واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سمت پرواز کیا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-12-09, 02:23 AM  
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,247
کمائي: 27,484
شکریہ: 4,250
979 مراسلہ میں 2,924 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سمت پرواز کیا ہے

تحریر : محمودالحق

آج ہم جس طرف بھی نظرڈالیں بحث و مباحث کا بازارگرم نظرآتا ہے ۔ملکی سیاست سے لیکر چینی کی عدم دستیابی تک ہر ضروری اور غیر ضروری موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔اپنی کہی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور آواز کو دوسروں سے بہت اونچا رکھنے سے کیا جا رہا ہے ۔ایک کے بعد ایک لطیفہ منظر عام پہ آرہا ہے ۔قوم میں مایوسی کا بڑھنا اضطراب کا موجب بن رہا ہے۔ خاندان میں مردوں اور گھروں میں خواتین کا کردار ہمارے معاشرے میں کیا اہمیت رکھتا ہے ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔مگر آہستہ آہستہ کچھ ان دیکھے انداز میں تبدیلی کا عمل معاشرے میں کسی زہر کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے۔اور جسے ہم غیر اہم قرار دے کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے جا رہے ہیں۔ مگر بلی جدید ٹیکنالوجی یعنی انٹر نیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی صورت اختیار کئے دھاک لگائے بیٹھی ہے۔اور اس انتظار میں ہے ،کہ اجتماعیت کی موجودگی میں شائد وہ اپنا کام نہ کر سکے۔ مگر انفرادیت کی وبا میں اسے اپنا کام دکھانے میں خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔اور ایک کے بعد ایک اس کا لقمہ خواہش بنتا جا رہا ہے۔اور بچنے والے سہمے ہوئے پنجرے کے اندر بھی غیر محفوط محسوس کر رہے ہیں ۔پنجرہ مضبوط کرنے سے شائد جان تو بچ جائے۔ مگر خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے چھٹکارہ پانا تبھی ممکن ہے جب بلی تھیلے میں بند کر کے دور پہنچا دی جائے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے سے مسئلہ کا حل ممکن نظر نہیں آتا ۔کسی کا چہرہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑوں سے سرخ نہیں کیا جا تا ۔جیسے آج ہمارے ٹی وی پروگرام کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہے ہیں ۔ کسی ریڑھی فروش کی طرح مکھیاں اڑاتے ہوئے اونچی آواز میں گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ہر نئی ایجاد و اختراح کو اندھا دھند تقلید کی سولی پر چڑھا دیتے ہیں ۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جن لوگوں کو اپنے باسی پروگرام کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ وہ اخلاقی ، سماجی ، تمدنی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے اس بیماری کو جھیلنے کی ہمت رکھتے بھی ہیں یا کہ اس کے سائیڈ افیکٹ سے نئی بیماری کا شکار ہو جائیں۔برداشت ، صبر ، اخوت ، رواداری،محبت اور یگانگت جیسے قوی افکار بھی سبب مرض ،کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔ ہر گلی کی نکڑ سیاست کا اکھاڑا معلوم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے پر اچھل اچھل کر الزام لگانے میں شاہی وفاداری کا تمغہ سجانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ جس انگلی کو اُٹھانا مغربی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں بندوق کی نالی کی طرح اکڑا کر رکھا جاتا ہے۔ اور اسی سے شخصیت پر حملہ کے لئے تلوار کا کام لیا جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کون ہیں ۔کن کی نیابت اسلاف سنبھالے ہوئے ہیں۔ہماری طاقت کس میں ہے ، ہماری کمزوری کیا ہے۔طاقت کے استعمال سے جو قوم نہ جھک سکی ۔ اب وہ اپنے کمزور پہلوؤں سے صیاد کے چنگل میں آتی جارہی ہے۔ پشاور سے لیکر کراچی تک ٹیلیفون کی لائینوں کے ساتھ اب کیبل نیٹ ورک کےذریعے سے وہی کلچر پروان چڑھایا جارہا ۔ جس میں تقسیم ہند سے پہلےہمارے بچوں کو جب ہندوانہ رسومات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی ۔تو پورا مسلم معاشرہ ہی سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ مگر کیا ہوا کہ آج گھر گھر میں ، ہر گلی کی نکڑ میں وہی تہذیب و ثقافت کا پرچار ہے۔ اور ہم ہیں کہ اپس میں اختلافات کی جنگ جیتنے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی کوشش میں ہیں۔مذہب ، سیاست ، معاشرت بری طرح سے متاثر نظر آتی ہے۔ہم تقسیم ہو چکے ہیں ۔ برادریوں ذاتوں میں ، سیاسی جماعتوں میں اور رہی سہی کسر فرقہ بندیوں نے پوری کردی۔
آج مجھے ایک کہاوت میں اس بوڑھے کبوتر کا اپنے ساتھ دوسرے قید پرندوں کو دیا گیا مشورہ یاد آتا ہے ۔کہ جب انہوں نے باہمی اتفاق سے ایک ساتھ پروں کو پھیلایا اور جال سمیت اُڑ گئے۔

در دستک / محمودالحق کا بلاگ
بزم خیال آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (12-01-10), منتظمین (25-12-09), محمدعدنان (26-12-09), ایس اے نقوی (25-12-09), رانا امر (25-12-09), راجہ اکرام (25-12-09), شاہ جی 90 (01-03-10), عامرشہزاد (25-12-09)
کمائي نے بزم خیال کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
25-12-09 ایس اے نقوی سمت پرواز کیا ہے 150
پرانا 01-03-10, 11:42 AM   #16
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک اور بہترین تحریر
کمال ہے محمود بھائی
اور یہ بھی موضوع ایسا ہے کہ انصاف کرنا انتہائی مشکل
جو کہ آپ نے کیا ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (01-03-10)
جواب

Tags
com, کوشش, کلچر, کراچی, پشاور, قید, لطیفہ, مکھیاں, میڈیا, ممکن, معلوم, معاشرہ, الزام, انداز, احتجاج, بے, بچوں, بازی, تحریر, حل, خواتین, سیاست, عدم, صیاد, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger