| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
صاحبو اور احبابو، السلام علیکم
ان نکات کو لکھنے سے پہلے ہی میںیہ عرض کردینا چاہتا ہوںکہ یہاں آنے والا ہر ایک مذہبی سیاست کا گماشتہ صرف مجھ پر توجہ دے گا، مجھ سے جرح کرے گا کہ میںنے جو لکھا غلط ہے۔ مخلصانہ استدعا یہ ہے کہ آپ کو جو بھی غلط نطر آئے نظر انداز کرتے جائیے۔ اس کی جگہ کیا درست ہے وہ درست عطا فرمائیے۔ ساری دنیا پر حکومت و اقتدار، کوئی نیا نظریہ نہیںہے۔ کبھی سکندر دنیا فتح کرنے نکلا اور کبھی پیٹر دی گریٹ۔ یوروپی اقوام ہی نہیں، ایشیاء کی تمام قوموں میں کبھی چنگیز خان ملتا ہے تو کبھی مسلم فاتحین۔ سب لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ سے حملے (جی ہاں حملے) کئے اور تمام دنیا کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام فاتحین میں ایک دھاگہ مشترک ہے وہ ہیں جنگیں۔ جنگیں مسلم فاتحین نے بھی لڑیں اور بڑے بڑے علاقہ فتح کئے۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بین الاقوامی اور بیں البرِاعظمی فتوحات ختم ہوجاتی ہیں، ان ممالک کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ کچھ قومیں باوجود اپنی کوشش کے پستیوں کے مکیں بن جاتی ہیں۔ اس انتہائی محنت کے ساتھ، لاکھوں لوگوں کا خون بہا کر لڑی جانی والی جنگوں کا "سواد" ، فاتحین قومیں بہت تھوڑا عرصے ہی اٹھا پاتی ہیں۔ کیا فتوحات کی ناکامیوں میں بدل جانے کی کوئی معقول وجہ ہے؟ مسلمانوں کی پستی کے بارے میں لگ بھگ سو سال پہلے ایک نقیب یہی پکار ،شکوہ اور جواب شکوہ کی شکل میں دے کر چلا گیا۔ آج مسلمانوں کی جو حالت زار ہے وہ اتنی خراب ہے کہ خود مسلمانوں کو بھی اس کا اندازہ نہیں۔ تاریکیوں کے جس اندھیرے کنویں میں مسلمان غرق ہے ، اس کی تہہ سے تو ابھی پانی کی سطح بھی دور ہے، منڈیر تک پہنچنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ اس کے برعکس دنیا کا ایک ملک --- امریکہ --- آج ایسا ہے کہ عروج کی ان منزلوں پر ہے جہاں سے کنویں کی منڈیر کیا ، کنواں بھی نظر نہیںآتا۔ دنیا بھر میںایک ہزار سے زائید چھاؤنیاں، مستعد افواج، بہترین معیشیت، امن و امان کی اعلی مثال، مالیاتی ترقی کی اوج ثریا پر مقیم یہ قوم خود ایک حلیم طبع قوم ہے کہ چھوٹے چھوٹے ممالک کو کچھ نا کچھ امداد دیتی رہتی ہے۔ آج دنیا کو یونی پولر کہا جاتا ہے کہ سارا اثر و نفوذ امریکہ کے ہاتھ میںہے۔ روس و چین بھی امریکہ کے سامنے ہاتھ جوڑتے نظر آتے ہیں۔ آپ متفق ہوں یا نا ہوں، جو حقیقت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کی اقوام عالم میں کیا قدر و قیمت ہے؟ اس کا نظام ایک مظبوط نظام ہے۔ اس ترقی، اس عروج کے پیچھے راز کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ اللہ کی ساری زمین کا یہ اقتدار، آج امریکہ کے ہاتھ میں کیوںہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس اقتدار پر بیٹھے ہیں، وہ کون سے اصول ہیں جن پر یہ قوم کاربند ہے؟ جب ہم اس کا جواب اللہ کی کتاب قرآن مجید میںتلاش کرتے ہیں تو زمین پر اللہ کا خلیفہ بننے کے معیار واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالی زمین کے اقتدار ، کا وعدہ فرماتے ہیں : 24:55 وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ وعدہ فرمایا ہے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور کیے اُنہوں نے اچھے عمل کہ ضرور خلیفہ بنائے گا ان کو زمین میں جس طرح خلیفہ بنایا تھا اس نے ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے اور ضرور قائم کردے گا مضبوط بُنیادوں پر اُن کے لیے اُن کے اس دین کو جسے پسند کرلیا ہے اللہ نے ان کے لیے اور ضرور بدل دے گا ان کی حالتِ خوف کو امن سے۔ بس وہ میری عبادت کرتے رہیں اور نہ شریک بنائیں میرے ساتھ کسی کو اور جو کفر کرے گا اس کے بعد تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ جب مسلم اقوام یہ سوال کرتی ہیںکہ آج کے دور میں زمین میں مظبوط بنیادوں پر قائم اقتدار کن لوگوں کا ہے تو جواب یہ نہیں ملتا۔۔۔۔ کہ مسلم کا! تو کیا مسلم اپنے کسی عمل کی وجہ سے فاسقوں میں شمار ہورہے ہیں؟ کیا یاس کی وجہ ِ شرک ہے؟ کیا مسلماں آج من حیث القوم شرک کا شکار ہیں؟ کیا مسلمانوں نے اللہ کی عبادت چھوڑ کر اب انسانوں کو سجدہ شروع کردیا ہے؟ کیا اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر انسانوں کی کتب کی پیروی شروع کردی ہے؟ کیا وقت کے ساتھ ساتھ توحید و شرک کا تصور مدغم ہوگیا ہے؟ کیا رسول عربی کی سنت میں اتنی ملاوٹ کردی گئی ہے کہ توحید اور شرک کا تصور ہی مٹ گیا ہے؟ یا پھر اللہ تعالی کے وعدے کو اتفاقیہ سمجھا جائے ؟ یعنی نعوذ باللہ، کیا اللہ تعالی نے ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا؟ مزید دیکھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ وعدہ کوئی نیا وعدہ نہیں ہے۔۔۔۔ یہ وعدہ تو آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے کا ہے کہ مقصد تحلیق ہی یہی تھا۔ 2:30 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُّفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے غور کیجئے کہ زمیں میںخلافت، اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ 6:165 وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے تو یہ ایک اتفاقیہ وعدہ نہیں بلکہ انسان کا مقصدِ تخلیق ہے۔ مزید دیکھتے ہیں کہ کیا اللہ تعالی کی یہ سنت تبدیل ہوئی یا اس میں کوئی تحویل آئی؟ اللہ تعالی قرآن حکیم میں ، اپنے زبور میں کئے ہوئے وعدے کو قرآن حکیم میں دہراتا ہے۔ یہ وعدہ زبور میںبھی موجود ہے۔ 21:105 وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے کیا اللہ تعالی کہ یہ وعدہ سچا ہے؟ ( نعوذ باللہ) یا پھر مسلم آج نیکو کار نہیں؟ 6:133 وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ اور آپ کا رب بے نیاز ہے، (بڑی) رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جسے چاہے (تمہارا) جانشین بنا دے جیسا کہ اس نے دوسرے لوگوں کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہے یہ آیات مسلم کو سوچنے کے لئے مزید نکات فراہم کرتی ہیں کہ وہ کیا وجوہات ہیں کہ آج مسلمان قوم دنیا کی پست ترین قوم ہے۔ غور کیجئے تو ایک طویل لسٹ ہے ان قرآنی آیات کی جن کی مسلم قوم صریح خلاف ورزی کررہی ہے۔ آج اساتذہ اسلام --- زیر ناف مسائیل ---- میںاس قدر کھو گئے ہیں کہ وہ آنکھ اٹھا کر افق کی طرف دیکھنے کے بھی لائق نہیں۔ آپس کی فرقہ بندی سے نجات نہیں ملتی۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے وقت نہیں ملتا۔ تو اس طرف توجہ کے لئے وقت کہاں سے لائیں۔ آئیے دیکھتے ہیں پہلے گیارہ نکات جن پر مسلمان آج عمل نہیں کرتا۔ ان میںسے ہر نکتہ کا بنیادی اصول قرآن حکیم کی کسی آیت کا اختصار ہے۔ مقصد ان نکات کا ایک بنیادی سوچ فراہم کرنا ہے۔ ایک صحت مندانہ بحثکو جنم دینا ہے کہ مسلماں کو اپنا لائحہ عمل کیا بنانا چاہئیے۔ کہ زمین میں اقتدار مسلمان کا حق ہو۔ "اسلام" یعنی سلامتی کی حالت میں جینے کا ، حکومت کرنے کا، عدل کرنے کا ، انسانی حقوق مآپنے کا کیا طریقہ و پیمانہ ہوگا۔ اللہ تعالی نے فرمایا 1۔ اے لوگو ۔۔۔۔ کیا جواب دیامسلمان نے، اللہ کے فرمان کے مطابق عوام کی جمہوری حکومت کو کافر کون قرار دیتا ہے؟ 2۔ متحد رہو،----------- کیا اتحاد ہے مسلمان میں، آج 60 ریاستوں میں اور 777 فرقوں میں کون بٹا ہے؟ 3۔ لوگوںسے مساوات کرو۔۔۔۔ کیا مساوات ہے مسلمان میں؟ ( کیا مسلم ممالک میں ملکیت خریدنے کا حق، کاروبار کرنے کا حق مساوی ہے؟) 4۔ غلامی ختم کرو ۔۔۔۔ کیا ختم کردی مسلمان نے؟ ( مسلم ممالک میں غلامی کیا ختم ہوگئی؟) 5۔ فلاحی ریاست قائم کرو ۔۔۔۔ کیا قائم کرلی مسلمان نے؟ ( امریکہ کے فلاحی نظام کے بارے میں آپ نے کبھی کچھ پڑھا ہے) 6۔ عدل کیا کرو ۔۔۔۔ کیا نظام عدل قائم کرلیا مسلمان نے؟ ( کمزور کو دبانا عدل ؟؟؟؟ٌ) 7۔ ٹیکس دیا کرو تاکہ معیشیت فروغ پائے۔۔۔۔۔ کیا نظام زکواۃ قائم کردیا مسلمان نے۔ (مناسب ٹیکس سسٹم اور زکواۃ پر مسلمان کے اختلافات ختم ہوگئے کیا؟) 8۔ مل کر مشاورت سے باہمی فیصلہ کرو۔۔۔۔ کیا مشاورتی نظام قائم کرلیا مسلمان نے۔ ( کہاںہے وہ بااختیار مجلس شوری ، جس کے گن گائے جاتے ہیں؟؟) 9۔ ملکیت کی حفاظت کرو۔۔۔۔ کیا حفاظتی نظام ہے مسلمان کے پاس؟ (سارے عالم اسلام کی پولیس دیکھ لو۔ کیا بیٹیاں جدہ سے دمام بے خطر بھیج سکتے ہیں؟؟؟؟ امریکہ کی بیٹیاں محفوظ، نیویارک سے سان فرانسسکو تک روز جاتی ہیں) 10۔ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرو ۔۔۔۔۔ مسلمان عورتوں کی آبرو نہیں رکھی تو دوسروں کی کیا رکھئے گا؟ (بازاروں میں ہونے والی واہیات حرکات، کیا امریکہ میںپائی جاتی ہیں یا سعودی عرب اور پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں ؟) مزید 12 سے 999 تک نکات ابھی نہیں لکھ رہا۔ ان نکات پر توجہ دینے کی کوشش کیجئے۔ امریکہ یا مسلمان کی برائی مقصود نہیں۔ مسلمان کی کمزوری نمایان کرنا مقصود ہے کہ مسلمان ان کمزوریوں کا تدارک کرسکے۔ اب اس روشنی میں بتائیے کہ کس ملک میں اللہ تعالی کی کتاب کے اصولوں کے مطابق نظام قائم ہے؟ دعاؤں میں یاد رکھئے ۔ خلوص کے ساتھ۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 27-12-09 at 01:45 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (16-12-09), نیلم خان (16-12-09), منتظمین (16-12-09), حیدر (26-12-09), حیدر Rehan (27-12-09), حسنین ایوب (27-12-09) |
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (16-12-09), میاں شاہد (25-12-09), حیدر (26-12-09), حیدر Rehan (27-12-09), عادل سہیل (25-12-09), عبداللہ آدم (17-02-10), عبداللہ حیدر (26-12-09) |
| کمائي نے راجہ اکرام کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 25-12-09 | میاں شاہد | 100% agreed | 150 |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (26-12-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
جی میںچاہتا ہوں کہ اصل معاملے پر توجہ دی جائے۔ جو نکات پیش کئے ہیں ان پر غور کیا جائے۔
میری ذات کو آپ جتنا چاہے تختہٰمشق بنائے۔ مجھے کوئی فرق تو پڑتا ہی نہیں ۔۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں بھائ۔ ![]() اس بار آپ نکات پر توجہ دے لیجئے۔ اور جو کچھ پسند نا آئے بخوشی رد کردیجئے۔ میرا مقصد ہے کہ مسلم کی شان میں اضافہ ہو۔ اس کے لئے یہ سرجری کرنی پڑی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیئرنگ ہے
۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (16-12-09), حیدر (26-12-09) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی راجی اکرام کی طرح میں بھی کسی کے بھی """ گماشتوں """ کیصف میں شامل نہیں ہونا چاہتا ، لیکن یہ ضرور دریافت کرنا چاہتو ہوں کہ """ امریکہ کے گماشتے """ نے اپنی خلاف قران قران فہمی کے مطابق اللہ کے کلام پاک کی باطل تاویلات اور واضح جھوٹے دعووں کے ذریعے کافروں کو اللہ کی خلافت کا حق دار ثابت کر لیا ہیا ابھی کچھ اور دلائل باقی ہیں ، اگر کچھ ہیں تو ایک ہی دفعہ پیش کر دیے جائیں ، پھر ان شا اللہ غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درست کو ظاہر کیا جائے گا ، ہم غلطیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کہ اللہ نہ کرے کہ کوئی قاری قران کے نام پر اس گمراہی کا شکار نہ ہو جو کسی کے """ گماشتے """ اپنے ،،،،،،،، کی رضا کے حصول کے لیے پھیلا رہے ہیں ، واضح رہے میں نے کسی شخص کا نام نہیں لیا اور نہ ہی لوں گا مبادہ کسی کو یہ خوش فہمی نہ کہ اس کی شخصیت پر توجہ دی جاتی ہے ، جی ہاں کسی کی غلط بیانی کی طرف ضرور توجہ دی جاتی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے اس غلط بیانی کو واضح کیا جائے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس گمراہی سے محفوظ رکھے جو """ گماشتے """ پھیلا رہے ہیں ، اب اسے کوئی اس کی شخصیت کی طرف توجہ سمجھے تو اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | میاں شاہد (25-12-09), حیدر (26-12-09), راجہ اکرام (25-12-09), طاھر (25-12-09), عبداللہ آدم (17-02-10), عبداللہ حیدر (26-12-09) |
| کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 25-12-09 | میاں شاہد | Perfect Reply | 150 |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا شاہد بھائی ، اور اھلا و سھلا و مرحبا ، بڑے عرصے بعد آئے ہیں ، ان شا اللہ با خیر و عافیت ہوں گے ، بھائی اگر ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی تو معاف فرمایے اور اس طرح غائب مت رہا کیجیے ، الکمونیا میں مت رہیے ہمیں بھی کچھ وقت دیا کیجیے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس مقصد کے لیے ہم کو امامت یا خلافت کے بارے میں اللہ کی سنت سمجھنے کی ضرورت ہے۔اللہ کی سنت وہی ہے جس کو ہم اپنی عقل سے سمجھ سکیں۔ چناچہ اگر کسی کھیت سے ہم اس وقت تک کھیتی حاصل نہیں کر سکتے، کسی کاروبار سے تب تک منافع نہیں اٹھا سکتے، جب تک کہ ہم ان کے سلسلے کی چند مخصوص شرائط کو نہ پورا کر دیں۔یہی معاملہ اس دنیا کی امامت کا بھی ہے۔
چناچہ دنیا کی امامت یا انسان کی کامیابی و ناکامی اور اس کے عروج زوال کا مدار کی دو اہم شرائط مادی طاقت اور اخلاقی طاقت ہیں۔اسے عروج حاصل ہوتا ہے تو دونوں کے بل پر ہوتا ہے اور جب وہ گرتا ہےتو اُسی وقت گرتا ہے جب یہ دونوں طاقتیں اس کے ہاتھ سے جاتی ہیں یا ان میں وہ دوسروں کی نسبت کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں اصل فیصلہ کن اہمیت اخلاقی طاقت ہے نہ کہ مادی طاقت کی۔ جو انسان کو گراتی اور اٹھاتی ہے اور جسے اس کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں سب سےبڑھ کر عمل دخل حاصل ہے وہ اخلاقی طاقت ہی ہے۔ پس اسکی وہ امتیازی خصوصیت جو اسکو دیگر انواع سے ممیز کرتی اور خلیفۃ اللہ فی الارض بناتی ہے وہ اسکا اخلاقی اختیار اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل ہونا ہے۔۔اخلاقی قوانین ہی انسان کے عروج زوال پر فرماں روا ہیں۔ جب ہم اخلاقیات کا تجزیہ کرتے ہیں تو اصولی طور پر ہمیں یہ دو بڑے شعبوں میں منقسم نظر آتے ہیں۔ 1۔بنیادی انسانی اخلاقیات .....................2۔ اسلامی اخلاقیات بنیادی انسانی اخلاقیات سے مراد وہ اوصاف ہیں جن پر انسان کی اخلاقی وجود کی اساس قائم ہیں۔ان میں وہ تمام صفات شامل ہیں جو دنیا میں انسان کی کامیابی کے لیے بہر حال شرط لازم ہیں خواہ وہ صیح مقصد کے لیے کام کر رہا ہو یا غلط مقصد کے لیے۔ان بنیادی انسانی اخلاقیات میں ارادے کی طاقت۔ فیسلے کی قوت، عزم حوصلہ، صبر و ثبات، استقلال، تحمل،، برداشت، ہمت، شجاعت، مستعدی،جفاکشی، اپنے مقصد کے لیے عشق، معاملہ فہمی، تدبر، حالات کو سمجھنے اور ان کے مطابق ڈھال لینے کی صلاحیت، مناست تدابیر کرنے کی قابلیت،دوسرے انسانوں کو موہنے اور ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے اور ان سے کام لینے کی صلاحیت وغیرہ شامل ہیں۔ان میں وہ شیرفانہ خصائل بھی کسی نہ کسی حد تک شامل ہوتے ہیں یعنی خودداری،فیاضی، ہمدردی، انصاف، وسعت قلب،سچائی،امانت، پاس عہد، معقلیت،شائستگی، وغیرہ۔ ان اخلاقیات میں اس سوال کا کوئی عمل دخل نہیں کہ آدمی خدا اور وحی و آخرت کو مانتا ہے کہ نہیں، اچھے مقصد کے لیے کام کر رہا ہے یا بُرے مقصد کے لیے۔جو شخص یا گروہ یہ اوصاف اپنے اندر رکھتا ہوگا جو دنیا میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں وہ یقیناً کامیاب ہو گا اوور ان لوگوں پر بازی لے جائے گا جو اوصاف کے مقابلے میں اس کے مقابلے میں ناقص ہوں گے۔ان اوصاف کے ہونے کے لیے یا ان سے کامیابی کے لیے مومن یا کافر، مصلح یا مفسد کی کوئی شرط نہیں،۔ اب اخلاقیات کا دوسرا شعبہ جسے اسلامی اخلاقیات کا نام دیا جاتا ہے اس کی طرف آتے ہیں۔یہ بنیادی انسانی اخلاقیات سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ اسی کی تصحیح اور تکمیل ہے۔اسلام کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی اخلاقیات کو ایک صحیح مرکز و محور مہیا کر دیتا ہے جس سے وابسہ ہو کر وہ سراپا خیر ہو جاتے ہیں۔ اپنی ابتدائی صورت میں تو بنیادی انسانی اخلاقیات ایک محض قوت ہیں جو خیر بھی ہو سکتی ہے اور شر بھی۔جس طرح تلوار کا حال ہے کہ جو ڈاکو کے ہاتھ میں آلہ ظالم بھی بن سکتی ہے اور مجاہد کے ہاتھ میں وسیلہ خیر بھی۔دوسرا کام یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی اخلاقیات کو مستحکم بھی کرتا ہے اور اسکی حدود کو وسیع بھی کرتا ہے۔بنیادی انسانی اخلاقیات میں کہاں تو انسان گولیوں کی بوچھاڑ سے نہیں ڈرتا اور انکے سامنے ٹکا ہوتا ہے اور کہاں وہ نفس امارہ کی معمولئ سی تحریک کو برداشت نہیں کر پاتا اور شیطانی راہ میں بہہ جاتا ہے۔چناچہ اسلام چند حدود و قیود بھی نافذکرتا ہے اور ہر معاملے کو فی سبیل اللہ کر دیتا ہے۔اسلام کا تیسرا کام یہ ہے کہ وہ اخلاق کو شرف کی بلندیوں تکلے جاتا ہے۔ خود غرضی، نفسانیت سے پاک، بےحیائی اور خبایثت سے دور، خدا پرستی ،تقویٰ،پرہیز گاری، حق پرستی کا دور دور کرتا ہے۔انسان کے اندر اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور و احساس ابھارتا ہے۔اسکو ضبط نفس کا خوگر بناتا ہے۔اسے تمام مخلوقات کے لیے کریم، فیاض، امین، ہمدرد، بے غرض خیر خواہ، بے لوث منصف، صاد و راست باز بنا دیتا ہے۔ایک بلند پایا سیرت کی تخلیق کرتا ہے جس سے ہمیشہ صرف بھلائی کی توقع ہو اور برائی کا اندیشہ نہ ہو۔ چناچہ اللہ کی سنت در امامت فی الارض کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ "اگر دنیا میں کوئی منظم انسانی گروہ ایسا موجود نہ ہو جو اسلامی اخلاقیات اور بنادی انانی اخلاقیات دونوں سے آراستہ ہو اور پھر مادی اسباب و وسائل بھی استعمال کرےتو دنیا کی امات و قیادت لازماً ایسے گروہ کو دے دی جاتی ہے جو اسلامی اخلاقیات سے چاہے بالکل ہی عاری ہو لیکن بنیادی انسانی اخلاقیات اور مادی اسباب و وسائل سے دوسروں کی نسبت زیادہ بڑھا ہوا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بہر حال اپنی دنیا کا انتظام چاہتا ہے اور یہ انتظام اسی گروہ کے سپرد کیا جاتا ہے جو موجود گروہوں میں اہل تر ہو۔۔ لیکن اگرکوئی ایسا منظم گروہ موجود ہو جو اسلامی اخلاقیات اور بنیادی انسانی اخلاقیات دونوں میں باقی ماندہ انسانی دنیا پر فضیلیت رکھتا ہو اور وہ مادی اسباب و وسائل کے استعمال میں بھی کوتاہی نہ کرے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ اس کے مقابلےمیں کوئی دوسرا گروہ دنیا کی مات و قیادت پر قابض رہ سکے۔ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف ہے جو اس نے انسانوں کے معاملے میں مقرر کر رکھی ہے۔اللہ فساد ہر گز پسند نہیں کرتا کہ اسی دنیا میں ایک صالح گروہ انتظام عالم کو ٹھیک ٹھیک اسکی رضا کے مطابق درست رکھنے والا موجود ہو اور وہ پھر بھی مفسدوں کے ہاتھ میں اس انتظام کی باگ ڈور رہنے دے"۔مگر یاد رہے کہ اس نتیجے کا ظہور صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب ایک جماعت صالحہ ان اوصاف کی موجود ہو۔کسی ایک صالح فرد یا متفرق طور پر بہت سے صالح افراد کے موجود ہونے سے خلافت فی الارض کا نطام تبدیل نہیں ہو سکتا۔ چناچہ اس دنیا کی امات یا خلافت کے دعدے اللہ نے "امت وسط" یا "خیر امت" سے کیے ہیں یعنی کسی بہترین جماعت نہ کہ کسی بہترین فرد۔ اگر ہم آج کے بیشتر مسلمانوں کا حال دیکھیں تو ان میں مندرجہ ذیل اوصاف یا خرابیاں نظر آتی ہیں۔ 1۔مسلمان ایک امت نہیں رہے۔ فرقہ بندی سے شروع ہونے والی تقسیم عرب عجم سے ہوتی ہوئی اب ممالک حتیٰ کہ علاقائیت تک پہنچ چکی ہے۔ 2۔ مسلمانوں کی اکثریت اسلامی اخلاقیات کے وصف سے محروم و نا آشنا ہو چکے ہیں 3۔ مسلمانوں کی بڑی اکثریت بنیادی انسانی اخلاقیات کے اوصاف سے بہت دور ہے۔نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔ 4۔مادی اعتبار سے چند ممالک کو چھوڑ کر باقی تمام مسلمان ممالک صفر ہیں۔ حسین شہید سہروردی کا مشہور فقرہ یاد کیجیے : عرب+عرب+عرب+عرب=صفر چناچہ جب تک ہم مسلمان اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی اخلاقیات میں بھی دیگر ممالک یا گروہوں سے آگے نہیں نکل جاتے تب تک اس دنیا کی خلافت انگلستان کے ہاتھوں سے نکل کر جرمنی اور جاپان، پھر ان کے ہاتھوں سے نکل کر روس اور امریکہ ، پھر روس کے ہاتھوں سے نکل کر امریکہ کے ہاتھوں ، امریکہ کے ہاتھوں سے نکل کر چین کے پاس جاتی رہے گی لیکن مسلمانوں نے پاس نہیں ائے گی۔اللہ کی سنت کسی طور تبدیل نہیں ہونے والی۔ دنیا کی امات حاصل کرنے کا واحد طریقہ اپنے اندر اسلامی و بنیادی انسانی اخلاقیات کے اوصاف کو بیدار کرنا ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (28-12-09), راجہ اکرام (27-12-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ بھائی بدر الزماں۔ درج ذیل مراسلات آپ کے مراسلے میں تائیدی اضافہ ہیں ، یہ پاکستان کی برائی نہیں اور امریکہ کی تعریف نہیں۔ بلکہ مقابلہ کرکے یہ اجاگر کرنا مقصود ہے کہ ------ فرق صاف ظاہر ہے ------
اگر میںبہت سارا لکھ دیتا ہوں تو وہ اوپر اوپر سے گذر جاتا ہے۔ اور اگر ایک جملہ لکھتا ہوںتو سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہی ایک مسئلہ ہے جو میری سمجھ میں آتا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آیات ہیں جو "اسلام " کے معانی قوم و ملت کے لئے پیش کرتی ہیں۔ ایک ایک کرکے لکھتا ہوںکہ سب ساتھ دے سکیں۔۔ اس بات وہ لکھ رہا ہوں جس پر آپ کا اور میرا اتفاق ہے۔ ![]() 3۔ لوگوںسے مساوات کرو۔۔۔۔ کیا مساوات ہے مسلمان میں؟ ( کیا مسلم ممالک میں ملکیت خریدنے کا حق، کاروبار کرنے کا حق مساوی ہے؟) آپ پاکستان میںدیکھئے۔ کہ نظریاتی ---- جی نظریاتی ، قانونی یا عملی مساوات ہے؟ کیا پاکستا ن میں سب لوگ برابر کے حق دار ہیں؟ کیا لوگوں کو ان کے رنگ و نسل، علاقائی تعصبات، نسلی تعصبات، مذہبی رحجانات، جنسی رحجانات، قد و کاٹھ ، مہاجر و غیر مہاجر کی واضح شناخت نہیں ہے؟ کیا مہاجر کا فوج میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا پنجاب کا۔۔ کیا سندھی ، کراچی میں آرام سے نوکری کر تا ہے ؟ کیا بلوچی کو مساوی حقوق ہیں ، کیا ایک صوبہ کا فرد دوسرے صوبے میں جاسکتاہے؟ کیا ایک زبان ہوگئی ہے؟ کیا پٹھان کے صوبے میں اتنی ہی سڑکیںبن رہی ہیں؟ کیا لوگوں کو شکل دیکھ کر نوکری دینے سے انکار نہیں کیا جاتا؟ کیا مذہبی تعصب موجود نہیںہے؟ کیا شیعہ سنی ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے؟ جب میرے باپ کے پاس کار تھی تو اس کے باپ کے پاس گدھا گاڑی بھی نہ تھی؟ کس نے کہا تھا؟ کیا ایک معمولی ٹیچر کا بیٹا، پاکستان کا صدر بن سکتا ہے؟ یہ سب چھوڑئے، سب سے بڑی بات ، کی آپ دل سے کہہ سکتے ہیں کے پاکستان کے قانون کے مطابق، قانونی ، عملی ، نظریاتی طور پر ہر طرف مساوات ہے؟ کیا مساوات کے بارے میں اللہ کا بیان یاد نہیں ؟ یا پھر ----- امریکہ میں قائم۔ مساوات ، قانونی ، عملی اور نظریاتی مساوات کا علم نہیں۔ Last edited by فاروق سرورخان; 27-12-09 at 02:04 PM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (29-12-09) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اپنی بات کا خلاصہ بیان کر دوں۔ اس کے مطابق اس زمین پر اللہ کی خلافت یا امامت یا نیابت کا حق رکھنے والے افراد کی جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ان میں بنیادی انسانی اخلاقیات کا بدرجہ اتم ہونا لازی ہے (عزم،حوصلہ، جرات، ارادہ، لگن، سچائی، ایمانداری وغیرہ) 2۔ان میں اسلامی اخلاقیات ہونی چاہیے (ہر کام اللہ کی رضا کی خاطر،اسلامی حدود و قیود کا خیال رکھنا، وغیرہ) 3۔وہ تمام جدید مادی وسائل کو استعمال کر سکیں 4۔ ان کی ایک جمعیت یا گروہ ہو جو اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر یکسو ہو۔ چناچہ جب کسی گروہ میں یہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں تو اللہ اسکو اس دنیا مین اپنی نیابت کا حق دے دیتا ہے اور درحقیقت یہی امت وسط یا خیر امت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دنیا میں کوئی بھی ایسا گروہ نہ ہو کہ جس میں اسلامی اخلاقیات نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی بنیادی انسانی اخلاقیات کے اوصاف پائے جاتے ہوں تو اللہ دنیا کی امامت کی ذمہ داری کسی ایسے گروہ کو دے دیتا ہے جو کم از کم بنیادی انسانی اخلاقیات میں دیگر گروہوں سے متصف ہو۔بے شک وہ گروہ کوئی مشرک ہی کیوں نہ ہو۔ آج مسلمانوں میں بد قسمتی سے ان چاروں میں سے کسی بھی شرط کی تکمیل نہیں پائی جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ میں نہایت اعلیٰ پائے کے صالح افراد پائے جاتے ہیں جن کے پاؤں دھو کر پینے کو جی چاہے۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ان صالح افراد کی کوئی جمعیت یا جماعت ایسی مضبوط نہیں کہ وہ دنیا کی قیادت کا حق سنبھال سکے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان کی ہی مثال لے لیں
اس وقت اس کی قیادت جن ہاتھوں میں ہے وہ افراد دنیا کے کرپٹ ترین افراد تصور کیے جاتے ہیں۔یہ لوگ نہ صرف اسلام کے باغی ہیں بلکہ ملک کے بھی باغی ہیں (ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا بیان ذہن میں لائیے)۔ان کو ووت دینے والے افراد کی قابلیت بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ہماری قوم کی اکثریت محض روٹی کپڑا مکان جیسی مادی چیز کے دل فریب نعرے میں آ کر اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ گورنمنٹ سیکٹر میں کرپشن کی یہ انتہا ہے کہ عام بندہ سفارش اور پیسہ لگائے بغیر اپنا جائز کام نہیں کروا سکتا۔عوام الناس میں بے ایمانی کا یہ چکر ہے کہ جب کسی کو موقع ملتا ہے وہ کسی نہ کسی چیز کی بلیک مارکیٹنگ کر دیتا ہے (چینی، آتا، بجلی، پانی، دالیں، وغیرہ)۔ مکینک ہو یا مستری، مزدور ہو یا دکاندار اکثریت ایک دوسرے کو لوٹنے کے چکر میں ہے۔ جو صالح قیادت موجود ہے وہ بے دین اور کرپٹ قیادت کے پروپیگنڈے سے اس قدر بے بس ہے کہ کوئی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں ہماری قوم کی اکثریت کے پاس نہ تو بنیادی انسانی اخلاقیات پائے جاتے ہیں اور نہ ہی اسلامی اخلاقیات۔ جمعیت کا تو جنازہ ہی نکل چپکا ہے۔ اب کوئی سندھی ہے کوئی بلوچی کوئی پٹھان تو کوئی پنجابی۔ایسے میں ہم لوگ جدید ترین مادی وسائل رکھنے کے باوجود ان سے فائدہ نہیں اٹھا پار رہےاور راندہ درگاہ ہوتےجا رہے ہیں۔ چناچہ ضرورت کس بات کی ہے؟ نہ تو امریکہ بھارت روس اسرائیل کو گالیاں نکالنے اور نہ ہی انکے خلاف جہاد کرنے سے ہمارہ مسئلہ ختم ہوگا بلکہ ہم کو بنیادی اور اسلامی اخلاقیات میں خود کو اس قدر بلند کرنا ہو گا کہ دیگر گروہ ہمارے سامنے بونے ہو جائیں تو خود بخود تمام دنیا ہمارے سامنے سر نگون ہو جائے گی اور اگلی نیابت یا سپر پاور ہونے کا اختیار ہامرے پاس ہو گا۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت ہی خوبصورت بات کی ہے آپ نے، واقعی یہ خصوصیات جب کسی قوم میں پائی جائیں تو باقی دنیا اس کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہے۔ اور جو قوم طاؤس و رباب کی دلدادہ ہو جائے تو غلامی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-08-10), حیدر (27-12-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
