| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے نظیر امر ہو گئی,,,,طاہرہ اقبال
ہم کیسی بدقسمت قوم ہیں کہ اپنے بہترین افراد کے جنازے اٹھانے اور ان کی ناگہانی اموات پر آہ و بکا کرنا ہمارا مقدر ٹھہرا۔ ستائیس دسمبر کا خون ناحق میں لتھڑا ہوا سورج جب غروب ہوا تو اپنے کروڑوں افراد کے آنسو اور تار تار دل و جگر چھوڑ گیا یہ المیہ یہ دکھ کسی خاندان کسی ایک پارٹی، مکتبہ فکر یا صوبے کا نہ تھا یہ پوری قوم کا اجتماعی درد تھا جس پر قوم و ملت، علاقہ و لسان، ذہنی و سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر فرد رویا۔ یہ حادثہ پوری دنیا کو یوں سوگوار کر گیا کہ بچوں کی مسکراہٹ، پھولوں کی چٹک اور صبح کی روشنی بھی بری لگنے لگی۔ میں نے سوچا تھا کہ اب اٹھائیس دسمبر کے سورج کو طلوع ہونا زیب دیتا ہے۔ تو میرے کان میں اٹھائیس دسمبر کی پہلی کرن نے سرگوشی کی کہ یہ بے نظیر کا فانی زندگی کا خاتمہ نہیں اک دائمی زندگی کا سورج طلوع ہوا ہے جو سدا جمگاتا رہے گا۔ ٹی وی چینلز، اخبارات، ملکی و غیر ملکی کی تمام ذرائع ابلاغ، سڑکیں، بازار ، گھر افراد 2007 کی ٹوٹتی ہوئی سانسوں نے ایسا منظر نامہ ترتیب دیا کہ لیڈی ڈیانا کی موت کا منظر نگاہوں میں گھوم گیا۔ مارنے والوں نے شاید یہ نہ سوچا تھا کہ وہ بے نظیر کو مار نہیں رہے بلکہ امر کر رہے ہیں یہ پاکستانی شہزادی مر کر زندہ ہو گئی ہے۔ جس کا طرز لباس، دوپٹے کا منفرد انداز ، طرز تکلم، نشست و برخاست مشرقی خواتین کے لئے نمونہ تقلید بن چکا تھا جس کی ذہانت صوابدید اور عظمت اس مرد حاوی معاشرے کو نئے اسالیب بخش گئی۔ بے نظیر واقعی بے نظیر تھی کہ قوم اتنی قلاش اتنی یتیم پہلے کبھی نہ دکھائی دی تھی پوری تاریخ پر نظر ڈالیے قائد اعظم کی موت کے بعد بے نظیر کی موت ہے جس نے قوم کو یکمشت کر کے خون کے آنسو رلایا مارنے والے بھی بھونچکا رہ گئے ہوں گے کہ جس کی سیاسی و عوامی قوت سے خوفزدہ ہو کر اسے ہمیشہ کے لئے اپنے رستے سے ہٹا دیا تھا اس کے راج کی بساط تو دلوں پر کچھ یوں بچھ گئی ہے کہ اب تو لوگ صرف تیر کا نشان دیکھ کر بے نظیر کی عقیدت کو سلام پیش کریں گے۔ مخالفین نے تو سودا گھاٹے کا کر لیا۔ عجب موت دی اسے کہ جو زندہ سے بھی زندہ تر ہے اسی کی کمیاں خامیاں یوں قاتلوں نے دھو دیں جس طرح اس کی موت کے شواہد کو بدحواسی میں مٹا دیا گیا۔ تب میں نے سوچا تمام تر قومی و ملکی وسائل پر قابض فلاں فلاں شخص کو اگر یوں مار دیا جاتا تو پھر کیا ہوتا۔بڑی بات ہوتی کہ کچھ لوگ دعائے مغفرت پڑھتے اور مرحوم کی ناانصافیوں اور ہٹ دھرمیوں پر پردہ ڈال دیتے اور بیشتر غاصبوں اور آمروں سے نجات پر سکھ کا سانس لیتے۔ موت تو آنی جانی ہے دو چار سال آگے پیچھے کیا، بات تو اس نام اس محبت اس پیار کی ہے جو مرنے والا اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ تاریخ عالم میں کتنے ہیں جنہیں بے نظیر باوقار نام ہمہ گیر محبت اور لافانی یاد نصیب ہوئی۔ بے نظیر اپنے باپ کی محبتوں کا بویا کاٹتی رہی اور اب پیپلز پارٹی بے نظیر کی محبتوں سے گلزارا گا سکتی ہے۔ وہ ہر کہیں پنیریاں لگا گئی ہے خدارا انہیں صوبائیت، علاقائیت اور لسانیت کی آگ میں بھسم مت کیجیے۔ یہی محبت تو بے نظیر کی طاقت تھی جو مخالفین کو لرزا گئی ، مقابلے کی ہمت چھن گئی اس کا وجود اپنی سیاسی موت نظر آنے لگا اور بدحواسی میں گولی کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہ سوجھا یہ گولی بے نظیر کو نہیں لگی ، وفاق کو لگی ہے ملک کی استقامت کو لگی ہے تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا کہ جب بھی کوئی رہنما قومیت، علاقائیت اور لسانیت سے بالا تر ہو کر پاکستانی قوم کا ترجمان بنا تو پھر اسے جینے نہ دیا گیا۔ لیاقت علی خان بھی پاکستان کے نمائندہ تھے، ذوالفقار علی بھٹو بھی چاروں صوبوں کے لیڈر تھے، بے نظیر بھی وفاق کی علامت تھی سب کی موت کے لئے یہی شہر روالپنڈی منتخب کیا گیا۔ پنجاب سے نفرت بڑھانے، وفاق کو ضف پہنچانے جمہوریت و یکجہتی کو قتل کرنے کے لئے اسی شہر کا انتخاب کیا گیا۔ علاقائی منافرت پھیلانے والے، ذاتی مفادات کی سیاست چمکانے والے، وفاق کو توڑنے کی باتیں کرنے والے، دندناتے پھرتے ہیں ان کے لئے کبھی کوئی بم دھماکہ، کوئی گولی پلان نہ کی گئی۔ہم خوش تھے کہ پاکستان کی وحدانیت کی ترجمان ایک ایسی لیڈر ہے جس کے پرچم تلے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک کروڑوں محبان وطن جمع ہیں لیکن ہماری خوشیوں کو کب دوام حاصل ہوتاہے۔ پاکستان دشمن قوتوں اور خفیہ ہاتھوں پر قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں، کی جاتی رہیں گی لیکن آج تک کوئی انکوائری ٹیم کوئی تفتیشی عملہ ان کا سراغ نہیں لگا سکا ان دورس نتائج کے حامل حادثات کی قابل قبول وجوہات عوام کے سامنے نہ لائی جا سکیں۔ اسی لئے حکومت وقت اور خفیہ ایجنسیوں کو عوام نے ہمیشہ شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا۔ جنہوں نے ہر تخریب کاری اور قتل و غارت کا الزام بیرونی عناصر پر دھر دیا۔ اب اس کام کے لئے القاعدہ کی خدمات مفت حاصل ہوتی ہیں۔ القاعدہ شاید ایک ایسا فرضی دشمن جیسے مغربی طاقتوں نے اپنے اسلحے اور حربی قوتیں آزمانے، اپنے سامراجی عزائم حاصل کرنے اور اسلامی ممالک اور شعائر اسلامی کی بیخ کنی کے لئے اختراع کیا ہے اور ہم نے بھی اپنی نالائقیوں، ہٹ دھرمیوں اور قانون شکنیوں کو چھپانے کو یہی ڈھال پہن لی ہے القاعدہ ایک ایسا Scare Crow ہے جس کے سامنے سپر پاور تک مجبور محض ہیں تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟ القاعدہ جو ہماری خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اپنے نامہٴ اعمال میں دنیا جہاں کی ہر تخریبی کارروائی لکھ لیتے ہیں۔ کیسے سادہ لوگ ہیں یہ القاعدہ والے بھی کہ جو لوگ دن رات ان کے نام نہاد ٹھکانوں پر بمباری کروا رہے ہیں ان کے مجاہدین کو چڑیوں کی طرح شکار کر رہے ہیں انہیں تو وہ کمال روا داری اور اسلامی عفوو درگزر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے بندوں چھوڑ دیتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں تو ان کے مخالفین کی جب کہ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہوا کرتا ہے لیکن بے نظیر کا قتل آسانی سے ہضم نہ ہو سکے گا۔ ہر طلوع ہونے والا سورج اس حادثے کی سنگینی کو مزید بڑھائے گا اس کے نقصانات کو باور کروائے گا اس کے پس پشت عناصر کو بے نقاب کرے گا۔ مشرق کی اس نڈر بیٹی کو کتنا ڈرایا گیا، کتنی وارننگ دی گئی کہ اس کی زندگی ختم کر دی جائے گی لیکن وہ اس فانی زندگی کی حفاظت کرتی تو پھر یہ دائمی زندگی کیونکر میسر آتی وہ نہتا لاکھوں کے مجمع میں شب و روز کھڑتی رہتی تھی یہ لاکھوں کی تعداد میں محافظ فورسز رکھنے والے ایسے کسی ایک جلسے سے تو مخاطب ہو کر دکھائیں یہ تو پچھلے تین روز سے زندگی کی مٹھی میں دبائے کہیں تہہ نشیں ہو گئے اور شہر اور املاک لوٹنے اور جلانے والے شر پسندوں کے حوالے کر دیئے۔ بے نظیر کی زندہ موت اس فانی زندگی کی جاہ میں مرنے والوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ کبھی تم بھی دلوں میں بس کے دیکھو جہاں کسی موت کا ظالم ہاتھ کبھی نہیں پہنچتا زندگی کی چاہ میں مرنے والوں کو موت کی بقا حاصل کرنے کا اک اچھا موقع ملا تھا کہ ریاست کے کارپردازان عوام کے سامنے آکر یہ اعلان کرتے کہ بے نظیر جیسی بین الاقوامی مقام و مرتبہ کی حامل لیڈر کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری تھی جس کی ناکامی کو قبول کرتے ہوئے ہم مستعفی ہوتے ہیں تو ان کا یہ منصفانہ فیصلہ انہیں بھی اک حرمت اور بقا بخش جاتا ورنہ موت کا ذائقہ تو شداد و فرعون، ہٹلر و صدام نے بھی چکھا، زندہ رہنے والے عمروں کی طوالت سے زندہ نہیں رہتے اعمال و مقاصد کی بلندی انہیں دوامیت بخشتی ہے مختصر عمریں پانے والے عموماً تاریخ میں لافانی ہو جاتے ہیں جس طرح پاکستانی قوم کے دلوں کی شہزادی مر کر بھی جی دی ہے اس کے لئے کتنے آنسو بہتے رہیں گے۔ کتنے دیئے روشن ہوتے رہیں گے کتنے پھول برستے رہیں گے۔ یہ اعزاز اسی بے تاج شہزادی کو ملا ہے جیسے پرنسس آف پاکستان نہیں ڈاٹر آف ایسٹ کا خطاب حاصل ہے اس مشرق کی بیٹی کے لئے آج مشرق ہی آنسوؤں میں نہیں ڈوبا ہوا مغرب بھی اداس ہے۔ دیکھئے یہ آنسو یہ اداسی کس مثبت سمت میں استعمال ہوتے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,124
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبردست شئرنگ ہے جناب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
|
|
|
|
| Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال عباسی (13-01-08) |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
کمائي: 291
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس میںکوئی شک نہیں کہ مشرق کی یہ بیٹی نہ صرف پاکستان کی بلکہ پورے عالم اسلام کے لئیے باعث فختر تھی۔ کہتے ہیں کہ ایسے افراد صدیوںمیںپیدا ہوتے ہیں لیکن ہم کتنے ظالم ہیں جو ایسے افراد کو مارتے ہوے یہ نہیں سوچتے کے ان کے مرنے سے صرف اسکی موت نہیںبلکہ پورے معاشرے کی موت ہو گی۔ محترمہ کی شہادت سے وقتی تو اسکے مخالفین فائدہ حاصل کر لیں گے لیکن یہ میرا پختہ یقین ہے محترمہ کے قتل میں ملوث ہر ایک قوت کو قدرت عبرت ناک سزا دے گی۔ کیوں کے میرے رب کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
اللہ ہم سب کو محترمہ کی شہادت کا صدمہ جیلنے کے توفیق دے اور محترمہ کی روح کو جنت میں اعلی مقام پر فایز کرے۔ آمین۔ |
|
|
|
| بلال عباسی کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (13-01-08) |
![]() |
| Tags |
| کوئٹہ, کمال, کراچی, پاکستانی, لیاقت علی خان, لوگ, نفرت, نشیں, مفت, موت, محبت, آج, الزام, اسلامی, بہترین, بے نظیر, بچوں, خون, خواتین, دیکھو, دوست, ذوالفقار علی بھٹو, سیاست, سودا, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|