واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے (حالات زندگی)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-09, 01:17 AM   #1
Senior Member
مقبول
 
شاہد جمیل حفیظ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Dubai
عمر: 28
مراسلات: 119
کمائي: 4,727
شکریہ: 494
91 مراسلہ میں 287 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہد جمیل حفیظ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے (حالات زندگی)

حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے (حالات زندگی)

خصوصی گوشہ



ولادت :-
احمد اسماعیل یاسین 1938ء میں غزہ کے جنوب میں واقع جورہ کی بستی میں پیدا ہوئے- آپ 1948ء کی جنگ کے بعد اپنے خاندان والوں کے ساتھ غزہ آگئے-
مختصر حالات زندگی:-
نوجوانی میں ورزش کرتے ہوئے آپ کو ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے آپ کا سارا جسم شل ہوگیا-
مذہبی خدمات:-
آپ نے عربی زبان و ادب اور تربیت اسلامی کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں- پھر آپ نے غزہ کی مساجد میں مدرس اور خطیب کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے- دلائل کی قوت، جرأت بیان اور جسارت حق کی بناء پر آپ کے خطبات نے پورے غزہ میں بے پناہ شہرت حاصل کرلی-
حماس کی تاسیس:-
غزہ میں آپ نے مرکز اسلامی کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں-
دارورسن:-
1983ء میں آپ کو صیہونی عدالت نے تیرہ سالہ قید بامشقت کی سزا سناتے ہوئے گرفتار کرلیا- آپ پر اسلحہ جمع کرنے، خفیہ عسکری تنظیم تشکیل دینے اور اسرائیلی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام لگایا گیا تھا-
جیل میں گیارہ ماہ گزارنے کے بعد 1985ء میں قابض اتھارٹی اور آزادئ فلسطین کی عوامی پارٹی کے مابین قیدیوں کے تبادلے میں آپ کی رہائی عمل میں آئی-
1987ء میں آپ نے فلسطین کے اسلام پسند حلقوں سے مشاورت کے بعد 1987ء میں حماس کے نام سے اسرائیلیوں کے فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور آئے روز کے ظلم و ستم کے خلاف تحریک مزاحمت کی بنیاد ڈالی-
اگست 1988ء میں قابض اتھارٹی نے آپ کے گھر پر اچانک چھاپا مارا- گھر کی تمام اشیاء کی تلاشی لی گئی اور آپ کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی-
18 مئی 1989ء کی رات کو قابض اتھارٹی نے حماس کے سینکڑوں جانثاروں کے ساتھ آپ کو اقدامات اور قتل و غارت گری کے خلاف نکالے جانے والے ایک جلوس میں گرفتار کرلیا-
16 اکتوبر 1991ء کو آپ پر صیہونی حکومت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے، صیہونی فوجیوں کو قتل کرنے اور ’’حماس‘‘ اور اس کے عسکری اور امنی شعبے کی تشکیل کرنے کے الزامات عائد کر کے عمر قید کی پندرہ سالہ قید بامشقت کی سزا سنائی گئی-
شیخ جسمانی صلاحیتوں کی بجائے روحانی صلاحیتوں پر یقین رکھتے:-
سارا جسم شل ہونے کے علاوہ شیخ یاسین کو دیگر کئی عوارض لاحق ہیں جن میں دوران تفتیش تشدد کے نتیجے میں دائیں آنکھ کی بصارت ضائع ہونا، بائیں آنکھ میں بینائی کی کمزوری، کانوں میں سوزش، آنتوں میں جلن کا احساس رہتا- حالات کے مسلسل ناساز گار رہنے کے باعث شیخ احمد یاسین کی صحت مسلسل ناساز رہتی ہے- جس کی وجہ سے آپ کو کئی کئی دفعہ ہسپتال داخل رہنا پڑا-
13 دسمبر 1992ء کو شہید عزالدین قسام کے دستے نے ایک صیہونی فوجی کو گرفتار کر کے اس کے عوض شیخ احمد یاسین اور دیگر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جن میں زیادہ تعداد بزرگ اور بیمار قیدیوں کی تھی- صیہونی اتھارٹی نے مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور قیدی کی گرفتاری کی جگہ پر چھاپا مار لیا جس کی وجہ سے دستے کے مجاہدین اور قابض فوجیوں کے مابین القدس کے نزدیکی علاقہ بیرنبالہ کے مقام پر شدید جھڑپ ہوئی-
یکم اکتوبر 1996ء کو اردن اور اسرائیل کے مابین ایک معاہدے کے نتیجے میں شیخ یاسین کو رہا کردیا گیا- معاہدے میں قتل کے ناکام حملے کے دوران گرفتار ہونے والے صیہونی سپاہیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا-
جام شہادت
آپ نے 22 مارچ 2004 کو جام شہادت نوش کی

