واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > اقسام حدیث



اقسام حدیث اقسام حدیث


علم حدیث

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-06-09, 05:03 PM   #1
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default علم حدیث

علم حدیث

اسلام علیکم
آپ لوگوں کی خدمت میں علم حدیث کے حوالے سے ایک کتاب پیش خدمت ہے اس میں اہل سنت اور شیعہ علماء کا نظریہ بتایا گیا ہے انشاءاللہ آپ لوگوں کو پسند آئے گئی ۔
والسلام
__________________
بابِی اَنتَ وَ اُمی یَا رَسُول اللہ (ص)
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (01-06-09), حیدر Rehan (01-06-09)
پرانا 01-06-09, 05:06 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پہلاباب

حدیث اور اس کے مترادفات کے متعلق اصطلاحات
علم الحدیث کی تعریف اور اس کے شاخین
علم الدرایہ یا مصطح الحدیث
تاریخی پس منظر
علم الدرایہ کا موضوع
علم الدرایہ کا فائدہ
فریقین (شیعہ اور سنی ) کی نگاہ میں ''حدیث ''''سنت '' ،''خبر ''، ''اثر'' ،''سند'' اور متن کا معنی
حدیث قدسی فریقین کی نظر میں


پہلاباپ
حدیث اور اس کے مترادفات سے متعلق اصطلاحات
یہ باب ، علم الحدیث کی تعریف ، اس کے شاخوں ، علم الدرایہ ، اس کی تاریخ ، علم الدرایہ کا موضوع اور فائدہ ، حدیث کا معنی ، سنت ، خبر ، اثر ، سند اور متن ، حدیث قدسی شیعہ اور سنی محدثین کی نگاہ میں ، پر مشتمل ہے اور تفصیلاً درج ذیل ہیں :
علم الحدیث کی تعریف
'' علم الحدیث علم ٌ بقونین یعرفُ بہا اَحوالُ السندِ والمتین ِ''(مستدرکات مقباس الہدایۃ ، مامقانی :٥/١٤؛ قواعد التحدیث ، علامی قاسمی ، ص٧٧)
علم الحدیث وہ علم ہے کہ جس کے قوانین کے ذریعے (حدیث کی ) سند اور متن کے حالات پہچانے جاتے ہیں۔
جیسا کہ مذکورہ تعریف سے معلوم ہوتاہے کہ : علم الحدیث وہ علم ہے کہ جس کے قوانین کے ذریعے ، حدیث کے سند اور متن کے حالات پہچانے جاتے ہیں اس رو سے یہ (علم ) تین حصوں میں تقسیم ہوتاہے :
الف) رجال الحدیث : حدیث کے راویوں کے پہچان کا علم ، وثاقت اور عدم وثاقت کی نگاہ سے ۔
ب) علم الدرایہ یا مصطلح الحدیث : حدیث کے سند اور متن کے حالات کے پہچان کا علم کہ اس کو ''اصول الحدیث '' سے بھی تعبیر کیا گیاہے ۔
ج)فقہ الحدیث : وہ دانش اور علم ہے کہ جو حدیث کے متن کے معنی کی کیفیت کے بارے میں بحث کرتاہے ۔ اس کو ''درایۃ الحدیث '' بھی کہا جاتاہے ؛ کیونکہ ''درایۃ'' کا لفظ عمیق فہم کا معنی دیتاہے کہ جب بھی یہ کلمہ ، لفظ حدیث کے ساتھ آجائے تو متن حدیث کے فہم پر دلالت کرتاہے ۔
پس گذشتہ مباحث سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ علم الحدیث کے مباحث تین علوم:
١۔ رجال الحدیث ٢۔ علم الداریۃ ٣۔ فقہ الحدیث میں سے ایک کے ساتھ مربوط ہوتاہے یہ علوم علم الحدیث کے شاخوں میں سے شمار ہوتے ہیں ؛ البتہ علم الحدیث کے اور بھی شاخیں ہیں : مثلاً علم ُمختلف الحدیث ، علل الحدیث ، غریب الحدیث ، علم الجرح والتعدیل ، علم ناسخ الحدیث ومنسوخہ۔( نہایۃ الدرایہ ، سید حسن صدر ، ص٢٩/٢٦؛ علوم الحدیث و مصطلحہ ، صبحی صالح، ص١١٢/١٠٧)
ان علوم کو مذکورہ بالاشاخوں میں شمار کرسکتے ہیں کہ جیسا کہ سیوطی کہتاہے :
''اعلم انّ انواع علوم الحدیث کثیرۃ لاتُعَدُّ ''(تدریب الراوی : ج١، ص٥٣)
یعنی یادرکھو کہ علوم الحدیث کے مختلف انواع ہیں جو کہ بے شمار ہے مثلا:علم المعرفۃ المدرج من الحدیث وغیرہ ۔
البتہ اہل سنت کے اکثر علماء متأخرین کے نزدیک ، علم الحدیث دو حصوں پر مشتمل ہے : ١۔علم الحدیث روایت کے لحاظ سے۔ ٢۔ علم الحدیث درایۃ کے لحاظ سے کہ اس کا دوسرا حصہ وہی علم درایۃیا مصطلح الحدیث ہے ۔
ڈاکڑ عجاج کہتاہے : ''یشمل علم الحدیث موضوعین رئیسین علم الحدیث روایۃ وعلم الحدیث درایۃ ''.( اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ، ص٧)
علم حدیث دو اساسی موضوع پر مشتمل ہے ، یعنی علم الحدیث روایت کے لحاظ سے اور علم الحدیث درایت کے لحاظ سے ۔
ڈاکڑ صبحی صالح کا نطریہ بھی اسی سے ملتا جلتاہے ، جیسا کہ وہ کہتا ہے : ''ندرسُ فی الحدیث علمین رئیسین :احدہما علم الحدیث روایۃً والآخر علم الحدیث درایۃً''.( اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ، ص١٠٥)
یعنی حدیث میں ہم دو اساسی علوم کے بارے میں بحث کرتے ہیں : ان میں سے ایک ، علم الحدیث روایت کے حوالے سے ہے اور دوسرا علم الحدیث درایت کے لحاظ سے ۔
اہل سنت کے علماء متقدمین کے نزدیک بھی ظاہراً فقط ابن اکفانی اس بات کے معتقد ہے کہ علم الحدیث دو حصوں پر مشتمل ہے : ١۔ روایت کے لحاظ سے ٢۔ درایت کے لحاظ سے ۔ لیکن دوسرے علماء ( متقدمین ) نے اس کو عام طور پر علم الحدیث سے تعبیرکیا ہے ۔ (تدرےس الراوی ،ج١،ص٤٠،٤١)
''درایۃا لحدیث ''کے اصطلاح جو کہ حدیث کے فہم متون سے متعلق ہے ، اور اس کا دوسرا نام ''فقہ الحدیث''ہے ، اہل سنت کے ہاں استعمال نہیں ہوتا ہے ۔لیکن درایت کا لفظ اکیلا اور بغیر اتصال لفظ حدیث، ان کے نزدیک وہی ''مصطلح الحدیث یا علم الحدیث درایۃ '' ہے اور ایسا لگتاہے کہ یہ نظریہ بھی دقیق اور درست نہ ہو، کیونکہ ڈاکٹر عجاج کہتاہے :
'' والحقُّ آنَّ الدرایۃ اعمُّ من معرفۃ القواعد والقوانین والمعرفۃ باحوال الراوی والمروی من حیث القبول والرّد ، فمعظم المحدِّثین َ المتقدِّمین والمتأخِّرین یطلقونہا علی ذالک وعلی فہم المروی واستخراج معانیہ واحکامہ''.( اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ، ص٩)
یعنی حق یہ ہے کہ درایت کا دائرہ ، قبول اور رد کے حوالے سے راوی اور مروی کے حالات کے پہچان ، قواعد اور قوانین سے زیادہ وسیع ہے اور بہت سے محدثین متقدمین اور متأخرین کا عقیدہ ہے کہ اس کا دائرہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ۔ ان کے مطابق اس میں فہم ضروی اور اس کے معانی اور احکام کا استخراج بھی شامل ہے۔
بہر حال یہ تحقیق '' علم الدرایۃ یا مصطلح الحدیث درایۃ '' کی چھان بین اور برسی کی خاطر جمع آوری ہوئی ہے اور انہی مباحث سے متعلق بحث شروع ہوگی۔
علم الدایۃ یا مصطلح الحدیث کی تعریف
علم الدایۃوہ علم ہے جو حدیث کے سند اور اس کے متن کے حالات کی کیفیت ان کو سیکھنے اور دریافت کرنے کے طریقے اور حدیث کے بیان کے آداب کے بارے میں بحث کرتاہے ۔
اس علم سے متعلق چند مختلف تعارف درج ذیل ہیں :
١۔شہید ثانی : ''وہو علم یبحث فیہ عن متن الحدیث وطُرُ قِہ من صحیحہا وسقِیْمہا وعللہا ومایحتاج الیہ لیعرف المقبول منہ والمردود''.( الرّعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤٦)
یعنی وہ علم ہے جس میں حدیث کے متن ، اس کے صحیح یاغلط ہونے کے راستے، اس کے وجوہات اور ہر اس چیز کے بارے میں بحث کی جاتی ہے جس کی طرف یہ علم محتاج ہے تاکہ پتہ چل جائے کہ کونسی حدیث قابل قبول اور کونسی حدیث قابل قبول نہیں ہے( یعنی مردود ہے)۔
٢۔ شیخ بہائی : ''علم الدرایۃ ، علمٌ یُبْحثُ فیہ عن سندِ الحدیث ومتنہ وکیفیِّۃِ تحمُّلہٖ وآداب نقلہٖ''.( الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ،ص١)
شیخ بہائی فرماتے ہیں: علم درایۃ وہ علم ہے جس میں حدیث کے سند، اس کے متن، اسکی تحمّل کی کیفیت اور اس کو بیان کرنے کے آداب کے بارے میں بحث ہوتی ہے ۔
٣۔ سیوطی ابن اکفانی سے نقل کرتاہے : ''علم الحدیث الخاص بالداریۃ ، علم یعرف منہ حقیقۃ الروایۃ وشروطہا وانواعہا واحکامہا وحال الرواۃ وشروطہم واضاف المرویات ومایتعلق بہا''. (تدریب الروای ، ج١ ، ص ٤٠)
یعنی علم حدیث جو درایت کے ساتھ مخصوص ہے ، وہ علم ہے کہ اس سے روایت کی حقیقت ، اس کے شرائط ، اس کے اقسام ، اس کے احکام ، روایوں کے حالات ، ان کے شرائط ، مرویات حدیث کے انواع اور اقسام اور ہروہ چیز جو اس سے متعلق ہے ، معلوم ہوجاتاہے ۔
٤۔ صبحی صالح فرماتے ہیں : '' علم الحدیث درایۃ ، مجموعۃ من المباحث والمسائل یعرف بہا حال الروای والمروی من حیث القبول والرّد ''.( علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٠٥)
یعنی علم حدیث درایت کے لحاظ سے مباحث ومسائل کا وہ مجموعہ ہے کہ جس کے ذریعے روای اور مروی کے حالات جوان کے مقبولیت یا عدم مقبولیت کا باعث ہے، معلوم ہوجاتے ہیں ۔
مذکورہ تمام تعارف میں سند اور متن کا ذکر آیا ہے کہ علم درایۃ میں انہی کے بارے میں بحث ہوجاتی ہے ۔ لیکن شہید ثانی اور صبحی صالح کی تعریف میں ، اس کے ہدف اور غایت کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے کہ علم درایۃ کا ہدف احادیث مقبول سے احادیث غیر مقبول کے پہچان ہے ، البتہ یہ بات تعریف میں شامل نہیں ہے ، شیخ بہائی کی تعریف میں تحمل حدیث اور اس کے آداب نقل کے بارے میں بھی ذکر آیاہے ۔
ان تعارف میں ، اگر حال روای اور سند حدیث کی طرف اشارہ ہواہے تو ی طریق حدیث کو سمجھاتاہے اور اس سے مراد مجموع رواۃ ہے نہ جداجدا کہ رجال الحدیث کا موضوع بن جائے ، البتہ علم الدرایۃ ، اس ضمن میں تمام اصطلاحات حدیثی کو بیان کرنے من جملہ بعض اصطلاحات رجالی کو ذکر کرنے کا عہدہ دار بھی ہے ۔
فریقین کی تعاریف سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ سنّی محدثین کے عبارات ، علم الدرایۃ یامصطلح الحدیث کی تعریف کے ارکان میں ، شیعہ محدثین کی تعریفوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں ، کیونکہ شہید ثانی اور شیخ بہائی کی تعریفوں میں سند اور متن کی بحث آئی ہے ، اسی طرح صبحی صالح اور ابن اکفانی کی تعریفوں میں بھی راوی اور مروی سے متعلق بحث ہوئی ہے ، البتہ محدثین اہل سنت کی تعریف میں ان کے شروط ، اقسام ، احکام اور ان کے مسائل سے متعلق بھی بحث ہوئی ہے لیکن شیخ بہائی کی تعریف میں ان کے بارے میں بحث نہیں چھڑی ہے اور ان کے بجائے تحمّل حدیث اور آداب نقل کے بارے می بحث ہوئی ہے ۔ البتہ شہید ثانی کی تعریف میں ان کے متعلق بحث ہوئی ہے ، کیونکہ ''صحیحہا وسقِیْمہا ''ان کے اقسام اور احکام پر دلالت کرتاہے ۔بلکہ ''ومایحتاج الیہ ''ایسا جملہ ہے کہ علم الدرایۃ کے تمام ضروری مسائل اس میں شامل ہوجاتے ہیں ، ''حتی طرق التّحمل والنقل'' . پس لحاظ سے شہید ثانی کی تعریف کا مل اور جامع تعریف ہے ۔
کبھی علم الدرایۃ کے بجائے مصطلح الحدیث یا اصول الحدیث یا درایۃ استعمال ہوتاہے اور کبھی ''علم الحدیث مصطلحہ '' کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتاہے ۔
تاریخی پس منظر
علم مصطلح یا علم الدرایۃ کہ اس کے سینکڑوں اصطلاحیں متن اور سند سے مربوط ہیں ، معلوم ہوتاہے کہ اہل سنت کے محدثین کے درمیان میں پہلے قاضی ابو محمد رام ہرمزی ( وفات ٣٦٠) صاحب کتاب '' المحدّث الفاصل بین الروای والواعی ) نے اس موضوع میں قدم اتھایا اس کے بعد دوسروں نے بھی اس موضوع سے متعلق کتاب لکھنا شروع کیا، ان میں سے اہم تصانیف مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ معرفۃ علم الحدیث ، حاکم نیشاپوری (وفات/٤٠٥)
٢۔الکفایۃ فی علم الروایۃ ، خطیب بغدادی(وفات/٤٦٣)
٣۔ علوم الحدیث ، ابن صلاح (وفات/٦٤٣)
٤۔ المنہل الراوی ، نووی (وفات/٦٧٣)
٥۔ المنہل الراوی ، ابن جماعۃ (وفات/٧٧٣)
٦۔ الباعث الحثیت فی شرح اختصار علوم الحدیث ، ابن کثیر( وفات/٧٧٤)
٧۔نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاشر، ابن حجر(وفات٨٥٢)
٨۔شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر، ابن حجر ( ٢/٨٥٢)(نزہۃالنظر فی شرح نخبۃ الفکر)
٩۔ تدریب الروای ، جلال الدین سیوطی ( وفات /٩١١)
١٠۔ قواعد التحدیث ، علامہ قاسمی ،(وفات/١٣٣٢)
١١۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ڈاکٹر صبحی صالح ( چودھویں صدی)
١٢۔ اصول الحدیث علومہ ومصطلحۃ ، ڈاکٹر عجاج ،( چودھویں صدی)
١٣۔الوسیط فی علوم ومصطلح الحدیث ، محمد ابوشہبہ ( چودھویں صدی)
١٤۔ منہج النقدفی علوم الحدیث ، نورالدین عتر، ( چودھویں صدی)
یہ بات بھی پوشیدہ نہ رہے کہ اصطلاحات حدیثی میں سے ، مقبول اور مردود ، صحیح ، حسن اور ضعیف جو کہ خبرواحد اور حالات رواۃ حدیث سے متعلق ہیں ، تاریخ کے اعتبار سے قدیمی ترین اصطلاحات اور اہل سنت میں سے پہلے ترمزی ( وفات/ ٢٧٩) نے رائج کیا کہ اس کی تفصیل باب سوم میں آئے گی ۔
اہل سنت کے بعض مؤلف اور شارح جنھوں نے منابع حدیثی کے موضوع پر کتابیں تالیف کی ہیں اور مصطلحات حدیثی کو ان کتابوں کے روایات پر تطبیق کی ہیں ، وہ درج ذیل ہیں :
١۔ سنن ترمزی ؛
٢۔ جامع بیان العلم وفضلہ ، ابن عبدالبر؛
٣۔ صحیح سنن ابن ماجہ ، البانی ؛
٤۔ضعیف سنن ابن ماجہ، البانی
٥۔ صحیح سنن نسائی ، البانی
٦۔ضعیف سنن نسائی ، البانی ؛
٧۔مسند ابی شیبۃ؛
٨۔مسند حنبل ، احمد محمد شاکر؛
٩۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ہیثمی؛
محدثین کے درمیان اصطلاح مقبول ، مردود یا صحیح وغیر صحیح وغیر ہ کا استعمال بہت قدیم سے چلا آرہا ہے بلکہ ائمہ معصومین ؑ اور ان کے بعد ان کے اصحاب اور ان کے بعد امامیہ علماء متقدمین کے درمیان رائج تھیں ۔یہ اصطلاحیں محدثین شیعہ مثلاً کلینی ( وفات/٣٢٨) ، شیخ صدوق ( وفات/٣٨١) اور شیخ طوسی (وفات/٤٦٠) وغیرہ کے درمیان استعمال ہوتے تھے ، مثلاً وہ یہ جملے استعمال کرتے تھے : ہذا عندی صحیح ، کل ماصححہ وغیرہ (مقباس الہدایۃ، ج، اول ، ص١٣٨)
یعنی یہ حدیث میرے پاسح صحیح ہے ، ہر وہ حدیث جس کو میرے استاد نے صحیح قرار دیا ہے ، وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے فلان ضعیف ہے ، میں اس حدیث کی صحت پر حکم کرتاہوں وغیرہ ۔
محدثین شیعہ میں سے جنہوں نے اصطلاحات حدیثی کو گسترش اور مزید توسعہ دیا ، ابن طاؤس ، جمال الدین احمد بن موسی ( وفات ٦٧٣) ، علامہ حلّی ، جمال الدین ابو منصور حسن بن یوسف (وفات ٧٢٦) ہیں لیکن ان دو علمائے گرانقدر سے اس بارے کوئی تألیف شدہ دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ البتہ سید حسن صدر نے اپنی کتاب '' تأسیس الشیعہ '' میں فریایا ہے کہ ان علوم میں جس نے پہلے قدم اٹھایا ہے وہ حاکم نیشاپوری شیعہ (وفات ٤٥٠) ہے ۔ اس کے بعد دوسرے علماء نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے اور بعض نے دوسری کتابوں میں اس بحث کے متعلق گفتگو کی ہیں ، ان میں سے اہم کچھ کتابیں مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ البدایہ فی علم الداریۃ ، شہیدثانی ( مقتول ٩٦٥)
٢۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہیدثانی ( مقتول ٩٦٥)
٣۔وصول الاخبار الی اصول الاخبار ، حسین بن عبدالصمد عاملی (وفات ٩٨٤)
٤۔ منتقی الجمان فی الاحادیث الصحاح والحسان ، حسن بن شہیدثانی ( وفات ١٠١١)
٥۔ الوجیزۃ فی علم الداریۃ ، شیخ بہائی (وفات١٠٣١)
٦۔الرواشح السماویۃ فی شرح الاحادیث الامامیہ ، میرداماد ( وفات ١٠٤١)
٧۔مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ ، عبداللہ مامقانی ( وفات ١٣٥١)
٨۔ نہایۃ الدرایۃ ، سید حسن صدر ( وفات ١٣٥٤)
٩۔ قواعد الحدیث ، محی الدین موسوی ( معاصر)
١٠ ۔ اصول الحدیث واحکامہ فی علم الدرایۃ ، جعفر سبحانی ( معاصر)
١١۔تلخیص مقباس الہدایۃ ، تلخیص اور تحقیق : علی اکبر غفاری ۔
شیعہ منابع حدیث کے بعض مؤلفین اور شارحین نے بھی کچھ مصطلحات حدیثی اور روایات پر اس کے تطبیق کے متعلق کتابیں لکھی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
١۔ روضۃ المتقین فی شرح من لایحضرہ الفقیہ ، محمد تقی مجلسی ؛
٢۔ مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول ( شرح کافی ) محمد باقر مجلسی ؛
٣۔ ملاذا لاخبار فی فہم تہذیب الاخبار ، محمد باقر مجلسی؛
٤۔ مناہج الاخبار فی شرح الاستبصار ، زین العابدین علوی؛
٥۔ تہذیب الاحکام ، تعلیق : علی اکبر غفاری؛
موضوع علم الدرایۃ :
سند اور متن حدیث کی بحث ، علم الدرایۃ کے موضوع کو تشکیل دیتی ہے ، علامہ مامقانی فرماتے ہیں : '' انّ موضوع ہذا العلم ہو السند والمتن '' (مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٤٤)
یعنی اس علم ( علم الدرایۃ کا موضوع سند اور متن حدیث ہے ۔
ڈاکٹر عجاج کہتے ہیں : فموضوع علم الحدیث درایۃ ، السند والمتن ''(اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ)
یعنی درایت کے لحاظ سے علم الحدیث کا موضوع ، سند اور متن حدیث ہے ، اسی لئے اگرعلم الدرایۃ کے حدیث کے راوی اورمروی کے لحاظ سے بحث کرے، جیسا کہ شہیدثانی نے اس علم کو علم الدرایۃ کا موضوع قرار دیا ہے ،۔ (الرعایۃ فی علم الدرایۃ ،ص٤٥)تو یہ ، شروط ، کیفیت تحمّل اور اتصال وانقطاع حدیث کے لحاظ سے طریق حدیث اور اس کے متن سے متعلق ہوگا ورنہ رجال حدیث کی چھان بین ،علم رجال کی ذمہ داری ہے جس میں ہر روای کے حالات معلوم ہوجاتے ہیں ، اور فہم مطالب کے لحاظ سے متن حدیث کی چھان بین '' فقہ الحدیث '' سے مربوط ہوگی ،بہر حال علم الداریۃ میں ، کیفیت طریق حدیث کے لحاظ سے روایوں اور حالات اور حدیث کے شرائط اور اس کے نقل کے لحاظ سے حدیث کے متن ، اور ان کے اصطلاحات کے بارے میں بحث ہوتی ہے ۔
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 05:09 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

علم الداریۃ کا فائدہ :
علم الداریۃیا مصطلح الحدیث کی غرض وغایت اور ہدف ، ان اصطلاحات کی پہچان ہیں جن کے ذریعے احادیث کی درستی اورنادرستی معلوم ہوجاتی ہے اور احادیث مقبول ، مردود اور غیر مقبول سے الگ ہوجاتی ہیں ۔
اس بارے میں شہید ثانی فرماتا ہے:''وغایتہ معرفۃ ما یقبل من ذالک لیعمل بہما یراد منہ لیتجنت '' (الرعایۃ فی علم الدرایۃ) یعنی علم درایۃ کی غایت اور ہدف احادیث مقبول اور مردود کے پہچان ہے تاکہ مقبول پر عمل کیا جائے اور مردد کو چھوڑدیا جائے ۔اس لئے اصطلاحات کی شناخت ، احادیث صحیح اور حسان کو غیر صحیح سے پہچاننے کے لیے غایت اور ہدف مقدمی ہے اور حقیقی اور آخری ہدف وہی معتبر روایات کو غیر معتبر روایات سے جدا اور الگ کرناہے ۔
حدیث :
حدیث لغت میں جدید کوکہا جاتا ہے اور قدیم کے مقابلہ میں ہے ابن حجر سے نقل ہوا ہے کہ حدیث سے مراد :پیامبر گرامی ؐکا کلام ہے جو کہ جدید اور حادث ہے ، قرآن کریم کے مقابلے میں جو کہ کلام قدیم ہے (فتح الباری فی شرح صحیح البخاری ، ج١، ص ١٧٣)
اور شیعہ اصطلاح میں حدیث سے مراد وہ کلام ہے جو پیامبر اکرم ؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے قول یا فعل یاتقریر ( سکوت ) کو پہنچائے اورا ن کی حکایت کرے ، شیخ بہائی فرماتے ہیں : '' کلام یحکی قول المعصوم او فعلہ او تقریرہ '' (الوجیزۃفی علم الدرایۃ ، ص ٢)
یعنی حدیث سے مراد وہ کلام ہے جو معصوم ؑ کے قول یا فعل یاتقریر کی حکایت کرے ۔
مذکورہ تعریف کے مطابق ، ہر وہ کلام جو معصوم تک نہ پہنچے ، وہ حدیث شمار نہیں ہوگی۔ علامہ مامقانی نے بھی حدیث کی تعریف اسی طرح کی ہے (مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص ٥٧)بعدمیں وہ فرماتاہے کہ نفس قول یا فعل یا تقریر ، حدیث نہیں ہے لہذا صحیح نہیں ہے کہ حدیث کی تعریف اس طرح کریں : ہو قول المعصوم وغیرہ ، یعنی حدیث قول معصوم ہے ، کیونکہ قول معصوم عام طور پر امر یا نہی ہو اکرتاہے لیکن اس سے حکایت کرنا ایسانہیں، بلکہ وہ ہر حالت میں اخبار ہے ( نہ انشاء )۔
لیکن شیخ بہائی فرماتے ہیں : قول معصوم ؑ یا تقریر معصوم کو حدیث کا نام دے سکتا ہے لیکن نفس فعل یاتقریر ، حدیث نہیں ہے ، بلکہ سنت ہے اس لئے حدیث اور سنت کے درمیان
نسبت عموم وخصوص ہو اکرتی ہے ، کیونکہ حدیث عام ہے اور ہر کلام معصوم شامل ہوتاہے لیکن سنت میں صرف وہ کلام منقول شامل ہے جو شرعی احکام کے باب سے متعلق ہو، اس بناپر وہ کلام معصومین جو تاریخی حوادث سے متعلق ہو، حدیث نہیں ہوگی ، مثلاً قتل الحسین ؑ یوم الاثنین وغیرہ۔( الوجیزۃفی علم الدرایۃ ، ص ٢)
محدثین اہل سنت کی نگاہ میں حدیث سنت کے ساتھ مترادف ہے اور عموماً ان چیزوں پر اطلاق آتی ہے جو پیامبراکرم ؐ کے ساتھ منسوب ہو، اور اسی طرح صحابہ اور تابعین کے اقوال میں اس میں شامل ہوجاتے ہیں ، اہل سنت کے بعض تعاریف ہم یہاں بیان کرتے ہیں :
١۔ ڈاکٹر صبحی صالح: '' لواخذ نا باالرأی السائدبین المحدثین ولاسیّما المتأخرین منہم ، لرأینا الحدیث والسنۃ مترادفین متساوین '' (علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١١٣)
یعنی اگر ہم محدثین خصوصاً محدثین متأخرین کے درمیان میں سے صحیح نظرے کو انتخاب کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث اور سنت آپس میں مترادف اور متساوی ہےں۔
٢۔ ڈاکٹر عجاج کہتا ہے : ''الحدیث فی الاصطلاح :''اسلفت فی تعریف السنۃ عندالمحدثین انّہا ترادف الحدیث ویراد بھہما کل ما اثر عن الرسول ... السنۃکل مااثر عن الرسول من قول او فعل او تقریر او صفۃ خلقیۃ او خلقیۃ او سیرۃ سواء آکان ذالک قبل البعثہ کتحنّثہ فی غارحراء ام بعدہا''.( اصول الحدیث ومصطلحہ ،ص١٩، ٢٧)
محدثین کے نزدیک سنت کی تعریف میں بات آئی کہ یہ حدیث کے ساتھ مترادف ہے اور ان دونوں سے مراد ہر وہ اثر ( نشانی ) ہے جو رسول اکرم ؐ کی طرف سے ہو...اور سنت ہروہ اثر ہے جو رسول اکرم ؐ کی طرف سے ہو چاہے وہ قول یا فعل یا تقریر یا خلقی صفت یا خلقیات یا سیرت ہو چاہے وہ بعث سے پہلے ہو مثلاً آپ کا عبادت کے لئے غار حراء میں جانا اور کنارہ گیری کرنا یا بعثت کے بعد ہو۔
مذکورہ تعاریف جو حاصل ہوتاہے وہ یہ کہ عام محدثین اہل سنت کی نظر میں حدیث اور سنت مترادف ہیں اور دونوں سے ہروہ چیز ہیں جورسول اکرم ؐکی طرف سے منسوب ہو۔ البتہ ڈاکٹر عجاج وغیرہ کا خیال ہے کہ حدیث صرف رسول اکرم ؐ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ قول صحابہ اور تابعین بھی اس میں شامل ہوتاہے ، وہ کہتاہے :''اذا اطلق لفظ الحدیث ارید بہ ما اضیف الی النبی ؐ و قدیراد بہ مااضیف الی صحابی وتابعی'' . (اصول الحدیث ،علومہ ومصطلحہ ،ص١٩، ٢٧)
یعنی جب لفظ حدیث کسی اضافے سے خالی ہوتو کبھی اس سے حدیث نبوی ؐ مراد لی جاتی ہے اور کبھی قول صحابی اور تابعی ۔
صبحی صالح کا بھی یہ اعتقادع ہے کہ سنت ہر وقت حدیث کے ساتھ مترادف نہیں ہے ؛ کیونکہ حدیث عام ہے اور قول اور فعل پیامبرؐ بھی شامل ہوتے ہیں ۔لیکن سنت اعمال اور افعال پیامبرؐ کے ساتھ مخصوص ہیں لہذایہ کہنا درست ہوگا کہتے ہیں :''ہذا الحدیث مخالف للقیاس والسنۃ والاجماع ''یعنی یہ حدیث قیاس ، سنت اوراجماع کا مخالف ہے اس بنا پر اہل سنت اور اہل حدیث کا اصطلاح ان کے نزدیک ایک جیسا نہیں ہوگا۔اہل سنت وہ ہونگے کہ سنت پیامبر اکرم ؐ کو قرآن کے بعد منبع اور مدرک شرعی قرار دیتے ہیں لیکن اہل حدیث ، اہل رأی ونظر کے مقابلے میں صرف حدیث پر استناد کرتے ہیں۔ (علوم الحدیث ومصطلحہ ،ص١١٦)
اہل سنت کی تعارف میں بھی یہ بیان نہیں ہواہے کہ حدیث سے مراد وہ کلام ہو جو قول معصوم کی حکایت کرے ، جیسا کہ شیعہ تعاریف میں یہ بات آئی ہے ، شیعوں کے نزدیک حدیث اگر کسی غیر معصوم کے کلام کو کہے تو مجاز حساب ہوگا لیکن اہل سنت کی نگاہ میں کلام صحابہ وتابعی بھی حدیث میں شامل ہوگا۔( تدریب الراوی ، ج١ ،ص٤٢)
سنّت :
سنت لغت میں سیرت کو کہا جاتاہے اور محدثین شیعہ کے اصطلاح میں قول فعل اور تقریر معصوم ؑ کہ حکم شرعی کا منبع ومنشا ہے کو کہا جاتاہے اور وہ الفاظ جو ان کی حکایت کرے ان کو حدیث ، خبر اور اثر کہتے ہیں۔
مامقانی کہتاہے :'' مایصدر عن النبی ؐ او مطلق المعصوم من قول او فعل او تقریر غیر عادی ''(مقباس الہدایۃ ، ج١، ص ٦٨)
یعنی سنت سے مراد وہ چیز ہے جو نبی اکرمؐ یا کسی بھی معصوم ؑ سے صادر ہوجائے چاہے وہ غیر معمولی قول ہو یافعل ہو یا تقریر ، یہاں تقریر سے مراد معصوم کا لوگوں کے افعال کی تائید اور تصدیق ہے اور تقریر معصوم اس وجہ سے حجت ہے کہ معصوم ، کسی غلط فعل کی تائید وتصدیق نہیں کرتے ہیں مگر کبھی تقیہ کے بنا پر اوروہ بھی کسی خاص موقع پر اور قرائن کے ساتھ ، اورفعل معصوم سے مراد ، کتابت ، اشارہ اور عمل وغیرہ ہے ، ''غیرعادی'' کی قید سے مراد وہ اقوال و رفتار ہے جو منبع ومنشأ حکم شرعی نہ ہو اگرچہ یہ قید لانا ضروری نظر نہیں آتے ، کیونکہ معصوم ؑ ہمیشہ دوسروں کے لئے آئیڈیل اورنمونہ ہے اور اس کے قول وفعل وتقریر واجبات اور مستحبات وغیرہ میں حجت اور سیرۃ حساب ہوسکتے ہےں۔
سنت کبھی فریضہ کے مقابلے میں مستحب کے لئے استعمال ہوتی ہے جیسا کہ فقہ میں یہ معمول ہے ؛ اکثریت اہل سنت مثلاً ڈاکٹر عجاج کے نزدیک ، سنت حدیث کے ساتھ مترداف ہے ۔( اصول الحدیث،علومہ ومصطلحہ ،ص١٩)
لیکن صبحی صالح کے نزدیک ، سنت فعل کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے لیکن حدیث اس سے عام ہوا کرتی ہے وہ کہتا ہے :''والسنۃ فی الاصل ، لیست تساویۃ للحدیث فانّہا تبعالمعناہا اللغوی ، کانت تطلق علی الطریقۃ الدینیۃ التی سلکھا النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سیرتہ المطہرۃ ...فاذا کان الحدیث عاماً یشمل قول النبی ؐ وفعلہ فاالسنۃ خاصۃ باعمال النبی ؐ ''.( علوم الحدیث ومصطلحہ ،ص١١٦)
یعنی اصل میں سنت ، حدیث کے ساتھ متساوی نہیں ہے ، کیونکہ سنت اپنے لغوی معنی کی متابعت کرتی ہے اور یہ وہ دینی طریقہ اور راستے کو بتاتی ہے جس پر رسول اکرم ؐ چلتے تھے اور اپنی پاکیزہ سیت میں اس کو اپنائی تھی پس اگر حدیث کا دائرہ وسیع ہو تو اس میں قول وفعل نبی ؐ بھی شامل ہوتے ہیں لیکن سنّت اعمال نبی ؐ کے ساتھ مخصوص ہے ۔
خبر:
خبر لغت میں ہر اس چیز کو کہا جاتاہے جو کسی سے نقل ہوتی ہواور اس کے ذریعے حدیث بن جاتی ہے اور یہ ''بنائ'' سے عام تر اور انشاء کے مقابلے میں ہے ،محدثین کے اصطلاح میں خبر کے دو معنی ہیں :
١۔اکثر کا نظریہ یہی ہے کہ خبر ، حدیث کے ساتھ مترادف ہے جیسا کہ شہید ثانی(الرّعایۃ فی علم الداریۃ ، ص٥٠)علامہ مامقانی (مقباس الہدایۃ ، ج١ ص،٥٧۔٦٥)اور صبحی صالح کا نظریہ بھی اسی کے مطابق ہے ، معلوم ہوتاہے کہ یہی نظریہ صحیح ہو ۔
٢۔ حدیث کی نسبت خبر عام تر ہے ، کیونکہ جس طرح سیوطی نے نقل کیاہے (تدریب الرّاوی، ج١ ص ٤٢)کہ حردیث معصوم کے ساتھ مخصوص ہے لیکن خبر معصوم اور غیر معصوم دونوں میں مشترک ہے ، بعض محدثین کو '' اخباری '' کے نام سے پکارنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ حدیث کی نگہبانی کرتے ہیں اور ان کا پیشہ حدیث شناسی ہے ۔ کلمہ ''اخباری '' کا اہل تاریخ اور نقل حوادث عامہ پر اطلاق آنا منصرف ہوا ہے اور اس کلمہ کو ''اہل حدیث '' کے لئے استعمال کرنے کے لئے قرینے کی ضرورت ہے ، مثلاً ان کا مقابلہ ''اصولی'' کے ساتھ ؛ یابولنے والا اگر اسلامی فرقوں کو بتا رہا ہو تو یہاں '' اخباری '' سے مراد وہی '' حشویہ '' یا '' اہل حدیث'' ہوں گے ۔
اثر:
لغت میں اثر نتیجہ ، کسی سے بچی ہو چیز ، علامت اور روایت کرنے کے معنی میں آیاہے اور کہا گیا ہے :''اثرتُ الحدیث '' (المنجد، ص٣) یعنی میں نے حدیث روایت کی ؛ محدثین شیعہ کی ایک جماعت کے اصلاح میں ، اس کو حدیث اور خبر سے اعم قرار دیا ہے اورمعصوم کا کلام بھی اس میں شامل ہوتاہے ۔ مثلاً علامہ مامقانی فرماتے ہیں: '' انّہ اعم من الخبر والحدیث مطلقاً ''. یعنی خبر اور حدیث سے اعم ہے ، وہ اس بارے میں دوسروںکے اقوال کو ذکرکرنے کے بعد، قول اول کہ وہی عمومیت کا معنی ہے ، انتخاب کرتاہے۔ (مقباس الہدایۃ، ج١ ، ص٦٤۔٦٥) اور شہید ثانی نے بھی اسی قول کو بہتر جانا ہے ۔( الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥٠) لیکن اکثریت محدثین مثلاً صبحی صالح وڈاکٹر عجاج کے نزدیک معلوم یہ ہوتاہے کہ اثر، خبر اور حدیث کے مترادف ہے ، صبحی صالح کہتاہے :'' فہو مرادف للخبر والسنۃ والحدیث '' (علومہ ومصطلحہ ،ص١٢١۔١٢٢)یعنی اثر خبر اور سنت اور حدیث کے ساتھ مترادف ہے ، دوسری ایک جماعت نے بھی یہی جاناہے کہ اثر میں کلام غیر معصوم بھی شامل کیا ہے ، بعض نے اصطلاح اثر کو حدیث موقوف پر اطلاق کیا ہے ۔( اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ،ڈاکٹر عجاج ، ص٢٨)
بعض نے اثر اور حدیث کے درمیان فرق کو اس طرح بیان کیا ہے کہ حدیث ہر وہ چیز ہے جو رسول اکرم ؐ سے پہنچی ہو اور خبر ان دونوں سے اعم ہے (مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص٦٥)
حدیث کے سند ۔(طریق اور وجہ )
سند حدیث لغت میں ٹیکنے کی جگہ اور ایک امر کا دوسرے امر میں انضمام ہونے کوکہتے ہیں (معجم مقاییس اللغۃ ، ج، سوم ،ص١٠٥)اور اصطلاح میں راویوں کا وہی سلسلہ ہے جومتن حدیث کو معلوم تک پہنچاتے ہیں ، شہید ثانی فرماتے ہیں:''والسنّۃ طریق المتن وہو جملۃ من رواہ''(الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص ٥٣، وصول الاخبار ، ص٩٠) یعنی سند طریق متن ہے اور یہ جماعت کا وہ سلسلہ ہے جنہوں نے روایت کی ہے ، شیخ بہائی بھی یہی کہتا ہے :''سلسلۃ رواتہ الی المعصوم سندہ '' (الوجیرہ فی علم الداریۃ ، ص٤) یعنی راویوں کا وہ سلسلہ ہے جن کے ذریعے سندمعصوم تک پہنچاتے ہیں ، ڈاکٹر عجاج کا کہنا ہے : '' ہوطریق المتن ای سلسلۃ الرواۃ الذین نقلوا لمتن عن مصدرہ الاوّل '' (اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ،ڈاکٹر عجاج ، ص٣٢)یعنی سند سے مراد طریق متن ہے یعنی روایوں کا وہ سلسلہ جو مصدر اوّل سے متن ( حدیث ) کو نقل کرتے ہیں ۔
سند کو طریق سے بھی تعبیر کیا جاتاہے ، عاملی کہتاہے :''فسمّی الطریق سنداً لاعتماد المحدثین والفقہاء فی صحّۃ الحدیث وضعفہ علیٰ ذالک '' (وصول الاخیار ، ص٩٠) یعنی طریق کو سند بھی کہا جاتاہے کیونکہ فقہاء اور محدثین حدیث کی درستی یاضعف میں اس پر اعتماد کرتے ہیں کبھی سند کو ''وجہ ''کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ، مثلاً ''نقل الشیخ ہذا الحدیث لہذا الطریقۃ وہذا حدیث لایعرف الامن ہذا الوجہ'' یعنی مثلاً شیخ نے اس حدیث کو اس طریقے ( طریق ) سے نقل کیا ہے ، اور یہ حدیث پہچان نہیں سکتی مگر اسی ''وجہ'' سے کبھی سند کو ''اسناد ''سے بھی تعبیر کیا گیا ہے (وصول الاخیار، ص٩٠)لیکن ظاہراً ، اسناد ذکر طریقہ حدیث ہے تاکہ آخر حدیث تک پہنچ سکے ۔
سیوطی کے بقول ''فہو رفع الحدیث الی قائلہ '' (تدریب الروای ، ج١ ص ٤٢) یعنی اساد سے مراد حدیث کو اپنے قائل تک پہنچانا ہے۔
متن حدیث
ہرچیز کا متن ، وہ حـصہ ہوا کرتاہے جس پر اس چیز کا قوام ہو (معجم مقاییس اللغۃ ، ج ٥ ، ص٢٩٤)اور محدثین کے اصطلاح میں متن حدیث سے مراد وہ کلام ہے جس کو معصوم ؑ کی طرف نسبت دی جائے ، شہیدثانی فرماتے ہیں :''المتن ؛لفظ الحدیث الذی یتقوم بہ المعنی ''(الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ص٥٢) یعنی متن ، حدیث کا وہ لفظ ہے کہ معنی
حدیث کا قوام اس پر ہے ، چاہے وہ قول ہو چاہے فعل ہو چاہے تقریر ہو ، ابن جماعۃ کہتاہے :''المتن ماینتہی الیہ غایۃ السند فی الکلام من المماتنۃ وہی المباعدۃ فی الغایۃ'' (تدریب الراوی ، ج١ ، ص٤٢) یعنی متن وہ شیئ ہے جس کی طرف کلام میں غایت سند منتہی ہو جاتاہے ۔
حدیث قدسی :
تعاریف محدثین شیعہ :
١۔ شیخ بہائی: ہو مایحکی کلامہ تعالی غیر متحدٍ شیءٍ منہ (الوجیزہ فی علم الدرایۃ ، ص ٣) یعنی حدیث قدسی وہ ہے جو بغیر کسی تحدی وچیلنج کے کلام الٖہی کی حکایت کرے ۔
٢۔ علامہ مامقانی : عبارۃ عماحکاہ احدالانبیاء اولاوحیاء من الکلام المنزل لا علی وجہ الاعجاز (مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ ، ج١ ، ص٧٠)یعنی حدیث قدسی سے مراد وہ (کلام ) ہے جس کی کلام منزل الہی میں سے کوئی نبی ؐ یا اوصیاء میں سے کوئی وحی تحدی کے بغیر حکایت کرے۔
تعاریف محدّثین اہل سنت :
١۔ صبحی صالح : وکان رسول للّہ ؐ یلقی احیاناً علی اصحابہ مواعظ یحکیہا عن ربہ لیست وحیاً منزلاً فیسمّوہا قرآناً ولاقولاً صریحاً یسندہ الی نفسہ اسناداً مباشراً فیسمّوہا حدیثاً عادیاً وانماہی احادیث بیحرص النبی ؐ (علم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٢٢) یعنی رسول اکرم ؐ ، کبھی اپنے اصحاب کو وعظ فرماتے تھے جس کو آپ اپنے رب سے حکایت کرتے تھے وہ ( وعظ ) نہ وحی منزل تھی تاکہ اس کو قرآن نام رکھ سکے اورنہ قول صریح کہ مستقیماً اپنی طرف نسبت دیں تاکہ عام حدیث کہہ سکے بلکہ وہ ایسی احادیث تھیں کہ نبی اکرم ؐ اس کے صدور پر اس طرح تحریص فرماتے کہ یہ اللہ کی طرف منتسب ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔
٢۔ ڈاکٹر عجاج : کل حدیث یضیف فیہ الرسول قولاً الی اللّہ (اصول الحدیث ، ص٢٨)یعنی حدیث قدسی ہر وہ حدیث ہے کہ نبی اکرم ؐ اس میں یہ قول خدا کی طرف سے ہونے کو اضافہ کریں۔( یعنی پیامبر اس کو خدا کی طرف نسبت دے )مندرجہ بالا تعاریف سے معلوم ہوجاتاہے کہ حدیث قدسی سے مراد وہ کلا م الٰہی ہے جس کو نبی ؐ بغیر کسی تحدی اور بغیر غرض اعجاز، حکایت کرے اور قرآن میں بھی نہ آیاہو ؛کیونکہ پیامبر کبھی ایسے مواعظ کی حکایت کرتے تھے جو نہ وحی منزل تھی اور نہ قول صریح تاکہ حدیث نبوی شمار ہوسکے ، بلکہ حکمت الٰہی ، ربّانی اور قدسی کلام تھا کہ غیب سے سرچشمہ لیا تھا۔
علامہ مامقانی کی تعریف سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ حدیث قدسی صرف نبی اکرم ؐ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ تمام انبیاء یا اوصیاء اور ائمہ معصومین ؑ کی طرف سے بھی صادر ہوجائے درحالیکہ تعاریف اہل سنت کے مطابق حدیث قدسی صرف پیامبر اسلام ؐ سے مخصوص ہے ۔
حدیث قدسی اور حدیث نبوی کا فرق:
تعاریف مذکورہ سے واضح ہوجاتاہے کہ حدیث قدسی ، رسول ؐ کا کلام نہیں ہے ، بلکہ خدا کا کلام ہے کہ پیامبر اکرمؐ جس کی حکایت کرے اور دوسرے الفاظ میں حدیث قدسی کے لفظ اورمعنی دونوں خداکی طرف سے ہے ،بخلاف حدیث نبوی کہ لفظ نبی کی طرف سے اور معنی خداوندمتعال کی طرف سے ہے ، اسی لئے صبحی صالح کہتاہے :
''وحکایۃ النّبی ؐ عن ربّہ فی ہذا الضرب من الاحادیث القدسیّۃ اتخذت حجّۃ العلماء القائلین بانّ اللفظ فی الحدیث القدسی من اللّہ '' (علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٢٤)
یعنی احادیث قدسی میں سے اس شکل کے ساتھ نبی اکرمؐ اپنے رب سے حکایت کرنا دلیل علماء قرار پائی ہے جو معتقد ہیں کہ حدیث قدسی میں لفظ بھی خدا کی جانب سے ہے البتہ اہل سنت کی ایک جماعت کا اعتقاد ہے کہ حدیث قدسی ، کلام رسول ؐ ہے ، صبحی صالح کہتا ہے : ''غیر انّ کثیر من العلماء یرون ان الصیاغۃ فی القدسی ، للنّبی وانّ المعنی للّہ ''(علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٢٤)
یعنی مگر اینکہ اکثر علماء کا اعتقاد ہے کہ حدیث قدسی کی بناوٹ اور الفاظ رسول اکرم ؐ کی جانب سے ہے اور معنی خدا کی جانب سے ،اسی اختلاف کی وجہ سے ، حدیث قدسی دو طریقے سے نقل ہوئی ہیں :
الف: قال رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ والسلم فیما یروی عن ربّہ ؛
یعنی رسول اکرمؐ نے اس کلام میں فرمایا جس کو اپنے رب سے روایت کی ہے ؛
ب: قال اللّہ تعالی فیما رواہ عنہ رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وآلہ والسلم
اللہ تعالی نے اس کلام میں فرمایا جس کو رسول اکرم ؐ نے اس سے روایت کی ہے ۔
حدیث قدسی اور قرآن میں فرق:
حدیث قدسی اور قرآن مندرجہ ذیل امور میں ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔
١۔ قرآن ہر زمان میں معجزہ ہے اور ہر قسم کی تغییر وتبدیلی سے محفوظ اور متواتر مانا گیا ہے لیکن حدیث قدسی ایسی نہیں ہے ۔
٢۔قرائت نماز،صرف قرآن کے ذریعے درست نہ حدیث قدسی کے ذریعے ۔
٣۔ قرآن کامنکر کا فر حساب ہوگا لیکن حدیث قدسی کا منکر ایسا نہیں ۔
٤۔ طہارت کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے لیکن حدیث قدسی کو چھوسکتے ہیں ۔
٥۔ قرآن میں نقلِ معنی جائز نہیں ہے لیکن حدیث قدسی میں جائز ہے ۔
٦۔ جبرئیل کی وساطت سے الفاظ وحی منزل کو قرآن نام رکھنا صحیح ہے لیکن حدیث قدسی اس صفت سے خالی ہے ۔( مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥ ، ٤٧، اصول الحدیث ، ڈاکٹر عجاج ، ص٢٩)
احادیث قدسی کی تعداد:
اہل سنت کے کچھ علماء مثلاً ابن حجر کی نظر میں ، پیامبر اکرم ؐ سے نقل شدہ احادیث قدسی کی تعداد سو(١٠٠) حدیث ہے (اصول الحدیث ، ڈاکٹر عجاج ، ص٢٩)اور اہل سنت کے محدث ، شیخ عبدالرؤف اپنی کتاب '' الاتحافات السنیۃ بالاحادیث القدسیہ '' میں احادیث کی تعداد ٢٧٢تک بتائی ہے ،محمد صباغ کا کہنا ہے :چار سو( ٤٠٠)حدیث قدسی ، صحاح ستہ اور مؤطّا سے جمع آوری ہوئی ہے اور''احادیث القدسیۃ'' کے نام پرچھب چکی ہے ۔ (الحدیث النبوی ، محمد الصباغ ، ص ٣١)
علماء شیعہ کے نزدیک بھی ظاہراً سب سے پہلے ، سید خلف حویزی ( وفات ١٠٧٤) نے ''البلاغ المبین فی احادیث القدسیّۃ '' کے نام پر احادیث قدسی کو جمع کیا اور اس کے بعد شیخ حرعاملی ( وفات ١١٠٤) نے اپنی کتاب '' کتاب الجواہر السّنیۃ فی الاحادیث القدسیۃ ''میں احادیث قدسی کو اکھٹا کیا۔
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 05:19 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب دوم
راویوں کی تعداد کے لحاظ سے تقسیم احادیث سے متعلق اصطلات
خبراور حدیث کے اقسام
خبر متواترفریقین کی نگاہ میں
خبر واحد فریقین کی نگاہ میں
راویوں کی تعداد کے لحاظ سے خبر واحد کی تقسیم
١۔ خبر مستفیض
٢۔ خبر عزیز
٣۔ خبر غریب
باب دوم
راویوں کی تعداد کے لحاظ سے تقسیم احادیث سے متعلق اصطلات
باب دوم میں ، اقسام حدیث ، خبرمتواتر اور واحد شیعہ واہل سنت کے محدثین کی نگاہ میں ، اسی طرح رویوں کی تعداد ، مستفیض ، عزیز اور غریب کے لحاظ سے خبر واحد کی تقسیم سے متعلق بحث وبررسی ہوگی جو کہ مندرجہ ذیل ہیں :
خبروحدیث کے اقسام
حدیث کو متواتر اور واحد ، پھر واحد کو صحیح ، حسن اور ضعیف وغیرہ میں تقسیم کرنا محدثین شیعہ اور اہل سنت کے نزدیک ایک جیسا نہیں ہے بلکہ ہر فرقے کے محدثین کے نزدیک بھی ایک جیسی تقسیم پائی جاتی ، البتہ شیعہ محدّثین ، خبرکی تقسیم کے متعلق زیادہ متفق ہیں۔
محدثین اہل سنت ، اکثر مورد میں، خبر واحد کو روایوں کی تعداد کے اعتبار سے تین قسموں : متواتر ، مشہور اور واحد میں تقسیم کرتے ہیں ، ابن حجر ، سیوطی اور ڈاکٹر عجاج وغیرہ کا بھی یہی عقیدہ ہے اور حدیث مشہور کو اس خبر پر اطلاق کرتے ہیں کہ اس کے روایوں کی تعداد دو نفر سے زیادہ ہو لیکن تواتر کے حدتک نہ پہنچی ہو اور اس مرحلہ کو واحد اور متواتر کا مرحلہ مانا جاتاہے۔ (١) اور یہ عجیب ہے کہ سیوطی اور ابن صلاح کسی دوسری جگہ پر کہتے ہیں : متواتر مشہور میں سے ہے ۔(٢)دوسری طرف وہ لوگ ، قبول کرنے یاٹھکرانے کے لحاظ سے ہرخبر وحدیث کو تین قسموں: صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم کرتے ہیں اور صریح طور پر کہیں بھی یہ نہیں کہا ہے کہ صحیح ، حسن اور ضعیف والی تقسیم ، خبرواحد کے اقسام میں سے ہے یا عام ہے ؟ البتہ سیوطی کسی دوسری جگہ پر کہتاہے : متواتر قطعی طورپر ، صحیح ہے ( ٣)ڈاکٹر عجاج کے کلام سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم مشہور اور واحد کے اقسام میں سے ہے ۔ (٤)اس بنا پر متواتر ہمیشہ صحیح ہونا چاہئےے ، ابن صلاح نے بھی حدیث کو صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم کیا ہے لیکن متواتر ، واحد اور مشہور سے متعلق کوئی تقسیم بندی نہیں ہے اور صرف حدیث مشہور میں کہتا ہے : متواتر اقسام مشہور میں سے شمار کیا گیا ہے ٥)
مذکورہ تقسیم بندی مختصراً اس طرح ہے :
متواتر
حدیث راویوں کی تعداد کے لحاظ سے مشہور
واحد
.................................................. ..................
١۔ شرح نخبۃ الفکر، ص ٥؛ اصول الحدیث ، ص٣٠١، ٣٠٢؛ تدریب الراوی ، ج١ ،ص ٦٣
٢۔ تدریب الراوی ، ج٢ ،ص١٧٦؛ علوم الحدیث ، ص ٢٦٧
٣۔تدریب الراوی ، ج١،ص٦٨
٤۔اصول الحدیث ، ص ٣٦٤
٥۔علوم الحدیث ، ص٢٦٧
.................................................. .........
صحیح
حدیث قبول یاردّ کرنے کے لحاظ سے حسن
ضعیف
علامہ قاسمی، پہلے انواع حدیث کو تین قسموں : صحیح ، حسن اور ضعیف سے باہر نہیں جانتا کہ وہی تقسیم بندی قبول یاردّ کرنے کے اعتبار سے ہے اور اس کے بعد تینوں قسموں کے اختتام پر یہ عقیدہ ہے کہ خبر یا متواتر ہے یا واحد اور وہاں یہ تصریح نہیں کرتے کہ کیا صحیح ، حسن اور ضعیف کی تقسیم بندی صرف خبرواحد کے ساتھ مختص ہے یا نہیں ؟ (١)
لیکن ڈاکٹر صبحی صالح خبر واحد کی تقسیم بندی میں دوسرا نظریہ پیش کرتا ہے اور کہتا ہے :حدیث یا صحیح ہے یاغیر صحیح ہے اس کے بعد کہتا ہے کہ معروف ( ومشہور) تقسیم بندی وہی خبر کی تین قسمیں صحیح ، حسن اور ضعیف ہے ، اس کے بعد حدیث صحیح کو دو قسموں متواتر اور واحد اور پھر اس کوغریب اور مشہور میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے :''کمایوصف الصحیح بانہ سند ومتصل ، یوصف بانّہ متواتر و آحادی''( ٢)
یعنی جس طرح صحیح مسند اور متصل کے ساتھ متصف ہو جاتاہے اسی طرح متواتر یا آحاد کے ساتھ بھی متصف ہو جاتا ہے ، البتہ صبحی صالح اور اسی طرح دوسرے محدثین اہل سنت کا یہ خیال ہے کہ حدیث کے لئے مشترک اورمختص اصطلاحات بھی ہیں جو کہ مختصر طور درج ذیل ہیں :
.................................................. ........
١۔ قواعد التحدیث ، ص٧١،١٥١۔١٥٢
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص ١٤٥، ١٤٦
.................................................. .........
متواتر
صحیح واحد
حدیث حسن
ضعیف

حدیث اصطلاحات مختص
اصطلاحات مشترک
معلوم ہوتا ہے کہ محمود ابوریۃ نے ایک مکمل تقسیم بندی کو پیش کیا ہے کیونکہ یہ شیعہ تقسیم بندی کی بنیاد کے زیادہ نزدیک ہے اور وہ تقسیم بندی یہ ہے کہ خبرمتواتر اور واحد ، پھر خبر واحد صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم ہوجاتی ہے جو کہ مختصر طور پر اس طرح ہے :
حدیث متواتر صحیح
واحد حسن
ضعیف
شیعہ محدثین کی نگاہ میں اکثر طور پر ، حدیث پہلے راویوں کی تعداد کے لحاظ سے دو قسموں : متواتر اور واحد میں تقسیم ہوئی ہے پھر خبر واحد راویوں کی تعداد کے لحاظ سے مستفیض ، عزیز اور غریب میں تقسیم ہوتی ہے اسی طرح خبر واحد ، متقدمین کی نگاہ میں راویوں کے حالات کے لحاظ سے صحیح اور غیر صحیح اور امامیہ متأخرین کی نگاہ میں صحیح ، حسن ، موثق اور ضعیف میں تقسیم ہو جاتی ہے۔( ١)
.................................................. .............
١۔الوجیرۃ فی علم الدرایۃ ، شیخ بہائی ، ص٤؛ الرعایۃ فی علم الداریۃ ، شہید ثانی ۔ ص٦٢،٦٩،٧٧؛ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص٨٧،١٢٥، ١٤٥
.................................................. .........
البتہ شہید ثانی اور شیخ بہائی اور اس کی تبعیت میں سید حسن صدر نے اس پر اور ایک قسم کا اضافہ کیا ہے اوروہ حدیث قوی ہے ( ١) خبر واحد اس کے اوصاف کے لحاظ سے بھی چند قسموں میں تقسیم ہوجاتی ہے یعنی اصطلاحات مشترک اور مختص ، اختصار کے ساتھ درج ذیل ہے ۔
متواتر
حدیث مستفیض
تعداد راویوں کے لحاظ سے عزیز
واحد غریب صحیح
امامیہ متقدمین غیرصحیح
صحیح
رایوں کے حالات کے لحاظ سے امامیہ متأ خرین حسن
موثق
ضعیف
اوصاف حدیث کے لحاظ سے اصطلاحات مشترک

اصطلاحات مختص
خبر متواتر فریقین کی نگاہ میں :
متواتر ،لفظ'' وتر'' سے لیا گیا ہے اور جس کا واحد ہے اور تواتر سے مراد ہے یکی بعد از دیگری
.................................................. ..
١۔الوجیزۃ ، ص ص؛ الرعایۃ فی علم الداریۃ ، ص٨٥ ، نہایۃ الداریۃ ، ص٢٦٣
.................................................. .........
وکلمہ ''تتریٰ '' آیہ شریفہ ''ثمّ ارسلنا تتری'' ( بعد میں ہم نے اپنے رسولوں کوایک کے بعد دوسرے کو بھیج دیا ہے ، (١ ) کا مطلب بھی یہی ہے ۔اصطلاح میں حدیث متواتر ، اس جماعت کی خبر ہے کہ اس کے روایوں کا سلسلہ معصوم تک ہرطبقہ میں اس حدتک ہو کہ ان کا کسی جھوٹ پر متفق ہوتا عادی طور پر محال ہواور ان کی خبر علم کا باعث بنے محدثین شیعہ واہل سنت کے کچھ تعاریف ملاحظہ ہوں:
١۔ شہید ثانی : ''وہو ماباعث رواتہ فی الکثرۃ مبلغاً احالت العادۃ تواطؤہم
علی الکذب '' (٢) یعنی حدیث متواتر وہ ہے کہ جس کے راویوں کی تعداد اس قدر ہو کہ عادی طور پر ان کاکسی جھوٹ پر اتفاق محال ہو۔
٢۔ شیخ بہائی '' فان بلغت سلاسلہ فی کل طبقۃ حدّاً یؤمن معہ تواطؤہم علی الکذب فمتواتر''( ٣) یعنی اگر ہر طبقے میں راویوں کا سلسلہ اس حدتک ہو کہ اس کے ساتھ جھوٹ پر اتفاق ہونے سے مأمون ہو ( جھوٹ پر جمع ہونے کا امکان نہ ہو) تو وہ تواتر ہے ۔
٣۔ مامقانی : ''خبر جماعۃ بلغوا فی الکثرۃ الی حدّاحالت العادۃ اتفاقہم وتواطؤہم علی الکذب '' ( ٤)یعنی متواتر اس جماعت کی خبر ہے جو کثرت میں اس حد تک پہنچی ہو کہ عادی طور پر جھوٹ پر اتفاق واجتماع ہونا محال ہو۔
٤۔ سیوطی : ''وہومانقلہ من یحصل العلم بصدقہم ضرورۃ بان یکون جمعاً لایمکن
.................................................. ..............
١۔سورہ مومنون ، آیہ ٤٤
٢۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٦٢
٣۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٤۔مقباس الہدایۃ ، ج١ص، ٨٩
.................................................. .........
تواطؤہم علی الکذب ''(١) یعنی حدیث متواتر وہ حدیث ہے کہ جس کو وہ شخص نقل کرے کہ اس کو ان کی صداقت پر علم ہو جائے کیونکہ ایسی جماعت کا اتفاق ہونے کا لازمہ یہ ہے ان کا جھوٹ پر جمع اور اتفاق ہونا ممکن نہیں ہے۔
٥۔صبحی صالح :''ہوالحدیث الصحیح الذی یرویہ جمع یحیل العقل والعادۃ تواطؤہم علی الکذب عن جمع مثلہم فی اول السند ووسطہ وآخرہ '' (٢)
یعنی متواتر وہ حدیث صحیح ہے کہ جس کو ایک جماعت روایت کرے کہ عقلی اور عادی طور اول سند ، درمیان سند اور آخری سند میں جھوٹ پر اتفاق ہونا محال ہو۔
اسی طرح محدثین شیعہ اوراہل سنت کے تعاریف سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ حدیث متواتر ایک ایسی جماعت کی خبر ہے کہ یہ علم کا باعث بنتا ہے ۔''جماعۃ'' اور ''جمع'' جیسے الفاظ کہ مامقانی ، سیوطی اور صحبی صالح کے تعاریف میں واضح طور پر آیا ہے اور بعد شہید ثانی اور شیخ بہائی کے تعاریف میں ضمناً اس کے استفادہ ہوتاہے ، حدیث متواتر کو خبر واحد سے جدا کیا ہے ؛ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ ہر جماعت کی خبر متواتر کا مصداق نہ بنے ، کیونکہ جماعت معصومین ؑ یا علماء ، مفید علم ہے ، لیکن مفید علم ہونے میں کثرت کا کوئی کردار نہیں ہے ، بلکہ متواتر ، اس جماعت کی خبر ہے کہ ان کی کثرت ، ان کے جھوٹ پر اتفاق ہونے کے امکان کو ختم کیا ہے اسی لئے یہ علم کا باعث ہے اور نہ وہ خبر جس میں حجیت کے قرائن موجود ہوں ۔ مثلاً بعض افراد کی خبرکہ وہ سب سچے ہوں ۔
..................................................
١۔تدریب الراوی ، ج ٢، ص ١٧٦
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٤٧
.................................................. .........
خبر متواتر کے لئے کچھ شرائط ذکر ہوئی ہیں(١)وہ مختصر طور پر درج ذیل ہیں :
١۔ مخاطب ( اور سننے والا ) پہلے خبر کے مفاد اور مضمون سے آگاہی نہ رکھتاہو۔
٢۔ سننے والا کسی شبہے کی وجہ سے خبر کے جھوٹ ہونے کے معتقد نہ ہو۔
٣۔روایوں کی تعداد اس قدر ہو کہ جھوٹ پر ان کااتفاق ہونا محال ہو، اسی لئے تواتر میں ، کوئی خاص تعداد شرط نہیں ہے اور تواتر ایک نسبی امر ہے ( مثلاً کسی ١٠پر یقین حاصل ہوتا ہے کسی کو ٥٠پر)
٤۔ نقل کرنے والوں ( رپورٹ دینے والوں ) کا استناد حسی ہو، نہ دلیل عقلی ۔
٥۔ تواتر کے شرائط تمام طبقات میں موجود ہونا چاہئےے۔
مندرجہ بالا امور کی رو سے یہ واضح ہے کہ رایوں کا مسلمان ہونا شیعہ ہونا یا سنی ہونا یا راویوں کے درمیان معصوم ؑ بھی موجود ہونا ، حدیث متواتر کی شرط نہیں ہے ۔(٢)
حدیث متواتر کی دو قسمیں لفظی اور معنوی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
١۔متواتر لفظی :وہ خبر ہے کہ جس کو نقل کرنے والے سب ایک مضمون اور ایک ہی الفاظ کو نقل کرے ۔
٢۔ متواتر معنوی: وہ خبر ہے کہ جس کو نقل کرنے والے سب ایک مضمون اور ایک معنی کو مختلف الفاظ اور عبارت میں نقل کرے اور ان مختلف الفاظ کا معنی کے ساتھ تطابق ومطابقت رکھنا یا دلالت تضمنّی یا دلالت التزامی کی وجہ سے ہے۔ ( ٣)
حدیث متواتر کے لئے ایک اور تقسیم بھی ہے اور وہ تواتر تفصیلی اور تواتر اجمالی ہے تواتر تفصیلی
..................................................
١۔الدرایۃ فی علم الدرایہ،شہید ثانی ،ص٦٢،٦٥۔مقباس الہدایۃج اول ص١٠٥۔١١٠
٢۔ مقباس الہدایۃ، ج١ ،ص١١٠
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٤٨۔١٥٠، نہایۃ الدرایۃ ، ص١٠٠ ، مقباس الہدایۃ ، ج ١ ، ص١١٥
.................................................. .........
میں تواتر لفظی ومعنوی دونوں شامل ہوجاتے ہیں لیکن تواتر اجمالی اس صورت میں ہے کہ ایک موضوع سے متعلق کئی روایت ہو اور دلالت کے لحاظ سے ایک جیسی نہ ہو لیکن ایک مشترک حدسب میں موجود ہو اور ان تمام مشترکات کے ذریعے ان میں سے ایک صادر ہونے پر قطع ( اور یقین ) حاصل ہوجائے ۔ مثلاً روایت شدہ وہ اخبار جو خبر واحد کی حجیت سے متعلق ہو۔(١) آیۃ اللہ خوئی ، روایت متواتراور ان کے اقسام کو بیان کرنے کے بعد خبر واحد کی حجیت کو متواتر اجمالی مانتا ہے۔ (٢)
خبر واحد (٣)فریقین کی نگاہ میں :
محدثین شیعہ کی نگاہ میں، خبرواحد، وہ حدیث ہے جو ہر طبقات میں تواتر کی حد تک پہنچی ہو اورخود الگ طور پر مفید علم نہیں ہے ۔اس لئے اگر کوئی خبر کئی طبقات میں تواتر کے حدتک پہنچی ہو لیکن دوسرے طبقات بلکہ ایک طبقہ میں تواتر کے حد تک نہ پہنچی ہو تو وہ متواتر نہیں ہوگی کیونکہ نتیجہ تابع اخس مقدمتین ہے ۔
شیعہ تعاریف میں سے دو تعریف ملاحظہ ہوں:
(الف ) شہید ثانی :''وہو مالم ینتہ الیٰ المتواتر منہ ، سواء کان الراوی واحداً ام کثیر'' ( ٤)
یعنی خبر واحد وہ ہے جو تواتر کے حد تک نہ پہنچی ہو اور اس میں فرق نہیں ہے کہ راوی ایک ہو یازیادہ ۔
..................................................
١۔اصول الحدیث واحکامہ فی علم الدرایۃ ، ص ٣٣
٢۔ مصباح الاصول ، ج دوم ، ص١٩٢
٣۔ واحد vahidاسم فاعل اورایک کا معنی دیتا ہے اور خبر کے لئے صفت ہے
٤۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٦٩
.................................................. .........
( ب) مامقانی : '' وہو مالا ینتہی الی حدّ التواتر ''(١) یعنی خبر واحد وہ ہے جو تواتر کے حد تک نہ پہنچی ہو۔
دونوں تعاریف مذکورہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ حدیث واحد ، وہ خبر ہے کہ جس کا تواتر ہونا ثابت نہ ہوجائے اگرچہ اس کے راوی تمام طبقات یابعض طبقات میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور شیعہ محدثین کے نزدیک حدیث واحد اور متواتر کے درمیان کوئی اورنام نہیں ہے اکثر محدثین اہل سنت کی نگاہ میں خبرواحد ، وہ حدیث ہے کہ تواتر اور روایت مشہور کے حدتک نہ پہنچی ہو ، کیونکہ ( جیسا کہ گذر گیا کہ) وہ لوگ راویوں کی تعدادکے لحاظ سے خبر کو تین قسموں:متواتر ، مشہور اور واحد میں تقسیم کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر عجاج خبر واحد کی تعریف میں کہتاہے :
''خبر الآحاد وہو مارواہ الواحد اوالاثنان فاکثر ممّالم تتوفر فیہ شروط المشہور اوالمتواتر ولاعبرۃ للعد فیہ بعد ذالک وہو دون المتواتر والمشہور ''(٢)
خبر آحاد وہ خبر ہے کہ جس کو ایک یادو اکثر راویوں نے روایت کی ہو اور اس میں مشہور یامتواتر کے شروط موجود نہ ہو اور اس میں کوئی خاص عدد بھی معتبر نہیں ہے اور اس کا مرتبہ متواتر اور مشہور سے کم ہے ۔
اسی بنا پر اکثر روایات کتب اربعہ اور صحاح ستہ اخبار واحد ہیں اور ان کی حجیت اور اعتبار کا دار ومدار شرائط قبول ان میں موجود ہونے اور اسی طرح قرائن حجیّت ساتھ ہونے پر ہے اور تمام فرقے اسی معتقد ہیں ، ان کے تفصیل اصولی کتاب وغیرہ میں موجود ہے، (٣) اسی طرح ان کی حجیت اور اعتبار
..................................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص ١٢٥
٢۔اصول الحدیث ، ص٣٠٢
٣۔اصول الفقہ المقارن ، ص١٦٩؛ الاحکام ، آمدی ،ج٢ ،ص٢٦٦
.................................................. .........
صحیح اور حسن وغیرہ کے لحاظ سے راویوں کے حالات پر بھی موقوف ہے اور اسی طرح دیکھنا ہے کہ ہر حدیث ، شیعہ تقسیم کے مطابق چار اقسام میں سے اوراہل سنت کے مطابق تین اقسام میں سے کسی قسم کے ساتھ اترتی ہے یا اوصاف خبر کے ساتھ کونسے اصطلاحات حدیث مربوط ہوتے ہیں ومنطبق آتے ہیں ان کی تفصیل باب چہارم سے لے کر چہاردہم تک پیش کریں گے ۔ ( انشاء اللہ تعالی)
تقسیم خبر واحد راویوں کی تعداد کے لحاظ سے :
جیسا کہ یہ بات گذرگئی کہ شیعہ محدثین کے نزدیک راویوں کی تعداد کے لحاظ سے خبرواحد تین قسموں یعنی مستفیض ، عزیز اورغریب میں تقسیم ہوئی ہے ۔
محدثین اہل سنت کی نظر میں راویوں کی تعداد کے لحاظ سے خبرواحد کی کوئی تقسیم بندی نہیں ہے لیکن اصطلاح مستفیض ، عزیز اورغریب کے متعلق الگ الگ تعریف کی گئی ہیں (١) جو کہ درج ذیل ہے ۔
١۔خبر مستفیض : ( ٢)
ہر خبر کے سند میں راویوں کی تعداد تواتر کے حدتک نہ پہنچے لیکن ہرطبقے میں راویوں کی تعداد تین سے زیادہ ہو تو اسے ''مستفیض '' کہتے ہیں ۔
علامہ مامقانی کہتاہے : ''ہو الخبر الذی تکثرت رواتہ فی کل مرقبۃ والاکثر علی اعتبار زیادتہم فی کل طبقۃ عن ثلاثۃ '' (٣) یعنی مستفیض وہ خبر ہے جس کے راویوں کی تعداد ہر طبقہ
.................................................. .....
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٤٢
٢۔مستفیض ( mostafiz)اسم فاعل اورکلمہ ''فاض المائ''زیادہ اور وفور کے معنی سے لیا گیا ہے
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص١٢٨
.................................................. .........
میں اکثر ہو اورہر طبقے مین تین سے زیادہ ہونے سے اکثر اعتبار ہوگا۔
شیخ بہائی کہتاہے :''فان نقلہ فی کل مرتبۃ ازید من ثلاثۃ فمستفیض '' ( ١) یعنی وہ خبر جس کو نقل کرنے والے ہر طبقہ میں تین سے زیادہ ہوں تو وہ مستفیض ہوگی۔
کبھی حدیث مستفیض کہ اقسام خبر واحد میں سے ہے ، کو'' مشہور'' بھی کہا جاتا ہے البتہ حدیث مشہور ، مستفیض سے عام ہے ۔(٢) کیونکہ حدیث مستفیض میں کثرت رواۃ تمام طبقے حاصل ہونی چاہئےے لیکن مشہور میں ممکن ہے کہ اس کے بعض طبقات میں استفاضہ کافی ہو۔
ڈاکٹر صبحی صالح کہتاہے :''وان روتہ عنہ الجماعۃ وکان فی ابتدائہ وانتہائہ سواء ، سمیّ مستفیضا'' (٣) یعنی اگر کسی خبر کو ایک جماعت روایت کرے اور اس کے ابتداء وانتہاء برابر ہو تو اسے مستفیض کہا جائے گا ۔ وہ حدیث مستفیض کو متواتر کا ایک نوع سمجھتا ہے ، کیونکہ لوگوں کے درمیان پھیل گئی ہے اگرچہ بعد میں کہتا ہے : البتہ اس کے راویوں کی طرف دیکھنے کے بعد یہ زیادہ متواتر کی نسبت غریب کے نزدیک ہے ۔( ٤)
وہ اور ڈاکٹر عجاج ، روایت مستفیض ، مشہور اورعزیز کو ساتھ ہی اصطلاحات حدیثی کی بحث میں حدیث غریب کے بعد ذکر کرتے ہیں ۔ (٥)
.................................................. .......
١۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص ١٥٨
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٤٣
٤۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٤٣
٥۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٤٣؛ اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٢٦٣
.................................................. .........
٢۔ خبر عزیز (١)
خبر واحد کے ہرطبقے میں کم از کم دو نفر ہوں تو اس خبر کو '' عزیز '' کہا جاتاہے عزیز کم اور قلیل کا معنی ہے اور اس لئے عزیز کہا جاتاہے کہ اس کی مثال کم ہے کچھ تعاریف درج ذیل ہیں :
١۔شہید ثانی : ''وہو الذی لایرویہ اقلّ من اثنین عن اثنین '' ( ٢)
یعنی عزیز وہ خبر ہے جس کو دو نفر سے کم دو نفر سے کم سے روایت نہیں کرتے ( یعنی راوی بھی دو نفر سے کم نہیں اور مروی عنہ بھی دو نفر سے کم نہیں ہونا چاہئےے )
٢۔ ڈاکٹر عجاج : '' وہو ماانفرد بروایتہ عن راویہ اثنان ، فلایرویہ اقلّ من اثنین عن اثنین''(٣) یعنی عزیز وہ خبر ہے کہ جس کو روایت کرنے والے اورجن سے روایت کی ہے وہ دو ہیں پس اسے دو نفر سے کم دوسرے دو نفر سے کم سے روایت نہیں کرتے ۔
اگر روایت عزیز کے کچھ طبقات میں دو نفر سے زیادہ راوی ہوں تو اس کو عزیز مشہور کہا جاتا ہے ۔(٤) دوسرے بعض محدثین شیعہ اوراہل سنت روایت عزیز کی تعریف یوں کرتے ہیں :
١۔ عاملی :''فان رواہ اثنان اوثلاثۃ سمی عزیزاً '' ( ٥) اگر اس کو دو نفر یاتین نفر روایت کرے تو اسے عزیز کہتے ہیں ۔
.................................................
١۔عزیز ، ( aziz)صفت ، نادر اورکمیاب وقوی کا معنی دیتا ہے
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٧٠؛مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٣٤
٣۔اصول الحدیث ، ص٣٦٣
٤۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص١٣٤
٥۔وصول الاخیار الی اصول الاخبار ، ص١١١
.................................................. .........
٢۔صبحی صالح :''...لانّ الغریب اذا اشترک اثنان او ثلاثۃ فی روایتہ عن الشیخ سمّی عزیز اً (١)یعنی جب غریب دو یاتین نفر شیخ سے روایت کرنے میں مشترک ہوتو اسے عزیز کہا جائے گا۔
٣۔ خبر غریب :
خبرغریب ، وہ حدیث ہے کہ جس کے تمام طبقات میں راوی ایک نفر دوسرے ایک نفر سے نقل کرے یا طبقہ اول میں صرف ایک نفر ہو ، اس کے تین قسمیں ہیں جن کی تفصیل باب پنجم میں بیان ہوگی ، اوریہ اصطلاحات مشترک میں سے گنا گیاہے ۔
.................................................. .........
١۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٤٢
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 05:35 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب سوم

فریقین کی نظر میں راویوں کے حالات کے لحاظ سے خبر واحد سے متعلق اصطلاحات کی تقسیم
صحیح
حسن
موثّق
ضعیف

باب سوم
فریقین کی نظر میں راویوں کے حالات کے لحاظ سے خبر واحد سے متعلق اصطلاحات کی تقسیم
با ب سوم میں ، فریقین کی نگاہ میں راویوں کی تعداد سے متعلق خبر واحد کی تقسیم کے بارے میں بحث ہوئی اور ابھی باب سوم میں ، محدثین شیعہ اہل سنت کی نگاہ میں ،راویوں کے حالات سے متعلق ، صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف اوران کے مراتب کے لحاظ سے خبرواحد کی تقسیم کے بارے میں بحث کریںگے۔
یہ بات لازم الذکرہے کہ مذکورہ بالاتقسیم بندی تاریخی لحاظ سے یوں وجود میں آئی ہے کہ پہلے شیعہ اوراہل سنت کے محدثین کے نزدیک حدیث دو حصوں یعنی مقبول اور مردود میں تقسیم ہوتی تھی (١)اس لحاظ سے امامیہ قدما ( امامیہ قدما سے مراد ، وہ محدثین امامیہ ہیں جو صدر اسلام سے لیکر چھٹی صدی ہجری تک زندگی کی ہوں ، مثلاً کشّی ، نجاشی ، شیخ طوسیؒ ، شیخ صدوق ؒ، کلینی ؒ، وغیرہ ) کے نزدیک حدیث کی تقسیم دو حصوں یعنی صحیح اورغیر صحیح میں معروف تھی ۔
.................................................. ...
١۔ تدریب الراوی ،ج١،ص٦٢؛ مستدرکات مقباس ، ج ٥، ص٧٤
...........................................
اس کے بعداس حدیث جو نہ مکمل طور پر مقبول اورنہ مردود تھی سے متعلق بحث و گفتگو ہوئی کہ اس حدیث کو کیا نام دیا جائے؟ لہذا تیسری قسم کی ایک حدیث بنام '' حسن '' وجود میں آئی اس لحاظ سے اہل سنت کے نزدیک حدیث تین حصوں یعنی صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم ہوگئی ، اس راہ میں پیش قدم ترمذی کو جانتے ہیں ۔(١)اورشیعوں کے نزدیک اس کے علاوہ ایک اور قسم کی حدیث بنام '' موثق '' وجود میں آئی کہ اس پر کسی بھی وقت دوسرے تین قسم کی احادیث تطبیق نہیں آئی اسی وجہ سے امامیہ متأخرین ( امامیہ متأخرین سے مراد چھٹی ہجری کے بعد والے علماء ہیں مثلا؛ سیدابن طاؤس (وفات ٦٧٣) ، علامہ حلّی ( وفات ٧٢٦) ، شہید ثانی شیخ بہائی اور علامہ مجلسی وغیرہ ) کے نزدیک حدیث چار حصوں یعنی ، صحیح ، حسن ، موثق اور ضعیف میں تقسیم ہوتی ہےں (٢) البتہ بعض شیعہ علماء مثلاً شہید ثانی اور شیخ بہائی کے نزدیک اور ایک قسم کی حدیث ہے جس کا نام ''قوی '' ہے لیکن اس کو کوئی مقبولیت نہیں ملی ؛( ٣)اسی طرح محدثین اہل سنت کے نزدیک بھی حدیث کی تین قسموں کے علاوہ اور ایک قسم کا اضافہ ہوا جس کا نام ''صالح'' ہے (٤)البتہ اس کے لئے بھی شہرت نہیں ملی ۔
اب ہم شیعہ اور سنی محدثین کے نزدیک احادیث صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف ہر ایک کے
.................................................. ...
١۔تدریب الراوی ، ج١، ص٦٢؛ علوم الحدیث ، ومصطلحہ ١٤١؛ مستدرکات مقباس ، ج ٥ ، ص٧٥؛ اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٠٣
٢۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٧٧؛ وصول الاخیار ، ص٩٢؛ مستدرکات مقباس ، ج پنجم ، ص٧٦
٣۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص؛ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٧٥؛ مستدرکات مقباس ، ج٥ ، ص٧٦
٤۔ تدریب الراوی ، ج١ ،ص٦٢،١٧٨؛ قواعد التحدیث، ص١١١ ؛ مستدرکات مقباس الہدایۃ ؛ ج ١ ،ص٧٦، ١٣٧
...........................................
بارے میں بحث کریں گے:
حدیث صحیح ( ١ )
''صحیح ''امامیہ قدماء کے نزدیک :
امامیہ قدماء ( امامیہ قدماء سے مراد چھٹی صدی ہجری تک کے علماء ہیں ؛ مثلاً شیخ کلینی ( وفات ٣٢٨ق)، شیخ صدوق ( وفات ٣٧١) اور شیخ طوسی (وفات٤٦٠) وغیرہ یہ حضرات احادیث کی یاصحیح جانتے تھے یاضعیف اورکہتے تھے : ''ہذا عندی صحیح''کے نزدیک وہ خبر صحیح ہوگی جس میں صحت اورحجیت کے قرائن پائے جاتے ہوں۔
علامہ مامقانی فرماتے ہیں :''انّہم یطلقون الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتماد ہم علیہ ''(٢) یعنی امامیہ قدما ہر اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں جس میں ان کے لئے اعتماد کے اسباب ( اور قرائن ) پائے جاتے ہوں حجیت کے اہم قرائن مندرجہ ذیل ہیں ٣)
١۔حدیث کا اصول اربعمأۃ میں کئی اصل میں موجود ہونا ( اصول اربعمأۃ )حدیثوں کا وہ چار سو مجموعوں کانام ہے کہ شیعوں کا قابل اعتماد اور اولین مصادر ( ومنابع ) شیعہ میں سے ہے ، استادسید محمد حسین حلالی نے اصول اربعماۃ کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے کہ جس میں ١٠٠اصل کا نام بیان کیاہے اور ان میں سے١٦عدد کے ایک مجموعہ کوالگ طور پر ایک کتاب کی شکل میں ''الاصول الستہ عشر''
.................................................. .
١۔صحیح ( shih)حدیث کے لئے صفت ہے اور ا س کامعنی درست ، سالم اوربے عیب ہے
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٣٩
٣عدۃ الاصول ، شیخ طوسی ، ج١، ص٣٨٤؛ الوافی ، فیض کاشانی ، مقدمہ ، ص ٢٢؛ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٣٩
...........................................
کے نام سے چھاپ کیا ہے ۔
٢۔حدیث کا ایک اصل یا کئی اصل میں متعدد طرق کے ذریعے موجود ہونا
٣۔ حدیث کا اصحاب اجماع کے اصل میں موجود ہونا
٤۔ حدیث کا ان کتابوں موجود ہونا جن پر ائمہ معصومین ؑ اور علماء شیعہ اعتماد کرتے تھے مثلاً کتاب فضل بن شاذان وغیرہ ۔
علماء متقدمین امامیہ میں سے شیخ طوسی صحت حدیث کے لئے بعض دیگر قرائن کا ہونا ضروری سمجھتا ہے مثلاً حدیث کا ادلۃ عقلی کے ساتھ موافق ہونا ، قرآن کے ساتھ مطابقت رکھنا چاہے نص ہو یا مفہوم یافحوا ، سنت قطعی کے ساتھ موافق ہونا اور اجماع کے ساتھ موافق ہونا البتہ شیخ طوسی یہ بیان اضافہ فرماتا ہے کہ قرائن مذکور صحت متن اور اس کے فحوا سے متعلق ہیں اور کبھی بھی واقع میں حدیث کی صحت پر دلالت نہیں کرتے ۔(عدۃ الاصول ، شیخ طوسی ، ج١ ص٣٧٢) روایت کی صحت اور حجیت پر دوسرے قرائن بھی بیان ہوتے ہیں ان کی تفصیل کے لئے کتاب درمیان الہدایۃ کی طرف رجوع کریں ۔(١ )
مقدمین امامیہ کے نزدیک قرائن مذکورہ ، اکثر روایات کے متعلق ان کو حاصل ہوجاتے تھے لیکن آج کل وہ قرائن ہمارے پاس موجود نہیں ہیں ۔ البتہ کسی حدیث کو صحیح یاضعیف جاننے میں متقدمین کا نظریہ آج بھی قابل احترام ہے اسی وجہ سے اکثر روایات کو جن کو وہ لوگ صحیح سمجھتے تھے اب بھی معتبر سمجھا جاتا ہے اگرچہ متأخرین کی اصطلاح میں وہ روایت ، حسن ، موثق یاضعیف شمار ہوتی ہے ۔قدما کے نزدیک ، اصطلاح صحیح اکثر طور پر متن حدیث سے متعلق ہے حالانکہ متأخرین کے نزدیک
..............................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ١٤٣،حاشیہ
...........................................
اصطلاح صحیح ( اس کی وضاحت ابھی ہوجائے گی) سند اور راویوں کے حال ( حالات) سے متعلق ہے ۔
''صحیح '' امامیہ متأخرین کے نزدیک:
امامیہ متأخرین کے نزدیک ، حدیث صحیح ، وہ خبر ہے کہ اس کے سلسلہ سند، معصوم ؑ تک پہنچے ، متصل ہو اور اس کو روایت کرنے والے امامی اور عادل ہوں بعض محدثین شیعہ کی تعاریف ملاحظہ ہوں:
١۔شہید ثانی :''ہو مااتّصل سندہ الی المعصوم ، بنقل العدل الامافی عن مثلہ فی جمیع طبقات حیث تکون متعددۃ وان اعتراہ شذوذ'' (١) یعنی صحیح وہ حدیث ہے جس کے سندمعصوم تک متصل ہواور اس کوتمام طبقات میں عادل اورامامی نے اپنے جیسے سے نقل کیا ہو اگرچہ شاذ ہی کیوں نہ ہو۔
٢۔اشیخ بہائی : ''ثمّ سلسلۃ السند امامیّون ممدوحون بالتعدیل فصحیح ''۔( ٢) دونوں تعریف میں خصوصاًشہید ثانی کی تعریف جو کہ زیادہ کامل ہے ، غور کرنے سے واضح ہوجاتاہے کہ حدیث صحیح میں ، اتصال ہونے کی شرط ضروری ہے اور اسی اتصال کی قید سے حدیث مقطوع وغیرہ اگرچہ اس کے راوی امامی اور عادل ہی کیوں نہ ہو خارج ہوجاتی ہے اور''الی المعصوم '' کے جملے سے تمام معصومین ؑ شامل ہوجاتے ہیں اورصرف پیامبر ؐ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔
جملہ''عدل'' سے حدیث ''حسن اور جملہ ''امامی '' سے ''موثق '' خارج ہوتے ہیں ''جمیع
................................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٧٧
٢۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
...........................................
الطبقات''کی قید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ روایت صحیح میں مطلق طور پر تمام طبقات میں شرائط صحت پوری ہونا چاہئےے ورنہ نسبی طور پر صحیح شمار ہوگی ۔''وان اعتراہ شذوذ ''کے جملہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر شاذ میں بھی صحیح کی شرائط پائی جاتی ہے تو یہ بھی صحیح میں شامل ہوجاتی ہے کیونکہ شاذ اور صحیح ہونے کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے ۔''شاذ '' سے مراد وہ حدیث ہے کہ اس کے راوی ثقہ اور اس کے متن قول مشہور کے مخالف ہو اور اسی وجہ سے کبھی کبھار ایک حدیث شاذ اورصحیح دونوں ہوسکتی ہے ۔
معلوم ہوتاہے کہ قید مذکور محدثین اہل سنت کے قول کے مقابل ہی ہوکیونکہ وہ حدیث صحیح ( تفصیل کے ساتھ بیان ہوگی ) کی تعریف میں عدم شذوذ کی قید کو بیان کیا ہے کہ بسااوقات حدیث صحیح کے دائرہ کو تنگ کرنے کے لئے وہ اس قید کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ شیعہ روایات کو کئی موقعوں پر شاذ کہتے ہیں ۔(١)
البتہ ، بعض علماء جیسے عاملی ، عدم شذوذ کی قید کو حدیث صحیح میں بہتر جانتا ہے (٢) ایسا لگتا ہے کہ ایسی تعریف ، حدیث صحیح کی اہل سنت کی تعریف سے متأثر ہوئی ہے ، دوسرے محققین کے نزدیک ایسی قید کی ضرورت نہیں ہے ۔(٣) کیونکہ صحت ، حال راوی سے متعلق ہے اورشذوذ اس خارج ایک امر ہے کہ بسا اوقات حجیت ختم ہونے کا باعث بنتا ہے لہذا ملا علی کنی کہتا ہے :'' انّ عدم شذوذ شرط فی اعتبار الخبر لافی تسمیۃ صحیحاً '' (٤)یعنی شذوذ کانہ ہونا ، (عدم شذوذ) حجیت
...............................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ص٨٧؛ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٥٢
٢۔وصول الاخیار ، ص٩٣
٣۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٥٢
٤۔ توضیح المقال ، ص٢٣٦
...........................................
خبر کی شرائط میں سے ہے نہ خبر کو صحیح نام رکھنے سے متعلق ۔ قید''عدل '' کے بارے میں ۔
بعض کا خیال ہے کہ امامی ہونے کی شرط کے ساتھ باقی کسی شرط کی ضرورت نہیں رہے گی ( ١)کیونکہ جس کا عقیدہ خراب ہو وہ عادل نہیں ، حالانکہ عدل اورامامی ہونا ہمیشہ باہم نہیں اور بسا اوقات ایک شخص امامی ہے لیکن عادل نہ ہو اور برے کردار والاہو۔
بعض '' ضبط '' کی قید کو بھی ضروری سمجھتے ہیں ، کیونکہ شہید ثانی وغیرہ کہ '' ضبط '' کو ''عدل'' کی قید کامفہوم سمجھتے ہیں کے خلاف وہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بسااوقات راوی ، امامی اور عادل ہے لیکن قوت ضبط ( اور قوت حافظہ ) ان میںنہیں ہے اوربعض اوقات اشتباہ اورغلط میں پڑجاتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ قوت ضبط ، عدل کے مفہوم سے نکل آتا ہے اور علماء رجال اس شخص کو جو غلط اورغفلت میں پڑجاتاہے ، اس کو عادل نہیں سمجھتے بلکہ عدالت کوراوی کے لئے صدق وسچائی کاملازمہ سمجھتے ہیں ۔(٢)
امامی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنے زمانے کے معصوم پر اعتماد واقرار کرتاہو اگرچہ پہلے زمانے کے اماموں کی امامت کو درک نہ کیاہو ، لہذا فطحیّہ اورواقفیہ وغیرہ امامی شمار نہیں کیاگیا ہے ۔
حدیث کے لئے صحیح کے اصطلاح اس وقت قابل قبول ہے جب تمام طبقات حدیث میں صحت کی شرائط پائی جاتی ہوں ، کیونکہ صحیح کاوصف تمام راویوں کے تابع ہوگا ، لہذا اگر بعض افرادمیں صحیح کی شرائط موجود نہ ہوں تو ان پر صحیح کا لفظ صدق نہیں آئے گا ، کیونکہ نتیجہ ہمیشہ اخس مقدمات کے تابع ہوگا؛مگر یہ کہ اس کو صحیح نسبی یاصحیح مضاف نام رکھاجائے ۔
..................................................
١۔نہایۃ الدرایۃ ، ص٢٣٦
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج ١ ، ص١٥٠
...........................................
شہید ثانی کے نزدیک ، کبھی حدیث صحیح اس خبر پر بھی اطلاق ہوتا ہے کہ جس کا طریق سالم ہو اگرچہ ارسال یاقطع کی صفت سے بھی متصف ہی کیوں نہ ہو(١) لیکن اس کا اطلاق آنا اس کی تعریف کے ساتھ ساز گار نہیں ہے اور نقض غرض ہے ، قدماء اورمتأخرین امامیہ کے نزدیک اصطلاح صحیح کا رابطہ اور نسبت عموم وخصوص مطلق ہے ، کیونکہ متأخرین کے نزدیک ، صحیح سند سے متعلق ہے اور دقدماء کے نزدیک سند اورمتن دونوں سے متعلق ہے ۔
سند '' صحیح '' کی دو مثال درج ذیل ہیں :
الف) عن الکلینی عن عدۃ عن اصحابنا عن احمد بن محمد وسہل بن زیاد ، جمیعاً عن ابن محبوب عن جمیل بن صالح عن الفضیل بن یسار عن ابی عبداللہ ( علیہ السلام ) ...( ٢ )
(ب)عن الکلینی عن محمد بن یحیٰ عن احمد بن محمد بن عیسی عن ابی ہمام اسماعیل بن ہمام عن ابی الحسن الرضا علیہ السلام قال...(٣)
''صحیح '' محدثین اہل سنت کے نزدیک :
محدثین اہل سنت کے نزدیک ، حدیث صحیح اس خبر کو کہا جاتاہے جس کے سند متصل ہو، تمام طبقات میں ( حدیث کو ) نقل کرنے والے عادل اورضابط ہوں اور شذوذ وتعلیل سے بھی دور ہو:
١۔ ابن صلاح : '' فہو الحدیث المسند الذی یتصل اسنادہ بنقل العدل الضابط عن
.................................................. ..
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص ٢٩
٢۔الکافی ، ج٢ ، ص٦٠٣، کتاب فضل القرآن ، باب فضل حامل القرآن ، دوسری روایت
٣۔الکافی ، دوم ، ص٤٧٦، کتاب الدعا، باب اخفاء الدعاء ، پہلی روایت
...........................................
العدل الضابط الی منتہاہ، ولایکون شاذاً ولامعلّلاً '' (١)
یعنی صحیح وہ حدیث سند ہے جس کے سند متصل ہو اور عادل و ضابط نے آخری سند تک نقل کیاہو اور شاذ ومعلل بھی نہ ہو۔
٢۔نووی : '' مااتصل سندہ بالعدول الضابطین من غیر شذوذ ولاعلۃ '' ( ٢)
یعنی حدیث صحیح وہ حدیث ہے جو بغیر شذوذ وعلت ، عادل اور ضابط راویوں سے اتصال سند کے ساتھ نقل ہوئی ہو۔
٣۔ صبحی صالح : ''الحدیث المسند الذی یتّصل اسنادہ بنقل العدل الضابط عن العدل الضابط حتی ینتہی الی رسول ؐ او الی منتہاہ من صحابی اومن دونہ ولایکون شاذاً ولامعلّلاً ''(٣)
یعنی حدیث صحیح وہ حدیث مسند ہے جو اتصال سند کے علاوہ عادل وضابط سے عادل وضابط کے ذریعے نقل ہوئی ہو یہاں تک کہ پیامبر اکرمؐ یاکسی صحابی یا اس سے پائیز ( تابعی ) تک پہنچی جائے اور شاذ ومعلّل بھی نہ ہو۔
محدثین اہل سنت کی نگاہ میںحدیث صحیح میں ، صرف اتصال کی شرط کافی ہے اور اسی وجہ سے سند کے آخر میں رسول اکرمؐ جیسے معصوم کے ہونے کے شرط ضروری نہیں ہے ، شیعہ تعاریف کے خلاف کیونکہ شیعہ تعریف کے مطابق سند کے آخر میں معصوم کا ہونا شرط ہے ، صبحی صالح نے اس نکتے
................................................
١۔ علوم الحدیث و مصطلحہ ، ص١١
٢۔تدریب الراوی ، ج١ ، ص٦٣
٣ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٤٥
...........................................
کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی تعریف میں آیا ہے کہ ، ''حتّی ینتہی الی رسول اللہ او الی منتہاہ '' اور اتصال سے ان کا مراد صرف منقطع م معضل اور مرسل کو خارج کرنا ہے نہ مقطوع کو ۔
کلمہئ '' ضبط '' بھی اہل سنت کی تعاریف میں موجود ہے لیکن شیعہ تعاریف میں موجود نہیں ہے اور ضرورت محسوس نہیں ہوتی ، لہذا ڈاکٹر عجاج نے بھی '' عدل وضابط'' کی جگہ پر لفظ '' ثقۃ '' لایا ہے اور اس طرح اس کی تعریف کی ہے :
''ہو مااتّصل سندہ بروایۃ الثقۃ عن الثقۃ من اوّلہ الی منتہا من غیر شذوذ ولاعلّۃ''(١) یعنی حدیث صحیح وہ حدیث ہے جس کے سند ثقۃ سے ثقۃ کے ذریعے اس کے اول سے لیکر آخر تک بغیر شذوذ اور علت کے روایت ہوئی ہو۔
البتہ '' عدل '' کی شرط ، شیعہ اور سنی تعاریف میں آئی ہے ، لیکن عدل سے ان کا مراد ومطلب ایک جیسا نہیں ہے اورہر ایک اپنے مذہب کی بنیاد پر عدل کی تعریف کرتے ہیں ۔ جس چیز کی تعاریف اہل سنت میں تأکید ہوئی ہے وہ '' عدم شذوذ وعدم علت'' کی شرط ہے ۔ لیکن جس طرح شیعہ کی نظر میں حدیث صحیح کی تعریف میں گذرا ، ممکن ہے کہ '' شاذ '' کی شرط ان کی احادیث صحیح کے دائرہ سے احادیث صحیح شیعہ کو نکالنے کے لئے ہو؛ حالانکہ شاذاور صحیح ایک دوسرے کے ساتھ آپس میں بعض موقع پر قابل جمع ہیں ۔ ان کی نگاہ میں ''عدم علت'' کی شرط سے ان کا مقصد ، وہ ضعف اورکمی ہے جس بسا اوقات حدیث میں خفیہ طور پر رہتی ہے اس کی تفصیل حدیث معلّل میں آئے گی ۔
حدیث معلل میں بیان ہوگا کہ معلل خاص کر حدیث ضعیف کے اصطلاحات میں سے ہے نہ اصطلاحات مشترک میں سے ، اور اتصال ، امامی اور عدل یا اہل سنت کے مطابق ، اتصال ، عدل
.................................................. ....
١۔ اصول الحدیث وعلومہ ومصطلحہ، ص ٣٠٥
...........................................
اورضبط کے لئے ضروری نہیں ہے ؛ کیونکہ حدیث معلل میں عیب سے مراد اکثر طور پر عیوب سند کے ساتھ متعلق ہے کہ شرائط مذکورہ کے ساتھ اس قسم کے معلل شامل نہیں ہوگا مگر یہ کہ معلل سے مراد وہ عیوب ہو جو متن سے متعلق ہو، مثلاً عقل کی مخالفت نہ کرنا ، اس وقت شرائط مذکور فائدہ مند ثابت ہوں گی ۔(١)
شہید ثانی کا نظریہ ہے کہ تعاریف اہل سنت میں '' عدم شذوذ وعدم علت'' کی شرط صرف اصطلاح میں اختلاف کی وجہ سے ہے ورنہ وہ لوگ بھی حدیث شاذ اورمعلل کو بعض موقع پرمانتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔ (٢)
بخاری جیسے بعض لوگ ، حدیث صحیح کے لئے ہر راوی کے اپنے شیخ ( استاد ) سے سماع کے ثبوت کو بھی شرط سمجھتے ہیں ۔(تدریب الراوی ، ج١ ص، ٧٠ اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣١٣) لیکن شیعوں اوراہل سنت کے اکثر کے نزدیک اس شرط کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ ہر شخص کا دوسرے سے روایت کرنا، اس پر انحصار ہے کہ اس سے ملاقات ہو اور اس سے لے لیا ہو۔
بعض دیگرشرائط بھی بیان ہوئی ہیں کہ ان کی تحقیق کے لئے ان سے متعلق منابع کی طرف مراجعہ کریں۔
اہل سنت کے نزدیک حدیث کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
''عن الترمزی ، حدّثنا محمد بن مثنّی عن عبداللہ بن داود ، عن ہشام بن عروۃ ، عن ابیہ ، عن عاصم بن عمر ، عن عمر بن الخطاب ، قال : قال رسول اللّہ صلی
...............................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص ١٥٤
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٧٩
...........................................
اللہ علیہ وآلہ والسلم ...'' ( ١)
حدیث صحیح کے درجات :
شیعہ اوراہل سنت کے نزدیک حدیث صحیح کئی قسموں پر مشتمل ہے کہ جس کے مراتب بھی شمار کیا گیا ہے ، شیعہ محدثین کے نزدیک ، حدیث صحیح تین قسموں : اعلی ، اوسط اور ادنی میں تقسیم ہوتی ہے (٢) جو کہ درج ذیل ہیں :
١۔صحیح اعلی : وہ حدیث ہے کہ جس کے سلسلہ سند میں صحیح ہونے کی شرائط اور اس کے تحقیق پر اطمینان کا احراز ، علم کے ذریعے یادو عادل شخص کی گواہی سے محقق ہوا ہو یا یہ کہ بعض میں علم کے راستے سے اور بعض میں دو عادل کی گواہی سے یہ احراز حاصل ہوجائے ۔
٢۔صحیح اوسط :وہ حدیث ہے کہ شرائط صحت کے احراز اور اس کے تحقق پر اطمینان ایک عادل شخص کی گواہی جو گمانِ مفید اور قابل اعتماد ہو، سے حاصل ہوجائے یا یہ کہ بعض میں اسی طریقے سے اوربعض میں صحیح اعلی کے طریقے سے حاصل ہوجائے ۔
٣۔صحیح ادنی :وہ حدیث ہے کہ شرائط صحت کے احراز اور اس کے تحقق پر اطمینان گمانِ اجتہادی کے ذریعے سے یابعض اسی طریقے سے اوربعض صحیح اعلی اور اوسط کے ذریعے سے حاصل ہوجائے ۔
محدثین اہل سنت کے نزدیک حدیث صحیح کی دو قسمیں ہیں : ''لذاتہ ولغیرہ ''۔
ڈاکٹر صبحی صالح کا کہنا ہے : '' فاالصحیح لذاتہ ہو مااشتمل من صفات القبول علی
.................................................. .
١۔الجامع الکبیر للترمذی ، ج٢، ص٧٤، کتاب الصوم ، باب ١٢: ماجاء اذا اقبل اللیل ، روایت نمبر ٦٩٨
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٥٥، توضیح المقال ، ص٥٠
...........................................
اعلاہا واماالصحیح لغیرہ فہو ماصحّ لامر اجنبی عنہ ، اذالم یشتمل من صفات القبول علی اعلاہا'' ( ١)
یعنی صحیح لذاتہ وہ حدیث ہے جو اعلی درجے کے صفات قبول پر مشتمل ہو، اور صحیح لغیرہ وہ حدیث ہے جو اپنے سوا کسی دوسری چیزکے لئے صحیح ہو جب اعلی درجے کے صفات قبول پر مشتمل نہ ہو۔ اس بنا پر ، وہ حدیث جو اعلی درجے کے شرائط قبول پر مشتمل ہو وہ ''صحیح لذاتہ'' ہے لیکن اگر مذکورہ شرائط موجود نہ ہوں تو اس کو ''صحیح لغیرہ''کہا جائے گا ۔ مثال کے طور پر راوی عادل ہو لیکن اس کے قوت ضبط مکمل اور تام نہ ہو تو وہ ''صحیح لغیرہ ''حساب ہوگی ؛ کیونکہ وہ حدیث اس کے سوا معاضدت کی وجہ سے ، کسی دوسرے طریقے سے صحیح شمار کی گئی ہے ۔
ڈاکٹر عجاج کہتاہے : '' کالحدیث الحسن اذا روی من عدۃ طرق ، فانہ یرتقی بماعضدہ من درجۃ الحسن الی درجۃ الصحۃ '' (٢)
یعنی جب کئی طریقے سے روایت ہوئی ہو تو حدیث حسن جیسی ہوگی ، کیونکہ ان طریق کی مدد سے حسن کے درجہ سے صحت کے درجہ تک ترقی کرے گی۔
محدثین اہل سنت کے نزدیک ، حدیث صحیح ، مذکورہ دو قسموں کے علاوہ کئی اور مراتب پر مشتمل ہے ۔
١۔ وہ حدیث جو شرائط صحت پر مشتمل ہونے کے علاوہ صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں آئی ہو۔
٢۔ وہ حدیث جو صرف صحیح بخاری میں آئی ہے ۔
.................................................. ....
١۔علم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٤٦
٢۔ اصول لحدیث ، س٣٠٦
...........................................
٣۔ وہ حدیث جو صرف صحیح مسلم میں آئی ہے ۔
٤۔وہ حدیث جس میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے شرائط پائے جاتے ہوں اگرچہ ان کتابوں میں نہ آئی ہوں۔
٥۔ وہ حدیث جس میں صحیح بخارکے شرائط پائے جاتے ہوںلیکن اس میں بیان نہ ہوئی ہو۔
٦۔ وہ حدیث جس میں صحیح مسلم کے شرائط پوری ہوںلیکن اس کو بیان نہ کیا ہو۔
٧۔وہ حدیث جس کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دوسرے محدثین اہل سنت نے صحیح شمار کیا ہو۔
دوسرے محدثین اہل سنت نے بھی حدیث کے راویوں کا کسی خاص شہر سے تعلق رکھنے کے بناپر بھی حدیث صحیح کے مراتب کے قائل ہوئے ہیں ، ان کے اعتقاد کے مطابق صحیح ترین حدیث وہ حدیث ہوگی جس کو اہل مکہ یا اہل مدینہ نے روایت کی ہو۔( ١) اس کے بعد اہل بصرہ اوراہل شام وغیرہ نے روایت کی ہو ۔ لیکن محدثین شیعہ کے نزدیک ، حدیث صحیح کے لئے ایسے مراتب موجود نہیں ہےں اور زمان ومکان اور روای کی کتاب کا معیار ، مراتب صحت میں سے شمار نہیں کیا گیا ہے ، اگرچہ ان میں سے ہر ایک حدیث کی صحت کے لئے مؤید اورقرینہ کا عنوان شمار ہوسکتا ہے ۔
حدیث حسن ( حسن ''Hassan''نیک اور بہتر کے معنی میں آتا ہے ):
حدیث '' حسن '' راویوں کے حالات کے لحات سے دوسرا اصطلاح ہے کہ شیعہ اوراہل سنت کے محدثین کے نزدیک اس کا معنی مختلف ہے پہلے فریقین کے نزدیک حدیث حسن کی تعریف ہم بیان کریں گے تاکہ تعاریف کا فرق معلوم ہوجائے شیعہ محدثین حدیث ِ حسن کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:
..................................................
١۔علم الحدیث ، ابن تیمیہ ، ص١٣٥؛قواعد التحدیث ، ١٠٥
...........................................
١۔ شہید ثانی :'' ہو ما اتصل سندہ الی المعصوم بامامی ممدوح من غیر نصّ علی عدالتہ ، مع تحقق ذالک فی جمیع مراتبہ او تحقق ذالک فی بعضہا بان کان فیہم واحد امامی ممدوح غیر موثّق مع کون الباقی من الطریق من رجال الصحیح'' (١) یعنی حسن وہ حدیث ہے کہ جس کے سند امامی اور ممدوح ( جس کا مدح ہوا ہو) کے ذریعے معصوم تک متصل ہو، اسی کے عدالت پر کوئی نصّ ( دلیل ) بھی نہ ہو ، ( فرق نہیں ہے کہ) یہ امر تمام طبقات میں یا بعض میں ، کہ اس مراتب اور طبقات میں سے ایک امامی ، ممدوح اورغیر موثّق ہو اور باقی سب رجال صحیح کے طریقے کے ذریعے متصل ہو۔
٢۔شیخ بہائی : '' وان شذّ او بدونہ کلاً اوبعضاً مع تعدیل البقیہ فحسن '' ( ٢)
یعنی اگر راوی جو کہ عادل اورامامی ہو ، کم ہوں یاتمام راوی امامی ہوں اورکسی کی عدالت پر صراحت نہ ہوئی تو ایسی حدیث '' حسن'' کہلائے گی۔
تعاریف بالا میں غور کرنے سے شیعہ محدثین کے نزدیک حدیث حسن کی تعریف اس طرح ہوسکتی ہے کہ ایک ایسی خبر ہے کہ اس کے سند معصوم تک متصل اور ہرطبقے میں امامی اور ممدوح ہوں لیکن سب کی عدالت پر کوئی دلیل نہ ہو، روایت حسن میں بسا اوقات ، بعض راویوں کے لئے تعدیل ہے لیکن باقیوں کے لئے مدح ہوا ہے ، شیخ بہائی کے بقول '' شذّ او بدونہ کلا...''یعنی امامی عادل راوی ، کم ہیں یاتمام راوی امامی ہیں لیکن کسی کی عدالت پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔
بہر حال اتصال سند ، امامی ہونا اورمدح تمام راویوں کے لئے حاصل ہونا چاہئےے ؛ اگرچہ
.................................................. .......
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٨١
٢۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
...........................................
ممکن ہے کہ بعض راویوں میں عدالت بھی پائی جائے کہ شہید ثانی نے اس قول '' تحقق ذالک فی جمیع مراتبہ''کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا: ان شرائط کے تحقق بعض میں ہے ، لیکن دوسروں کے سلسلہ سند میں مراتب رجال صحیح پایاجاتا ہے ، کہ اس وقت بھی حدیث '' حسن '' شمار کی گئی ہے ، لیکن سلسلہ سند میں مراتب صحیح کے بجائے مراتب موثّق یاضعیف پایا جائے تو اس وقت وہ موثّق یا ضعیف ہوگی؛ کیونکہ نتیجہ اخسِّ مقدمات کی تابع ہوگا۔
علامہ مامقانی حدیث حسن کی تعریف میں اس مدح کو شرط جانتاہے جو قابل قبول اور قابل توجہ ہو(١) کہ ہرقسم کا مدح خارج ہوجائے اس کی نظر میں وہ مدح جو راوی کے اعتبار اورحدیث کی سند میں دخالت رکھتا ہو ، قابل توجہ ہے مثلاً صالح ، خیّر ، صادق القول وغیرہ ، لیکن مثال کے طور پر یہ الفاظ ، حافظہ اور فہیم وغیرہ سند کے اعتبار میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے ہیں لہذا یہ مدح میں شامل نہیں ہے ، حدیث حسن کافرق صحیح کے ساتھ ، صفت راوی میں ہے کہ آیا اس کی عدالت پرتصریح ہوئی ہے یاصرف ممدوح ہے؟۔
فاضل استر آبادی کا عقیدہ ہے کہ اگرحدیث '' حسن ''کے بعض راوی ممدوح ہوں کہ اس وقت وثاقت جیسی ہوگی ، لیکن اگرچہ باقیوں میں مدح وثاقت کی حد تک نہ پہچا ہو ، تو اس کو ''حسن کاالصحیح''(حسن صحیح جیسا)نام رکھا جاسکتاہے ، لیکن مامقانی اس میں ترددکرتاہے اور اس کا عقیدہ ہے کہ مذکورہ اصطلاح صرف اس صورت میں اس سلسلہ سند کے متعلق ہوگا کہ اس کے اوائلِ رجالِ سند امامی اورثقہ ہوںلیکن سند کے اواخر میں امامی اور ممدوح ہوں،وہ مدح کہ وثاقت کی جگہ نہیں لے سکتا اور وہ اس سلسلہ میںواقع ہوا ہو کہ اصحاب اجماع میں سے ایک ہو ۔(٢)
.................................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٦٤ ٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٧٥
...........................................
حدیث حسن کے لئے بھی یہ اصطلاح : '' حسنِ اعلی'' ، '' اوسط '' اور ''اعلی '' رائج ہے جس طرح حدیث صحیح کے لئے رائج تھی ۔
'' عن الکلینی عن علی بن ابراہیم ، عن ابیہ ، عن ابن ابی عمیر، عن ابی ایوب الخزار، عن محمد بن مسلم قال...''. (١)
محدثین اہل سنت اس طرح حسن کی تعریف کرتے ہیں :
١۔ ابن صلاح : '' انّ الحدیث الحسن ، قسمان ؛ احدہما : الحدیث الذی لایخلو رجال اسنادہ من مستور لم تتحقق اہلیتہ غیر انّہ لیس مغفلاً کثیر الخطاء فی مایردیہ ... الثانی : ایکون راویہ من المشہور بالصدق والامانۃ غیر انہ لم یبلغ درجۃ رجال الصحیح لکونہ یقصّرعبہم فی الحفظ والاتقان ... ویعتبر فی کل ہذا سلامتہ من ان یکون شاذاً ومعللّاً '' .(٢)
یعنی حدیث حسن کی دو قسمیں ہیں : پہلی وہ حدیث ہے جس کے رجالِ اسناد ظاہر نہ ہوں اور ان کی قابلیت محقق نہیں ہوئی ہو مگر جس کو انہوں نے روایت کی ہیں ان میں غافل اورکثیر الخطا نہ ہوں اور دوسری وہ حدیث ہے کہ اس کے راوی سچائی اورامانت میں مشہور ہوں مگر وہ رجال صحیح کے درجہ پر فائز نہیں ہوئے ہیں کیونکہ حفظ اور اتفاق میں کوتاہی کرتے ہیں ...ان سب میں شاذ اور معلل کانہ ہونا ضروری ہے ۔
...............................................
١۔ الکافی ، ج١،ص٣٣٨، کتاب الحجۃ ، باب فی الغیبۃ ، دسویں روایت ؛ مرآۃ العقول ، ج٤، ص٤٦
٢۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٣١،٣٢
...........................................
٢۔ نووی : '' وہو ماعرف مخرجہ وشتہر رجالہ '' (١) یعنی حدیث حسن وہ حدیث ہے کہ جس کاسلسلہ سندمعلوم ہواور اس کے رجال ( راوی ) مشہور ہوں۔
٣۔ ابن حجر:'' ...بمانقلہ عدل تامّ الضبط متّصل السند غیر معلّل ولاشاذّ، فانّ خفّ الضبط فہو الحسن لذاتہ '' ( ٢)
یعنی حدیث حسن وہ ہے جس کو عادل اورخفیف الضبط نقل کرے ، علاوہ ازین سند متصل ہو اور معلل اور شاذ نہ ہو۔
٤۔صبحی صالح :'' ہو مااتّصل سندہ بنقل عدل خفیف الضبط وسلم من الشذوذ والعلّۃ '' (٣)
یعنی وہ حدیث حسن کہلائے گی جس کے سند متصل ہو نے کے علاوہ عادل اور خفیف الضبط سے نقل ہوئی ہواور کے ساتھ ہی شذوذ اور علت سے بھی خالی ہو۔
حدیث حسن کے متعلق مذکورہ تعاریف اہل سنت کی روشنی میں حدیث حسن کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے: وہ خبر ہے کہ سلسلہ ئ سند متصل ، راوی عادل ، لیکن '' خفیف الضبط '' ہے اور شذوذ وعلت سے بھی دور ہے اوربسااوقات اس کا متن ، حدیث متابع اور شاہد کے معاضد ہوتاہے ۔
حقیقت میں حدیث ، حسن ، اہل سنت کے نزدیک حدیث صحیح کے ساتھ زیادہ شباہت رکھتی ہے ؛مگر یہ کہ حدیث حسن میں ، راویوں کے پاس ضبط تام اور کامل نہیں ہے ۔ ڈاکٹر عجاج کا بھی کہنا ہے
.................................................. .....
١۔ تدریب الراوی ، ج١، ص١٥٣
٢۔ تدریب الراوی ، ج١، ص١٥٩
٣۔ علوم الحدیث مصطلحہ ، ص٣٣٢
...........................................
کہ :'' تبیّن الفرق بین الصحیح والحسن وہو انّہ یشرط فی الصحیح ، الضبط التام وامام الحسن ، فیشترط فیہ اصل الضبط '' ( ١) یعنی حدیث صحیح اورحسن کے درمیان یہ فرق واضح ہوگیا کہ حدیث صحیح میں ضبط تام اورکامل شرط ہے لیکن حسن میں صرف اصلِ ضبط شرط ہے (نہ ضبط تام وکامل)۔
اہل سنت کے نزدیک صحیح کی طرح حسن بھی دو قسموں: لذاتہ ولغیرہ ، میں تقسیم ہوجاتی ہے کہ ابن صلاح نے اپنی تعریف میں اس کی طرف اشارہ کیا اس کی تعریف کا پہلاحصہ '' حسن لغیرہ'' پر مشتمل ہے اور صبحی صالح نے بھی اس کی دو قسموں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔(٢) اور ''حسن لذاتہ '' کو وہی '' حسن '' کی تعریف جانا ہے کہ اس کے حسن ذاتی ہے اور صحیح کے درجے تک پہنچی ہے اورصرف ضبط خفیف پر مشتمل ہے ؛ مگر ـ''حسن لغیر ہ'' کی تعریف یوں کرتاہے:
'' اماالحسن لغیرہ فہو مافی اسنادہ مستور لم تتحقّق اہلیتہ ولاعدم اہلیتہ غیرانّہ لیس مغفلاً کثیرالخطاء ، ولامتّہماً بالکذب ویکون متنہ معضداً بمتابع او شاہد '' (٣)یعنی ''حسن لغیرہ '' وہ حدیث ہے کہ جس کے اسناد میں پوشیدہ گی ہے کہ اس کی اہلیت یاعدم اہلیت محقق نہیں ہوئی ہے مگر صرف یہ ہے کہ وہ غافل اورکثیر الخطاء نہیں ہے اور جھوٹ کی تہمت بھی اس پر نہیں ہے اور اس کا متن حدیث تابع اورشاہد کا معاضد ہوتاہے ۔
حدیث حسن کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
...............................................
١۔اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٣٢
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٥٧
٣۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٥٨
...........................................
'' عن الترمذی حدثّنا قتیبۃ ، قال: حدثّنا جریر عن ابن خثیم :عن سعید بن جبیر ، عن ابن عباس قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ...''(١)
حدیث موثّق ( ٢)
حدیث موثق کو کہ شیعہ کے درمیان رائج اصطلاحات میں سے ہے ، وہ حدیث ہے کہ اس کا سند معصوم علیہم السلام تک متصل اوراس کے تمام راوی ، شیعہ کتب رجال میں قابل اعتماد اور اطمینان جانا گیا ہواگرچہ ان میں سے بعض مذہب امامی سے تعلق نہ رکھتے ہوں ، جیسا کہ علی بن فضّال جو کہ شیعوں میں سے شمار نہیں کیا گیا ہے لیکن رجالِ شیعہ میں قابل اعتماد سمجھا گیا ہے ، شیعہ محدثین کے کچھ تعاریف مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ شہید ثانی :'' سمّی بذالک لانّ راویۃ ثقۃ وان کان مخالفا... ویقال لہ القوی ایضا ولالمذموم'' (٣)
یعنی حدیث موثق کو اس لئے موثق کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ( قابل اعتماد ) ہے اگرچہ مخالف (سنی ) ہی کیوں نہ ہو۔اور اس کو قوی بھی کہا جاتاہے کیونکہ اس کی توثیق کی وجہ سے اس کی جانب ظنّ قوی ہے کبھی قوی کا اطلاق اس راوی پربھی ہوتاہے جو امامی ہو اور اس کے حق میں نہ مدح ہو اور نہ ذم ۔
شیخ بہائی:''امّا غیر الامامیّین کلاً اوربعضاً مع تعدیل الکل فموثّق'' ( ٤)
................................................
١۔الجامع الکبیر للترمذی ،ج٢ ،ص ٢٨٣، کتاب الحج باب ١١٣، ماجاء فی الحجر الاسود، حدیث ،٩٥١
٢۔موثّق ''movassaq''اسم مفعول اورقابل اعتماد واطمینان کا معنی دیتا ہے
٣۔الرعایۃ فی علم الداریۃ ، ص٨٨
٤۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
...........................................
یعنی اگر سلسلہئ سند میں سب یا ان میں سے بعض غیر امامی ہوں لیکن سب کی توثیق ہوئی ہو تو ایسی حدیث موثّق کہلائے گی ۔
٣۔ مامقانی : '' مااتّصل سندہ الی المعصوم عن نصّ الاصحاب علی توثیقہ مع فساد عقیدتہ بان کان من احدالفرق المخالفۃ للامامیۃ وان کان من الشیعۃ مع تحقق ذالک فی جمیع رواۃ طریقہ او بعضہم مع کون الباقین من رجال الصحیح والاّ فلو کان فی الطریق ضعیف ، تبع السند الاخس وکان ضعیفاً ''(١)
یعنی حدیث موثق وہ حدیث ہے کہ جس کے سند معصوم تک متصل ہے اور اس کے تمام راوی ، اصحاب امامیہ کی نگاہ میں موثق ہیں اگرچہ ان کے عقیدہ میں خرابی ہو اور امامیہ کے مخالف ہوں ، اگرچہ شیعہ میں سے شمار ہوتے ہوں ، اگرراویوں میں سے بعض کی توثیق ہوئی ہو اوربعض امامی ہوں تو اس صورت میں بھی حدیث موثّق میں شامل ہوگی لیکن اگرغیر شیعہ کی توثیق نہ ہوئی ہو یعنی ضعیف کے طریقے پر ہوں ، تو نتیجہ اخّس کے تابع ہوگا اور حدیث ضعیف میں شمار ہوگی۔
جیسا کہ تعاریف مذکورہ میں آیاکہ حدیث موثّق مین ، امامیہ علماء کی نگاہ میں راویوں کی توثیق ہوئی ہے اگرچہ اہل سنت کے فرقے یاغیر امامیہ شیعہ میں سے ہوں حدیث موثق جیسا کہ علامہ مامقانی تاکید کرتاہے کہ اتصالِ سند پر بھی مشتمل ہے ۔
اہل سنت کے نزدیک حدیث موثق کے اصطلاح نہیں پایا جاتا ہے اور جیسا کہ گذر گیا کہ وہ حدیث کو تین قسموں یعنی صحیح ، حسن اور ضعیف میں تقسیم کرتے ہیں ، شہید ثانی حدیث موثق سے ، پہلے ''قوی'' سے بھی تعبیر کیا ہے اور اس کے بعد بحث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں : بسا اوقات
................................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٦٨
...........................................
اصطلاح ''قوی'' اس روایت کے لئے استعمال ہوتاہے جس کے تمام راوی امامی ہوں اور ان کا نہ مدح ہوا ہو اورنہ ذم ، شیخ بہائی بھی اسی طرح فرماتے ہیں :'' ثمّ سلسلۃ السند امامیّون ...اوسکوت عن مدحہم وذمہم کذالک فقوی ''اصطلاح ''قوی'' جوبھی معنی رکھتا ہو، محدثین شیعہ کے درمیان رواج نہیں پایا۔
اگر حدیث میں بعض راوی کی توثیق ہوئی ہو اور دوسرے افراد امامی اورغیر ممدوح ہوں تو بھی حدیث موثق میں شمار ہوگی ، کیونکہ نتیجہ اخس کے تابع ہے ، حدیث ِ موثق بھی حدیث صحیح اور حسن کی طرح مراتب اعلی ، اوسط اور ادنی پر مشتمل ہے ، اگرچہ مذکورہ مراتب نے حدیث حسن اورموثق میں رواج نہیں پایا۔
اگر رجالِ سند میں سے بعض، امامی اورممدوح ہوں اور دوسرے غیر امامی موثق ہوں تو اس میں اختلاف ہے کہ وہ '' حسن '' میں شامل یاہے '' موثق میں ؟اس کاجواب اس بات پ مبنی ہوگا کہ ہر سند کی توصیف ، ہمیشہ اخسِ رجالِ سند کی تابع ہے لہذا کونسا اقوی ( قویتر ) ہے ، معیّن ہونا چاہئےے ۔
علم ''اصول'' و''رجال'' کے بڑے علماء میں سے فاضل قمی سمیت ایک جماعت کا خیال ہے کہ روایت '' موثق '' اس وجہ سے کہ اس کے صدور ہونے پر ظن (گمان ) حاصل ہوا ہے ، قوی ترہے ، لہذا اس قاعدہ کے مطابق کہ نتیجہ اخس کے تابع ہے ، اس کے سند کو '' حسن '' سمجھا ہے ۔(١)اور دوسرا نظریہ جو کہ صحیح لگتاہے کہ حدیث '' حسن ''کو قوی ترسمجھنا چاہئےے (٢) کیونکہ بعض راوی امامی اور ممدوح ہیں لہذا حدیث کے سند ، قاعدہ ئ اخس کی بنا پرموثق ہوگا۔
............................................
١۔خاتمۃ قوانین الاصول، ص٤٨٣؛ توضیح المقال ، ملّا علی کنی ، ص٥٠
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٧
...........................................
البتہ علامہ مامقانی مختلف اقوال کو بیان کرنے کے بعد کہتاہے : بہتر ہے کہ ایسی روایت کو نہ '' حسن ''کہاجائے اور نہ ''موثّق '' تاکہ اصطلاحات کے مراعات محفوظ رہے اورمناسب ہے کہ ایسی روایت کو '' قوی'' سمجھا جائے (١)اور اسی طرح مناسب ہے کہ تمام دوسرے اشکالات جو کہ کم نہیں ہیں اور شکلِ صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف کے باہر ہے ، روایت قوی میں سے شمار کی جائے۔(٢)
فاضل استرآبادی جملہ '' الموثّق کالصحیح '' سے اس کو بیان کرتاہے اور اس سے وہ روایت مراد لیا جاتاہے کہ جس کے تمام سلسلہ توثیق شدہ ہوں لیکن تمام راوی امامی نہیں ہیں (٣)کہ ایسے جملے کا استعمال رائج نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے اصطلاحات میں سے ہو(٤)
حدیث موثق کی ایک مثال درج ذیل ہے :
''عن الکلینی ، عن احمد بن محمد الکوفی ،عن علی بن الحسن بن علی ، عن علی بن اسباط ، عن عمّہ یعقوب بن سالم ، عن ابی بصیر ، قال : سئل ابوعبداللہ علیہ السلام ...'' ( ٥)
خبر ضعیف ( ٦)
.................................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٧
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٧؛ مستدرکات مقبا س الہدایۃ، ج٥، ص١٣٣۔١٣٦
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٧٦
٤۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٧٦
٥۔الکافی ، ج دوم ، ص٦٥١، کتاب العشرۃ ، باب مکاتبۃ اہل الذمّۃ ، پہلی حدیث ؛ مرآۃ العقول ، ج١٢، ص٥٤٩
٦۔ضعیف '' zaif''اس کا معنی ناتوان اورکمزور ہے اورحدیث کے لئے صفت ہے
...........................................
خبر ضعیف ، محدثین شیعہ میں سے متأخرین کے نزدیک ، وہ حدیث ہے کہ جس میں حدیث صحیح ، حسن اور موثق میں کسی کی شرائط پوری نہ ہوں اور اس کے راوی جھوٹ ، جعل اور فسق وغیرہ کا متہم ہوں یا یہ کہ سلسلہ سند میں اتّصال نہ ہو، خبر ضعیف کی بعض تعاریف درج ذیل ہیں:
١۔ شہید ثانی : '' وہو مالا یجتمع فیہ شروط احد الثلاثۃ المتقدمۃ...'' ویمکن اندراجہ فی المجروح ... ودرجاتہ فی الضعف متفاوتہ بحسب بعدہ عن شروط الصحۃ '' (١)یعنی حدیث ضعیف وہ حدیث ہے جس میں پہلے گذرے ہوئے تین اقسام ( صحیح ، حسن اورموثّق ) میں سے کسی کی بھی شرائط پوری نہ ہوں ... اورممکن ہے کہ یہ مجروح میں شامل ہوجائے اس کے درجات شرائط صحت سے دور ہونے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
٢۔شیخ بہائی : '' وماعدا ہذہ الاربعۃ ضعیف '' (٢) یعنی ان چار ( صحیح ، حسن ،موثّق اورقوی ) کے علاوہ باقی ضعیف ہے ۔
٣۔ مامقانی : '' وہو مالم یجتمع فیہ شروط احد الاقسام السابقۃ بان اشتمل طریقہ علی مجروح بالفسق '' (٣)یعنی ضعیف وہ حدیث ہے جس میں گذشتہ تین اقسام میں سے کسی کی بھی شرائط پوری نہ ہوں اور اس کی طریقیت مجروح بالفسق پر مشتمل ہو۔
جس طرح تعاریف سے واضح ہوتاہے کہ حدیث ضعیف وہ حدیث ہے کہ اس کے راوی ، صحیح ، حسن ، موثق اور شیخ بہائی کے بقول حدیث قوی کی شرائط بھی پوری نہ ہوں اور سب یابعض راوی
..................................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٨٦
٢۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٧٧
...........................................
جرح کا شکار ہوں، جرح خواہ نص کے ذریعے حاصل ہوا ہو یا اجتہاد سے ، خواہ اصل ، راویوں کا فسق ہو یا اصل ،عدم وجود اسباب مع اور اعتبار ہو ، خواہ دوسرے راویوں میں توثیق یاحسن یہاں تک کہ صحیح کی شرائط پائی جائے ؛ کیونکہ نیتجہ اخس اوصاف کے تابع ہے ، مندرجہ ذیل صفات ضعف حسن کا باعث بن سکتی ہیں :راوی کاجھوٹا ہونا، خطا کی کثرت ، راوی کی غفلت ، اورفسق وغیرہ۔
شہید ثانی نے حدیث ضعیف کو '' مجروح '' بھی کہا ہے اوراس کے درجات اور مراتب ہونے کوبیان کیا ہے جو کہ راویوں کے مراتب ضعف کے ساتھ وابستہ ہے وہ کہتاہے :' ' فکلّما بعد بعض رجالہ عنہا ، کان اقوی فی الضعف'' (١)یعنی جس حدتک رجالِ حدیث شرائط صحیح وغیرہ سے دور ہوتے چلے جائےں گے اسی حساب سے حدیث ضعیف ہوگی۔
حدیث ضعیف کے مختلف مصادیق ہیں جس کی بحث باب یازدہم سے لے کر چہاردہم تک حدیث ضعیف کے مخصوص اصطلاحات کے حصے میں آئے گی۔
حدیث ضعیف کی دو مثالیں درج ذیل ہیں:
الف)''عن الکلینی ، عن الحسین بن محمد ، عن معلّی بن محمد ، عن الوشّا ء ، عن ابان ، عن میمون القداح ، قال لی ابوجعفر علیہ السلام ...'' (٢)
ب) '' عن کلینی ، عن علی بن محمد ، عن صالح بن ابی حماد ، عن الحجّال ، عمن ذکرہ عن احدہما ، قال سئلتہ...''(٣)
.................................................. ...
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٨٦
٢۔الکافی ج٢، ص٦٣٢، کتاب فضل القرآن ، باب النوادر، انیسویں رایت، مرآۃ العقول ، ج١٢، ص٥٢٢
٣۔الکافی ج٢، ص٦٣٢، کتاب فضل القرآن ، باب النوادر، انیسویں رایت، مرآۃ العقول ، ج١٢، ص٥٢٢
...........................................
محدثین اہل سنت کے نزدیک ، خبر ضعیف وہ حدیث ہے کہ جس میں حدیث صحیح اورحسن میں سے کسی کی بھی پوری شرائط نہ ہوں اورقبول کی شرائط موجود نہ ہوں اور ان کی نظر میں قبول کی شرائط اس طرح ہیں : اتصالِ سند، عدالت ، ضبط اور فقدان شذوذ وعلّت ۔
محدثین اہل سنت کی بعض تعاریف ملاحظہ ہوں:
١۔ ابن صلاح :'' کل حدیث لم تجمع فیہ صفات الحدیث الصحیح ولاصفات الحدیث السنص '' (١)یعنی ہروہ حدیث جس میں نہ حدیث صحیح کی صفات پوری ہوں اورنہ حدیثِ حسن کی صفات ہوں ( تو ایسی حدیث ضعیف کہلائے گی )۔
٢۔ سیوطی : '' وہو مالم یجمع فیہ صفۃ الحسن '' (٢)
یعنی ضعیف وہ حدیث ہے جس میں حدیث حسن کی صفات نہ پائی جائے ۔
٣۔ صبحی صالح : '' مالم یجتمع فیہ صفات الصحیح ولاصفات الحسن '' (٣)
یعنی ضعیف وہ حدیث ہے جو حدیث صحیح اور حسن کے صفات سے خالی ہو۔
٤۔ ڈاکٹرعجاج : '' وہو کل حدیث لم تجتمع فیہ صفات القبول'' ( ٤)
یعنی جس حدیث میں صفات قبول پوری نہ ہوں وہ ضعیف ہے۔ ابن صلاح اور صبحی صالح کی تعاریف میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہوا کہ ضعیف وہ حدیث ہے جس میں ، صحیح اور حسن کی صفات موجود نہ ہوں
................................................
١۔ علوم الحدیث ، ص٤١
٢۔ تدریب الراوی ، ج١ ، ص١٧٩
٣۔ اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص١٦٧
٤۔اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٣٧
...........................................
، لیکن سیوطی کی تعریف میں آیا ہے کہ وہ خبرضعیف کہلائے گی جس میں حسن کی صفات نہ ہوں اس کی نظر میں جب حدیث حسن کی صفات سے خالی ہوتوبہتر طریقے سے صحیح کی صفات سے خالی ہوگی ۔ ڈاکٹر عجاج کی تعریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا کہ ضعیف وہ حدیث ہے جس میں قبول کے شرائط ، یعنی وہی روایت صحیح اورحسن کے شرائط پوری نہ ہوں ۔
خبر ضعیف کی دو مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
الف) '' عن النسائی، اخبرنا اسحاق بن ابراہیم ، قال :ابنأنا یحی بن سعید ، قال ابنأنا المہلب بن ابی حبیبہ وابنأنا عبیداللہ بن سعید ، قال :حدثّنا یحی عن المہلب بن ابی حبیبۃ ، قال: اخبرنی الحسن عن ابی بکرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ...'' (١)
ب) ''عن النسائی ، اخبرنا ہلال بن العلاء ، قال حدثّنا حسین ، قال : حدثنازہیر ، قال: حدثّنا ابواسحاق عن عمربن غالب ، قال ، قالت عائشۃ :یاعمّار ...'' (٢)
اگر کوئی روایت، صحیح یا حسن یاموثّق کے دو یادو سے زیادہ طریق سے نقل ہوئی ہو ، تو کیا وہ روایت اس روایت زیادہ معتبر ہوگی جو وہی رتبے کے ذریعے ایک طریق سے نقل ہوئی ہو؟ ؛اورکوئی روایت اگر حسن یاموثّق کے دو یادو سے زیادہ طریق سے نقل ہوئی ہو ، تو کیا وہ روایت اس روایت سے
.............................................
١۔سنن نسائی ، ج٤، ص٩٨، کتاب الصیام ، باب ٦، ٢١٠٩ویں روایت : ضعیف سنن نسائی ، ص٦٩، ٢١٠٨ویں روایت البانی
٢۔ سنن نسائی ، ج٧ ص ٦٤، کتاب تحریم الدم ، باب ٥م ٤١٠٨ویں روایت : ضعیف سنن نسائی ، البانی ص١٢٩، ٤٠٣٠وین روایت ، باب ٥
...........................................
زیادہ معتبر ہوگی جو مذکورہ بالا کے ایک طریق سے نقل ہوئی ہو؟ ان کے جواب میں ، کسی نے راویوں کے اعتبار کو اورکسی نے حدیث کے متن کے موازنہ کو ان موقعوں پر معتبر سمجھا ہے۔ (١)
حدیث ضعیف میں ، شیعہ اور اہل سنت کے محدثین متاخر کی تعاریف کے رو سے ، وہ تمام شیعو روایات جو کہ اہل سنت کے محدثین کی نگاہ میں ، ان کے مطابق ، صحیح اور حسن کی شرائط ان میں نہ ہوں تو ان کی نگاہ میں وہ ضعیف میں شمار ہوگی ۔اگرچہ شیعہ کے نزدیک وہی روایات ، صحیح یاحسن یاموثق ہیں؛ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اہل سنت کی نگاہ میں وہ روایت ، شاذ عاعلّت پر مشتمل ہو یاان کے مطابق ، راویوں میں عدالت اور ضبط نہ ہوں ، اگرچہ اتصالِ سند برقرار ہو۔
اسی طرح محدثین شیعہ کی نگاہ میں ، وہ تمام روایات جو اہل سنت کے نزدیک صحیح یاحسن ہوں ، شیعہ کے مطابق اگران میں صحیح یاحسن یاموثّق کی شرائط نہ ہوں ، تو وہ ضعیف شمار ہوگی ، کیونکہ اگرچہ اتصالِ سند برقرار ہے لیکن اس کے راویوں میں وہ دو شرط ، یعنی امامی ہونا اور عادل ہونا یاشیعہ کے مطابق ممدوح ہونا یاتوثیق ہونا ، موجود نہیں ہیں ، البتہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی روایت ہو جس میں فریقین کی نگاہ میں صحت یاحسن کی شرائط پوری ہوں ، لیکن ایسا واقعہ کارخ دنیا کم ہے ۔
محدثین شیعہ کی نگاہ میں بھی حدیث ضعیف ایک جیسی نہیں ہے ، قدماء اور متأخرین کے نزدیک ، حدیث ضعیف کے اصطلاح میں فرق ہے ۔ شیعہ قدماء کے نزدیک ضعیف وہ حدیث ہے جوصحیح کے قرائن سے خالی ہو، اس بناپر ،احادیث کے کچھ تعداد جو ان کی نظر میں ضعیف شمار کیا گیا تھابسا اوقات ، شیعہ متأخرین کے نزدیک اور ان کے اصطلاح کے مطابق ، صحیح ، حسن اورموثّق میں شمال ہوجائیں ، اسی طرح بسا اوقات وہ احادیث جو شیعہ متأخرین کے نزدیک ضعیف تھیں ، امامیہ قدماء کے
.........................................
١۔مقباس الہدایۃ، ج،١ ص ١٨١
...........................................
نزدیک صحیح میں شامل ہوجائیں ۔
روایت ضعیف پر عمل اورضعفِ سند کاجبران
خبر'' ضعیف '' کے بارے میں یہ سوال قابل غور وفکر ہے کیا ہرخبر ضعیف مردود ہے ؟ یابعض جہگوں پہ ممکن ہے کہ خبر ضعیف اگرچہ حکمِ واجب یاحرام کوبیان کرے ، قابل عمل ہے ؟
محدثین اہل سنت کی نگاہ میں ، بعض موقعوں پر ،حدیث ضعیف پرعمل کرسکتے ہیں ترمذی سے نقل ہوا کہ ضعیف کی دو قسمیں ہیں :ایک قسم پر عمل کرنا منع نہیں ہے اور یہ قسم روایت '' حسن '' کے ساتھ شباہت رکھتی ہیں ۔ اور دوسری قسم کہ اس کو چھوڑناواجب ہے وہ بے بنیاد روایت ہے۔ (١)علامہ قاسمی بھی ، حدیث ضعیف پرعمل کرنے کے لحاظ سے مندرجہ ذیل تین نظریے بیان کرتا ہے :
١۔ مطلقااس پر عمل کرناممنوع ہے ، چاہے وہ روایت ، احکام سے تعلق رکھے ، چاہے فضائل سے تعلق رکھے چاہے مستحبات سے ، اس کوبخاری اورمسلم کانظریہ سمجھتا ہے ۔
٢۔ مطلقاً اس پر عمل کرنا جائز ہے اور اس کو مذہب داود کانظریہ سمجھا جاتاہے ۔
٣۔ مستحبات اورفضائل میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے اور اس کو معروف نظریہ سمجھاجاتاہے ۔
شیعہ قدمای محدثین کی نگاہ میں ، روایت ضعیف پرعمل کرنا درست نہیں ہے لیکن شیعہ علماء متأخرین کے نزدیک روایت ضعیف پر عمل کرنے کے بارے میں ایک جیسا نظریہ نہیں پایا جاتا۔ ایک جماعت خبر ضعیف کو اس وقت حجت سمجھتی ہے کہ عمل اصحاب امامیہ اس ضعف کی جبران کرے( یعنی اصحاب امامیہ نے اس پر عمل کیاہو) اور ان کا اعتقاد ہے کہ اصحاب امامیہ چونکہ ان کے زمانے کے قریب تھے اورروایات کے اعتبار یاعدم اعتبار کے لحاظ سے بہت سے قرائن سے باخبر تھے ، لہذا ، کسی
........................................
١۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٥٧
...........................................
روایت پر ان کا عمل حجت بن سکتی ہے اس رو سے اگرکوئی خبر، متأخرین کے نزدیک ، ضعیف شمار کی گئی ہے، لیکن قدماء اور اصحاب ائمہ علیہم السلام کے نزدیک یہ حجت کے قرائن پرمشتمل تھی اوران کے بناپر فتوا دیا ہے ، بعد کے نسلوں کے لئے ، عمل اصحاب اچھا قرینہ بن گیا ہے اور اس حدیث کے ضعف سندی کوپورا کرتاہے ، خصوصاً، اصحاب روایات پر عمل کرنے میں بہت کافی دقت کرتے تھے ، لہذا کسی خبر کے مضمون جس پر اصحاب نے عمل کیا ہو اس کی وثاقت اور اعتبار اس حدیث سے کم نہیں جس کے راوی قابل وثاقت واعتبار ہوں ، علامہ مامقانی کابھی یہی عقیدہ ہے اور اسی نظریہ سے دفاع کرتاہے۔ (١) اس نظریے کے مقابلے میں ایک اور جماعت کانظریہ ہے ، شہید ثانی اس جماعت سے تعلق رکھتا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ روایت کے ضعف سند ہمیشہ عمل اصحاب سے منجبر نہیں ہوتا وہ کہتا ہے :'' انّا نمنع من کون الشہرۃالتی ادّعوہا مؤثرۃ فی جبرالخبرالضعیف،فانّ ہذا انّما یتمّ لو کانت الشہرۃ متحققۃ قبل زمن الشیخ والأمر لیس کذالک '' .(٢)
ہم وہ شہرت جو خبر ضعیف کے جبران میں مؤثر ہونے کو منع قرار دیتے ہیں جس کی دعوا کی گئی ہے ؛ کیونکہ یہ اس وقت قابل جبران ہے جب شہرت ، شیخ طوسی کے زمانے سے پہلے تحقق پایاہو ، حالیکہ اس کے زمانے سے پہلے ایسا نہیں ہوا ہے ۔
اسی وجہ سے شہید ثانی کا یہ عقیدہ ہے کہ شہرت عملی ، شیخ طوسی کے زمانے سے شروع ہوگئی اور دوسروں نے اس کی متابعت میں اس پر عمل کیا ہے ، درحالیکہ اس سے پہلے کوئی شہرت موجود نہیں تھی تاکہ ضعفِ سندی کاجبران کنندہ ہو، البتہ شہید ثانی اس بات کا معتقد ہے کہ قصص ، مواعظ اورفضائل
.........................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٩٣۔١٩٤
٢۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٩٢
...........................................
سے متعلق خبر ضعیف قابل عمل ہے ، گرچہ شہرت عملی کے ذریعے اس کے جبران نہ کرسکے مگر یہاں تک کہ وضع اورجعل تک نہ پہنچی ہو۔ ( ١)
علامہ مامقانی کا اعتقاد ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنے میں جواہم ہے وہ اصحاب کا ان پر عمل کرنے کے وثوق اوراطمینان فراہم ہونا ہے اگر روایت پر شہرت عملی اصحاب کے طریق سے ایسا وثوق اوراطمینان حاصل ہوجائے ۔ گرچہ شیخ طوسی کے بعد کے زمانے سے بھی حاصل ہوجائے تو حجت ہوگی ۔(٢) فضائل اورقصص سے متعلق خبر ضعیف پر عمل کرنے کے بارے میں بھی علامہ مامقانی کا اعتقاد ہے کہ یہ بھی روایات ہیں ( لہذا )بغیر معتبر طریق کے ان کو معصوم ؑ کی طرف نسبت دینا سزاوار نہیں ہے ۔(٣) اسی وجہ سے خبر ضعیف پر عمل کرنا ، اگراس کامعصوم سے صادر ہونا ، اگرچہ عملِ اصحاب، شہرت اور قرائن حجیت کے ذریعے ،تائید ہوجائے تو حجت ہے اوراغلب علماء نے اس پر عمل کیا ہے البتہ اگرخبر واحد پرعمل کرنا حجت ہو۔(اورحق بھی یہی ہے )۔لیکن اگرخبر واحد حجت نہ ہو، تو خبرواحد کے اقسام اوران کی حجیت کے بارے میں بحث کرنابے ثمر رہے گا۔
''حجّیّت خبرواحد''
حجیت خبر واحد کے متعلق محدثین کے درمیان ہمیشہ بحث وگفتگو رہا ہے ، اورعلم اصول میں علماء نے اس کی حجیت کے بارے میں کافی تفصیلی بحث کی ہیں کہ ابھی ہم ان کے دلائل کی تتبع اورچھان بین کے درپے نہیں ہیں ۔ علماء شیعہ میں سے، سید مرتضی اورابن ادریس وغیرہ خبرواحد کو حجت نہیں سمجھتے
...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٩٤
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٩٤
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص١٩٦
...........................................
ہیں ، لیکن یہ کہاجاسکتا ہے کہ خبر واحد اگر اندر ونی اوربیرونی قرائن پرمشتمل ہوکہ معصوم علیہم السلام سے اس کے صادر ہونے کی تائید کرے ، تو تمام علماء کے نزدیک حجت ہے ۔ ( ١)ورنہ اس کی حجیت میں شک ہے اورممکن ہے کہ اس کی حجیت بعض مقام پر تائید شدہ ہو، بعض مقام پر ظنّی اوربعض مقام پر مردود ہو، فیض کاشانی نے حجیت خبر واحد کے قرائن کوبیان کیا ہے کہ قدماء شیعہ کے نزدیک صحیح کی بحث میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے ، کتب اربعہ کی احادیث اگرچہ غالباً خبرواحد ہیں ، مذکورہ قرائن پرمشتمل ہونے کی وجہ سے اکثر محدثین کے نزدیک ، حجت ہیں ، مگر وہ روایات جو ضعیف میں شامل ہوں۔
...........................................
١۔علم الحدیث ،شانہ چی ، ص٣٢ ؛ علم الحدیث ، ڈاکٹر مؤدب ، ٢١
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (01-06-09)
پرانا 01-06-09, 05:48 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب چہارم
اوصاف کے لحاظ سے خبر واحد کی تقسیم سے متعلق اصطلات
(مشترک اورمختص اطلاحات)
اصطلاحات حدیثی کی وسعت
اوصاف کے لحاظ سے خبرواحد کی تقسیم
مشترکِ سندی کے اصطلاحات
''مسند''
''متصل''
''مرفوع''
''معنعن اورمؤنن''
باب چہارم
اوصاف کے لحاظ سے خبر واحد کی تقسیم سے متعلق اصطلات
(مشترک اورمختص اطلاحات)
باب چہارم میں اصطلاحات حدیثی کی وسعت اوصاف کے لحاظ سے خبرواحد کی تقسیم ، مشترک اصطلاحات اوران کے اقسام اوربعض مواقع پرمشترک سندی کے اصطلاحات مثلاسند، متصل مرفوع اور معنعن کی تعریف اورتطبیق کے لحاظ سے تتبع اورچھان بین ہوگی جو کہ درج ذیل ہیں :
اصطلاحات حدیثی کی وسعت
سند ومتن ، یعنی اتصال وانقطاع سند کے لحاظ سے نقل کرنے والوں کی تعداد ، متن کی خصوصیات اورراویوں اور اس کے متن کے اعتبار وعدم اعتبار وغیرہ کے لحاظ سے ، فریقین کے نزدیک حدیث اورخبرواحد کے مختلف اقسام ہیں کہ ان میں سے ہرایک کے لئے مخصوص اورمعین اصطلاح ہے ، علماء بزرگ شیعہ اورتدوین اصطلاحاتِ حدیثی میں سب سے پہلے قدم اٹھانے والوں میں سے شہید ثانی ( م ٩٦٥ ) نے ان کی تعداد تیس تک بتائی ہے۔ (١)
..............................................
١۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٥
................................................
علامہ مامقانی ( م ١٣٥١)نے ان کی تعداد سو تک بتاتے ہوئے ان کوواضح اورشرح کی ہے ۔(١)
محدثین اہل سنت کے درمیان بھی ، یہ اصطلاحات زیادہ ہیں اوربعض کی نظر میں بے شمار ہیں ، ابن صلاح (م ٦٤٣)نے جو کہ مصطلح الحدیث کے علم میں پہل کرنے والوں میں سے ہے ، ان کی تعداد ٦٥تک بیان کی ہے اورمعتقد ہے کہ ان کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے ۔(٢)سیوطی ( م٩١١) نے بھی اصطلاحات حدیثی کی تعداد کو بھی بے شمار سمجھی ہے اورحاذمی سے نقل کرتے ہوئے ان کی تقریباً سو اقسام شمار کیا ہے اوران میں سے ہرایک الگ علم بن سکتا ہے کہ اگر طالب علم اپنی عمر گذار دی جائے تو اس کی انتہا تک نہ پہنچ پائے ۔(٣) ، ڈاکٹر صبحی صالح بھی سو سے زیادہ ان کے اقسام کے تتبع اورچھان بین میںلگ جاتاہے ۔( ٤)
فریقین کے نزدیک اوصاف کے لحاظ سے خبرواحد کی تقسیم
اصطلاحات حدیثی ( چاہے سند سے تعلق رکھتی ہوں یاخبرواحد کے متن کے ساتھ) اوصاف کے لحاظ ، محدثین شیعہ اوراہل سنت کے نزدیک دو حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں :
(الف )مشترک اصطلاحات :
یہ اصطلاحات کاوہ مجموعہ ہے جو حدیث کے اقسام ، یعنی حدیث صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف
.................................................. ..
١۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، مامقانی ، ج١،ص٢٠٢
٢۔علوم الحدیث ،ابن صلاح ، ص١١
٣۔ تدریب الراوی ، ج١، ص٥٣
٤۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١١٣۔٢٩٥
................................................
سے متعلق ہے اور ان میں سے ہرایک کے کسی مصداق پرمشتمل ہوسکتاہے ۔ (١)
(ب) مختص اصطلاحات :
اوریہ اصطلاحات کاوہ مجموعہ ہے جو صرف حدیث ضعیف سے متعلق ہے اوردوسرے اقسام کے مصادیق پرمشتمل نہیں ہوسکتا(٢)
اصطلاحات مشترک
اصطلاحات مشترک سے مراد وہ جملے ہیں جو شیعہ کے نزدیک ، حدیث صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف سے متعلق اوراہل سنت کے نزدیک ، حدیث صحیح ، حسن اورضعیف سے متعلق ہیں اورفریقین کے محدثین کے نزدیک ان میں سے ہرایک کامفہوم ایک جیسانہیں ہے ، فریقین کے محدثین کی نگاہ میں چھان بین اورفریقین کے محدثین کی نگاہ میں مقاربہ اورتطبیق انجام پائے گی ۔ یہ اصطلاحات اکثراً یاسندِ حدیث سے متعلق ہیں یامتن کے ساتھ یادونوں کے ساتھ کہ ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں :
١۔مشترک سندی
٢۔ مشترک متنی
٣۔ مشترک سندی اورمتنی
٤۔ مشترک سندی کے اصطلاحات:
مشترک سندی کے اصطلاحات سند حدیث سے متعلق ہے اوروہ اصطلاح ، صحیح اور حسن
................................................
١۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٥؛مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢٠١یہ مجموعہ ساتھ ابواب پر مشتمل ہے کہ اسی باب سے لے کر باب دہم تک ان کی وضاحت ہوگی
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٥
................................................
وغیرہ کے درمیان مشترک ہے اوراس طرح ہے :
مسند ( مسند''mosnad''نون کو فتحہ کے ساتھ ، اسم مفعول اورحدیث کانام ہے ):
شیعہ محدثین:
١۔شہیدثانی: '' ہومااتّصل سندہ مرفوعاً من راویہ الی منتہاہ الی المعصوم '' (١)
یعنی مسند وہ حدیث ہے کہ اس کاسند ابتدا سے لے کر معصوم تک متصل ہو۔
٢۔ شیخ بہائی :''وان علمت سلسلۃ باجمعہافمسند'' (٢)
یعنی اگر آپ کو تمام سلسلہ سند پر علم ہوجائے تو حدیث مسند ہے ۔
٣۔علامہ سید حسن صدر : '' وان علمت سلسلۃ باجمعہا ولم یسقط منہا احدمن الرواۃ بان یکون کل واحد اخذہ فمن ہوفوقہ حتی وصل منہاالی المعصوم علیہ السلام '' (٣) یعنی اگر آپ کو سلسلہ سند پرعلم ہوجائے اور رایوں میں سے ایک بھی چھٹ نہ جائے اس طرح کہ ہرایک اس کواپنے مافوق سے اخذ کرتے ہوئے معصوم تک پہنچ جائے ۔
٤۔ علامہ مامقانی : ''مااتّصل سندہ بذکر جمیع رجالہ فی کل مربتۃ الی ان ینتہی الی المعصوم علیہ السلام من دون ان یعرضہ قطع بسقوط شیئ منہ '' (٤)
یعنی مسند وہ حدیث ہے جس کاسند ہر طبقے میں اس کے تمام راویوں کوبیان کرتے ہوئے معصوم تک
...................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٦
٢۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٣۔ نہاالدرایۃ ، ص١٨٦
٤۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢٠٢
................................................
پہنچ جائے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی چیز عارض ہوجائے کہ اس سے کوئی شیئ درمیان سے گرجائے ۔
مذکورہ تعاریف کے مطابق ''مسند'' وہ حدیث ہے کہ اس کا سند تمام طبقات میں اورتمام اس کے رجال کو بیان کرتے ہوئے معصوم تک متصل ہواور یہ حدیث منقطع کے مقابلے میں ہے ، اس بنا پر ''اتصال سند'' کی شرط سے حدیث مرسل ، معلق اورمعضل اورغایت (الی منتہاہ الی المعصوم ) کی شرط سے حدیث موقوف خارج ہوجاتی ہے ۔
شہید ثانی کا خیال ہے کہ اصطلاح ''مسند'' اکثر موقعوں پرپیامبراکرم ؐ کی طرف اسناد دیتے وقت استعمال ہوتاہے۔ (١)
شیعہ محدثین کے نزدیک ، حدیث ''مسند'' تمام راویوں کے درمیان اتّصال سند پر مشتمل ہونا چاہئےے لہذا شیخ بہائی نے جملہ ''باجمعہا'' کے ذریعے اس پر تاکید کی ہے اس رو سے حدیث مسند میں یہ شرط رکھی ہے کہ اس کے اسناد میں کسی قسم کاکوئی ایہام وغیرہ نہیں ہونا چاہئےے ۔مثلاً'' اخبرت عن فلان '' ،''حدّثت عن فلان ''، ''بلغنی عن فلان وغیرہ ''
محدثین اہل سنت :
١۔ حاکم نیشابوری :''والمسند من الحدیث ان یرویہ المحدّث عن شیخ یظہر سماع منہ واکذالک سماع شیخہ من شیخہ الیٰ ان یصل الاسناد الی صحابی مشہور الیٰ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ '' (٢)
یعنی مسند وہ حدیث ہے کہ جس کومحدّث اپنے شیخ ( استاد ) سے روایت کرے کہ اس سے اس کی
...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٦
٢۔معرفۃ علوم الحدیث ، ص١٧
................................................
سماعت ظاہر ہوجائے اسی طرح اس کے شیخ کی سماعت اپنے شیخ سے یہاں تک کہ اس کے اسناد کسی مشہور صحابی تک پہنچ جائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ تک ۔
٢۔ ابن صلاح '' ہوالذی اتصل اسنادہ من راویہ الیٰ منتہاہ واکثر مایستعمل ذالک فی ماجاء عن رسواللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ ، دون ماجاء عن الصحابۃ وعن غیرہم '' (١)یعنی مسند وہ حدیث ہے جس کے اسناد اس کے راوی سے لے کر انتہا تک متصل ہو، اوریہ ان کے لئے استعمال ہوتاہے جو پیامبر اکرمؐ سے آیاہو نہ ان چیزوں کے لئے جو صحابہ وغیرہ سے آئی ہو۔
٣۔''ہوعنداہل الحدیث مااتصل سندہ من راویہ الیٰ منتہاہ ،فیشمل المرفوع والموقوف والمقطوع ''(٢)
یعنی مسند صاحبان حدیث کے نزدیک وہ حدیث ہے جس کے سند اس کے روای سے لے کر انتہا تک متصل ہو، پس اس میں مرفوع ، موقوف ،اورمقطوع بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔
٤۔ صبحی صالح :'' اما المسند مااتصل اسنادہ من راویہ الی منتہاہ مرفوعا الی النبی ؐ ...الاّ انّ اکثر استعمالہم ہذہ العبارۃ ہوفی مااسند عن النبیؐ ''(٣)یعنی مسند وہ حدیث ہے جس کے اسناد اپنے راوی سے لے کر انتہا تک متصل اورپیامبر اکرمؐ کی جانب مرفوع ہو... مگر یہ کہ محدثین اکثر طورپر اس کو اس حدیث کے لئے استعمال کرتے ہیں جس کے اسناد پیامبراکرم ؐ کی طرف ہو۔
..........................................
١۔علوم الحدیث ، ص٤٢
٢۔تدریب الراوی ، ج١ ص، ١٨٢
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٢٨
................................................
مذکورہ تعاریف میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ حدیث مسند کی تعریف محدثین اہل سنت کی نگاہ میں وہی تعریف ہے جو محدثین شیعہ کی نگاہ میں ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ اکثر محدثین اہل سنت کے نزدیک، مسند کا اطلاق ، اسناد پیامبراکرمؐ کے ساتھ مخصوص ہے لہذا حدیث مرسل ، معضل اورمنقطع بھی اس میں شامل ہوجاتی ہےں؛ صبحی صالح کے خلاف کہ وہ معتقد ہے کہ حدیث مسند، انقطاع اور ارسال وغیرہ کے ساتھ قابل اتحاد نہیں ہے ۔(١)
حدیث مسند ، صحیح ، حسن ، موثّق یاضعیف میں سے کسی ایک کا مصداق بن سکتی ہے ؛ کیونکہ حدیث مسند میں اگر راوی صحت کی شرائط رکھتے ہوں توصحیح اوراگر حسن کی شرائط پائی جائے تو حسن ، اگر شرائط موثّق موجود ہوتو موثّق ، ورنہ حدیث ، ضعیف ہوگی ؛ کیونکہ نتیجہ ہمیشہ ، اخس مقدمتین کے تابع ہوگا۔
متصل (٢ )
١۔ شہید ثانی : '' وہومااتصل اسنادہ الی المعصوم اوغیرہ وکان کلّ واحد من رواتہ قدسمعہ فمن فوقہ '' (٣)یعنی متصل وہ حدیث ہے کہ اس کے اسناد معصوم یاغیر معصوم تک ملاہوا ہواور اس کے راویوں میں سے ہرایک اس کواپنے مافوق سے سنی ہو۔
٢۔علامہ سید حسن صدر:''وان اتّصل اسنادہ وکان کل من رواتہ قد سمعہ ممّن فوقہ ،
....................................
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٢٨
٢۔ متصل ''mottasel ''اسم فاعل اوراس کامعنی ساتھ ملنے کاہے اورمنفصل کے مقابلے میں حدیث کے لئے صفت ہے
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٧
................................................
سواء کان مرفوعا ام موقوفاعلی غیرہ فہو المتصل''(١)
اگر حدیث کے اسناد آپس میں ملاہواہو اورراویوں میں سے ہرایک اس کواپنے مافوق سے سنی ہو، چاہے وہ مرفوع ہو یا کسی غیر پرموقوف ہو، تو وہ متصل کہلائے گی ۔
٣۔ علامہ مامقانی : '' وہومااتصل سندہ بنقل کل راو عمن ، سواء رفع الی المعصوم او وقف علی غیرہ '' (٢)
یعنی متصل وہ حدیث ہے جس کے سلسلے سند آپس میں ملا ہواہو اور ہر راوی اس کواپنے مافوق سے نقل کرے ، کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ معصوم کی طرف رفع ہوئی ہو یاموقوف بہ غیر معصوم ہو۔
مذکورہ تعاریف کاماحصل یہ ہے کہ حدیث متصل وہ خبر ہے کہ اس کے راویوں میں سے ہرایک ، اپنے طبقہ ماقبل کے راوی سے بغیر کسی واسطے کے اس کونقل کرے ، خواہ معصوم تک پہنچا ہویانہ پہنچا ہو، اس کو '' موصول'' بھی کہا گیا ہے ؛ اس قسم کے حدیث متصل ، ممکن ہے موقوف بھی ہو اورمرفوع بھی ۔
حدیث متصل میں، سلسلہ سند معصوم تک پہنچنا شرط نہیں ہے ،اگر کسی خاص راوی تک بھی پہنچ جائے تو ،''متّصل نسبی '' ہوگی لہذا یہ حدیث مسند کہ اس میں تمام راوی تک بیان ہونا چاہئےے ، سے متفاوت ہے ، اگر معصوم علیہ السلام تک اتصال ہو اور تمام طبقات شامل ہو، تو حدیث مسند کے ساتھ ہم معنی اورمتصل مطلق ہوگی ، متصل کے مقابلے میں حدیث منقطع ہے ۔
محدثین اہل سنت :
.........................................
١۔نہایۃ الدرایۃ ، ص١٨٣
٢۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢٠٦
................................................
١۔ابن صلاح :'' ویقال فیہ ایضاً الموصول ... وہو الذی اتصل اسنادہ فکان کل واحد من رواتہ قدسمعہ ممّن فوقہ حتّی ینتہی الی منتہاہ '' (١)
یعنی اس کو موصول بھی کہا جاتاہے ... اوروہ یہ ہے کہ اس کے اسناد آپس میں ملا ہوا ہو اور رایوں میں سے ہر ایک اس کواپنے مافوق سے سنے یہاں تک کہ اس کی انتہاتک پہنچ جائے ۔
٢۔ سیوطی :''وہومااتّصل اسنادہ مرفوعاً کان او موقوفا'' (٢)
یعنی متصل وہ حدیث ہے جس کے سلسلہ اسناد آپس میں ملاہوا (متصل ) ہو خواہ مرفوع ہویاموقوف۔
٣۔ صبحی صالح :''امّاالمتّصل اوالموصول فہو مااتّصل سندہ سواء کان مرفوعاً الی النبی ؐ ام موقوفاً علی الصحابی اومن دونہ غیر ان الخطیب یکاد یسوّی بینہ وبین المسند''(٣)
یعنی متصل یاموصول وہ خبر ہے جس کا سلسلہ سند آپس میں ملاہواہو خواہ نبی اکرمؐ پرمرفوع ہو یا کسی صحابہ پرموقوف ہویاصحابی سے نیچے درجے والے پرمگر خطیب بغدادی کی نگاہ میں متصل اورمسند میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
اہل سنت کے محدثین کے درمیان معروف قول یہ ہے کہ حدیث متصل میں ، ہر راوی طبقہ ماقبل سے حدیث نقل کرتاہے اگرچہ ممکن ہے، مرفوع یاموقوف ہو اورسلسلہ سند معصوم تک ، کامل نہ ہو،البتہ خطیب بغدادی کی نگاہ میں متصل اور مسند کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کہ اس کانظریہ حدیث
.................................................. ..
١۔ علوم الحدیث ، ص٤٤
٢۔ تدریب الراوی ، ج١،ص١٨٣
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٣١
................................................
متصل مطلق کے متعلق صحیح ہو،حدیث متصل ، صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف میں سے کسی ایک کا مصداق بن سکتی ہے ۔
مرفوع(١)
محدثین شیعہ:
١۔ شہید ثانی : '' ہومااضیف الی المعصوم من قول ... اوفعل... او تقریر ... سواء کان اسنادہ متصلاً بالمعصوم ام منقطعاً ''(٢)
یعنی مرفوع وہ حدیث ہے کہ جس کو کسی قول یافعل یاتقریر میں معصوم کی طرف نسبت دی گئی ہو، خواہ معصوم تک متصل ہوخواہ منقطع ۔
٢۔ علامہ سیدن حسن صدر :'' فان اضیف الی المعصوم سواء اتصل سندہ ... ام کان منقطعاً ''(٣)
یعنی مرفوع وہ حدیث ہے جس کومعصوم کی طرف نسبت دی جائے ، اس کے سلسلہ سند خواہ متصل ہویامنقطع۔
٣۔ علامہ مامقانی : لہ اطلاقان: احدہما :''ماسقط من وسط سندہ اہ آخرہ واحد او اکثر مع التصریح بلفظ الرفع ... والثانی :مااضیف الیٰ المعصوم ... ای وصل آخر السند الیہ ، سواء اعتراہ قطع او ارسال فی سندہ ام لا'' ( ٤)
....................................
١۔مرفوع''marfu''اسم مفعول اور اس کا معنی ہے اوپر لیا گیا
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٨
٣۔نہایت الدرایۃ ، ص١٨٢
٤۔مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢٠٧
................................................
یعنی مرفوع کے لئے دو اطلاق ہے ، پہلایہ کہ مرفوع کے سند کے درمیان یاآخر سے ایک یا ایک سے زیادہ ساقط ہوجائیں اورساتھ ہی لفظ رفع کے ذریعے اس کی تصریح کرے دوسرا یہ کہ معصوم کی طرف نسبت دی جائے یعنی آخری سنداس تک پہنچ جائے خواہ وہ سند معصوم سے پہلے منقطع یامرسل ہویانہ ہو۔
شہید ثانی وعلامہ صدر کی تعریف کے مطابق ، مرفوع وہ حدیث ہے کہ اس کے آخری سند کو معصوم کی جانب نسبت دی جائے ، چاہے اس سے پہلے والا سند معصوم تک متصل ہویا منقطع ، حدیث موقوف کے مقابلے میں ہے کہ معصوم تک اس میں اتصال نہیں ہے ؛ ایسی تعریف محدثین کے درمیان رائج ہے لیکن حدیث مرفوع کی ایک اورتعریف کی ہے کہ علامہ مامقانی اس کو پہلی تعریف کے عنوان پر بیان کیا ہے اور اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ تعریف فقہاء کے درمیان رائج ہے جو کہ اس طرح ہے : مرفوع وہ حدیث ہے کہ اس کے درمیانی یاآخری سند سے ، ایک شخص یا ایک سے زیادہ رہ جائے اور راوی لفظ رفع کے ذریعے اس کی تصریح کرے مثلاً '' روی الکلینی عن علی بن ابراہیم ، عن ابیہ ، رفعہ عن ابی عبداللہ علیہ السلام '' کہ آخری سند میں بعض راوی حذف ہوگئے ہیں اورلفظ رفع کے ذریعے تصریح کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے سند اس طرح ہو ''عن الکلینی عن علی بن ابراہیم ، عن ابیہ؟ عن ...؟ عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال...'' (١)
آیۃ اللہ بروجردی نے بھی اس حدیث کو مرفوع قرار دیا ہے جو لفظ ''رفع '' پر مشتمل ہوکہ حقیقت میں ایک خاص شخص تک حدیث میں اتصال موجود تھا لیکن آخری سند سے یہ سند کٹ گیا ہے ۔ (٢)
.....................................
١۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢٠٧
٢۔ اصول الحدیث واحکامہ فی علم الدرایۃ ، سبحانی ، ص ٥٩
................................................
پہلے معنی میں حدیث مرفوع اورحدیث متصل کے درمیان نسبت ،''عمو وخصوص من وجہ'' ہے ، کیونکہ نقطہ اشتراک جو ہے وہ حدیث متصل میں اسناد معصوم تک ہے اورمتصل کانقطہ افتراق ، اتصال سند ، صحابہ تک ہے جو کہ غیر معصوم پرموقوف ہے اور مرفوع کانقطہ افتراق ، معصوم سے متعلق ہے اگرچہ انقطاعِ سند اس کے اندر ہے ۔
محدّثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح :''وہو مااضیف الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاصّۃ... ویدخل فی المرفوع المتّصل والمنقطع والمرسل ونحوہا''(١)
یعنی مرفوع وہ حدیث ہے کہ جس کو خاص طور پر رسول اکرم ؐ کی طرف نسبت دی جائے ... حدیث مرفوع میں ، حدیث متصل ، منقطع ، مرسل اوراس جیسی حدیث داخل ہوجاتی ہےں۔
٢۔سیوطی :''وہو مااضیف الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاصّۃقولاً کان او فعلاً اوتقریراً .(٢)
یعنی مرفوع وہ حدیث ہے جس کوخاص طور پر نبی اکرمؐ کی طرف نسبت دی گئی ہو، خواہ قولی ہویافعلی ہویاتقریری ۔
٣۔ صبحی صالح :''المشہور فی المرفوع انّہ مااضیف الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم خاصۃ من قول او فعل او تقریر سواء اضافہ الیہ صحابی ام تابعی ام من بعدہما سواء اتصل اسنادہ ام لا''(٣)
........................................
١۔علوم الحدیث ،ص٤٥
٢۔ تدریب الراوی ، ج١،ص١٨٣ ٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٢٦
................................................
یعنی مرفوع کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ وہ حدیث ہے کہ جس کوخاص طورپررسول اکرم ؐ کی طرف نسبت دی گئی ہو ، خواہ قولی ہویافعلی ہو یاتقریری ، نسبت دینے والا خواہ صحابی ہویا تابعی ہویا وہ جواِن دونوں کے بعد میں آیاہو۔ اس کا سند خواہ متصل ہویانہ ہو۔
حدیث مرفوع کی تعریف میں محدثین اہل سنت ایک نظریہ رکھتے ہیں جو کہ شیعہ مشہور نظریہ کے مطابق ہے کہ یہ وہی حدیث ہے جس کی آخری سند کو معصوم کی طرف نسبت دی گئی ہو،البتہ اس فرق کے ساتھ کہ تعاریف اہل سنت میں ،تصریح ہوئی ہے کہ حدیث کو خود پیامبر ؐ کی طرف نسبت دی جائے لیکن شیعہ تعاریف میں جملہ معصوم آیاہے جو کہ عام تر ہے ، حدیث مرفوع ، صحیح ، حسن موثق یاضعیف ہوسکتی ہے ۔
حدیث مرفوع کی کئی قسمیں ہیں؛ کیونکہ جس طرح اس کی تعریف میں آیا ہے ، جوکچھ معصوم کی طرف نسبت دی جائے وہ یاقول ہے یافعل ہے یاتقریر ، اوران میںسے ہرایک میں رفع یاصریحاً ہے یاصریحاً نہیں ہے اوررفع کے حکم میں ہے ، اس لحاظ سے اس کے لئے یہ چھے اقسام قابل تصور ہیں:
١۔ رفع قولی: صریحاً ، مثلاً راوی کہتاہے :'' سمعت المعصوم یقول کذا ''یعنی میں نے معصوم سے سنا کہ اس طرح فرماتے تھے۔
٢۔رفع فعلی : صریحاً ، مثلاً راوی کی بات کہ کہتا ہے :'' رأیتہ علیہ السلام یفعل کذا''یعنی میں نے معصوم ؑ کوایسا کرتے ہوئے دیکھا ۔
٣۔رفع تقریری ، صریحاً ، مثلاً راوی کی بات کہ کہتا ہے :''فعل فلان کذا...ولم ینکرہ علیہ السلام ولم یکن موضوع تقیۃ '' یعنی فلان نے معصوم کے سامنے فلان کام انجادیا ...اورمعصوم نے اس کو نہیں روکا ، حالانکہ تقیہ کاموقع نہیں تھا۔
٤۔رفع قولی ،حکمی :مثلاً راوی کی بات کہ بہشت اورقیامت کی خبردیتا ہے اوراس میں اجتہاد کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔
٥۔رفع فعلی، حکمی :مثلاً اعمال عبادی میں راوی کاعمل ، مثلاً مناسک حج کے اعمال کہ ان میں محل اجتہاد بھی فراہم نہیں ہے ۔
٦۔رفع تقریری ، حکمی :مثلا روای کی اس خبر پرعمل کرنا ، اصحاب نے معصوم کے حضور میں ایسا کام انجام دیا ،بعض موقعوں پرکہ بعید ہے کہ معصوم کی نگاہ سے پوشیدہ رہا ہو ۔(١)
معنعن (٢)
١۔شہید ثانی : '' وہومایقال فی سندہ فلان عن فلان من غیر بیان للتحدیث والاخبار والسماع''. (٣)
یعنی معنعن وہ حدیث ہے جس کے سند میں (بجای نام) فلان عن فلان ہواور طریق نقلِ حدیث بیان نہیں ہوا ہے کہ کیا یہ تحدیث ہے یااخبار ہے یاسماع۔
٢۔ شیخ بہائی :'' والمروی بتکریر لفظۃ عن ، معنعن '' .(٤)
یعنی وہ روایت جس میں لفظ عن مکرر آجائے وہ معنعن ہے ۔
..................................
١۔مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٧٩؛علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٢٧
٢۔معنعن ،''moanan''عنعنہ سے مصدر جعلی ہے کہ قبائل عرب کے نبی تمیم کی زبان تھی کہ ہمزہ کو''انّ'' کی جگہ پر''عین '' کی طرف تلفظ کیا ہے اورتشریح کے معنی میں ہے مراجعہ کریں ؛ دانش حدیث ؛ نجف زادہ ، ص١٤٤
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی ، ص٩٩
٤۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
................................................
حدیث معنعن وہ ہے کہ جس کے تمام یابعض سلسلہئ سند میں نقل کرنے والوں میں سے ہرایک ''عن فلان'' جملہ کے ذریعے تصریح کرے لیکن اس کے نقل کرنے کے طریق کو بیان نہ کرے کہ کیا دوسرے سے ہرناقل کاشیوہ اورطریق ِ نقل وحمل ، روایت کے ذریعے ہے یاتحدیث کے ذریعے ہے یااخبار کے طورپر یہ سلسلہ سند :''روی الکلینی ، عن علی بن ابراہیم وہو عن ابیہ وہو عن ابن عمیر وہو عن ابن أذینۃ وہو عن المعصوم علیہ السلام ''.(١)
محدّثین اہل سنت :
١۔سیوطی :''الاسناد المعنعن وہو قول الراوی : ''فلان عن فلان '' ، بلفظ عن من غیربیان للتحدیث والاخبار والسماع''.( ٢)
یعنی معنعن وہ حدیث ہے جس کے سلسلہئ سند میں جملہ '' فلان عن فلان '' موجود ہو ، لیکن یہ بیان نہ ہوا ہو کہ حدیث کاشیوہ نقل ، کیا تحدیث ہے یااخبار ہے یاسماع ؟
٢۔صبحی صالح :'' ہومایقال فی سندہ :'' فلان عن فلان '' من غیرتصریح بالتحدیث والسماع وہو علی المعتمد من قبیل الاسناد المتصل اذا توافرت فیہ ثلاثۃ شروط : عدالۃ الرواۃ وثبوت لقاء الراوی لمن روی عنہ ، والبرائۃ من التدلیس''(٣)
یعنی معنعن وہ حدیث ہے کہ جس کے اسناد میں یہ کہا جائے :'' فلان عن فلان '' لیکن یہ واضح نہ ہوکہ یہ تحدیث کے طریق پر روایت ہوئی ہے یا سماع کے شیوہ پر؟ یہ، حدیث متصلالسند کی طرح اس وقت
.................................................. ..
١۔توضیح المقال علامہ کنی ، ص٥٧ ، مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢١٠
٢۔تدریب الراوی ، ج١،ص٢١٤
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٣٣
................................................
قابل اعتماد ہے جب اس میں مندرج ذیل تین شرائط موجود ہوں:١۔راوی عادل ہو ٢۔ جس سے روایت کی گئی ہے اس کے ساتھ اس کی ملاقات ثابت ہو۔٣۔ تدلیس سے پاک ہو۔
شیعہ اوراہل سنت کے محدثین ، اسی طرح پھر ان میں سے ہرفرقے کے درمیان اس کے جواب کے بارے میں اختلاف پائے جاتے ہیں ۔ شہید ثانی کا کہنا ہے کہ ایک جماعت نے اس کومرسل یامنقطع جیسی سمجھی ہے تاکہ اس کے اتصال واضح ہوجائے ؛ کیونکہ '' عنعنہ '' اتصال سے اعم ہے اورایک جماعت نے اس کو متصل خیال کیا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ راوی اورمردی کے درمیان ، ملاقات ممکن ہواورتدلیس کے شبہہ سے بھی پاک ہو۔شہیدثانی دوسری بات کومانتا ہے اور اس کوجمہور کامنتخب سمجھتا ہے ۔(١)، سیوطی بھی اس نظریہ کوجماہیر اصحاب حدیث وفقہ واصول کامنتخب سمجھتا ہے۔(٢)ابن صلاح اس کے بارے میں کہتاہے :''والصحیح والذی علیہ العمل انہ من قبیل الاسناد المتصل والی ہذا ذہب الجماہیر من ائمۃ الحدیث ''(٣)
یعنی حدیث معنعن کے بارے میں درست بات یہی ہے کہ متصل الاسناد جیسی ہے اوراسی نظریہ کو جمہور ائمہ حدیث منانتے ہیں ۔
صبحی صالح بھی حدیث معنعن کی تعریف میں یہ تاکید کرتاہے کہ اتصال حدیث معنعن کے لئے تین شرائط ہیں : ١۔ راویوں کا عادل ہونا ٢۔ راوی کامروی سے ملاقات کاامکان ۔ ٣۔ تدلیس سے پاک ہونا۔(٤)
..............................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٩٩
٢۔ تدریب الراوی ، ج١،ص٢١٤
٣۔علوم الحدیث٦١ ٤۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٣٣
................................................
علامہ مامقانی کابھی یہ خیال ہے کہ جملہ ''عن فلان'' کااتصال میں ظہور ہونا بعید نہیں ہے اور راوی کامروی سے ملاقات کاثابت ہونا ضروری نہ ہو۔(١)
ہرحال میں راوی اورمروی کاہم عصر ہونا اورتدلیس سے پاک ہونا ثابت ہونا چاہئےے اورتدلیس سے پاک ہونے پراطمینان اس وقت حاصل ہوجاتا ہے کہ جب راوی ثقہ ہویااس پر قطعی قرائن موجود ہوں ورنہ تدلیس کااحتمال ہمیشہ رہتاہے ،حدیث معنعن ، شیعہ اور اہل سنت کے حدیث کی کتابوں ، خصوصاً صحیح مسلم میں کافی تعداد میں دیکھنے میں آتی ہیں۔
ایسا لگتاہے کہ جب بھی حرف ''عن'' سلسلہ اسانید میں واقع ہوجائے تو اس کا کرداروہی ہے جو آیہ شریفہ :'' ہوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ '' ( ٢) میں ''عن'' کے معنی میں ہے ، اورجب بھی سلسلہ سند میں واقع ہوجائے تو الفاظِ تحمّل حدیث مثلاً ؛''اخبر'' ، ''حدث '' اور''قال'' وغیرہ تقدیر میں رہیں گے اور اصل میں اس طرح ہوگا :''اخبرفلان عن فلان''وغیرہ کے اتصال پردلالت کرتاہے البتہ اگرصیغہ مجہول کی صورت میں ہوتو اتصال پردلالت نہیں کرتا ، مثلاً ''روی عن الصادق علیہ السلام ''.
شیعہ اوراہل سنت بزرگ اورعالی قدر علماء نے اپنی حدیث کی کتابوں میںان الفاظ سے کافی استفادہ کیاہیں جوکہ ان کے اتصال کے کافی ہونے پردلالت کرتاہے ورنہ دوسرے الفاظ استعمال کرسکتے تھے ۔ اسی لحاظ سے دیگر احادیث کی طرف حدیث معنعن بھی حجت اورمعتبر ہوسکتی ہے۔
......................................
١۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١،ص٢١٤
٢۔سورہ شوری آیۃ /٢٥
................................................
حدیث ''مؤنّن '' بھی جو کہ ''انّ'' سے مصدر جعلی ہے ، حدیث معنعن جیسی ہے اور یہ وہ حدیث ہے کہ اس کے سند میں جملہ ''انّ'' استعمال ہوا ہے مثلاً:''حدثّنا فلان انّ فلاناً حدثّنا '' پھر بھی محدثین میں سے تھوڑی تعداد نے ان دونوں کے درمیان فرق ڈالنا پاہی ہے ، مؤنّن کوانقطاع پرحمل کیاجائے لیکن لفظ ''انّ اورعن'' اس لحاظ سے ایک جیسے ہوںگے ۔(١)حدیث معنعن اورمؤنّن اقسام مشترک میں سے ہیں اور صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف میں سے ایک مصداق کاحامل ہوسکتی ہیں ۔
................................................
١۔مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص١٨٥
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 05:57 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب پنجم
مشترک سندی کے اصطلاحات
''معلق''
''مفرد''
''مسلسل''
باب پنجم
مشترک سندی کے اصطلاحات
باب پنجم میں اصطلاحات مشترک ِ سندی کے کچھ دوسرے اصطلاحات م(معلق ، مفرد اورمسلسل ) سے متعلق بحوث کی محدثین شیعہ اوراہل سنت کی نگاہ میں تتبع اورچھان بین ہوگی جو کہ درج ذیل ہیں:
معلق(١)
محدثین شیعہ :
١۔ شہیدثانی :''وہو ماحذف من مبدأ اسنادہ واحد فاکثر'' (٢)
یعنی معلق وہ حدیث ہے جس کے ابتداء سند سے ایک یااس سے زیادہ راوی حذف ہوجائیں ۔
............................................
١۔معلق''moallaq''اسم مفعول اورمعنی اویزان کرنے کاہے اوراس کاجمع معلقات اورمعالیق ہے۔
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠١
...........................................
٢۔ شیخ بہائی :'' اوسقط من اوّلہا واحد فصاعد فمعلّق '' (١)
یعنی جس حدیث کی ابتداء اسناد سے ایک یاایک سے زیادہ راوی ساقط ہوجائیں تو وہ معلق ہے ۔
٤۔ علامہ مامقانی :''ماحذف من اول اسنادہ واحد اواکثر علی التوالی ونسبۃ الحدیث الی من فوق المحذوف من رواتہ ''(٢)
یعنی معلق وہ حدیث ہے جس کے سند کی ابتداء سے ایک یاایک سے زیادہ راوی ترتیب کے ساتھ حذف ہوجائیں اوراس صورت میں حدیث کوراویوں میں سے فوق محذوف کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔
شیعہ محدثین کی نگاہ میں ، معلق ہو حدیث ہے کہ جس کی ابتداء سند سے ایک یااس سے زیادہ راوی ترتےب کے ساتھ حذف ہوجائے اوراس کو معلق اس لئے کہا جاتاہے کہ اس کو جملہ''تعلیق الجدار '' سے لیا گیا ہے یعنی وہ دیوار جس کے لئے کواصل اورمحکم آغاز نہ ہواورحدیث معلّق میں بھی ۔ اس کے آغاز محذوف ہے ، جیسا کہ شیخ طوسی اس طرح روایت کرے : ''عن الکلینی عن علی بن ابراہیم ، عن ابیہ عن... '' اور واضح ہے کہ شیخ طوسی اورکلینی ہم عصرنہیں ہے اوربغیر واسطہ اس سے حدیث نقل نہیں کرسکتا ، لہذا حدیث کاسند اس طرح ہوسکتاہے :''روی الطوسی عن المفید عن جعفر بن قولویہ عن الکلینی عن ...''اور اسی طرح حدیث معلق کے لئے اورایک مثال : شیخ طوسی کازرارہ یا امام محمد باقر علیہ السلام یاحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم سے روایت کرنا ۔(٣)
.................................................. .
١۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢١٥
٣۔ نہایۃ الدرایۃ ، ص١٨٧
...........................................
کہ ان سب میں ہم تعلیق دیکھتے ہیں ، البتہ اکثر مذکورہ موقعوں پرحذف شدہ راوی مشخص اور معلوم ہیں۔
تعاریف مذکور کے مطابق حدیث معلق ، حدیث منقطع ، مرسل اورمعضل سے مختلف ہے کیونکہ ''اوّل اسنادہ ''کی قید سے حدیث منقطع اور مرسل خارج ہوگئیں لہذا شیخ بہائی فرماتا ہے :
'' اوسقط من اولہا واحد فصاعد فمعلّق اوسقط من آخرہا کذالک اوکلّہا فمرسل '' (١) چونکہ حدیث منقطع سے حذف شدہ راوی سند کے وسط (درمیان ) سے ہے اورمرسل میں کوئی فرق نہیں ہے اور''واحد فاکثر'' کی قید سے حدیث معضل خارج ہوئی کیونکہ حدیث معضل میں حذف شدہ راوی ایک سے زیادہ ہیں اورکم سے کم محذوف ، دویااس سے زیادہ ہونا چاہئےے۔ ( ١)
محدثین اہل سنت :
١۔ابن صلاح :''المعلق وہو فدالذی حذف من مبتدأاسنادہ واحد او اکثر واغلب ماوقع ذالک فی کتاب البخاری وہو فی کتاب مسلم ، قلیل ''۔(٣)
معلق وہ حدیث ہے جس کی ابتداء سند سے ایک یااس سے زیادہ راوی حذف ہوجائیں اوریہ صورت صحیح بخاری میں زیادہ واقع ہوگئی ہے اورصحیح مسلم میں کم ۔
٢۔ سیوطی :'' ان یحذف من اول اسنادہ واحد فاکثر علی التوالی بصیغۃ الجزم ...
.................................................. .
١۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص ٢١٦
٣۔علوم الحدیث ، ٢٤
...........................................
وبینہ وبین المعضل عموم وخصوص من وجہ ''.(١)
یعنی حدیث معلق وہ ہے جس کی ابتداء سے ایک یااس سے زیادہ راوی ترتیب کے ساتھ اورجزمی طور پر حذف ہوجائیں اوراس کے اور حدیث معضل کے درمیان نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے (یعنی دونوں کے درمیان نقطہ اشتراک ہے اور ایک نقطہ افتراق )۔
٣۔صبحی صالح:''فہو ماحذف من مبتداً اسنادہ واحدفاکثر '' .(٢)
٤۔ نورالدین عتر: '' وہو ماحذفمبتداً سندہ سواء کان المحذوف واحد او اکثر علی سبیل التوالی ولو الی آخر السند'' (٣)
یعنی معلق وہ حدیث ہے جس کے ابتداء سے فرق نہیں ایک یا اس سے زیادہ راوی ترتیب کے مطابق حذف ہوجائیں اگرچہ سند کے اخرتک ہی کیوں نہ ہو۔
ایسا لگتا ہے کہ محدثین اہل سنت کی تعاریف حدیث معلق کے بارے میں شیعہ محدثین کی تعاریف جیسی ہیں لیکن ان میں اکثر الگ طور پر حدیث معلق کی تعریف نہیں کی ہیں بلکہ اس کوحدیث معضل کے اندر رکھ کرتعریف کی ہیں ۔(٤)
لیکن حدیث معلق ، حدیث معضل اورمنقطع جو کہ خاص اصطلاحاتِ حدیث ضعیف میں سے ہیں سے مختلف ہے اورصحیح ، حسن ، موثق اورضعیف میں سے ایک مصداق پر مشتمل ہوسکتی ہے ، شہید ثانی
.......................................
١۔تدریب الراوی ، ج١،ص ٢١٩
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٣٦
٣۔علوم الحدیث ، لابن صلاح تحقیق نوالدین عتر، ص٦٧
٤۔علوم الحدیث ، لابن صلاح ، ص٦٧ تدریب الراوی ، شرح تقریب النواوی کے ساتھ ، ج١ ،ص٢١٩
...........................................
بھی کہتاہے :'' ولایخرج المعلق عن الصحیح اذا عُرف المحذف من جہۃ ثقۃ '' (١)یعنی حدیث معلق ، صحیح سے خارج نہیں ہوتی جب محذوف ثقہ ہونے کی وجہ سے معلوم ومشخص ہو، لیکن اگر محذوف مشخص اورمعلوم نہ ہو تو معلق مرسل کی طرح ہوگی اورضعیف کے مصادق میں سےشمار ہوگی۔ ( ٢)
صبحی صالح بھی معلق کو مشترک اقسام میں سے جانتا ہے اورکہتاہے '' ویستشحر بعض العلماء فی العلق انّہ ضرب من المنقطع ... واہم مایعینینا ان الحکم علیہا الضعف الخالص لیس من الالدقہ ، فہی قابلہ لان توصف بالصحۃ والحسن ولضعف ، تبعاًلحال رواتہا''(٣)
یعنی بعض علماء کاخیال ہے کہ معلق منقطع کے اقسام میں سے ہے اورجوبات اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس پر مکمل ضعف کاحکم لگانا دقت اورغور وخوص سے خالی ہوگا(بلکہ ) یہ راویوں کے حالات کے مطابق ، صحیح یاحسن یاضعیف میں سے ایک کے ساتھ متصف ہوسکتی ہے ۔
کچھ لوگ حدیث معلق ان موارد میں سے سمجھتے ہیں کہ اس کے تمام اسناد حذف ہوگئے ہوں اورصرف ڈئریکٹ معصوم سے نقل ہوا ہو( ٤) مثلاً اس طرح کہا جائے :قال رسول اللہ ؐ ... یاقال الصادق علیہ السلام ، البتہ ایسی تعریف قول معروف کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے ۔
...............................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠١
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص ٢١٧
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٣٦۔٢٣٧
٤۔نہایۃ الدرایۃ ،صدر ، ص١٨٨؛ مستدرکات مقباس ، مامقانی ، ج٥، ص١٩٠
...........................................
جوامع حدیثی میں تعلیق کی تتبع:
کتاب ''کافی'' کے اسناد میں تتبع اورچھان بین کرنے سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اس میں احادیث معلق موجود ہیں ، اگرچہ بہت کم ہیں؛ کیونکہ کلینی کی تمام کوشش یہی رہی ہے کہ تمام اسناد کوبیان کیاجائیں ، البتہ کبھی سند کی ابتداء ماقبل سند میں موجود ہونے کے قرینے کی وجہ سے حذف ہوا ہے۔ (١) لیکن شیخ صدوق اورشیخ طوسی نے '' من لایحضروہ الفقیہ '' اور''تہذیبین '' کی کتابوں میں اکثر روایات کے اسناد کے طرق کوذکر نہیں کیا ہے کہ تعلیق کے ایک مصداق میں سے شمار ہوتاہے ؛ لیکن کتاب کے آخر میں ان کوبیان کیاہے ،لہذا یہ (طرق) معلوم ہونے کے بعد بسااوقات معلق صحیح یاحسن میں سے شمار ہوتے ہیں ۔(٢)
جوامع الحدیثی اہل سنت میں بھی تعلیق پائی جاتی ہیں ، جس طرح ابن صلاح نے بیان کیا ہے کہ صحیح بخاری اورمسلم میں تعلیق موجود ہیں ، التبہ ان کی نظرمیں صحیح مسلم میں حدیث معلق کی تعداد کم ہیں۔(٣)
مفرد(٤ )
محدثین شیعہ :
١۔شہید ثانی :''لانّہ امّا ان ینفرد بہ عن جمیع الرواۃ... او ینفرد بہ باالنسبۃ الی
........................................
١۔ اصول الحدیث ، سبحانی ، ص٦١
٢۔اصول الحدیث ، سبحانی ، ص٦١
٣۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٤، تدریب الراوی ، ج١، ص٢١٩۔٢٢٠
٤۔مفرد''mofrad''، اسم مفعول اور اس کامعنی بیگانہ ، الگ اورتنہا ہے
...........................................
جہۃ''(١)
یعنی حدیث مفرد وہ ہے کہ کبھی صرف ایک راوی اس کو نقل کرتا ہے اور دوسرے لوگ اس سے نقل کرتے ہیں ۔( یہ افراد مطلق ہے ) یاکبھی مثلاً شہر کے صرف افراد یا ایک گروپ اس روایت کونقل کرے ۔( اور یہ نسبی ہے )
٢۔ مامقانی :'' اماینفرد بہ راویہ عن جمیع الرواۃ وہو انفراد المطلق ، او ان ینفرد بہ بالنسبۃ الی جہۃ وہو النسبی کتفرد اہل بلد معیّن ''.(٢)
یعنی مفرد وہ حدیث ہے جس کویاصرف ایک روای نقل کرتاہے اس صورت میں یہ انفراد مطلق ہوگی یاکوئی خاص افراد مثلاً کسی خاص شہر کے افراد نقل کرے تو اس صورت میںیہ نسبی ہوگی ۔
٣۔ علامہ سبحانی :'' وہو الخبرالذی ینفرد بنقلہ امّا بنقلہ امّا راوٍ واحد او نحلۃ واحدۃ او اہل بلد خاص'' .(٣)
یعنی حدیث مفرد وہ ہے جس کوصرف ایک شخص (راوی ) نقل کرتے یا ایک خاص جماعت یاکسی خاص شہر کے افراد۔
جیسا کہ شیعہ محدثین کی تعاریف سے معلوم ہوا کہ مفرد وہ حدیث ہے جس کونقل کرنے والا ایک طبقہ یاتمام طبقہ میں ، ایک شخص یاایک فرقہ یا کسی خاص شہر کے افراد ہوں اس لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں :
...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٢
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص ٢١٧
٣۔اصول الحدیث واحکامہ ، سبحانی ، ص٦٢
...........................................
الف) مفرد مطلق : یہ وہ خبر ہے جس میں پہلا راوی منفرد ہواور دوسرے کے ہم طبقہ راوی اس کونقل نہ کریں ، مثلا ابوبکر کی طرف سے پیامبراکرم ؐ کی یہ حدیث :''نحن معاشر الانبیاء لانوّرث دیناراً ''.(١)
کہ صرف ابوبکر نے اس کوپیامبراکرم ؐ سے نقل کیا ہے یاعمر کے متفردات ... شہید ثانی نے اس کوانفراد مطلق میں سے جانا ہے اورفرماتاہے :''اماینفرد بہ عن جمیع الرواۃ فہو الانفراد المطلق''.(٢)
ب) مفرنسبی :وہ خبر ہے کہ صرف ایک فرقہ یاایک شہر کے افراد اس کوگروپ کی صورت میں یاانفراد کے طور پر نقل کرے شہید ثانی فرماتے ہیں :'' ان ینفرد بہ بالنسبۃ الی جھۃ وہو النسبی کتفرد اہل بلد معیّن کمکۃ والبصرہ والکوفۃ او انفرد واحد من اہلہابہ''.(٣)
یاکسی وجہ سے راوی منفرد ہے اوریہ نسبی ہے جیسا کہ ایک خاص شہر مثلاً مکہ ، بصرہ اور کوفہ کے افراد یاکوئی شخص اپنے اہل میں منفرد ہومثلاً فطحیہ کے متفردات ۔( ٤)
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح :''الافراد منقسمۃ الی ماہو فرد مطلقاً والی ماہو فرد بالنسبۃ الی جہۃ
.........................................
١۔اصول الحدیث واحکامہ ، سبحانی ، ص٦٢؛الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی،ص١٠٣
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی،ص١٠٣
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، شہید ثانی،ص١٠٣
٤۔مثال کے طور پر احمد بن الحسن بن علی بن فضّال عن عمر بن سعید عن مصدق بن صدقہ عن عمار الساباطی ، اصول الحدیث واحکامہ ، سبحانی ، ص٦٢
...........................................
خاصۃ ، امالاوّل: فہو ماینفرد بہ واحد عن کل احد... والثانی :وہو مافردبالنسبۃ فمثل ماینفرد بہ ثقۃ من کل ثقۃ '' .(١)
یعنی افراد دو حصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں : افراد مطلق اور افراد نسبی پہلا وہ ہے جو ایک راوی منفرد ہے ہر ایک سے اوردوسرا ایک خاص لحاظ سے مثلاً ایک ثقہ منفرد ہے دوسرے ثقہ سے ۔
٢۔ صبحی صالح : '' المفرد المطلق : الحدیث الذی انفرد بہ راوٍ واحد وان تعدّدت الطرق الیہ ... والفرد النسبی انما یکون فیہ ضرب من التفرد المقید براوٍ او بروایۃ عن راوٍ معیّن او اہل بلد'' .(٢)
یعنی مفرد مطلق وہ ہے جس سے ایک راوی منفرد ہواگرچہ طُرق حدیث متعدد ہو...اورمنفرد نسبی وہ ہے جس میں تفرد کی ایک ہوا کرتی ہے جو ایک راوی یاایک مخصوص راوی یاایک شہر کے افراد کے ذریعے مقیدہوتی ہے ۔
محدثین اہل سنت کی حدیث کی تعریف اوران کی اس کومفرد مطلق اورنسبی میں تقسیم کرنا ، شیعہ تعاریف کے ساتھ ایک جیسا لگتا ہے اگراصطلاح مفرد کو کسی اضافے کے بغیر حدیث کے لئے استعمال ہوجائے تو اس سے مراد وہی مفرد مطلق ہوگا اورعام طور پر اس طرح کے جملات ہوں گے :
'' ہذا حدیث تفرّد بہ فلان ''،'' یالم یروہ سوی فلان''، یا''تفرّد بہ فلان عن فلان''
حدیث مفرد ، حدیث کے چار اقسام میں سے ایک کے لئے مصداق بن سکتی ہے اورکسی حدیث مفرد کو صرف اس کے افراد کی علت سے ضعیف شمار نہیں کی گئی ہے ، حدیث مفرد مطلق ،'' شاذ''
.............................................
١۔علوم الحدیث ، ص٨٨
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٣٩
...........................................
کے مترادف نہیں ہے ، لیکن اگرحدیث مشہور کے مقابل میں آجائے تو ''شاذ'' بن سکتی ہے۔ (١) حدیث میں مفردات کی پہچان کے لئے مختلف کتابیں مثال کے طورپر کتاب ''افراد ابی حسن دارقطنی '' وغیرہ لکھی گئی ہیں ۔ (٢)
اہل سنت کے نزدیک ، حدیث مفرد سے متعلق کچھ دوسرے اصطلاحات بھی بیان ہوئے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک یہ رائج نہیں ہے ، انکی چھان بین اور تتبع کرنا مفید ثابت ہوگا کہ محدثین اہل سنت میں سے بعض نے مستقل طورپر اوربعض نے حدیث مفرد کے ذیل میں ان کو بیان کیا ہے اوریہ اصطلاحات '' متابع ، شاہداوراعتبار '' ہیں ، کیونکہ وہ حدیث جس کو مفرد سمجھی گئی ہے اس کے طُرق کی جوامع حدیثی اورمسانید سے چھان بین ہوئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے لئے شاہد اورمتابع موجود ہے یانہیں ؟ یہ اصطلاحات مندرجہ ذیل ہیں :
الف) متابع:اگر حدیـث کے راوی ، روایت کرنے میں حدیث مفرد کے راوی کے ساتھ شریک ہوتو اس کو اس حدیث مفرد کا''متابع ''کہاجاتاہے کہ خود دو قسموں یعنی تام اور ناقص میں تقسیم ہوتی ہے ؛ کیونکہ اگرمتابعت خود راوی کے ساتھ ہوتو'' تام'' اور اگرشیخ حدیث کے ساتھ ہوتو''ناقص'' کہا جاتاہے ۔
صبحی صالح کہتاہے : '' المتابع ماوافق راویہ راو آخر ممّن یصلح ان یخرج حدیثہ ، فرواہ عن شیخہ او من فوقہ بلفظ مقارب''. (٣)
......................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ، ص ٢١٨
٢۔مستدررکات مقباس الہدایۃ ، ج پنجم ، ص١٩٤
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٥٦؛اصول الحدیث ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٦، مستدرکات مقباس الہدایہ ، ج٥، ص١٩٦۔٢٠٠
...........................................
یعنی متابع وہ ہے جس کے راوی دوسرے راوی جس میں ایسی حدیث صادر کرنے کی قابلیت رکھتا ہو، کے ساتھ ہماہنگ ہو، پس وہ اپنے شیخ یااس کے مافوق سے لفظ مقارب کے ساتھ کے ساتھ روایت کرتاہے ۔
ب) شاہد : اگر کسی حدیث مفرد کے مضمون کسی دوسرے سے ذکر ہوجائے کہ اس کے متن ، حدیث مفرد کے لفظ ومعنی کے ساتھ ملتا جلتاہوتو اس کو حدیث مفرد کا''شاہد '' کہا جاتاہے کہ خود دوقسموں لفظی اورمعنوی میں تقسیم ہوجاتی ہے ، صبحی صالح کہتاہے:'' الشاہد بانہ ماوافق راوٍ راویہ عن صحابی آخر بمتن یشبہہ فی اللفظ والمعنی جمیعاً او فی المعنی فقط''.(١)
یعنی شاہد وہ حدیث ہے جس کے راوی کی روایت کسی دوسرے صحابی سے روایت شدہ حدیث کے موافق ہووہ موافقت اس متن کے ذریعے ہوجو دوسرے حدیث کے الفاظ اورمعنی کے ساتھ شباہت رکھے یاصرف معنی کے ساتھ۔
کچھ افرد حدیث شاہد اورمتابع کوہم معنی سمجھتے ہیں ، لیکن صبحی صالح ، شاہد کومتابع سے اعم سمجھتاہے۔(٢)
ج)اعتبار:اعتبارسے مراد ، متابع اورشاہد کی معرفت تک پہنچنے کاراستہ ہے ۔
ابن حجر کہتاہے :''واعلم انہ فرد لیعلم ہل لہ متابع ام لا، ہوالاعتبار''.(٣)
یعنی یاد رکھو کہ اعتبار سے مراد اس طرق کی تتبع اورچھان بین کرناہے جو اس حدیث کے جوامع ،مسانید
...........................................
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٥٦
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ٢٥٦؛ نزہۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر ، ابن حجر ص٢٣
٣۔ نزہۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر ؛اصول الحدیث ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٧
...........................................
اوراجراء میں شمار ہو تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس حدیث کے لئے متابع ہے یانہیں ؟
مسلسل ( ١ )
شیعہ محدثین :
١۔ شہید ثانی : '' وہو تتابع فیہ رجال الاسناد علی صفۃ کالتشکیک بالاصابع او حالۃ کاالقیام فی الراوی للحدیث ''. ( ٢)
یعنی مسلسل سے مراد وہ حدیث ہے جس کے راویوں میں ایک صفت پر اشتراک پایاجاتا ہے جیسا روایت کرتے وقت سب نے اپنی انگلیوں کوبند رکھے ہوئے تھے ، یا کسی حالت پرجیسے روایت نقل کرتے وقت سب کھڑے تھے ۔
٢۔ شیخ بہائی :'' ومشترکہا کلاً او جلاً فی امرخاص کالاسم والاوّلیۃ والمصافحۃ والتلقیم ونحوذالک فملسل '' (٣)
یعنی مسلسل وہ حدیث ہے جس میں موجود تمام یااکثر راوی ایک خاص امر میں مشترک ہوجیسے نام ، اوّلیت ، مصافحہ ، (ہاتھ ملانا) تلقیم وغیرہ۔
٣۔ علامہ مامقانی :'' وہو ماتتابع رجال اسنادہ واحداً فواحداً الی منتہی الاسناد علی صفۃ واحدۃ او حالۃ واحدۃ ، للرواۃ تارۃ وللروایۃ اخری'' .( ٤)
....................................
١۔مسلسل ،''mosalsal''اسم مفعول اور اس کامعنی ہے بندھی ہوئی زنجیر پے درپے
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١١٧
٣۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
٤۔مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١ ، ص٢٥٩
...........................................
یعنی مسلسل سے مراد وہ حدیث ہے جس کے راوی آخری سند تک ایک ایک کرکے کسی ایک صفت یاایک حالت میں مشترک ہوایک دفعہ یہ خصوصیات راویوں سے متعلق ہیں یاروایت سے ۔
مذکورہ تعاریف کے مطابق، مسلسل وہ حدیث ہے جس کے تمام یااکثر راویوں میں ایک خصوصیت پائی جاتی ہے ، یاروایت اورا سناد کی کیفیت معصوم تک ، ایک صفت یا ایک حالت میں مشترک ہے ، خواہ قولی ہو یافعلی ہویادونوں ہوجیسے رایوں کانام ایک جیسے ہوں یاسب ایک خاص شہر سے تعلق رکھتے ہوں یاان کے رفتار یاگفتار میں ایک خصوصیت پائی جاتی ہوں ؛ یاسب خدا یاکسی خاص لفظ کاقسم کھا کرحدیث شروع کرتے ہیں ، یاسب قیام کی حالت میں بیٹھ کرہاتھ ملارہے ہوں ، یاروایت کے اسناد اس طرح ہوں کہ بیٹا باپ سے یادن میں یاایک خاص مکان میں یاایک خاص جملے کے ساتھ روایت شروع کریں ۔
علامہ مامقانی کی تعریف میں جوکہ زیادہ کامل نظر آتی ہے ، شہید ثانی اورشیخ بہائی کی تعریف کے خلاف ، راویوں میں تسلسل کے تصویر کشی کے علاوہ ، اسناد اوراس کی کیفیت سے متعلق بھی بحث کی ہے ، شیخ بہائی کی تعریف میں ، کسی خاص صفت یاخاص حالت میں تمام یااکثر رایوں کے اشتراک کومسلسل کے نمونے میں ایک نمونہ شمار کیا جاسکتاہے ، علامہ مامقانی بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:'' وقد یقع التسلسل فی معظم الاسناد دون جمییہ '' .(١)
یعنی کبھی اکثر اسناد میں تسلسل واقع ہو جاتاہے اورسب میں واقع نہیں ہوتا۔
شیخ بہائی کی تعریف میں ''اولیت'' سے مراد یہ ہے کہ تسلسل میں پہلا شخص جس سے دوسرے حدیث سنتے ہےں اورنقل کرتے ہیں وہ انکا شیخ ہے اور ''مصافحہ'' سے مراد بھی کبھی ان کے جملے میں قول
..............................................
١۔ مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١ ، ص٢٥٩
...........................................
کے لئے صفت ہے کہ ہرکلام اوربات میں ، جملات میں سے ہروہ جملے ـ'' صافحنی بالکفّ '' استعمال کرتے ہیں اورکبھی فعل کے لئے صفت ہے جیسے '' صافحنی فلان وروی لی ...'' اور ''تلقیم '' سے مراد یہ ہے کہ راوی مثلاً کھانا کھانے وغیرہ کی حالت میں مشغول ہوتے ہوئے ، روایت نقل کرتاہے ۔(١)
محدثین اہل سنت:
١۔ ابن صلاح :'' عبارۃعن تتابع رجال الاسناد وتواردہم فیہ واحداً بعد واحد علی صفۃ او حالۃ واحدۃ''. (٢)
یعنی مسلسل سے مراد راویوں کاایک صفت یاایک حالت میں مشترک ہونا ہے ۔
٢۔ سیوطی : '' وہو ماتتابع رجال اسنادہ فواحداً علی صفۃ واحدۃ اوحالۃ واحدۃ للرواۃ تارۃ وللروایۃ اخری وصفات الرواۃ واحوالہم ایضاً'' .( ٣)
یعنی مسلسل سے مراد وہ حدیث ہے جس کے اسناد میں موجود راوی ایک صفت یاایک حالت میں مشترک ہیں ، یہ خصوصیات کبھی راوی اورکبھی روایت کے لئے پیش نظر رکھتے ہوئے اورکبھی راویوں کے حالات اورصفات سے مربوط ہیں ۔
٣۔ صبحی صالح :'' ہوالحدیث المسند المتصل الخالی من التدلیس الذی تتکرر فی وصف روایتہ عبارت او افعال مثماثلۃ ینقلہاکلّ راوٍعمن فوقہ فی السند حتی
...............................................
١۔مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، ج١ ، ص٢٥٩
٢۔علوم الحدیث ،ص٢٧٥
٣۔تدریب الراوی ، ج٢ ص ١٨٧
...........................................
ینتہی الی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم'' .( ١)
یعنی مسلسل وہ حدیث مسند اورمتصل ہے جو تدلیس سے خالی ہو اور اس روایت کی صفت میں ایک جیسے جملات اورافعال مکرر طورپرنقل ہوئے ہیں اورہر راوی اس کواپنے مافوق راوی سے نقل کرتاہے یہاں تک کہ یہ رسول اکرمؐ تک پہنچ جاتے ہیں۔
جس طرح شیعہ تعاریف میں یہ گذر گیا ، محدثین اہل سنت کی تعاریف میں بھی آیا ہے کہ تسلسل میں ، راویوں یاروایت کے اشتراک ایک صفت پرہے ، محدثین اہل سنت کی تعریف میں تمام راویوں یاروایت کے حالات کی طرف کی طرف اشارہ ہوا ہے حالانکہ محدثین شیعہ کی تعاریف میں اکثر راویوں کے اشتراک کوبھی تسلسل میں شمار کیاگیاہے اسی وجہ سے تسلسل کو دوحصوں میں تقسیم کی گئی ہے تام اورغیرتام ۔(٢)
صبحی صالح کی تعریف جو کہ تعاریف اہل سنت کے درمیان میں کامل تر نظر آتی ہے ، میں بھی اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ حدیث تسلسل میں ، سند کااتصال ہونا ، تدلیس سے خالی ہونا اور سلسلہئ سند پیامبر اکرم ؐ تک پہنچنا ضروری ہے بہ ہر حال ، حدیث کاتسلسل ، اس کے اعتبار میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا ،( ٣)لیکن ایک خاص صفت میں راویوں کی دقت قابل ذکر ہے ، اس کی بہترین قسم سماع کی اتصال میں ہوسکتی ہے ، اگرچہ حدیث مسلسل کے زیادہ مثال اورنمونے نہیں ہیں ۔( ٤)
...................................
١۔مستدرکات مقباس الہدایہ ، ج٥، ص٢٨٥
٢۔ مستدرکات مقباس الہدایہ ، ج٥،ص ٢٨٥
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایہ ، شہید ثانی ، ص١٢٠
٤۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٦٧
...........................................
حدیث مسلسل مشترک کے مصادیق میں سے ہے اورصحیح ، حسن ، موثق اورضعیف میں سے ایک مصداق پرمشتمل ہوسکتی ہے۔
احادیث معصومین ؑ میں ایک دوسرے سے حدیث مسلسل کی ایک مثال درج ذیل ہیں : ''عن الرضاعلیہ السلام ، حدّثنی ابی موسی بن جعفر ، قال : حدّثنی ابی جعفر بن محمد ، قال حدّثنی ابی محمدبن علی ، قال : حدّثنی ابی علی بن الحسین ؑ ، قال : حدثنی ابی الحسین ؑ ، قال: حدّثنی اخی ، الحسن بن علی ، قال:حدّثنی ابی ، علی بن ابی طالب ، قال:قال رسول اللہ ؐ '' خلقت أنا وعلی من نور واحد''.( ١)
فریقین کے کچھ علماء نے مسلسلات لکھنے میں پیش قدمی کی ہیں ؛ جیسے : حافظ اسماعیل بن احمد تمیمی ، محمد بن عبدالواحد مقدسی اور سیوطی ، محدثین اہل سنت میں سے اور ابومحمد جعفر بن احمد قمی وغیرہ ، شیعہ محدثین میں سے ۔(٢)
...........................................
١۔خصال صدوق ، ص٣١
٢۔مستدرکات مقباس ، ج ٥ ، ص٢٦١
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 06:09 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب ششم
مشترک سندی کے اصطلاحات
''معتبر ''
'' محکم ومتشابہ''
'' مؤتلف ومختلف''
''مشتبہ مقلوب''
''عالی ونازل ''

