واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


امریکا افغانستان کی دلدل میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-10, 09:25 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 261
کمائي: 6,979
شکریہ: 10
189 مراسلہ میں 764 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default امریکا افغانستان کی دلدل میں

امریکا افغانستان کی دلدل میں

امریکا افغانستان کی دلدل میں عبدالہادی احمد

اٹھارہ جنوری کی دوپہرجب کابل شہر کے صدارتی محل میںحامد کرزئی اپنی کابینہ سے حلف لے رہے تھے،اچانک ہال قریب سے چلائی گئی گولیوں اور دھماکوںسے گونج اٹھا۔ حلف برداری کے موقعے پرطالبان کی طرف سے یہ ”سلامی“اس پیش کش کا جواب تھی جو ایک روز پہلےصدرحامد کرزئی نے ”اپنے بھائی“ملا عمرکو کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت کی شکل میں کی تھی۔تقریباًبیس خودکش طالبان نے شہر کے قلب اور صدارتی محل کے پڑوس میں واقع کئی عمارتوںپر بیک وقت حملہ کر کے اپنی قوت اور کرزئی حکومت ناتوانی کاثبوت فراہم کیا۔اس حملے میں پولیس اور انٹیلی جنس اہل کاروں سمیت10 افراد ہلاک اور30 زخمی ہوئے،جانی نقصان تونسبتاً کم ہوا، لیکن اس سے بے پناہ دہشت طاری ہوئی۔وائس آف امریکا کے مطابق پچھلے ایک سال میں عسکریت پسندوں کا کابل میں یہ شدید ترین حملہ تھا، جس کی وجہ سے خوف کے مارے شہری کئی گھنٹوں تک گھروں سے باہر نہیں نکلے ۔ شہر سنسان ہو گیا ، ہر طرف صرف سکیورٹی اہل کار ہی دکھائی دے رہے تھے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملےکی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے کہا کہ حملے کامقصد امریکہ اور اس کے ایجنٹوںکو یہ بتانا تھا کہ طالبان جب چاہیں کابل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کابل شہرمیں طالبان نے یہ کارروائی ایک ایسے وقت کی جب چند روز بعد لندن میں افغانستان کی اقتصادی، سلامتی اور انتظامی صورت حال پر 28 جنوری کو ایک بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی تھی جس میں صدر کرزئی طالبان کے ساتھ مفاہمت کے عمل کو فروغ دینے کی کوششوں کے سلسلے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرنے والے تھے۔
عرب ٹی وی ”الجزیرہ“ کے مطابق پیر کی صبح دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں افغان کابینہ کی حلف برداری کے موقعے پر خودکش جیکٹس اور خودکار ہتھیاروں سے مسلح طالبان نےمتعدد سرکاری عمارتوںپر بیک وقت حملے کیے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق خودکش حملے کے بعد حملہ آوروں نے وزارت دفاع ‘ وزارت انصاف ‘ مرکزی بینک اور سرینا ہوٹل میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی،جس کے بعد پولیس اور افغان و اتحادی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دونوں اطراف میں شدید جھڑپ شروع ہوئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محض20مجاہدین کتنی آسانی سے صدارتی محل کے قریب واقع وزارت دفاع ،وزارت انصاف ‘ وزارت صنعت و معدنیات اور مرکزی بینک پر حملے کے لیے داخل ہو گئے۔انہوں نے حملے کے بعد سرینا ہوٹل کے کچھ حصوں میں آگ لگا کر عالمی میڈیا کے اس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے نامہ نگاروںپر یہ ثابت کیا کہ نام نہاد سپر پاور مٹھی بھر مجاہدین کے حملے کی تاب نہیں لا سکتا۔وزارتوں کی عمارتوں کے علاوہ ایک بڑے شاپنگ سنٹر کے باہر ایک اور خودکش حملہ کیا گیا۔ اس علاقے میں مرکزی بینک بھی ہے جس کے عقب میں افغان صدر حامد کرزئی کا محل ہے۔سرینا ہوٹل اور کئی وزارتوں کے دفاتر بھی یہیں واقع ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے غیر ملکی خبررساں ادارے کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کابل میں سرکاری عمارات ، صدارتی محل کے اردگرد دفاع، خزانہ ‘ انصاف اور دیگر وزارتوں کی عمارات پر حملے طالبان ہی نے کیے ہیں۔
امریکہ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہے۔ امریکی حکمران اس حقیقت کو جان اور مان چکے ہیں اور امریکی عوام اس بے مقصد جنگ سے عاجز آچکے ہیں۔ اس لیے کہ اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود انہیں معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ رقم کیوں خرچ ہوررہی ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ امریکی دانشور اور جنگی ماہرین اسے ایک نئی ویت نام جنگ قرار دے رہے ہیں جو 1969ء سے1975ءتک جاری رہی جس پر پانچ کھرب84 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور ساٹھ ہزار امریکی مارے گئے اور چار لاکھ زخمی ہوئے۔ بارہ لاکھ ویت نامی اس جنگ میں کام آئے لیکن بالآخر امریکی ویت نام میں بدترین شکست سے دوچار ہوکر بے نیل ومرام گھر واپس آئے۔ اس تاریخی اور عبرت ناک شکست سے سبق سیکھنے کے بجائے امریکہ نے عراق اور اس کے بعد افغانستان پر حملہ کرکے ایک نئی جنگ کا میدان منتخب کیا جس میں داخل ہونا تو آسان تھا لیکن نکلنا شاید ویت نام سے زیادہ مشکل ہے اور اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کیا امریکی دنیا کی سب سے بے وقوف قوم ہے کہ جنہوں نے برطانیہ اور روس کے انجام سے عبرت حاصل کی نہ ہی ویت نام میں اپنی شکست سے سبق سیکھا۔
امریکا افغانستان سے واپسی کا شیڈول دے کر اپنی شکست کا کھلا اعتراف کرچکا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے بھی مغربی اتحادیوں کی ناکامی کی پیش گوئی کی ہے اور دو روز پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے کائی عیدی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اورافغانستان کے عوام عالمی طاقتوں کے رویے سے انتہائی ناراض ہیں۔کائی عیدی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا، افغانستان کے عوام عالمی طاقتوں کے رویوں سے نالاں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ صدراتی انتخاب سے پہلے اور بعد میں بیرونی طاقتوں نے اپنی رائے افغانستان کے عوام پر مسلط کی ہے۔ انہوںنے کہا ، افغان عوام سمجھتے ہیںکہ عالمی طاقتیں ان کی بے عزتی کرتی اور افغانستان کو’ نومین لینڈ' تصور کرتی ہیں۔
افغانستان کی جنگی دلدل میںلاکھوں مغربی فوجی پھنس چکے ہیں ۔ تادم تحریر ایک لاکھ امریکی فوجیوں کے علاوہ ستر ہزار نیٹو کے فوجی ‘ ایک لاکھ افغان آرمی اور80 ہزار افغان پولیس پانچ سے سات ہزار مسلح طالبان کے ساتھجنگ ؔزما ہے۔ اس میں حزب اسلامی کے ایک دو ہزار اور چند سو القاعدہ کے لڑاکوں کو شامل کرلیا جائے ۔تب بھی مجاہدین کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں بنتی ۔ اس کے باوجود امریکی جرنیل دم بدم نئی افواج بھیجنے کی بات کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اگر مزید فوج نہ آئی تو شکست کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا۔ 2009ءمیں طالبان کی جو نئی حکمت عملی سامنے آئی ‘ اس سے امریکی اور اتحادی فوجیوں کی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اتحادیوں کی نئی افواج کی آمد کے باوجود 18جنوری کو طالبان نے جس طرح کابل شہر کے قلب پر حملہ کیا اور صرف بیس گوریلاﺅں کی مدد سے امریکہ اورافغان فوج کو جس طرح ناکوں چنے چبوائے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان اپنی قوت کااستعمال کس قدر سوچ سمجھ کر کررہے ہیں اور اب مغربی اخبارات اعتراف کرتے ہیں کہ افغانستان میں بزور قوت کامیابی ناممکن ہے۔ امریکہ کتنی بھی فوج بھیج لے وہ طالبان کے حملے روک نہیں سکتا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ مزید امریکی فوجی آنے سے ہمارا کام مزید آسان ہوگا؛ کیوں کہ اس صورت میں شکار کازیادہ موقع ملے گا۔ سردست تو یہ صورت ہے کہ افغانستان کو امریکی نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں۔
امریکی فوجیوں کے اندر ایک بے مقصد جنگ لڑنے پر شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوںمریکہ میں سب سے بڑے فوجی اڈے فورٹ ہڈپرایک فوجی افسراور ماہر نفسیات میجر مالک ندال حسن نے بلااشتعال اپنے ساتھی فوجیوں پر حملہ کرکے تیرہ افراد کو ہلاک اور31 کو زخمی کردیا۔امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا کہ اس کی وجہ فوجی اہل کاروں کو بار بار افغانستان اور عراق میں تعینات کرنا ہے۔ ایک سپاہی ابھی عراق سے واپس آتا ہے تو کچھ ہی دنوں بعد اسے افغانستان جانے کا حکم مل جاتا ہے۔ اسی کا رد عمل فورٹ ہڈ کا یہ واقعہ ہے۔ امریکہ اخبار لاس اینجلس ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام ملا ہے کہ امریکہ کی عراق اور افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگ بالآخر خود امریکہ کے اپنے گھر پہنچ گئی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی اس واقعے کو عراق اور افغانستان کی جنگوں کا خونی رد عمل قراردیا اور کہا ہے کہ امریکی افواج میں بددلی اور تناﺅ بڑھ رہا ہے ۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ اس سال ایک سوبیس امریکی فوجیوں نے گھر واپس پہنچنے کے بعد خود کشی کرلی۔
گزشتہ دنوں امریکی ایڈمرل مائیک مولن نے قندھار کا دورہ کیا ۔ اپنے اس دورے میںوہ افغان علماءسے یہ منوانے گئے تھے کہ وہ طالبان کے خلاف فتویٰ دیں اور دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے کے لیے مقامی لشکر تیار کریں۔ اس پر علماءنے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا مطالبہ صاف مسترد کردیا۔امریکی وفاداروں کی طرف سے یہ پہلا اعلان بغاوت تھا۔علماءنے اس موقعے پر امریکی جرنیل کی بات ماننے کے بجائے الٹااس سے کہا کہ اتحادی افواج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے جو واقعات پیش آرہے ہیں انہیں روکا جائے۔ ایڈمرل مائیک مولن نے اس دورے میں قندھار کے گورنر پروفیسر ویساسے ملاقات کی اور پھر ان کے ساتھ انتہائی اہم قبائلی عمائدین اور علمائے کرام سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا ، امریکہ یہاں ایک قومی لشکر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکی خبررساں ادارے سی بی ایس کے مطابق عمائدین کے ساتھ مائیک مولن کی ملاقات کو خفیہ رکھاگیا اور علماءوعمائدین کی شناخت بھی مخفی رکھی گئی، تاکہ مجاہدین انہیں نقصان نہ پہنچاسکیں۔ اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد مائیک مولن نے مقامی عمائدین اور ملکوں کو بات کرنے کا موقع دیا۔افغان ملکوں اور مولویوں کے خطاب کے دوران مائیک مولن مسلسل ان کی باتوں کو اپنی نوٹ بک میں درج کرتے رہے۔ دو گھنٹے پر مشتمل اس ملاقات کے نتائج امریکی جرنیل کی توقع کے برعکس نکلے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگ جو امریکا کے وظیفہ خوار رہے ہیں،انہوں نے بھی افغانستان میں تیزی سے بدلتاہوا ہوا کا رخ محسوس کر لیاہے۔ اس موقعے پر تمام شرکاءنے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ نہ تو طالبان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ فتویٰ دیں گے اور نہ ہی ان کے خلاف قبائل لشکر تشکیل دے کر کوئی کارروائی عمل میں لائیں گے۔ قومی عمائدین نے کہا ، اگر امریکہ اور مغربی دنیا افغانستان میں واقعی امن دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ افغانستان میں فوراً جنگی کارروائی روک دیں ‘ عام شہریوں کا قتل عام روک دیںاس لیے کہ عام لوگوں کو اس جنگ سے سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔
صدر باراک اوباما نے مزید تیس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں بھیجنے کے فیصلے کے ساتھ ہی یہ اعلان کیاتھا کہ 18 ماہ کے اندر اندر (یکم جولائی 2011ئ) تک اپنی فوج افغانستان سے واپس بلا لیں گے۔اس پر ماہرین کا کہنا تھا کہ صدر کے اس اعلان سے امریکی فوج کا مورال مزید پست ہوگا۔چنانچہ صدر کی تقریر کے بعد وزیردفاع رابرٹ گیٹس کو وضاحت کرتے ہوئے کہنا پڑاکہ دو سال کے بعد واپسی شروع ہوگی اور فوجوں کا مکمل انخلا مزید دو سے تین برس لے گا۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ فوج اس وقت نکالی جاسکے گی جب تربیت یافتہ افغان فوج کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہوجائے گی۔ سردست یہ فوج بمشکل ایک لاکھ تک پہنچی ہے تاہم یہ فوج کسی قسم کے دینی یا قومی جذبے سے عاری ہے۔افغان فوجی اپنی شرائط کار سے بھی مطمئن نہیں۔ ان فوجیوں کو ایک سو ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے ہیں جب کہ مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے خلاف لڑنے والے منشیات کی تجارت میں ملوث سردار اپنے سپاہیوں کو تین سوڈالر ماہانہ دیتے ہیں۔ اس لیے وار لارڈز کی خانگی فوجوں کی تعداد روزافزوں ہے۔امریکا کو خاطر خواہ بھرتی میں دقت پیش آرہی ہے، اسی لیے اب جبری بھرتی شروع کی گئی ہے۔پھر بھی اس بات کاامکان بہت کم ہے کہ مقررہ وقت تک ایک سو ڈالر ماہانہ پر کام کرنے والے تین لاکھ فوجی امریکہ کو مل سکیں گے ۔

Last edited by عبدالہادی احمد; 09-02-10 at 09:33 PM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (09-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عبداللہ آدم (25-07-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
جواب

Tags
پولیس, پوسٹ, واقعات, واشنگٹن, لوگ, لندن, مکمل, اللہ, امریکہ, اسلامی, اعلیٰ, جواب, جلد, حال, حسن, خودکش, خودکش حملہ, خلاف, سٹاف, سال, سردار, شہر, شناخت, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 19-09-08 12:51 AM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 09:45 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 09:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger