واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


گستاخی اور توہین مقدسات ۔۔۔۔ہمارا مطلوبہ رد عمل ہو؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-02-10, 10:52 AM  
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گستاخی اور توہین مقدسات ۔۔۔۔ہمارا مطلوبہ رد عمل ہو؟

مغرب اور اہل مغرب کا اپنا نقطہ ¿ نظر ہے، اپنی اقدار ہیں، اپنی مقدسات ہیں، اپنے اصول ہیں اور تمام معاملات کے اپنے ہی معیارات ہیں۔ اس لئے انہیں کیا کرنا ہے یا کیا کرنا چاہیئے اس کے لئے وہ خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ دیگر مذاہب کے افراد پر ان کے فیصلوں کی کیا زد پڑتی ہے ۔ اگر ان کا کوئی فیصلہ یا کوئی رویہ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف ہو، اہل اسلام سے امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہو تو اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ اور اس سے ان کی جمہوریت یا سیکولرزم پر بھی کوئی زد نہیں پڑتی کیوں کہ یہ انہی کا بنایا ہوا نظام ہے اس لئے حسب ضرورت اس کی تعریف اور تعبیر پر نظر ثانی کا حق بھی رکھتے ہیں۔

اس لئے آزادی اظہار اور شخصی آزادی کے حق کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ توہین رسالت، شان صحابہؓ میں گستاخی، توہین قرآن کریم اور دیگر شعائر اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ اسی شخصی آزادی کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی مسلمان حجاب استعمال کرے تو یہ ان کے قابل برداشت نہیں۔

ان کی اس بے لگام آزادی سے متاثر بہت سے لوگ ہمارے معاشروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی لئے بعض اوقات ہمارے ہاں بھی گستاخی اور توہین مقدسات کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اس موقع پر اہم سوال یہ ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہیئے؟ موجودہ حالات میں اس حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان کے پیش نظر مختلف رد عمل دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ایک رد عمل تو یہ ہو سکتا ہے کہ
نہ جب تک کٹ مروں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
اور
توہین رسالت کی جو شیطان کریں گے
ہم اس کو مٹا دینے کا اعلان کریں گے


بزور طاقت روکا جائے۔ مرتکبین کو واجب القتل قرار دیا جائے ، انہیں واصل جہنم کر دیا جائے، ان کے گھروں کو پھونک ڈالا جائے ۔ اور جہاں جہاں بس چلے مسلمانوں کا یہی رد عمل ہوتا ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں ہونے والے توہین کے واقعات اور ان پر ردعمل کی صورت میں موجود ہے۔جیسا کہ گزشتہ سال گوجرہ اور سیالکوٹ میں ہوا۔

دوسرا رد عمل یہ ہے کہ ان کا بائیکات کیا جائے ، ان کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے ، جلاو گھیراو ہو، توڑ پھوڑ ہو ، ملکی املاک تک کو قابل رحم نہ سمجھا جائے۔ یہ رد عمل تب ہوتا ہے جب یہ حرکت باہر کے کسی ایسے ملک میں ہو جہاں مسلمانوں کا زور نہ چلتا ہو۔ غصے سے بپھرے ہوئے مسلمان سڑکوں پر نکل آتے ہیں، انہیں ہر چیز یہودی اور عیسائی نظر آتی ہے ، گاڑیاں، دکانیں، بینک الغرض ہر چیز صورت دشمناں بن جاتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بھی کئی بار کیا جا چکا ہے۔ جس کے بعد کسی نے خوب کہا تھا کہ ”مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے ایک بار اور کارٹون چھاپ دینا ہی کافی ہے“۔

ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ شان رسالت، شان قرآن اور شان صحابہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تبارک و تعالی کی ہے۔ اگر کوئی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیں اور اپنی ذمہ داری یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ میں مشغول رہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، قرآن کا تقدس اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت ایمان کا حصہ ہیں، اور کوئی مسلمان ایمانی لحاظ سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو یہ گستاخی ہر گز برداشت نہیں کرتا۔ غازی علم الدین شہید اور عامر چیمہ شہید دو ایسی مثالیں ہیں ہماری تاریخ کی کہ جو بظاہر بہت دین دار اور صاحب جبہ و دستار نہیں تھے لیکن جب شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی ہوئی تو محبت رسول کا ایسا ثبوت دیا کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔

اس حوالے سے متضاد طرز عمل کیوں ہے؟ کیوں تمام مسلمان ہر ایسے واقعے پر ایک جیسا رد عمل ظاہر نہیں کرتے؟ مسلم اکثریتی او ر اور مسلم اقلیتی ممالک کا طرز عمل تو ویسے بھی مختلف ہوتا ہے لیکن تمام مسلم اکثریتی ممالک بھی یکساں نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان سارے مسائل کے بارے میں علماءکرام کسی متفقہ نتیجے پر نہیں پہنچے۔ بعض کے نزدیک اس پر رد عمل کا اظہار بلکہ شدید رد عمل کا اظہار افضل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ ہم اس کے مکلف نہیں، جو گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے اس کا معاملہ اللہ کے ذمے ہے۔ سب سے پہلے تو علماءکرام تمام ایسے مسائل پر متفقہ اور دو ٹوک موقف پیش کریں کہ جن کے رونما ہونے کی صورت میں بعض افراد کے ساتھ زیادتی کا خدشہ ہے یا جن کے رد عمل میں غیر ضروری شدت سے فساد کا خدشہ ہے۔ تاہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات کا تفصیلی جائزہ تاریخی شواہد کی روشنی میں ضروری ہے کہ کس طرز عمل سے اسلام اور مسلمانوں کووقتی یا طویل المدتی فائدہ ہے اور کون سا طرز عمل نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اگر اسلام کی ابتداء سے لے کر آج تک اس طرح کے ہونے والے واقعات کا سرسری جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عفو و درگزر اور نرم برتاو کا طرز عمل زیادہ سود مند ثابت ہوا ہے۔ وقتی طور پر اگرچہ یہ اس طرز عمل کی افادیت کا سمجھنا مشکل تھا لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینے اور اپنی دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کی ادائیگی میں مشغولیت نے بہتر نتائج سامنے لائے ۔

طائف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفار نے جو کیا اس سے کون واقف نہیں، آپ علیہ السلام کے جوتے تک خون سے تر ہو گئے۔ اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہوگی ؟ فرشتہ حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر آپ حکم کریں تو دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا کر انہیں چکی کی طرح پیس دیا جائے۔۔۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ نے جو جواب دیا وہ تا قیامت ایک بہترین اصول اور نمونہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ”یہ نادان ہیں سمجھتے نہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کی آئندہ نسلوں میں سے کوئی ایمان لے آئے“ اور تاریخ نے ثابت کر دیا کہ یہ فیصلہ بہترین تھا۔ طائف کے لوگ نہ صرف ایمان لائے بلکہ اسلام کو محمد بن قاسم جیسے سپہ سلار بھی مہیا کئے۔

اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوڑا پھینکنے والی عورت کا عمل گستاخی سے کم نہ تھا۔ لیکن نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے جواب میں ایسا طرز عمل اختیار کیا کہ بالآخر وہ اسلام لے آئی۔ اس طرح کے اور بے شمار واقعات ہیں جہاں بجائے سختی کے بجائے نرمی اور سزا کے بجائے عفو و درگزر کو بروئے کار لایا گیا اور اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے۔

تاریخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اس کے بعد کی تواریخ میں ایسے بے شمار واقعات تلاش کئے جا سکتے ہیں جو اس طرز عمل کی افادیت کو مزید پختہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔

حال ہی میں سویٹرز لینڈ کی پارلیمنٹ میں میناروں پر پابندی کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ اس قرار داد کو پیش کرنے اور اس پابندی کے لئے سب سے زیادہ سرگرم رکن ڈینئیل سٹریچ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے لئے کرنے والے مطالعے کے دوران مجھ پر اسلام کی حقانیت آشکار ہوئی اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنے گزشتہ کاموں کے کفارے کے طور پر وہ سویٹزر لینڈ میں یورپ کی سب سے خوبصورت مسجد بنانا چاہتا ہے۔ سویٹزر لینڈ میں ہونے کی وجہ سے ڈینئیل اس ساری سرگرمی کے باوجود بچ گیا۔ اگر یہاں ہوتا تو شاید موجودہ حالت میں نہ ہوتا، یا تو قتل کر دیا جاتا، یا اسے بھاگ کر کسی غیر مسلم ملک میں پناہ لینی پڑتی جس کی وجہ سے وہ مزید بدظن ہوتا اور اس کے اسلام قبول کرنے کا امکان مزید کم ہو جاتا۔
عیاں ہے شورش تاتار کے فسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے


البتہ ایسے واقعات بھی سیرت میں ملتے ہیں جن میں گستاخان کے سرقلم کر دیئے گئے، اور ان پر معافی کے سارے دروازے بند تھے۔ لیکن اس کی کچھ
خاص وجوہات تھیں جن کی بنا پر رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے خلاف اتنا سخت فیصلہ صادر کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض حالات میں اس طرح کا طرز عمل بھی ناگزیر ہے۔

اس لئے کوئی بھی متفقہ موقف اختیار کرنے سے قبل ان تمام واقعات اور ان کے نتائج و عواقب کو مد نظر رکھ کر ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے لئے طویل المدتی افادیت سے بھر پور ہو۔ اور یہ بات بھی مد نظر رکھی جائے کہ مسلم اکثریتی اور مسلم اقلیتی ممالک میں رہنے والوں کے رد عمل میں کس حد تک فرق کی گنجائش ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-02-10), فیصل ناصر (08-03-10), کنعان (08-03-10), ھارون اعظم (06-03-10), مباح (22-02-10), بزم خیال (22-02-10), شاہ جی 90 (06-03-10), عبداللہ آدم (22-02-10), غلام مجتبی جان (22-02-10)
پرانا 08-03-10, 12:38 AM   #16
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

یہ تحریر آپکی ھے یا جس کی بھی ھے سمجھانے کے لئے سب کو اکٹھا کر کے ایک خوبصورت مضمون تشکیل دیا گیا ھے میں نے پڑھا اور مجھے بہت سرور ملا میں نہیں چاہتا کہ جانے انجانے میں اس میں سے کسی بھی حصہ کو باہر نکال کر اس پر کوئی سوال کیا جائے۔ اگر کسی کو بھی کوئی سوال پوچھنا ھے تو اس کے لئے اگر الگ دھاگہ بنا لیا جائے تو بہتر ہو گا۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (08-03-10)
پرانا 08-03-10, 06:26 AM   #17
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈبل پوسٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by شاہ جی 90; 08-03-10 at 06:28 AM.
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-03-10, 01:30 PM   #18
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم کنعان بھائی
یہ میں نے ہی لکھا ہے ۔ بس اپنے تئیں کوشش کی ہے غور و فکر کا ایک نیا رخ دینے کی

دعاؤں کی درخواست
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-03-10), شاہ جی 90 (08-03-10)
پرانا 08-03-10, 01:42 PM   #19
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بھائی بہت اچھا لکھا ھے ایک نقطہ سمجھانے کے لئے اتنی مفید معلومات اکٹھی کر کے ہم تک پہنچائیں یہ تو اپنی اپنی سمجھ کی بات ھے۔ بہت خوب لکھا ھے اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (09-03-10), شاہ جی 90 (08-03-10)
جواب

Tags
پاکستان, واقعات, قرآن, لوگ, نظر, میناروں, موقع, موجودہ, مسائل, مسجد, آج, ایمان, اللہ, احتجاج, اسلام, بہترین, تلاش, جواب, حکم, خون, خلاف, عورت, صورتحال, صنم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پختونستان عدنان دانی گانے 0 17-08-10 10:12 AM
فیس بک ، یو ٹیوب کے بعد ویکیپیڈیا ویب سائٹس کو پاکستان میں بند کردیا گیا، مگر گوگل اور یاہو؟ گوہر اپکے کالم 3 23-05-10 05:54 AM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
لندن کانفرنس سے پاکستان کی توقعات راجہ اکرام خبریں 1 01-02-10 06:25 PM
پاکستان پر حملہ منہ توڑ جواب محمد کاشف حبیب خبریں 1 29-07-08 10:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger