| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایازا میر
ہم اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں یہ دنیا ہمارے خود سے پیدا کردہ مسائل سے بھری پڑی ہے اور ہم بسا اوقات ایسے الزامات کی بھرمار بھی کردیتے ہیں جو ہمارے اپنے تصورات کی پیدائش نظر آتے ہی۔ دوسری طرف ہم اصل مسائل کو نظر انداز کردیتے ہیں حتیٰ کہ ہم اپنے ہمسائے سے باخبر رہنے کے تقاضے پورے کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں ۔ یہ ہمارا کوئی چھوٹا جرم نہیں ہے کہ ہمارے میڈیا کے شہ سواروں کے پاس دہلی اور کابل میں کل وقتی کام کرنے والے نمائندے تک نہیں ہیں۔ ہمارا اپنے مشرق اور مغرب کے ان دو ہمسایوں کے بارے میں علم بیرونی اور مغربی میڈیا ذرائع کا محتاج ہے وہ جو چاہتے ہیں ہمیں دکھاتے اور سناتے ہیں۔ رپورٹنگ ایک ایسا شعبہ ہے جسے بہت اچھا ہونا چاہئے لیکن ہمارا یہ شعبہ افغانستان اور بھارت کی رپورٹنگ کرنے کے حوالے سے اندرونی خون خرابے کی بے سمت کوریج سے بھی زیادہ دوسروں سے متاثر ہے۔ سوموٹو ایکشن کی وجہ سے مشہورعزت مآب چیف جسٹس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس عجیب رجحان کا نوٹس بھی لیں۔ بھارت نے اپریل 2004ء میں جنگ کے سرد آغاز کا اصول وضع کیا لیکن پاکستان ابھی تک اس کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکا ہے۔ ہمارے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل مشرف ، جو اس وقت ہر چیز پر اپنے اختیارات کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے تھے ،کے لبوں پر ہر وقت اسٹریٹجی کا لفظ تو رہتا تھا اورایسا لگتا تھا کہ وہ اس لفظ کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتے لیکن سوال یہ ہے کہ اس نئے جنگی اصول کے بارے میں وہ ایک لفظ بھی اپنی زبان پر لائے؟ یہ کریڈٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جاتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو اس اصول کے معنی سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنے ارد گرد کے حالات سے محتاط رہنے کی ضرورت کیوں ہے۔ اس سے ان کا مقصد اپنے امریکی اتحادیوں کو بھی آگاہ کرنا ہے جو اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان بھارت کے بارے میں اپنی پیش بندیوں سے دستبردار ہوجائیں ۔ جس وقت بھارتی فوج خاص ٹارگٹ پر حملوں اور تیز تر فوجی حرکت کی باتیں کرتی ہے تو پاکستانی اس ممکنہ خطرے کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں۔ سرد جنگ کے آغاز کا اصول سائنسی تصورات سے ماورا کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اصول آج کل پاکستان سے جنگ کے حوالے سے بھارت کا مرکزی منصوبہ بن چکا ہے۔عام اصطلاح میں اس کے معنی ہیں کہ آٹھ تک جنگجو گروپ تشکیل دیئے جائیں جن میں مسلح ، میکنائزڈ انفنٹری اور خود کار آرٹلری اورقریبی اور فوری فضائی سپورٹ بھی شامل ہوں۔ یہ گروپ تیز ترین حرکت کرنے اور پاکستان کے ایٹمی دہلیز کو پار کئے بغیر پاکستان میں مخصوص اہداف پر سرجیکل آپریشن کرنے کے قابل ہوں گے۔ یہ کم از کم ایک رائے ہے جس کا تعلق فیلڈ مارشل وان مولکے کے ان مشاہدات سے ہے کہ دشمن سے پہلے رابطے میں کوئی جنگی منصوبہ باقی نہیں رہتا ۔ پاکستان کی ایٹمی دہلیز کیا ہے ؟ اور کسی بھی ایٹمی طاقت کی ایٹمی دہلیز کیا ہوتی ہے اس کو ابھی تک پرکھا نہیں گیا اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بھارت کا نیا جنگی اصول ایک غیر واضح چیز کو فرض کرکے بنایا گیا ہے ، یہ اصول بھی ایک ایسے غیر اجازت شدہ علاقے کے بارے میں ہے۔ تاہم سرد جنگ کے آغاز کے اصول میں اگرچہ کچھ نئی چیزیں بھی شامل ہوں گی مگر اصل میں یہ 70سال قبل دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج Wehrmacht کی جانب سے استعمال کی گئی Blitzkrieg یعنی چھوٹے پیمانے پر جنگ کو بھارتی فوج کی جانب سے دوبارہ لاگو کرنا ہے۔ امریکی دفاعی سیکرٹری ڈونلڈ رمسفیلڈ نے غالباً 2003ء میں پہلی مرتبہ عراق میں امریکی حملے کو بیان کرنے کے لئے’ اچانک اور حیران کن‘ کے اصول کو استعمال کیا لیکن درحقیقت 1935میں ہٹلر کی جانب سے پولینڈ کی تباہی اور ایک سال بعد فرانس سے اس کی ہار میں ’اچانک اور حیران کن‘ کے اصول کو پہلے ہی استعمال کیا جا چکا تھا۔ اسرائیل نے 1967ء میں مصر، یونان اور شام کو شکست دی تو اس وقت بھی اس نے جرمن Blitzkrieg کے اسی اصول کو اپنایا۔ یہ جنگ چھ سے بھی کم دنوں میں ختم ہوگئی تھی۔ بھارت کے سرد آغاز کے اصول (Cold start doctrine) کے پیچھے بہت سے تصورات اور یادیں کار فرما ہیں ۔ اس اصول کے مطابق اگر پاکستان کوئی بھی شرارت کرتا ہے یا اسے سبق سکھانا مقصود ہے تو Blitzkriegیعنی چھوٹے پیمانے پر جنگ کے ذریعے ہی ایسا کیا جاسکتا ہے۔ جس میں پاکستان میں منتخب ٹارگٹ پر تیز تر مسلح حملہ کیا جائے گا اس حملے کو بھاری فضائی طاقت کی سپورٹ بھی حاصل ہوگی ۔ اس طرح پاکستانی فوج کو اپنی استعداد استعمال کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے گا۔ یہ تیز ترین حرکت اور پاکستان کو رد عمل کا اظہار کا موقع نہ دینا اس اصول میں پہلے ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کو غیر متوقع طور پر پکڑنے کا پروگرام ہے۔ 1971ء کی جنگ جس میں ہم نے خود اپنی بے وقوفیوں سے بھارت کو فائدہ پہنچایا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہماری بقیہ جنگیں پوری فرصت کے ساتھ کسی بھی مشق یا حرکت کے اشارے سے زیادہ طے شدہ خطوط پر لڑیں گئی ہیں ۔ بھارت کے نئے جنگی اصول کا لب لباب ایسی حرکت ہے جس کو طاقتور فوج کی مدد حاصل ہوگی۔ بھارت کو اس قسم کا جنگی اصول یا فلسفہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت اپنی روایتی جنگی برتری کے باوجود اپنے خیال میں پاکستان کی کارگل جیسی مہم جوئی اور سرحد پار جنگی شعلے بھڑکانے کے لئے پاکستانی حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ سرد آغاز کے اصول کی صورت میں بھارتی فوج کو نئے آپشنز دیئے گئے ہیں تاکہ وہ انہیں چنے اور استعمال کرسکے۔ یہ سب بہت خطرناک چیز ہے اور کم از کم اس سے پاکستان میں ایک سنجیدہ بحث شروع ہوجانی چاہئے تھی لیکن ہم تو دوسری چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہمارے اندرونی دشمن اتنے طاقتور ہیں کہ ہمارے پاس اپنی ہمسائیگی، جس کے بارے میں دلائل کے ذریعے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا کے لئے ایک فلیش پوائنٹ بن چکی ہے ،میں ہونے والے معاملات کے لئے سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے بلکہ شاید ہم میں اس کی اہلیت ہی نہیں ہے ۔ ہمیں لازمی طور پر ایک دوسرے مسئلے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے جس میں فوجی اہلکار مسلسل فوجی مقاصد کے پختہ شکوک کا اظہار کررہے ہیں ۔ جس وقت ایک آرمی چیف یعنی جنرل کیانی بھارت سے درپیش خطرے کاذکرکرتے ہیں اس وقت ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہو جو اس بات کا ثبوت مانگتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اس خطرے سے نمٹنے کے لئے کون سا حربہ ہے۔ جنرل کیانی کی سربراہی میں فوج کے اچھے تصور کی بحالی کے بجائے فوج اور عوامی جذبات میں فاصلے ابھی بھی بڑھ رہے ہیں ۔ چنانچہ اب ہمیں چند معاملات میں جاگنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی چیز blitzkriegہے۔ چھوٹے پیمانے کی جنگ ایسی آسان نہیں کہ غریب ممالک اس کو برداشت کرسکیں ۔اس کے لئے ٹینکوں کی ایک کھیپ، تیز رفتار جنگی فوج اور آسمان سے حملہ کرنے والے جہازوں کی بڑی تعداد درکار ہوتی ہے۔آج کے دور کی blitzkriegکے لئے تو کروز میزائلوں سمیت روایتی چھوٹی رینج کے میزائلوں کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ دشمن کے دفاع کو کمزور کیا جاسکے ۔ یہ سب چیزیں صرف ایک امیر معیشت ہی برداشت کر سکتی ہے۔ ہم بھارت کے ٹینک سے ٹینک اور طیاروں سے طیارے نہیں ملا سکتے۔ اس قسم کی مسلح مقابلہ ہمارے لئے خود کشی کے مترادف ہوگا۔ یہ کہنا بھی کافی نہیں ہے کہ روایتی جنگی حملے کے خلاف ہماری ایٹمی صلاحیت کافی ہے۔ ایسانہیں ہے اس راستے کا سفر آرما گیڈون کی طرف جانا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی اپنے خاتمے کے بارے میں سوچنے کے مترادف ہوگا ۔ اگر ہم صرف ایٹمی آپشن کے بارے میں ہی سوچ سکتے ہیں تو ہم اپنے پاس موجود دیگر وسائل سے بھی کچھ کام نہ لے سکیں گے۔جی نہیں ، ایٹمی صلاحیت کے بارے میں سوچنا درست نہیں ۔ ایک 17کروڑ کی آبادی ، اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ اس مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی پر کوئی شیخی نہیں ماری جا سکتی ، والے ملک کو اپنا دل ودماغ دوسرے وسائل پر لگانا چاہئے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہوگا جو کہ کہنا آسان مگرکرنا مشکل ہے لیکن آغاز کے طور پر ہم اندرونی خون خرابے سے متعلق معاملات پر قابو پاسکتے ہیں ۔پاکستان اس وقت ایک ملک کی تصویر پیش کررہا ہے جسے بیرونی سے زیادہ اندرونی خون ریزی سے خطرہ ہے۔ ہم اپنے معاملا ت کو درست کیوں نہیں کرسکتے؟ ہم خود اپنے مسائل پر قابو پانے کا آغاز کیوں نہیں کرسکتے ؟ کئی دوسرے ممالک بدترین حالات کا شکار ہوئے لیکن اپنی مشکلات سے نکل کر مضبوط ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ ہم ایک ایسی غیر منظم تصویر پیش کررہے ہیں جو مشرقی سرحدوں کی جانب سے درپیش blitzkrieg کے خطرے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ہمیں اپنے فوجی اصولوں کو بھی نیا کرنے کی ضرورت ہے جو ٹینک سے ٹینک ملانے کے بجائے اس بنیاد پر ہو کہ کوئی چھوٹا ملک کیسے اپنے سے بڑے دشمنوں کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے۔ فن لینڈ 1940ء میں ریڈ آرمی کے سامنے صف آراء ہوگیا،1979ء میں ویتنام نے چین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اسی طرح 2006ء میں حزب اللہ نے اسرائیل کو پسپا کر کے رکھ دیا تھا۔ سرد آغاز کا اصول ایک غیر روایتی سوچ ہے۔ یہ کرداروں کا روایت کے برعکس استعمال ہے۔ بھارت کے Goliathکے سامنے Davidکی طرح کی ایک چھوٹی قوت کے طور پر ہمیں غیر معمولی طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے۔ اور برائے مہربانی جہاد کو حتمی الوداع کہہ دیا جائے ۔ ہم اس بے وقوفی کی بہت بڑی قیمت چکا چکے ہیں۔ اگر امن و سکون کی سلطنت کا کوئی بھی معنی موجود ہے تو وہ فوری طور پر یہاں پر پیدا کیا جانا چاہئے لہٰذا اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہم ان لوگوں جیسا رویہ اختیار کرنا شروع کردیں جن کے حکمران سمجھدار ہیں ۔ بھارتی سردجنگ کے آغاز کے نئے اصول پر پاکستانی کمزور ردعمل,,,ایازا میر
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| search, فلیش, فرض, کارگل, پاکستان, پاکستانی, چین, نظر, مقابلہ, منصوبہ, ماورا, متوقع, مسائل, آپریشن, آبادی, آج, اللہ, امیر, تصویر, جرم, حزب اللہ, خون, خلاف, رفتار, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| امریکی فرما بردارپاکستا ن بد کاریاں چھو ڑ کر اللہ سے رجو ع کرے: ایمن الزواہری | جاویداسد | خبریں | 20 | 05-08-11 09:50 PM |
| چیف جسٹس افتخار چوہدری اصول پرست انسان ہیں، بھارتی وزیراعظم | گلاب خان | خبریں | 0 | 07-02-11 07:25 AM |
| ’گو انڈیا گو ‘ کے نعرے، کشمیر یوں پر بھارتی ظلم جاری، من موہن سنگھ کا مذاکرات کرنے پر زور | جاویداسد | خبریں | 1 | 15-09-10 02:11 PM |
| صومالی قزاقوں نے چار پاکستانی اغواء کر لیے | جاویداسد | خبریں | 0 | 26-08-10 05:32 PM |
| مراعاتی پیکیج کے باوجود یورینیم کی افزودگی جاری رہے گی،ایران | مسٹر گرزلی | خبریں | 0 | 21-06-08 07:41 PM |