باب ششم
مشترک سندی کے اصطلاحات
باب ششم میں ، اصطلاحات مشترک سندی سے متعلق کچھ دیگر اصطلاحات ، جوکہ حدیث معتبر ، محکم ومتشابہ ، مؤتلف ومختلف ، مشتبہ مقلوب ، عالی ونازل '' موافقت، بدل، مساوات اورمصافحہ '' پرمشتمل ہیں ۔ محدثین شیعہ اور اہل سنت کی نگاہ سے تعریف ، چھان بین اور تطبیق ہوگی کہ مندرجہ ذیل ہیں :
متعبر (١)
محدثین شیعہ :
١۔ سید حسن صدر:''المعتبر وہو امّا لاجل کون سندہ من الصحاح او الموثّقات وامّا لاجل کونہ ممافی الاصول المعتمدۃ التی ادعی الاجماع علی اعتبارہا، سواء کانت للشیعۃ الاثنی عشریۃ ککتب زرارۃ ...وککتب غیر الامامیۃ''.(٢)
.....................................
١۔معتبر ، '' motabar''،قابل اعتبار
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص١٧٣
.................................................. .
یعنی معتبر وہ ہے جو یااس کے سند کے لحاظ سے معتبر ہے جیسا کہ سند یاصحیح ہے یاحسن ہے یاموثق یااسناد کے لحاظ سے معتبر ہے جیسا کہ یہ اصول معتمد ( قابل اعتماد)کہ جس کے اعتبار پراجماع کادعوا کیا گیا ہے ، میں سے ہے کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ شیعہ اثناعشریہ سے تعلق رکھے جیسے کتب زارہ ... یاکتب غیر امامیہ ہو۔
٢۔ مامقانی :'' ماعمل الجمیع او الاکثریہ او اقیم الدلیل علی اعتبارہ ، لصحۃ اجتہادیۃ او وثاقۃ او حسن وہو بہذا التفسیر اعمّ من القبول والقوی''. (١)
حدیث معتبر وہ حدیث ہے جس پر تمام (اصحاب ) یااکثر نے عمل کیا ہو اور اس کے اعتبار پردلیل قائم ہوئی تاکہ یہ صحیح یاحسن یاموثق بن سکے اور اس طرح اس کی تفسیر کرنے سے مقبول اورقوی دونوں شامل ہوجاتے ہیں ۔
محدثین شیعہ کے نزدیک معتبر وہ روایت ہے جس پرتمام محدثین یااکثر کے نزدیک دلیل اعتماد موجود ہو، خواہ اعتبار ، راویوں کے حالات سے پیدا ہوجائے جیسے حدیث صحیح ، حسن یاموثّق ؛ یاعمل اصحاب اور قرائن حجیت کے موجود ہونے کی وجہ سے حاصل ہوجائے ، اس بنیاد پرحدیث معتبر کادائرہ مقبول سے وسیع ہوگا ، اس لحاظ سے اعتبار کے درجات اورمراتب درج ذیل ہیں ۔(٢)
١۔ سند کے لحاظ سے ، جیسے صحیح یاحسن یاموثّق ۔
٢۔ اسناد کے لحاظ سے ، جیسے اصول معتمدسے نقل ہوئی ہو۔
اہل سنت کے نزدیک ، حدیث معتبر کی شہرت نہیں ہے اور ان کے نزدیک صرف اصطلاح
.........................................
١۔مقباس الہدایہ ، ج١، ص٢٨٢
٢۔مستدرکات مقباس ، ج٥ ،ص٢٩٣
.................................................. .
''اعتماد '' استعمال ہوتا ہے جو کہ جوامع حدیثی سے حدیث کے طرق کی تتبع اور چھان بین کانام ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ کیا اس کے لئے کوئی متابع یاشاہد ہے یانہیں ؟ (١)حدیث معتبر ، اسناد یاحالاتِ سند کے اعتبار کے لحاظ سے ، صحیح ، حسن، موثّق اورضعیف میں سے ایک مصداق پرمشتمل ہوسکتی ہے ۔
محکم ومتشابہ(متفق ومفترق)(٢)
محدثین شیعہ :
١۔شہید ثانی : '' وان اتفقت الاسماء خطاًّ ونطقاً واختلفت الآباء نطقاً مع ائتلافہا خطاًّ او بالعکس ، کان تختلف الاسماء نطقاً وتأتلف الآباء خطاًّ ونطقاً ، فہوالنوع الذی یقال لہ المتشابہ''.( ٣)
یعنی متشابہ سندی وہ ہے کہ راویوں کے نام کتابت اورتلفظ کے لحاظ سے ایک جیسا ہو اور ان کے والدوں کے نام تلفظ کے لحاظ سے مختلف ہواورکتابت کے لحاظ سے ایک جیسا ہویااس کے الٹ ہو، توان کے نام تلفظ کے لحاظ سے مختلف اورکتابت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوجاتے ہیں اور ان کے والدوں کے نام کتابت اورتلفظ کے لحاظ سے ایک جیسے ہوجاتے ہیں ۔
٢۔ سید حسن صدر :'' فان وافق الراوی آخر فی لقبہ او فی اسمہ سواء وافقہ خطّاً ونطقاً اوخطّاً فقط وکان الابوین ایضاً ہما مؤتلفین خطّاً او نطقاً او خطّاً فقط ، فہو
................................................
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٥٧
٢۔محکم ،'' mohkam''استوار اورپکا؛ متشابہ ،''motashabeh''، یعنی شبیہ
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایہ ، ص٣٨٤
.................................................. .
المتشابہ''.(١)
یعنی اگر کسی دوسرے راوی کے ساتھ اسم یالقب میں ایک جیسے ہوں خواہ یہ کتابت اورتلفظ دونوں میں ہو یاصرف کتابت میں ، اوردونوں کے والد کے نام نیز کتابت اورتلفظ دونوں میں ایک جیسے ہوں یاصرف کتابت میں تو ایسی روایت متشابہ کہلائے گی۔
٣۔ مامقانی :'' فالمحکم ماکان للفظہ معنی راجع،سواء کان مانعاً من النقیض ام لاوامّاالمتشابہ فقد یکون فی المتن وقد یکون فی السند؛فالمتشابہ متناً ہوکان للفظہ معنی غیرراجع والمتشابہ سنداً مااتّفقت اسماء سندہ خطّاً ونطقاً واختلفت اسماء آبائہم نطقاً مع الائتلاف خطّاً أو بالعکس ''.(٢)
یعنی محکم وہ ہے جس کے لفظ کے لئے راجع معنی پایا جاتا ہے یعنی اس کامعنی واضح ہے ، خواہ نقیض معنی کے لئے رکاوٹ اورمانع بن جائے یا نہ بن جائے ۔اورمتشابہ کبھی متن میں ہوتا ہے اورکبھی سند میں ، اورمتنی لحاظ متشابہ وہ ہے جس کے لئے کوئی راجع معنی نہ ہو۔(یعنی کئی معنی ہوسکتے ہوں) اورسندی لحاظ سے متشابہ وہ ہے جس کے راویوں کے نام کتابت اورتلفظ دونوں میں ایک جیسے ہوں لیکن ان کے والدوں کے نام تلفظ کے لحاظ سے مختلف اورکتابت میںایک جیسے ہوں یااس کے الٹ بھی ہوسکتے ہے۔
حدیث محکم ، کہ اس کے بارے میں بحث کم ہوئی ہے وہ حدیث ہے جس کے معنی پردلالت کرنے کے لئے کسی قرینے کی ضرورت نہیں ہوتی ، جیسے فقہی اوراخلاقی بیشتر احادیث کہ فقہاء
.................................................. .
١۔نہایۃ الدرایۃ ، ص٣٣٠
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٨٤
.................................................. .
اورمحدثین ان پراستناد کرتے ہیں ، جس طرح مامقانی نے فرمایا:اس کامعنی راجح اورواضح ہے ۔ استرآبادی بھی فرماتے ہے:''ماعلم المراد بہ من ظاہرہ من غیر قرینۃ تقترن الیہ ولادلالۃ تدلّ علی المراد بہ لوضوحہ '' .( ١ )
یعنی محکم وہ روایت ہے جس کے ظاہر سے بغیر کسی قرینے اوردلالت کے اس کے مراد اورمقصود اس کی وجاحت کی وجہ سے معلوم ہوجاتاہے ۔
حدیث متشابہ کہ مذکورہ تعاریف میں زیادہ طور پر اس سے بحث ہوئی ہے ، وہ حدیث ہے کہ خواہ جس کے متن میں یاسند میں ، اپنے مراد اورمقصد پردلالت کرنے کے لئے قرائن اور ممیزات رجالیہ کی ضرورت ہے اورتشابہ پرمشتمل ہے اکثر محدثین کی نظر میں حدیث متشابہ ، سند سے متعلق ہے لہذا شہید ثانی اورسید حسن صدر کی تعریف میں متنی تشابہ کاتذکرہ نہیں آیاہے ، صرف سند سے متعلق تشابہ کاتذکرہ کیا ہے ۔شیخ بہائی بھی صرف تشابہ سندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :''وان وافق فی اسمہ فقط والابوان مؤتلفان فہو متشابہ ''.(٢)
یعنی متشابہ (سندی ) وہ ہے جس میں صرف راویوں کے نام ایک جیسے ہوں اور والدوں کے نام بھی ایک جیسے ہوں متن سے متعلق حدیث متشابہ کی بحث کم ہوئی ہے لیکن علامہ مامقانی نے اس کی تعریف کرے ہوئے بحث کی ہے ، اوریہ وہ حدیث ہے کہ اس کامتن تشابہ پرمشتمل ہے اور اس کوسمجھنے کے لئے قرینے ( یاقرینوں ) کی ضرورت ہے تاکہ اس کامعنی واضح ہوجائے اورمامقانی کے مطابق اس کاظاہری معنی راجع اور واضح نہیں ہے جیسی وہ روایت جس کوپیامبراکرمؐ سے نقل کی گئی ہے :
........................................
١۔لب الالباب ، ص١٥، جس کو مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٨٤ نے نقل کیاہے
٢۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٩
.................................................. .
'' انّکم سترون ربّکم کما ترون ہذا القمر''.(١)
یعنی تم عنقریب اپنے پرودگار کو عیاں دیکھ لیں گے جس طرح اس چاند کو دیکھ لیتے ہیں ، کہ اس حدیث میں خدا کی رؤیتِ ظاہری کی طرف اشارہ ہوا ہے ؛ اس کے لئے ایسا رجحان نہیں رکھتا اور اس کے سند صحیح ہونے کی صورت میں ، یہ معنی ، قدرت الہی وغیرہ کی رؤیت کی طرف قابل تأویل ہے کہ دوسرے قرائن سے مددلیتے ہوئے اس کامعنی معیّن ہوگا۔
سند سے متعلق حدیث متشابہ وہ ہے کہ کتابت اورتلفظ کے لحاظ سے راویوں کے نام ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ان کے والدوں کے نام کتابت میں ایک جیسے اور تلفظ میں مختلف ہوتے ہیں ؛جیسے :محمد بن عقیل (نیشابوری )اورمحمد عُقیل (قریابی) یاان کے نام اور ان والدوں کے نام ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن لقب اور دادا کے نام مختلف ہوتے ہیں؛ جیسے : احمدبن محمد بن عیسی اشعری اوراحمد بن محمد بن عیسی برقی اوراحمد بن محمد بن خالد وغیرہ ۔
تشابہ سندی کومعلوم کرنے کے لئے ممیّزات رجالیّہ سے مدد لینا چاہئےے ،شہید ثانی نے متشابہ کے دائرہ کووسیع تر خیال کرتا ہے یہاں تک کہ ان کے مطابق اس میں ''مؤتلف اورمختلف '' ( کہ جس کی بحث بعدمیں ہوگی ) بھی شامل ہوتے ہیں۔
سند سے متعلق حدیث متشابہ کے لئے کبھی اصطلاحِ'' متّفق اورمفترق'' بھی استعمال کیا جاتاہے ۔(٢)کیونکہ اس وجہ سے کہ راویوں کے نام ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان کے نام یاوالدوں کے نام میں اتفاق ہونے کی وجہ سے ''متّفق '' کہا جاتاہے اور اس وجہ سے کہ ، اگرچہ ان کے نام یاان
......................................
١۔صحیح بخاری ، ج١ ، باب فضل صلاۃ العصر
٢۔اصولا لحدیث واحکامہ ، ص٨١
.................................................. .
کے والدوں کے نام ایک جیسے اور تشابہ پرمشتمل ہے ، لیکن حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں اور دویاکئی شخص شمار ہوتے ہیں، ''متفرق'' کہاجاتاہے کہ ممیّزات رجالیہ کے ذریعے ان کا افتراق معلوم ہوجاتا ہے ۔ وہ نام یاوالد کے نام کے لحاظ سے متفق ہیں لیکن مسمی میں باہم مختلف اورمفترق ہیں ۔
اکثر محدثین اہل سنت نے بھی متشابہ سے متعلق بحث وگفتگو کی ہیں لیکن ان میں سے بعض نے'' متفق ومفترق''کے بارے میں بحث کی ہے ، جیسے ابن کثیر ،ابن صلاح ، سیوطی ، محدثین متأخر ، جیسے :ڈاکٹر صبحی صالح اور ڈاکٹر عجاج وغیرہ ۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح :'' ہذاالنوع متفق لفظاً وخطّاً فاحدہا :المفترق ممّن اتفقت اسماؤہم واسماء آبائہم ... ، القسم الثانی :المفترق ممّن اتفقت اسماؤہم واسماء آبائہم اجداد ہم او اکثر... القسم الثالث : مااتفق من ذالک فی الکنیۃ والنسبۃ معاً و...''.(١)
یعنی تشابہ کے یہ نوع تلفظ اورکتابت دونوں میںا یک جیسے ہیں (ان کے تین اقسام ہوتے ہیں ) پہلا ان سے جن کانام اوران کے والدوں کے نام ایک جیسے ہوں، مختلف ہے دوسراان سے جن کے نام اوران کے والدوں کے نام اوران کے اجداد کے نام ایک جیسے ہوں ، مختلف ہیں ، اور تیسرا کنیت اورنسبت دونوں ایک جیسی ہیں۔
٢۔ ابن کثیر :'' ان یتّفق اثنان او اکثر فی الاسم واسم الاب ، مثالہ: الخلیل بن احمد
..........................................
١۔علوم الحدیث ، ص٣٥٧
.................................................. .
ستۃ '' ( ١)
متشابہ وہ ہے جس میں دو یادو سے زیادہ راوی ، ان کے نام اوروالد کے نام ایک جیسے ہوتے ہیں جیسے چھے شخص خلیل بن احمد کے نام سے ہیں۔
٣۔ سیوطی:'' المتفق والمفترق من الاسماء والانساب ونحوہا وہو متفق خطاً ولفظاً وافترقت سمیاتہ وہو اقسام :الاوّل من اتفقت اسمائہم واسماء آبائہم کالخلیل بن احمد ، والثانی من اتّفقت اسمائہم واسماء آبائہم واجداد ہم ، والثالث :ماتّفق فی الکنیۃ والنسبۃ معاًو... والمتشابہ ہونوع یترکّب من نوعین الذین قبلہ وہو ان یتفق اسماؤ ہما او نسبہماویختلف ویأتلف ذالک فی ابویہما او عکسہ ''. (٢)
یعنی اسماء اور انساب وغیرہ میں متفق اورمفترق سے مراد کتابت اور تلفظ میں ایک جیسا ہونا اورمسمیٰ اسماء کامختلف ہونا ہے ، اوراس کے کئی اقسام ہیں :پہلا یہ کہ راویوں کے نام اوران کے والدوں کے نام ایک جیسے ہوں ، جیسے خلیل بن احمد اور دوسرا یہ کہ راویوں کے نام اور ان کے آباوواجداد کے نام ایک جیسے ہوں ، اور تیسرا یہ کہ کنیت اور نسبت دونوں میں ایک جیسے ہوں... اورمتشابہ ایک ایسا نوع ہے جو اپنے ماقبل دو نوع سے مرکب ہوتا ہے اوراس سے مراد ہے کہ دونوں کے نام ونسب ایک جیسے ہوتے ہیں اوردونوں کے والد کے نام میں اختلاف پایاجاتاہے یااس کاالٹ بن جاتاہے ۔
مذکورہ تعاریف کے مطابق یہ نتیجہ نکال سکتاہے کہ اہل سنت کے نزدیک متفق اورمفترق ،
........................................
١۔الباعث الحشیث، ص١٥٧
٢۔تدریب الراوی ، ج٢، ص٣١٦۔٣٢٩
.................................................. .
وہی سند سے متعلق حدیث متشابہ ہے کہ سیوطی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حدیث کے سند میں بعض راویوں کے نام تلفظ اورکتابت میں ایک جیسے ہوتے ہیں اور اسی طرح بسااوقات آباؤواجداد اورکنیت میں بھی تشابہ ہوتی ہے،حالانکہ حقیقت میں ایک دوسرے سے الگ ہیں اورمتعدد مصادیق پرمشتمل ہوسکتا ہے کہ ابھی ہرایک کی تشریح کرنا ضروری نظر نہیں آتا۔
کچھ لوگ جیسے شیخ بہائی سند سے متعلق متشابہ اورمتفق ومفترق کے درمیان فرق کا قائل ہے اورکہتے ہیں کہ کتابت اورتلفظ کے لحاظ سے تشابہ صرف نام میں ہو، لیکن والدوں کے نام صرف کتابت میںا یک جیسے ہیں اورتلفظ میں مختلف ہیں ، تو ان کومتشابہ کہاجاتاہے ، جیسے :محمد بن عقیل فتحہ اورضمہ کے ساتھ ''عَقیل اور عُقیل ''،لیکن والد کے نام میں بھی کتابت اورتلفظ دونوں کے لحاظ سے تشابہ ہو، تو اس کومتفق اور مفترق کہتے ہیں ؛ کیونکہ اختلاف مسمی میں ہے ، جیسے :احمد بن محمدبن عیسی (اشعری اوربرقی) ، شیخ بہائی فرماتے ہیں :'' ان وافق فی اسمہ واسم ابیہ آخر لفظاً فہو المتّفق والمفترق ... او فی اسمہ فقط والابوان مؤتلفان فہو المتشابہ ''. (١)
یعنی راوی نام میں اوروالد کے نام میں لفظاً متفق اورایک جیسے ہوں تو متفق اورمفترق ہوگا ، یاصرف نام میں متفق ہوں اور والدوں کے نام بھی ایک جیسے ہوں تو متشابہ ہوگا۔ حدیث محکم ومتشابہ ، اصطلاحات مشترک میں سے ہے اورصحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف میں سے ایک مصداق پرمشتمل ہوسکتی ہے ۔
مؤتلف اورمختلف (٢)
...........................................
١۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٩
٢۔مؤتلف،''mwtalaf''اجتماع شدہ مختلف ،'' moktalaf''
.................................................. .
محدثین شیعہ :
١۔ شیخ بہائی :''ان وافق خطّاً فقط فہو المؤتلف والمختلف ''.(١)
یعنی نام صرف کتابت میں ایک ہوں تو مؤتلف اور مختلف کہتے ہیں ۔
٢۔سید حسن صدر:'' وہو مااتفقت اسماء الرواۃ فیہ خطّاً واختلت لفظاًسواء کان مرجع الاختلاف الی النقط او الشکل'' .(٢)
یعنی مؤتلف اورمختلف وہ ہے جوراویوں کے نام میں کتابت کے لحاظ سے ایک ہوں لیکن لفظاً مختلف ہوں ، خواہ اختلاف نقطوں کی وجہ سے ہویاشکل کے لحاظ سے ۔
٣۔علامہ مامقانی :'' ومجموعہما اسم لسند اتفق فیہ اسمان فمازاد خطّاً واختلف نطقاً '' .(٣)
یعنی دونوں کامجموع سند کے لئے ایک نام ہے جس میں دو اسم کتابت میں ایک جیسے اورتلفظ میں مختلف ہیں ۔
مؤتلف اور مختلف سند حدیث کے لئے صفت ہے اورحدیث مختلف کاغیر ہے جو کہ حدیث کے متن کے لئے صفت تھی ، مؤتلف اورمختلف اس حدیث کو کہاجاتاہے کہ اس کے سند میں راوی کانام اس طرح ہے کہ کتابت میں شبیہ اورایک جیسا یااگر اعراب اورنقطہ نہ ہوتو بالکل ایک دوسرے کے شبیہ ہے لیکن تلفظ میں مختلف ہوتے ہیں۔
.....................................
١۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٩
٢۔نہایۃ الدرایۃ ،ص٣٢٤
٣۔مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٩١
.................................................. .
حدیث مؤتلف اورمختلف میں منع اختلاف ، جس طرح سید حسن صدرنے اس کی طرف اشارہ کیا، کلمہ کانقطہ یااعراب ہوتاہے ، جیسے جریر اورحریز شریح اور سریج ، بشّار اور یسّار ، حنّان اورحیّان ، عَقیل اورعُقیل ، رَشید اوررُشید وغیرہ ۔
شہید ثانی بھی اصطلاح مؤتلف اورمختلف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:'' ان اتّفقت الاسماء خطّاً واختلفت نطقاً''. (١)بعض اس کوایک جیسا تشابہ سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا لگتاہے کہ سند سے متعلق تشابہ مختلف ہے ، کیونکہ کتابت اورتلفظ میں ، متشابہ سندی کی طرح ، مکمل طور پر ایک جیسا نہیں ہے ۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح :''وہو مایأتلف ای تتفق فی الخط صورتہ وتختلف فی اللفظ صیغتہ '' .(٢)
یعنی مؤتلف ومختلف وہ ہے کہ کتابت میں اس کی شکل ایک جیسی ہے لیکن تلفظ میں اس کاصیغہ مختلف ہے۔
٢۔ ابن کثیر :''ماتتفق فی الخط صورتہ وتتفق فی اللفظ صیغتہ '' .(٣)
یعنی کتابت اس کی شکل اورتلفظ میں اس کاصیغہ ایک جیسے ہیں۔
٣۔ سیوطی :'' وہومایتفق فی الخط دون اللفظ ''.(٤)
........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٨٥
٢۔علوم الحدیث ، ص٣٤٤
٣۔ الباعث الحشیث، ص١٥٥
٤۔تدریب الراوی ، ج٢، ص٢٩٧
.................................................. .
یعنی حدیث مؤتلف ومختلف وہ ہے جو کتابت میں راویوں کانام ایک جیسا ہے لیکن تلفظ میں اختلاف پایاجاتاہے ۔
ڈاکٹر صبحی صالح اور ڈاکٹر عجاج وغیرہ معاصر محدثین اہل سنت میں سے ہیں ، اصطلاح '' مؤتلف اورمختلف '' کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے ، لیکن ان سے پہلے والے محدثین نے اس اصطلاح میں تتبع اورچھان بین کی ہے؛ جس طرح ابن صلاح ، ابن کثیر اور سیوطی کی تعاریف میں یہ بات گزرگئی کہ مؤتلف ومختلف وہ حدیث ہے کہ راوی کانام سند میں شکل کے لحاظ سے ایک جیساہے لیکن تلفظ کے لحاظ سے مختلف ہے کہ تعاریف شیعہ سے ملتا جلتاہے ۔ وہ حدیث مؤتلف ومختلف کے لئے مندرجہ ذیل مثالیں پیش کرتے ہیں : سلّام، عُمارۃ اورعِمارۃ ، حِزام اورحَزام ، کرِ یز اور کُریز ، غنّام اورعثام ۔قُمیر اورقَمیر، حمّال اور جمّال ، بَشار اوریسار اوریَزید اوربرید وغیرہ ۔(١)
مشتبہ مقلوب:
اس حدیث کانام ہے کہ جس کے راوی ، کسی دوسرے راوی کے نام کے ساتھ شباہت رکھنے کی وجہ سے ، بسااوقات ذہن مشتبہ ہوجاتاہے اورغالباًیہ ان راویوں سے متعلق ہے جن کے نام اوروالدوں کے نام کسی دوسرے راوی سے ملتے جلتے ہیں ، جیسے یہ کہ ایک راوی کانام ، کسی دوسرے راوی کے نام کے ساتھ کتابت اور تلفظ دونوں میں ، ذہن میں لاتے ہوئے اورتلفظ کرتے ہوئے جابجا اورمقلوب ہوجاتے ہیں ،جیسے : احمد بن محمد بن یحی ، عطار قمی ہے اور دوسرا محمد بن احمد بن یحی ، کتاب '' نوادرالحکمہ'' کامؤلف ہے ۔
مامقانی فرماتے ہیں :'' ہو اسم للسند الذی یقع الاشتباہ فیہ فی الذہن لافی الخط و
.......................................
١۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٣٤٥۔٣٥٧
.................................................. .
یتفق ذالک فی الرواۃ المتشابہین فی الاسم والنسب المتمایزین بالتقدیم والتأخیر''(١)
یعنی مشتبہ مقلوب وہ حدیث ہے جس کے سند سے متعلق ذہن اشتباہ میں پڑجاتاہے نہ کتابت میں ، اوریہ ان راویوں کے نام میں واقع ہوتاہے جواسم اورنسب میں تشابہ رکھتا ہے اوران کوآگے پیچھے کرنے سے اشتباہ ختم ہوجاتاہے ۔
علماء اہل سنت میں سے سیوطی کہتاہے :'' المشتبہ المقلوب وہو ممایقع فیہ الاشتباہ فی الذہن لافی الخط والمراد بذالک الرواۃ المتشابہون فی الاسم والنسب المتما یزون باالتقدیم والتأخیر''(٢)
یعنی مشتبہ مقلوب وہ حدیث ہے جس کے بارے میں ذہن اشتباہ واقع ہوجاتاہے نہ کتابت کے لحاظ سے ، اوراس سے مراد وہ راوی ہےں جن کے نام ونسب میں تشابہ پایا جاتاہے ، جن کو آگے پیچھے کرنے سے معلوم ہوجاتاہے ۔
محدثین شیعہ اوراہل سنت کے نزدیک حدیث مشتبہ ومقلوب کاکوئی خاص رواج نہیں ہے اور اس وجہ سے کہ راوی کانام قابل اشتباہ اورجابجا ہوتاہے ، ''مشتبہ ''نام ملاہے اور '' حدیث مقلوب '' جو حدیث ضعیف کے اقسام میں سے ہے ، مختلف ہے حدیث مشتبہ مقلوب ، حدیث صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف میں سے ایک کا مصداق بن سکتی ہے ۔ اس کی دوسری مثالیں یہ ہیں ـ: ولید بن مسلم اور مسلم بن ولید، یزید بن اسود اور اسود بن یزید وغیرہ ، خطیب بغدادی کی کتاب '' رافع الارتیاب فی
.........................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج ١، ص٢٨٥
٢۔تدریب الراوی ، ج٢ ، ص ٣٣٤
.................................................. .
المقلوب من الاسماء والانساب'' . حدیث مشتبہ کے اشتباہ کوختم کرنے کے لئے لکھی گئی ہے ۔
شہید ثانی نے ، حدیث مشتبہ کومستقل طور پر بیان نہیں کیاہے ، لیکن حدیث مقلوب کی بحث میں اس کے بارے میں فرماتے ہیں :'' فی المقلوب ... وقد یقع سہواً لحدیث یرویہ محمد بن احمد بن عیسی عن احمد بن محمدبن عیسی '' .(١)
یعنی کبھی حدیث مقلوب میں بھولے سے ایک حدیث کی خاطر جس کومحمد بن احمد بن عیسی نے احمد بن محمد بن عیسی سے روایت کرتا ہے ، اشتباہ ہوجاتا ہے ۔ شیخ بہائی نے بھی حدیث مقلوب میں اس کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایاہے:''او بدّل بعض الرواۃ ... بغیرہ سہواً''.(٢)اورکچھ راویوں کے نام کوسہواً دوسرے کے ساتھ بدل کیا ہے ، شہید ثانی نے'' مشتبہ '' اصطلاح کابھی ذکر کیاہے اوراس کوضعیف کے اقسام میں سے جانا ہے ، کہ اس کی تعریف '' حدیث مقلوب ''میں آئے گی۔
عالی اورنازل ( ٣)
محدثین شیعہ :
١۔ شہید ثانی :'' وہو قلیل الواسطۃ مع اتصالہ '' (٤)
یعنی عالی وہ حدیث ہے جس کامعصوم ؑ تک سلسلہ سند میں راویوں کی تعداد کم ہو ، درمیان میں واسطہ کم ہو۔
...............................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٥٠
٢۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٨
٣۔عالی ''Ali''اسم فاعل اور اس کامعنی ہے بلند وبالا، نازل ''nazel''اسم فاعل اور اس کامعنی ہے نیچے ، کم قیمت
٤۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١١٢
.................................................. .
٢۔ شیخ بہائی :'' قصیر السلسلۃ عالٍ ''.(١)
یعنی جس حدیث کاسلسلہ سند کم ہووہ عالی ہے ۔
٣۔مامقانی :'' فالعالی من السند فی الاصطلاح ہو قلیل الواسطۃ مع اتصالہ والنّازل بخلافہ ''.(٢)
یعنی اصطلاح میں سند عالی سے مراد ، سلسلہ سند میں اتصال ِ سند کے علاوہ واسطہ کم ہونا ہے اور نازل وہ حدیث ہے جس میں یہ خصوصیت نہ ہو۔
حدیث عالی وہ حدیث ہے جس میں معصوم تک راویوں کی تعداد کم ہو اور سلسلہ سند متصل ہونے کے ساتھ چھوٹا ہو، اگر راویوں کی تعداد زیادہ ہوں تو حدیث نازل کہلائے گی ؛ جیسا کہ مذکورہ تعاریف میں بیان ہوا کہ سند کا چھوٹا ہونا بڑی اہمیت رکھتی ہے جس حدیث کاسند عالی ہو ، محدثین اس کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں کیونکہ مسلمان یہود کے الٹ ، سند کے ذکر ہونے اور درج ہونے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اورحدیث اگرمتصل اورسند چھوٹا ہوتو بہت اہمیت رکھتی ہے اور اسی وجہ سے احادیث کاسند عالی ہونے کے لئے لمبی اورکھٹن سفر کو برداشت کیا کرتے تھے ، لہذا شہید ثانی فرماتے ہیں :'' طلب علوّالاسناد سنّۃ عند اکثر السلف وقد کانوا یرحلون الی المشایخ فی اقصی البلاد لاجل ذالک ''. (٣)
یعنی گذشتہ بزرگوں کے نزدیک عالی سند احادیث کوحاصل کرنا ایک سنت تھی لہذا وہ ان احادیث
........................................
١۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٥
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج ١، ص٢٤٣
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١١٢؛ علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٥٦؛تدریب الراوی ، سیوطی ،ج٢ ، ص ١٦٠
.................................................. .
کوہاتھ میں لانے کے لئے دو ر دراز علاقوں تک بزرگانِ حدیث کے پاس سفر کرکے جاتے تھے ۔
سند کاعالی ہونا حدیث کومحتمل خرابکاریوں سے بچنے کاباعث بنا، اسی وجہ سے عالی السند حدیث کودوسری احادیث پرتقدم حاصل ہے کیونکہ اس میں خطا اور نسیان کااحتمال بہت کم ہوتاہے ؛ اگرچہ بعض مواقع پرحدیثِ نازل السند کواس وجہ سے کہ اس کے راوی ، عالی السند حدیث کے مقابلے میں زیادہ ثقہ ، ضابط اورحافظ ہونے کی وجہ سے عالی سند حدیث پر فوقیت دی گئی ہے ، لیکن عام طور پر کہ راوی ایک جیسے ہوتے ہیں ، ہمیشہ عالی سند حدیث کو تقدم حاصل ہے ۔(١)شہید ثانی بھی فرماتے ہیں :'' قد یتّفق فی النزول حینئذ اولی ''(٢)وہی پہلی بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی حدیث نازل ، عالی پر، راویوں کے کچھ خصوصیات کی وجہ سے مقدم ہوتی ہے ، مترجم۔
احادیث عالی کے پہچان اور راویوں کے درمیان اتصال کی شرط کومعلوم کرنے کے لئے ، حدیث کے طبقات کے پہچان ایک امر لازم ہے ؛ کیونکہ بسااوقات ظاہری طور پر عالی سند ہے لیکن ممکن ہے کہ کچھ راوی اس کے سلسلہ سند سے چھٹ گئے ہوں یاراوی اپنے ماقبل راوی سے جو اس کامعاصر نہ ہو، روایت نقل کرے ، کہ اس صورت میں حدیث نازل السندمیں سند متصل ہونے کی وجہ سے مقدم ہوگی کیونکہ کبھی حدیث میں تدلیس کرنے والے اس وجہ سے کہ حدیث عالی سند جلوہ دیدے اس کے سند کو چھوٹا کرتے ہیں تاکہ اس حدیث کے اعتبار زیادہ ہوجائے ؛ اس وجہ سے صرف راویوں کی تعداد کم ہونا حدیث کے اعتبار کا باعث نہیں بنتا ، بلکہ اتصال کی شرط بھی بہت لازمی اورضروری ہے۔
.................................
١۔مقباس الہدایۃ ،مامقانی ، ج ١، ص٢٤٦؛نہایۃ الدرایۃ ، ص٢٠٧
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١١٢
.................................................. .
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح :''اوّلہا: القرب من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ باسناد نظیف غیر ضعیف وذالک اجلّ انواع العلّو ... والثانی ... القرب من امام من ائمۃ الحدیث ''. ( ١)
یعنی عالی کی دو قسمیں ہیں ، پہلی :اچھے اسناد اور غیر ضعیف کے ذریعے رسول اکرم ؐ کے نزدیک ہو یہ بہترین انواع علوہے اور دوسری ائمہ حدیث میں سے ایک امام کے نزدیک ہو۔
٢۔ سیوطی :'' وہو ای العلوّ اقسام خمسۃ اجلّہا، القرب من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ من حیث العدد باسناد صحیح نظیف ''. (٢)
یعنی عالی کے پانچ اقسام ہیں ان میں بہترین عالی وہ ہے جو تعداد راوی اور صحیح اسناد کے لحاظ سے رسول اکرم ؐ کے نزدیک ہو۔
٣۔ صبحی صالح :'' فالاسناد العالی المطلق ہوماقرب رجال سندہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ بسبب قلّۃ عددہم اذا قِسوا بسند آخر یرد فی ذالک الحدیث نفسہ بعدد کثیر'' .(٣)
یعنی مطلق عالی اسناد وہ ہے جوراویوں کی تعداد کم ہونے کے لحاظ سے اس کاسند رسول اکرم ؐ کے نزدیک ہوجب یہ دوسرے سند کے ساتھ کہ اس کے ذریعے وہی حدیث نقل ہوئی مقابلہ کرے تو ( معلوم ہوتا ہے کہ ) زیادہ تعداد میں راویوں سے نقل ہوئی ہے ۔
..................................
١۔علوم الحدیث ، ص٢٥٦
٢۔تدریب الراوی ، ج٢ ، ص١٦١
٣۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٥٠
.................................................. .
محدثین اہل سنت کی نظر میں عالی سند حدیث کی تعریف وہی ہے جو شیعہ محدثین کی نگاہ میں ہے ، اگرچہ وضاحت سے خصوصاً ان کے متقدمین کے درمیان ، ''تعداد راوی کی کمی اورمتصل ہونے کی شرط ''کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے اور ان کی تعریف میں زیادہ جملہ ''قرب اسناد '' استعمال ہوا ہے اوران کے اقسام کوبیان کیا ہے ، لیکن ہر حال میں یہ نکتہ مسلّم ہے کہ حدیث عالی سند ، خواہ جس لحاظ سے ہو، راویوں کی تعداد کم ہونے اورمتصل ہونے کی وجہ سے ،حدیث نازل کے مقابلے میں معتبر اوربرتر ہے ۔
البتہ یہ واضح ہے کہ عالی اور قرب اسناد ہونا اس کے سند صحیح ہونے پر دلالت نہیں کرتی، بلکہ رایوں کے حالات معلوم کرنے سے احادیث کی منزلت ، صحیح یاحسن وغیرہ ہونے کے لحاظ معیّن ہوجاتی ہے ، لہذا محدثین نے عالی ونازل کی پہچان کے لئے ، راویوں کے حالات کے شناخت کی طرف زیادہ اہمیت دی ہے ۔ (١)حدیث عالی اورنازل مشترک اقسام میںسے ہیں اورحدیث صحیح اورحسن وغیرہ میں سے ایک مصداق پرمشتمل ہوسکتی ہے ۔
علوّکے اقسام :
حدیث عالی اس کے درجات کے لحاظ سے کئی اقسام پر مشتمل ہے اور حدیث نازل اس کامخالف ہوگی حدیث عالی کی تقسیم بندی محدثین شیعہ کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ اور اسی طرح محدثین اہل سنت کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ ایک جیسی نہیں ہے ؛ اس بناپر محدثین اہل سنت اور شیعہ کے درمیان ، اس کے اقسام پر کلی طور پر اتفاق نہیں ہے ،پہلے محدثین اہل سنت اور شیعہ کی طرف سے انجام شدہ تقسیم بندی کی طرف اشارہ ہو گا پھر بہترین تقسیم بندی کے بارے میں بحث
.....................................
١۔مقباس الہدایۃ ،مامقانی ، ج ١، ص٢٤٧؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٧٠
.................................................. .
کریں گے ۔
علوّ کے لئے شہید ثانی تین اقسام بیان کرتے ہیں :
١۔ علوّ مطلق یاغایۃ القصویٰ کہ وہی معصوم ؑ تک قرب الاسناد ہے ۔
٢۔ قرب الاسناد ، ائمہ حدیث جیسے شیخ طوسی ، صدوق اورکلینی تک ۔
٣۔ اسناد حدیث میں دو راویوں میں سے ایک کا زمان سماع مقدم ہونا۔
انہوں نے آخری دو قسموں کو '' علوّ نسبی '' سمجھتے ہیں ، البتہ اس کے درجہ اعتبار کوبھی کم سمجھتے ہیں اورایک قسم بیان کرتے ہیں کہ دوسروں نے بھی علوّ کے اقسام میں اضافہ کیا ہے وہ علوّ راوی کے تقدم وفات میں ہے ۔(١)آیۃ اللہ سبحانی نے بھی مذکورہ تقسیم بندی کو پسند کیا ہے ۔( ٢)
آیۃ اللہ سید حسن صدر ، علوّ کے لئے پانچ اقسام ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں :
١۔ معصوم تک قرب الاسناد ہونا کہ وہی علوّمطلق ہے ، جیسے ثلاثیات کلینی اوربخاری۔
٢۔ ائمہ حدیث میں سے ایک تک قرب الاسناد ہونا ،جیسے محمّد ون ثلاثِ(کلینی ، صدوق ، اورطوسی ) اول واُخر کہ وہی علوّ نسبی اوراضافی ہے ۔
٣۔ علوّ تقدم سماع کے لحاظ سے ۔ ٤۔ علوّ جوامع اربعۃ یاشیعہ کے نزدیک دوسرے اصول معتبر سے روایت کرنے کے لحاظ سے یااہل سنت کے نزدیک صحاح ستۃ سے روایت کرنا کہ یہ چار صورت بن سکتی ہے ، موافقت ، ابدال ، مساوات اورمصافحہ ۔(٣)
........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١١٣
٢۔اصول الحدیث واحکامہ فی علم الدرایۃ ،ص٧٠
٣۔نہایۃ الدرایۃ ، ص٢٠٧
.................................................. .
علامہ مامقانی نے بھی اس کی تقسیم بندی کی ہے اوریہ زیادہ کامل نظر آتی ہے :
١۔ معصوم تک قرب الاسناد ہونا، ( علوّ مطلق یاغایۃ القصویٰ )
٢۔ ائمہ حدیث تک قرب الاسناد ہونا۔
٣۔ علوّ ،قابل اعتماد کتب احادیث سے روایت کرنے کے لحاظ سے کہ اس کو'' علوّتنزیل'' نام دے سکتا ہے اورچار شکل اختیار کرتی ہے ؛ بدل ، مساوات اورمصافحہ ۔
٤۔ علوّ تقدم سماع کے لحاظ سے ۔ ٥۔علو تقدم وفات کے لحاظ سے یہ دوسری ، تیسری اوچوتھی قسم کو'' علوّنسبی'' سمجھتے ہیں۔(١)
محدثین اہل سنت کے درمیان دو اور تقسیم بندی پائی جاتی ہے ، پہلے ابن حجر اورڈاکٹر صبحی صالح نے علوّ کودو قسموں ، مطلق اورنسبی میں تقسیم کیا اور علوّ مطلق کومعصوم تک قرب الاسناد ہونا اورعلو نسبی کو ائمہ حدیث تک قرب الاسناد ہونا یاکتاب قابل اعتماد میں ہونا یا تقدمِ وفات راوی یاتقدم سماع سمجھتے ہیں اور علونسبی کواس کے درجات کے لحاظ سے چار اقسام کاخیال کرتے ہیں وہ چار اقسام یہ ہیں :موافقت ، بدل ، مساوات اور مصافحہ (٢)
ایک اورتقسیم بندی ، ابن صلاح ، سیوطی اورڈاکٹر عجاج نے پیش کیا ہے کہ اس میں علوّ دو قسموں یعنی مطلق اورنسبی میں تقسیم ہوتی ہے اورعلوّ نسبی کے اقسام میں سے ایک کے لئے خاص تقسیم بیان ہوتی ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
الف: علوّ مطلق : معصوم علیہ السلام تک قرب الاسناد ہونا۔
......................................
١۔ مقباس الہدایۃ، ج١ ، ص٢٤٧
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، صبحی صالح ، ص٢٥٠
.................................................. .
ب: علوّ نسبی: ١۔ ائمہ حدیث تک قرب ہونا۔ ٢کتاب قابل اعتماد تک قرب ہونا جیسی صحیحین اورسنن اربعۃ کہ سیوطی نے اس کوعلوّ تنزیل نام رکھا ہے ۔اس قسم کے لئے چار شکلیں ہیں ؛ موافقت ، بدل ، مساوات اورمصافحہ ۔ ٣۔ علوّ راوی کے تقدم وفات کے لحاظ سے ۔ ٤۔ علوّ تقدم سماع کے لحاظ سے ۔
محدثین اہل سنت کی دوسری تقسیم بندی علامہ مامقانی کی تقسیم بندی کے ساتھ زیادہ شباہت رکھتی ہے یہ تقسیم بندی زیادہ کامل نظر آتی ہے لہذا اب اس کے اقسام کی تشریح کرتے ہیں ۔
١۔ رسول اکرم صلی اللہ وآلہ یادوسرے معصومین علیہم السلام تک قرب الاسناد ١)یعنی روایت معصوم علیہ السلام تک قریب الاسناد ہوتی ہے اوریہ اس وقت ہے جب وہی روایت دوسرے سند میں زیاد راویوں کے ذریعے نقل ہوئی ہوکہ یہ قسم بہترین قرب الاسناد ہے ، خصوصاً سند بھی ساتھ صحیح ہے ، اس کو'' غایۃ القصویٰ '' یا'' علوّ مطلق'' یا'' علوّ حقیقی '' بھی کہاجاتا ہے ، جیسے ثلاثیات ، کلینی سے لیکر معصوم تک اور ثلاثیات بخاری پیامبر اکرم ؐ تک ، علماء کے ایک گروہ نے قرب الاسناد تدوین کی ہیں جیسے امامیہ علماء میں سے حمیری کے قرب الاسناد وغیرہ ۔
٢۔ ائمہ حدیث تک قرب الاسناد ٢) یعنی قرب حدیث ، ائمہ حدیث میں سے ایک کے ساتھ ، جیسے کلینی ، صدوق ، بخاری اور مسلم وغیرہ ، اگرچہ ان کے بعد سے معصوم تک ، راویوں کی تعداد زیادہ ہوں۔
.............................................
١۔مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٤٧؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٥٦؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٨
٢۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٤٨؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٥٨؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٨.
.................................................. .
٣۔ علوّ کتب قابل اعتماد کے لحاظ سے: (١) جیسی کتب اربعہ شیعہ اور صحاح ستِّ اہل سنت ، کہ اس وقت حدیث عالی شمار ہوگی جب ان کتابوں سے نقل ہوئی ہو کہ اس کوعلوّ تنزیل کہاجاتا ہے کہ درج ذیل شکلیں بنتی ہیں :
الف) موافقت :حدیث کامضمون میں سے ایک شیخ سے دریافت ہونا ، لیکن بغیر ان کے طریق کے کسی چھوٹے طریق سے کہ ایک قسم کا علوّ پایا جاتاہے ، اگرچہ حدیث دونوں طریق سے باہم موافقت رکھتی ہیں ۔
ب) بدل :مشایخ حدیث میں سے ایک شیخ سے حدیث کاپہنچنا ، اس جگہ اوراس طریق کے بدل جوان میں معروف ہے اوراقسام علوّ میں شمار ہوتاہے۔ (٢)
ج) مساوات:کسی ایک حدیث کے راویوں کی تعداد ایک مصنف حدیث سے اسی حدیث کے راویوں کی تعداد کے ساتھ تساوی ہونا(٣)
ھ) تقدم ِسماع: یعنی راویوں میں سے ایک راوی اپنے اسناد میں، کسی دوسرے راوی پر حدیث سننے کے زمان کے لحاظ سے مقدم ہونا ، اگرچہ دونوں حدیث کے راویوں کی تعداد برابر ہو۔(٤) ابن
...................................
١۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٤٨؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٥٨؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٨
٢۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٤٩؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٥٨؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٢٥٢
٣۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٥٠؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٥٩؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٢٥٢
٤۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٥٠؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٦٢ ا
.................................................. .
صلاح اورڈاکٹر عجاج نے تقدم سماع کوتقدم وفات کے بعد بیان کیا ہے ۔
و) تقدم وفات راوی: یعنی راویوں میںسے ایک کو دوسرے راوی پروفات کے لحاظ سے تقدم حاصل ہے ، اگردونوں حدیث کے راویوں کی تعداد برابر ہوکہ کچھ افراد کی نگاہ میں تقدم اور علوّ میں شمار نہیں ہوتی ۔(١)
.................................................. .
١۔ مقباس الہدایۃ،مامقانی، ج١ ، ص٢٥٠؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص ٢٦١؛اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٦٩
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 06:17 PM   #9
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب ہفتم
مشترک سندی کے اصطلاحات
مشترک
اکابر کی روایت اصاغر سے
سابق ولاحق
روایت اقران ومدبح

