| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے شروع ہوتے ہیں خدا تبارک و تعالیٰ کے نیک بندے، عابدین اور زاہدین میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ انہیں زندگی میں خدا کی عبادت کا ایک اور موقع جو نصیب ہوتا ہے!!! یہ خوشی صرف عابدین اور زاہدین تک محدود نہیں بلکہ کراچی کے تاجروں اور دکانداروں کی خوشی بھی قابل دید ہے۔ بھئی تاجر بھی آخر خوشی کیوں نہ منائیں، بیچاروں کو سال میں ایک ہی بار تو غریبوں کی تھوڑی بہت پھٹی ہوئی جیب کو مزید پھاڑنے کا موقع جو ملتا ہے۔ شہر بھر کے خریداری کے مراکز اور سڑکوں پر بنے اسٹالز کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک صیام کا نہیں طعام کا مہینہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ رمضان کے شروعاتی دس دن گزرنے کے بعد کھانے پینے کی اشیاء بازاروں سے غائب ہوجائیں گی، بھئی لوگوں کے کھانے کی اسپیڈ جو بڑھ گئی ہے
![]() ہماری حکومت مہنگائی کے حوالے سے اپنی وہ عزت بچانا تو چاہتی ہے جو اس کے پاس ہے ہی نہیں لیکن غریبوں کو کھال اتارنے کا کوئی موقع بھی گنوانا نہیں چاہتی۔ ایک طرف حکومت تو دوسری طرف پاکستانی تاجر کیا بات اے جی بلے بلے !!! یہ تاجر حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ تلوں میں سے تیل کیسے نکالا جاتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ بیوروکریٹس، صنعتکاروں، سیاستدانوں، مذہبی اور سماجی رہنمائوں نے ’’جتنا پیسا اتنی بڑی افطار پارٹی‘‘ کی بنیاد پر افطار کا اہتمام کرنا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایسے راشی افسران / بیوروکریٹس تک رسائی کیسے حاصل کی جائے اور اس رسائی کے بعد فائیلوںپر دستخط کیسے لیئے جائیں۔ ڈیفنس فیز ٹو میں ایک سندھی دکاندار ہے۔ چیزیں مہنگی بیچنے کے الزام میں اس گلی کے سب دکانداروں پر جرمانہ عائد کیا گیا لیکن جب حکام اس سندھی بھائو کے دکان پر پہنچے تو انہوں نے کسی لغاری مجسٹریٹ کی لکھی ہوئی پرچی انہیں دکھاتے ہوئے کہا کہ سائیں یہ ان کی دکان ہے۔ اب اگر حکام جرمانہ عائد کرتے ہیں تو مجسٹریٹ صاحب ان کی کلاس بھی لے سکتے ہیں۔ اس لئے مذکورہ حکام نے عافیت اس ہی میں جانی کہ شرافت سے چلتے بنیں ورنہ ایک تو عزت اترے گی تو کہیں دوسری طرف نوکری کے لالے نہ پڑ جائیں۔ یہ ہمارا ملک جس کا نام لے لے کر ہم کہتے ہیں پاکستان زندہ باد۔ (: افطار پارٹیوں کا ذکر میں نے کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کسی کو افطار کرانے کے ثواب المثل کام کی مخالفت کر رہا ہوں۔ قارئین خود پڑھے لکھے ہیں، اندازہ لگا لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی حضرت مولوی مجھے فتویٰ نہ بھجوا دے۔ اگر مولوی حضرات ناراض نہ بھی ہوں تو افطار پارٹیوں کے شوقین حضرات اور اپنے مفت خور دوستوں سے میرے بچنے کا کوئی چانس نہیں۔ اس لئے کام کی بات کی جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ ’’شہری رمضان‘‘ کی رونقیں دیکھ کر مجھے دیہی رمضان یاد آتا ہے۔ ارے یہ کیا، میں نے ایک بار پھر قابل اعتراض بات لکھ ڈالی، لوگ یہ سمجھ لیں کہ کہیں میں شہری اور دیہی مولویوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔ نہیں جناب ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں یہاں بحث کرنے کو بھی تیار ہوں، شہری رمضان بالکل اس ہی طرح مختلف ہے جیسے شہری مولوی اور دیہی مولوی۔ مثال کے طور پر: شہری مولوی کا رمضان کے مہینے میں بھی نہ پیٹ کم ہوگا اور نہ ہی اس کا وزن جبکہ دیہی مولوی کا رمضان کے شروعاتی 10 دنوں میں ہی پیٹ جا کر ریڑھ کی ہڈی سے لگے گا۔ شہری مولوی رنگ برنگی روشنی کے جھرمٹ اور لائوڈ اسپیکر کی گونج میں تراویح پڑھا کر چار پانچ روز میں قرآن کریم مکمل کرا لیتا ہے جبکہ دیہی مولوی انتہائی سادگی کے ساتھ 27ویں کی شب تک تروایح پڑھا کر قرآن کریم مکمل کراتا ہے۔ شہری مولوی نے اگر کسی کو راہ چلتے کاغذ کا ٹکڑا بھی چاٹتے ہوئے یا منہ چلاتے ہوئے یا بصورت دیگر جگالی کرتے دیکھ لیا تو پھر اس شخص کا تو اللہ ہی حافظ ہے، شام تک اہلیان محلہ تک خبر پہنچ چکی ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کی بے حرمتی کے الزام میں معزز شہریوں نے ایک شخص کی دھلائی کردی۔ جبکہ دیہی مولوی نے اگر کسی کو منہ چلاتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی منہ ہی منہ میں لاحول پڑھتے ہوئے اس شخص کو دیکھتے ہوئے آگے نکل جاتے ہیں۔ شہری مولوی کے افطار میں طرح طرح کے طعام ہوتے ہیں جبکہ دیہی مولوی سنت نبوی پر عمل پیرا ہو کر کھجور یا پھر نمک کی ڈلی سے روزہ کھولتے ہیں۔ ضیاء الحق کو مرحوم تو نہیں کہنا چاہوں گا لیکن اس کے دور سے لیکر آج تک رمضان المبارک میں سختی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ضیاء صاحب نے خود کو اسلام کا ٹھیکیدار ثابت کرنے کے لئے ٹی وی پر فنکارائوں اور اداکارائوں کو دوپٹہ پہنانے اور رمضان المبارک کے احترام کے نام پر لوگوں کو بیچ سڑک بے عزت کرنے جیسی روایات شروع کیں۔ لیکن حیرت ہے کہ موجودہ جمہوری دور میں بھی ایسی روایات برقرار رکھی جا رہی ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ رمضان میں سب پر روزے فرض کئے گئے ہیں اور سوائے بیماری کے انہیں قضا نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ روزے کی فضیلت کیا ہے، اس کے طبی اور روحانی فوائد کیا ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر خدا کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیں تو ان پر ضیاء کی اسلامائیزیشن کیا اثرات مرتب کرے گی؟ ویسے بھی دیکھا جائے تو دنیا میں ایک انسان کا احتساب کرنے والا اس انسان کا ضمیر ہے۔ جب تک یہ ضمیر ایک شخص کو زلیل نہیں کرتا تب تک اس پر ضیاء ٹائپ اسلامائیزیشن کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اصل میں علمائے کرام نے عوام کو روزے کا فلسفہ سمجھانے کی صحیح کوشش نہیں کی۔ اس لئے ہماری روزے کی روح تک رسائی نہیں ہوسکی۔ کیا صرف غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک کھانا پینا بند کردینے کا نام روزہ ہے؟ ایک غیر مسلم ہونے کے باوجود میں نے اتنا ضرور سمجھا ہے کہ روزے کا مقصد اپنے آپ پر ضابطہ قائم کرنا ہے تاکہ اپنی خواہشات کو مار کر خود میں انسانیت جگائی جا سکے۔ اگر تیس روزے رکھنے کے باوجود لوگوں کا برتائو ماہِ رمضان سے پہلے جیسا ہوجائے اور خلق خدا کو نقصان پہنچانے سے بھی نہ جھجھکے، اس میں دوسرے کی بھوک اور پیاس کا احساس نہ جاگے اور وہ شخص اپنی ناجائز خواہشات کو قابو کرنے میں ناکام رہے تو پھر میرے خیال میں ایسا شخص روزے کی روح کو نہیں پرکھ سکا اور خدا تبارک و تعالی کو اس کے خواہ مخواہ میں بھوک کاٹنے اور پیاس برداشت کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوزف بھائی ماشاءاللہ اپ نے بہت ہی اہم مسلے پر اپنا قلم اٹھایا ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک اچھا کالم لکھا ہے۔ میں اس کو اپکے کالم میں منتقل کر رہا ہوں۔
جہاں تک اپ نے مہنگائی اور لوگوں کے کھانے کی رفتار میں آضافے کی بات کی ہے تو اس پر ایک کالم پہلے بھی لکھا گیا ہے۔ جس میں کچھ اراکین نے کافی اچھی معلومات باہم پہنچائی تھیں۔ یہاں پر دیکھیں۔ جہاں تک دیہی اور شہری مولوی حضرات کا تعلق ہے ہر طرح کے لوگ ہر جگہ پر پائے جاتے ہیں۔ شہروں میں بھی بڑے بڑے صاحب عمل لوگ ہیں اور دیہات میں ایک سے بڑھ کر ایک ٹھگ بیٹھا ہوا ہے۔ جیسے جیسے لوگوں کا قرآن اور حدیث کا علم بڑھتا جا رہا ہے اس قسم کے "جعلی علماء" سے عوام کی جان چھوٹتی جا رہی ہے۔ ابھی اگر ہم اج سے بیس سال پہلے اور آج والے پاکستان کا بغور مشاہدہ کریں تو بہت صاف اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں دینی علم اور فہم میں قابل قدر آضافہ ہوا ہے۔ اور یہ دین کا فہم ہی ہے کہ مذہبی دہشتگردی کی اتنی کھل کر ہر جگہ پر مذمت کی جا رہی ہے۔ میں اپکی اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ بہت سارے عام لوگوں تک رمضان کا اصل فہم اور مفہوم پہنچانے میں سستی کی گئ ہے ۔ اسلام میںواضحطور پر ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر اپنے اخلاق اور بندوں اور اللہ کے حقوق پورے نہیں کرتا اللہ کو اسکا بھوکا رہنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ باقی اگر معاشرے میں کوئی قوانین نہ اپنائے جائیں تو ہر طرف بدامنی اور افراتفری پھیل جائے۔ لیکن ان قوانین کے لاگو کرنے میں ہر شخص کی عزت نفس کہ مجروح ہونے سے بچایا جائے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-08-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
منتظمین بھائیو،
میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نیا تھریڈ پوسٹ کرنے کےلئے لنک ڈھونڈنا پڑتا ہے اور اس ہی تگ ودود میں تقریباً دس سے پندرہ منٹ ضایع ہوجاتے ہیں، کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ میں لاگ ان کروںاور نیا تھریڈ پوسٹ کرنے کے لیے مجھے لنک فرنٹ پیج پر ہی نظر آجائے ؟ |
|
|
|
| شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-08-10) |
|
|
#5 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
والسلام |
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-08-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
عبادتوں کے اس دور میں
آؤ مانگیں سب کے لیے مغفرت مانگتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ اپنے لیے چلو آج دوسروں کے لیے مانگیں رمضان کی آمد کی خوشی ہے بہت ساتھ ہی اس کے رخصت ہو جانے کا غم خدا کرے وقت تھم جائے اس وقت جب برس رہی ہو خدا کی رحمت ہم پر رمضان کے رخصت ہونے سے پہلے درِ توبہ بند ہونے سے پہلے اس مبارک مہینے کی ہر فضیلت حاصل کر لیں جو ہم گزشتہ سالوں میں حاصل نہ کر سکے رمضان مبارک ، رمضان مبارک رمضان مبارک ، رمضان مبارک آیا ہے رمضان االلہ کا احسان، ملا ہے رمضان ھم سب کا مہمان ، آیا ہے رمضان روزہ رکھیں گے ہم ،قرآں پڑھیں گے ہم پکائیں گے پکوان، آیا ھے رمضان کھانے سے رکیں ہم، غیبت سے بچیں ہم کھلے گی کم زبان، ملا ہے رمضان تراویح پڑھیں ہم، تہجد میں اٹھیں ہم سنائیں رب کو داستاں ،آیا ہے رمضان بھولیں نہ اپنوں کو ہم، کم کریں ان کے دکھوں کو ہم ہو جائیں وہ شادماں ،آیا ہے رمضان نیکیوں میں دوڑیں ہم، گناہوں کو چھوڑیں ہم راضی ہو جائے رحمٰن ،ملا ہے رمضان افطاری کرائیں ہم ،بھوکوں کو کھلائیں ہم رحمتیں برسائے آسمان ،آیا ہے رمضان لیں عفو و گزر سے کام ،کر لیں دلوں کو صاف سج جائے پھولوں سے گلدان، ملا ہے رمضان دعائیں مانگیں ہم، سب کو یاد رکھیں ہم پھر کب آئے مہماں، آیا ہے رمضان الہی کر کرم،رحم کی اک نظر سنور جائیں دو جہاں، آیا ہے رمضان مبارک رمضان،مبارک رمضان
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (14-08-10) |
![]() |
| Tags |
| com, php, کراچی, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, قرآن, نظر, مہنگائی, موجودہ, منتقل, آج, اسلام, بھائی, جواب, حدیث, حضرات, رفتار, روزہ, رمضان, سال, شخص, عبادت, عزت, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|