واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تضادات سے بھری سحر انگیز شخصیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-10, 12:03 AM   #1
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تضادات سے بھری سحر انگیز شخصیت

تضادات سے بھری سحر انگیز شخصیت

وہ چار آنے جیب میں لے کر اکوڑہ خٹک سے سیاسی سفر پر نکلے تو آدھی دنیا دیکھ ڈالی۔ انہوں نے اس دوران عام آدمی سے لے کر سربراہان مملکت، نامور سیاستدانوں، شہرہ آفاق ادیبوں اور شاعروں سے ملاقاتیں کیں اور ساٹھ سال کی سیاسی اور ادبی جدوجہد کے بعد جب دارِ فانی سے رخصت ہوئے تو ان کی جیب میں چار آنے بھی نہیں تھے۔

ذوا لفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں لیاقت باغ راولپنڈی میں اپوزیشن کے جلسے پر حکومتی سرپرستی میں حملہ ہوا تو اس وقت اجمل خٹک نیشل عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں جب ایک کارکن کو گولی لگی اور اس نے اجمل خٹک کی بانہوں میں زندگی کی بازی ہار دی تب وہ یہ کہہ کر کابل جلا وطن ہوگئے کہ یہ ملک اب مزید رہنے کے قابل نہیں رہا۔

اٹھارہ سال افغانستان میں رہ کر انہوں نے ظاہر شاہ کی بادشاہت کے خاتمے، داؤد خان کی حکومت، ثور انقلاب، سوویت یونین کی فوج کی افغانستان آمد اور اس کی پھر شکست و ریخت، پاکستان میں ستر کی دھائی میں پشتون نوجوانوں کی گوریلا جنگ ان سبھی کو انہوں نے نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ وہ ان میں اہم کردار کے طور پر بھی شامل رہے۔

اس سے قبل اجمل خٹک مرحوم نے خدائی خدمت گار تحریک کے کارکن کے طور پر انیس سو بیالیس میں ’ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک میں حصہ لیا تھا۔ پھر جب انیس سو سینتالیس میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو اسی اجمل خٹک نے ریڈیو پاکستان پشاور کے لیے پاکستان کی عظمت میں پشتو ترانے لکھے اور افغانستان کے خلاف پروپیگنڈہ پروگرام کے سکرپٹ لکھتے رہے۔

لیکن پھر ان کی شخصیت میں یکلخت ایسی تبدیلی آئی کہ پاکستان کے ترانے لکھنے والے اجمل خٹک پشتونستان کے ترانے لکھنے لگے۔ ریڈیو پاکستان پشاور پر افغانستان کے خلاف پروپیگنڈہ پروگرام کی سکرپٹ لکھنے والے اجمل خٹک پھر جلاوطنی کے دوران ریڈیو افغانستان پر پاکستان کے خلاف تقریریں کرتے رہے۔

تضادات سے بھر پور اجمل خٹک کی شخصیت اتنی سحر انگیز بھی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ ان کی تہہ در تہہ شخصیت کی جال میں ایسے الجھ جاتے کہ بہت دیر بعد آپ کو پتہ چل جاتا کہ آپ کسی شکاری کے دام میں پھنس چکے ہیں۔

ایک مسلمان پشتون گھرانے میں پرورش، خوشحال خان خٹک کا شاعرانہ رنگ، باچا خان کی سیاسی تربیت، مارکسسزم، جامعہ ملیہ دہلی کا ماحول، ترقی پسند ادب کی چھاپ ان کی شخصیت میں اس طرح رچ بس گئی تھی جس کا حتمی نتیجہ ایک متضاد شخصیت کی ہی تشکیل پر منتج ہوسکتا تھا۔

سیاسی جوڑ توڑ کے اتنے ماہر کہ سیاسی اتحاد بنانے کے لیے نکل پڑتے تو آگ اور پانی کو یک جان دو قالب کرلیتے۔ دو دشمنوں کو کھینچ کھینچ کر مذاکرات کی میز پر بٹھاتے اور چند گھنٹوں بعد دو دشمن سیاستدان دوستوں کی طرح ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مسکراتے ہوئے کمرے سے یوں نکلتے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا اور خود اجمل خٹک اپنے ہونٹوں پر ایسی طنزیہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے نمودار ہوتے کہ گویا کہہ رہے ہوں کہ یہ سب تو میرا ہی کمال ہے۔