باب ہفتم
مشترک سندی کے اصطلاحات
باب ہفتم میں ، مشترک سندی کے کچھ اور اصطلاحات ( مشترک ، اکابر کی روایت اصاغر سے ، سابق ولاحق اورروایت اقران ومدبّح ) کی محدثینِ شیعہ اور اہل سنت کی نظر میں ، تعریف اوران کی چھان بین اور تطبیق دیں گے جوکہ درج ذیل ہیں :
مشترک (١ )
١۔ علامہ مامقانی :''المشترک : وہو ماکان احد رجالہ او اکثرہا مشترکاًبین الثقۃ و غیرہ ولابدّ من التمییز التوقّف معرفۃ حال السند علیہ'' .( ٢)
یعنی مشترک وہ حدیث ہے جس میں اس کے رجال میں سے ایک یااس سے زیادہ راوی ثقہ اورغیر ثقہ میں مشترک ہوضروری ہے کہ (ممیّزات رجالیہ کے ذریعے ) اس کو پہچاناجائے تاکہ اس کے ذریعے سند کی حالت معلوم ہوجائے ۔
.........................................
١۔ مشترک ''moshtarak''وہ لفظ ہے جودو یااس سے زیادہ معنی رکھتاہے
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٢٨٨
.........................................
٢۔ آیۃ اللہ سبحانی :وہو ماکان احدرجالہ او اکثرہا مشترکاً بین الثقۃ وغیرہ ولابدّ من الرجوع الی تمییز المشترکات'' .( ١)
یعنی مشترک وہ روایت ہے کہ اس کے رجال کے ایک یااس سے زیادہ راوی ثقہ اورغیرثقہ میں مشترک ہو(لہذا ) لازمی ہے کہ مشترک کے پہچان کے لئے ممیزات رجالیہ کی طرف رجوع کیاجائے ۔
ایسا نظر آتا ہے کہ شیعہ اوراہل سنت کے اکثر محدثین کے درمیان حدیث مشترک کے اصطلاحات کاکوئی رواج نہیں ہے اگرچہ راویوں کے بارے میں لفظ مشترک فقہی کتابوں میں کافی استعمال ہوا ہے اورصرف معاصر محدثین شیعہ کے درمیان حدیث مشترک ، اصطلاحات حدیث کے ایک عنوان سے رواج پیدا ہوا ہے اور اس سے مراد جس طرح تعاریف میں آیا ہے ، وہ حدیث کہ اس کے ایک یا اس سے زیادہ راویوں کے نام کسی دوسرے حدیث کے راوی سے ملتاجلتاہے اور اشتراک لفظی پایا جاتاہے لیکن ان میں سے بعض ثقہ ہیں اوربعض غیر ثقہ ، جیسے ؛ محمد بن قیس کہ یہ نام بعض راویوں کے درمیان مشترک ہے ، بعض کی توثیق ہوئی لیکن بعض کی جرح ۔
اشتراک کبھی اسم میں ، کبھی اسم اورباپ کے اسم دونوں میں اورکبھی کنیت اورلقب میں پایا جاتاہے ،ان کوآپس میں جداکرنے کے لئے ممیزات رجالیہ سے مدد لینا چاہئےے جوکہ مندرجہ ذیل محور میں ہوسکتے ہیں :
١۔ تاریخ تولد وفات اورمعاصرین؛
٢۔ طبقہ قبل وبعد کے روای؛
٣۔ روایت کے متن اورموضوع؛
...............................................
١۔اصول الحدیث واحکامہ،ص٨١
٤۔ باپ کانام ، جدّادنی ، اوسط اوراعلیٰ؛
٥۔ لقب اورکنیت؛
٦۔ وہ معصوم جس سے روایت ہوئی ہے ؛
٧۔ جگہ ، شہر اور قبیلہ؛
٨۔ ولاء ( عتق ، عبد اور عہد)
.........................................
محدثین اہل سنت کے معاصرین وغیر معاصرین کے نزدیک مشترک کے اصطلاح کارواج نہیں ہے ، لیکن ان راویوں کوجن کے نام اور لقب وغیرہ میں اشتراک پایا جاتاہے حدیث متفق ومفترق اورمؤتلف ومختلف میں بیان کیا گیاہے لیکن حدیث مشترک کے اہم خصوصیات کہ وثاقت اورعدم وثاقت میں ہمنام راویوں کے اختلاف ہے کوبیان نہیں کیا ہے ، حدیث مشترک کواس کے تمییز رجال سے پہلے نہ صحیح کہہ سکتے ہیں اورنہ غیر صحیح لیکن تمییز رجالِ سند کے بعد صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف میں سے ایک مصداق پر مشتمل ہوسکتی ہے ۔
اکابر کی روایت اصاغر سے
محدثین شیعہ :
١۔ شہید ثانی : '' وان روی عمن دونہ فی السنّ او فی للقی او فی المقدار ، فہو النوع المسّمی بروایۃ الاکابر عن الاصاغر''.(١)
یعنی اگر راوی عمر ، ملاقات اوربزرگی کے لحاظ سے چھوٹے راوی سے روایت کرے تو اسے ''روایۃ الاکابر عن الاصاغر''کہاجاتا ہے ۔
.................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٥٢
.........................................
٢۔ شیخ بہائی :'' او تقدم (مروی عنہ ) علیہ فی احدہما ( فی السنّ او فی الاخذ عن الشیخ) فروایۃ الاکابر عن الاصاغر ''. (١)
یعنی اگر راوی عمر یااپنے شیخ ( استاد ) سے روایت اخذ کرنے میں مقدم ہوتو اسے ''روایۃ الاکابر عن الاصاغر''کہا جاتاہے ۔
٣۔ مامقانی '' اذا کان الراوی فوقہ فی شیء من ذالک ( فی السنّ او فی اللقاء او فی المقدار من علم او اکثار روایۃ .... ) فروی عمّن دونہ فہو النوع المسمیٰ بروایۃ الاکابر عن الاصاغر'' .(٢)
اگر راوی بعض چیزوں جیسے عمر ، یاملاقات یاعلم یاکثرت روایت میں مافوق ہوپس اگروہ ان لحاظ سے اپنے سے چھوٹے سے روایت کرے تو اس قسم کی روایت کرنے کو ''روایۃ الاکابر عن الاصاغر '' کہا جائے گا۔
احادیث روایت کرنے میں، عام طور پر راوی مروی عنہ سے درجہ میں پائین ہوتا ہے،(مروی عنہ سے مراد وہ راوی ہوتا ہے جس سے روایت کی جاتی ہے ) ، جیسے عمر، علم ، استاد یاشیخ سے ملاقات اور طبقہ وغیرہ کے لحاظ سے راوی کو مروی عنہ کے بعد کادرجہ حاصل ہے ، اس قسم کی روایت کو'' اصاغر کی روایت اکابر سے ''کانام رکھا گیا ہے ، لیکن کبھی اس کے برعکس مسئلہ پیش آتاہے اورراویوں کو مروی عنہ پر، عمر ، شیخ کے ساتھ ملاقات ، علم ، معرفت اورطبقہ کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہے اس قسم کی روایت کو''روایۃ الاکابر عن الاصاغر''کہاجاتا ہے ۔اوریہ وہ روایت ہے کہ .................................................
١۔الوجیزۃفی علم الدرایہ ، ص٩
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٣٠٣
.........................................
بزرگ مرتبہ والے چھوٹا مرتبہ والے سے حدیث روایت کرے ، جیسا باپ کابیٹے سے روایت کرنا، صحابی کاتابعی سے روایت کرنایااستاد کاشاگرد سے یاتابعی کاتابع تابعی سے روایت کرنا، البتہ اس قسم کی روایات زیادہ نہیں ہیں۔
شہید ثانی '' روایت اکابر از اصاغر '' کی قسمیں بیان کرتے ہیں ،پہلی وہ کہ باپوں کی روایات بیٹوں سے ،کہ اس کو'' روایۃ الآباء عن الابناء '' نام رکھا گیاہے ، اور دوسری قسم ، اس کے غیر ہوتی ہے جیسے صحابہ کی روایت تابعین سے مثلاً کعب الاخبار '' عبادلہ اربعہ'' (١) کی روایت ۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح ،:'' ان یکون الراوی اکبر سنّاً او اقدم طبقۃ من المروی عنہ ... وان یکون الراوی اکبر قدراً من المروی عنہ ... وان یکون الراوی اکبر من الوجھین جمیعاً''.( ٢)
یعنی اکابر کی روایت ، اصاغر سے ، اس روایت کو کہا جاتاہے کہ راوی عمر اورطبقہ کے لحاظ سے مروی عنہ سے بڑا ہویاقدر ومنزلت کے لحاظ سے بڑا ہویا دونوں لحاظ سے بڑا ہو۔
٢۔سیوطی :'' روایۃ الاکابر عن الاصاغر والاصل فیہ روایۃ النّبی صلی اللہ علیہ وآلہ عن تمیم الداری حدیث الجساسۃ وہی عند مسلم ''( ٣)... وہو اقسام :احدہا
.............................................
١۔ عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عمرو عاص اور عبداللہ بن زبیر یاابن مسعود ، مقباس الہدایۃ ، ج٥ ،ص٣٠٩
٢۔علوم الحدیث ، ص٣٠٧
٣۔صحیح مسلم ، ج٤ ص ٢٢٦٥، حدیث :٢٩٤٢
.........................................
ان یکون الراوی اکبر سنّاً واقدم طبقۃ من المروی عنہ ... الثانی ان یکون الراوی اکبر قدراً ''(١)
یعنی اصل میں روایۃ الاکابر عن الاصاغر مسلم کے نزدیک تمیم داری سے پیامبرؐ کی روایت ہے ( دجّال کی رؤیت کے بارے میں ) اور اس کے کئی اقسام ہیں : پہلا یہ ہے کہ راوی عمر کے لحاظ سے مروی عنہ سے بڑا اورطبقہ کے لحاظ سے مقدم ہو اور دوسرا یہ ہے کہ راوی مروی عنہ سے قدر ومنزلت کے لحاظ سے بڑا ہو۔
محدثین اہل سنت کے نزدیک بھی ، روایۃ الاکابر عن الاصاغروہ روایت ہے کہ راوی عمر یاعلم یادونوں لحاظ سے مروی عنہ سے بڑا ہو کبھی یہ باپ کابیٹے سے روایت کرنے یاکبھی صحابی کاتابعین سے روایت کرنے یاسیوطی کے مطابق پیامبر اکرم ؐ کا تمیم داری سے روایت کرنے پر اطلاق آتاہے کہ آنحضرت کورؤیت دجّال کے بارے میں آگاہ کیا۔
روایت ''اکابر از اصاغر'' اقسام مشترک میں سے ہے اورصحیح ، حسن ، موثق یاضعیف میں سے ایک مصداق پراتر آسکتی ہے ، اکثر روایات ''اکابر از اصاغر''کی شکل میں ہیں کہ ان اقسام میں سے روایت ''آبا'' ہے ؛ کیونکہ بعض راوی اپنے باپوں سے اوروہ اپنے باپوں سے اوراسی طریقے سے دوسری نسلوں سے روایت کرتے ہیں ، جیسے معصومین ؑکی روایت اپنے آباء کرام سے کہ اگرچہ سب معصوم ہیں لیکن ان کی تعظیم یاموضوع کی اہمیت کی خاطر ایک دوسرے سے روایت کی ہیں کہ یہ اس طرح ہے:'' عن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام عن ابیہ عن ابیہ عن ابیہ عن
..................................................
١۔تدریب الراوی ، ج٢، ص٤٤٣
.........................................
ابیہ عن ابیہ عن ابیہ عن ابیہ عن ابیہ عن ابیہ علی بن ابیطالب علیہم السلام عن النّبی صلی اللّہ علیہ وآلہ انہ قال لبعض اصحابہ ذات یوم یاعبداللّہ : احبب فی اللّہ وابغض فی اللّہ ووال فی اللّہ وعاد فی اللّہ ،فانّہ لاتنال ولایۃ اللّہ الابذالک...''.(١)
سابق ولاحق
محدثین شیعہ:
١۔شہید ثانی : '' ان اشترک اثنان عن شیخ وتقدم موت احدہما علی الآخر ، فہو النوع المسمٰی : السابق واللاحق '' .(٢)
یعنی دو راوی اگر اپنے شیخ سے روایت کرنے میں مشترک ہوں اوردونوں راویوں میں سے ایک ، دوسرے راوی سے پہلے وفات پاجائے تو اسے سابق ولاحق کہا جاتاہے ۔
٢۔علامہ مامقانی :'' و مااشترک اثنان فی الاخذعن شیخ وتقدم موت احدہما علی الآخر ''. (٣)
یعنی اگر دو راوی اپنے استاد سے روایت کرنے میں مشترک ہوں اورایک راوی دوسرے سے پہلے فوت ہوجائے تو اسے سابق ولاحق کہا جائے گا۔
حدیث ''سابق ولاحق ''کے اصطلاح دو قسم کی روایات کے لئے صفت ہے کہ ہم عصر دو راوی اپنے استاد یااپنے زمان کے معصوم سے روایت کریں لیکن ایک راوی دوسرے راوی سے پہلے ..............................................
١۔بحار الانوار ، مجلسی ، ج١٠٨، ص١٦٩؛ ج، ١١، ص٤١
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٦٦
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٣١٢
.........................................
وفات پاجائے تو اس کی روایت کوسابق اور دوسرے راوی کی روایت کولاحق کہتے ہیں ۔
شہید ثانی نے شیخ فاضل ناصربن ابراہیم بویہی ( م٨٥٢)کی روایت کو'' سابق '' اور نورالدین علی بن عبدالعالی میسی (م٩٣٨) کی روایت کو '' لاحق'' کہاہے ، کہ ان دونوں کے درمیان چھیاسی (٨٦)سال کافاصلہ ہے لیکن دونوں نے ایک ہی استاد سے روایت کی ہیں ۔(١)
محدثین اہل سنت:
ابن صلاح :'' معرفۃ من اشترک فی الروایۃ عنہ راویان ، متقدم او متأخر تباین وقت وفاتیہما تبایناً شدیداً ، فحصل بینہما امد بعید '' .( ٢)
یعنی سابق ولاحق اس حدیث کے دو راویوں کی معرفت کانام ہے جو روایت کرنے میں مشترک ہیں ، دونوں کی وفات کے درمیان تباین شدید ہونے کی وجہ سے دونوں کے درمیان زیادہ فاصلہ آجائے ۔
٢۔سیوطی :''السابق واللاحق وہو معرفۃ من اشترک فی الروایۃ عنہ اثنان تباعد مابین وفاتیہما ''. (٣)
یعنی سابق اور لاحق سے مراد اس کی معرفت حاصل کرنا ہے جس سے روایت کرنے میں دو راوی مشترک ہیں اوردونوں کی وفات کے درمیان زیادہ فاصلہ ہے ۔
'' سابق ولاحق ''کے اصطلاح ، ہم عصر محدثین ، جیسے ڈاکٹر صبحی صالح ، ڈاکٹر عجاج اور علامہ قاسمی وغیرہ کے نزدیک معروف نہیں ہے اورمشترک اصطلاحات میں سے شمار نہیں کئے ہیں لیکن پہلے ...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٦٦
٢۔علوم الحدیث ، ص٣١٧
٣۔تدریب الراوی ، ج٢، ص٢٦٢
.........................................
والے محدثین ، جیسے سیوطی اورابن صلاح وغیرہ نے ان کے بارے میں بحث کی ہیں اوراس سے مراد ان کے نزدیک وہی ہے جوشیعہ محدثین کی تعاریف میں آیا ہے۔
حدیث سابق ولاحق کی معرفت اس وجہ سے محدثین کے نزدیک قابل توجہ ہے کہ حدیث سابق ایک قسم کے علوّ پرمشتمل ہے ، ابن صلاح کہتا ہے :'' ومن فوائد ذالک تقریر حلاوۃعلوّ الاسناد فی القلوب ''.( ١)
یعنی حدیث سابق کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے دلوں میں علوّ اسناد کی مٹھاس آجاتی ہے ۔
سیوطی کابیان ہے کہ اس فن کے لئے '' سابق ولاحق'' کے نام پرخطیب بغدادی نے ایک اچھی کتاب ترتیب دی ہے سیوطی نے ان میں سے بعض نکات کی طرف اشارہ کیا ہے جیسے بخاری ارخفات کی روایت ، محمد بن اسحاق سراج سے ۔( ٢) حدیث سابق ولاحق اقسام مشترک میں سے ہے اور مختلف مصادیق پراتر آسکتی ہے۔
روایۃ الاقران ومدیح (٣)
محدثین شیعہ :
١۔ شہید ثانی :'' ثم الراوی والمروی عنہ ، ان استویافی السنّ او فی اللُقی وہو الاخذ عن المشایخ فہو النوع من علم الحدیث الذی یقال لہ: روایۃ الاقران ، لانہ حینئذ یکون راویاً عن قرینہ ... فان روی کل منہا [ای من القرینین ] عن الآخر فہو .................................................
١۔علوم الحدیث ، ص٣١٧
٢۔تدریب الراوی ، ج٢ ، ص ٢٦٢ ۔٢٦٣
٣۔مدبّج ''modabbaj''دیباج سے آراستہ ، منقوش
.........................................
النوع الذی یقال لہ المدبّج ''.(١)
یعنی راوی اورمروی عنہ ، عمر اورشیخ حدیث سے ملاقات میں برابر ہوں تو اسے علم حدیث کے اصطلاح میں '' روایۃ الاقران '' کہا جاتا ہے ، کیونکہ اس وقت وہ اپنے قرین اورہم عصر سے روایت کرتاہے ، اگر دونوں ( قرین اورساتھی ) ایک دوسرے سے روایت کرے تو اس قسم کی روایت کو '' مدبّج '' کہاجاتاہے ۔
٢۔ شیخ بہائی :'' وان وافق المروی عنہ فی السّن او فی الاخذ عن الشیخ ، فروایۃ الاقران '' .(٢)
یعنی اگر راوی مروی عنہ کے ساتھ عمر اور شیخ حدیث سے روایت کرنے کے لحاظ سے مساوی ہوتو اسے روایت اقران کہتے ہیں ۔
٣۔سید حسن صدر :'' وان وافق الراوی المروی عنہ فی السّن او فی الاخذ عن الشیوخ فروایۃ الاقران ، والمدبّج وہو ان یروی کلّ من القرینین عن الآخر '' .( ٣)
یعنی اگر عمر اور شیخ سے روایت کرنے میں راوی اورمروی عنہ ایک جیسے ہوں تو اسے روایت اقران اور اگر دونوں ساتھی ایک دوسرے سے روایت کرے تو اسے مدبّج کہتے ہیں۔
اگر حدیث کاراوی کسی ایسے شخص سے روایت کرے جو عمر اوراپنے استاد سے روایت کرنے کے لحاظ سے قرین اورہم عصر ہو تو اسے '' روایۃ الاقران'' کہتے ہیں ، کیونکہ راوی اپنے قرین سے
........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٤٩۔٣٥٠
٢۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٩
٣۔نہایۃ الدرایۃ ، ص٣٣٠۔٣٣١
.........................................
روایت کرتاہے ، جیسے شیخ طوسی ، (م٤٦٠)کی روایت سید مرتضی ( م ٤٣٦)سے کہ دونوں ایک دوسرے کے قرین اور رتبہ کے لحاظ سے ہم عصر اورایک طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور استاد کے لحاظ سے دونوں ، شیخ مفید، (م٤١٣) کے درس میں حاضر ہو جاتے تھے ، اگرچہ شیخ مفید کی وفات کے بعد ، سید مرتضی شیخ طوسی کے لئے استاد کامقام رکھتے تھے لیکن اگر دو راوی عمر اور استاد سے حدیث روایت کرنے کے لحاظ سے قرین اور ہم عصر ہوں اورایک دوسرے سے روایت کرنے لگے تو اس حدیث کو'' مدبّج '' کہاجائے گا۔جیسے حدیث واحد کاروایت کرنا کہ شیخ طوسی نے سید مرتضی سے اور اس نے شیخ مفید سے ، اور وہی حدیث کاسید مرتضی کاشیخ طوسی سے روایت کرنا اور اس کاشیخ مفید سے یہاں تک کہ معصوم ؑ تک پہنچ جائے ، جیسے حرّ عاملی اورعلامہ مجلسی کاایک دوسرے سے روایت کرنا یاشہید اول اور سید تاج الدین بن معیّہ کاایک دوسرے سے روایت کرنا۔(١)
شہید ثانی اورعلامہ مامقانی دونوں نے دونوں قسموں کی تعریف کی ہیں ، لیکن شیخ بہائی نے صرف '' روایۃ الاقران'' کی طرف توجہ دے کر اس کی تعریف کی ہے ، شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ مدبّج ، روایۃ الاقران کے ایک نوع میں سے ہے ؛ کیونکہ بعض ان کوایک ہی اصطلاح کاسمجھتے ہیں ۔
بعض نے روایۃ الاقران کومقسم قرار دے کر دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ایک مدبّج اور دوسری غیر مدبّج ( ٢)لیکن ایسا لگتا ہے کہ روایۃ الاقران ، عام اورمدبّج اخص ہو؛ کیونکہ ہر مدبّج ، روایۃ الاقران ہے لیکن ہرروایت اقران مدبّج نہیں ہے ۔(٣)
...............................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص ٣٠٤
٢۔مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥ ص٣١٣؛ علوم الحدیث ، ابن صلاح ص٣٠٩
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص٣٥١
.........................................
محدثین اہل سنت :
١۔ابن صلاح:'' معرفۃ المدبّج وماعداہ من روایۃ الاقران بعضہم عن بعض وہم المتقاربون فی السّن والاسناد وربّما اکتفی الحاکم ابو عبداللّہ فیہ بالتقارب فی الاسناد وان لم یوجد التقارب فی السّن ، واعلم ان روایۃ القرین عن القرین تنقسم : فمنہا المدبّج : وہو ان یروی القرینان کل واحد منہا عن الآخر ، مثالہ فی الصحابہ : عائشہ وابوہریرۃ ... ومنہا غیر المدبّج وہو ان یروی احد القرینین عن الآخر ولایروی الآخر عنہ ''. (١)
مدبّج اور اس کے علاوہ روایت اقران میں سے دوسرے اقسام سب ایک دوسرے میں سے ہیں اوران میں عمر اور اسناد کے لحاظ سے راوی ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔ اور حاکم ابو عبداللہ نے صرف اسناد میں تقارب ہونے کوکافی سمجھا ہے اگر چہ عمر میں تقارب نہ پایاجائے ، اورجان لوکہ قرین سے قرین کی روایت مختلف قسموں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک مدبّج ہے اور اس سے مراد ہے کہ قرین میں سے ہرایک دوسرے سے روایت کرے ، صحابہ میںاس کی مثال عائشہ اورابو ہریرہ ہے ... ان میں سے دوسرا غیر مدبّج ہے اور اس سے مراد ہے کہ قرین میں ایک ، دوسرے سے روایت کرے لیکن دوسرا اس سے روایت نہ کرے۔
٢۔ سیوطی :'' المدبّج وروایۃ القرین عن القرین ... فان روی کل واحد منہا عن صاحبہ کعائشۃ وابی ہریرۃ فی الصحابۃ والذہری وابی الزبیر فی الاتباع ... فہو المدبّج ''.(٢)
............................................
١۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ،ص٣٠٩ ٢۔تدریب الراوی ، ج٢ ، ص ٢٤٦
.........................................
یعنی مدبّج اور قرین کی روایت قرین سے ، اگر دونوں میں سے ہرایک ، دوسرے سے روایت کرے ، جیسے صحابہ میں سے عائشہ اوربوہریرہ اور تابعین میں سے زہری اورابوالزبیر، تو اس قسم کی روایت کو مدبّج کہتے ہیں ۔
تدبیج سندِ حدیث سے متعلق ہے اور اس کامعنی مختلف ہے ان میں سے ایک تزیین ہے یعنی راوی میں سے ہرایک تدبیج کے ذریعے اپنی روایت کوزینت دیتاہے ، بعض موقعوں پر ذم کے معنی میں استعمال ہوتاہے ، جیسے رجل مدبّج ، یعنی کریہ چہرہ والا ، تدبیج میں بھی نزول اسناد کے ساتھ ، روایت میںایک قسم کے ذم حاصل ہوا ہے ۔(١)
فریقین کے محدثین کے نزدیک حدیث مدبّج اور روایۃ الاقران کامعنی ایک جیسا ہے ، اگرچہ تقسیم بندی کی کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہے ، اسی طرح شیعہ محدثین کے نزدیک ، روایت مدبج اوراقران ، اصطلاح مشترک میں سے شمار کیا گیا ہے اور علامہ مامقانی نے اس کو اصطلاحات مشترک کی فضل میں لایاہے ؛(٢)لیکن محدثین اہل سنت کے نزدیک ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے؛ یہاں تک کہ ڈاکٹر صبحی صالح ، ڈاکٹر عجاج اورعلامہ قاسمی وغیرہ نے بھی اس کاتذکرہ نہیں کیا ہے ۔
اہل سنت کے کچھ علماء نے ، روایت مدبّج میں یہ قید لگائی ہیں کہ دو شخص کااعتبار کے لحاظ سے بھی قرین ہونا ضروری ہے ۔(٣)لہذا استاد کااپنے شاگرد سے روایت کرنا، مدبّج نہیں ہے ، بلکہروایت '' اکابر از اصاغر'' ہے، لیکن مدبّج میں ایسی شرط کاہونا ضروری نظرنہیں آتا؛ لہذا دو راوی
.............................................
١۔تدریب الروای ، ج٢ ،ص ٢٤٦
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٣٠٠
٣۔تدریب الروای ، ج٢ ،ص٢٤٨
.........................................
جوعمرکے لحاظ سے باہم قرین ہو،اگرچہ ایک استاد اور دوسرا شاگرد ہی کیوں نہ ہو، ان کاایک دوسرے سے روایت کرنا، مدبّج ہوسکتی ہے ، ظاہرمیں پہلا شخص جس نے اس کے لئے یہ نام رکھا ہے ، دار قطنی ہے کہ جس نے اس کے بارے میںایک کتاب بھی تالیف کی ہے ۔( ١) روایت مدبّج اور اقران ، راویوں کے حالات کے پیش نظر ، صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف ہوسکتی ہے ۔
............................................
١۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٣١٠؛ تدریب الراوی ، ج٢ ،ص٢٤٧
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 01-06-09, 06:20 PM   #10
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب ہشتم
متن سے متعلق مشترک اصطلاحات
با ب ہشتم میں ، متن سے متعلق مشترک اصطلاحات ، یعنی وہ جگہے جو صحیح اورحسن وغیرہ میں مشترک ہوں اورمتنِ حدیث سے متعلق ہوں اورحدیث مقبول ، مختلف اورموافق، ناسخ اورمنسوخ اور مطروح پر مشتمل ہوں ، محدثین شیعہ اوراہل سنت کی نگاہ میں تعریف اور چھان وتتبع ہوگی جو کہ درج ذیل ہیں :
مقبول(١ )
١۔شہید ثانی :'' ہوالحدیث الذی تلقوہ بالقبول وعملوا بمضمونہ من غیر التفات الی صحتہ وعدمہ ''. (٢)
یعنی مقبول وہ حدیث ہے جوقابل قبول سمجھا جائے اور اس کے صحیح ہونے یانہ ہونے کی طرف توجہ کئے .....................................
١۔ مقبول ،'' maqbul '' اسم مفعول اور قبول ہونے کے معنی میں ہے
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٣٠
.....................................
بغیر اس کے مضمون پرعمل کیاجائے ۔
٢۔شیخ بہائی :''فان اشتہر بالعمل بمضمونہ فمقبول '' .(١)
یعنی اگرجس حدیث کے مضمون پرعمل کرنا مشہور ہوتو اسے مقبول کہاجاتاہے ۔
٣۔ سید حسن صدر :'' وہو مایجب العمل بہ عند الجمہور کاالخبر المحتفّ بالقرائن والصحیح علی الاکثر والحسن علی قول ''.(٢)
یعنی مقبول وہ حدیث ہے جس پرجمہور علماء کے مطابق عمل کرنا واجب ہے، جیسے وہ خبر ہے جو قرینے کے ساتھ ہو، اکثر علماء کے بقول یہ صحیح میں سے ہے اورایک قول کے مطابق حسن ہے۔
تعاریف مذکور کے مطابق ، مقبول وہ حدیث ہے کہ اصحاب ، علماء اور جمہور محدثین ، راویوں کے حالات ، صحیح یاحسن یاان کی توثیق کی طرف توجہ نہ کرتے ہوئے اس کوقابل قبول سمجھتے ہوئے اس کے مضمون پرعمل کرتے ہیں اوراس کابرعکس '' مردود '' کہ وہ حدیث ہے کہ اس کے صادر ہونے پراعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ان پر عمل نہ کیا جاتا، حدیث مقبول ، متن حدیث سے متعلق ہے اور جس طرح شہید ثانی نے اس کی تعریف میں اشارہ کیا، مصادیق مشترک میں سے ہے اورسند کے لحاظ سے صحیح اورغیر صحیح کے کسی مصداق پرمشتمل ہوسکتی ہے ، لیکن ایک گروہ ، جیسے شیخ بہائی اور استرآبادی ، کے نزدیک ، حدیث ضعیف کے مصادیق میں سے شمار کی گئی ہے ۔(٣) لیکن ان کے نزدیک جوحدیث حسن اورموثّق کو ہمیشہ مقبول اورقابل عمل نہیں سمجھتے ، مشترک اصطلاحات میں سے ہوگی ۔ (٤)
...........................................
١۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص١٦٧
٣۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٥؛ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٨٠
٤۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٣٠
.....................................
خبر مقبول ، محدثین کے نزدیک قرائن والی خبر کے ساتھ بھی متفاوت ہے ؛ کیونکہ قرائن کبھی ظنّی ہے کہ ان کے مطابق کسی عمل کاانجام نہیں دے سکتے ؛ مگر یہ کہ حدیث مقبول ، قرائن قطعی والی خبر کے مترادف سمجھا جائے ۔(١)
محدثین اہل سنت :
١۔ سیوطی :'' الحدیث امامقبول او مردود والمقبول امّاان یشتمل من صفات القبول علی القبول علی اعلاہا او لاوالاول الصحیح والثانی الحسن ''.(٢)
یعنی حدیث یامقبول ہے یامردود ، اورمقبول یااعلادرجہ کے صفات پرمشتمل ہے یاان پرمشتمل نہیں ہے ، ان میں سے پہلا صحیح ہے اور دوسرا حسن ۔
٢۔ صبحی صالح :'' الحدیث اما مقبول وہو الصحیح واما مردود وہو الضعیف '' .( ٣)
یعنی حدیث یاتو مقبول ہے جس کوصحیح کہاجاتاہے یامردود ہے جسے ضعیف کہا جاتاہے ۔
٣۔ ڈاکٹر عجاج :'' ینقسم الحدیث الی مقبول ومردود ؛ مقبول توافرت فیہ جمیع شروط القبول ''. (٤)
یعنی حدیث مقبول اورمردود میں تقسیم ہوجاتی ہے ، مقبول وہ حدیث ہے جس میں قبول کے تمام شرائط پوری ہوں ۔
.................................................. .
١۔ مسدرکات مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٩١
٢۔ تدریب الراوی ، ص٦٢
٣۔علوم الحدیث مصطلحہ ، ص١٤١
٤۔ اصول الحدیث ، ص٣٠٣
.....................................
اہل سنت کے محدثین کے نزدیک ، حدیث مقبول ، مشترک اصطلاحات میں سے شمار نہیں ہوئی ہے ،بلکہ ان کے نزدیک حدیث مقبول وہی حدیث صحیح ہے کہ جو قبول کے شرائط پرمشتمل ہواور اس کو ایک الگ اصطلاح نہیں جاناہے ۔
شیعہ کے نزدیک احادیث مقبول میں سے ایک '' عمر بن حنظلہ کامقبولہ'' ہے کہ جو اس اختلاف سے مربوط ہے جو دو لوگوں کے درمیان پیدا ہوا تھا، وہ دونوں اس کے فیصلے کے لئے قاضی کے پاس گئے تھے تاکہ اس کے بارے میں وہ فیصلہ کرے۔
امام جعفر صادق اس روایت میں فرماتے ہیں :'' ... من کان منکم ممّن روی حدیثنا ونظر فی حلالنا وحرامنا وعرف احکامنا فلیرضوا بہ حکماً فانّی قد جعلتہ علیکم حاکماً...''. ( ١)
یعنی یہ دیکھنا چاہئےے کہ تم میں سے کون ہے جس نے ہماری احادیث روایت کی ہے اور ہمارے حلال اورحرام میں مطالعہ کیا ہے اورصاحب نظر (رأی ) ہوا ہے اورہمارے احکام اور قوانین کوجان لیاہے .....ضروری ہے کہ اس کوقاضی کے طور پر قبول کریں، کیونکہ میں نے اس کوتمہارے اوپر حاکم قرار دیا ہے۔
مذکورہ حدیث ان احادیث میں سے ہے کہ حکومت اسلامی اورولایت فقیہ کی منزلت ( اورمقام ) کے بارے میں اس کی طرف استناد کیا گیا ہے ۔
مختلف اورموافق (٢ )
.........................................
١۔تہذیب الاحکام ؛٦/ ٢٤٤ ؛ من لایحضرہ الفقیہ ؛٣/٧
٢۔مختلف :''mokhtalaf''اختلافی مقام ، موافق:''movafq'' سازگار
.....................................
١۔شہیدثانی :'' وہو ان یوجو حدیثا متضادان فی المعنی ظاہراً '' .(١)
یعنی مختلف اورموافق سے مراد وہ دو حدیثیں ہیں جو ظاہری طور پر معنی میں متضاد ہوں۔
٢۔ سید حسن صدر: '' ہوان یأتی حدیثان متعارضان فی المعنی ظاہراً ، فیجمع بینہا اویُرجح احدہما '' .(٢)
یعنی مختلف اورموافق وہ دو روایات ہیں جوظاہری معنی میں ایک دوسرے کے متعارض ہو یہ دو کبھی قابل جمع ہیں اورکبھی ایک کو دوسری پرفوقیت دی جاتی ہے ۔
٣۔ علامہ مامقانی : '' المختلف وضدّہ الموافق... والمراد ہنا اختلاف المتنین وتوفقہما ''.(٣)
یعنی مختلف اوراس کے مخالف موافق سے مراد یہاں دونوں کے متن میں اختلاف اورموافق ( اتحاد ) ہے ۔
شیعہ محدثین کے نزدیک '' مختلف'' کے اصطلاح اوراس کا الٹ '' موافق '' حدیث کے متن کے دو صفت ہیں جو کہ ان کے مضامین میں توافق اوراختلاف سے مربوط ہیں اورنسبی امور میں سے ہیں جو کہ دو حدیث میں قابل تصور ہے اورعلم اصول میں دو '' متعارض'' حدیث کے نام سے یاد کیا جاتاہے ، یہ دونوں '' مؤتلف ومختلف '' کے غیر ہیں اوریہ حدیث کے سند سے متعلق ہیں اوران دونوں کے بارے میں باب ہفتم میں بحث کی جائے گی۔
...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٢٤
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص١٦٧
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص١٢٤
.....................................
اختلاف کہ شہید ثانی نے '' متضادّان '' اور سید حسن صدر نے '' متعارضان '' سے اس کوتعبیر کیاہے ، دوحدیث کے درمیان ناسازگاری کو کہاجاتا ہے اورممکن ہے کہ یہ ناسازگاری ان کے درمیان تباین اورخصوص مطلق یاعموم وخصوص من وجہ ہونے کی وجہ سے ہو۔
حدیث مختلف کے لئے یہ مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
١۔ حدیث :'' اذکان الماء قدرکرّ لماینجسہ شیئ'' .
یعنی اگر پانی کر کے برابر ہوتو کوئی چیز اس کوناپاک نہیں کرتی۔
اوریہ حدیث: '' سألتہ عن کرّ من ماء مررت بہ وأنا فی سفر قد بال فیہ حمار... قال: لاتتوضّا منہ ولاتشرب منہ ''.(١)
یعنی راوی کہتاہے کہ میں نے امام ؑ سے اس کرپانی کے بارے میں سوال کیا کہ میں سفر کی حالت میں اس سے گزرا جس میں گدھے نے پشاب کیا ، امام ؑ نے فرمایا: اس پانی سے وضو کرو اورنہ پی لو۔
٢۔ حدیث :'' لایعید الصلوٰۃ فقیہ '' .نماز دوبارہ پڑھے گا۔اوریہ حدیث '' یعید الصلوٰۃ '' نماز دوبارہ پڑھنی چاہئےے ۔(٢)
محدثین اہل سنت:
١۔ ابن صلاح :'' معرفۃ مختلف الحدیث وانّما یکمل للقیام بہ الائمۃ الجامعون بین ضاعتی الحدیث والفقہ ، الغواصون علی المعانی الدقیقۃ ، اعلم انّ مایذکر فی ہذا الباب ینقسم الی قسمین : احدہما ان یمکن الجمع بین الحدثین ... والثانی : ان
.....................................
١۔استبصار ، ج١،ص٦۔٧؛مستدرک الوسائل ، ج١، ص٢٧
٢۔استبصار ، ج١ص٣٧٥، باب مَن شک فلایدری صلی اثنین او ثلاثاً؛ تہذیب ،ج٢ ، ص١٧٦، ١٧٩، ١٩٣
.....................................
یتضادّا بحیث لایمکن الجمع بینہما'' ( ١)
یعنی حدیث مختلف کی پہچان اوریہ ضاعتِ حدیث اورضاعت فقہ کوآپس میں جمع کرنے اور دقیق معنوں میں غوطہ ور ائمہ حدیث کی کوششوں سے کامل ہوجاتی ہے اوریاد رکھو کہ اس باب میں جو بحث مذکورہ ہے وہ دو قسموں میں تقسیم ہوجاتی ہے پہلی ، دو مختلف احادیث کے آپس میں جمع ہونے کے امکان سے متعلق ہے اور دوسری بحث دو متضاد کے بارے میں ہے جن کو آپس میں جمع نہیں کرسکتے ۔
٢۔سیوطی :'' وہو ان یاتی حدیثان متضادّان فی المعنی ظاہراً فیوفق بینہما او یرجّح احدہما ، فیعمل بہ دون الآخر ''. (٢)
یعنی مختلف اور موافق سے مراد وہ دو احادیث ہیں جو ظاہری طور پر معنی کے لحاظ سے تضاد رکھتی ہیں (لیکن ) ان دونوں کو آپس میں اکھٹی کی جاتی ہے یادونوں میں سے ایک کو دوسری پر ترجیح دی جاتی ہے ، پس ان میں سے ایک پرعمل کیا جاتاہے ۔
٣۔ صبحی صالح :'' وہوعلم یبحث عن الاحادیث التی ظاہرہا التناقض من حیث الامکان الجمع بینہما او بتقیید مطلقہا او بتخصیص عامہا''.( ٣)
یعنی یہ کہ ایسا علم ہے جوان احادیث کے بارے میں بحث کرتا ہے جن کے ظاہر میں تناقض پائے جاتے ہیں ساتھ ان دونوں کو آپس میں جوڑنے کاامکان بھی پایاجاتاہے یامطلق کی تقیید کے ذریعے یاعام کی تخصیص سے ۔
...........................................
١۔علوم الحدیث ، ص٢٨٤
٢۔تدریب الراوی ، ج٢،ص١٩٦
٣۔علوم الحدیث مصطلحہ ، ص١٠٩
.....................................
محدثین اہل سنت کے نزدیک ، حدیث مختلف کی تعریف وہی ہے جو شیعہ محدثین کے نزدیک ہے لیکن اہل سنت کے نزدیک مشترک اصطلاحات کی فہرست میں شامل نہیں ہے اور اس کوایک الگ علم سمجھے ہیں۔ دو مختلف حدیثوں کاحکم اگر ان دونوں کے درمیان ممکن ہوتو ان معیاروں کے بنیاد پر جوفریقین میں سے ہرایک کے علم اصول کے بحث تعادل وتراجیح میں آئے ، آپس میں جوڑنا ہے اوریہ وہ اہم فنون میں سے ہے جوصرف حدیث وفقہ اور اصول جاننے والے ہی انجام دے سکتے ہیں ۔
شیعہ کے درمیان میں سے پہلا وہ شخص جس نے مختلف احادیث کوآپس میںجوڑ دیا اورچھان بین کیاوہ شیخ طوسی ( ٤٦٠متوفی) ہے جس نے '' الاستبصار فیما اختلف من الاخبار '' نامی کتاب تالیف کی جوپانچ ہزار پانچ سو گیارہ (٥٥١١) احادیث پرمشتمل ہے ، ساتھ ہی جوڑنے کی دلیل اور تحلیلی طور پر چھان بین بھی موجود ہیں۔ (١)
اہل سنت کے درمیان سے بھی شافعی(٢٠٤متوفی) اورابن قتیبہ (٢٧٦متوفی) کو مختلف الحدیث کی تالیف میں سبقت حاصل ہے ۔(٢)کچھ علماء حدیث مختلف کو مزید کے اقسام میں سے سمجھتے ہیں۔۔(٣)لیکن ایسامعلوم ہوتاہے کہ حدیث مختلف الگ الگ اصطلاح ہو لیکن اختلاف کا سبب ، متن حدیث میں اضافے کی وجہ سے ہوجن کوغلطی یاجان بوجھ کر ان میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس طرح اختلاف کی وجہ ممکن ہے ، درج ، نقل معنی اور اضطراب وغیرہ ہو،'' مختلف '' حدیث کو، مشکل ........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٢٦؛ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٧٠
٢۔ علوم الحدیث مصطلحہ ، ص١١٠
٣۔ مسدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٧٠
.....................................
الحدیث ، تأویل الحدیث اور تلفیق الحدیث کے نام سے بھی کیا جاتاہے '' حدیث مختلف '' اس کے راویوں کے احوال کے لحاظ سے صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف کے مصادیق میں ایک پر اتر آسکتی ہے ۔
ناسخ اورمنسوخ (١)
شیعہ محدثین :
١۔ شہید ثانی: '' الناسخ : مادلّ علی رفع حکم شرعی سابق والمنسوخ مارفع حکمہ الشرعی لدلیل شرعی متأخر عنہ '' . (٢)
یعنی ناسخ وہ حدیث ہے جوسابق شرعی حکم کے اٹھ جانے پر دلالت کرے اورمنسوخ وہ (حدیث ) ہے جس کاحکم شرعی اس کے بعد والی دلیل شرعی کے ذریعے اٹھ جائے ۔
٢۔سید حسن صدر:'' فان دلّ الحدیث علی رفع حکم شرعی سابق فہو الناسخ وان رفع حکمہ الشرعی بدلیل شرعی متأخر عنہ فہو المنسوخ ''. (٣)
یعنی اگرکوئی حدیث کسی سابق شرعی حکم کے اٹھ جانے پردلالت کرے تووہ ناسخ ہے اورلیکن اگر اس کے شرعی حکم، اس کے بعد والی شرعی دلیل کے ذریعے اٹھ جائے تو اس کومنسوخ کہا جاتاہے ۔
لغت میں نسخ ، ذائل کرنے اوربدل دینے کو کہا جاتاہے اوردین کی زبان ،میں کسی سابق شرعی حکم کادوسرے شرعی حکم کے ذریعے اٹھ جانے کو کہتے ہیں کہ اگر دوسرے حکم شرعی نہ ہوتا تو پہلے
.......................................
١۔''nasek,mamsuk''نسخ کنندہ اورنسخ شدہ
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ
٣۔ نہایۃ الدرایۃ ، ص٣٠٧
.....................................
والے شرعی حکم کوثابت اورلازوال حکم سمجھا جاتا، اسلام کے مقدس شریعت میں ، نسخ پہلے والے حکم کے زمان انتہا تک پہنچنے کے معنی ہے ورنہ '' بدا'' لازم آتاہے جو کہ خدا وند متعال کے لئے محال ہے ۔
شیعہ محدثین کے اصطلاح میں ، ناسخ وہ حدیث ہے جو سابق شرعی حکم کے اٹھ جانے پردلالت کرے اوراپنے اندر ایک نیاحکم لیے ہوئے ہوں اورمنسوخ وہ حدیث ہے کہ جس کاشرعی حکم ، ناسخ کے ذریعے اٹھایاگیاہے ، شہید ثانی اور سید حسن صدرنے، کلمہ '' رفع '' کے ذریعے اس حدیث کوخارج کیا ہے جو کسی دوسری حدیث کے لئے تاکید پردلالت کرے ۔ اور''حکم '' سے مراد ، واجب ، مستحب ، کراہت اورحرمت ہے ، کلمہ''شرعی '' کے ذریعے احکام عقلی اورکلمہ '' سابق '' کے ذریعے ،حدیث میں، صفت ، شرط اور غایت ،کو خارج کیا گیا ہیں کیونکہ یہ چیزیں سابق نہیں ہےں۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح : ''عبارۃ عن رفع الشارع حکما منہ متقدماً بحکم منہ متأخر'' .( ١)
یعنی شارع کی طرف سے حکم متأخرکے ذریعے حکم متقدم کواٹھانے کونسخ کہا جاتا ہے ۔
٢۔ سیوطی :'' ان النسخ رفع الشارع حکماً منہ متقدماً بحکم منہ متأخر فالمراد برفع الحکم قطع تعلّقہ عن المکلّفین ''.(٢)
یعنی نسخ ، شارع کاآخری حکم کے ذریعے پہلے والے حکم کواٹھانا ہے ، رفعِ حکم سے مراد قبل والے حکم کاتعلق مکلفین سے کٹ جانے کاہے ۔
٣۔صبحی صالح : '' وہو علم یبحث عن الاحایث المتعارضۃ التی لایمکن التوفیق ......................................
١۔علوم الحدیث ، ص٢٧٧
٢۔تدریب الراوی ، ج٢،ص١٩٠
.....................................
بینہما من حیث الحکم علی بعضہا بانّہ ناسخ وعلی البعض الآخر فانہ منسوخ ، فماثبت تقدمہ یقال لہ منسوخ وماثبت تأخرہ یقال لہ ناسخ'' .( ١)
یعنی علم ناسخ ومنسوخ ایک ایسا علم ہے جو ان متعارض احادیث کے بارے میں بحث کرتاہے جن کوآپس میں جوڑنا ممکن نہیں کیونکہ ان میں سے بعض ناسخ اوربعض منسوخ ہیں پس جس حدیث کاتقدم ثابت ہوجائے اسے منسوخ کہاجاتاہے اورجس کے لئے تأخر ثابت ہواسے ناسخ کہتے ہیں ۔
محدثین اہل سنت کی نگاہ میں حدیث منسوخ اور ناسخ کی تعریف وہی ہے جو شیعہ محدثین کرتے ہیں کہ وہی سابق شرعی حکم کارفع ہونا ہے ، سیوطی اپنی تعریف میں کہتاہے کہ حکم رفع سے مراد ، مکلفین سے پہلے والے حکم کاقطع تعلق ہے اوروہ حکم کوشارع کی طرف اضافہ کرتے ہوئے اس روایت کوخارج کرتاہے جس کوصحابہ نسخ سے رپورٹ دے ، کیونکہ وہ نسخ کارپورٹ ہے نہ نسخ ، کلمہ '' حکم '' سے اصلی اباحہ خارج ہوتاہے ؛ کیونکہ حکم میں پہلی والی حرمت ، وجوب ، کرامت اور استجاب اٹھائے جاتے ہیں ، کلمہ'' متقدم ''سے استثناء اور اس کے مانند خارج ہوجاتے ہیں ۔(٢)حدیث ناسخ اورمنسوخ کی تعریف کی اصل ارکان ، محدثین شیعہ اوراہل سنت کے درمیان ایک جیسے ہیں اورواضح ہے کہ نسخ میں ، اگرچہ ظاہر میں ، قبل والے حکم کااٹھایاجانا ہے ، لیکن حقیقت میں ، نسخ قبل والے حکم کا وقت ( مقرر ) کاختم ہونا ہے ۔
محدثین اہل سنت کی نگاہ میں ، حدیث ناسخ اورمنسوخ ، مشترک اصطلاح میں شمار نہیں ہے بلکہ اس کوعلوم حدیث کے ایک الگ اورمستقل علم شمار کیا ہے لہذا صبحی صالح نے اس کو '' علم ناسخ و ...............................................
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١١٢
٢۔تدریب الراوی ، ج٢،ص١٩٠
.....................................
منسوخ ''سے تعبیر کیا ہے ( حجامت کنندہ اورجس کی حجامت ہوجائے ان کے لئے ضروری ہے کہ افطارکریں ان پر روزہ نہیں ہے ) اس حدیث'' احتجم رسول اللّہ وہو محرم صائم '' . (١) حدیث میں نسخ کے مندرجہ ذیل اقسام ہوسکتے ہیں :
الف: حدیث کا نسخ حدیث کے ذریعے
ب: قرآن کا نسخ حدیث کے ذریعے
اس بارے میں کہ حدیث کانسخ ،حدیث کے ذریعے ، جیسے قرآن کے نسخ قرآن کے ذریعے ، ممکن ہے اوراس کے مصادیق بھی پائے جاتے ہیں ، اورعلماء اورمحدثیں شیعہ اور اہل سنت کے درمیان کوئی اختلاف اور شک نہیں ہے ( ٢)اس بنا پرامام صادق علیہ السلام کی طرف سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ :'' الحدیث ینسخ کما ینسخ القرآن'' .( ٣)یعنی حدیث نسخ ہوجاتی ہے جس طرح قرآن نسخ ہوتاہے ۔لیکن اس بارے میںکہ قرآن کے نسخ حدیث کے ذریعے ممکن ہے یانہیں ؟ مختلف نظریے پائے جاتے ہیں :آیۃ اللہ خوئی کانظریہ ہے کہ قرآن کی آیت کے ذریعے جو حکم ثابت ہے وہ ممکن ہے سنتِ متواتر کے ذریعے نسخ ہوجائے لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملی ہے ؛ لیکن خبر واحد کے ذریعے کے ذریعے قرآنی آیات کانسخ ، ممکن نہیںہے۔ ( ٤)ائمہ معصومین ؑ کے احادیث بھی ، حدیثِ پیامبر ؐ کے ناسخ نہیں بن سکتی ، کیونکہ حضرت پیامبر اکرم ؐ کی رحلت کے بعد وحی ختم ہوگئی ہے ۔
..........................................
١۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١٩٠؛بحارالانوار ،ج٩٦، ص٢٧٤؛ سنن ترمذی ، ج٣ص ١٤٦
٢۔البیان فی تفسیر القرآن ، خوئی ،ص٢٨٤؛ علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٧٦
٣۔الکافی ، کلینی ، ج، ١ ،ص٦٥
٤۔البیان فی تفسیر القرآن ، خوئی ،ص٢٨٦
.....................................
فریقین کے محدثین کی نگاہ میں ، حدیث ناسخ اورمنسوخ کی پہچان یوں بیان کیا گیاہے :
١۔ رسول اکرمؐ کی طرف سے نص موجود ہو جیسے ، '' کنت نہیتکم عن زیادۃ القبور ألا فزوروہا'' .(١)
یعنی میں تمہیں قبور کی زیارت کرنے سے منع کیا کرتاتھا لیکن ابھی تم ان قبور کی زیارت کرو۔
٢۔ کلام صحابہ ، جیسے کلام جابر کہ کہتا ہے :'' کان آخر الامرین من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ انّہ ترک الوضوء ممّا مستہ النار ''( ٢)
رسول اکرمؐ ان (اعضائ)کووضو میں چھوڑ دیتے تھے جن کو آگ نے چھویا تھا۔
٣۔ ان کی زمان شناسی تاکہ یہ معین ہوجائے کہ کون سامتأخر ہے ، جس طرح ضحاک سے نقل ہے کہ کہتا ہے :'' نعمل بالاحدث فالاحدث ''. (٣)
یعنی ہم سب سے نئی اورآخری حدیث ( اگر تضاد ہو) پر عمل کرتے تھے ۔
٤۔ اجماع : یعنی اتفاق علماء : جیسے چھوتھی دفعہ شراب پینے پرقتل والی حدیث پراتفاق ہونا کہ اس پر اجماع ہے کہ قتل کاحکم نسخ ہوگیا ہے۔( ٤)البتہ اجماع ناسخ نہیں ہے بلکہ کاشف ہے ۔ محدثین کے ایک گروپ نے حدیث ناسخ اورمنسوخ کے موضوع پرکتابیں تالیف کرنے
.................................................. ...
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ،شہید ثانی، ص١٢٦؛تدریب الراوی ، ج٢، ص١٩٠
٢۔تدریب الراوی ، ج٢، ص١٩٠؛علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٧٧؛مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٨٢
٣۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٧٧؛ مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٨٢
٤۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٢٧٧؛ مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٨٢
.....................................
میں پیش قدمی کی ہیں جیسے : '' الناسخ المنسوخ '' قتادہ ( متوفی ١١٨) ، کتاب ''الناسخ المنسوخ ''ابی حفص عمربن احمد بغدادی (متوفی٣٨٥)، ہبۃ اللہ سلامۃ ( متوفی٤١٠) ابن جوزی ( متوفی ٥٩٧) اور اصحاب امام رضا ؑ میں سے احمد بن محمد بن عیسی اشعری (١)احادیث ناسخ اورمنسوخ میں صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف کے مصادیق میں سے ایک پایا جاسکتاہے ، نسخ میں تتبع کے لئے ، کتاب بحارالانوار ،ج٢ص٢٢٨سے لیکر ٢٣٢ تک اورج٦٦، ص٤٦٣، اورج٧٥، ص١٣٠ کامطالعہ کیجیئے ۔
مطروح(٢)
شیعہ محدثین :
١۔ مامقانی :''ماکان مخالفاً للدلیل القطعی ولم یقبل التأویل ''.(٣)
یعنی مطروح وہ حدیث ہے جو دلیل قطعی کے خلاف اور قابل تأویل نہ ہو۔
آیۃ اللہ سبحانی :'' وہو ماکان مخالفاً للدلیل القطعی'' .(٤)
یعنی مطروح وہ حدیث ہے جودلیل قطعی کی مخالفت کرے ۔
شیعہ محدثین کے نزدیک ، حدیث ''مطروح ''کے اصطلاح کاکوئی رواج نہیں ہے لہذا متقدمین نے اس کی بحث نہیں کی ہے اوراس سے مراد وہ حدیث ہے کہ اس کا متن ، دلیل قطعی کے
............................................
١۔ مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٨٤؛ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص١١٢
٢۔''matruhپھینکا ہوا
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٣١٤
٤۔ اصول الحدیث واحکامہ ، ص٨٣
.....................................
مخالف اور تأویل کے قابل نہ ہو، حدیث مطروح ، اس مطلب کوروایت کرتی ہے جو شرعی اورعقلی دلائل کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اوراس کے لئے کوئی تأویل اورتوجیہ موجود نہیں ہے ، جیسا کہ وہ حدیث جو'' تجسم خداوند'' کی حکایت کرتی ہے ؛ اگرچہ اس کے تمام یاکچھ راوی ثقات ہی کیوں نہ ہوں ۔اسی لئے حدیث مطروح کو مشترک اقسام میں شمار کیا گیا ہے ؛ اگرچہ بعض کے نزدیک ،حدیث مطروح کو ضعیف میں سے شمار کیا جانا چاہئےے ۔ (١)لیکن مامقانی کے نزدیک روایت مطروح مشترک اقسام میں سے ہے اور بسا اوقات روایت شاذ کے ساتھ کچھ جہگوں پرایک ہی مصداق رکھتی ہو۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ذہبی :'' وہو من قولہم ، فلان مطروح الحدیث وہو دون الضعیف وارفع من الموضوع '' .(٢)
یعنی حدیث مطروح ان کے بقول فلان مطروح الحدیث ہے اوریہ ضعیف سے پست اورموضوع سے بلند ہے ۔
٢۔ ڈاکٹر عجاج :'' ہو المتروک الذی ینفرد بروایتہ من یتّہم بالکذب فی الحدیث... وعلی ہذا فلیس بین المتروک والمطروح ای فرق یذکر''.( ٣)
یعنی حدیث مطروح وہ متروک ہے جوروایت کرنے کے لحاظ سے منفرد اور حدیث میںجھوٹا شخص سے روایت ہوئی ہولہذا اس بنا پر متروک اورمطروح میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں پایا جاتا۔
...............................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٣١٥
٢۔تدریب الروای ، سیوطی ، ج١ ،ص٢٩٦؛ اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٤٨
٣۔اصول الحدیث ، علومہ ومصطلحہ ، ڈاکٹر عجاج ، ص٣٤٨
.....................................
محدثین اہل سنت کے نزدیک بھی ''مطروح'' کے اصلاح کا اتنا رواج نہیں ہے اور حافظ ذہبی نے، ظاہراً پہلی بار اس کومشترک اصطلاحات میں شمار کیا ہے اور اس کومستقل اورالگ انواع میں سے جانا ہے کہ حدیث ضعیف کے اقسام میں سے بھی ہوگا صبحی صالح سمیت بعض نے اس کانام ہی نہیں لیا ہے ، لیکن ڈاکٹر عجاج نے اس کانام لیا ہے ،لیکن اس کوالگ اورمستقل اصطلاح نہیں سمجھا ہے ، بلکہ اس کوحدیث '' مشترک '' کے مترادف خیال کیا ہے کہ ضعیف کے اقسام میں سے ہے ، اس بنا پر اصطلاح مطروح ، شیعہ اوراہل سنت محدثین کے نزدیک یکسان نہیں ہے ، بلکہ دو مختلف معنی رکھتا ہے اورمحدثین اہل سنت کے نزدیک ، وہ روایت ہے کہ صحت اورحسن کے شرائط اس میں موجود نہیں ہے اورضعیف کاسب سے نچلا مرتبہ ہے ۔
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-06-09, 05:01 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب نہم :
متنی مشترک اصطلاحات
مکاتب
نص ، ظاہر اورمؤوّل
مجمل اورمبیّن
مشکل

باب نہم
متنی مشترک اصطلاحات
باب نہم میں ، متن کے کچھ دیگر مشترک اصطلاحات جو : مکاتب ، نص ، ظاہر اورمؤول ، مجمل اورمبیّن اورمشکل پرمشتمل ہیں ، شیعہ اوراہل سنت محدثین کی نگاہ میں تعریف ، تتبع اورتطبیق واقع ہوگی کہ درج ذیل ہیں :
مکاتب (١)
محدثین شیعہ :
١۔میرداماد :'' وہی ان یروی آخر طبقات الاسناد الحدیث عن توقیع المعصوم مکتوباً بخظہ ؑ المعلوم عندہ جزماً وربما تکون المکاتبۃ فی بعض اوساط الاسناد
...........................................
١۔مکاتب، ''mokatab''لکھا ہوا حدیث کے لئے صفت
...........................................
بین الطبقات''. (١)
یعنی مکاتب سے مراد ہے کہ حدیث کے سلسلہ سند کے آخری طبقہ توقیع معصوم ؑ کہ اپنے خط سے لکھا ہو، روایت کرے اور یقینی طور پران کے لئے معلوم ہو ، کبھی یہ مکاتبہ طبقات سند کے درمیان میں بھی ہوسکتاہے ۔
٢۔ مامقانی ''وہو الحدیث الحاکی لکتابۃ المعصوم ؑ الحکم ، سواء کتبہ علیہ السلام ابتداء لبیان حکم او غیرہ ، او فی مقام الجواب '' .(٢)
یعنی مکاتب سے مراد وہ حدیث ہے جو کسی حکم کے بارے میں معصوم ؑ کی کتابت کی حکایت کرے ، اس میں فرق نہیں ہے کہ کتابت معصوم ؑ ابتداء میں کسی حکم کے بیان کے لئے ہو یاکسی اورچیز کے لئے ہو ،یاکسی سوال کے جواب میں ہو۔
مکاتب وہ حدیث ہے کہ معصوم ؑ کااپنے خط سے کتابت حدیث کی حکایت کرے اوراپنے دستخط بھی ساتھ ہو، لیکن فرق نہیں ہے کہ ابتداء میں کسی حدیث کی کتابت کی ہو کہ راوی اس کونقل کرے یاکسی سوال کے جواب میں اس کولکھا ہو۔( ٣)بعض نے بھی حدیث مکاتب کے دائرہ کووسیع کرتے ہوئے معصوم ؑ کے املاء جس کو راوی نے اپنے خط سے لکھا ہو ، شامل کیا ہے ۔(٤)
..................................................
١۔ الرواشح السماویۃ، ص١٦٤
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٨٣
٣۔حدیث مکاتب کے لئے بحاالانوار ، ج٢ ص١٨٦؛ج٦،ص٩٣اور٩٥؛ ج١٢، ص١٠٨، ج١٦، ص٣٦٣؛ج٢٥، ص٢٦٦اورج٤٢، ص٣٩ کی طرف رجوع کریں ۔
...........................................
٤۔ وہی ایڈرس
علماء کے نزدیک مکاتب حجت ہے ، مگر یہ ہے کہ تقیہ کااحتمال پایا جاتاہو، حدیث مکاتب کے مقابلے میں ، ''حدیث مشافہہ ''آتی ہے کہ معصوم نے حدیث کو شفاہی طور پر بیان کیا ہو اور راویوں نے اس کونقل کیا ہو، میرداماد نے اسے حدیث مکاتب سے اقوی سمجھا ہے اورکہتاہے :'' وتقابلھا روایۃ المشافہۃ وہی اقوی ''.(١)
سید حسن صدر اور میر داماد کہتے ہیں کہ بعض کی نگاہ میں ، حدیث مکاتب میں ، سلسلہ سند کے درمیان والی کتاب بھی شامل ہے جس کوبعض راویوں نے ، کسی دوسرے کے لئے حدیث کی کتابت کی ہو اورسید حسن صدر کہتے ہیں :'' وربما تکون المکاتبۃ فی بعض اوساط الاسناد بین الطبقات بعض عن بعض دون الطبقۃ الاخیرۃ''. (٢)
حدیث مکاتب کارواج ، محدثین کے درمیان میں اتنا نہیں ہے ، لہذا محدثین اہل سنت کے نزدیک ، مکاتب کااصطلاح ، موضوع اورحکم کے لحاظ سے ، شیعہ اصطلاح کے ساتھ فرق رکھتا ہے ، محدثین اہل سنت کے نزدیک ، مکاتب ، تحمّل حدیث کے طریقوں میں سے ایک ہے کہ شیعہ کے نزدیک '' کتابت'' کے نام سے معروف ہے اورباب ھفدہم میں اس کی بحث ہوگی ، حدیث مکاتب مشترک اصطلاحات میں سے ہے اورراویوں کے حالات کے لحاظ سے ، صحیح ، حسن اور موثّق اورضعیف میں سے ایک مصداق پراترآ سکتی ہے ، حدیث مکاتب کی کچھ مثالیں ، استاد احمدی میانجی کی کتاب '' مکاتیب الرسول '' میں موجود ہیں اورمطالعہ کرسکتے ہیں۔

................................
١۔ الرواشح السماویۃ، ص١٦٤
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص١٧٠
...........................................
نص ، ظاہر ،مؤوّل (١)
اصطلاح '' نص ، ظاہر اورمؤوّل ''علم الدرایۃ کے اصطلاحات کے ساتھ مخصوص نہیں ہےں، اور زیادہ تر علم اصول میں اس کی بحث ہوتی ہے اورمحدثین خصوصاً اہل سنت کے نزدیک اس کے بارے میں بحث نہیں ہوئی ہے لیکن بعض شیعہ محدثین کے نزدیک ا س کی بحث اورتعریف ہوئی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
١۔مامقانی '' النص وہو ماکان راجحاً فی الدلالۃ علی المقصود ، من غیر معارضہ لاقوی او المثل ، الظاہر وہو مادلّ علی معنی دلالۃ ظنینۃ راجحۃ مع احتمال غیر ہ المؤوّل وہو اللفظ لمحمول علی معناہ المرجوح بقرینۃ مقتضیۃلہ، عقلیۃ کانت او نقلیّۃ ''. (٢ )
یعنی نص وہ ہے جو اپنے مقصود پردلالت کرنے میں راجح( پلہ بھاری ) ہو اور اقوی یااپنے جیسے کے ساتھ معارض نہ ہو ۔ اورظاہر وہ حدیث ہے جوایسے معنی پر دلالت کرے جوظنی اورراجح ہو، ساتھ اس کے کہ اس کے غیر کابھی احتمال ہو، اورمؤوّل وہ لفظ ہے کہ کسی خاص قرینے کہ وہ عقلی ہویانقلی ، کے ذریعے غیر راجح معنی پرحمل ہوتاہے ۔

٢۔ ایۃ اللہ سبحانی :'' النص وہو ماکان صریحاً فی الدلالۃ ، لایحتمل الا معنی واحداً ، والظاہر ہو مادون الصریح فی الدلالۃ علی المراد المؤوّل ، اللفظ المحمول علی
............................................
١۔''nas''صریح کلام ،''zaher''،واضح''moavval'' تأویل شدہ۔
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص ٣١٦
...........................................
معناہ المرجوح بقرینۃ حالیۃ او مقالیۃ'' .(١)
یعنی نص وہ ہے جواپنی دلالت میں صریح ہواور ایک ہی معنی کااحتمال ہو، اورظاہر اپنے مراد پردلالت کرنے کے لحاظ سے صریح سے کمزور ہے ، اورمؤوّل وہ لفظ ہے جوقرینہ حالیہ یامقالیہ کے ذریعے غیر راجح معنی پر حمل ہوتاہے ۔
مندرجہ بالا تعاریف میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ حدیث کے متن کواپنے مراد اورمقصود پردلالت کرنے کے لحاظ سے کئی قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
الف) نص : چانچہ ، حدیث کا متن دلالت کرنے میں صریح اورایک ہی معنی پایاجاتا ہو، اس طرح کہ اس کے علاوہ کسی اورمعنی کااحتمال نہ ہوتویہ '' نص'' ہوگا، جیساکہ وہ حدیث جواجزاء نماز کے وجوب پردلالت کرتی ہیں ،بقول علامہ مامقانی حدیث اس وقت '' نص'' کہلائی گی اپنے مقصود پردلالت کرنے میں راجح اور کوئی بھی تعارض نہ رکھتی ہو۔
ب) ظاہر: چنانچہ ، حدیث کے متن کئی معنی اپنے اندر رکھتا ہو کہ ان میںسے ایک معنی دوسرے پر ترجیح رکھتا ہوتو اس معنی کو''ظاہر'' کہا جاتاہے ؛ کیونکہ وہ معنی ظنی الدلالۃ ہے اور دوسرے معانی ترجیح نہیں رکھتے ؛ اگرچہ ان کااحتمال موجود ہو، حدیث ظاہر جیسی وہ حدیث ہیں جوامر یانہی کی حکایت کرے اورظہور وجوب اورظہور نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔
ج)مؤوّل :چنانچہ ، حدیث کے متن کئی معانی رکھتا ہو اورکسی قرینے کے ذریعے غیر راجح معنی اورظاہر کے خلاف معنی پرحمل ہوجائے ، تو اس معنی کو'' مؤوّل '' کہتے ہیں ، وہ قرینہ جومتنِ حدیث کوظاہر کے خلاف پرحمل کرنے کی سبب بنے چاہے عقلی ہویاشرعی ، جیسے :
........................................
١۔اصول الحدیث واحکامہ ، ص٨٤
...........................................
١۔ وہ حدیث جوپیامبر اکرم ؐ کی طرف منسوب ہے جس میں روایت ہوئی ہے :'' انّ اناساًفی زمن النّبی ؐ قالوا :یارسول اللہ ہل نری ربّنا یوم القیامۃ؟ قال ؐ ، نعم '' .( ١)
حدیث مذکورکہ قیامت کے دن '' رأیت خدا وند متعال '' کے ساتھ مربوط ہے ، قدرت عظمت الہیٰ کی رؤیت پرتأویل ہوئی ہے ، تاکہ جسمانیت خداوند کے ساتھ منافات رکھاجائے ۔
٢۔'' من تقرب الی شبراً تقّربت الیہ ذراعاً ''.(٢)
٣۔'' انّ المیّت یعذّب ببکاء اہلہ علیہ'' .(٣)
٤۔ :''لن یدخل الجنّۃ من فی قلبہ مثقال ذرۃ من الکبر''.(٤)
٥۔ ''سألت الرضا ؑ عن صید البازی والصقر یقتل صیدہ والرجل ینظر الیہ قال : کل منہ''. (٥)
حدیث نص، ظاہر اورمؤوّل ، راویوں کے اعتبار کے لحاظ سے ، صحیح ، حسن موثّق اورضعیف پرقابل تطبیق ہے ؛کیونکہ مشترک اصطلاحات میں سے شمار کیا گیاہے ۔
مجمل اورمبیّن (٦ )
...............................................
١۔صحیح بخاری ، ج٦، ص١٩٨
٢۔ بحار الانوار ، ج٣ ،ص٣١٣؛ ج٨٧، ص١٩
٣۔ بحار الانوار ، ج،٧٢، ص١٠٨
٤۔ بحار الانوار ، ج،٧٣، ص١٩٢؛ج٢ ،ص١٤١
٥۔ استبصار ، ج٤،ص٧٢
٦۔''mojmal'' ، مختصر اوراجمال دار''mobaiian'' آشکار اورواضح
...........................................
''مجمل اورمبیّن''کااصطلاح بھی علم الدرایۃ کے ساتھ مخصوص اصطلاحات میں سے نہیں ہے اورزیادہ ترعلم اصول میں الفاظ کی بحث میں اس کی تتبع کی جاتی ہے اوراکثر طور پرمحدثین خاص کرمحدثین اہل سنت نے اس کی بحث اور تتبع کی ہے۔لیکن علم الدرایۃ کی کتاب میں بعض شیعہ محدثین نے اس کے بارے میں بحث کی ہے جومندرجہ ذیل ہیں :
١۔ مامقانی :'' المجمل وہو ماکان غیر ظاہر الدلالۃ علی المقصود والاجود تعریفہ بانّہ اللفظ الموضوع الذی لم یتضح دلالۃ ... والمبیّن وہومااتضحت دلالتہ وظرت'' .( ١)
یعنی مجمل وہ ہے جس کی دلالت مقصود اورمراد پرظاہر نہ ہو اوراس کی بہتر تعریف یہ ہے کہ مجمل وہ لفظ ہے کہ اس کامعنی موضوع لہ واضح نہ ہو اورمبیّن وہ حدیث ہے جس کا مقصود اورمراد پردلالت واضح اورظاہر ہو۔
٢۔آیۃ اللہ سبحانی :'' المجمل وہو ماکان غیر ظاہر الدلالۃ علی المقصود ... والمبیّن وہو خلاف المجمل ''.( ٢)
مذکورہ بالاتعاریف سے معلوم ہوتاہے کہ، حدیث مجمل وہ روایت ہے کہ اس کی دلالت اپنے مراد اورمقصود پرواضح نہ ہو، چاہے اجمال الفاظ اورمفردات کلام سے متعلق ہو، جیسا کہ حدیث کی عبارت میں مشترک لفظی موجود ہویااجمال ، کلام کے مراد اورمطلب سے مربوط ہو۔
کیونکہ حدیث کامقصود اوراصل مطلب معلوم نہیںہے ، حدیث مجمل میں کئی یا زیادہ معنی .....................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٣١٧
٢۔اصول الحدیث واحکامہ ، ص٨٥
...........................................
قابل تصور ہے کہ ان میں سے کسی کوبھی ایک دوسرے پرفوقیت اورترجیح حاصل نہیں ہے اورکلام میں اجمال موجود ہو، لیکن حدیث مبیّن ایسی نہیں ہے کیونکہ حدیث مبیّن کے مقصود اورمراد واضح اورروشن ہے ، خواہ اس وجہ سے کہ یہ نص ہے یااس میں ظہور پایاجائے ، حدیث میں اجمال ، خواہ لفظ کی وجہ سے ہو یامراد اورمقصود کی وجہ سے، تبیین اوروضاحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ حدیث ، محتمل معنوی میں سے کسی پر حمل کیا جائے ، اجمال کوکبھی ، حدیث مبین کے ذریعے اوران کوایک دوسرے کے ساتھ موازنہ اورتطبیق کرنے سے اورکبھی کسی دوسرے اسباب کی وجہ سے ، دور کیاجاسکتا ہے ۔
حدیث مجمل کی مثال کے لئے '' کتابت حدیث کے نہی '' کی روایت کوپیش کی جاسکتی ہے کہ اس روایت میں آیا ہے :'' لاتکتبواعنّی شیأً غیرالقرآن '' .( ١) یعنی قرآن کے علاوہ مجھ سے کوئی چیز ( حدیث ) مت لکھو۔ اس روایت کے بارے میں کئی معنی بیان ہوئے ہیں ، مثلاً کتابت حدیث سے نہی کسی خاص شخص سے متعلق ہے، یانہی کسی خاص مکان یازمان کے لئے ہو،یاقرآن کے ساتھ حدیث کی کتابت سے نہی کی ہووغیرہ ( ٢)
حدیث مجمل اورمبیّن راویوں کے حالات کے لحاظ سے، صحیح ، حسن ، موثّق اور ضعیف میں سے ایک پر تطبیق ہوسکتی ہے ، حدیث میں اجمال کی مثالیں ، کتاب بحارالانوار میں مندرجہ ذیل تفصیل کے ذریعے مطالعہ کرسکتے ہیں ؛
بحار الانوار ،ج٨١، ص٣٦٢؛ ج٧٥،ص٦٤؛ج٨٨،ص٢٤١اور ص٢٦٦۔
.........................................
١۔صحیح مسلم ، کتاب الذہد ، باب ١٦، حدیث٧٢
٢۔علوم الحدیث ومصطلحہ ،صبحی صالح ، ص٨
...........................................
مشکل (مشکل (١ )
حدیث مشکل کااصطلاح ، محدثین شیعہ اوراہل سنت کے نزدیک کوئی خاص رواج نہیں ہے اوراس کی بحث کم ہوئی ہے اورجہاں بھی اس کی بحث چھڑی ہے ، فریقین کے نزدیک ایک جیسا معنی نہیں پایاجاتاہے ، شیعہ محدثین کے نزدیک اس سے مراد وہ روایت ہے جس میں ایسے الفاظ اورعبارات ہوں کہ ان کے معنی اورمطالب کے سمجھنے میں سختی اورپیچیدگی ہو اوصرف حدیث پرمہارت رکھنے والے خاص عرفاء ان معانی کوسمجھ سکتے ہیں ، مامقانی کہتے ہیں :'' مااشتمل علی الفاظ صعبۃ لایعرف معانیہا الاالماہرون أو مطالب غامضۃ لا یفہمہا الا العارفون ''. ( ٢)
حدیث مشکل ، حدیث غریب الالفاظ سے الگ ہے اورحدیث مشکل اورمجمل کے درمیان فرق یہ ہے کہ حدیث مجمل میں ، کئی معانی مراد لے سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو دوسرے پرترجیح حاصل نہیں ہے اوربسا اوقات ان معانی میں سے کوئی بھی سمجھنے میں مشکل اورپیچیدگی نہیں ہے ، لیکن حدیث مشکل ، کہ اس میں سخت اورپیجیدہ معانی پائے جاتے ہیں کہ صرف عارف لوگ اورقابل محدثین ان کوسمجھتے ہیں ۔
محدثین اہل سنت کے نزدیک حدیث '' مشکل '' وہی حدیث '' مختلف'' ہے کہ اس کامعنی دوسری احادیث کے ساتھ مقارنہ اورموازنہ میں ناسازگار ہے اوراس کے مقابلے میں حدیث '' موافق '' ہے اور اس کے بارے میں باب ہفتم میں بحث ہوگی ۔
احادیث '' مشکل'' کی وضاحت کے لئے بہت سی کتابیں تألیف ہوگئی ہیں ، ان میں سے
......................................
١۔''moskel''نامفہوم
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١،ص٣١٦
...........................................
کتاب '' مشکل الآثار'' تألیف از طحاوی ، کتاب '' مشکلات العلوم '' تألیف ازمرحوم نراقی اورکتاب '' مصابیح الانوار فی حل مشکلات الاخبار '' از تألیف سید عبداللہ شبّر ، قابل ذکر ہیں ۔
احادیث مشکل میں سے ایک '' قرآن کے نزول ساتھ حروف پر'' (١)والی روایت ہے کہ اس کاسمجھنا کافی دشوار ہے اوربعض نے اس کے فہم اورسمجھنے کے لئے ٢٥ اقوال بیان کیا ہے کہ ابھی تک بعض کے نزدیک اس کے معنی اورمقصود معلوم نہیں ہوا ہے اور معنی تک پہنچنے میں قاصرہے ،حدیث مشکل مشترک اصطلاحات میں سے ہے اور صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف پرقابل تطبیق ہے ۔
............................................
١۔نزول قرآن ورؤیای ہفت حرف ، ڈاکٹر مؤدب ، ص٥١
صرف علی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-06-09, 05:20 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,499
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باب دہم
سند اورمتن کے مشترک اصطلاحات
مصحف
مزید
مدرج
غریب
مشہور
شاذ

