دوستی ایک عظیم ناطہ
دوستی ایک عظیم ناطہ
مغرب میں فحّاشی کی تعلیم اس قدر عام ہوئی ہے کہ اب وہاں کے عام ذہن کا شخص کے بدن کا لباس میں چھپے ہونے کو اس انسان کی تنگ نظری پر دلیل دیتے ہیں۔ ان کی کسی خیر کے کام میں اتنی توانائی صرف نہیں ہوتی جتنی مسلمانوں کے خلاف تبلیغ میں کہ یہ بڑے تنگ نظر لوگ ہیں کہ عورتیں مختصر لباس نہیں پہنتیں۔ دراصل اہل مغرب عیسائیت کی ہی نفی کر رہے ہیں اور پکّے دہری کافر بن رہے ہیں۔ مغرب میں مادی ترقّی کے ساتھ ساتھ فحّاشی کا رجحان بھی اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے صدر بل کلنٹن کے دور میں قدرت کے قوانین اور انسانی فطرت کے بالکل خلاف ایک ہی جنس کے انسانوںکی شادی کی قانونی اجازت دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی انہی دنوں ایڈز کی وبا بھی خدا کے قہر کے طور پر مغرب میں نمودار ہوئی اور باقی دنیا میں پھیلتی گئی۔
دوسری جانب ہمارے پڑوس میں چینی لوگ ہیں جن کے بارے میں ہم یہ سمجھتے رہتے ہیںکہ یہ ہمارے گہرے دوست ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ دوستوں میں کیا خامی اور خوبی ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ مختلف مزاج رکھنے والے آپس میں دوست ہوں کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمیشہ ایک دوستی کے بندھن کے لوگ ایک طبیعت کے ہوتے ہیں۔ چین کے لوگ کتّے اور بلّی کھاتے ہیں جو کہ انکی سرشت میں ہے۔ وہ لوگ پاکستان میں رہتے یہاںکے لوگوںکو بدذوق کہتے ہیںکہ کسطرح یہاں کتّے آزاد پھرتے ہیں اور لوگ انکو کھانے کا لطف نہیں اٹھاتے۔ اسکے ساتھ ساتھ چین میں بندر اور سانپ کھانے کا بھی رواج ہے اور بندر کا دماغ نہایت لذیذ سمجھا جاتا ہے۔ بندر کے دماغ کو کھانے کیلئے پہلے اس کو چاول کا شراب پلا کر نشے میں لایا جاتا ہے اسکے بعد اس کے سر کو ایک تیز ٹوکے سے ایسا کاٹا جاتا ہے کہ سر کا اوپری حصہ ہڈّی ساتھ الگ ہو جائے۔ پھر فورا“ اسکا دماغ اس صورت میں جلد نکال کر کھایا جاتا ہے کہ بندر اس دوران زندہ ہوتا ہے اور جان نہیں نکلی ہوتی ۔ یہ یقینا“ دنیا میں ایک گھٹیا حرکت ہے۔ ان لوگوں میں جو خدا کے وجود کے انکاری ہیں کس طرح کم از کم انسانی فطری جذبہ بھی نہیں ہے۔
Last edited by محمد الیاس; 04-09-08 at 12:25 AM.
|