واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


خلیفۃ اللہ فی الارض:اللہ کی زمین پر حکومت کرنے کی چند شرائط

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-12-09, 11:46 AM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,641
شکریہ: 50,033
10,124 مراسلہ میں 32,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default خلیفۃ اللہ فی الارض:اللہ کی زمین پر حکومت کرنے کی چند شرائط

خلیفۃ اللہ فی الارض:اللہ کی زمین پر حکومت کرنے کی چند شرائط

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہم کو انسانیت کی افضل ترین حالت یعنی اسلام پر پیدا کیا۔ درود و سلام اس ہستی (صل اللہ علیہ وسلم )پر جس نے انتھک کوششیں کر کے ہم کو تباہی کی گڑھے میں گرنے سے بچایا اور انسانیت کو فلاح کی راہ دکھائی۔ اس شخصیت (صل اللہ علیہ وسلم ) کی عطا کردہ تعلیمات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں ہم مسلمانوں کی امت کا مقصد وجود کچھ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے "تم ایک ایسی امت ہو جس کا مقصد وجود یہ ہے کہ وہ لوگوں پر گواہ ہو"۔ گواہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو ہدایت ہم تک نبئ پاک صل اللہ علیہ وسلم کی بدولت پہنچی اس ہدایت کو ہم اللہ کے ہر بندے تک پہنچا دیں۔گواہ ہونے سے یہ بھی مراد ہے کہ ہمارا اس ہدایت کا پہنچانا ایسا ہو کہ اللہ بروز قیامت ان گمراہوں کے سامنے جب سوال جواب کرے تو اس میں ہم کو بطور گواہ پیش کرے۔اس سلسلے میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ نرا حکم نہیں بلکہ تاکیدی حکم ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جس کے پاس (اللہ کی) کوئی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے"۔ ہم سے پہلے اس منصب پر یہودی فائز کییے گئے تھے لیکن انہوں نے کچھ تو حق کو غلط پیش کیا اور کچھ چھپایا اس پر وہ اللہ کے معتوب ٹھہرے اور راندہ درگاہ ہوئے۔چناچہ اسی گواہی کو نہ پہنچانے یا چھپانے یا غلط پہنچانے پر اللہ کی طرف سے جو سزا دی گئی انکو اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے "اور فرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت اور مسکینیت اور وہ گھر گئے غضب بعد غضب اللہ کے"۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی یہودیوں کو ایک وطن سے نکالا گیا تو کبھی دوسرے وطن سے۔ کبھی ایک جگہ ان کا قتل عام ہوا تو کبھی دوسری جگہ۔ کبھی ایک جگہ ذلت و رسوائی انکا مقدر بنی تو کبھی دوسری جگہ۔گزشتہ دو ہزار سال سے زائد کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس قوم نے در در کی ٹھوکریں کھائی ہیں اور کس کس نہج پر ذلت و مسکینیت انکا مقدر بنی ۔

