ایک پاکستانی کا خواب
ایک پاکستانی کا خواب
پاکستان جلد ہی اپنا 60 واں یوم آزادی منائے گا اس قوم کی پر آشوب تاریخ بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن سب سے بڑی ہماری نا اہلی یہ ہے کہ ہم اس ملک کو جدید ترقی یافتہ اور جمہوری ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان ہمارے لئے ایک مثال ہے جو سال ہا سال پر محیط مسلسل فوجی حکومت کی وجہ سے پیش آیا جنرل یحییٰ خان کی ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش نے ہمیں اس وقت رسوا کر دیا تھا۔ قوم کے منتخب نمائندوں کی رائے اور خواہشات کو ہمیشہ رد کیا گیا اور ایوب خان کے پہلے مارشل لاء کے دور میں فوجی آمریت کو ملک و قوم کے بہتر مفاد میں ہونے کے تصور کو پروان چڑھایا گیا اور اسے ملک کی ترقی کا حل قرار دیا گیا۔ بانیان پاکستان نے کبھی ایسی ریاست کا تصور نہیں دیا تھا جہاں سول/ ملٹری بیوروکریسی کے پاس تمام اختیارات ہوں۔ قائداعظم نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی فوج کو قوم کی ترقی اور ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا تھا۔ ملک پر 32 سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والے فوجی آمروں کی سوچ قائداعظم کے نظریہ کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ نظریہ پاکستان کو عوام کی وجہ سے تقویت ملی اور عوام ہی اپنی قسمت اور تقدیر کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی حکمرانی سے نجات دلوائی جائے لیکن یہاں ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ ہی حکمرانی کر رہا ہے جو دراصل اقلیت میں ہے اور اکثریت پر حکمرانی کر رہا ہے۔ اسلام کے نام پر حالیہ انتہا پسندی قیام پاکستان کے بنیادی نظریہ اور مقاصد سے متصادم ہے کیونکہ قیام پاکستان کا مقصد تو یہ تھا کہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلے تسلیم کئے جائیں گے اس صورتحال میں جہاں سول/ ملٹری بیوروکریسی ( جو کہ اقلیت میں ہے ) منتخب عوامی نمائندوں کا حق تسلیم نہ کرے تو اور گروپ بھی مثلاً انتہا پسند یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنا نقطہ نظر لاگو کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کریں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستانی عوام کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے فیصلے سے تمام پاکستانیوں میں ایک امید پیدا ہو گئی کیونکہ اس سے قبل کبھی عدالت عظمیٰ نے فوجی آمر کے احکامات کو اس طرح مسترد نہیں کیا عوام کی نظریں اب عدالت عظمیٰ پر لگی ہیں کہ وہ ملک میں سول/ ملٹری تعلقات کے بارے میں بھی اہم فیصلے کرے گی۔ گزشتہ 8 سال کے دوران اور جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور اقتدار میں 1973ء کے متفقہ آئین میں بہت زیادہ اور بلا جواز ترامیم کی گئیں اس طرح 73ء کے آئین کی بنیاد یا اساس ہی ختم کر دی گئی۔ایک اہم بات یہ ہے کہ سیاسی معاملات ہمیشہ عدالتوں کے ذریعے حل نہیں ہوتے ہیں۔ قومی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے اہم ادارے ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ مذہب کے نام پر عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے فروغ پاتے رجحانات سے ان سیاسی قوتوں کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے جو لبرل پروگریسیو مزاج رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی ایک اہم سیاسی پارٹی اور اس کی قیادت بے نظیر بھٹو ایک معقول لیڈر ہیں جو ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جولائی کا مہینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ انتہا پسند عناصر اب ریاست اور سول سوسائٹی پر اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ یہ انتہا پسند ملک میں طالبانائزیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان عناصر کا مقابلہ صرف اس صورت ممکن ہے کہ اس طرز عمل کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جائے اور یہ کام صرف وہی سیاسی جماعت کر سکتی ہے جس کی جڑیں عوام میں مضبوط ہوں، بہت سے لوگ بالخصوص پاکستان کا طبقہ اشرافیہ جو پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کی مقبولیت سے خائف ہے جمہوریت کی بحالی کی کوششوں میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ آزاد ملک کے قیام کیلئے قائداعظم نے برطانیہ اور ہندوؤں سے مذاکرات کئے تھے میں نے اپنے مرحوم دادا قائداعظم کے قریبی ساتھی اور امریکا میں پہلے پاکستانی سفیر مرزا ابوالحسن اصفہانی سے سیکھا تھا کہ سیاست ایک فن ہے جس میں باہمی سمجھوتے اور اتحاد و اتفاق کے ذریعے ملک و قوم کے بہتر مفاد میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ لبرل سیاسی جماعتوں کی مستقبل کی حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ جنرل پرویز مشرف کو صاف شفاف انتخابات کیلئے تیار کیا جائے اس طرح اقتدار کی فوجی آمریت سے سول حکومت کی طرف منتقلی سے سیاست میں فوج کے کردار کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور پر تشدد انتہا پسندی کا راستہ روکا جا سکے گا۔
بشکریہ فرح ناز اصفہانی
|