شیخ احمد یاسین شہید کی یاد


راجہ ذاکر خان



شیخ احمد یاسین کو شدید علالت کی وجہ سے غزہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، ان کی خرابی صحت کی خبرسن کر فلسطین کے پیرو جواں مرد وزن بے تاب ہوگئے،مساجد،گلیوں ، محلوں اور گھروں کے اندر ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں ہونے لگیں،دعاؤں کا یہ سلسلہ مسجد اقصی، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے ہوتا ہوا چار دنگ عالم پھیل گیا- دنیا کے ہر مظلوم کے لب پر یہ دعا تھی کہ اے اللہ تعالی تو ہی بیماری دینا والا ہے اور تو ہی شفا دینے والا ہے تو سب سے بڑا شا فی ہے شیخ احمد یاسین کو شفا عطاء فرما،آمین-
مخلوق خدا کی دعاؤں اور اپنے خصوصی فضل سے اللہ تعالی نے شیخ یاسین کو کچھ افاقہ دیا تو ان کو ہسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا،کسی کو کیا معلوم تھا کہ قابض اسرائیل کے وزیر اعظم ارئیل شیرون اور ان کی افواج نے رات کو ایف 16طیاروں کے پائلٹوں کو حکم جاری کر دیاگیا ہے کہ جوں ہی شیخ یاسین فجر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوں توان پر ایف 16 کے ذریعے میزا ئل حملے کرکے ان کو شہید کر دیاجائے-
امریکی ساختہ ایف 16جنگی طیاروں نے 22 مارچ2004ء کونماز فجر سے فارغ ہوکر مسجد کے دروازے پر شیخ احمد یاسین پر میزائل حملے کیے اور ان کو شہید کر دیا، شیخ یاسین کی کرسی ان کا یک محافظ چلا رہا تھا محافظ اور شیخ یاسین کے ٹکڑے ہوا میں بکھرگئے، ان کے ہمراہ چار اور بھی فلسطینی شہادت کی منزل پر فائز ہوئے ،17 فلسطینی زخمی ہوئے، شیخ احمد یاسین سے محب کرنے والے ان کی ٹوٹی ہوئی ویل چیئر اپنے ساتھ اس عزم کے ساتھ لے گئے کہ وہ شیخ احمد یاسین کی کرسی سمیت ان کے ایک ایک انگ کا قابض اسرائیلیوں سے بدلہ لیں گے-
اس وقت کے اسرائیل کے وزیر اعظم ارئیل شیرون نے بڑے فخر سے علان کیا کہ اب شیخ احمد یاسین کی شہادت کے بعد حماس کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اسرائیل پر حملے کرنے کے قابل نہیں رہے گی- مگر وقت نے ثابت کیا کہ لوہے کی سلاخوں کے اندر رہ رہ کر ارئیل شیرون کا اپنا دماغ تو پھٹ گیا مگر حماس کے حملوں میں کمی نہیں آئی ،بلکہ اس دن غزہ میں ساٹھ بچوں کی ولادت ہوئی جن کا نام شیخ احمد رکھ لیا گیا-شیخ احمد یاسین شہادت کا مرتبہ پاکر زندہ ہوگیا مگر شیرون جس کا دباغ پھٹا ہوا ہے وہ نہ زندوں میں ہے اورنہ مردوں میں ہے-
شیخ احمد یاسین کا اکثر وقت مسجد اقصی کی آزادی کی تحریک کو منظم کرتے ہوئے گزرتاتھا،وہ کئی سالوں تک اسرائیل کی جیلوں میں قید وبند رہے معزور ہونے کے باوجود اسرائیلی جیل حکام ان کو قید تنہائی میں رکھتے تھے-
شہادت کے وقت شیخ احمد یاسین شدید علیل تھے جب وہ ہسپتال سے واپس آئے تو عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے لیے ان کو لے جایاگیا،نماز سے فارغ ہوکر انھوں نے کہا کہ آج میں نے مسجد میں اعتکاف کرنے کی نیت کی ہے آپ مجھے یہاں چھوڑ جائیں، مجھے بہت سکون آرہاہے،چونکہ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی تھی اس لیے ان کے محافظوں نے اصرارکیا کہ آپ کی صحت اجازت نہیں دیتی اس لیے گھر چلیں دوا بھی لینی ہے اور کچھ آرام کی بھی ضرورت ہے- ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ بھی دیا ہے- مگر جس کو مسجد میں سکون آتاہو اس کو گھر میں کب سکون آتاہے-