آج اگر ہم مسلمانوں کی حالت جا ئزہ لیں تو یہودیوں کی حالت سے چنداں مختلف نظر نہیں آتا۔ اس دنیا کا کوئی ایسا کونا نہیں جہاں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا ہو،عزت سادات تو مٹی میں رُل ہی گئی تھی، ذلت و رسوائی کچھ یوں مقدر بنی کہ کبھی انکو آپس کے جھگڑوں نے ہلاک کیا کبھی سیکڑوں میل دور بیٹھے مہم جوؤں نے، کبھی ڈرون حملوں اور میزائل کی بارشوں میں انکے جسموں کے چیتھرے اُڑے تو کبھی اپنوں کے ہاتھوں خؤد کش حملوں میں اس قوم کے افراد اپنے پیاروں کے جسم ڈھونڈتے پھرے۔ ذلت و رسوائی کی انتہا یہ دنیا کی دولت کا بہت بڑے حصے، توانائی و تیل کے بیش قیمت ذخیروں کے مالک ہونے کے باوجود اس قوم کے افراد کی اکثریت نہ صرف جاہل و ناخواندہ ہے بلکہ خط غربت سے انتہائی نیچے رہ رہی ہے۔اس کے مقابلے میں دوسری اقوام کہ جو محض چند صدیاں قبل ذلت ، غربت، جہالت کے اندھیروں میں پڑی ہوئی تھیں وہ ہم سے بدرجہا آگے ہیں۔ اج ہم پر وہی آیت کہ جو یہودیوں کے لیے نازل ہوئی تھی صادق ہو رہی ہے کہ "اورفرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت اور مسکینیت اور وہ گھر گئے غضب بعد غضب اللہ کے"۔وہی مسلمان کہ جو دنیا کی دو سپر طاقتوں کو نہ صرف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر چُکے تھے بلکہ انکو ایسا چکنا چور کیا تھا کہ لوگ اب انکو صرف قصے کہانیوں میں پڑھتے ہیں بلکہ ایک طرف بلاد اسلامیہ کی حدود اگر ایشیا کے مکران کے ساحلوں تک تھیں تو دوسرے طرح یورپ کا اسپین سے آگے مالٹا کے جزائر ہماری افواج کے قدمون تلے روندے جا چُکے تھے۔ ایک طرف فرانس پر اسلامی پرچم لہرانے کو تھا کہ دوسری طرف اسلامی افواج ہندوستان میں پیش قدمی کرتے ہوئے ملتان سے آگے پہنچھ چکی تھیں۔وہی مسلمان آج دنیا میں 60 سے زائد ممالک رکھنے، دنیا کی دولت کا بیشتر حصہ کے مالک ہونے اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی رکھنے کے باوجود ،معمولی سے معمولی حیثیت کے غیر مسلمان ملک کے ہاتھوں رسوا ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسا فارمولا ہےجس کے تحت اللہ کی زمین پر کبھی کوئی حکمران (خلیفہ )ہوتا ہے کبھی کوئی۔ کبھی کوئی قوم بام عروج کو چھو رہی ہوتی ہے تو کبھی وہی قوم ذلت کی اتاہ گہرائ میں جا پڑتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ہم کو امات یا خلافت کے بارے میں اللہ کی سنت سمجھنے کی ضرورت ہے۔اللہ کی سنت وہی ہے جس کو ہم اپنی عقل سے سمجھ سکیں۔ چناچہ اگر کسی کھیت سے ہم اس وقت تک کھیتی حاصل نہیں کر سکتے، کسی کاروبار سے تب تک منافع نہیں اٹھا سکتے، جب تک کہ ہم ان کے سلسلے کی چند مخصوص شرائط کو نہ پورا کر دیں۔یہی معاملہ اس دنیا کی امامت کا بھی ہے۔
چناچہ دنیا کی امامت یا انسان کی کامیابی و ناکامی اور اس کے عروج زوال کا مدار کی دو اہم شرائط مادی طاقت اور اخلاقی طاقت ہیں۔اسے عروج حاصل ہوتا ہے تو دونوں کے بل پر ہوتا ہے اور جب وہ گرتا ہےتو اُسی وقت گرتا ہے جب یہ دونوں طاقتیں اس کے ہاتھ سے جاتی ہیں یا ان میں وہ دوسروں کی نسبت کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی زندگی میں اصل فیصلہ کن اہمیت اخلاقی طاقت ہے نہ کہ مادی طاقت کی۔ جو انسان کو گراتی اور اٹھاتی ہے اور جسے اس کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں سب سےبڑھ کر عمل دخل حاصل ہے وہ اخلاقی طاقت ہی ہے۔ پس اسکی وہ امتیازی خصوصیت جو اسکو دیگر انواع سے ممیز کرتی اور خلیفۃ اللہ فی الارض بناتی ہے وہ اسکا اخلاقی اختیار اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل ہونا ہے۔۔اخلاقی قوانین ہی انسان کے عروج زوال پر فرماں روا ہیں۔
جب ہم اخلاقیات کا تجزیہ کرتے ہیں تو اصولی طور پر ہمیں یہ دو بڑے شعبوں میں منقسم نظر آتے ہیں۔
1۔بنیادی انسانی اخلاقیات .....................2۔ اسلامی اخلاقیات
بنیادی انسانی اخلاقیات سے مراد وہ اوصاف ہیں جن پر انسان کی اخلاقی وجود کی اساس قائم ہیں۔ان میں وہ تمام صفات شامل ہیں جو دنیا میں انسان کی کامیابی کے لیے بہر حال شرط لازم ہیں خواہ وہ صیح مقصد کے لیے کام کر رہا ہو یا غلط مقصد کے لیے۔ان بنیادی انسانی اخلاقیات میں ارادے کی طاقت۔ فیسلے کی قوت، عزم حوصلہ، صبر و ثبات، استقلال، تحمل،، برداشت، ہمت، شجاعت، مستعدی،جفاکشی، اپنے مقصد کے لیے عشق، معاملہ فہمی، تدبر، حالات کو سمجھنے اور ان کے مطابق ڈھال لینے کی صلاحیت، مناست تدابیر کرنے کی قابلیت،دوسرے انسانوں کو موہنے اور ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے اور ان سے کام لینے کی صلاحیت وغیرہ شامل ہیں۔ان میں وہ شیرفانہ خصائل بھی کسی نہ کسی حد تک شامل ہوتے ہیں یعنی خودداری،فیاضی، ہمدردی، انصاف، وسعت قلب،سچائی،امانت، پاس عہد، معقلیت،شائستگی، وغیرہ۔
ان اخلاقیات میں اس سوال کا کوئی عمل دخل نہیں کہ آدمی خدا اور وحی و آخرت کو مانتا ہے کہ نہیں، اچھے مقصد کے لیے کام کر رہا ہے یا بُرے مقصد کے لیے۔جو شخص یا گروہ یہ اوصاف اپنے اندر رکھتا ہوگا جو دنیا میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں وہ یقیناً کامیاب ہو گا اوور ان لوگوں پر بازی لے جائے گا جو اوصاف کے مقابلے میں اس کے مقابلے میں ناقص ہوں گے۔ان اوصاف کے ہونے کے لیے یا ان سے کامیابی کے لیے مومن یا کافر، مصلح یا مفسد کی کوئی شرط نہیں،۔
اب اخلاقیات کا دوسرا شعبہ جسے اسلامی اخلاقیات کا نام دیا جاتا ہے اس کی طرف آتے ہیں۔یہ بنیادی انسانی اخلاقیات سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ اسی کی تصحیح اور تکمیل ہے۔اسلام کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی اخلاقیات کو ایک صحیح مرکز و محور مہیا کر دیتا ہے جس سے وابسہ ہو کر وہ سراپا خیر ہو جاتے ہیں۔ اپنی ابتدائی صورت میں تو بنیادی انسانی اخلاقیات ایک محض قوت ہیں جو خیر بھی ہو سکتی ہے اور شر بھی۔جس طرح تلوار کا حال ہے کہ جو ڈاکو کے ہاتھ میں آلہ ظالم بھی بن سکتی ہے اور مجاہد کے ہاتھ میں وسیلہ خیر بھی۔دوسرا کام یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی اخلاقیات کو مستحکم بھی کرتا ہے اور اسکی حدود کو وسیع بھی کرتا ہے۔بنیادی انسانی اخلاقیات میں کہاں تو انسان گولیوں کی بوچھاڑ سے نہیں ڈرتا اور انکے سامنے ٹکا ہوتا ہے اور کہاں وہ نفس امارہ کی معمولئ سی تحریک کو برداشت نہیں کر پاتا اور شیطانی راہ میں بہہ جاتا ہے۔چناچہ اسلام چند حدود و قیود بھی نافذکرتا ہے اور ہر معاملے کو فی سبیل اللہ کر دیتا ہے۔اسلام کا تیسرا کام یہ ہے کہ وہ اخلاق کو شرف کی بلندیوں تکلے جاتا ہے۔ خود غرضی، نفسانیت سے پاک، بےحیائی اور خبایثت سے دور، خدا پرستی ،تقویٰ،پرہیز گاری، حق پرستی کا دور دور کرتا ہے۔انسان کے اندر اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور و احساس ابھارتا ہے۔اسکو ضبط نفس کا خوگر بناتا ہے۔اسے تمام مخلوقات کے لیے کریم، فیاض، امین، ہمدرد، بے غرض خیر خواہ، بے لوث منصف، صاد و راست باز بنا دیتا ہے۔ایک بلند پایا سیرت کی تخلیق کرتا ہے جس سے ہمیشہ صرف بھلائی کی توقع ہو اور برائی کا اندیشہ نہ ہو۔

چناچہ اللہ کی سنت در امامت فی الارض کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ "اگر دنیا میں کوئی منظم انسانی گروہ ایسا موجود نہ ہو جو اسلامی اخلاقیات اور بنادی انانی اخلاقیات دونوں سے آراستہ ہو اور پھر مادی اسباب و وسائل بھی استعمال کرےتو دنیا کی امات و قیادت لازماً ایسے گروہ کو دے دی جاتی ہے جو اسلامی اخلاقیات سے چاہے بالکل ہی عاری ہو لیکن بنیادی انسانی اخلاقیات اور مادی اسباب و وسائل سے دوسروں کی نسبت زیادہ بڑھا ہوا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بہر حال اپنی دنیا کا انتظام چاہتا ہے اور یہ انتظام اسی گروہ کے سپرد کیا جاتا ہے جو موجود گروہوں میں اہل تر ہو۔۔
لیکن اگرکوئی ایسا منظم گروہ موجود ہو جو اسلامی اخلاقیات اور بنیادی انسانی اخلاقیات دونوں میں باقی ماندہ انسانی دنیا پر فضیلیت رکھتا ہو اور وہ مادی اسباب و وسائل کے استعمال میں بھی کوتاہی نہ کرے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ اس کے مقابلےمیں کوئی دوسرا گروہ دنیا کی مات و قیادت پر قابض رہ سکے۔ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف ہے جو اس نے انسانوں کے معاملے میں مقرر کر رکھی ہے۔اللہ فساد ہر گز پسند نہیں کرتا کہ اسی دنیا میں ایک صالح گروہ انتظام عالم کو ٹھیک ٹھیک اسکی رضا کے مطابق درست رکھنے والا موجود ہو اور وہ پھر بھی مفسدوں کے ہاتھ میں اس انتظام کی باگ ڈور رہنے دے"
۔مگر یاد رہے کہ اس نتیجے کا ظہور صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب ایک جماعت صالحہ ان اوصاف کی موجود ہو۔کسی ایک صالح فرد یا متفرق طور پر بہت سے صالح افراد کے موجود ہونے سے خلافت فی الارض کا نطام تبدیل نہیں ہو سکتا۔

چناچہ اس دنیا کی امات یا خلافت کے دعدے اللہ نے "امت وسط" یا "خیر امت" سے کیے ہیں یعنی کسی بہترین جماعت نہ کہ کسی بہترین فرد۔

اگر ہم آج کے بیشتر مسلمانوں کا حال دیکھیں تو ان میں مندرجہ ذیل اوصاف یا خرابیاں نظر آتی ہیں۔
1۔مسلمان ایک امت نہیں رہے۔ فرقہ بندی سے شروع ہونے والی تقسیم عرب عجم سے ہوتی ہوئی اب ممالک حتیٰ کہ علاقائیت تک پہنچ چکی ہے۔
2۔ مسلمانوں کی اکثریت اسلامی اخلاقیات کے وصف سے محروم و نا آشنا ہو چکے ہیں
3۔ مسلمانوں کی بڑی اکثریت بنیادی انسانی اخلاقیات کے اوصاف سے بہت دور ہے۔نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔
4۔مادی اعتبار سے چند ممالک کو چھوڑ کر باقی تمام مسلمان ممالک صفر ہیں۔ حسین شہید سہروردی کا مشہور فقرہ یاد کیجیے : عرب+عرب+عرب+عرب=صفر

چناچہ جب تک ہم مسلمان اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی اخلاقیات میں بھی دیگر ممالک یا گروہوں سے آگے نہیں نکل جاتے تب تک اس دنیا کی خلافت انگلستان کے ہاتھوں سے نکل کر جرمنی اور جاپان، پھر ان کے ہاتھوں سے نکل کر روس اور امریکہ ، پھر روس کے ہاتھوں سے نکل کر امریکہ کے ہاتھوں ، امریکہ کے ہاتھوں سے نکل کر چین کے پاس جاتی رہے گی لیکن مسلمانوں نے پاس نہیں ائے گی۔اللہ کی سنت کسی طور تبدیل نہیں ہونے والی۔ دنیا کی امات حاصل کرنے کا واحد طریقہ اپنے اندر اسلامی و بنیادی انسانی اخلاقیات کے اوصاف کو بیدار کرنا ہے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-03-10), فاروق سرورخان (27-12-09), گوہر (28-12-09), نورالدین (20-03-10), منتظمین (29-12-09), حیدر Rehan (27-12-09), راجہ اکرام (25-03-10)
پرانا 27-12-09, 01:08 PM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔ اپ کا شکریہ اپ کی پہلی بات ہی زبردست اور سہی ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
"اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جس کے پاس (اللہ کی) کوئی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے"۔
ہم سے پہلے اس منصب پر یہودی فائز کییے گئے تھے لیکن انہوں نے کچھ تو حق کو غلط پیش کیا اور کچھ چھپایا اس پر وہ اللہ کے معتوب ٹھہرے اور راندہ درگاہ ہوئے۔
چناچہ اسی گواہی کو نہ پہنچانے یا چھپانے یا غلط پہنچانے پر اللہ کی طرف سے جو سزا دی گئی انکو اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے

"اور فرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت اور مسکینیت اور وہ گھر گئے غضب بعد غضب اللہ کے"۔
چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی یہودیوں کو ایک وطن سے نکالا گیا تو کبھی دوسرے وطن سے۔ کبھی ایک جگہ ان کا قتل عام ہوا تو کبھی دوسری جگہ۔ کبھی ایک جگہ ذلت و رسوائی انکا مقدر بنی تو کبھی دوسری جگہ۔


اب دیکھنا یہ ہے کہ کل کے مسلمانوں نے اور اج کے مسلمانوں نے کون سی گواہی چھپائی ؟؟ جس کا عذاب ہم جھیل رہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ گواہی اج کا مسلمان نہی جانتا ہو ۔ لیکن نہ جاننا یا لا علم ہونا کابل معافی عذر نہی ۔ سزا تو اس کی ملے گی ہر صورت میں کیونکہ انکھ ، کان ، دل ، دماغ تو سب کے پاس ہیں ۔
اور خاص کر قرآن جیسی ہدایت و روشنی کے ہوتے ہوئے ہم نے استفادہ نہی کیا ۔

قرآن و سنت سے مدد مانگتے ہیں ۔ کہ وہ کون سی گواہی ہے جو ہم نے چھپائی ہے؟؟
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (27-12-09), حیدر (27-12-09), راجہ اکرام (28-12-09)
پرانا 27-12-09, 01:09 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Last edited by حیدر Rehan; 27-12-09 at 01:13 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (27-12-09), حیدر (27-12-09)
پرانا 27-12-09, 01:46 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ بھائی بدر الزماں۔ درج ذیل مراسلات آپ کے مراسلے میں تائیدی اضافہ ہیں ، یہ پاکستان کی برائی نہیں اور امریکہ کی تعریف نہیں۔ بلکہ مقابلہ کرکے یہ اجاگر کرنا مقصود ہے کہ ------ فرق صاف ظاہر ہے ------

اگر میں‌بہت سارا لکھ دیتا ہوں تو وہ اوپر اوپر سے گذر جاتا ہے۔ اور اگر ایک جملہ لکھتا ہوں‌تو سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہی ایک مسئلہ ہے جو میری سمجھ میں آتا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آیات ہیں جو "اسلام " کے معانی قوم و ملت کے لئے پیش کرتی ہیں۔ ایک ایک کرکے لکھتا ہوں‌کہ سب ساتھ دے سکیں۔۔

وہ لکھ رہا ہوں جس پر سب کا اتفاق ہے۔
3۔ لوگوں‌سے مساوات کرو۔۔۔۔ کیا مساوات ہے مسلمان میں؟ ( کیا مسلم ممالک میں ملکیت خریدنے کا حق، کاروبار کرنے کا حق مساوی ہے؟)

آپ پاکستان میں‌دیکھئے۔ کہ نظریاتی ---- جی نظریاتی ، قانونی یا عملی مساوات ہے؟

کیا پاکستا ن میں سب لوگ برابر کے حق دار ہیں؟ کیا لوگوں کو ان کے رنگ و نسل، علاقائی تعصبات، نسلی تعصبات، مذہبی رحجانات، جنسی رحجانات، قد و کاٹھ ، مہاجر و غیر مہاجر کی واضح شناخت نہیں ہے؟

کیا مہاجر کا فوج میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا پنجاب کا۔۔ کیا سندھی ، کراچی میں آرام سے نوکری کر تا ہے ؟ کیا بلوچی کو مساوی حقوق ہیں ، کیا ایک صوبہ کا فرد دوسرے صوبے میں جاسکتاہے؟ کیا ایک زبان ہوگئی ہے؟ کیا پٹھان کے صوبے میں اتنی ہی سڑکیں‌بن رہی ہیں؟ کیا لوگوں کو شکل دیکھ کر نوکری دینے سے انکار نہیں کیا جاتا؟ کیا مذہبی تعصب موجود نہیں‌ہے؟ کیا شیعہ سنی ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے؟

جب میرے باپ کے پاس کار تھی تو اس کے باپ کے پاس گدھا گاڑی بھی نہ تھی؟

کیا ایک معمولی ٹیچر کا بیٹا، پاکستان کا صدر بن سکتا ہے؟

یہ سب چھوڑئے، سب سے بڑی بات ، کی آپ دل سے کہہ سکتے ہیں‌ کے پاکستان کے قانون کے مطابق، قانونی ، عملی ، نظریاتی طور پر ہر طرف مساوات ہے؟

کیا مساوات کے بارے میں اللہ کا بیان یاد نہیں ؟ یا پھر ----- امریکہ میں‌ قائم۔ مساوات ، قانونی ، عملی اور نظریاتی مساوات کا علم نہیں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-03-10), منتظمین (29-12-09), حیدر (27-12-09), حیدر Rehan (30-12-09)
پرانا 27-12-09, 09:17 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,641
شکریہ: 50,033
10,124 مراسلہ میں 32,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چناچہ باوجود اس کے کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ "دہشت گرد اسلام نہیں ، دہشت گرد امریکہ ہے"، میں حقیقت سے آنکھیں نہیں چُرا سکتا۔میں نے اکثر یہ بات سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ آخیر کیا وجہ ہے ہم مسلمان اور اللہ کی پسنددیدہ جماعت ہونے کے باوجود ہر طرف سے ذلیل و رسوا ہیں اس کے مقابلے میں غیر مسلم اللہ کے کھلے باغی ہونے کے باوجود نہ صرف دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ہمارا اور کفار کا راست معکوس (Inversely proportional) کا حساب ہے۔ وہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور ہم تنزلی کا شکار ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ کافی عرصہ تک میں ان آیات سے دل بہلاتا رہا کہ ان کفار کو اللہ نے عارضی مہلت دی ہوئی انکو دنیا کا سامان و زینت جبکہ ہمارے لیے آخرت کی آسانیاں ہیں۔ لیکن جب بھی خلافت فی الارض کا سوال آتا تھا پھر سے وہی پریشانی پیدا ہو جاتی تھی۔ تب اللہ نے مجھے ہدایت دی اس بات کی طرف جو میں نے اوپر بیان کی۔
باوجود اس کے کہ امریکہ میں بہت سی خآمیاں ہیں، انہوں نے ملت اسلامیہ کا جینا مشکل کر رکھا ہے۔انکا تقریباً ہر قدم(شعوری یا غیر شعوری طور پر) مسلمانوں کی تباہی کے لیے اٹھتاہے ۔لیکن اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا لا تعداد اخلاقی میدانوں میں وہ ہم سے آگے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لاتعداد غلطیاں کرنے اور حماقتیں کرنے کے وہ لوگ آج بھی قائم ہیں جبکہ ہم لوگ پاکستان کے 27 رمضان کا راگ الاپتے الاپتے اپنا ملک دو لخت کروا چُکے۔چناچہ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم مسلمان اجتماعی طور پراخلاقی میدان میں امریکہ سے برتر نہیں ہوتے تب تک ہمکوخلیفۃ اللہ فی الارض کا منصب نہیں مل سکتا۔ امریکہ صرف اسی سے شکست کھائے گا جو اخلاقی میدان میں اس سے آگے ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی امریکہ کو اگر کسی سے کوئی خطرہ ہے کہ کوئی اسکی جگہ سمنبھالے گا تو وہ چین تو ہے لیکن کوئی مسلمان ملک نہیں۔اس کی وجہ اگر چین کی مادی ترقی ہےتواس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ چین امریکہ کو مسلسل اخلاقی میدان میں شکستیں دیتا چلا آ رہا ہے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (28-12-09), نورالدین (20-03-10), منتظمین (29-12-09), حیدر Rehan (30-12-09), راجہ اکرام (28-12-09)
پرانا 28-12-09, 11:32 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

درست فرمایا بدر آپ نے، اخلاقی میدا ن کا تعین اللہ تعالی نے وضاحت سے کردیا ہے۔ پہلا نکتہ تھا۔۔ مساوات۔

دوسرا نکتہ ہے عدل و انصاف۔

آپ اپنے کسی رشتے دار یا دوست سے جو امریکہ میں‌ بستا ہو معلوم کرلیجئے۔ وہ آپ کو بتائے گا کہ امریکہ میں عدل و انصا ف کا حصول نہایت ہی آسان اور گارنٹی شدہ ہے۔

جس طرح مساوات کے بنیادہ اصول امریکی قانون و آئین کا حصہ ہیں اور پاکستان کے آئین وہ قانون میں کچھ کنفیوژن سے پائے جاتے ہیں۔
اسی طرح عدل و انصاف امریکی قانون و آئین کا حصہ ہیں ۔۔۔ یہ پاکستان کے قانون میں‌پائے تو جاتے ہیں لیکن ان کا عملی نفاذ دور دور تک نظر نہیں آتا۔ مجرمان دور دور تک دوڑتے نظر آتے ہیں۔ عدل و انصاف کا پہلا قدم ہے "مثبت شناخت " ، "کرمنل ہسٹری" اور " کریڈٹ ہسٹری" ۔ ان تینون کا پاکستانی معاشرہ میں‌وجود ہی نہیں۔

