| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
توہین رسالت کے بعد توہین کعبہ,,,,آج کی دنیا…اشتیاق بیگ
امریکہ اور یورپ میں انتہا پسند اور اسلام دشمن عناصر ایک عرصے سے باقاعدہ منصوبہ بندی اور منظم طریقے سے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے اسلام کی مقدس ہستیوں بالخصوص حضوراکرم ﷺ کی توہین پر مبنی تحریریں، خاکے شائع کرتے رہے ہیں۔ ڈنمارک کے اخبارات کی جانب سے حضوراکرم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، ان کی تقلید میں دیگر اخبارات میں بھی انہی خاکوں کی اشاعت، ڈنمارک فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والے اخبار کو ایوارڈ دیا جانا، ٹائم میگزین کا سلمان رشدی جیسے انتہائی مکروہ اور نا پسندیدہ شخص کو ایشیائی ہیروز کی فہرست میں شامل کرنا اور اسے "سر"کا خطاب دینا، امریکی جوتے بنانے والی کمپنی کی جانب سے جوتے پر تحریر کلمہ طیبہ کی توہین، ہالینڈ میں ایک خاتون ماڈل کے برہنہ جسم پر قرآنی آیات تحریر کرکے اسے آرٹ کا شاہکار قرار دینا(نعوذ باللہ)، بنگلہ دیشی گستاخِ رسول تسلیمہ نسرین کو یورپ اور انڈیا میں اعزازات سے نوازنا یہ ساری چیزیں کوئی اتفاقیہ نہیں تھیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھیں جس کے مطابق مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاکر انہیں تشدد پر آمادہ کرنا اور پھر ان کے خلاف شدت پسند اور انتہا پسند ہونے کا پروپیگنڈہ کرنا تھا۔ان گھناؤنی سازشوں کا تسلسل جاری ہے اور اب توہین رسالت اور توہین قرآن کے بعد مسلمانوں کی مزید دل آزاری کے لئے توہین کعبہ کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ جرمنی کے ایک آرٹسٹ گریگورشینڈر نے ایک نقلی خانہ کعبہ تیار کیا ہے جودیکھنے میں بالکل خانہ کعبہ کی طرح لگتا ہے۔ 46فٹ اونچے نقلی کعبہ پر غلافِ کعبہ کی طرح سیاہ کپڑا چڑھایا گیا ہے اس بد بخت آرٹسٹ نے خانہ کعبہ کے اس ماڈل کو اپنے فن کا شاہکار قرار دیا اور اسے "کیوب ہیمبرگ 2007کانام دیا وہ اسے اٹلی کے شہر وینس کے مشہور سینٹ مارکس اسکوائر پر رکھنا چاہتا تھا جہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر وہاں کی مقامی انتظامیہ نے مسلمانوں کے اشتعال اور ردِ عمل کے خوف سے اس کو اس ماڈل کی نمائش کی اجازت نہ دی۔ اب یہ نقلی کعبہ ہیمبرگ کے پریمیئر میوزیم میں رکھا گیا ہے جہاں سیکڑوں لوگ اسے روزانہ دیکھنے آتے ہیں۔وہاں کے ایک مقامی اخبار نے اس نقلی کعبہ کو سہراتے ہوئے یہ لکھا کہ مسلمانوں کا خانہ کعبہ اب ہیمبرگ کے میوزیم میں دیکھا جاسکتا ہے (نعوذباللہ)۔ میرے ایک کرم فرما جہانگیر افضل جن کا تعلق کمپیوٹر کے شعبے سے ہے نے مجھے جب ایک ای میل کے ذریعے اس نقلی کعبہ کی تصاویر بھیجیں تو میں انہیں دیکھ کر ششدر رہ گیا ایسا لگا کہ میں اصلی خانہ کعبہ کی تصاویر دیکھ رہا ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس طرح کا ایک واقعہ اس سے قبل بھی پیش آچکا ہے ایک اسلامی ویب سائٹ مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(MEMRI) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے شہر نیویارک کے وسط میں واقع مین ہٹن کے علاقے میں ایک عمارت بالکل کعبہ کی مانند تیار کی گئی ۔ اس عمارت کی لمبائی اور چوڑائی کعبہ سے مشابہت رکھتی ہے اور دیکھنے میں کعبہ کی نقل (Replica)ہے جسے مین ہٹن کے علاقے میں بلند و بالا عمارات کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے بنانے والے نے اس عمارت کو "ایپل مکہ" کا نام دیا ۔ رپورٹ کے مطابق اس عمارت میں ایک بار (Bar)ہے جہاں 24گھنٹے شراب فروخت کی جاتی ہے ۔عمارت کی انتظامیہ کے مطابق اس عمارت کی مشابہت کعبہ سے محض ایک اتفاق ہے وہ اسے ایپل بار کے نام سے ضرور پکارتے ہیں مگر اس بار میں شراب فروخت نہیں کی جاتی۔ میرے نزدیک اس طرح کی عمارتوں کا تعمیر کیا جانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا اور انہیں تشدد پر آمادہ کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلمانوں کے شدید احتجاج پر مقامی انتظامیہ اس عمارت کی مشابہت تبدیل کرنے پر غور کررہی ہے۔ امریکی اور یورپین انتہا پسند مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے ان کے دل میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں سوڈان میں ایک برطانوی خاتون ٹیچر کی جانب سے حضور اکرم ﷺ کی توہین کا ایک واقعہ پیش آیا جس سے سوڈان میں مقیم مسلمان مشتعل ہوئے یہ واقعہ سوڈان میں واقع یونیٹی ہائی اسکول خرطوم میں پیش آیا جسے ایک برطانوی ادارہ چلا رہا تھا۔ اس اسکول کی ایک برطانوی ٹیچر گیلیئن گبنز(Gillian Gibbons)نے اپنی کلاس کے چھ سے سات سالہ بچوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ان کا کھلونا (ٹیڈی بیئر) در اصل محمد ﷺ ہیں (نعوذباللہ) اور اس لئے کلاس کے بچے اسے محمد کے نام سے پکاریں" توہین رسالت کا یہ سلسلہ چلتا رہتا مگر اللہ کے کرم سے ایسا ہوا کہ کچھ بچوں نے گھر جا کر اپنے والدین سے اس کھلونے کا ذکر کیا جسے وہ محمد کے نام سے پکارتے تھے۔ والدین نے جب اسکول کی انتظامیہ سے اس کی شکایت کی تو یہ بات منظر عام پر آئی کہ ان کی کلاس ٹیچر معصوم بچوں کو جان بوجھ کر گمراہ کررہی تھی۔ اسکول کی انتظامیہ نے اس واقعے کی رپورٹ مقامی پولیس کو کی جس نے برطانوی ٹیچر کو توہین رسالت ﷺ کے جرم میں گرفتار کرلیا۔ سوڈان میں لاکھوں لوگوں نے اس برطانوی ٹیچر کے خلاف مظاہرہ کیا۔ سوڈانی عوام نے اسے سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جبکہ دوسری جانب برطانوی حکومت نے اسے اپنے ایک شہری کی معصوم غلطی قرار دی ۔لندن میں برطانوی وزیر خارجہ نے سوڈانی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور سوڈانی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ خاتون ٹیچر کو فوراً رہا کیا جائے۔ سوڈانی عدالت نے اسے توہین رسالتﷺ کا مجرم پایا اور اسے 15دن قید کی سزا اور سوڈان سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ برطانوی حکومت نے اپنے ایوانِ بالا سے دو مسلمان رکن ایک خاتون اور لارڈ نظیر کو سوڈان بھیجا جنہوں نے سوڈان کے صدر سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں سوڈانی حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوئی اور اس ٹیچر کی سزا کو معاف کرکے اسے واپس برطانیہ بھیج دیا گیا۔ خاتون ٹیچر کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے نبی ﷺ کی توہین کرنا اورمسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہ تھا۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے کعبہ کی ہو بہو نقل (Replica)بنانا ،جوتے پہن کر اس میں داخل ہونا، اس میں بیٹھ کر شراب نوشی کرنا اس کی توہین ہے جسے کوئی بھی مسلمان قطعاً برداشت نہیں کرسکتا ۔ اس سے پہلے کہ دوسرے غیر مسلم ممالک مذکورہ بدبخت آرٹسٹ جس نے کعبہ کا ریپلکا ماڈل تیار کیا ہے کی پیروی کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی توہین کریں، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کی شدید مذمت کریں تاکہ آئندہ کوئی فرد یا ملک اس طرح کی جسارت نہ کرسکے۔ مجھے ان غیر مسلموں کی ناسمجھی پر افسوس ہے کہ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ کعبہ کا ایک ریپلکا یعنی نقل بنانے سے انہوں نے ایک اور کعبہ بنالیا ہے ان کی یہ خام خیالی ہے کیونکہ کعبہ صرف ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ مذہب، عقیدے اور تاریخ کا نام ہے۔ غیر مسلم ایک چوکور عمارت بنا کر اسے کالے کپڑے سے ڈھک تو سکتے ہیں لیکن کیا وہ اس میں وہ عظمت و جلال بھی پیدا کرسکتے ہیں جس کا مشاہدہ میں نے خود غسل کعبہ کے دوران 45منٹ اندر گزارنے کی سعادت کے دوران کیا ۔کیا دنیا کا کوئی بھی ڈیکوریٹر وہ خوبصورتی ، وہ نور اور وہ خوشبو پیدا کرسکتا ہے جو میں نے کعبہ کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور محسوس کیں ۔کیا ان کا بنایا ہوا سیاہ کپڑا ،غلافِ کعبہ کی جگہ لے سکتا ہے جس پر خالص سونے اور چاندی سے قرآنی آیات تحریر کی گئی ہوں اور جس کا ایک حصہ میرے پاس بھی محفوظ ہے جو میرا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ۔کیا کعبہ کی نقل بنانے والے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے بنائے ہوئے اس کعبہ کے طواف پر آمادہ کرسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ غیر مسلموں کو ایک نکتہ اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا خانہ کعبہ کے ساتھ احترام و عقیدت کا جو رشتہ قائم ہے اس میں زرہ بھر بھی کمی نہیں آسکتی اور نہ ہی انہیں اس طرح کے ماڈل تیار کرکے مسلمانوں کو گمراہ کیا جاسکتا ہے ۔ ایک مسلمان شاید اپنی ذات، اپنے گھر یا ملک کی توہین تو برداشت کرلے مگر وہ خانہ خدا کی بے حرمتی ہر گز برداشت نہیں کرسکتا ۔بقول اقبال: دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم پاسباں ہیں اس کے وہ پاسباں ہمارا نوٹ: اگر قارئین نقلی خانہ کعبہ کی تصاویر کو دیکھنا چاہئیں تو وہ جہانگیر افضل سے میرے ای میل ایڈریس کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
شہزاد بھائی آپ نے اچھا لکھا ہے اللہ ہمارے حال پر رحم کرے آمین
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اشتیاق بیگ صاحب اچھا لکھتے ہیں، اللہ اُنہیںاُن کے خلوص پر اجر عطا فرمائے۔
کیا ہی بہتر ہوتا کے "نقلی خانہ کعبہ" کی تصاویر بھی یہاں لگا دی جاتیں۔ "ایپل مکہ" والی بات تو یہاں ایک اور تھریڈ میںکی جاچکی ہے کہ وہ ایک غلط فہمی تھی۔ شئیرنگ کا شکریہ خرم بھائی! اللہ تمام مخلصین کو اجر عظیم عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی یہ اسی کارنامے کا ذکر ہو رہا ہے۔ معصوم لوگوں کے ذہنوںسے کھیلنے کا کاروبار کھولا گیا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() یہ اس وقت کی تحریر ہے جب یہ بات چل رہی تھی |
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | rabab (18-01-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تصاویر کا جان بوجھ کر دیکھنا شاید صحیح نہ ھو۔ مگرخرم بھائی رشک تو آپکی قسمت پرآرھاھےکہ اس عمر تک پہنچ کر بھی مَیں خالی ھاتھ ھوں مگرآپ نے اتنی سی عمر میں اتنا کچھ پا لیا۔ اللہ آپکو اپنے دین کے پھیلانے کےلیے بھی قبول کرے۔آمین۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
یہ ہے تو کالی کیوب لیکن کعبے کی کہانی جو اوپر دی گئی ہے اس کے بارے میں یہ ہی کہ سکتا ہوں
کہ ہو سکتا ہے جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو ہوسکتا ہے ابھی اور ہو اتنی ، باقی اس نے چھپائی ہو۔۔۔۔ ہو سکتا ہے خوش کرنے کے ڈھونڈے اس نے بہانے ہوں ہوسکتا ہے -- عشق کے دعوے -- فتنے ہوں افسانے ہوں۔ یہ ہے لنک اور یہ ہے خبر ![]() http://www.nytimes.com/2007/04/15/ar...gn/15magi.html جس نے اوپر کا مضمون لکھا ہے اس نے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کی ہے ۔۔۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ویسے ایک سوال ہے کیا نقشہ رجسٹرڈ کروایا جاسکتا ہے؟
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 143
کمائي: 5,047
شکریہ: 149
97 مراسلہ میں 368 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وہ زمانے میںمعزز تھے مسلمان ہو کر۔
اور تم خوار ہوئے، تارک قرآں ہو کر۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئیے جو ایسے واقعات سے بھری پھڑی ہے کہ جو قوم اپنے دین اور اپنے لوگوں کے ساتھ ہی مخلص نہ رہے، تو ذلالت اور رسوائی اسکا مقدر بن جاتی ہے۔ میں تجھ کو بتاتا ہوں، تقدیر امم کیا ہے!!! شمشیر و سناں اوؔل، طاؤس و رُباب آخر!! |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار بہت پُرانا تھریڈ سامنے کر دیا یہ تو دو سال پہلے کا ہے
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | sahj (24-01-11), ھارون اعظم (22-01-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
آپ نے کہیں کے تانے بانے کہیں ملا دئے ہیں۔ آپ کی فراہم کردہ تصاویر کا تعلق ا س دھاگے سے نہیں ۔ یہ نیویارک کی تصاویر ہیں۔
خنجر چلیں کہیں پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ، ہمارے جگر میں ہے۔ عاصم جو پہلے ہی سے بے وقوف ہو اس کو بے وقوف بھلا کون اور کیسے بناسکتا ہے ؟ کبھی غور کیجئے گا کہ ہندوستان پر 1618 سے 1707 تک کس بندے اور کس خاندان کی حکومت تھی؟؟؟ اور اسی دوران انگلستان پر کس بندے اور کس خاندان کی حکومت تھی۔ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان پر جس --- مسلمان ---- کی حکومت تھی اس کا نام نشان بھی مٹگیا ؟؟؟؟ کیوں؟؟؟ اور کیا وجہ ہے کہ انگلستان پر جس ---- کافر --- خاندان کی حکومت تھی اس خاندان کی آج بھی حکومت ہے۔۔۔ کیوں؟؟؟؟ کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان ساری دنیا میں محرومی، ناکامی ، غم اور پسماندگی کا شکار ہیں؟؟؟؟ جب کہ ---- ساری کافر ---- قومیں دنیا پر چھائی ہوئی ہیں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ شیطان نے اپنا نظام چلا دیا ہو۔۔۔۔۔ مسلمانوں میں اور ان کو پتہ بھی نا ہو؟؟؟؟ قرآن حکیم سے دوری ۔۔۔۔ شیطانی نظام سے دوستی ۔۔۔۔۔۔ کہیںایسا تو نہیں؟؟؟؟؟ سوچئے۔۔۔۔۔ کیا نظریاتی اختلاف کی سزا موت ہونی چاہئے؟؟؟ کیا نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر قتل اور غارت گری پر شادیانے بجانے چاہئیں ؟؟؟؟ مٹھائی بانٹنی چاہئیے؟؟؟ کیا نظریاتی اختلاف پر قتل پر مٹھائی بانٹنا ۔۔۔۔ شیطان کے چیلوں کا کام ہے؟؟؟ تھوڑ ا سا سوچئے۔۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,291
شکریہ: 1,023
781 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایپل مکہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن کیوب ہیمبرگ 2007 کو سرچ کرنے پر یوٹیوب سے یہ ویڈیو ملی ہے آپ بھی ملاحظہ فرمایئے -
Last edited by مزمل فاروق; 24-01-11 at 12:02 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, فروخت, کمپیوٹر, کارنامے, پولیس, پسند, پسندیدہ, ویب, ڈنمارک, وزیر, قید, لوگ, نفرت, مکہ, موت, منصوبہ, آج, ای میل ایڈریس, انتظامیہ, احتجاج, اسلام, بھائی, بچوں, تصاویر, خدا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان | ابن جلال | خبریں | 21 | 06-06-11 08:45 PM |
| پشتون علاقوں پر قبضے کے لئے 6ماہ سے تیاریاں جاری ہے | ALI-OAD | خبریں | 1 | 18-01-11 10:29 AM |
| قانون توہین رسالت اور غازی علم دین شہید...آج کی دنیا…اشتیاق بیگ | sahj | خبریں | 1 | 12-01-11 01:31 PM |
| بلو رے ٹیکنالوجی کا توڑ تیار | قیصرجی | کمپیوٹر کی باتیں | 0 | 14-04-08 03:11 PM |
| بلو رے ٹیکنالوجی کا توڑ تیار | پاکستانی | خبریں | 1 | 02-04-08 04:02 PM |