| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ اکرام الحق
طاقت کے نشے میں چور امریکہ نے نیٹو اور اتحادی ممالک کے بھرپور تعاون کے ساتھ نہتے طالبان پر اس دعوے کے ساتھ حملہ کیا تھا کہ چند ہی گھنٹوں میں ان کا قلع قمع کر کے افغانستان میں ہمیشہ کے لئے اپنی مرضی کی حکومت قائم کر دی جائے گی اور اس کے بعد خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن طالبان نے بالآخر اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا۔ اور وہ سارے ممالک جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے کسی طور تیار نہیں تھے اب بے تاب ہیں۔ کسی وقت میں جس طرح ہر چھوٹے بڑے فورم پر دہشت گردی کے خلاف جنگ زیر بحث ہوا کرتی تھی بالکل اسی شد و مد سے اب طالبان سے مذاکرات کے تذکرے ہیں، حکمت عملی طے ہو رہی ہے، مختلف افراد، اداروں اور حکومتوں سے مدد طلب کی جا رہی ہے۔ بلکہ اقوام متحدہ نے پانچ سرکردہ طالبان رہنماؤں کے نام دہشت گردوں کی لسٹ سے خارج کر دیئے ہیں۔ یہ ساری تبدیلیاں واضح علامت ہیں کہ ان کو بطور مساوی فریق کے تسلیم کر لیا گیا ہے اور یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں۔ بطور خاص جب مقابلہ افغانستان اور قبائلی علاقوٓں سے ہو۔ چٹان سے سر ٹکرانے کا نقصان سب کو معلوم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ عقل مند کو پہلے سے اندازہ ہوجاتا ہے اور جس کی عقل پر اپنی طاقت اور عسکری برتری کے پردے پڑے ہوں اسے ٹکرانے کے بعد بات سمجھ آتی ہے۔ قصہ مختصر افغانستان سے لے کر فرانس اور امریکہ سے لے کر برطانیہ، ہر طرف مذاکرات کے چرچے ہیں، پاکستان اور سعودی عربیہ کو بطور خاص اس میں شامل کرنے کی تجاویز ہیں ۔ 28 جنوری کو برطانیہ کے شہر لندن میں خاص اسی مقصد کے لئے ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں دنیا بھر سے تما م اہم ممالک اور کچھ بین الاقوامی اداروں سے تعلق رکھنے والے 70 نمائندوں نے شرکت کی۔ جس میں یہ طے کیا گیا کہ 2011ءتک افغانستان کا کنٹرول (تقریبا) افغان آرمی کے حوالے کیا جائے گا، ایک مصالحتی جرگے کا قیام عمل میں لائے گا جو تمام دھڑوں سے مذاکرات کے عمل کو جاری کرے گا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان اور سعودی عرب کو خصوصی کردارد دینے کی بات کی، اور ایک اہم بات یہ کہ 500ملین ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا گیا جو اس عمل میں صرف کی جائے گی۔ نیز افغان فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دیر سے ہی سہی لیکن عالمی طاقتوں کو یہ اندازہ ہو گیا کہ عددی برتی، عسکری تفوق اور بین الاقوامی تعاون کے باوجود طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ دوسروں کو کم تر سمجھ کر اپنی بات بزور طاقت آزمانے کا نتیجہ جلد یا بدیر فساد کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اگر یہی کوششیں آج سے آٹھ سال پہلے مذاکرات کے ساتھ شروع کی جاتیں تو اب تک صورتحال اس سے کہیں بہتر ہوتی ۔ ان آٹھ سالوں میں افغانستان کا سارا ڈھانچہ تورا بورا بنا دیا گیا، ہنستے بستی شادی کی تقریبوں اور ماتم کدہ جنازہ گاہوں تک کو آگ اور خون میں جھونک دیا گیا ۔ جس سے ایک طرف بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ ساتھ امریکہ کی کٹھ پتلی افغان حکومت سے بھی عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ۔ مذاکرات کا یہ عمل جہاں طالبان، افغان عوام کے لئے خوش کن ہے وہیں پاکستان کے لئے بھی یہ نوید مسرت سے کم نہیں ۔ کیوں کہ اس جنگ کا جو خسارہ پاکستان نے برداشت کیا ہے اس کا اندازہ اگرچہ پینتیس ارب بتایا جاتا ہے لیکن اس مادی نقصان کے علاوہ جو نفسیاتی اور اخلاقی دیوالیہ پن، بے پناہ بحران اور عدم استحکام اس کے نیتجے میں ملا ہے اس کا تخمینہ ناممکن ہے۔ اب مذاکرات کی بات تو چل نکلی ہے لیکن تا حال کوئی واضح حکمت عملی، فریقین کی جانب سے سنجیدگی اور امریکہ اور اتحادیوں کا اخلاص نظر نہیں آرہا۔ مذاکرات کے عمل کی ابتداءمیں ہی امریکہ کا رویہ مبنی بر اخلاص نہیں لگتا ۔ عسکری طور پر امریکہ شکست کھا چکا ہے جس کے ثبوت کے لئے ایساف کمانڈر کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ کہ ”افغان دھرتی پر نیٹو افواج کی طالبان سے جنگ کا سوائے جانی و مالی نقصان کے کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جنگ بہت ہو چکی لہذا طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے افغان مسئلہ کو کوئی سیاسی حل نکالا جائے“۔ امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عراق سے شرمناک واپسی کے بعد افغانستان سے اس طرح شکست خوردگی کا احساس لے کر واپس نہیں جانا چاہتا۔ لہذا اس نے حکمت عملی تبدیل کر دی اور سامراج کے پرانے اصول divide and rule پر عمل کرتے ہوئے نئے جال بچھانا شروع کر دیئے ہیں۔2011ءسے افواج کے انخلاءکے اعلان کے ساتھ ہی مزید افواج بھیج دیں، طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کرنے کے باوجود تا حال انے کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں، مذاکرات میں ان افراد کو شامل کیا جا رہا ہے جن کو طالبان اپنا متفقہ نمائندہ ماننے کو تیار نہیں۔ خود ہیلری نے آج بیان میں کہا ہے کہ ملا عمر مذاکرات کے خواہشمند نہیں۔ ایسے میں چند طالبان کے نام دہشت گردی کی لسٹ سے خارج کر کے مذاکرات کا عمل شروع کرنا، چھوٹے درجے کے ذمہ داران سے رابطے کرنا غمازی کرتا ہے کہ درپردہ مقاصد کچھ اور ہیں۔ مذاکرات کے نام پر طالبان میں پھوٹ ڈال کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ شکست کے بدنما داغ سے بچا جا سکے ۔ طالبان اور مسلمانوں کو احتیاط کی ضرورت اس موقع پر نہ صرف طالبان بلکہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس موقع پر ان دو ممالک کو خصوصی کردار دینے کے حوالے سے کرزئی کی تجویز اگر ایک طرف ان کی اہمیت کا اعتراف ہے تو دوسری جانب یہ بھی عندیہ دیا جا رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ ان کے روابط ہیں اور ان کا اتنا اثر و رسوخ ہے کہ یہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔ یاد رہے کرزئی حکومت کی جانب سے پہلے بھی کئی بار پاکستان کو الزام دیا جاتا رہا ہے جس کی سب سے اہم مثال کابل میں واقع بھارتی سفارتخانے پر ہونے والا حملہ ہے۔ خاص طور پر جب اس معاہدے کے اخلاص کی ضمانت کا معاملہ ہو تو کسی بھی مسلمان ملک کو ضامن بننے سے انکار کر دینا چاہیئے اور طالبان بھی کسی مسلمان ملک کو بطور ضامن قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ امریکہ ، اتحادیوں اور عالمی برادری کی کہہ مکرنیاں، وعدہ خلافیاں اور دوغلا پن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خدا نخواستہ کل ان کی طرف سے اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو یقینا طالبان ایک بار پھر مزاحمت کریں گے اور اس مزاحمت کا ایک نشانہ وہ ملک بھی ہو گا جو اس معاہدے کا ذمہ دار ہے۔ ہوگا یہ کہ ایک بار پھر مسلمان آپس میں لڑیں گے اور وہ بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے ۔ لہذا ضروری ہے کہ کوئی یورپی ملک ذمہ دار ہو جسے نہ صرف خود بلکہ دیگر اقوام کو بھی اس کا تحفظ عزیز ہو۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ وعدہ خلافی کے امکانات کم سے کم ہوں گے۔ سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت طالبان کو ہے۔ وقت نے انہیں ہیرو بنا دیا ہے اور دنیا نے تسلیم کر لیا ہے کہ تمام تر جنگی سازو سامان کے باجود طالبان کا مقابلہ کرنا اور انہیں شکست دینا ناممکن ہے، مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اب انہیں اپنا یہ وقار برقرار رکھنا چاہیے، جب تک اتحادی افواج انخلاءشروع نہیں کر دیتیں تب تک اپنے مورچے نہ چھوڑیں، اور جب تک ان پر حملے جاری ہیں تب تک بھرپور کاروائی کریں تاکہ خوفزدہ دشمن مزید خوف محسوس کرے اور چالاکی کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آئے۔ حملوں کی شدت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ طالبان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات تسلیم کئے جائیں گے کیوں کہ بین الاقوامی قانون میں ’طاقت‘ کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ حالات بدل رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف آخر دم تک لڑنے والے ہمت ہار چکے ہیں ۔ اب پاکستان کو بھی اپنا مقدمہ موثر انداز سے پیش کرنا چاہیئے اور کسی قسم کے تعاون کو ڈرون حملوں کی بندش اور امریکی افواج کی پاکستان میں عدم مداخلت کے ساتھ مشروط کر دینا چاہیے تا کہ یہاں کی عوام کو جرم نا کردہ کی جو سزا پچھلے آٹھ سال سے مل رہی ہے اس میں کچھ تخفیف ہو سکے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
Last edited by راجہ اکرام; 01-02-10 at 06:24 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایسے وقت میں پاکستان کی قیاد ت پر بہت اہم ذمہ داریاں ہیں
یہ وقت جہاں حاصل کرنے کا ہے وہیں گنوا دینے کا بھی ہے دعا کریں کہ ہماری قیادت کو وہ فیصلے کرے جو آنے والے مستقبل کیلئے بہتر ہوں ہم تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ صاحب ایک اچھی تحریر پر مبارک باد کاش یہ آواز فیصلہ کرنے والے ایوانوں تک پہنچے
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی) Visit My Blog http://www.homeopathypakistan.blogspot.com |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,343
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,886 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں ایسا کب ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | sahj (02-02-10), راجہ اکرام (01-02-10) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ ڈاکٹر صاحب
آپ نے درست کہا کہ وقت نازک ہے بہت کچھ پا بھی سکتے ہیں اور بہت کچھ کھو بھی سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائی احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا ، ورنہ ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ اسیں بیٹھے رہ جاواں گے چوپدے گنڈیریاں تے انار کوئی ہور لے جائے گا |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین تحریر اور فکر انگیز موضوع۔ اللہ مسلمان قوم پر اپنا کرم فرمائے۔ آمین
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شئیرنگ ہے اکرام بھائ ۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا شکریہ
آپ کی دعاؤں کی ہر وقت ضرورت ہے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ بھائی بہت اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے ۔
پاکستان کو چاہیے اس وقت جب دشمن یعنی امریکہ پسپائی کی طرف ہے ۔ طالبان کا بھر پور ساتھ دے کر امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے ۔ اور اس کو اس قابل ہی نہ چھوڑے کہ وہ کوئی چالاکی کرسکے ۔ اپنے حکمرانوں سے تو کوئی امید نہیں ۔ اللہ ہماری فوج کے سربراہان کے دلوں میں ایسی حکمت عملی ڈالے کہ مسلمان اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاسکیں ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | حیدر (05-02-10), راجہ اکرام (02-02-10) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بہنا آپ نے بالکل درست کہا لیکن حکمرانوں اور فوجی سربراہان کے لئے بھی صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (05-02-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان شاءاللہ مسلمان کامیاب ہو گے
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,641
شکریہ: 50,033
10,124 مراسلہ میں 32,031 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام غالب آئے گا، اسلام غالب ائے گا۔
پھر ظلم یا فساد کا پرچم لپیٹا جائے گا اسلام غالب آئے گا اسلام غالب آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرکیف اگر امن کی خاطر مذاکرات ہوتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔مسلمانوں کو "اپنی مونچھ" نیچے کر کے امن لانا چاہیے۔کوئی حرج نہیں |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (05-02-10) |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے کس کی مونچھ اونچی دیکھ لی آپ نے؟ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورم, پاکستان, لندن, چور, نظر, مقابلہ, معلوم, آج, اقوام متحدہ, الزام, امریکہ, اسلامی, جلد, جرم, حل, خون, خلاف, خدا, دل, سال, شہر, طالبان, عقل, عزیز, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں | زارا | شعر و شاعری | 1 | 12-02-11 08:53 AM |
| گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں | گلاب خان | خبریں | 1 | 08-01-11 01:29 PM |
| کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری | جاویداسد | خبریں | 1 | 27-07-10 01:14 PM |
| بے احتیاطی یا تیز رفتاری کا نتیجہ | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 3 | 02-10-09 02:03 PM |
| تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-01-08 08:51 AM |