شیخ احمد یاسین کی شہادت نے تحریک آزادی فلسطین کو ایسی جلابخشی کہ اب تحریک پہلے کی نسبت گئی گنا بڑھ چکی ہے-حماس نے انتخابات میں دوتہائی اکثریت حاصل کی یہ الگ بات ہے کہ مغرب کو یہ منظور نہیں تھا اور اس نے حکومت کو گرادیا،مگر اب اسرائیلی سیاسی تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ حماس کو مذکرات میں شامل کیا جائے،حماس کے بغیر یہاں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا- اسرائیل نے ظلم وتشدد کر کے دیکھ لیاہے-
شیخ احمد یاسین کی شہید کی جلائی ہوئی شمع اسرائیلی پھونکوں سے بجنے والی نہیں ہے-
جیلوں کے اندر اسرائیلی شیخ یاسین کے پاس آتے اور کہتے کہ آپ مزاحمت کیوں کررہے ہیں؟ہمارے فوجی بھی مر رہے ہیں اور آپ کے لوگ بھی زندگیاں ہار رہے ہیں،شیخ یاسین کا ان کے لیے ایک ہی جواب ہوتا کہ آپ ریاست کے لیے لڑرہے ہیں جبکہ آپ کے پاس اپنا وطن موجود ہے-آپ جس ملک سے آئے ہیں اس ملک کا پاسپورٹ آج بھی آپ کی جیب میں ہے،اسرائیل میں رہتے ہوئے بھی آپ اس ملک کے شہری ہیں مگر میں اور میرے ساتھی اپنے وطن کے لیے لڑ رہے ہیں ہماراوطن آپ نے اپنی صہیونی ریاست بنانے کے لیے چھین لیا ہے-آپ مجھ سے میرا حق چھین چکے ہیں اور مجھے حق کے حصول کی جدوجہد سے روک رہے ہویہ آپ کو کیسا انصاف ہے؟
صلح کے حوالے سے شیخ یاسین کا موقف بڑا واضع تھا،ان کا کہنہ تھا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل کرتے ہوئے پہلے مرحلے پر 1967ء کی سرحد پر چلا جائے پھر ہم دس سال تک سیز فائر کریں گے،اس دوران اگر باہمی مشکلات پیدا نہ ہوئی تو ایک ساتھ رہیں گے اگر اسرائیل اپنی روش سے باز نہ آیا تو باقی حصہ بھی آزاد کرائیں گے- اسرائیل کے ساتھ شیخ یاسین کسی طرح کے معاہدے کرنے کے حق میں نہیں تھے ان کو خیال تھا کہ آج ہم کمزور ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنی کمزوری کی بنیاد پر معاہدے کریں جس کی سزا ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں- ہمیں آنے والی نسلوں کا راستہ معاہدے کرکے بند نہیں کرنا چاہیے-ہم جس حد تک کوشش کرسکتے ہیں کرنی چاہیے اور آزاد ی کا کام آ نے والوں پر چھوڑ دیں تاکہ وہ اپنے راستے خود منتخب کریں- ان کا بڑا واضع موقف تھا کہ خون بہانا ان کا منشور نہیں ہے نہ وہ اپنے بھائیوں کا خون بہاتادیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی یہودیوں کا خون بہاتا دیکھ کر وہ کو کوئی سکون ہوتاہے،مگر صہیونیوں نے ہمارے وطن پر جبراً قبضہ کر لیا ہے اس لیے اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لیے جو خون ضرورت ہے وہ دینا پڑے گا-
وطن کی آزادی کا دشمنوں نے صرف ایک ہی راستہ چھوڑا ہے اور وہ ہے مزاحمت کا راستہ -دشمن نہ تو اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کو مانتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے کسی چارٹر کی پابندی کرتاہے-ایسے میں ہمارے پاس مزاحمت کے سواکوئی چار نہیں ہے اور مزاحمت کا یہ حق ہمیں اقوام متحدہ نے دیا ہے-یہی آزادی کا واحد راستہ ہے-