سیاسی کارکنوں کی محفل میں پیر پھیلاکر اپنے آدھے چہرے کو اپی سفید ٹوپی سے اس طرح چھپاتے کہ گویا وہ سو رہے ہیں اور محفل میں جاری بحث سے وہ بالکل لاتعلق ہیں لیکن جب اسی محفل میں ان کی ذات یا پالیسی کے حوالے سے کوئی بات کرتا تو وہ اپنی بائیں آنکھ کھول کر اس شخص کو کچھ اس طرح گھورتے کہ وہ پانی پانی ہوجاتا لیکن وہ کچھ کہے بغیر اپنی آنکھ دوبارہ بند کر لیتے۔

اجمل خٹک سماجی نفسیات اور ہپناٹزم کے ماہر تھے اسی لیے انہیں جوڑ توڑ ، مذاکرات کی میز پر اپنے مخالف کو مشکل صورتحال سے دو چار کرنے، میل ملاپ میں لوگوں کو اپنی سحر میں گرفتار کرنے کا ملکہ حاصل تھا۔

اجمل خٹک نے سینکڑوں سال سے جاری پشتو شاعری کی روایت کو توڑتے ہوئے اس میں طبقاتی، انقلابی اور مزاحمتی رنگ کچھ اس انداز سے شامل کیا کہ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’د غیرت چغہ‘ ( غیرت کی پکار) شائع ہوا تو اس نے پشتون نوجوانوں کے خون میں ایسی گرمی پیدا کردی کہ انہیں ایک آزاد پشتون وطن کی منزل بہت قریب نظر آنے لگی۔ ان کی’جنت‘ کے عنوان سے ایک نظم انقلابی نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی تھی ۔نثری ترجمہ: ( میں نے اپنےگریباں میں جھانک کر دیکھا، تو میرا دل آسمان کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا، میں نے اس کے چند الفاظ سنے، وہ کہہ رہا تھا، کہ اے لا مکان کے مالک، اپنے مکان میں اپنا اختیار جنت ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا، تو پھر اس پاگل پنے کے نام پر، اگر سولی ہے تو سولی اور اگر آگ ہے تو آگ جنت ہے۔)

انہوں نے ان نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان سے طور خم کے راستے بہت جلد ’سرخ ڈولی‘ لیکر آئیں گے مگر جب وہ انیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو کی عام معافی کے اعلان سے استفادہ کرتے ہوئے ’خالی ہاتھ‘ واپس لوٹے تو ان کے کسی شاعر دوست نے ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی تھی کہ’ تم نہ بہار اور نہ ہی پھول لاسکے، تم جھوٹے ہو۔۔۔‘

پانچ سال قبل جب میں نے ایک انٹرویو کے دوران اجمل خٹک کو ’سرخ ڈولی لانے’ کا وعدہ یاد دلایا اور ان کے خلاف لکھی گئی نظم کا حوالہ دیا تو انہوں نے جواب میں محض اپنا ایک شعر سنایا کہ ’خٹک تادمِ مرگ بار بار تمہاری راہ تکتا رہا، تم آ بھی رہے تھے مگر راستے پُر پیچ نکلے۔‘
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــ
عبد الحئی کاکڑ - بی بی سی
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-02-10), عروج (14-11-10)
پرانا 09-02-10, 12:46 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,147
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ!

میں‌اُن کی شخصیت سے واقعی متاثر ہوں!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (09-02-10)
جواب

Tags
کمال, پھول, پاکستان, پاگل, پسند, لوٹے, نظر, آدمی, بے نظیر, بادشاہت, جواب, جلد, خون, خلاف, خان, دل, ریڈیو پاکستان, زندگی, سفر, سال, شاعری, علی, غیرت, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہاتھ، آپکی شخصیت کا آئینہ زارا گھریلو ٹوٹکے 6 17-11-11 09:05 PM
شخصیت پرستی اور شخصیت پسندی Zullu230 گپ شپ 14 14-03-11 09:05 PM
مُتاثر کُن شخصیت سیپ عائلی زندگی 4 04-03-11 02:34 PM
انسان کی شخصیت کے پہلو زارا گپ شپ 2 29-01-11 01:19 PM
::::: دوہرا چہرہ ، دوہری شخصیت ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 04-04-09 08:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:22 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger