19-12-07, 09:17 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الکوحل اور ڈپلومیسی,,,,سفارت نامہ…ریاض احمد سید
الکوحل اور ڈپلومیسی,,,,سفارت نامہ…ریاض احمد سید
الکوحل اور ڈپلومیسی,,,,سفارت نامہ…ریاض احمد سید
سابق امریکی صدر نکسن نے اپنی ایک کتاب میں برطانیہ کے جنگی ہیرو اور سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کے بارے میں لکھا ہے کہ برطانیہ کے اس افسانوی وزیراعظم کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات 1954ء میں ہوئی، جب وہ 79 برس کے تھے، جسمانی طور پر بے حد کمزور دل کا ایک دورہ بھی پڑ چکا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کی ذہانت اور فطانت نے نکسن کو بہت متاثر کیا۔ کسی نے کہا اب تو ان کے دماغ کی سپیڈ آدھی رہ گئی ہے۔ نکسن کا تبصرہ تھا کہ ” وزیراعظم چرچل کی ہاف سپیڈ بھی باقیوں کی فل سپیڈ سے کہیں زیادہ ہے “۔ چرچل بلا نوش تھے۔ مقابل دو چسکیاں لیتا اور وہ پیگ کے پیگ خالی کر دیتے تھے۔ شراب ان کے لئے شیر مادر تھی۔ یہ ان کے ذہن کو جلا بخشتی۔ ان کی فکر اور گفتار میں گہرائی اور گیرائی آ جاتی اور سامعین سر دھنتے تھے۔ ڈاکٹر ان کی عمر، صحت اور قلبی کیفیت کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے، مگر وہ کسی کی نہیں سنتے تھے۔ دنیا مانتی ہے کہ سیاست اور تدبر میں مغرب نے ان کا ثانی پیدا نہیں کیا۔ وہ کئی پیگ چڑھا کر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے اور بڑے بڑے عالمی مدبرین کو انگلیوں پر نچاتے۔ شراب کا منفی تو کجا مثبت ہی اثر ہوتا تھا، لیکن ایک واقعہ نے انہیں بے حد محتاط بنا دیا اور وہ غیر ملکی وفود اور سربراہان کے ساتھ ملاقات سے پہلے دُخترِ رَز سے اجتناب برتنے لگے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سٹالن نے چرچل کو رات کے کھانے پر بلایا۔ یہ ایک ایکسکلوسو (exclusive) ملاقات تھی، جس میں کوئی اور مدعو نہیں تھا۔ بس ایک مترجم تھا تاکہ زبان کی غیریت گفتگو میں مانع نہ ہو۔ اتفاق سے میزبان بھی مہمان کے ہم مشرب تھے۔ ڈنر ختم ہوا تو کارک کھل گئے اور دونوں جام پہ جام لنڈھانے لگے۔ پھر کہاں کی میٹنگ؟ کہاں کا ڈائیلاگ؟ شب بھر دُخترِ رز کی حکمرانی رہی، صبح تین بجے چرچل اپنے کمرے میں واپس آئے اور گیارہ بجے تک پڑے سوتے رہے۔ خمار اترا تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ رات میزبان کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی۔ چرچل کمرے میں ٹہلتے رہے اور سوچتے رہے، پھر یکایک سیکریٹری کو اندر بلایا اور ٹہلتے ٹہلتے تین صفحات کا ایک خط ڈکٹیٹ کروا دیا، جو کچھ یوں شروع ہوتا تھا، ” ڈیئر مارشل سٹالن! رات آپ کے ڈنر کا بہت لطف آیا جیسا کہ آپ کو علم ہے بعد از ڈنر مذاکرات میں درج ذیل امور پر ہمارا اتفاق ہو گیا تھا “ خصوصی ہرکارہ خط لیکر سٹالن کے پاس پہنچا، آدھ گھنٹے میں جواب آ گیا۔ مارشل سٹالن نے لکھا تھا ” پرائم منسٹر ! گزشتہ شب کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں پریشان نہ ہوں میں بھی ڈرنک (Drunk) تھا اور ہاں مترجم کو گولی مار دی گئی ہے “۔ اس گھمبیر صورت حال کو چرچل نے ہی سنبھال لیا کیونکہ وہ بے مثل ذہنی صلاحیتوں کے مالک تھے، ان کے ایک سوانح نگار کے مطابق انہیں بنانے کے بعد خالق نے وہ سانچہ ہی توڑ دیا تھا مگر پبلک لائف میں موجود عام لوگوں کو اس قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے کیونکہ مختلف لوگوں پر نشہ مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے اور اکثر لوگ توازن کھو بیٹھتے ہیں، نیز عمر کے ساتھ ساتھ الکوحل کو برداشت کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چرچل کی شراب نوشی کے بارے میں عام لوگوں کو علم نہیں تھا تاہم وہ انہیں ایک بلا کے سگارنوش کے طور پر ضرور جانتے تھے کیونکہ میڈیا میں آنے والی تقریباً ہر تصویر میں ان کے ہونٹوں میں سگار دبا ہوتا تھا، جو اکثر نمائشی ہوتا تھا اور کبھی کبھی تو اَن جلا، اور انہوں نے شاید ہی ایک نشست میں پورا سگار پھونکا ہو۔ اپنے عہد کے ایک دوسرے عالمی مدبر چینی وزیراعظم چو این لائی کے بارے میں صدر نکسن رقمطراز ہیں کہ 1972ء میں دورہ چین کے موقع پر پہلے سٹیٹ ڈنر میں معروف چینی شراب ماؤتائی سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ وزیراعظم چو این لائی اور صدر نکسن اپنے اپنے جام تھامے کھڑے تھے کہ میزبان نے تھوڑی سی شراب ایک طشتری میں انڈیلی اور جلتی تیلی دکھا دی، ماؤ تائی پٹرول کی مانند بھڑک اٹھی تو وزیراعظم چو این لائی نے مہمان صدر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اگر اس کا باہر یہ حال ہے تو اندر جا کر کیا کرتی ہو گی؟ “ شاید یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کو آتشباز ماؤ تائی کے جام پیش کرنے والے چینی خود اس سے احتراز کرتے ہیں۔ صدر نکسن 1985ء میں پھر چین کے دورے پر گئے تو صدر ڈینگ کی طرف سے گریٹ ہال میں ظہرانے کی دعوت تھی۔ امریکی صدر کے سٹاف کیلئے کھانے کا انتظام الگ کمرے میں تھا۔ کُل تین لوگ تھے جن میں انٹیلی جنس کے ایک سابقہ اہلکار بھی تھے۔ موصوف نے نوٹ کیا کہ ان کے جام تو خالی نہیں ہونے دیئے جاتے، ایک کے بعد دوسرا بھر دیا جاتا ہے جبکہ میزبان صرف سادا پانی پی رہے تھے۔ صدر نکسن کا خیال ہے کہ سفارتی نوعیت کے مذاکرات کے دوران الکوحل کا بے محابا استعمال اور بد مزگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسے مواقع پر فریقین کو ایک دوسرے پر نظر رکھنی چاہئے اور وہی کچھ کرنا چاہئے جو ان کا مد مقابل کر رہا ہو۔ روس کے صدر خروشیف بلانوش کی شہرت رکھتے تھے۔ 1959ء میں صدر نکسن نے کریملن کی ایک دعوت کے دوران جس میں کوئی سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوئے تھے، نوٹ کیا کہ صدر خروشیف نے جی کھول کر پی، لیکن اسی وزٹ کے دوران مذاکرات کی ایک طویل اور سنجیدہ نشست کے دوران موصوف نے شراب سے تقریباً اجتناب کیا اور محض چسکیوں سے کام چلاتے رہے۔ 1972ء میں بھی صدر خروشیف نے کچھ اسی قسم کی حکمت عملی سے کام چلایا تھا، صدر نکسن اور کسنجر کے علاوہ روسی وزیراعظم کوسگین اور وزیر خارجہ پوڈ گورنی بھی شریک مذاکرات تھے۔ تین گھنٹے تک ویت نام ڈسکس ہوتا رہا۔ فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ مشروبات میں الکوحل ناپید تھی۔ مذاکرات کے بعد کھانے کا دور چلا تو کئی طرح کی شراب موجود تھی، لیکن کسی کا پینے پلانے میں دھیان نہیں تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ جن معاشروں میں شراب کو معیوب نہیں جانا جاتا، وہاں بھی اس کے وافر استعمال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں گزشتہ برس تک پب رات 11 بجے بند ہو جاتے تھے۔ گو 24 گھنٹے فراہمی شراب سے متعلق لائسنس ایکٹ 2003ء میں پاس ہو چکا تھا لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے نافذ نہیں ہو پایا تھا۔ 24 نومبر 2006ء کو اس قانون کے نفوذ سے والدین، اطباء اور سول سوسائٹی کو شدید تشویش ہے۔ اس برس یعنی 2007ء میں یہ قانون آئر لینڈ میں بھی نافذ ہونے جا رہا ہے۔ وہاں اس کی مخالفت برطانیہ سے بھی بڑھ کر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے تو 10/11 برس کی عمر سے شراب نوشی شروع کر دیتے ہیں، ان نا پختہ ذہنوں کو 24 گھنٹے کی سہولت میسر آ گئی تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔ نو عمر نشہ بازوں کی ایک کھیپ تیار ہو جائے گی، جو اکثر اوقات دھت رہیں گے اور یوں ان کی صحت اور تعلیم دونوں متاثر ہوں گے۔ ان کی سر توڑ کوشش ہے کہ 24 گھنٹے availability کا قانون نافذ نہ ہو پائے۔
|
|
|