مرد درویش کے حالات زندگی


مرکز اطلاعات فلسطین



ہر سال 22مارچ کا دن ہمیں سوگوار کرتا رہے گااس روز ہم اپنے مرشد اور مثالی قائد شیخ احمد یاسین سے جدا ہوئے تھے- فلسطین کے بچے بوڑھے جوان اور خواتین انکی عادات طاہرہ سے خوب واقف ہیں- یہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان اس مرد حق سے متعارف ہیں اور انکے القدس کی حفاظت کیلئے جاری جہاد کو اسلام کہ بہترین خدمت قرار دیتے ہیں
مرکز اطلاعات فلسطین کا ایک وفدشیخ کی برسی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہنچا،جہاں شہید کی یادیں خوشبو بن کر چہار سو بسیرا کئے ہوئے تھیں- انکا نرم و شیریں لہجہ اور حد درجہ محبت کی یاد میں ہر آنکھ اشکبار نظر آرہی تھی-
شیخ احمد یاسین کی نجی زندگی کے چند گوشے:
احمد یاسین کے بڑے بیٹے عبدالحمید نے بتایا ہمارے والد محترم ایمانیات کے پیکر تھے انہی سے ہم ایمان کی حرارت لیتے اور اپنی زندگیوں کو اس سے آراستہ کرتے--یہی نہیں انکے سب دوست احباب انہیں دین کے معاملے میں سند کا درجہ دیتے---وہ صلح جو شخصیت کے مالک تھے -خواتین ان سے اپنے شوہروں کی شکایت کرنے آتیں تو وہ بہت شفقت سے انکی بات سنتے اور زوجین کی صلح کرواتے---اورانہیں تعلقات جوڑنے کا کہتے اور فرماتے آپس میں جڑو اللہ اپنی برکت تمہارے لئے مخصوص کردے گا-عبدالحمید نے بتایا کہ والد محترم کی یہ محبت صرف رشتہ داروں کے لئے نہ تھی بلکہ آپ تحریکی ساتھیوں کا بھی خصوصی خیال رکھتے انکے گھر والوں سے خود رابطے کرتے انکی بیٹیوں کو اپنی بیٹی کہتے انکے گھروں کی ضروریات کی خود فکر کرتے جس سے اجتماعی اور سماجی تعلقات کو بہت فروغ ملا-
یومیہ معمولات: حماس کے رہنماء اسامہ مزینیکی اہلیہ کریمہ مریم شہید احمد یاسین کی معمولات زندگی بارے یوں فرماتی ہیں:آپ نماز فجر سے بہت پہلے بیدار ہو جاتے اور وضو کرکے کچھ رکعت نماز پڑھتے پھر فجر کی اذان کے بعد فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد چلے جاتے- تسبیح اورذکر کے بعد واپس آکر کچھ دیر آرام کرتے- کیونکہ طویل بیماری کے سبب انکا جسم تھکا رہتا-بیدار ہوکر ہمارے ساتھ کھانا کھاتے- سارا دن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا---گھر سے باہر جانے سے قبل وہ ہم سے ملکر جاتے-
پھر ظہر کی نماز کے بعد واپس آتے اور اہل وعیال کے ساتھ کھانا کھاتے---پھر نماز عصرسے لیکر نماز مغرب کے بعد تک وہ تحریکی ساتھیوں کے ساتھ مصروف رہتے- اس دوران انکی ایک آدھ جھلک ہی ہمیں نظرآتی بعض اوقات مصروفیت کے باعث گھر والوں کی طرف بالکل بھی نہ آتے-
کریمہ نے یہ بھی بتایا کہ تھکاوٹ اور درد کے احساس کا کبھی اظہار نہیں کرتے تھے-انہیں دیکھ کر کبھی یہ اندازہ نہ ہوتا کہ وہ تھکے ہوئے ہین یا غصے کی حالت میں ہیں یہی لگتا کہ انکو ہر طرح کا سکون حاصل ہے اور کسی قسم کی ضرورت نہیں ہمیشہ ہشاش چہرے سے ملتے- نہ کسی پر ناراض ہوتے نہ کسی کو ان پر ناراض ہوتے دیکھا-
شہید کے پوتوں اور گھر والوں کے تاثرات:
شہید کے تین بیٹے اور آٹھ بیٹیاں ہیں انکی دو بیٹیوں کے شوہر شہید ہوچکے ہیں-شیخ احمد یسین چالیس بچوں کے نانا اور دادا ہیں-جن میں سے 23لڑکے اور17 لڑکیاں ہیں-یہ سب لوگ اپنے والد بزرگ وار سے بہت محبت کرتے ہیں اور انکے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل بھی ہیں-
امام احمد یاسین کا مشکلات کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ :
دشمن نے آپکے پایہء استقلال کو ڈگمگانے کیلئے بہت کوششیں کیں---ایک عرصہ سے صہیونی انکو قتل کرنا چاہتے تھے- یہ سب جاننے کے باوجود انہوں نے اپنی مصروفیات کو کبھی محدود نہیں کیا تھا- بعض اوقات ہفتوں انکی اپنے گھر والوں سے ملاقات نہ ہو پاتی--انکا کہنا تھا :اللہ ایک ہے -زندگی بھی ایک بار ملی ہے- اسے ہنسی خوشی گذارنا ہے تاکہ ہم سارے خوف بھلا کر اپنے بھائی بند کے ساتھ بھلائی کے کاموں میں شریک ہوجائیں-
شہادت سے ایک رات قبل:
مریم نے بتایا شہادت کی رات انہوں نے مسکراہٹوں کے ساتھ الوداع کہا- انکا چہرہ چمک رہا تھاجیسے عالم غیب نے انہیں اگلی صبح کی خوشخبری پہلے سنا دی ہو-وہ گھر سے بغیر کچھ کھائے گئے تھے جیسے روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جاملے-وہ شہادت سے ایک رات پہلے شدید علالت کے باعث ہسپتال میں داخل تھے- وہ بھی مسجد سے نکلے ہی تھے کہ انہیں ایک میزائل آلگااورشہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوگئے-انہیں تمام عمر شہادت کی تمنا کرتے دیکھا اور اللہ نے انکی یہ تمناپوری کردی-
قربانی کا پھل:
امام احمد یاسین کے بیٹے نے بتایا ہم نے والد محترم کی شہادت کے برگ وبار اپنی تحریک حماس میں ظاہر ہوتے دیکھے ہیں-پہلی کامیابی ہمیں انتخابات میں کامیابی کی شکل میں ملی---فلسطین کے شرق وغرب میں حماس کے نمائندے کامیاب ہوئے اور پہلی بار عوام کی طاقت غالب ہوتی نظر آئی- دوسری کامیابی عزالدین القسام کے میزائل حملے ہیں جن کے باعث خود اسرائیل اعتراف جرم کرچکا ہے-
پیغام خلود:
عبد الحمید نے فرمایا اس یادگار موقع پر میں فلسطینی بھائیون کو صبر،استقامت اور اخلاص عمل کی دعوت دیتا ہوں کیوں کہ انہی خوبیوں کے باعث ہم جنت کے حقدار قرار پائیں گے-اس بات کی تعلیم نے آنحضور نے دی ہے اور یہی وصیت میرے اور آپکے مرشد چھوڑ گئے ہیں-
میں اپیل کرتا ہوں امت مسلمہ سے کہ وہ بھی مسئلہ فلسطین پر توجہ دیں-یہاں کے مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہوں اور یہاں کے غیور عوام کی ہر ممکن مدد کریں-مجاہدین کیلئے دعا ہے کہ وہ فتح یاب ہوں اور اقصی کو پنجہء یہود سے چھڑانے میں کامیاب ہوں- فلسطین کا چپہ چپہ اور فلسطین کا ایک ایک شہری اس ناپاک چنگل سے آزاد ہوسکے-
عبدالحمید نے آخر میں یہ بھی کہا کہ شیخ احمد یاسین کی زندگی مشعل راہ ہے جسکی روشنی میں ہمین دنیا اور آخرت کی فلاح کے راستے کی طرف لے جاتی ہے-ہمارے حقیقی بھائی ،مخلص دوست،شفیق باپ اوررحیم قائد ہم سے بچھڑ گئے ہیں-ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اورمسلم امت کو ان سے بھی بڑھ کر خوبیون والا قائد عطا کرے- آمین

مرکز اطلاعات فلسطین
Attached Images
  
شاہد جمیل حفیظ آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہد جمیل حفیظ کا شکریہ ادا کیا گیا
یحیٰی (09-01-09)
جواب

Tags
کمر, پسند, ورزش, وزیر, وصیت, قید, لوگ, نماز, نظر, منشور, مسجد, مسجد نبوی, مشعل, آج, اقوام متحدہ, بچوں, تعلیم, جرم, حماس, خواتین, خدا, دوست, راستہ, غزہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Kali Siradas System کے تحت سیلف ڈیفینس سیکھیں! shafresha کھیل اور کھلاڑی 1 16-06-11 12:43 PM
حامد کاظمی، سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور کے اکاﺅنٹس منجمد، نام ای سی ایل میں شامل گلاب خان خبریں 0 15-12-10 05:52 AM
سینیٹر سیمیں صدیقی سے مغفر حسین کی ملاقات عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 02:01 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
اپوزیشن بد نظمی اور تقسیم در تقسیم کا شکار بینظیر اور نواز شر یف کے در میان گھنٹوں بات چیت، بے اعتماد ی ختم نہیں ہو ئی عبدالقدوس خبریں 0 22-11-07 09:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger