| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب سڑک پر کسی قسم کا سائن بورڈ نہ ہو کہ آگے آپ کے کیا کیا آنے والا ہے ۔ تو پھر آپ کو مطلع کرنے کا کیا طریقہ رہ جاتا ہے ۔ ماسوائے یہ کہ ہوا میں اُچھال کر ایک ہلکا جھٹکا باور کرانے کے لئے کافی ہوگا کہ سنبھل تیرا دھیان کدھر ۔ ون ویلنگ ہو یا تیز رفتار موٹر سائیکل گلی محلے سے گزرنے پر موت کے کنواں کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ایسی لاپرواہی کو روکنے کا ہاتھ سے زمانہ نہیں ۔ کیونکہ ہاتھا پائی سے شرفاء گھبراتے ہیں ۔ بچوں کو اپنے خود ہی سمجھاتے ہیں کہ بد تمیزوں کو منہ نہیں لگاتے ہیں ۔ زبان درازوں سے بے زبان پتھروں کو آزماتے ہیں ۔
ترقی یافتہ ممالک میں سڑک پر پیدل چلنا ہو یا گاڑی چلانا ۔ اصول طے شدہ ہیں ۔ کس کے کیا حقوق ہیں کیا فرائض ہیں ۔ پہلے آئیے پہلے پائیے ۔ بس کے انتظار میں کھڑے ہونے والے دھکم پیل نہیں کرتے ۔ باری کے انتظار میں چاہے پہلی بس چھوٹ جائے ۔ جلد بازی میں دوسروں کے حق سے دست بدست نہیں ہوتے ۔پیدل کم ہی چلتے ہیں جو سڑک پر آ جائیں اپنا حق پا لیتے ہیں ۔ کہنے کو تعلیم یافتہ قومیں ہیں ۔ مگر پابندی قانون سے ہےتعلیم سے نہیں ۔تعلیم شعور دیتی ہے اور قانون سزا دیتا ہے ۔ ڈر سزا کا ہوتا ہے ۔ جسے پڑھا لکھا جلد سمجھ لیتا ہے ۔ غیر تعلیم یافتہ جب تک آنکھوں سے نہ دیکھ لے سزا پر عملدرامد ہوتا ۔ یقین کے دائرہ میں نہیں آتا ۔ بار بار کا رونا نا خواندہ قوموں میں اصول پرستی کا رواج جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ بڑے شہر خونداگی کی شرح میں کسی طرح ترقی یافتہ ممالک سے کم نہیں ۔ مگر حال دیکھ کر یقین سے کہنا مشکل ہے کون کتنا تعلیم یافتہ ہے ۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔میٹرک ،ایم اے ،انجئینر ،پروفیسر ہوں یا کلرک کسی بھی سڑک پر ایک ہی ڈگری کا پرسان حال ہیں ۔ پوچھنے پر کہ ایسا کیوں تو جوابا طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہ قانون پر عمل کرنے بیٹھیں سارا دن سڑکوں پر ہی رہیں ۔ جتنا جلد ٹینشن سے نکل جائیں بہتر ہے ۔نکلنے کا کیا کوئی اور راستہ نہیں بچا ۔اب بچانے کو کیا کیا بچا ہے ۔ تفصیل طلب ہے ۔ جب تک کیچڑ نہ اچھالیں تسلی نہیں ہو تی ۔ جہاں کبھی فصلیں تھیں اب وہاں کیچڑ ہے ۔ پھل پھول کی بجائے گھاس پھونس اگے گی ۔ جیسے 1947 میں لگائے گئے باغ میں پھل پھول بار بار کے سفارش، بے ایمانی، خود غرضی کے سیلابی ریلوں سے سیاسی کیچڑ سے گھاس پھونس ہی رہ گئی ہے ۔ زندگی گزارنے کے لئے کسی سائن بورڈ کی ضرورت نہیں ۔ اخبارات کو غریبوں کی غیر منقولہ جائدادوں سے محروم کرنے والے لاہور کے دو سو افراد کی بلیک لسٹ فراہم کرنے سے فرض ادا ہو گیا ۔ جنہیں بچہ بچہ پہلے ہی جانتا ہے ۔ اب ایسے اخباری اچھلو سے انہیں سزا سے نہیں جرائم کی سپیڈ بڑھانے سے روکنے کی ایک کوشش ہے ۔ قومی ،لسانی ، سیاسی ، مذہبی اور تعصبی رحجانات کی بڑھتی فضا میں قائدہ قانون کی کھلی خلاف ورزی میں صرف چند اچھلو سے گزارا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ میرا لیڈر سب سے اچھا ، میری سیاسی جماعت سب سے اچھی ، میرا رہنما سب سے اعلی ، میری قوم سب سے اچھی ، پھر برا کیا ہے ۔اچھا انسان ہونا ۔ جس معاشرے میں بوڑھے والدین کی خدمت کرنے والی اولاد کو فتنہ و فساد سے برائی کا شاہکار بنانے کی کوشش ہو وہاں تنگ نظر ، متعصب ، مفاد پرست اپنی چاہت ایمان گرانی سے معتبر ی کا ہار پہن لیتے ہیں ۔ جس فورم میں جھانکیں نفرت کی ایک آگ ہے جو بڑھکتی نہیں بڑھکائی جاتی ہے ۔ کہیں علم حدیث سے تو کہیں قرآن تفسیر سے بحث و تکرار ہے ۔ ایک طرف نہ تو محفوظ عزادار ہیں اور نہ ہی مزار ہیں ۔بازاروں میں مہنگائی کی ماری خواتین و بچے بھی زخموں سے چورچور ہیں ۔ کوئی پنجابی کہہ کر غصہ نکالے تو اردو سپیکنگ غصہ میں خود پہ قابو نہ رکھ پائے ۔ پختون اپنی آزادی کا بگل نام سے بجائے۔ بلوچی ناروا سلوک کا شکوہ سنائے ۔ اسرائیل کشمیر کی فتح کا نعرہ لگاتے لگاتے فلسطین کو آزادی دلاتے دلاتے اختلافات کے ایسے دلدل میں خود ہی جا پھنسے کہ برداشت کا مادہ ہی ختم ہو گیا ۔آپ جناب کی بجائے تو تکار سے سرکار بناتے ہیں ۔ پھر خوار پھرتے ہیں ۔ محسن قوم کی ڈگری کا چرچا سنتے ہیں ۔ کردار گفتار کا ذکر خیر ہی نہیں ۔ اصول پسندی کی تقلید نہیں ۔ جسے دیکھو خاموش انقلاب کی نوید سناتا ہے ۔انقلابات دنیا فرد واحد سے نہیں آیا کرتے ۔ قوم واحد سے آتے ہیں ۔جہاں تنکوں میں بٹا ہو سارا معاشرہ وہاں خواب خرگوش ہی آتے ہیں ۔کاش عمر کئی سو سال ہوتی اور دیکھ پاتے اس عوامی انقلاب کو جو معاشرتی نا ہمواریوں اور نا انصافیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا عکس ہوتا ۔ علامہ اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو دیکھ لیتے کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بہت خاموشی سے یہاں آئیں بغیر اچھلے گزر جائیں کیونکہ یہ سائن بورڈ ہے جسے پڑھا نہیں جاتا ۔ اگر معاشرے کا وہی خربوزہ یعنی فرد ہوتا تو ایک آدھ اچھلو اپنی تحاریر میں لگا دیتا تاکہ اگر اچھا نہ لگے تو برا بھلا میرے حصے میں ضرور آتا ۔ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ۔ نوٹ: بٹن دبا کر شکریہ کا اچھلو لگائیں
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (05-09-10), Nasiwise (06-09-10), shafresha (05-09-10), فیصل ناصر (06-09-10), ھارون اعظم (06-09-10), نورالدین (05-09-10), محمدمبشرعلی (06-09-10), مرزا عامر (05-09-10), معظم (05-09-10), ابرارحسین (05-09-10), راجہ اکرام (06-09-10), سرورق (18-10-10), شاہ جی 90 (05-09-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک اور بہترین تحریر محمود بھائی کی جانب سے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورم, فرض, پھول, قرآن, نفرت, چاہت, مہنگائی, موٹر سائیکل, موت, معاشرہ, آج, انسان, اردو, بچوں, تعلیم, جلد, حال, حدیث, خواتین, خلاف, دیکھو, رفتار, راستہ, زمانہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا | جاویداسد | خبریں | 10 | 29-11-10 08:51 PM |
| پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع | راجہ اکرام | سیاست | 3 | 27-01-10 01:41 AM |
| پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں | وجدان | عمومی بحث | 2 | 04-07-08 04:00 PM |
| کیا رنگ بھلا دستِ ستم گر میں نہیں تھا | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 03:50 PM |
| شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد | پاکستانی | خبریں | 1 | 09-09-07 09:31 PM |