| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر : محمودالحق
آج ہم جس طرف بھی نظرڈالیں بحث و مباحث کا بازارگرم نظرآتا ہے ۔ملکی سیاست سے لیکر چینی کی عدم دستیابی تک ہر ضروری اور غیر ضروری موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔اپنی کہی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور آواز کو دوسروں سے بہت اونچا رکھنے سے کیا جا رہا ہے ۔ایک کے بعد ایک لطیفہ منظر عام پہ آرہا ہے ۔قوم میں مایوسی کا بڑھنا اضطراب کا موجب بن رہا ہے۔ خاندان میں مردوں اور گھروں میں خواتین کا کردار ہمارے معاشرے میں کیا اہمیت رکھتا ہے ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔مگر آہستہ آہستہ کچھ ان دیکھے انداز میں تبدیلی کا عمل معاشرے میں کسی زہر کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے۔اور جسے ہم غیر اہم قرار دے کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے جا رہے ہیں۔ مگر بلی جدید ٹیکنالوجی یعنی انٹر نیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی صورت اختیار کئے دھاک لگائے بیٹھی ہے۔اور اس انتظار میں ہے ،کہ اجتماعیت کی موجودگی میں شائد وہ اپنا کام نہ کر سکے۔ مگر انفرادیت کی وبا میں اسے اپنا کام دکھانے میں خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔اور ایک کے بعد ایک اس کا لقمہ خواہش بنتا جا رہا ہے۔اور بچنے والے سہمے ہوئے پنجرے کے اندر بھی غیر محفوط محسوس کر رہے ہیں ۔پنجرہ مضبوط کرنے سے شائد جان تو بچ جائے۔ مگر خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے چھٹکارہ پانا تبھی ممکن ہے جب بلی تھیلے میں بند کر کے دور پہنچا دی جائے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے سے مسئلہ کا حل ممکن نظر نہیں آتا ۔کسی کا چہرہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑوں سے سرخ نہیں کیا جا تا ۔جیسے آج ہمارے ٹی وی پروگرام کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہے ہیں ۔ کسی ریڑھی فروش کی طرح مکھیاں اڑاتے ہوئے اونچی آواز میں گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ہر نئی ایجاد و اختراح کو اندھا دھند تقلید کی سولی پر چڑھا دیتے ہیں ۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جن لوگوں کو اپنے باسی پروگرام کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ وہ اخلاقی ، سماجی ، تمدنی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے اس بیماری کو جھیلنے کی ہمت رکھتے بھی ہیں یا کہ اس کے سائیڈ افیکٹ سے نئی بیماری کا شکار ہو جائیں۔برداشت ، صبر ، اخوت ، رواداری،محبت اور یگانگت جیسے قوی افکار بھی سبب مرض ،کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔ ہر گلی کی نکڑ سیاست کا اکھاڑا معلوم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے پر اچھل اچھل کر الزام لگانے میں شاہی وفاداری کا تمغہ سجانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ جس انگلی کو اُٹھانا مغربی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں بندوق کی نالی کی طرح اکڑا کر رکھا جاتا ہے۔ اور اسی سے شخصیت پر حملہ کے لئے تلوار کا کام لیا جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کون ہیں ۔کن کی نیابت اسلاف سنبھالے ہوئے ہیں۔ہماری طاقت کس میں ہے ، ہماری کمزوری کیا ہے۔طاقت کے استعمال سے جو قوم نہ جھک سکی ۔ اب وہ اپنے کمزور پہلوؤں سے صیاد کے چنگل میں آتی جارہی ہے۔ پشاور سے لیکر کراچی تک ٹیلیفون کی لائینوں کے ساتھ اب کیبل نیٹ ورک کےذریعے سے وہی کلچر پروان چڑھایا جارہا ۔ جس میں تقسیم ہند سے پہلےہمارے بچوں کو جب ہندوانہ رسومات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی ۔تو پورا مسلم معاشرہ ہی سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ مگر کیا ہوا کہ آج گھر گھر میں ، ہر گلی کی نکڑ میں وہی تہذیب و ثقافت کا پرچار ہے۔ اور ہم ہیں کہ اپس میں اختلافات کی جنگ جیتنے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی کوشش میں ہیں۔مذہب ، سیاست ، معاشرت بری طرح سے متاثر نظر آتی ہے۔ہم تقسیم ہو چکے ہیں ۔ برادریوں ذاتوں میں ، سیاسی جماعتوں میں اور رہی سہی کسر فرقہ بندیوں نے پوری کردی۔ آج مجھے ایک کہاوت میں اس بوڑھے کبوتر کا اپنے ساتھ دوسرے قید پرندوں کو دیا گیا مشورہ یاد آتا ہے ۔کہ جب انہوں نے باہمی اتفاق سے ایک ساتھ پروں کو پھیلایا اور جال سمیت اُڑ گئے۔ در دستک / محمودالحق کا بلاگ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (12-01-10), منتظمین (25-12-09), محمدعدنان (26-12-09), ایس اے نقوی (25-12-09), رانا امر (25-12-09), راجہ اکرام (25-12-09), شاہ جی 90 (01-03-10), عامرشہزاد (25-12-09) |
| کمائي نے بزم خیال کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 25-12-09 | ایس اے نقوی | سمت پرواز کیا ہے | 150 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ محمود بھائی
بہت اچھے انداز میں سمت پرواز کی جانب توجہ دلائی آپ نے، ہم در اصل تقلید اغیار میں اپنے مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اپنی اصلیت کھوتے جا رہے ہیں۔ اور جو اپنے مرکز سے دور ہوتے ہیں ان کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے اگر جدیدیت کی بلی اسی طرح ہمارے تعاقب میں رہی اور ہم کبوتر کی طرح یا تو آنکھیں بند کر کے بیٹھےرہے یا بوڑھے کبوتر کے مشورے پر عمل نہ کیا تو ’ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں‘۔خاک ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے ایک بار پھر شکریہ اور ہدیہ تبرتک قبول کیجئے۔ و السلام راجہ اکرام
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ محمود بھائی
بہت اچھے انداز میں سمت پرواز کی جانب توجہ دلائی آپ نے، ہم در اصل تقلید اغیار میں اپنے مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اپنی اصلیت کھوتے جا رہے ہیں۔ اور جو اپنے مرکز سے دور ہوتے ہیں ان کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے اگر جدیدیت کی بلی اسی طرح ہمارے تعاقب میں رہی اور ہم کبوتر کی طرح یا تو آنکھیں بند کر کے بیٹھےرہے یا بوڑھے کبوتر کے مشورے پر عمل نہ کیا تو ’ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں‘۔خاک ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے ایک بار پھر شکریہ اور ہدیہ تبرتک قبول کیجئے۔ و السلام راجہ اکرام |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (25-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
ماشاءاللہ بہت ہیخوبصورت انداز بیاں ہے محمود بھائی آپلا
آپ کو اس تحریر پر منتظمین کیطرف سے 500 پوائینٹ دیئے جاتے ہیں معذرت کہ باقی کے 350 پوائینٹ ارسال کرنے کےلئے سسٹم اجازت نہیں دے رہا انشاءاللہ ارسال کر دیئے جائیں گے Last edited by ایس اے نقوی; 25-12-09 at 11:52 AM. وجہ: پوائینٹ ارسال نہ ہو سکنے پر ایڈیٹ کیا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
سرورق کےلئے تجویز کرتا ہوں شکریہ
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے تجویز کرتا ہوں۔
اور انجم بھائی میرا نام شامل کرنا ضروری نہیں ہے۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی
آپ کا ویسے ہی ٹھیک ٹھاک رعب ہے، اگر مزید رعب بڑھانے کی کوشش کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن بوڑھا کبوتر کہا سے آہے گا
ہم تو سب جوان کبوتر ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت شکریہ راجہ بھائی جن کی یہ ایجادات ہیں وہاں آج بھی سڑکوں ، شاپنگ پلازوں اور یونیورسٹیوں میں پبلک بوتھ موجود ہیں ۔ نہ تو موبائل فون سستے ہیں اور نہ ہی چند ڈالر یا پاؤنڈ کے عوض دنیا بھر کے چینل فری ہیں۔ لوگ ضرورت اور جیب کے مطابق چند پر اکتفا کرتے ہیں ۔ سکولنگ، میڈیکل اور ان ایملائنمنٹ تو غریبوں کو مفت ہیں مگر فون اور ڈش چینل نہیں ۔ ہمارے ہاں سب سے سستا موبائل فون اور کیبل نیٹ ورک ہیں ۔ دو یا تین سو ماہانہ پر آپ کے گھر موجود ہیں ۔ مگر تعلیم اور غریبوں کا علاج مشکل ہے۔ یہ تو ایسا معاملہ ہے کہ پتھر باندھے ہوئے ہیں اور کتے کھلے چھوڑے ہوئے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایس اے نقوی بھائی اور منتظمین بھائی آپ کا شکریہ میری تحریر کو اس قابل سمجھا ۔ آپ سب کی حوصلہ افزائی ہی کسی انعام و اکرام سے کم نہیں۔
والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بوڑھا کبوتر تو صرف مشورہ دے پائے گا اور طاقت سے اُ ڑنے کا دم تو جوان کبوتر کے ہی پاس ہے------------ --- شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے اور انہیں نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔
|
|
|
|
| بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (01-03-10) |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محمود بھائی آپ نے بالکل درست فرمایا، انہوں نے یہ اشیاء ایجاد تو کیں لیکن استعمال میں اعتدال کی روش کو ترک نہیں کیا ان کے فوائد کے حصول کے ساتھ ساتھ نقصانات سے تحفظ کا بھی بھرپور خیال رکھا۔ اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تقلید کے خوگر ہیں، نظریات سے لے کر آلات تک، ہر وہ چیز جو وہاں سے آتی ہے اس کے استعمال میںہم ایسی روش اختیار کرتے ہیں کہ خود بنانے والے بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ بطور خاص موبائل اور چینلز جن کی طرف آپ نے توجہ دلائی واقعی خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (28-12-09), شاہ جی 90 (01-03-10) |
![]() |
| Tags |
| com, کوشش, کلچر, کراچی, پشاور, قید, لطیفہ, مکھیاں, میڈیا, ممکن, معلوم, معاشرہ, الزام, انداز, احتجاج, بے, بچوں, بازی, تحریر, حل, خواتین, سیاست, عدم, صیاد, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|