واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


الاؤ کی لکڑیاں,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی (آخری قسط)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-07, 09:13 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default الاؤ کی لکڑیاں,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی (آخری قسط)

الاؤ کی لکڑیاں,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی (آخری قسط)

الاؤ کی لکڑیاں,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی (آخری قسط)



کل متوقع الاؤ بھڑکائے جانے کے جس امکان پر میں نے بات شروع کی تھی۔ اس کے لئے دو طرح کا ایندھن تیار ہو رہا ہے۔ ایک بائیکاٹ گروپ کی طرف سے اور دوسرا الیکشن میں حصہ لینے والی کچھ جماعتوں کی طرف سے۔ بائیکاٹ گروپ مختلف معاشرتی شعبوں میں لوگوں کو احتجاجی تحریک کے لئے تیارکر رہا ہے۔ قاضی حسین احمد اپنی جماعت اور اس کے حامیوں کو منظم کر رہے ہیں، عمران خان، نوجوان طبقے، شہریوں اور سول سوسائٹی میں سرگرم ہیں اور چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بھڑکاتے رہنے کا سلسلہ چلا رہے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے اسلام آباد میں اچھا خاصا تصادم پیدا کرنے کا معرکہ کامیابی سے انجام دیا۔ وکلاء کی تحریک کے قائدین اپنے بے لچک انداز میں احتجاجی تحریک کو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ اس میں تیزی بھی لا رہے ہیں۔ سرحد، سندھ اور بلوچستان کی علاقائی جماعتیں اپنے اپنے حلقہ اثر میں احتجاجی تحریک کو وسعت دے رہی ہیں جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف الیکشن کو پہلے سے متنازع بنا کر دباؤ پیدا کر رہے ہیں، تاکہ (ق) لیگ کی نشستوں میں زیادہ سے زیادہ کمی لائی جا سکے۔ بیرونی میڈیا اور حکومتیں اپنے اپنے طریقے سے متوقع الاؤ کے لئے ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ بیرونی میڈیا مسلسل ایسی خبریں اور تبصرے جاری کر رہا ہے جن میں پاکستانی انتخابات میں دھاندلی کو یقینی تصور کر لیا جائے۔ حد یہ ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے حیرت انگیز مطالبہ کیا گیا کہ مشرف حکومت پہلے غیر جانبدارانہ انتخابات کی یقین دہانی کرائے جس کے بعد مبصرین بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔یہ طاقتیں کیسے انتخابات کو غیر جانبدارانہ تسلیم کریں گی ؟ اسکے بارے میں بھی شک و شبہ نہیں باقی چھوڑا جا رہا۔ ہر سروے اور بیان میں کھلے اشارے دیئے جا رہے ہیں کہ کس جماعت کی اکثریت کو وہ منصفانہ انتخابات کا ثبوت سمجھیں گے۔ گویا انتخابات صرف اسی صورت میں شفاف مانے جائیں گے جب ان کی مرضی کے لوگ اکثریت حاصل کریں۔ بصورت دیگر جو بھی نتائج آئیں گے انہیں دھاندلی کا نتیجہ کہا جائے گا۔ شریف برادران کا کھیل مختلف ہے، وہ اس وقت دو محاذوں پر برسر پیکار ہیں۔ ایک صدر پرویز مشرف اور ان کی سیاسی ٹیم اور دوسرا محاذ بے نظیر بھٹو کے خلاف ہے۔ وہ پرویز مشرف کو بھی منظر سے ہٹانا چاہتے ہیں اور بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں آتے ہوئے دیکھنا بھی انہیں پسند نہیں ہے۔ ایک ہی وار میں اپنے دونوں مخالفوں کو ڈھیر کرنا ان کا مقصد ہے اور یہ دونوں اسی وقت ڈھیر ہوں گے جب یہ بے نظیر بھٹوکے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کا الاؤ بھڑکائیں گے اور اس کے شعلے پرویز مشرف اوران کی سیاسی ٹیم کو لپیٹ میں لے کر ان کے راستے کی رکاوٹ دور کریں گے۔ یہ کانٹے سے کانٹا نکالنے کی ترکیب ہے یعنی اگلے مرحلے میں وہ بینظیر بھٹو کے خلاف محاذ کھولیں گے اور اس لڑائی میں جو بھی ان کے ساتھ آیا اس کی مدد لینا چاہیں گے۔ اس وقت چوہدری برادران بھی بھٹو دشمنی کا مشن لے کر آگے بڑھے، تو شریف برادران تعاون کرنے میں ذرا تا مل نہیں کریں گے۔ بینظیر بھٹو ان سارے امکانات سے غافل نہیں۔ وہ پرویز مشرف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے امکانات کی طرف بار بار اسی لئے اشارہ کر رہی ہیں کہ شریف برادران کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کو محفوظ رکھا جائے، کیونکہ پرویز مشرف کو ہٹانے کے بعد ان کی پوری طاقت بینظیر کی سیاسی قوت ختم کرنے پر مرکوز ہو جائے گی۔ وہ انتخابی مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے اگر ایسے سمجھوتے کاخیر مقدم کریں گی جو انہیں بعداز انتخابات ہونے والے جوڑ توڑ کے لئے مضبو ط پوزیشن میں لے آئے اور پھر اس پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اقتدار کی بانٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کر سکیں۔ وہ صرف حکومت میں ہی نہیں آنا چاہتیں، پرویز مشرف کو بچانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور یہ سیدھی حساب کتاب کی بات ہے۔ نوازشریف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ لیڈر ہیں اگر پرویز مشرف راستے سے ہٹ گئے تواگلے ہی لمحے نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی طاقت سے مل کر بے نظیر بھٹو پرحملہ آور ہوں گے اور موجودہ حالات میں یہ دونوں طاقتیں محترمہ کے لئے بڑا خطرہ ہوں گی، جبکہ پرویز مشرف کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کے نتیجے میں نواز شریف کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اپنی جگہ موجودرہے گی اور بے نظیر بھٹو اپنی عوامی طاقت اور حمایت کا سہارا لے کر نواز شریف کی مخالف قوت کو تقویت دیں گی اور یوں اپنے حقیقی سیاسی مخالف پر دباؤ بڑھانے کی پوزیشن میں رہیں گی۔ اگر یہ دونوں مل جاتے ہیں تو احتجاجی تحریک کا زورپکڑناممکن نہیں رہے گا۔ جوبیرونی طاقتیں الاؤبھڑکانے کا ایندھن فراہم کر رہی ہیں ان کی دلچسپیاں بھی ایسے انتظام کو استحکام دینے پر مرکوز ہوجائیں گی جس میں ہم دیکھیں گے کہ 8جنوری تک ہر نئے دن کے ساتھ کھیل کا رنگ بدلتا رہے گا۔ سیاست دانوں کی اکثریت انتخابی مہم پر زور دے گی، جبکہ الاؤ کے لئے ایندھن اکٹھا کرنے والا بائیکاٹ گروپ اپنے اپنے تنکے چن کرجمع کرتا رہے گا۔ انتخابی نتائج کے بعد والے مرحلے میں اقتدار کی تقسیم پر کھینچا تانی کا عمل شروع ہوگا۔ پرویز مشرف حسب سابق بلا شرکت غیرے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہیں گے، جبکہ پرویز مشرف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) کے قریب قریب نشستیں حاصل کرنے والی محترمہ بے نظیربھٹو اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حصہ طلب کریں گی اگر انہیں مطمئن نہ کیا جا سکا اور اقتدار کے کھیل سے پوری طرح باہر کرکے انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی توپھر وہ بھی بھڑکائے جانے والے الاؤ میں لکڑیاں ڈالنا شروع کر دیں گی۔ بے شک یہ تباہی کا کھیل ہوگا۔ موجودہ حالات میں پاکستان کسی ایسی ہمہ گیر تحریک کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں قومی سطح کی تمام اپوزیشن پارٹیاں، تمام علاقائی جماعتیں، سول سوسائٹی کے تمام متحرک طبقے ایک ساتھ مل کر بھرپور حصہ لے رہے ہوں۔ ایسی ہمہ گیر تحریک کو شرپسند عناصر خطرناک راہ پر لگا سکتے ہیں۔ انہیں ایک اور افغانستان درکار ہے۔ میں ان امکانات کی طرف مدت سے اشارے کر رہا ہوں، ڈر ہے کہ سیاسی قیادتوں کی ناکامی اورحالات کو سمجھنے میں اسٹبلشمنٹ کی کمزوری ہمیں ایسے حالات کی طرف نہ دھکیل دے جو بہت ہی خطرناک سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جھنجھوڑنے اور اعصاب کو جھٹکے دینے والے شروع ہوں اور ہمارے ایٹمی اثاثوں کے دشمنوں کے عزائم تو اب پورے منصوبوں کے ساتھ سامنے آچکے ہیں۔ خداکرے سیاسی اختلافات کو دشمنی کے اندازمیں طے کرنے کا طریقہ ختم ہو اورملک کی سلامتی اور معاشرے کے استحکام کی قیمت پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا اسے پوری طرح ملیامیٹ کرنے کی سوچ ترک کی جاسکے،ورنہ الاؤ بھڑکانے والا ایندھن جگہ جگہ اکٹھا ہو رہا ہے۔ صدر پرویز مشرف، چوہدری شجاعت حسین، محترمہ بے نظیر بھٹو، الطاف حسین اور اسفند یار ولی اس الاؤ کوبھڑکنے سے روک سکتے ہیں۔ ورنہ جس کشتی میں یہ سوار ہو کر محفوظ رہ سکتے ہیں اسے شکستہ کرنے والوں کے ارادے انتہائی جارحانہ ہیں۔
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستانی, پسند, پسندیدہ, نواز شریف, موجودہ, متوقع, اسلام, بے نظیر, تنکے, خلاف, سیاست, عمران, صلاحیتوں, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی ھارون اعظم خبریں 8 01-08-10 02:24 AM
لمبی لمبی سویاں محمد کاشف حبیب دلچسپ اور عجیب 9 04-11-09 03:32 PM
SOS,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی طارق راحیل خبریں 0 10-03-09 09:04 PM
تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی خرم شہزاد خرم اپکے کالم 1 05-01-08 10:40 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger