| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس فورم کے تمام دوستوں کو میری طرف سے سلام!
زبان افراد کے درمیان رابطے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ایک دوسرے کے خیالات جاننے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ کوئی انسان جس طر ح بے دریغ یا کھل کر مادری زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے اس طرح کسی دوسری زبان میں نہیں کر سکتا خواہ اُس زبان پر اُسے کتنا ہی عبور کیوں نہ حاصل ہو۔ عرصہ دراز سے میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ اردو زبان کے ساتھ ہم پاکستانی بہت نا انصافی کر رہے ہیں۔ اردو بہت سے پاکستانیوں کی مادری زبان ہے اور پورے پاکستان کی قومی رابطہ زبان بھی۔ شہری ہوں یا دیہاتی سب لوگ اردو اگر بولتے نہیں تو سمجھتے ضرور ہیں۔ خاص طور پر ہماری پنجابی زبان اور اردو زبان کو اگر دو بہنیں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ اردو اور پنجابی کے الفاظ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ایک جیسے ہی ہیں۔ ایک اَن پڑھ پنجابی بولنے والا بڑی آسانی سے اردو سمجھ جاتا ہے۔ اس طرح سندھی، بلوچی اور پشتو بولنے والے بھی بڑی آسانی سے اردو سمجھ جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام صوبوں کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں اردو سکھائی جاتی ہے اور پڑھائی جاتی ہے۔ اردو کے علاوہ ہم انگریزی زبان بھی سیکھتے اور پڑھتے ہیں اس لئے کہ انگریزی ایک مسلمہ بین الاقوامی زبان ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم روز مرہ گفتگو میں انگریزی الفاظ کا بے تحاشہ استعمال کیوں کرتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان سے کسانوں کے بارے ایک زرعی پروگرام سُن رہا تھا۔ جس میں حکومت پنجاب کے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر بھی مدعو تھے اور کسانوں کو کاشتکاری کے طریقے سمجھا رہے تھے۔ ڈائرکٹر صاحب اپنی گفتگو کے دوران انگریزی زبان کا استعمال اس حد تک کر رہے تھے کہ بمشکل کوئی سو میں سے دس الفاظ اردو کے بولتے تھے۔ ہم سب پاکستانی یہ جانتے ہیں کہ ہمارے دیہاتوں میں تعلیم کا کیا معیار ہے ۔ زمینداری و کاشتکاری کرنے والوں کی اکثریت دیہات میں بسنے والوں کی ہوتی ہے۔ اور یہ بات کہتے ہوئے میں ہرگز شرم محسوس نہیں کروں گا کہ مذکورہ ڈائریکٹر صاحب کی گفتگو میری سمجھ سے بھی بالا تر تھی۔ تو ایسےمیں ایک اَن پڑھ یا بڑی مشکل سے پرائمری پاس دیہاتی کاشتکار کو ڈائریکٹر صاحب کی انگریزی میں گفتگو کی کیا سمجھ آئی ہو گی۔ اُس کو کاشتکاری کے طریقے انگریزی زبان میں سمجائے جا رہے تھے جبکہ وہ انگریزی کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ اسی طرح ایک دن میں ریڈیو آ پ کی دنیا جو Voice of America سے اردو پروگرام نشر کرتا ہے ایک مذاکرہ سُن رہا تھا جو لاہور میں بسنت پر پتنگ بازی کے سلسلہ میں تھا۔ اس مذاکرے کے تمام شرکا پاکستانی تھے اور براہ راست بذریعہ ٹیلی فون پاکستان سے اپنے اپنے خیا لات کا اظہار کر رہے تھے۔ لیکن اپنی گفتگو میں انگریزی الفاظ کا بے تحاشہ استعمال کر رہے تھے۔ ایک لفظ جو بار بار دہرایا جاتا تھا وہ Awareness تھا۔ یعنی اکثر شرکا یہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو قانون کے بارے میںAwareness نہیں ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں پروگرام سُننے والے سبھی تعلیم یافتہ تھے۔ ہمیں اپنے وطن عزیز کی شرح خواندگی کا بھی بڑی اچھی طرح معلوم ہے کہ کتنی ہے اور اس میں بھی اُن لوگوں کی اکثریت ہے جو صرف اپنا نام لکھ یا پڑھ سکتے ہیں۔ ہمارے تعلیم یافتہ حضرات عام بول چال کے دوران بھی انگریزی الفاظ کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں خواہ اگلے بندے کو سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن بولیں گے انگریزی۔ میں یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ میں انگریزی زبان کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میرے خیال کے مطابق دنیا کی مشہور زبانیں سیکھنی چاہئں۔ لیکن میں اس بات کے بالکل خلاف ہوں کہ ایک آدمی جو انگریزی سمجھ ہی نہیں سکتا اُس کے ساتھ انگریزی میں گفتگو کی جائے۔ عوامی اجتماعات میں اکثریت اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور انگریزی بآسانی نہیں سمجھ سکتے ۔ ایسے موقعوں پر خالصتا اردو میں بولنا چاہئیے تا کہ عام آدمی بھی سمجھ سکے ۔ اردو کی ایک مشہور مثل ہے بھینس کے آگے بین بجانا۔ کیا بھینس بین کی آواز یا لے اور سُر کو سمجھ سکتی ہے، ہرگز نہیں۔ اگر کسی انگریز کے ساتھ اردو میں یا کسی چینی بولنے والے کے ساتھ فرانسیسی زبان میں گفتگوکی جائے تو انہیں کیا سمجھ آئے گی۔ اگر میرے ساتھ کوئی اردو، پنجابی اور انگریزی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں گفتگو کرے گا تو میرے پلے کیا پڑے گا۔ اس پر مزید ستم یہ کہ ہمارے اردو اخبارات میں بھی اب انگریزی الفاظ کا استعمال عام ہونے لگا ہے۔ ہاں اگر کوئی لفظ ایسا ہے جو اُردو زبان میں نہیں ہے تو اُسے انگریزی میں لکھنے کا کوئی جواز بنتا ہے لیکن انگریزی کاوہ لفظ جس کا متبادل اُردو میں موجود ہے اُسے انگریزی میں لکھا جائے تو اُردو زبان بے بس نہیں ہوگی تو کیا ہو گا۔ اُردو ہماری زبان ہے ۔ ہم پاکستانی ہی اس کے وارث ہیں ۔ اگر ہم اس کی آبیاری نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ اگر ہم اسے زندہ نہیں رکھیں گے تو کیا ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ امریکی یا برطانوی ہماری زبان کو زندہ رکھیں گے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اسے ہم نے ہی زندہ رکھنا ہے۔ اس کی حفاظت کرنا ہم پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ ہماری زبان ہے۔ ایک شخص اردو سمجھتا ہے تو اس کو کاشتکاری کے طریقے انگریزی میں سمجھائے جائیں تو کیا یہ اردو زبان کے ساتھ نا انصافی نہیں؟ کیا ہم پاکستانی اردو زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا اردو زبان ہمارے ظلم کا شکار نہیں ہے؟ کیا ہم صرف اس لئے تعلیم یافتہ کہلائیں گے کہ ہم انگریزی بولتے ہیں اور انگریزی ہی ہمارے تعلیم یافتہ ہونے کی سند ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمیں اور ہماری حکومتوں کو یہ انتظام کرنا چاہئیے کہ پہلی جماعت سے صرف اور صرف انگریزی ہی پڑھائی جائے اور سکھائی جائےتا کہ ایک عام پاکستانی جو کھیتوں میں کام کرتا ہے یا کارخانے میں، سڑکوں اور گلیوں یا غسلخانوں کی صفائی کرتا ہے یاگینتی بیلچہ ہاتھ میں پکڑ کر سارا دن مزدوری کرتا ہے۔ جب اُس کے سامنے کوئی تحریر رکھی جائے تو اُسے پڑھ کر سمجھ سکے۔ اگر اس سے کوئی بات کرے یا اُسے کوئی بات سمجھائی جائے تو وہ سمجھ سکے۔ جب کوئ حکمران یا سیا ستدان تقریر کرے تو اُسے سُن کر یہ سمجھ سکے کہ کہنے والے کا مقصد کیا ہے۔ اُردو زبان کی اس سے بڑی مظلومیت اور بے بسی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک اُردو سمجنھے والے کے ساتھ انگریزی یا کسی ایسی زبان میں گفتگو کی جائے جسے وہ سمجھتا ہی نہیں۔ یہاں میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری اس تحریر کو پڑھ کے یہ رائے ہرگز نہ قائم کی جائے کہ میرا انگریزی زبان کے ساتھ کوئی متعصبانہ رویہ ہے ۔ میں بذات خود انگریزی کا پرستار ہوں لیکن میں بالکل اس حق میں نہیں ہوں کہ کسی ایسے شخص کے ساتھ انگریزی بولوں جو انگریزی سمجھتا ہی نہیں۔ نیک خواہشات کے ساتھ والسلام! keep me remembered in prayers
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ماشا اللہ آپ نے کافی اچھا لکھا ہے
ویسے جناب یہ سچ ہے کہ ہمارا روب بھی وہیں چلتا ہے جہاں پر کچھ کم انگریزی جاننے والے ہوں جیسے کہ پولیس کے سامنے جتنا بڑا مرضی جرم کر لو بس دو الفاظ انگریزی میںبولو اور وہ آپ کو گھر تک چھوڑ کر آئیں گے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قدوس بھائی! پسندیگی کا بہت بہت شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() |
بہت اچھا آرٹیکل لکھا ہے بھائی آپ نے مجھے خوشی ہے کہ آپ ہماریے فورمز کا حصہ ہیں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 27
مراسلات: 35
کمائي: 287
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 9 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبیر بھائی ! یہ ایک ادنیٰ سی کوشش تھی ورنہ میں کہاں اس قابل۔ بہت بہت شکریہ ۔
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: ریاض، سعودی عرب
مراسلات: 137
کمائي: 3,342
شکریہ: 13
101 مراسلہ میں 301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ! جناب آپ نے تو میرے دِل کی باتیں کہہ دی ہیں.
برائے مہربانی، موضوع: ‘‘اُردو چوپال - واقعی اُردو یا اُردو زدہ انگریزی’’ کے بارے میں اپنے رائے کا اِظہار کریں: اُردو چوپال - واقعی اُردو یا اُردو زدہ انگریزی؟ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی بالکل! یہ ایک سنجیدہ موضوع ہے اس لئے اس پر کچھ مزید لکھنے کی جسارت کروں گا۔
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 6
کمائي: 13
شکریہ: 51
4 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاہ بے چاری اردو
کچھ ہم لوگ اس سے بے وفائی کررہے ہیں اور ہماری اسی بےوقوفی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لوگ اردو کا ستیاناس کررہے ہیں |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,988
کمائي: 56,125
شکریہ: 3,011
1,427 مراسلہ میں 3,188 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| php, prayer, فورم, فورمز, پولیس, پاکستانی, پرستار, لوگ, معلوم, آدمی, اللہ, انگریزی زبان, انسان, اردو, بھائی, تحریر, جواب, جرم, حضرات, خلاف, ریڈیو پاکستان, شخص, عزیز, صوبوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سی آئی اے سمیت کسی غیر ملکی ایجنسی کو پاکستان میں آزادانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی | گلاب خان | خبریں | 0 | 28-02-11 06:13 AM |
| ایس سی او ٹول بار کسی بھی مہنگے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سافٹ ویر سے بہتر | یاسر عمران مرزا | SEO and Marketing | 15 | 28-11-10 01:55 AM |
| پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-08-10 10:28 PM |
| آئی سی ایل میںپاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل | محمدعدنان | کرکٹ | 1 | 16-04-08 11:27 AM |
| لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-12-07 09:27 AM |