اگلا نکتہ کل۔۔۔۔ تاکہ آہستہ آہستہ سمجھ میں آئے۔

ذہن میں‌رکھئے کہ میں‌امریکہ کے گن نہیں‌گا رہا، اور نہ ہی پاکستان کی تحقیر۔۔

صرف یہ بتا رہا ہوں کہ جس طرح انجینیرنگ اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کئے بناء کوئی انجینئر اور ڈاکٹر نہیں‌بن سکتا، بزنس کے اصولوں کو سمجھ بغیر بزنس میں نہیں بن سکتا۔ قرآن کے سنہری اصؤلوں پر عمل کئے بغیر ایک پائیدار حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔

جب تک میڈیکل کی بہترین تعلیم حاصٌ نہیں ہوگی، آپ کا نشتر قتل تو کر سکتا ہے لیکن بیماری نکلا کر نہی‌پھینک سکتا۔ میں دو عدد نکات لکھ چکا ہوں۔۔ ہماری سوچ اتنی زنگ خوردہ ہے کہ اگر میں پوچھوں کہ تیسرا نکتہ کیا ہوگا تو شاید زبانیں گنگ اور ذہن ماؤف ہوجائیں۔

ان نکات پر یقیناً امریکیوں‌نے 233 سال پہلے سوچا، اس کو اپنی قوم کے لئے مشعل راہ کے بطور اپنے آئین کی شکل میں لکھا اور اس پر سختی سے عمل کیا۔

انہی سنہری قوانین اور اصولوں کو مسلمان کو اللہ تعالی نے ایک بزرگ ترین نبی کے ذریعہ پہنچایا۔ لیکن مسلمان ان قوانین کو اللہ کی کتاب کی جگہ "پرکھوں کی کتابوں‌" میں‌ ڈھونڈتا رہا۔

اصول نمبر 1: مکمل مساوات قائم کیجئے۔
اصول نمبر 2 : مکمل عدل و اںصاف قائم کیجئے

اصول نمبر 3: آئندہ مراسلہ میں ۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-03-10), منتظمین (29-12-09), حیدر Rehan (30-12-09)
پرانا 28-12-09, 04:42 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,641
شکریہ: 50,033
10,124 مراسلہ میں 32,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی چچا فاروق جاری رکھیے ۔ ہم غور سے پڑھ رہے ہیں۔ تاہم آپکی دلچسپ بات "پُرکھوں کی کتاب" پر انشا اللہ ایک ٹاپک اُدھار رہا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (28-12-09), نورالدین (20-03-10), حیدر Rehan (30-12-09)
پرانا 29-12-09, 01:43 AM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-03-10), حیدر (29-12-09)
پرانا 20-03-10, 01:10 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

"اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جس کے پاس (اللہ کی) کوئی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے"۔
ہم سے پہلے اس منصب پر یہودی فائز کییے گئے تھے لیکن انہوں نے کچھ تو حق کو غلط پیش کیا اور کچھ چھپایا اس پر وہ اللہ کے معتوب ٹھہرے اور راندہ درگاہ ہوئے۔
چناچہ اسی گواہی کو نہ پہنچانے یا چھپانے یا غلط پہنچانے پر اللہ کی طرف سے جو سزا دی گئی انکو اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے

"اور فرض کر دی گئی اوپر ان کے ذلت اور مسکینیت اور وہ گھر گئے غضب بعد غضب اللہ کے"۔
چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی یہودیوں کو ایک وطن سے نکالا گیا تو کبھی دوسرے وطن سے۔ کبھی ایک جگہ ان کا قتل عام ہوا تو کبھی دوسری جگہ۔ کبھی ایک جگہ ذلت و رسوائی انکا مقدر بنی تو کبھی دوسری جگہ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کل کے مسلمانوں نے اور اج کے مسلمانوں نے کون سی گواہی چھپائی ؟؟
جس کا عذاب ہم جھیل رہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ گواہی اج کا مسلمان نہی جانتا ہو ۔ لیکن نہ جاننا یا لا علم ہونا کابل معافی عذر نہی ۔ سزا تو اس کی ملے گی ہر صورت میں کیونکہ انکھ ، کان ، دل ، دماغ تو سب کے پاس ہیں
۔

کہ وہ کون سی گواہی ہے جو ہم نے چھپائی ہے؟؟
کیونکہ قرآن میں یہ ایت ہے تو کہا تو ایسی امت سے جا رہا ہے یعنی مخاطب خاص طور پر یہی امت ہے ۔۔۔

اللہ کے مالک و مختار ہونے کی گواہی اور حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی تو یہ امت دے رہی ہے ۔ ۔
اب کون سی گواہی ہے جو اس امت نے چپھائی ہے ؟؟؟؟
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-03-10, 03:50 PM   #10
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کے نزدیک کیا گواہی ہے جو امت نے چھپائی ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-03-10, 06:29 PM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کے نزدیک کیا گواہی ہے جو امت نے چھپائی ؟؟
اپ سمجھ گئے ہیں کون سی گواہی کی بات ہورہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن چپھارہے ہیں ۔ ۔
میں تو بتا دوں گا ۔ ۔ ۔اگر اپ خود کہہ دیں تو یہ ایت اپ پر صابت نہی ہوگی
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-03-10, 10:46 PM   #12
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی سمجھ تو رہا ہوں لیکن آپ ذرا ٹھیک سے سمجھادیں تو اچھا رہے گا
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (22-03-10), حیدر Rehan (22-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 22-03-10, 08:00 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,641
شکریہ: 50,033
10,124 مراسلہ میں 32,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے نزدیک حق کی گواہی سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے قول ،عمل ، تحریر ہر طریقے سے یہ ثابت کریں کہ ہم جس حق (اسلام )کو مانتے ہیں وہ در حقیقت حق ہی ہے۔
ہم نہ صرف قول و تحریر کے ذریعے اسلام کی حقانیت ثابت کریں بلکہ ہمارا ہر عمل بھی چلا چلا کر کہہ رہا ہو کہ ہم جس کو مانتے ہیں وہی حق ہے ۔نہ صرف ذاتی معاملات جیسے نماز روزہ حج زکواۃ بلکہ معاشی، معاشرتی، سماجی و روز مرہ کے معاملات میں بھی ہم ثابت کریں کہ ہمارا دین حق ہے۔

ایسا نہ ہو کہ ہم تحریر و تقریر کے ذریعے تو اسلام کی تعرفوں کے پُل باندھ دیں لیکن جب عمل کی باری آئے تو اسلام کے قوانین معاش کو فرسودہ یا ناقابل عمل کہہ کر رد کر دیں اور کفار کے قوانین معاش کو لاگو کریں۔ ایسا کر کے ہم ثابت کرتے ہیں کہ اسلام قوانین معاش میں حق نہیں۔
ایسا نہ ہو کہ ہم لوگوں کو زبانی و قلمی اسلام کی دعوت دیں لیکن ہمارے گھر کفار کی طور طریقوں پر چل رہے ہوں ۔کیونکہ ایسا کر کے ہم ثابت کر دیں گے کہ حق اسلام نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔
جب نظام انصاف کی باری آئے تو خواہ ہم کو پسند ہو یا نہ ہو اسلام کا نظام حدود نافذ کر دیا جائے ۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ثابت کر دیں گے کہ اسلام نا حق ہے جبکہ کفار حق ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ہر عمل سے اس بات کو ثابت نہیں کر رہے کہ اسلام حق نہیں بلکہ نا حق ہے ،قابل عمل نہیں ؟ کیا یہ حق کی گواہی چھپانا نہیں؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-03-10), حیدر Rehan (24-03-10), راجہ اکرام (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 11:36 AM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں
اپ نے سہی لکھا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے مگر یہاں گواہی کو چپھانے کی بات ہورہی ہے اور ایک گواہی جو لوگوں نے چپھائی ہے ۔ ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 24-03-10, 07:05 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ریحان بھائی
آپ بھی چھپا رہے ہیں کافی دیر سے ۔۔۔ اب ظاہر کر ہی دیں تا کہ پتہ تو چلے کہ کون سی گواہی کی بات کر رہے ہیں آپ؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (24-03-10)
جواب

Tags
فرض, پیاروں, پاک, پسند, قرآن, چین, چور, نظر, ممکن, مشعل, معلوم, آبادی, آج, آدمی, اللہ, امریکہ, اسلام, بہترین, جواب, جاہل, حکم, خدا, سوال جواب, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger