واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 10:23 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی

تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی

تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی



ملک کو مشکل چیلنجوں سے بچانے کا واحد راستہ مشترکہ قومی کوشش ہے۔ عوامی حمایت ہی فیصلہ کن کردار اداکرتی ہے۔ انتظامی، قومی، سماجی، معاشی اورسیاسی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ اور محدود کردیاجائے تو طویل المیعاد امن کا نیا دورشروع ہوسکتا ہے۔ یہ چودھری اعتزاز احسن کی کسی تقریر کا اقتباس نہیں یہ میراا ور مجھ جیسے بے شمار لکھنے والوں کی تحریروں سے منتخب شدہ جملے بھی نہیں ، یہ قوم پرست دانشوروں اور اہل علم کے خیالات بھی نہیں یہ پاک فوج کے چیف آف سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی اس تقریر سے نکالی گئی سرخیاں ہیں جو انہوں نے کور کمانڈر کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ یہ وہ باتیں ہیں جو پاکستان سے محبت کرنے والے ہرشخص کے ذہن اور دل میں ہے مگر اجتماعی دانش سے پاک فوج کی قیادت تک سفر کرنے کے لئے ان خیالات کو ساٹھ سال لگے۔ ماضی میں فوج کے ہر سربراہ نے قومی سلامتی یکجہتی اور ملکی مفادات کی بات کی۔ ہر ایک نے اپنے اپنے رنگ اور اپنی اپنی طرز سے قومی مفادات کی تشریح کی لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے فوج کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے یہ بات پہلی مرتبہ کہی گئی ہے کہ ”عوامی حمایت ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے“ اورانتظامی، فوجی، سیاسی، سماجی اور معاشی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ اور مربوط کرنے سے ہی امن حاصل ہوتا ہے۔ ابھی تک ماضی کی طرح یہی سمجھا جارہا تھا کہ فوج کی قیادت جنرل پرویز مشرف سے جنرل پرویز اشفاق کیانی کو منتقل ہوئی ہے۔مگر یہ تقریر پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ قیادت کا یہ اعزاز ایک سوچ سے دوسری سوچ کو منتقل ہوا۔ جنرل پرویز مشرف آج بھی اپنے اقتدارکو قومی مفاد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ کل ہی انہوں نے فرمایا کہ ”ملکی مفاد اسی میں ہے کہ میں اقتدار میں رہوں“ یہ سوچ ایوب خان کے دورسے شروع ہو کر جنرل پرویز مشرف تک کسی تبدیلی کے بغیر پہنچی۔ اس دوران جتنے بھی فوجی حکمران آئے ان کے طرز ِ حکومت میں عوام کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ مشترکہ قومی کوششوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ایوب خان نے آتے ہی تمام سیاسی قوتوں کو مستردکرکے شخصی حکمرانی کو ملکی مفاد سے تعبیر کیا۔ انہوں نے اپنے حاشیہ برداروں کو جمع کرکے ایک جماعت قائم کی اوراسے عوامی حمایت کا نعم البدل تصورکرلیا۔ بنیادی جمہوریتوں کے نام پرمقامی سطح پر اپنی حکمرانی کو تقویت دینے والا ایک نظام قائم کیا اور جس نے بھی حقیقی جمہوریت یا عوام کی حکمرانی کی بات کی اسے غداریا ملک دشمن قراردیا گیا۔ جنرل یحییٰ خان آئے تواپنے ذاتی کردار کے برعکس اسلام پسندوں کاایک گروپ جمع کرکے نظریہ ٴ پاکستان کی تخلیق کی۔ پاک فوج کا سربراہ ہونے کے باوجود اپنے تخلیق کردہ نظریہ ٴ پاکستان کی تشریح و تعبیر پر ایسے لوگوں کو معمور کیا جو قائداعظم اور تحریک ِ پاکستان دونوں کے مخالف تھے۔ یحییٰ خان نے اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تصورات سے عوامی تحریکوں کی ریاستی سطح پر مزاحمت کا جواز مہیا کیا جس کا مظاہرہ مشرقی پاکستان پر فوج کشی کی صورت میں ہوا۔ مشرقی پاکستان کے عوام اپنے جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق مانگ رہے تھے لیکن یحییٰ خان کے نظریہ ٴ پاکستان والوں نے انہیں غدار اورملک دشمن قرار دیا اور ان کے منتخب نمائندوں کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کن اکثریت کے باوجود اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں قائداعظم  اوربرصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد سے قائم ہونے والا ملک دولخت ہو گیا۔ تحریک ِ پاکستان میں حصہ لینے والے نہتے مسلمان انگریز اور ہندو کی مشترکہ طاقت کو شکست دے کر اپنا وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن مسلح افواج کی طاقت رکھنے والا پاکستان صرف ہندو کی طاقت کے سامنے اپنے وجود کو بچانے میں ناکام رہا۔ 1971ء کی تباہ کن شکست کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں منتخب نمائندوں کی حکومت قائم ہوئی جس نے 1973ء میں پاکستان کو پہلا منتخب دستور دیا اوراس دستور کے تحت ہم اپنے جمہوری نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اپوزیشن کی طاقتوں نے بھٹوصاحب کوجمہوری خرابیوں سے نجات حاصل کرنے پرآمادہ کرلیا تھا اور امید پیداہوچکی تھی کہ دوبارہ انتخابات کے بعد پہلے سے بہتر جمہوری حکومت میسر آسکے گی لیکن جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیااور جس عوامی حمایت کو موجودہ فوجی قیادت نے فیصلہ کن کردار کی حامل قرا دیا ہے اسے بوٹ کی ٹھوکر سے الگ ہٹا کر قیداور کوڑوں کے ذریعے کچلنا شروع کردیا اور ایوب خاں کی طرح پھر سے غیرجماعتی بلدیاتی نظام اور غیرجماعتی اسمبلیاں قائم کرکے اسے عوامی حمایت کا نعم البدل تصور کرلیا۔ ان کے بعد فوج نے جس جمہوری نظام کی اجازت دی اس کی لگامیں اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ دو دو مرتبہ وزیراعظم بننے والے سیاستدانوں کوخود ہی اقتدارمیں لانے کا انتظام کیا اور خود ہی انہیں بے عزت کرکے ایوان اقتدار سے نکال پھینکا۔ میں پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ وہ چاروں انتخابات جو جنرل ضیاء کے بعد کروائے گئے ان کے نتائج عوام کے دیئے ہوئے ووٹوں کے مطابق نہیں تھے۔ 12اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو وہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک مختلف واقعہ تھا۔ بہرحال جب وہ آہی گئے اور اپنا سات نکاتی ایجنڈا قوم کے سامنے پیش کیا تو بار بار کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی قوم نے ایک بار پھر امید کادامن تھاما لیکن یہ امید بھی وقت کے ساتھ ساتھ دسترس سے نکلتی چلی گئی۔ آج وہ بھی ماضی کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کے ڈھیر کاحصہ بن چکی ہے۔ ہم دوبارہ کسی نئی امید کا دامن تھامنے کیلئے انتظار کے انگاروں پرکھڑے ہیں۔ الیکشن کی تاریخ ایک بار پھردی جاچکی ہے۔ وہ تاریخ اپنے دامن میں نئے وعدے کاایفا لائے گی یاکچھ اور کسی کو علم نہیں لیکن طاقت کے مرکز سے جو نئی آواز ابھری اور جس سے میں نے آج کاکالم شروع کیا اس میں امید کی جوت سے نکلتی روشنی نئی امید کو جنم دے رہی ہے یہ امید ہمیں کسی منزل کی سمت لے کر چلے گی؟ یا ماضی میں ٹوٹی ہوئی امیدوں کے ڈھیر میں شامل ہوجائے گی؟
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
Zullu230 (05-01-08)
پرانا 05-01-08, 10:40 AM   #2
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,155
شکریہ: 3,011
1,428 مراسلہ میں 3,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی

بہت خوب فوٹو بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فوٹو, ہندو, پاک, پاکستان, وزیراعظم, موجودہ, منتقل, محبت, آج, اسلام, اعلیٰ, بھائی, خان, دل, دستور, راستہ, سفر, سٹاف, سال, عزت, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی خرم شہزاد خرم پطرس بخاری 4 07-10-11 04:16 AM
بچوں کے لیئے کہانیاں (سویا ہوا بھالُو) shafresha بچوں کے لیے کہانیاں 2 01-09-10 02:36 AM
وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی ھارون اعظم خبریں 8 01-08-10 02:24 AM
لمبی لمبی سویاں محمد کاشف حبیب دلچسپ اور عجیب 9 04-11-09 03:32 PM
SOS,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی طارق راحیل خبریں 0 10-03-09 09:04 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger