھا۔ وہ کمروں اور دالانوں میں چہلیں کرتے، دوڑتے اور شور مچاتے پھر رہے تھے۔ جالب، سلیم، نعیم، رخسانہ اور ان کے والدین بہت دیر تک خاندان، ملکی حالات، سعودی عرب کی سخت محنت کش زندگی، اخراجات زندگی، بچت کے طریقوں، حج و عمرہ، اور دیگر موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔ جالب نے خاص طور پر مکان بنانے کے سلسلہِ میں سلیم کی دل چسپی کا شکریہ ادا کیا، اور اس ضمن میں رخسانہ کی قربانیوں کا خصوصی ذکر کیا۔ سب نے ہی دل کھول کر رخسانہ کو داد دی۔ رخسانہ بجا طور پر فخراور انبساط سے پھولی نہ سماتی۔ رات گئے سلیم بولا: “آئیے بھائی صاحب، آپ کو مہمان خانہ دکھادوں، آپ کا تمام سامان وہاں حفاظت سے رکھ دیا گیا ہے۔” ”چلو۔“ جالب اور رخسانہ بہ یک وقت بول اٹّھے۔ رخسانہ جلد از جلد اپنے کمرہ میں جاکر سفر کی تھکان اتارنا چاہتی ، اور آرام کرنے کے متعلّق سوچ رہی تھی۔ ”تو، جناب، یہ ہے ہمارا خوب صورت اور وسیع مہمان خانہ، جہاں آپ اپنی چھٹّیوں کے دوران لطف اٹھائیں گے۔ بھائی صاحب، اُمّید ہے کہ آپ کو مکان میں کی گئی خصوصی تبدیلیاں پسند آئی ہوں گی۔“ رخسانہ اور جالب کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ کیا یہ سلیم ہی کہہ رہا تھا ! جالب کے ذہن میں بجلیاں سی کُوندنے لگیں۔ “کیا ہماری حیثیت صرف ایک مہمان کی سی ہی ہے؟ اور وہ صاحبِ خانہ کا تصوّر ! ” ایسا محسوس ہورہا تھا، جیسے کہ کسی نازک آبگینہ کی طرح وہ تصّور چکنا چور ہوگیا ہو۔ اور کسی خوب صورت خواب سے آنکھ کھل گئی ہو۔ اسی دوران ملحقہ برآمدہِ سے نعیم کی ایک زور دار گرج سنائی دی۔ “اے شیطان کے بچّو، اب یہ شور و غل مچانا بند کرو ، مجھے آج ایک لمحہ بھی پڑھنے لکھنے نہیں دیا، تم دونوں نے۔ نہ جانے کب دفعان ہوگے، تم لوگ ۔۔۔۔” اس پر سلیم کی سرگوشی نما آواز سنائی دی۔۔ “نعیم، چند دن میری طرح برداشت کرلو، کہیں بھیّا نہ سن لیں۔” عمران اور فرقان سہم کر جالب، رخسانہ سے آن لگے۔ رخسانہ کو کچھ ایسا لگا جیسے کہِ ان کے پاﺅں تلے زمین نکل گئی ، سر سے چادر اور آسمان اچانک ہٹ گیا ہو۔ رخسانہ اور جالب کے لیے آرزوﺅں سے تعمیر کیا گیا گھر آناً فاناً سپنوں کے تاج محل میں تبدیل ہوگیا۔ ایک مقبرہ ء آرزو، جسے وہ شاہ جہاں جیسے صرف ایک قیدی کی طرح ہی دیکھ سکتے تھے۔ اگلے روز رخسانہ اور جالب بچّوں کو لے کر رخسانہ کے میکہِ ملنے چلے گئے۔ واپسی میں شام ہوگئی۔ بچّے راستہ میں بھوک، بھوک کا راگ الاپنے لگے۔ “بچّو، گھر قریب ہی تو ہے، بس ذرا سی دیر ہی کی تو بات ہے۔” جالب ٹیکسی کے پیسے ادا کرکے آگے بڑھا، اور دروازہ کو دھکّا دینے کی کوشش کی۔ مگر وہ مُقفّل تھا۔ گھنٹی بجانا بھی بے سوُد ہی رہا۔ گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ اس تگ و دو میں ۲۰ منٹ گزر گئے اور بچّے بھوک سے بے حال ہوکر مزید بے چینی کا اظہار کرنے لگے۔ اب جالب اور رخسانہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اس دوران سلیم اور نعیم آتے دکھائی دیئے۔ “گھر میں تالہ کیوں پڑا ہے، اور سب کہاں ہیں؟” جالب برس پڑا۔ “بھائی صاحب، زمانہ بہت خراب ہے، چوری چکاری اور ڈکیتیاں عام ہیں، احتیاط تو کرنا ہی پڑتی ہے۔ اور آخر آپ کو انتظار ہی کتنا کرنا پڑا ہے! مجھے سامنے مارکیٹ میں گئے ہوئے دس پندرہ منٹ ہی تو ہوئے ہوں گے۔۔” سلیم نے برا سا منہ بنا کر اپنی صفائی پیش کی۔ “مگر، تم مجھے بھی ایک اضافی چابی دے سکتے تھے، تاکہ مجھے اس صورت میں آنے جانے میں کوئی تکلیف نہ ہوتی۔۔” جالب نے اپنے غّصّہ پر بمشکل قابو پاتے ہوئے کہا۔ سلیم اور نعیم نے جواب دیئے بغیر آگے بڑھ کردروازہ کھول دیا، اور نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ جدّہ کے لیے پروازکرتے ہوئے جالب اور رخسانہ سوچ رہے تھے کہ اب “گھر” کہاں تعمیر کیا جائے! جالب زیرِ لب غالب کا یہ شعر دہرا رہا تھا: ۔ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے .. دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا اورزندگی کی تلخ حقیقتوں سے بے خبر بچّے خوش تھے کہ وہ اس نئی قسم کی روک ٹوک سے آزاد، اپنے پنجرہ کی طرف واپس جارہے ہیں۔ جہاز میں بیٹھتے ہوئے جالب اور رخسانہ نے پی آئی اے کے دیئے ہوئے معطّر ٹشو پیپر سے اپنے آنسو پونچھے، اور ایک نئے عزم اور حقیقتوں کے ادراک کے ساتھ عازمِ سفر ہوگئے۔ جہاز ۱۰،۰۰۰ میٹر بلندی پر ۸۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا کے دوش پر اڑا چلا جارہا تھا۔ اور جالب یہ سوچ رہا تھا کہ “ہم کئی برسوں کی کاوشوں کے باوجود اب بھی اپنے گھر کی زمین سے ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ اس وقت یہ تیز رفتار جیٹ طیاّرہ ۔ ” اس نے رخسانہ کے چہرہ کی جانب دیکھا، اس کی آنکھوں کی نمی میں بھی یہ ہی سوال تیر رہا تھا، “نہ جانے یہ سفر کب تک جاری رہے گا؟” (c) 1990-2008 - This literary Blog is Syndicated by Justuju Research and Publishing - All Rights Reserved ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں دیکھیے اب ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws — The writer and the syndicating agency, Justuju Research and Publishing hereby grant a permission for printing and reproduction of this article under a “Fair usage” universal non commercial license Last edited by Hashims; 15-02-08 at 10:27 AM. |
|
|
|
| Hashims کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (22-02-08) |
![]() |
| Tags |
| images, mughal, pakistani, کمال, پھول, پاکستان, پسند, واقعات, لوگ, چور, موجودہ, ممکن, اللہ, بھائی, تاج, جواب, جلد, حسن, خوش, خلاف, خبر, خدا, راستہ, عقل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تین پٹھانوں کے پولٹری فار م تھے انسپیکشن میں انسپکٹر نے پوچھا | The Great | قہقہے ہی قہقے | 6 | 29-08-11 11:26 AM |
| ای اسلام ایکسپلورر | محمدعدنان | موبائلز سیٹنگز اور سوفٹ ویر | 4 | 11-01-11 06:24 PM |
| حقیقی زندگی میں سپنوں کا شہزادہ مل گیا ،ثانیہ مرزا | گلاب خان | کھیل اور کھلاڑی | 4 | 20-12-10 05:25 AM |
| میر ے سپنوں کو سدا یونھی مہکتا رکھنا ۔ ۔ ۔ | The Great | شعر و شاعری | 11 | 30-09-09 02:47 PM |
| اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ | Zullu230 | شعر و شاعری | 4 | 10-04-08 05:05 AM |