((((( وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ::: اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ اللہ انہیں ضرور زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان سے پہلے والوں کو عطا فرمائی اور یقینا ان کے لیے ان کا وہ دِین مظبوطی کے ساتھ نافذ کر دے گا جو اللہ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا (بس انہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ) وہ میری ہی عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک مت کریں اور جو اس کے بعد بھی انکار کرے گا تو وہی لوگ فاسق ہیں ))))) سورت النور / آیت 55 ::::::: زمین میں وہ خلافت جسے اللہ کی خلافت کہا جا سکتا ہے اس کی بنیادی ترین اور سب سے پہلی شرط """ ایمان """ ہے ، وہ """ ایمان """ جس کے لانے کا حکم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ہوا ، ::::::: دوسری شرط ، """ عمل صالح """ یعنی """ نیک عمل """ ہے ، اور نیک عمل صرف وہ ہی جس میں اللہ اور رسول اللہ صلی کے کسی بھی حکم کی کسی طور نافرمانی نہ پائی جاتی ہو ، اور جو ہر لحاظ سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے نیک قرار پاتا ہو ، ::::::: تیسری شرط ، صرف اللہ کی عبادت کی جائے ، اور اس طرح کہ عابد یہ جانتا ہو کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق عبادت کسے کہتے ہیں ( عبادت کی تعریف عقیدے سے متعلقہ سوال و جواب میں لکھی جا چکی ہے ) ::::::: چوتھی شرط کی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جایا ، نہ اس کی ذات میں ، نہ اس کی صفات میں ، نہ اس کے ناموں میں ، نہ اس کی الوہیت میں ، نہ اس کی ربوبیت میں ، اور اس کے لیے بھی شرک اور توحید کو اسی طرح سمجھا جانا ضروری ہے جس طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سمجھایا ، جن لوگوں میں یہ چار شرائط پوری ہو جائیں گی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مذکورہ بالا وعدے کے مطابق انہیں زمین کی خلافت عطا فرمائے گا ، اور جن لوگوں میں یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں وہ بظاہر انسانی اخلاقیات اور اسلامی اخلاقیات سے مزین تو ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں ، انہیں اللہ سبحانہُ و تعالیٰ مادی قوت اور وسائل تو دے سکتا ہے اور دیتا رہا ہے ، حکومت تو دے سکتا ہے ، اور دیتا رہا ہے لیکن وہ کسی بھی طور """ خلیفۃ اللہ فی الارض """ نہیں ہو سکتے ۔ و السلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 01-01-10 at 06:09 PM. وجہ: font changing |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, پسند, قرآن, قرآن حکیم, قرآنی, چین, نظر, مجید, آدمی, ایمان, اللہ, امریکہ, اسلام, بہترین, توحید, جواب, جلد, خان, سیاست, شخص, عبادت, عزت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خیبرپختونخوا، شمالی بلوچستان میں بارش زیارت، گلیات، چترال اور مختلف علاقوں میں برفباری کا امکان | گلاب خان | خبریں | 0 | 19-02-11 04:44 AM |
| ذات، خلیل جبران | زارا | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 27-01-11 11:54 AM |
| کرپشن اور فرائض سے غفلت، جاپانی فضائیہ کے سربراہ برطرف | گلاب خان | خبریں | 5 | 19-12-10 03:20 AM |
| عشق ،محبت، اپنا پن | سیپ | گانے | 1 | 16-12-10 03:18 AM |
| محبت، محبت، محبت، کیا ہے یہ محبت؟؟؟ | ابو کاشان | گپ شپ | 13 | 04-04-08 09:51 AM |