| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
پچھلی دفعہ چھٹیوں میں پاکستان گیا تو واپسی پر گلوبل سائنس میگزین کے کچھ پرانے کچھ نئے نسخے خرید لایا۔ لیکن طویل عرصہ تک ان نسخوں پر نظر ڈالنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ کل سوٹ کیس میں سے سامان ڈھونڈتے ہوے وہ میگزین نظر آئے تو ان میں سے چند ایک نکال کر پڑھنا شروع کر دیا۔ علیم احمد صاحب میگزین کے مدیر اعلی ہیں اور ان کی تحاریر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قابل انسان ہیں۔ میگزین میں ویسے تو قرآنی آیات کا حوالہ نہیں دیا جاتا لیکن ایک شمارے میں قرآنی آیات سے حوالہ دے کر اس موضوع پر بحث کی گئی تھی کہ کس طرح اللہ تعالی نے اس دنیا کے راز قرآن میں بیان کیے ہیں۔
![]() اوپر والی آیات یہ بیان کرتی ہیں کہ سینکڑوں سال پہلے اللہ تعالی نے ہی اپنی قدرت سے ہری بھری گھاس پھوس اگائی اور بعد میں اسے سیاہی مائل کوڑے میں تبدیل کر دیا ۔ اس سیاہی سے مراد معدنی تیل ہے ۔ آج دور جدید میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معدنی تیل دراصل نباتات کے زمین میں دب جانے اور سینکڑوں سال دبے رہنے سے وجود میں آیا ہے۔ گلوبل سائنس کے اگلے کچھ صفحات پلٹے تو دنیا کے بہترین سائنس دانوں کی تحقیات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ نوبل پرائز پانے والے ایسے سائنس دان جنہوں نے چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کو جاننے کے لیے سالوں سال صرف کر دیے۔ پھر ان میں سے کچھ تحقیاست ایسی بھی تھیں جن کو ایک فرد اپنی پوری سائنسی زندگی صرف کرنے کے باوجود مکمل نہیں کر پایا تواس کے مرنے کسی دوسرے نے اس کے لکھے ہوے مواد پر مزید تحقیق کر کے ایک قدرتی راز سے پردہ اٹھایا۔ رنگ برنگی روشنیاں خارج کرنے والی جیلی فش ہوں جن کے اندر سے پروٹین رنگوں میں تبدیلی کرتا ہے یا بگ بینگ پر تحقیق کی بات ، مادہ اور ضد مادہ پر بحث ہو یا تشاکل یعنی سیمٹری کا ٹوٹنا اور ایسی کئی مزید تحقیقات۔ لیکن جب عرصہ دراز تک وقت کھپانے کے بعد کسی سائنسدان پر سچ کا انکشاف ہوا تو وہ وہی سچ تھا جو دنیا کے خالق و مالک اور کائنات کے سب سے بڑے سائنسدان نے ۱۴۰۰ سال پہلے اپنی عظیم کتاب میں لکھ دیا تھا۔ معدنی تیل کی یہی سچائی درجنوں سائنس دانوں کی محنت کے بعد ہمارے علم میں آئی۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں کا ذکر، جن کے نام بھی ہم نہیں جانتے اورانہی کی مسلسل محنت سے آج کل زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ممکن ہوئی۔ نہ صرف کمپیوٹر سائنس، بلکہ شعبہ طب ، طبیعات، کیمیا، کائنات کے راز، ریاضی کے کلیات اور پتہ نہیں کیاکیا۔ آج کل کے دور میں پیدا ہونے والا ہر بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو وہ اپنے ارد گرد موبائل، کمپیوٹر ، گھریلو کام کاج میں مدد دینے والی اشیاء فریج ، گرینڈر مشین، سفر کے لیے گاڑیاں، ہوائی جہاز موجود پاتا ہے۔ اسے یہ پتہ ہی نہیں کے ارتقاء کے کن کن ادوار سے گزرنے کے بعد انسان نے ان اشیاء کے حصول کو ممکن بنایا۔ افسوس کہ ارتقا کے ان ادور میں مسلمانوں کے حصہ بہت کم ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور مسلمانوں نے خواب غفلت سے جاگنے کی کوشش ہی نہیں کی۔جب کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی صورت میں ایک مکمل اصول زندگی عطا کر دیا گیا۔کائنات بھر کی سچائیوں سے پر بہترین کتاب قرآن کریم کا تحفہ عطا کیا گیا۔ اور اس میں بار بار حکم دیا گیا کہ پڑھو، علم حاصل کرو، غور وفکر کرو، تمھیں ہر چیز کی حقیقت کی نشانیاں اس کتاب میں ملیں گی۔ دین اور تحقیق کا رشتہ قائم رکھو۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی، فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ (الانعام:59) "زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔" اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ہمیں غور کرنے کا حکم دیا گیا لیکن افسوس ہم سوئے رہے۔آج ہماری دین سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ہمیں مسجد سے بھاگنے کی اس قدر جلدی ہوتی ہے جب مسجد میں نماز جمعہ کے بعد امام صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہیں تو مسلمانوں کا ایک پاؤں مسلے پر ہوتا ہے دوسرا اپنے جوتے میں۔ اسی لیے آج دنیا بھر میں مسلمان جس تنزلی اور کسمپرسی کا شکار ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے ہی کرتوتوں کا نتیجہ پا رہے ہیں اور ان کی اپنی اصل یعنی دین اسلام کی طرف واپسی ہی ان کو اس تنزلی سے نکال سکتی ہے۔ آیات کے حوالہ جات کے لیے شکریہ برائے بلاگ -آؤ سنواریں پاکستان
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com Last edited by یاسر عمران مرزا; 25-06-10 at 08:42 PM. |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | asakpke (20-10-11), shafresha (28-06-10), فیصل ناصر (20-10-11), پاکستانی (25-06-10), محمدعدنان (20-10-11), مرزا عامر (27-06-10), wajee (23-10-11), احمد نذیر (21-10-11), حیدر (26-06-10), حیدر Rehan (20-10-11), رفیع انجم (25-06-10), راجہ اکرام (26-06-10), رضی (29-06-10), سحر (20-10-11), شمشاد احمد (21-10-11), عبداللہ آدم (29-06-10), عروج (21-10-11) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: مکھڈ شریف ضلع اٹک
عمر: 34
مراسلات: 30
کمائي: 835
شکریہ: 996
26 مراسلہ میں 88 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے شک دین اسلام کی طرف واپسی ہی سب کو اس تنزلی سے نکال سکتی ہے۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے رفیع انجم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-06-10), یاسر عمران مرزا (26-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (26-06-10), حیدر Rehan (20-10-11), راجہ اکرام (26-06-10), عبداللہ آدم (29-06-10) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,848
کمائي: 70,252
شکریہ: 49,405
9,917 مراسلہ میں 31,321 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کے اس مضمون کو پڑھ کر میرا یہ یقین اور پختہ ہوا ہے کہ اسلام ایک دین ہے یعنی ایسا دستور جو "دنیا اور آخرت" دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔
ماضی کے چند علما نے امت مسلمہ پر نیک نیتی سے جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ مسلمانوں کو دین و دنیا سے ہٹا کر محض دین پر لگا دینا ہے۔(براہ مہربانی اب علما کے کردار پر بحث مت شروع کر دیجیے گا اگر کسی کو دکھ ہوا ہو تو ایڈوانس میں معذرت) چناچہ اس سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا قرآن کو سمجھنے کے لیے انسان کے پاس دنیا کے علم کا ہونا بھی لازمی ہے۔ وگرنہ کیوں کر وہ قرآن کے اس دعوے کو پا سکتا ہے کہ وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ (الانعام:59) "زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔" الحمد للہ آج کے کافی علما دنیاوی علوم کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں اور اپنے مدارس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں، تاہم مجھے اب بھی یہی لگتا ہے کہ یہ مدارس سائنس کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔زیادہ تر مدارس میں (میری معلومات کے مطابق) مینیجمنٹ سائیسنز پر زور دیا جاتا ہے۔ اگر اچھی مینیجمنٹ ہم کو اچھا معاشرہ دیتی ہے تو اچھی سائنس اس اچھے معاشرے کو طاقت بخشتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قران کو آپ جتنی مرتبہ جس نیت سے پڑھو ، اللہ ہم کو ویسی ہی راہ دکھاتا ہے۔ مثلاً پہلے پارہ میں ایک آیت ہے جس میں ایک ایسے شخص کا احوال بیان کیا گیا ہے جو اندھیری رات میں کہ جب بارش اور طوفان باد و باراں ہے سفر کر رہا ہے تو جو اس شخص کی مثال تھی وہ مجھے کئی سال سمجھ نہیں ائی کہ اس میں آخر اللہ بیان کیا کرنا چاہ رہا ہے۔ "یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے یوں لگتا ہے کہ بجلی ان کی بینائی اُچک لے جائے گی، جب بھی ان کے لئے (ماحول میں) کچھ چمک ہوتی ہے تو اس میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سلب کر لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے" بہت سے لوگوں سے پوچھا مگر پھر بھول جائے۔ بالاخر 2007-2008میں اللہ نے مجھے وہ آیت ایسی سمجھائی کہ اب اسکا مطلب و مقصد ہی نہیں بھولتا۔ اسی طرح اکثر ایک مرتبہ آیت کا مقصد سمجھ آتا ہے تو دوسری مرتبہ پھر حیرت سے چلا اٹھتا ہوں کہ اچھا ۔ ۔۔ ۔اس کا یہ بھی تو مطلب ہے۔ اس لیے اگر ہم کو آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کچھ حآصل کرنا ہے تو دونوں کام اکھٹے چلانے ہوں گے |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (29-06-10), ہادی (20-10-11), یاسر عمران مرزا (29-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد بلال (29-06-10), حیدر Rehan (20-10-11), رفیع انجم (22-07-10), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (29-06-10), عبداللہ آدم (29-06-10) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,624
کمائي: 30,027
شکریہ: 10,454
1,165 مراسلہ میں 3,086 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کچھ ہمیں بھی مستفید کریں اپنے علم سےکہ آپکو کیا سمجھ آئی ۔ پلیز |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 13,848
کمائي: 70,252
شکریہ: 49,405
9,917 مراسلہ میں 31,321 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس وقت وہ بات ٹاپک سے ہٹ کر ہے۔ میں نے محض اس لیے بیان کی تاکہ سمجھا سکوں کہ ہر آیت میں خزانے چھپے ہوئے ہیں بشرطیکہ ہم "کٹ ہجتی" چھوڑ دیں۔
ان شااللہ میں وہ بات فورم پر ضرور شئیر کرؤں گا۔ اور آپکو لنک بھیج دوں گا |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,624
کمائي: 30,027
شکریہ: 10,454
1,165 مراسلہ میں 3,086 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے انتظار رہے گا۔ آپکو یاد رہے گا یا یاد کرواتا رہوں لنک بھیجنے کے لئے؟؟
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بدرالزمان بھائی تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔ اصل میں موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے ، بات شاید کچھ مبہم رہ گئی ۔ باقی آپ جو مزید شئرنگ کریں گے اسکا انتظار رہے گا۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#10 | ||
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,919
کمائي: 297,972
شکریہ: 24,733
15,336 مراسلہ میں 39,126 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اگر ہاں تو براہ کرم مجھے بھی لنک بھیج دیں |
||
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | ننھا بچہ (21-10-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
مُجھے بھی لنک دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| blog, com, کوشش, کلیات, کمپیوٹر, پاکستان, قرآنی, نظر, مکمل, ممکن, آج, اللہ, انسان, اسلام, بہترین, بگ بینگ, تعلیم, حکم, زندگی, سفر, سال, سائنس, صفحات, صحرا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| گوانتانامو کم عمر قیدی کی گھر واپسی | کنعان | خبریں | 2 | 26-08-09 10:58 PM |
| واپسی | The Great | شعر و شاعری | 0 | 26-08-09 12:06 PM |
| عراق کے تاریخی نوادرات کی واپسی | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 1 | 26-02-09 11:42 AM |
| واپسی کا نوحہ | محمدعدنان | وصی شاہ | 3 | 04-01-09 06:08 PM |
| گندے بچے کی واپسی ............. | گندہ بچہ | گپ شپ | 27 | 26-10-07 01:22 AM |