| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہفتہ 18جولائی 2009ءکی رات کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ایسی موسلا دھار بارش جاری تھی جیسے ابھی پورا کراچی اسی پانی میں بہہ جائے گا۔ کچے گھر تو رہے ایک طرف پختہ گھرانوں میں رہنے والے بھی توبہ تائب کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ مشہور ہے، جہاں خوشیاں ہوں وہاں غم ہوتے ہیں اور جہاں غم ہوں وہاں خوشیاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ طوفانی بارش بھی بہت سے لوگوں کے لیے موت کا سامان بن رہی تھی تو دوسری جانب کچھ ایسے بھی تھے جن کی آج شادی ہونے جارہی تھی۔ اکثر سمجھدار و صابرد لہوں نے تو اس تقریب کو مناسب وقت تک ٹال دیا مگر وقت اور دھن کے پکے کچھ لوگ جو آندھی و طوفان میں بھی اپنے اصولوں پر جمے رہتے ہیں نہ ٹلے۔ ایسی ہی ایک دعوت میں مَلک مجھے بھی گھسیٹ کر لے گیا۔ پچیس ہزار میں بُک کیا گیا شادی لان اس وقت بے حال ہوا جارہا تھا۔ بارش کا پانی پہلے ٹخنوں تک آیا، پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتا گیا۔ ملک صاحب تو لنگوٹ کَس کر آئے تھے، اس لیے بے فکررہے۔ میں جو بن ٹھن کر آیاتھا،غصے سے مَلک کو گھورنے لگا اور ملک صاحب دلہن کے والد صاحب کو جو بڑے مزے سے کرسی پر بیٹھے چپو چلا رہے تھے۔
ملک صاحب کو دعوت دلہن والوں کی طرف سے ملی تھی اور کیوں نہ ملتی، یہ محلے کی ہر دلعزیز شخصیت میں شمار ہوتے ہیں۔ ہم نے لاکھ سمجھایا، ملک صاحب کیوں اس بارش میں خود کو ہلکان کرتے ہو، رہنے دو دعوت۔ مگر کہاں، جیسے دلہن کے والد اصولوں کے پکے تھے، ملک صاحب ان سے بھی دو ہاتھ آگے۔ پانی اتنا اونچاہوگیا تھا کہ ملک صاحب شادی لان کے ملازمین کے ساتھ تیراکی کا شوق پورا کرنے لگے۔ میں جس کرسی پر بیٹھا تھا وہ بھی کافی اُوپر اٹھ چکی تھی۔ دلہن کی بقیہ فیملی اسٹیج کے جزیرے پر قید تھی اور مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ان کا رنگ و روغن بھی گھل گھل کوبارش کے پانی رنگین کرنے لگا۔ میں اپنی کرسی کو پاوں کے چپووں سے دھکیلتا دلہن کے والد صاحب کے پاس پہنچا ”کیا بارات آبھی رہی ہے یا نہیں؟“ انہوں نے ہماری کرسی کے قریب ہچکولے لیتے ہوئے فرمایا”آخری رابطہ جب ہوا تھا، اس وقت بارات روانہ ہوچکی تھی، اب تو پہنچنے والی ہوگی۔“ اتنے میں ملک صاحب نے پانی سے سر نکالا”کیا باہر دیکھ کر آوں؟“ جواب ملنے سے پہلے ہی مَلک صاحب غڑاپ کرکے غائب ہوگئے۔ میں نے دلہن کے والد سے پوچھا”صبح سے ہی بارش کی تیزی آپ کے سامنے ہے، اب تک کتنے ہی لوگ کرنٹ لگنے، چھتیں ودیوار گرنے اور گندے نالوں میں ڈوبنے والوں کی ہلاکتیں آپ کے سامنے ہیں۔ پھر کیا وجہ تھی کہ آج کی تقریب کینسل نہ کی گئی۔“ ”میں تو دھن کا پکا ہوں.... آندھی آئے یا طوفان ،جو بات کہہ دوں عمل کرتا ہوں۔“ انہوں نے بڑے فخر سے بتایا۔ ”مگر حالات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے، دیکھئے کوئی بھی تو نہیں آیا، میں بھی نہ ہوتا اگر مَلک نہ لاتا تو۔“ میں نے پانی میں چاروں طرف ان کی کرسی کو گھما کر تقریب گاہ کا معائینہ کرایا۔ ”کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو، مگر مجھے یقین ہے بارات ضرور آئے گی۔“ انہو ں بڑے یقین سے جواب دیا۔ ”بارات آبھی گئی تو یہ ایک اور مصیبت ہوگی۔میری مانیں تو فون پر رابطہ کرکے انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔“ میں نے مشورہ دیا۔ ”بیٹا! کون سا فون نیٹ ورک کام کررہاہے جو میں رابطہ کروں۔ سب کے سگنل ہی بجلی کی طرح ڈاون ہیں اور ویسے بھی میرا موبائل فون پتہ نہیں کہاں گرگیاہے۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا۔ اتنی دیر میںمَلک نے پھر پہلے کی طرح اچانک ہی پانی سے سر نکالا”باہر تو چھوٹی گاڑیاں سوئمنگ کررہی ہیںاور دور دور تک کسی بارات کے آثار نہیں ہیں۔“ ”ایسا کرتے ہیں، اب کسی طرح گھر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔“ دلہن کے والد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ”مگر جائیں گے کیسے؟“ میں نے پریشانی سے پوچھا تو ملک صاحب نے فرمایا”تیر کر۔“ ”اپنی گاڑی باہر کھڑی ہے، اسی میں چلتے ہیں۔ میں ذرا فیملی کو چلنے کا کہہ آوں۔“ دلہن کے والد نے کرسی کو موڑتے ہوئے کہا۔ ”رہنے دیں ....باہر سب سے زیادہ آپ کی گاڑی ہی تو تیر رہی ہے۔“ ملک صاحب نے بتایا۔ بہر حال کسی نہ کسی طرح گھر تک پہنچ گئے مگر بجلی گھر سے رخصت ہوگئی۔ گاڑی کو ایک موٹی رسی سے سڑک کے کنارے لگے درخت سے باندھ آئے کہ آوارہ جانوروں کی طرح کہیں غائب نہ ہوجائے۔ ملک صاحب نے ایک اچھا کام یہ کیا تھا، کھانے کی دیگوں کو بھی کسی طرح محفوظ کرواکر ساتھ لے چلے تھے۔ ملک صاحب کی بد بختی، پورا محلہ اندھیرے میں اور ملک صاحب کے گھرسے روشنی پھوٹتی دکھائی دی۔ میں ملک صاحب کی بیٹھک میں ہی آ گیا اور روشنی کا راز بھی کھل گیا کہ ملک صاحب نے نیا اور زیادہ پاور فل یو پی ایس لگوایا ہے۔ سانس ابھی بحال نہ ہوئے تھے کہ دروازہ بجا۔ ملک صاحب کے ساتھ میں نے باہر آکر دیکھا تو دلہن کے والد صاحب کھڑے ہیں اور ایک نوجوان بھی جس کے گلے میں دو چار دھاگے کے تعویز لٹکتے دکھائی دئیے جن پر کہیں کہیں گلاب کے پھول کی ایک آدھ پتی بھی ٹکی ہوئی تھی۔ ”جی....کیا خدمت کروں؟“ ملک صاحب نے یقینا جعلی مسکراہٹ چہرے پر سجائی تھی۔ ”بیٹا!یہ دولہا ہے.... اپنی بہنوں اور ماں کے ساتھ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، اسے اپنی بیٹھک میں بٹھاو، یہاں مناسب روشنی ہے۔ میں قاضی صاحب کا پتہ کرتا ہوں۔“ دلہن کے والد نے دولہا کا تعارف کرایا تو لمبے تعویزوں کا راز بھی از خود حل ہوگیا، یہ پھولوں کے ہار تھے جن کے اب صرف دھاگے ہی رہ گئے تھے۔ دولہا کو بڑے عزت و احترام سے فرش پر بٹھایا گیا کیونکہ صوفے بھی نئے تھے اور مَلک جتنا بھی ہر دلعزیز سہی مگر پرلے درجے کا کنجوس بھی ہے۔ دولہا آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ”باقی بارات کہاں ہے؟“ میں نے دولہا سے پوچھا۔ ”پتہ نہیں....ہمیں تو پانی کا بہاو لے آیا ورنہ ممکن تھا سیدھاسمندر میں ہی جا نکلتے۔“ دولہا نے شیروانی اتار کر نچوڑنے کا ارادہ کیا مگر میں نے منع کردیا کہ کوئی جگہ تو خشک رہنی چاہیے۔ دلہن کے والد قاضی صاحب کو بھی لے آئے۔ نکاح کے گواہان میں ملک صاحب کا نام بھی شامل کیا گیا۔ چونکہ دولہا صاحب ماں اور بہنوں کے ساتھ آئے تھے یعنی ان کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا اس لیے ملک صاحب کو ان کی طرف سے گواہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن مَلک نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ بھئی میں تو لڑکی کو اچھی طرح جانتا ہوں، میں تو اسی کا گواہ بنوں گا۔ شکر ہے بات سب کے سروں سے گزر گئی، ورنہ خون خرابہ ہوسکتا تھا۔ ایجاب و قبول کے بعد ملک صاحب کی بیٹھک میں ہی کھانا کھلا کر دولہا کو آرام فرمانے کا کہا گیا مگر دولہا بضد کہ دلہن لے کر ہی جاوں گا۔ بہت سمجھایا کہ کہیں پانی میں بہہ نہ جائے مگر کہاں جناب! وہ تو مرنے مارنے پر تل گیا اور آخر رخصتی بھی اسی برسات میں کردی گئی۔ مَلک اور میں دولہے کی عقل پر ماتم کررہی تھے کہ پھر دروازہ بجا۔ دیکھا تو اب پوری بارات کھڑی تھی ....!!! |
|
|
|
| اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (25-10-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیرنگ ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, کراچی, پھول, قید, لڑکی, نظر, موبائل, موت, ممکن, ماں, آج, اچھا کام, تعارف, حال, خون, رات, شادی, عقل, عزت, غم, غائب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ھی۔۔۔ صحیح یا غلط | پاکستانی لڑکی | گپ شپ | 95 | 09-03-11 02:14 PM |
| فوج کو دعوت ،عمران خان بھی الطا ف حسین کے پیچھے پیچھے | جاویداسد | خبریں | 38 | 30-08-10 12:13 AM |
| عوام بھی الطا ف حسین کے پیچھے پیچھے | فرحان دانش | خبریں | 5 | 24-08-10 11:39 PM |
| ایسا بھی ہوتا ہے کھیل کھیل میں | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 7 | 03-10-09 11:26 PM |
| قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 03-09-07 10:41 AM |