باب دہم
سند اورمتن کے مشترک اصطلاحات
باب دہم میں ، سند اورمتن کے مشترک اصطلاحات ، یعنی وہ جگہے جو ،صحیح اورحسن وغیرہ کے درمیان مشترک ہوں اورسند اورمتن سے متعلق ہوجو کہ حدیث مصحف ، مزید ، مدرّج ،غریب ، مشہور اورشاذ پرمشتمل ہوں ، محدثین شیعہ اوراہل سنت کی نگاہ میں تعریف ، تتبع اور تطبیق ہوں گی جوکہ درج ذیل ہیں:
مصحف(١ )
شیعہ محدثین :
١۔ سید حسن صدر:'' فلو حُرّف او صحّف فی السند او المتن وجب معرفتہ '' .( ٢)
یعنی اگر سند اورمتن تحریف یاتغییر ہوتو اس کے پہچان لازمی ہے ۔
.......................................
١۔مصحف '' mosahhaf''اسم مفعول اور غلط لکھنے کے معنی ہے
٢۔نہایۃ الدرایۃ ، ص٣٠٤
............................................
٢۔ علامہ مامقانی :'' وہو ماغیّر بعض سندہ اومتنہ بمایشابہہ او یقرب منہ '' .(١)
یعنی مصحف سے مراد سند اورمتن کے بعض حصے میں اپنے جیسے یااپنے قریب کے ساتھ تغییر آنا ہے ۔
شہید ثانی اور شیخ بہائی نے مصحف کی تعریف نہیں کی ہیں ، اگرچہ کہ شہید ثانی نے اس کے اقسام کوبیان کیا ہے ، شیعہ محدثین کے مطابق حدیث مصحف کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے ؛ کہ یہ ایک ایسی حدیث ہے اس کے سند یامتن میں اس کے بالمشابہ کے ساتھ تغییر آئی ہو۔
تصحیف کبھی سند میں واقع ہوتی ہے جیسے '' برید'' ''یزید'' کے ساتھ ، ''حریز '' ''جریز''کے ساتھ اور ''مراجم '' ''مراحم'' کے ساتھ وغیرہ اورکبھی تصحیف حدیث کے متن میں واقع ہوتی ہے ، جیسے یہ روایت :'' انّ النبی احتجر فی المسجد ''. اس روایت کے ساتھ '' انّ النبی احتجم فی المسجد''. اور یہ روایت :'' من صام رمضان واتبعہ ستاً من شوال''. اس روایت کے ساتھ : ''من صام رمضان واتّبعہ شیأاً من شوال ''. یایہ روایت :'' الدنیا رأس کل خطیئۃ''.اس روایت کے ساتھ :'' الدینار أس کل خطیئۃ ''.(٢)
محدثین اہل سنت :
١۔ صبحی صالح :'' ان ماکان فیہ تغییر حرف او حروف بتغییر النقط مع بقاء صورۃ الخط سمّی مصحّفاً وما کان فیہ ذالک فی الشکل سمّی محرّفاً''(٣)
یعنی مصحف اس کو کہا جاتاہے کہ جس میں ایک حرف یاکئی حروف نقطے کی تبدیلی کی وجہ سے تغییر ہوئے ................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ص ٢٣٧
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٩۔١١٠؛ مقباس الہدایۃ ، ج١، ص٢٣٨
٣۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٧٣
............................................
ہوں ، لیکن اصل شکل باقی رہے اگر شکل میں بھی تبدیلی آجائے تو اسے محرف (تحریف شدہ ) کہاجاتاہے ۔
٢۔ ڈاکٹر عجاج :'' فالمصحّف ماوقع فیہ التغییر فی اللفظ او المعنی وخصّہ بعضہم بما کان فیہ تغییر حرف او حروف بتغییر النقط مع بقاء صورۃ الخط ''( ١)
مصحف وہ ہے جس میں لفظ یامعنی کے لحاظ سے تبدیلی آجائے اوربعض نے اس کومخصوص کیا ہے کہ مصحف وہ ہے جس میں اس کی شکل باقی رہتے ہوئے ایک حرف یاکئی حروف میں نقاط کی تغییر کی وجہ سے تبدیلی آجائے ۔
سیوطی اورابن صلاح نے حدیث مصحف کی تعریف نہیں کہ ہیں اورظاہری طورپر انہوں نے اس کی تعریف کوبدیہی اورواضح خیال کیا ہے اوران کی نگاہ میں مصحف اورمحرّف میں کوئی فرق نہیں ہے اوران کومترادف سمجھے ہیں (٢)لیکن اہل سنت کے متأخرین کی نگاہ میں، جس طرح صبحی صالح کی تعریف میں آیا ہے ، مصحف اور محرّف یکسان نہیں ہیں اوریہ ایک حرف یاکئی حروف میں تبدیلی سے مربوط ہے لیکن کلمہ کی شکل میں تبدیلی نہیں آتی ، جیسے ''برید'''' یزید'' کے ساتھ ، اور اگر شکل میں بھی تبدیلی آجائے ، تو اس وقت وہ محرّف ہوگی ، اہل سنت کے محدثین کی نگاہ میں ، تصحیف اکثراً متن میں ہے کہ یہ معنی تبدیلی کا باعث بنتا ہے اورتصحیف میں اس کااہل رؤیت میں خطا کے ساتھ مربوط ہے (٣) علامہ مامقانی کی نگاہ میں مصحف اورمحرف کے درمیان عام وخاص مطلق کی نسبت ہے۔
..........................................
١۔اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٧٤
٢۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٧٣
٣۔علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٧٦
............................................
کہ تصحیف عام ہے اورتحریف اس کے مصادیق میں سے ہوگی ،( ١)بہرحال تصحیف کی وجہ ، کبھی دیکھنے میں اشتباہ کرنا ہے اورکبھی سننے میں اوراسی وجہ سے محدثین کافی کوشش کرتے تھے کہ راویوں کے نام اورمتن حدیث کو دیکھنے اورسننے کے لحاظ سے مکمل طور پر ذہن میں رکھتے تھے اوراعجام وشکل کی طرف بھی بہت توجہ رکھتے تھے ۔
ابن صلاح مصحف کے لئے ایک اور تقسیم بیان کرتاہے اوروہ ، تصحیف لفظ اور، تصحیف معنی میں ہے ، لفظ میں تصحیف بہت زیادہ ہے اوراس کی مثالیں گزر گئیں لیکن معنی میں تصحیف مثلاً محمد بن مثنّی کے کلام کہ کہا:''نحن قدم لناشرف ، نحن من عنَزَۃَ وقدصلی النبی الینا'' .کہ اس نے کلمہ عنزہ کوکہ چھوٹی عصا کے معنی میں ہے ، عنزہ یعنی اپنے قبیلے کے نام کے ساتھ تصحیف کیا ہے ، تصحیف کے بارے میں مختلف کتابیں تالیف ہوئی ہیں جیسی ابو احمد حسن بن عبداللہ کی کتاب '' التصحیف و التحریف ''.(٢) اورعلامہ حلی کی کتاب '' ایضاح الاشتباہ فی اسماء الرواۃ ''. (٣)وغیرہ ۔
مزید(٤)

شیعہ محدثین :
١۔ شہید ثانی :'' المزید علی غیرہ من الاحادیث المرویۃ فی معناہ والزیادۃ تقع فی ............................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص٢٤٣
٢۔تدریب الراوی ، ج٢، ص١٩٣
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٩
٤۔مزید''mazid'' اسم مفعول اورزیادہ ہونے کے معنی ہے
............................................
المتن ...وفی الاسناد''.(١)
یعنی مزید ، وہ حدیث ہے جودوسری اپنی جیسی احادیث کے ساتھ موازنہ کرنے سے متن یاسناد میں اضافہ ہو۔
٢۔ علامہ مامقانی :'' ہوالحدیث الذی زید فیہ علی سائز الحدیث المرویۃ فی معناہ ''. (٢)
یعنی مزید سے مراد وہ حدیث ہے جس میں اپنے ہم معنی حدیث کی نسبت زیادہ ہو۔
مزید ، وہ حدیث ہے جس میں اپنی جیسی ہم معنی اور ہم مضمون احادیث کے ساتھ موازنہ کی صورت میں زیادہ اوراضافہ ہو، چاہے وہ زیادہ متن میں ہویاسند میں ،زیادہ کبھی متن میں اس طرح ہو کہ حدیث مزید میں کوئی کلمہ دوسرے عبارات کے علاوہ زیادہ ہو کہ وہ معنی میں بھی تبدیلی پیدا کرے ، جیسے روایت نبوی ،:'' جعلت لی الارض مسجداً وطہوراً ''. اوراس کی مزید میں آیاہے :'' جعلت لی الأرض مسجد اً وترابہا طہوراً''. (٣)
روایت مزید متفردات میں سے ہے ؛ لیکن ، راویوں کے ایک کثیر تعداد نے غیر مزید کوروایت کرنے میں پیش قدمی کی ہے۔
مزید کاحکم :
اگر ثقہ راوی کے ذریعے متن میں اضافہ واقع ہوا ہو تو بسا اوقات اس کے معنی کو نقل کرنے کی وجہ سے ہے اوریہ ، حدیث غیر مزید کے ساتھ کہ اس کے روای بھی ثقہ کوئی منافات نہ رکھتاہو ،وہ
........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٢١
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ،ص٢٦٤
٣۔مستدرک الوسائل ،ج١ ،ص١٥٦؛ صحیح بخاری ، کتاب التیمم، ج١،ص٨٠
............................................
حدیث مزید قابل قبول واعتماد ہے ، لیکن اگر حدیث مزید اورغیر مزید کے درمیان منافات ہو، اگرچہ وہ عام وخاص کی صورت میں ہواور ان دونوں کے درمیان اجتماع ممکن ہو، تو اس صورت مین حدیث مزید کے لئے وہی حکم ہے جو حدیث شاذ کے لئے ہے ۔
مذکورہ مثال میں ، حدیث مزید میں کسی کلمہ کااضافہ ہوجو ممکن ہے کہ غیر مزید کے لئے خاص ہو، لہذا یہ '' شاذ ''میں سے ہوگی ، شہیدثانی بھی فرماتے ہیں :
''لوکانت المنافاۃ فی العموم والخصوص بأن یکون المروی بغیر الزیادۃ عامّاً بدونہا فیصیر خاصّاً او بالعکس ، فیکون المزید حینئذ کالشّاذّ''.(١)
یعنی اگر مزید اورغیر مزید کے درمیان ، منافات عام اورخاص کی صورت میں اس طرح ہو کہ حدیث غیر مزید عام ، حدیث مزید خاص کے ساتھ یااس کی الٹ ہوجائے گی تو اس صورت میں حدیث مزید ، حدیث شاذ کی حکم میں آئے گی ۔
اگرمتن میں اضافہ دو مزید اورغیر مزید روایت میں تضاد کاموجب بنے ، توان کا حکم وہی ہے جومتعارضین کے لئے ہے کہ اس صورت میں بعض نے حدیث مزید کو غیر قابل قبول جانا ہے (٢)اگر متن میں اضافہ خط کے نسخے کے اختلاف کی وجہ سے ہوتو، تعارض کامصداق پیدا نہیں کرتا۔
کبھی اضافہ حدیث کے سند میں ہوتاہے ، اس طرح کہ حدیث مزید کے سند میں ایک شخص یااس سے زیادہ اس جیسی حدیث کی نسبت موجود ہوں اس طرح کہ مزید کبھی اسناد کامل کے ساتھ ہے
لیکن غیر مزید میں ارسال یاانقطاع ہے ، تو اس صورت میں اگر حدیث مزید کو روایت کرنے والے ثقہ ...........................................
١۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٢٢
٢۔مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥ ،ص٢٦٧
............................................
ہوں ، توحدیث مزید قابل قبو ل ہوگی ، شیخ بہائی کے والد صاحب کہتے ہیں:'' وامّاالنّقص فبأن یروی الرجل عن آخر وعلم انّہ لم یلحقہ أو لحقہ ولم یرو عنہ فیکون الحدیث مرسلاًاو منقطعاً ''.(١)
یعنی حدیث غیر مزید میں یہ نقص ہوکہ راوی نقل کرتے وقت جانتا ہے کہ دوسرے راوی نے جس سے روایت کی ہے اس کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی ہے یاملاقات ہوئی ہے لیکن اس سے نقل نہیں کیا ہے تو اس صورت میں حدیث ، مرسل یامنقطع ہوگی ۔
محدثین اہل سنت :
١۔ ابن کثیر :'' وہو ان یزید راوٍ فی الاسناد رجلاً لم یذکرہ غیرہ ''.(٢)
یعنی مزید سے مراد ہے کہ راوی سلسلہ سند میں ایک شخص کااضافہ کرے کہ دوسروں نے اس کوذکر نہیں کیا ہے ۔
٢۔ ابن صلاح:'' معرفۃ المزید فی متصل الاسانید ، مثالہ ماروی عن عبداللّہ بن البارک ، قال : حدثنا سفیان عن عبدالرحمان بن یزید ... فذکر سفیان فی ہذا الاسنادزیادۃ ''. ( ٣)یعنی مزید کی پہنچان ، سندِ متصل میں ، اس کی مثال کےلئے یہ سند بیان کیاہے : '' عن عبداللّہ بن البارک ، قال : حدثنا سفیان عن عبدالرحمان بن یزید ...''.پس اس سند میں ، سفیان اضافہ ذکرہوا ہے ۔
..............................................
١۔وصول الاخیار ،ص١١٧
٢۔ الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث ، ص١٢٤
٣۔علوم الحدیث ،ص٢٨٦
............................................
٣۔ سیوطی :ا؛لف):'' معرفۃ الزیادات الثقات وحکمہا وقد اشتہر بمعرفۃ ذالک جماعۃ کأبی بکر ومذہب الجمہور من الفقہاء والمحدثین قبولہا مطلقا سواء وقعت ممّن رواہ اوّلاً ، ناقصاً ام من غیرہ وسواء تعلق بہا حکم شرعی ام لا، سواء غیّرت الحکم الثابت ام لا...''.(١)
ثقات راویوں کے اضافے کی پہچان اور اس کا حکم : اورایک گروہ جیسے ابوبکر اور جمہور مذہب کے فقہاء اورمحدثین کے نزدیک یہ مشہور ہے کہ اس قسم کے اضافے والے حدیث کومطلقا قبول کیا جائے گا چاہے وہ اضافہ سند کے ابتداء میں واقع ، ناقص ہو یاغیر ناقص ، چاہے کوئی شرعی حکم سے متعلق ہو یانہ ہو، چاہے وہ حکم ثابت تبدیل ہوا ہویانہ ہو۔
ب)'' معرفۃ المزید فی متصل الاسانید ومثالہ ماروی عبداللہ بن مبارک قال حدثنا سفیان ... فذکرسفیان وابی ادریس فی ہذا الاسناد زیادۃ ''. (٢)
یعنی متصل سند میں مزید کے پہچان، اس کی مثال وہ ہے جس کو عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ہے ، اس سند میں سفیان اورابی ادریس اضافہ واقع ہواہے ۔
حدیث مزید اہل سنت کے نزدیک ، مشترک اصطلاح کے عنوان سے مشہور نہیں ہے لہذا صبحی صالح نے علوم الحدیث میں اورڈاکٹر عجاج وغیرہ نے اصول الحدیث میں اس کاتذکرہ نہیں کیا ہے اور صرف ابن کثیر، ابن صلاح اور سیوطی وغیرہ جیسے پرانے محدثین نے ،'' معرفۃ مزید'' کے نام سے اس کے بارے میں بحث کی ہیں ، وہاں بھی '' معرفۃ مزید'' کے نام سے سند میں بحث کی ہے لیکن شیعہ
.........................................
١۔تدریب الروای ، سیوطی ، ج١ ،ص٢٤٥
٢۔تدریب الروای ، سیوطی ، ج٢،ص٢٠٣
............................................
محدثین کے نزدیک ، اصطلاح مشترک کے عنوان سے دوحصوں ، سند اور متن میں اس کے بارے میں بحث کی ہیں ، حدیث مزید بھی صحیح ، حسن ، موثّق اورضعیف پر تطبیق آسکتی ہے مزید کی شناخت اور معرفت ایک ضروری امور میں سے ہے جو غور وخوص کرنے والوں کوحاصل ہوجاتی ہے ۔
مدرج (١ )
شیعہ محدثین :
١۔شہیدثانی ؛''وہو ادرج فیہ کلام بعض الرواۃ ، فیظنّ لذالک انّہ منہ او یکون عندہ متنان باسنادین فیدرجہما فی احدہما ... او یسمع حدیث واحد من جماعۃ مختلفین فی سندہ ... او مختلفین فی متنہ مع اتفاقہم علی سندہ فیدرج روایتہم جمیعاً علی الاتفاق فی المتن او السند ولا یذکر الاختلاف ''. (٢)
یعنی مدرج وہ ہے جس کے اندر راویوں کے بھی کچھ کلام ہو لہذا وہ گمان کرتاہے کہ یہ اسی کاہے یاراوی کے پاس حدیث کے دومتن ، دو سند کے ساتھ ہو تو وہ ان دوسندوں کوایک میں درج کرتاہے یاوہ ایک حدیث کو دو مختلف سند کے ساتھ ایک جماعت سے سنے ، یادونوں کاسند ایک ہو اورمتن مختلف ہوں تووہ ان کوایک ہی سند اورایک ہی متن میںدرج کرتاہے لیکن اختلاف کوذکر نہیں کرتا۔
٢۔ شیخ بہائی :'' وان اختلط بہ کلام الراوی فتوّہم انّہ منہ او نقل مختلفی الاسناد او المتن بواحد فمدرج''.(٣)
...................................
١۔ مدرج''modraj'' درج شدہ
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٤
٣۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٨
............................................
یعنی اگر راوی کے کلام حدیث کے ساتھ ملا ہوا ہو تو خیال کیا جاتاہے کہ یہ اس کاہے یا ان روایات کوجو متن اور اسناد میں مختلف ہوں، روایتِ واحد میں ذکر کریںتو یہ مدرج ہوگی ۔
مذکورہ تعریفوں کے بناپر ، مدرج ، وہ حدیث ہے کہ راوی ، دوسرے راویوں کے کلام یانام یاکسی متن کو کسی دوسری روایت میں ٹھونس دے اس طرح کہ قابل تشخیص نہ ہو۔حدیث مدرج ، درجِ سند اوردرج متن کے لحاظ سے ، کئی اقسام میں تقسیم ہو سکتی ہے ، ان میں سے کچھ اہم اشکال درج ذیل ہیں :
١۔ درج متن :اس سے مراد وہ حدیث ہے جس میں راوی ، روایت کرتے وقت اپنے یا دوسروں کے کلام کو تشریح ، تفسیر ، تعلیل اور استشہاد وغیرہ کے طور پر حدیث کے متن میں اضافہ کرے اس طرح کہ اس کوحدیث کاایک جز خیال کیا جائے ۔ مامقانی کہتے ہیں:''ماادرج فیہ کلام بعض الرواۃ ، فیظن انہ من الاصل وہذا یسمی مندرج المتن ''. ( ١)
یعنی مدرج وہ ہے جس میں بعض راویوں کے کلام کوضم کیاجائے پس خیال کیا جاتاہے کہ یہ اصل (حدیث ) میں سے ہے اسے درج متن کہا جاتاہے ۔
اصل اوربغیر درج متن سے آگاہی ، یاخود راوی کے درج کرنے کے اعتراف ، یاحدیث کومعصوم کی طرف نسبت دینا محال ہونے ، یاوہ حدیث کسی دوسرے طریق سے بغیر درج کے آنے ، یاحدیث کے فنّ کے ماہرین کی کاوشوں سے ہوتی ہے کہ ان کواحادیث پر تسلط حاصل ہے اورکلام معصومین ؑ سے آگاہی رکھتے ہیں اس طرح وہ کلام معصوم ؑ کودوسروں سے تمیز دیتے ہیں ۔ (٢)
.................................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٠
٢۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢١؛علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٢٦٥
............................................
٢۔ درج سند: اس سے مراد وہ حدیث ہے کہ اس کے راوی حدیث کے دوسرے راویوں کے بارے میں غلط تصور رکھتا ہے اورخیال کرتاہے کہ اس کانام یاکنیہ یااس کاقبیلہ وغیرہ وہی ہے جو اس کے ذہن میںآیا ہے اوراس کووہی خصوصیات جواس کے خیال میں آئے ہیں سے پکارتا اورتوصیف کرتاہے حالانکہ اس کاتصور غلط ہوتاہے ، مامقانی کہتے ہیں :'' کان یعتقد بعض الرواۃ انّ فلاناً الواقع فی السند لقبہ او کنیتہ أوقبیلتہ او بلدہ او صفتہ اوغیر ذالک کذا فیوصفہ بعد ذکر اسمہ بذالک او یعتقد معرفۃ من عبّر عنہ فی السند ببعض اصحابنا ونحوہ فیعبّر مکانہ بماعرفہ من اسمہ''. ( ١)
٣۔ کئی حدیث کے درج متن اور سند :اس سے مراد ، دو یاکئی حدیث کا دو یاکئی اورمتن کے ساتھ درج کرنا ہے کہ راوی ، ان کوایک دوسرے میں درج کرتاہے اس طرح کہ ایک متن کودو یاکئی سند یادو یاکئی متن کوایک سند یاایک متن کواپنے سند کے ساتھ ذکر کرے اور اس کے متن یاسند میں دوسری احادیث کودرج کرے یاکسی حدیث کوجو مختلف سند اورمتن کے ساتھ روایت ہوئی ہو، ہر ایک کے اختلاف کی جگہوں کومٹادے اورصرف متن اورسند میں راویوں کے اتفاق کی جگہوں میں درج کو بیان کرے ، درج ، مختلف شکلوں کی ہوسکتی ہے کہ مامقانی نے ان کی تشریح کی ہے ۔ ( ٢)

محدثین اہل سنت :
١۔ ابن صلاح:''وہو اقسام ،منہا : ما ادرج فی حدیث رسول اللہ ؐ من کلام بعض
......................................
١۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢١
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٢
............................................
رواتہ بان یذکر الصحابی او من بعدہ عقیب مایرویہ من الحدیث کلاماً عند نفسہ'' .( ١)
یعنی مدرج وہ ہے کہ بعض راوی اس میں اپنے کلام ٹھونس دے ( مثلا) اس طرح کہ صحابی یااس کے بعد والا حدیث کے آخر میں اپنے طرف سے کوئی کلام ذکر کرے۔
٢۔ سیوطی :'' بان یذکرالراوی عقیبہ کلاماً لنفسہ او لغیرہ فیرویہ من بعد ہ متّصلاً بالحدیث من غیر فصل ، فیتوہّم انّہ منہ ... ہذا لقسم یسمّی مدرج المتن ویقابلہ مدرج الاسناد وکل منہما ثلاثۃ انواع ...امّا مدرج المتن فتارۃ یکون فی آخر الحدیث وتارۃ فی اوّلہ ، تارۃ فی وسطہ...والغالب وقوع الادراج آخر الجفر''. (٢)
یعنی مدرج وہ حدیث ہے کہ راوی اس کے آخر میں اپنے لئے یاکسی دوسرے کے لئے ،کوئی کلام ذکر کرے ، پس وہ بغیر فاصلے کے اورمتصل طور پر اس کو روایت کرتاہے ، پس خیال کیا جاتاہے کہ یہ اس کاہے ... حدیث کے اس قسم کومدرج ِ متن کہاجاتاہے اور اس کے مقابلے میں مدرج اسناد ہے اوران میں سے ہرایک کے تین قسمیں ہیں اورمدرج ِ متن ایک دفعہ حدیث کے آخر میں واقع ہوتی ہے ، کبھی اس کے درمیان میں اورکبھی حدیث کے ابتداء میں ... اورزیادہ تر حدیث کے آخر میں ادراج واقع ہوتاہے ۔
٣۔ صبحی صالح :'' المدرج ہو الحدیث الذی اطلع فی متنہ او اسنادہ علی زیادۃ لیست ......................................
١۔علوم الحدیث ، ص٩٥
٢۔تد ریب الراوی ، ج اول ،ص٢٦٨
............................................
منہ ''. ( ١)
یعنی مدرج وہ حدیث ہے کہ اس کے متن یااسناد میں زیادہ اوراضافہ واقع ہونے کااطلاع ہو جائے جو اس حدیث کاحصہ نہ ہو۔
محدثین شیعہ اور اہل سنت کی نگاہ میں حدیث مدرج ایک جیسی ہے اور اس کے بہت سے اقسام ہیں اورمحدثین میں سے ہرایک ممکن ہے ان میں سے کئی اقسام کے بارے میں بحث کی ہوں ، جیسے یہ کہ متن یاسند میں درج کبھی اس کے آغاز میں کبھی درمیان اورکبھی حدیث کے آخر میں ، کبھی ابتداء اور درمیان اور آخر وغیرہ میں واقع ہوتاہے ۔
البتہ متن میں درج ،زیادہ ترآخر میں ہوتا ہے اور صبحی صالح بھی کہتا ہے :
'' والادراج فی المتن اکثر مایکون فی آخر الحدیث '' (٢)جیسے ابوہرہ کے درجِ حدیث جس کو صحیح سند کے ساتھ پیامبر اکرم ؐ سے نقل کرتاہے کہ فرماتے ہیں:'' للعبد المملوک الصالح أجران والذی نفسی بیدہ لولاالجہاد والج وبرّ امی لأجبت ان اموت وأنا مملوک '' ( ٣)
یعنی نیک غلام کے لئے دواجر اورثواب ہے اوراس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ،اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر جہاد ، حج اورمیری ماں کے ساتھ نیکی نہ ہوتی تو مرناپسند کرتا حالانکہ میں غلام ہوں۔
.........................................
١۔علوم الحدیث ومصطحہ ، ص٢٦٠
٢۔ علوم الحدیث ومصطحہ ، ص٢٦١
............................................
صحیح بخاری ، ج٢، ص٩٠٠، کتاب العتق ، باب اذاأحسن عبادۃ ربّہ ونصح سیّدہ حدیث ٢٤١٠
صبحی صالح کہتا ہے :اصل حدیث وہی جملہ :'' للعبد المملوک الصالح اجران '' .ہے اورابوہریرہ نے اس کی تشریح کے لئے باقی جملوں کو نبی اکرم ؐ کی طرف نسبت دی ہے اورغلام ہونے کی آرزو کی ہے حالانکہ اس قسم کی آرزو پیامبر اکرم ؐ پر نسبت دینا محال ہے ، کیونکہ آنحضرت ؐ بندوں کوآزاد کرنے کے درپے تھے اوردوسری طرف آپ کی والدہ گرامی آپ کی طفولیت کے دوران فوت ہوگئی تھی اور'' برّ امی '' والا جملہ درست نہیں ہے ، لہذا آپ کی طرف اس قسم کی نسبت دینا درست نہیں ہے ۔(١)
حدیث کے متن میں درج کے اسباب ، جملے کی تفسیر ، تشریح اور استشہاد وغیرہ ہیں ؛ درج چاہے سند میں ہو یامتن میں یادونوں میں ، جان بوجھ کے ساتھ ہو اورکلام معصوم ؑ میں تحریف کاباعث بنے اور تدلیس کی ایک قسم اورجھوٹ وافتری ہوتو، شیعہ اور اہل سنت محدثین کی نگاہ میں حرام ہے اور شہید ثانی اور سیوطی نے اس پر تائید کی ہیں۔ (٢)
سیوطی کانظریہ ہے کہ جو بھی جان بوجھ کردرج حدیث انجام دے ، تو اس کی عدالت چلی جاتی ہے وہ کہتا ہے :'' من تعمّد الادراج فہو ساقط العدالۃ وممن یحرّف الکلم عن مواضعہ وہو ملحق بالکذّابین ''. (٣)
یعنی جو جان بوجھ کر ادراج حدیث کرے تو وہ عدالت سے گرجاتاہے ، اوروہ ان میں سے ہوتاہے جو (حق )کلموں کو اپنی جگہوں سے ہٹاتے اور تحریف کرتے اور وہ جھوٹوں کے زمرے میں داخل ہوتا ہے ۔
..................................
١۔ علوم الحدیث ومصطحہ ، ص٢٦٣
٢۔ الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٤؛ تدریب الراوی، ج١، ص٢٧٤
٣۔تدریب الراوی، ج١، ص٢٧٤
............................................
اس لحاظ سے ، اس قسم کے راوی کہ حدیث کی کتابوں میں ان کودرج حدیث کرنے والے کے نام سے یاد کی جاتی ہے ، عادل نہیں ہوں اوران کے کلام کے لئے کوئی اعتبار نہیں ہوگا اگرچہ وہ صحابہ کے صف میں ہی کیوں نہ ہو، لیکن حدیث میں ایسے جملے یاعدالت کااضافہ کرے جو باعث توہم خلط نہ ہوتو، جائز ہوگا حدیث مدرج ، صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف پر تطبیق آسکتی ہے ۔
حدیث مدرج کی کئی اور مثالیں ملاحظہ ہوں :
١۔ ابوہریرہ کی روایت:'' قال قال رسول اللہ ؐ '' اسبغوا الوضوء ، ویل للاعقاب من النار ''. سیوطی کہتاہے : '' اسبغوا الوضوء '' یہ ابوہریرہ کاجملہ ہے اوراس نے درج کیا ہے اور دوسری حدیث میں اس طرح آیا ہے :قال ابوہریرہ :'' سبغوا الوضوء فانّ ابالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ قال: '' ویل للاعقاب من النار''. (١)
٢۔ اس سے سعدبن ابی مریم کی روایت:ان رسول اللہ صلی اللہ وآلہ قال: '' لاتباغضوا ولاتحاسد وا ولاتدابروا ولاتنافسوا ــ... '' کہ '' لاتنافسوا''. والے جملے کو ابی مریم نے کسی دوسری حدیث کے متن سے لیا ہے اوراس میں درج کیا ہے۔ (٢)
٣۔ عائشہ کی حدیث :'' کان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ یتحنّت فی غار حراء وہو التعبد اللیالی ذوات العدد ....'' کہ ''وہو التعبد ذوات العدد''. والا جملہ قول زہری سے مدرج ہے ۔(٣)
............................................
١۔تدریب الراوی، ج١، ص٢٧٠
٢۔علوم الحدیث ، ابن صلاح ، ص٩٧
٣۔تدریب الراوی، ج١، ص٢٧١
............................................
٤۔ لیث مرادی کی حدیث :'' سألت اباعبداللہ علیہ السلام عن الصلوۃ فی الصیف فی اللیالی القصار صلاۃ اللیل فی اوّل اللیل ؟فقال علیہ السلام :نعم ، نِعم مارأیت ونعم ماصنعت یعنی فی السفر'' کہ ''فی السفر'' والا جملہ مدرج ہے ۔ ( ١)
٥۔ ہشام بن حکم کی حدیث :'' عن الصادق علیہ السلام :'' ماعن سفر ابلغ فی لحم ولا دم ولا جلد ولاشعر من سفر مکۃ ومامن احد یبلغہ حتی تلحقہ المشقۃ و انّ ثوابہ علی قدر مشقتہ '' کہ '' و انّ ثوابہ علی قدر مشقتہ '' والا جملہ مدرج ہے ( ٢)
غریب (٣ )
شیعہ محدثین :
١۔ شہیدثانی :'' وہو غریب اسناداً ومتناً معاً وہو ماتفرد بروایۃ متنہ واحد او غریب اسناداً خاصۃ لامتناً... اذا انفرد واحد بروایتہ عن آخر غیرہ ... او غریب متناً خاصۃ بأن اشتہر الحدیث المفرد ، فرواہ عمّن تفرد بہ جماعۃ کثیرۃ ''.(٤)
یعنی اسناد اورمتن کے لحاظ سے غیرب مختلف ہوتے ہیں اورا س سے مراد وہی متن کی روایت میں تفرد اوراکیلاہونا ہے یاصرف سند کے لحاظ سے غریب ہونا ہے نہ متن کے لحاظ ، اور اس سے مراد وہی آخری سند تک ایک شخص اکیلا اس کوروایت کرتا ہے ،یاغریب صرف متن سے مخصوص ہے اوریہ حدیث مفرد
.................................................. ..
١۔من لایحضرہ الفقیہ ، ج١، ص٤٧٨، حدیث ١٣٧٩،تحقیق علی اکبر غفاری
٢۔من لایحضرہ الفقیہ ، ج٢،ص٢٢٩، حدیث ٢٢٧٣،تحقیق علی اکبر غفاری
٣۔ غریب ''garib''صفت ہے ، اکیلا اوربے یار کے معنی ہے
٤۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٧
............................................
کے نام سے مشہور ہے اگرچہ اس کے سند کوتفرد اورواحد شخص سے بہت سی جماعت روایت کریں۔
٢۔ شیخ بہائی :'' اوانفرد واحد فی احدہا فغریب ' '.(١)
یعنی اگر سند یامتن کے لحاظ سے ایک شخص انفراد ی طور پر روایت کرے تو اسے غریب کہاجاتاہے ۔
حدیث ''غریب'' کہ وہی روایت میں تفرد اور اکیلا ہونا ہے ، اس کی کئی قمسیں ہیں؛ کیونکہ غرابت یاسند میں یامتن میں یادونوں میں پائی جاسکتی ہے اوریہ درج ذیل ہیں :
١۔سند میںغریب :وہ حدیث ہے کہ تمام طباقات میں ، آخری سند تک صرف ایک شخص ، ایک شخص سے روایت کرتاہے ، اگرچہ اس حدیث کے متن ، صحابہ کی ایک جماعت یاکسی دوسری جماعت کے ذریعے معروف ہوا ہو۔مامقانی بھی کہتے ہیں : '' ماتفرد بروایتہ واحد عن مثلہ وہکذا الی آخر السند مع کون المتن معروفاً عن جماعت من الصحابۃ ... ویعبر عنہ بانہ غریب من ہذا الوجہ '' .( ٢)روایت کے متن ، غریب سند میں ، چونکہ صحابہ کی ایک جماعت سے معروف ہوا ہے تو یہ ، مفرد مطلق سے مختلف ہے۔ (٣)اوراس کی نسبت ،غریب سند کے ساتھ، عام وخاص مطلق ہے ۔
٢۔ متن میں غریب : وہ حدیث ہے کہ اس کامتن ، طبقہ اول میں ، واحد راوی کے ذریعے روایت ہوئی ہے اوراس کے بعد دوسری طبقات میں راویوں کے ایک بڑی تعداد کے ذریعے شہرت پائی ہے کہ اس کو''غریب مشہور'' کے نام سے یاد کیا جاتاہے ۔(٤)
.......................................
١۔الوجیزۃ فی علم الدرایۃ ، ص٤
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٧
٣۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٨
٤۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٦٠
............................................
چونکہ اس میں ایک طرف سے غرابت ہے اوردوسری طرف شہرت پائی جاتی ہے جیسے یہ روایت:''انّما الاعما بالنیات'' .کہ پہلے صحابہ کے طبقے سے ، عمر اوراس کے بعد والے طبقات میںسے ایک بڑی تعداد نے اس کوروایت کی ہیں، اگرچہ یہ حدیث شیعہ طریقے سے ممکن ہے غریب نہ ہو۔ (١)مامقانی کہتے ہیں:'' ماتفرد واحد بروایتہ متنہ ثم یرویہ عنہ او عن واحد آخر یرویہ عنہ جماعۃ کثیرۃ '' .( ٢)
٣۔ متن اورسند میں غریب :وہ حدیث ہے کہ اس کامتن ، تمام طبقات میں واحد راوی سے نقل ہوا ہوکہ سند میں بھی غرابت پائی جائے اور متن میں بھی لہذا یہ ، سند میں غرابت کے لحاظ سے ، حدیث غریبِ سند جیسی ہے اورمتن کے لحاظ سے مختلف ہے ، کیونکہ غریب سند میں ، اس کے متن نے شہرت پائی ہے ، غریب سند اور متن کے خلاف ، کہ اس کے متن نے بھی کسی دوسرے طریقے سے شہرت پائی ہے ۔
حدیث غریب ، حدیث شاذ کے ساتھ ملتی نہیں ہے ، کیونکہ حدیث شاذمیں ، یہ شرط ہے کہ پہلاراوی ثقہ ہو اور اس کا متن مشہور کے خلاف ہو؛ لیکن حدیث غریب میں ، ایسی شرط نہیں ہے ۔ (٣)حدیث غریب ، حدیث'' مفرد مطلق'' کے ساتھ شباہت رکھتی ہے اور مختلف موقعو ں پر ایک دوسرے پر منطبق آتی ہے ؛ کیونکہ حدیث مفرد مطلق کی شرط یہ ہے کہ پہلا راوی صرف ایک شخص ہو، لیکن بعد والے طبقات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ صرف ایک راوی ہویاکثیر تعداد ۔
..................................................
١۔ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٣٠؛ مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج٥، ص٢٠٤
٢۔مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٨
٣۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٨
............................................
اسی وجہ سے ، حدیث مفرد مطلق میں ، اگر بعد والے طبقات میں، راوی زیادہ ہوں ، تو،متن میں غرابت والی حدیث کے مترادف ہوگی اوراگر بعد والے طبقات میں راوی واحد ہو تو، غریب سند اورغریب متن اورسند والی حدیث کے ساتھ شباہت رکھے گی ؛ کیونکہ حدیث مفرد ، عمومی معنی رکھتی ہے کہ بعض موقعوں پر اس میں حدیث غریب بھی شامل ہوتی ہے اورانطباق آتی ہے ۔(١)
حدیث غریب ، چاہے متن میں ہو یاسند میں یامتن اور سند دونوں میں کبھی غریب لفظی کے مقابل میں ، '' غریب مطلق'' سے یاد کی جاتی ہے ۔(٢)
محدثین اہل سنت:
١۔ابن صلاح :'' فمنہ ماہو غریب متناً واسناداً وہو الحدیث الذی تفرّد بروایتہ متنہ راوٍ واحد ومنہ ماہو غریب الاسناد اًلامتناً ، کالحدیث متنہ معروف مروی عن جماعۃ من الصحابۃ اذا تفرّد بعضہم بروایتہ عن صحابی آخر'' (٣)
یعنی متن اور اسناد کے لحاظ سے غریب وہ حدیث ہے جو متن کے روایت کرنے میں تفرد اورراوی واحد ہواور اسناد کے لحاظ سے غریب ، جیسی وہ حدیث ہے جس کامتن صحابی کی ایک جماعت کے ذریعے معروف ہوا ہو اوران مین سے بعض دوسرے صحابی سے روایت کرنے کے لحاظ سے متفرد ہو۔
٢۔ صبحی صالح :'' والغریب اکثر مایطلقونہ علی الفرد النسبی الذی قیّد بالنسبۃ الی شیء معیّن ... والفرد النسبی او الغریب ... انّما یکون فیہ ضرب من التفرد المقید
....................................
١۔اصول الحدیث ، سبحانی ، ص٦٢، مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج پنجم ،ص١٧٥
٢۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٨؛ مقباس الہدایۃ ، ج١ ص ٢٢٧؛ مستدرکات مقباس الہدایۃ ، ج پنجم ،ص٢١١ ۔
٣۔ علوم الحدیث ، ص٢٧١
............................................
براوٍ او بروایۃ عن راوٍ معین او باہل بلدٍ '' .(١)
یعنی عام طورپر غریب کسی فرد نسبی پرجو کسی خاص چیز کے ساتھ مقید ہوئی ہے اطلاق کرتے ہیں ، فرد نسبی یاغریب میں تفرد ، جوکسی راوی کے ساتھ مقید ہوا ہو ، یا کسی خاص راوی کی روایت سے یاکسی شہر والے سے ، کہ ایک قسم پایاجاتاہے ۔
محدثین اہل سنت کی ایک جماعت کے نزدیک ، حدیث غریب ، حدیث مفرد نسبی کے ساتھ ملتی ہے اوراس کے مذکورہ تین اقسام کے ساتھ اس کے لئے الگ تعریف نہیں ہے، جیسے کہ صبحی صالح کی تعریف میں بیان ہوا ڈاکٹر عجاج بھی کہتے ہیں :
'' والفرد النسبی ہو الذی یطلق علیہ المحدثون ، اسم الغریب ''.(٢)
البتہ ابن صلاح اورڈاکٹر عجاج وغیرہ جیسے بعض افراد نے ، حدیث غریب ، محدثین شیعہ کی تعریف جیسی سمجھے ہیں (٣)اور حدیث غریب کو حدیث مفرد نسبی کے مترادف نہیں سمجھے ہیں ، بلکہ صرف تفرد میں ان کو مشترک سمجھتے ہیں ، حدیث غریب بھی صحیح ، حسن ، موثق اورضعیف میں سے ہرایک پرتطبیق آسکتی ہے ۔
١۔حدثنا فتیبہ،قال:حدثنا اللیث،عن یزید بن ابی حبیب،عن سعدبن سنان،عن انس انّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قال:''...ہذا حدیث غریب من ہذا الوجہ '' ( ٤)
........................................
١۔ علوم الحدیث ومصطلحہ ، ص٩۔٢٣٨
٢۔اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٦٠
٣۔اصول الحدیث علومہ ومصطلحہ ، ص٣٦١
٤۔الجامع الکبیر للترمزی ، ج٢، ص٣٠٤، کتاب الجنائز ، باب ١٣ ، حدیث ٩٨٧
............................................
٢۔ حدثنا ابو جعفر السمنانی ، قال: حدثنا ابو مسہر ، قال :حدثنا اسماعیل بن عیاش ، عن بحیر بن سعد ، عن خالد بن معدان ، عن جبیر بن نفیر ، عن ابی الدرداء وابی ذرعن رسول اللہ ؐ ؛'' ہذا حدیث حسن غیریب ''.(١)
حدیث غریب کی ایک اورتعریف بھی بیان ہوئی ہے اوروہ '' غریب الفاظ '' ہے کہ اس کے متن میں، سخت اوذہن سے دور الفاظ پائے جاتے ہیں ، سیوطی کہتاہے : '' وہو ماوقع فی متن الحدیث من لفظہ غامضۃ بعیدۃ عن الفہم ،لقلّۃ استعمالہا وہو فنّ مہّم یقبح جہلہ باہل الحدیث '' .( ٢)محدثین کی ایک جماعت نے حدیث کے اس قسم کے الفاظ کی تشریح اوروضاحت کے لئے '' غریب الحدیث''کے نام سے کتابیں لکھی ہیں ۔(٣)
مشہور (٤ )
شیعہ محدثین :
١۔ شہید ثانی:''وہوماشاع عنداہل الحدیث خاصۃ ، دون غیرہم بان نقلہ منہم رواۃ کثیرون ... او عندہم وعند غیرہم ... او عند غیرہم خاصۃ ''.( ٥)
........................................
١۔الجامع الکبیر للترمزی ، ج١، ص٣٠٤، کتاب الصلوۃ ، ابواب وتر ، باب ١٥ ، حدیث ٤٧٦
٢۔تدریب الراوی ، سیوطی ، ج٢ دوم ، ص١٨٤
٣۔مقباس الہدایۃ ، ج١ص٢٣١؛ اصول الحدیث ، سبحانی ، ص٦٦؛ تدریب الراوی ، ج٢،ص١٨٥
٤۔مشہور''mashhur'' اسم فاعل ، صفت ، شناختہ شدہ اورمعروف کے معنی میں آتاہے
٥۔الرعایۃ فی علم الدرایۃ ، ص١٠٥
............................................
یعنی مشہور وہ حدیث ہے جو صرف اہل حدیث کے نزدیک مشہور ہوکہ ان میں سے بہت سے راویوں نے نقل کیا ہو یااہل حدیث اور دوسروں کے نزدیک یاصرف دوسروں کے نزدیک مشہور ہو۔
٢۔ سیدحسن صدر:'' وان زادہ الرواۃ فیکل الطبقات او فی بعضہا فہو المشہور، فہواعمّ مطلقاً من المستفیض ''. (١)
یعنی ہریابعض طبقے میں رایوں کی تعداد زیادہ ہوجائے تو اس حدیث کو مشہور کہا جاتاہے ، یہ مستفیض سے عام ہے ۔
٣۔ مامقانی :''ماشاع عند اہل الحدیث بان نقلہ جماعۃ منہم '' .( ٢)
یعنی مشہور وہ حدیث ہے جو اہل حدیث کے نزدیک معروف ہو اور اس کی ایک جماعت اس کونقل کرے ۔
حدیث مشہور وہ ہے جو اہل حدیث کے نزدیک مشہور ہواگرچہ بعض طبقات میں راوی صرف ایک شخص ہویا یہاں تک کہ اس کے لئے کوئی معین سند نہ پایا جائے ، خواہ اس کے مقابلے میں حدیث '' شاذ '' ہویانہ ہو، حدیث مشہور کی اہمیت اس میں ہے کہ راویوں کی ایک جماعت نے اس کونقل کی ہے ؛ البتہ شہید ثانی کی تعریف کے مطابق ، حدیث مشہور میں یہاں تک وہ حدیث بھی شامل ہوجاتی ہے جواہل حدیث کے غیر کے نزدیک بھی شہرت رکھتی ہو۔
سید حسن صدر کی تعریف میں ، حدیث مشہور کادائرہ ، مستفیض سے وسیع ہے ؛ کیونکہ حدیث مستفیض میں تمام طبقات میں ، راویوں کی تعداد استفاضہ یعنی کم از کم تین شخص ہونا چاہئےے ، حالانکہ
......................................
١۔ نہایۃ الدرایۃ ، ص١٥٨
٢۔مقباس الہدایۃ،ج١،ص٢٢٣
............................................
حدیث مشہور میں ، بسااوقات بعض طبقات میں ، راویوں کی تعدادتین سے کم ہو، علامہ مامقانی بھی یہی نظریہ رکھتے ہوئے کہتے ہیں:'' والمشہور اعمّ من ذالک ، فحدیث :'' انّما الاعمال بالنّیات '' مشہور ، غیر مستفیض ، لان الشہرۃ انما طرأت لہ فی وسط اسنادہ الی الان دون اوّلہ ''.(١)وہ حدیث میں جس میں شہرت روائی ہو، روایت مقبول عمربن حنظلہ کے ذریعے ، مرجّحات روائی میں سے جانا گیاہے ؛ کیونکہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: '' خذ بما اشتہر بین اصحابک ودع الشاذ النادر'' (٢)
یعنی تیرے اصحاب کے درمیان جو مشہوراس کولے لیں اورشاذ ونادر کوچھوڑ اس بناپر محدثین کے غیر کے درمیان مشہور ہونے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔
(احادیث مشہور کوجاننے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کامطالعہ کیجئے:
اسماعیل بن محمد عجلونی کی کتاب '' کشف الخفاء ومزیل الالباس عما اشتہر من الاحادیث ''، شہید ثانی کی کتاب ،'' الرعایۃ فی علم الدرایۃ ''، ص١٠٥؛ سید حسن صدر کی کتاب ، '' نہایۃ الدرایۃ '' علامہ مامقانی کی کتاب، '' مقباس الہدایۃ'' ، ج١، ص٢٢٥؛ ابن .صلاح کی کتاب ، '' علوم الحدیث ''،ص٢٦٥؛سیوطی کی کتاب ، '' تدریب الراوی ''،ج٢،ص١٧٣)
محدثین اہل سنت :
١۔ابن حجر :'' المشہور مالہ طرق محصو