| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زرداری کو مشرف سے ضرور ملنا چاہئے!,,,,قلم کمان …حامد میر
انسان خطا کا پتلا ہے۔ چھوٹی موٹی غلطیاں ہر انسان سے سرزد ہوتی ہیں۔ جس انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اُسے دوبارہ نہ دُہرائے تو ایسا انسان عقلمند کہلاتا ہے۔ جو انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ہے اُسے بہادر سمجھا جاتا ہے اور جو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی بجائے غلطی پر غلطی کرتا جائے وہ اپنا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ 9 مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کرنا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے پرویز مشرف کو بار بار اس غلطی کا احساس دلایا لیکن پرویز مشرف غلطی پر ڈٹے رہے۔ وہ اپنی فوجی وردی کی طاقت کو سیاسی طاقت سمجھتے رہے۔ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں 40 افراد کے مارے جانے کے بعد کچھ ساتھیوں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ آپ اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جلسے سے خطاب نہ کریں لیکن پرویز مشرف نے یہ مشورہ نظرانداز کر دیا۔ انہوں نے 12 مئی کی شام پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اپنے دونوں مکے لہرا کر اپنی طاقت کا اظہار کیا۔ عوام کی اکثریت نے ان مکوں کو غرور سے تعبیر کیا۔ جب بھی کوئی خیرخواہ پرویز مشرف سے کہتا کہ آپ عاجزی کا مظاہرہ کریں اور افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس واپس لے لیں تو وہ جواب میں کہتے کہ عوام کی اکثریت میرے ساتھ ہے، اگر عوام میرے خلاف ہوتے تو سڑکوں پر نکلتے لیکن سڑکوں پر کوئی نہیں نکلا۔ پھر 10 جولائی 2007ء آ گیا۔ پرویز مشرف نے اسلام آباد کی لال مسجد میں موجود طلبہ و طالبات کے خلاف آپریشن کا حکم دیدیا۔ آپریشن سے پہلے تک میڈیا میں لال مسجد کے طلبہ و طالبات کی بعض کارروائیوں کے خلاف کافی سوالات اُٹھائے جا رہے تھے اور جب مولانا عبدالعزیز کو برقعے میں فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تو میڈیا نے اُن پر تنقید بھی کی۔ میڈیا کی تنقید کا رُخ حکومت کی طرف اُس وقت مڑا جب پی ٹی پر مولانا عبدالعزیز کا ایک انٹرویو نشر کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد کسی ملزم کا زبردستی انٹرویو کرنا اور اُس سے اعتراف جرم کروانا غیرقانونی کام تھا لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ یہ انٹرویو نشر نہ کیا جائے۔ رات گئے اُس وقت کے سیکرٹری اطلاعات انور محمود نے پرویز مشرف کو کہا کہ مولانا عبدالعزیز کا برقعے میں انٹرویو نشر ہونے سے لال مسجد میں موجود طلبہ و طالبات کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے لہٰذا انٹرویو ضرور نشر کیا جائے۔ پرویز مشرف نے اجازت دیدی اور اگلے دن انٹرویو نشر کر دیا گیا۔ اس انٹرویو نے رائے عامہ کو بدل دیا۔ لال مسجد کے ناقدین مولانا عبدالعزیز کے ہمدرد بن گئے اور عبدالرشید غازی نے اپنے خاندان کی اس بے عزتی کے بعد خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ پرویز مشرف کو پھر بھی سمجھ نہ آئی اور موصوف نے لال مسجد پر حملے کا حکم دیدیا۔ مسجد کو فتح کرنے کے بعد لال رنگ کو سفید رنگ میں تبدیل کر دیا گیا لیکن رنگ کی تبدیلی سے کوئی فرق نہ پڑا اور پورے ملک میں فوج کے خلاف خودکش حملے شروع ہوگئے۔ ہر طرف خون کے سرخ چھینٹے اُڑنے لگے۔ 20 جولائی کو سپریم کورٹ نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اخلاقی طور پر پرویز مشرف کو استعفیٰ دیدینا چاہئے تھا لیکن اُنہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ قانونی جنگ میں شکست نے اُنہیں چڑچڑا بنا دیا۔ وہ ہر کسی سے لڑنے جھگڑنے لگے اور پھر دنیا نے وہ دن بھی دیکھا جب اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر پولیس نے صحافیوں کو مار مار کر اَدھ موا کر دیا۔ اُس شام مشرف بہت خوش تھے۔ 3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے فوج کی مدد سے آئین معطل کر کے ایک اور سنگین غلطی کی۔ اس غلطی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے ساتھ اپنا ڈائیلاگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کچھ عرصے کے بعد 27 دسمبر2007ء کو راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ایک اور بڑا سانحہ تھی۔ پرویز مشرف کو احساس تھا کہ اس سانحے کے چند دنوں بعد 8 جنوری 2008ء کو انتخابات منعقد ہوگئے تو پیپلزپارٹی کی دوتہائی اکثریت مل جائے گی لہٰذا انتخابات ملتوی کر دیئے گئے، 18 فروری کو انتخابات ہوئے تو پرویز مشرف کے حامی بری طرح پٹ گئے۔ یہ وہ وقت تھا کہ پرویز مشرف اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے اور صدارت سے استعفیٰ دے دیتے تو اُن کے لئے اچھا ہوتا۔ ایسی صورت میں وہ باعزت طریقے سے سیاسی منظر سے ہٹ سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پرویز مشرف نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلانے میں تاخیر کی، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ پرویز مشرف کی تمام کوشش ناکام ہوگئیں اور پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لی۔ مخلوط حکومت کی کابینہ کے حلف کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ لیں۔ یہ وہ موقع تھا جب پرویز مشرف نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن کچھ خوشامدیوں نے اُنہیں کہا کہ جناب فوج اور امریکا آپ کے ساتھ ہیں، آپ کو کوئی خطرہ نہیں لہٰذا آپ استعفیٰ نہ دیں اور موصوف نے ارادہ بدل دیا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد حالات نے ایک نئی کروٹ لی۔ پرویز مشرف کے خلاف عوام کا فیصلہ حقیقت نہ بن سکا لہٰذا بے چینی بڑھ گئی۔ آصف علی زرداری پر تنقید شروع ہوگئی اور اُنہیں پرویز مشرف کا نجات دہندہ قرار دیا جانے لگا۔ جہاندیدہ زرداری کو جلد ہی سمجھ آ گیا کہ اُنہیں کس جال میں پھانسا جا رہا ہے لہٰذا اُنہوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ سچ بول دیا کہ عوام کو روٹی اور بجلی نہیں بلکہ پرویز مشرف سے نجات چاہئے۔ اس بیان کے بعد پرویز مشرف قومی اسمبلی توڑنے کے جواز تلاش کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف آصف علی زرداری اپنا آئینی پیکیج سامنے لے آئے ہیں جس میں صدر کے آئینی اختیارات کم کئے جا رہے ہیں۔ آصف علی زرداری چیف جسٹس کے عہدے کی مدت چار یا پانچ سال کر کے نواز شریف کی حمایت حاصل کرلیں گے۔ جب آئینی پیکج پر مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کا اتفاق رائے ہو جائے تو پھر آصف علی زرداری کو پرویز مشرف سے ایک ملاقات کرنی چاہئے۔ یہ ملاقات اعلانیہ ہو غیراعلانیہ نہ ہو۔ آصف علی زرداری اس ملاقات میں پرویز مشرف کو 9 مارچ 2007ء کے بعد اُن کی غلطیوں کا احساس دلائیں اور اُن سے کہیں کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔ پرویز مشرف استعفیٰ دیدیں تو ٹھیک بصورت دیگر آصف علی زرداری انہیں بتا دیں کہ مواخذے کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اُن کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اور اس اکثریت میں مسلم لیگ (ق) کے کچھ نامی گرامی لیڈر بھی شامل ہوں گے جو اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ |
|
|
|
| تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (28-05-08) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
حامد میر نے بہت اچھا لکھا ہے۔ شیئر کرنے کا شکریہ
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,444
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, کراچی, پولیس, نواز شریف, مخلوط, مسجد, آپریشن, اسلام, بے نظیر, تلاش, جواب, جلد, جرم, حکم, خون, خودکش, خوش, خلاف, خان, دستور, رات, زرداری, سپریم, علی, صدارت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|